AL BUKHARI

Search Results(1)

93) THE BOOK OF THE INTERPRETATION OF DREAMS.

93) کتاب خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6982

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ. وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءً فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ- وَهْوَ التَّعَبُّدُ- اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهْوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي. فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ». حَتَّى بَلَغَ: ‏‏‏‏مَا لَمْ يَعْلَمْ‏‏‏‏ فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي». فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ: «يَا خَدِيجَةُ مَا لِي». وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ وَقَالَ: «قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي». فَقَالَتْ لَهُ كَلاَّ أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ. ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ- وَهْوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخُو أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَيَكْتُبُ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ- فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ. فَقَالَ وَرَقَةُ ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونُ حَيًّا، حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ». فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلاَّ عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ، وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ، تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ وَتَقِرُّ نَفْسُهُ فَيَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الْوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ، فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ‏‏‏‏فَالِقُ الإِصْبَاحِ‏‏‏‏ ضَوْءُ الشَّمْسِ بِالنَّهَارِ، وَضَوْءُ الْقَمَرِ بِاللَّيْلِ.
Narrated `Aisha: The commencement of the Divine Inspiration to Allah's Apostle was in the form of good righteous (true) dreams in his sleep. He never had a dream but that it came true like bright day light. He used to go in seclusion (the cave of) Hira where he used to worship(Allah Alone) continuously for many (days) nights. He used to take with him the journey food for that (stay) and then come back to (his wife) Khadija to take his food like-wise again for another period to stay, till suddenly the Truth descended upon him while he was in the cave of Hira. The angel came to him in it and asked him to read. The Prophet replied, I do not know how to read. (The Prophet added), The angel caught me (forcefully) and pressed me so hard that I could not bear it anymore. He then released me and again asked me to read, and I replied, I do not know how to read, whereupon he caught me again and pressed me a second time till I could not bear it anymore. He then released me and asked me again to read, but again I replied, I do not know how to read (or, what shall I read?). Thereupon he caught me for the third time and pressed me and then released me and said, Read: In the Name of your Lord, Who has created (all that exists). Has created man from a clot. Read and Your Lord is Most Generous...up to..... ..that which he knew not. (96.15) Then Allah's Apostle returned with the Inspiration, his neck muscles twitching with terror till he entered upon Khadija and said, Cover me! Cover me! They covered him till his fear was over and then he said, O Khadija, what is wrong with me? Then he told her everything that had happened and said, 'I fear that something may happen to me. Khadija said, 'Never! But have the glad tidings, for by Allah, Allah will never disgrace you as you keep good reactions with your Kith and kin, speak the truth, help the poor and the destitute, serve your guest generously and assist the deserving, calamityafflicted ones. Khadija then accompanied him to (her cousin) Waraqa bin Naufal bin Asad bin `Abdul `Uzza bin Qusai. Waraqa was the son of her paternal uncle, i.e., her father's brother, who during the Pre-Islamic Period became a Christian and used to write the Arabic writing and used to write of the Gospels in Arabic as much as Allah wished him to write. He was an old man and had lost his eyesight. Khadija said to him, O my cousin! Listen to the story of your nephew. Waraqa asked, O my nephew! What have you seen? The Prophet described whatever he had seen. Waraqa said, This is the same Namus (i.e., Gabriel, the Angel who keeps the secrets) whom Allah had sent to Moses. I wish I were young and could live up to the time when your people would turn you out. Allah's Apostle asked, Will they turn me out? Waraqa replied in the affirmative and said: Never did a man come with something similar to what you have brought but was treated with hostility. If I should remain alive till the day when you will be turned out then I would support you strongly. But after a few days Waraqa died and the Divine Inspiration was also paused for a while and the Prophet became so sad as we have heard that he intended several times to throw himself from the tops of high mountains and every time he went up the top of a mountain in order to throw himself down, Gabriel would appear before him and say, O Muhammad! You are indeed Allah's Apostle in truth whereupon his heart would become quiet and he would calm down and would return home. And whenever the period of the coming of the inspiration used to become long, he would do as before, but when he used to reach the top of a mountain, Gabriel would appear before him and say to him what he had said before. (Ibn `Abbas said regarding the meaning of: 'He it is that Cleaves the daybreak (from the darkness)' (6.96) that Al-Asbah. means the light of the sun during the day and the light of the moon at night). رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سونے کی حالت میں سچے خواب کے ذریعہ ہوئی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آ جاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں چلے جاتے اور اس میں تنہا اللہ کی یاد کرتے تھے چند مقررہ دنوں کے لیے ( یہاں آتے ) اور ان دنوں کا توشہ بھی ساتھ لاتے۔ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور وہ پھر اتنا ہی توشہ آپ کے ساتھ کر دیتیں یہاں تک کہ حق آپ کے پاس اچانک آ گیا اور آپ غار حرا ہی میں تھے۔ چنانچہ اس میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ پڑھیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آخر اس نے مجھے پکڑ لیا اور زور سے دابا اور خوب دابا جس کی وجہ سے مجھ کو بہت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے مجھے ایسا دابا کہ میں بے قابو ہو گیا یا انہوں نے اپنا زور ختم کر دیا اور پھر چھوڑ کر اس نے مجھ سے کہا کہ پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔ الفاظ «ما لم يعلم‏» تک۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو آپ کے مونڈھوں کے گوشت ( ڈر کے مارے ) پھڑک رہے تھے۔ جب گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو فرمایا کہ مجھے چادر اڑھا دو ‘ مجھے چادر اڑھا دو، چنانچہ آپ کو چادر اڑھا دی گئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف دور ہو گیا تو فرمایا کہ خدیجہ میرا حال کیا ہو گیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سارا حال بیان کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ لیکن خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، آپ خوش رہئیے اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، بات سچی بولتے ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی وجہ سے پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر آپ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس لائیں جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد خویلد کے بھائی کے بیٹے تھے۔ جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی لکھ لیتے تھے اور وہ جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا عربی میں انجیل کا ترجمہ لکھا کرتے تھے، وہ اس وقت بہت بوڑھے ہو گئے تھے اور بینائی بھی جاتی رہی تھی۔ ان سے خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھائی! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے پوچھا: بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ سنایا تو ورقہ نے کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ ( جبرائیل علیہ السلام ) ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر آیا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا جب تمہیں تمہاری قوم نکال دے گی اور زندہ رہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ مجھے نکالیں گے؟ ورقہ نے کہا کہ ہاں۔ جب بھی کوئی نبی و رسول وہ پیغام لے کر آیا جسے لے کر آپ آئے ہیں تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارے وہ دن پا لیے تو میں تمہاری بھرپور مدد کروں گا لیکن کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا اور وحی کا سلسلہ کٹ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وجہ سے اتنا غم تھا کہ آپ نے کئی مرتبہ پہاڑ کی بلند چوٹی سے اپنے آپ کو گرا دینا چاہا لیکن جب بھی آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تاکہ اس پر سے اپنے آپ کو گرا دیں تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ گئے اور کہا کہ یا محمد! آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکون ہوتا اور آپ واپس آ جاتے لیکن جب وحی زیادہ دنوں تک رکی رہی تو آپ نے ایک مرتبہ اور ایسا ارادہ کیا لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو جبرائیل علیہ السلام سامنے آئے اور اسی طرح کی بات پھر کہی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ( سورۃ الانعام ) میں لفظ «‏‏‏‏فالق الإصباح‏» سے مراد دن میں سورج کی روشنی اور رات میں چاند کی روشنی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6983

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ، ‏‏‏‏‏‏جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ"".
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, A good dream (that comes true) of a righteous man is one of forty-six parts of prophetism. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6984

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ"".
Narrated Abu Qatada: The Prophet said, A true good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( اچھے ) خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6985

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ"".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The Prophet said, If anyone of you sees a dream that he likes, then it is from Allah, and he should thank Allah for it and narrate it to others; but if he sees something else, i.e., a dream that he dislikes, then it is from Satan, and he should seek refuge with Allah from its evil, and he should not mention it to anybody, for it will not harm him. انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس پر اللہ کی حمد کرے اور اسے بتا دینا چاہئیے لیکن اگر کوئی اس کے سوا کوئی ایسا خواب دیکھتا ہے جو اسے ناپسند ہے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے پس اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے ایسے خواب کا ذکر نہ کرے یہ خواب اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6986

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا لَقِيتُهُ بِالْيَمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَلَمَ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ""،‏‏‏‏وَعَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
Narrated Abu Qatada: The Prophet said, A good dream that comes true is from Allah, and a bad dream is from Satan, so if anyone of you sees a bad dream, he should seek refuge with Allah from Satan and should spit on the left, for the bad dream will not harm him. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے پس اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اسے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئیے اور بائیں طرف تھوکنا چاہئیے یہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“ اور عبداللہ بن یحییٰ سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6987

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّار، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ"".
Narrated 'Ubada bin As-Samit: The Prophet said, The (good) dreams of a faithful believer is a part of the forty-six parts of prophetism:' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6988

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ""، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ ثَابِتٌ، ‏‏‏‏‏‏وَحُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَشُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The (good) dream of a faithful believer is a part of the forty-six parts of prophetism. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“ اس کی روایت ثابت، حمید، اسحاق بن عبداللہ اور شعیب نے انس رضی اللہ عنہ سے کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6989

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ"".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: I heard Allah's Apostle saying, A good dream is a part of the forty six parts of prophetism. انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نیک خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6990

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ"".
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, Nothing is left of the prophetism except Al-Mubashshirat. They asked, What are Al-Mubashshirat? He replied, The true good dreams (that conveys glad tidings). میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف اب مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6991

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُنَاسًا أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّ أُنَاسًا أُرُوا أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ"".
Narrated Ibn `Umar: Some people were shown the Night of Qadr as being in the last seven days (of the month of Ramadan). The Prophet said, Seek it in the last seven days (of Ramadan). کچھ لوگوں کو خواب میں شب قدر ( رمضان کی ) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی اور کچھ لوگوں کو دکھائی گئی کہ وہ آخری دس تاریخوں میں ہو گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آخری سات تاریخوں میں تلاش کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6992

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ"".
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, If I stayed in prison as long as Joseph stayed and then the messenger came, I would respond to his call (to go out of the prison) . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں اتنے دنوں قید میں رہتا جتنے دنوں یوسف علیہ السلام پڑے رہے اور پھر میرے پاس قاصد بلانے آتا تو میں اس کی دعوت قبول کر لیتا۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6993

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ سِيرِينَ:‏‏‏‏ إِذَا رَآهُ فِي صُورَتِهِ.
Narrated Abu Huraira: I heard the Prophet saying, Whoever sees me in a dream will see me in his wakefulness, and Satan cannot imitate me in shape. Abu `Abdullah said, Ibn Seereen said, 'Only if he sees the Prophet in his (real) shape.' میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو کسی دن مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ابن سیرین نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص آپ کی صورت میں دیکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6994

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي، ‏‏‏‏‏‏وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ"".
Narrated Anas: The Prophet said, Whoever has seen me in a dream, then no doubt, he has seen me, for Satan cannot imitate my shape. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے واقعی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6995

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفِثْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَرَاءَى بِي"".
Narrated Abu Qatada: The Prophet said, A good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan. So whoever has seen (in a dream) something he dislike, then he should spit without saliva, thrice on his left and seek refuge with Allah from Satan, for it will not harm him, and Satan cannot appear in my shape. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے پس جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں طرف کروٹ لے کر تین مرتبہ تھو تھو کرے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اس کو نقصان نہیں دے گا اور شیطان کبھی میری شکل میں نہیں آ سکتا۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6996

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ""، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ.
Narrated Abu Qatada: The Prophet said, Whoever sees me (in a dream) then he indeed has seen the truth . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔“ اس روایت کی متابعت یونس نے اور زہری کے بھتیجے نے کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6997

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ ""مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَكَوَّنُنِي"".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The Prophet said, Who ever sees me (in a dream) then he indeed has seen the truth, as Satan cannot appear in my shape. انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان مجھ جیسا نہیں بن سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6998

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْكَلِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ الْبَارِحَةَ إِذْ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ حَتَّى وُضِعَتْ فِي يَدِي""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَقِلُونَهَا.
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, I have been given the keys of eloquent speech and given victory with awe (cast into the hearts of the enemy), and while I was sleeping last night, the keys of the treasures of the earth were brought to me till they were put in my hand. Abu Huraira added: Allah's Apostle left (this world) and now you people are carrying those treasures from place to place. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے «مفاتيح الكلم» دئیے گئے ہیں اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور گذشتہ رات میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائیں گئیں اور میرے سامنے انہیں رکھ دیا گیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس دنیا سے تشریف لے گئے اور تم ان خزانوں کی کنجیوں کو الٹ پلٹ کر رہے ہو یا نکال رہے ہو یا لوٹ رہے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6999

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ رَجَّلَهَا تَقْطُرُ مَاءً، ‏‏‏‏‏‏مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ"".
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, I saw myself (in a dream) near the Ka`ba last night, and I saw a man with whitish red complexion, the best you may see amongst men of that complexion having long hair reaching his earlobes which was the best hair of its sort, and he had combed his hair and water was dropping from it, and he was performing the Tawaf around the Ka`ba while he was leaning on two men or on the shoulders of two men. I asked, 'Who is this man?' Somebody replied, '(He is) Messiah, son of Mary.' Then I saw another man with very curly hair, blind in the right eye which looked like a protruding out grape. I asked, 'Who is this?' Somebody replied, '(He is) Messiah, Ad-Dajjal.' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رات مجھے کعبہ کے پاس ( خواب میں ) دکھایا گیا۔ میں نے ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا وہ گندمی رنگ کے کسی سب سے خوبصورت آدمی کی طرح تھے، ان کے لمبے خوبصورت بال تھے ان سب سے خوبصورت بالوں کی طرح جو تم دیکھ سکے ہو گے۔ ان میں انہوں نے کنگھا کیا ہوا تھا اور پانی ان سے ٹپک رہا تھا اور وہ دو آدمیوں کے سہارے یا ( یہ فرمایا کہ ) دو آدمیوں کے شانوں کے سہارے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم علیہما السلام ہیں۔ پھر اچانک میں نے ایک گھنگھریالے بال والے آدمی کو دیکھا جس کی ایک آنکھ کانی تھی اور انگور کے دانے کی طرح اٹھی ہوئی تھی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7000

حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أُرِيتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مَعْمَرٌ لَا يُسْنِدُهُ حَتَّى كَانَ بَعْدُ.
Narrated Ibn `Abbas: About a man who came to Allah's Apostle and said, I was shown in a dream last night... Then Ibn `Abbas mentioned the narration. ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے رات کو خواب دیکھا ہے اور انہوں نے واقعہ بیان کیا اور اس روایت کی متابعت سلیمان بن کثیر، زہری کے بھتیجے اور سفیان بن حسین نے زہری سے کی، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، اور زبیدی نے زہری سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور شعیب اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، اور معمر نے اسے متصلاً نہیں بیان کیا لیکن بعد میں متصلاً بیان کرنے لگے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7001

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَطْعَمَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ.
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle used to visit Um Haram bint Milhan she was the wife of 'Ubada bin As-Samit. One day the Prophet visited her and she provided him with food and started looking for lice in his head. Then Allah's Apostle slept and afterwards woke up smiling. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔ اس عرصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7002

قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، ‏‏‏‏‏‏شَكَّ إِسْحَاقُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ""، ‏‏‏‏‏‏فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلَكَتْ.
Um Haram asked, What makes you smile, O Allah's Apostle? He said, Some of my followers were presented before me in my dream as fighters in Allah's Cause, sailing in the middle of the seas like kings on the thrones or like kings sitting on their thrones. (The narrator 'Is-haq is not sure as to which expression was correct). Um Haram added, 'I said, O Allah's Apostle! Invoke Allah, to make me one of them; So Allah's Apostle invoked Allah for her and then laid his head down (and slept). Then he woke up smiling (again). (Um Haram added): I said, What makes you smile, O Allah's Apostle? He said, Some people of my followers were presented before me (in a dream) as fighters in Allah's Cause. He said the same as he had said before. I said, O Allah's Apostle! Invoke Allah to make me from them. He said, You are among the first ones. Then Um Haram sailed over the sea during the Caliphate of Muawiya bin Abu Sufyan, and she fell down from her riding animal after coming ashore, and died. میں نے اس پر پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے پیش کئے گئے، اس دریا کی پشت پر، وہ اس طرح سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں۔ اسحاق کو شک تھا ( حدیث کے الفاظ «ملوكا على الأسرة» تھے یا «مثل الملوك على الأسرة» انہوں نے کہا کہ میں نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی پھر آپ نے سر مبارک رکھا ( اور سو گئے ) پھر بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے پیش کئے گئے۔ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا تھا۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی۔ چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا، معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندری سفر پر گئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو سواری سے گر کر شہید ہو گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7003

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَتْهُ""أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَّا هُوَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَاذَا يُفْعَلُ بِي""، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَحَدًا أَبَدًا.
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit: Um Al-`Ala an Ansari woman who had given a pledge of allegiance to Allah's Apostle told me:, The Muhajirln (emigrants) were distributed amongst us by drawing lots, and we got `Uthman bin Maz'un in our share. We made him stay with us in our house. Then he suffered from a disease which proved fatal. When he died and was given a bath and was shrouded in his clothes. Allah's Apostle came, I said, (addressing the dead body), 'O Aba As-Sa'ib! May Allah be Merciful to you! I testify that Allah has honored you.' Allah's Apostle said, 'How do you know that Allah has honored him? I replied, 'Let my father be sacrificed for you, O Allah's Apostle! On whom else shall Allah bestow. His honor?' Allah's Apostle said, 'As for him, by Allah, death has come to him. By Allah, I wish him all good (from Allah). By Allah, in spite of the fact that I am Allah's Apostle, I do not know what Allah will do to me. , Um Al-`Ala added, By Allah, I will never attest the righteousness of anybody after that. انہوں نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہو گئی جس میں ان کی وفات ہو گئی۔ جب ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوالسائب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ نے عزت بخشی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں عزت بخشی ہے۔ میں نے عرض کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! پھر اللہ کسے عزت بخشے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی چیز ( موت ) ان پر آ چکی ہے اور اللہ کی قسم میں بھی ان کے لیے بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہونے کے باوجود حتمی طور پر نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ انہوں نے اس کے بعد کہا کہ اللہ کی قسم اس کے بعد میں کبھی کسی کی برات نہیں کروں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7004

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ ""مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَحْزَنَنِي فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ عَمَلُهُ.
Narrated Az-Zuhri: Regarding the above narration, The Prophet said, I do not know what Allah will do to him (Uthman bin Maz'un). Um Al-`Ala said, I felt very sorry for that, and then I slept and saw in a dream a flowing spring for `Uthman bin Maz'un, and told Allah's Apostle of that, and he said, That flowing spring symbolizes his good deeds. اس کا مجھے رنج ہوا۔ ( کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی بات یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہے ) چنانچہ میں سو گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک جاری چشمہ ہے۔ میں نے اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7005

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفُرْسَانِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمُ الْحُلُمَ يَكْرَهُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْهُ فَلَنْ يَضُرَّهُ"".
Narrated Abu Qatada Al-Ansari: (a companion of the Prophet and one of his cavalry men) I heard Allah's Apostle saying, A good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan; so, if anyone of you had a bad dream which he disliked, then he should spit on his left and seek refuge with Allah from it, for it will not harm him. میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے شیطان کی طرف سے پس تم میں جو کوئی برا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تھوکے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7006

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْعِلْمَ"".
Narrated Ibn `Umar: I heard Allah's Apostle saying, While I was sleeping, I was given a bowl full of milk (in a dream), and I drank of it to my fill until I noticed its wetness coming out of my nails, and then I gave the rest of it to `Umar. They (the people) asked, What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Apostle? He said, (It is Religious) knowledge. میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس کا دودھ پیا۔ یہاں تک کہ اس کی سیرابی کا اثر میں نے اپنے ناخنوں میں ظاہر ہوتا دیکھا، اس کے بعد میں نے اس کا بچا ہوا دے دیا۔ آپ کا اشارہ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا صحابہ نے پوچھا: آپ نے اس کی تعبیر کیا کی یا رسول اللہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7007

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ:‏‏‏‏ فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْعِلْمَ"".
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, While I was sleeping, I was given a bowl full of milk (in the dream) and I drank from it (to my fill) till I noticed its wetness coming out of my limbs. Then I gave the rest of it to `Umar bin Al-Khattab. The persons sitting around him, asked, What have you interpreted (about the dream) O Allah's Apostle? He said, (It is religious) knowledge. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس میں سے پیا، یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے اطراف میں نمایاں دیکھا۔ پھر میں نے اس کا بچا ہوا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا جو صحابہ وہاں موجود تھے، انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم مراد ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7008

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الدِّينَ"".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: Allah's Apostle said, While I was sleeping, some people were displayed before me (in a dream). They were wearing shirts, some of which were merely covering their breasts, and some a bit longer. Then there passed before me, `Umar bin Al-Khattab wearing a shirt he was dragging it (on the ground behind him.) They (the people) asked, What have you interpreted (about the dream) O Allah's Apostle? He said, The Religion. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک کی ہے اور بعض کی اس سے بڑی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کی قمیص زمین سے گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7009

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ عُرِضُوا عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجْتَرُّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الدِّينَ"".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: I heard Allah's Apostle saying, While I was sleeping, I saw (in a dream) the people being displayed before me, wearing shirts, some of which (were so short that it) reached as far as their breasts and some reached below that. Then `Umar bin Al-Khattab was shown to me and he was wearing a shirt which he was dragging (behind him). They asked. What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Apostle? He said, The religion. میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو اپنے سامنے پیش ہوتے دیکھا۔ وہ قمیص پہنے ہوئے تھے، ان میں بعض کی قمیص تو سینے تک کی تھی اور بعض کی اس سے بڑی تھی اور میرے سامنے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیش کئے گئے تو ان کی قمیص ( زمین سے ) گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین اس کی تعبیر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7010

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ""كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّهُمْ قَالُوا:‏‏‏‏ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّمَا عَمُودٌ وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ ارْقَهْ، ‏‏‏‏‏‏فَرَقِيتُهُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى"".
Narrated Qais bin 'Ubada: I was sitting in a gathering in which there was Sa`d bin Malik and Ibn `Umar. `Abdullah bin Salam passed in front of them and they said, This man is from the people of Paradise. I said to `Abdullah bin Salam, They said so-and-so. He replied, Subhan Allah! They ought not to have said things of which they have no knowledge, but I saw (in a dream) that a post was fixed in a green garden. At the top of the post there was a handhold and below it there was a servant. I was asked to climb (the post). So I climbed it till I got hold of the handhold. Then I narrated this dream to Allah's Apostle. Allah's Apostle said, `Abdullah will die while still holding the firm reliable handhold (i.e., Islam). میں ایک حلقہ میں بیٹھا تھا جس میں سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ گزرے تو لوگوں نے کہا کہ یہ اہل جنت میں سے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ اس طرح کی بات کہہ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا، سبحان اللہ ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انہیں علم نہیں ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستون ایک ہرے بھرے باغ میں نصب کیا ہوا ہے اس ستون کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ( «عروة» ) لگا ہوا تھا اور نیچے «منصف» تھا۔ «منصف» سے مراد خادم ہے پھر کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، پھر میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ کا جب انتقال ہو گیا تو وہ «العروة الوثقى» کو پکڑے ہوئے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7011

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقُولُ:‏‏‏‏ إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ"".
Narrated `Aisha: Allah's Apostle said (to me), You were shown to me twice in (my) dream. Behold, a man was carrying you in a silken piece of cloth and said to me, She is your wife, so uncover her,' and behold, it was you. I would then say (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen.' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں۔ ایک شخص تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے لیے جا رہا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں، ان کے ( چہرے سے ) پردہ ہٹاؤ۔ میں نے پردہ اٹھایا کہ وہ تمہیں تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ خود ہی انجام تک پہنچائے گا۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7012

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""أُرِيتُكِ قَبْلَ أَنْ أَتَزَوَّجَكِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏رَأَيْتُ الْمَلَكَ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ اكْشِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَكَشَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُرِيتُكِ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اكْشِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَكَشَفَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ"".
Narrated `Aisha: Allah's Apostle said to me, You were shown to me twice (in my dream) before I married you. I saw an angel carrying you in a silken piece of cloth, and I said to him, 'Uncover (her),' and behold, it was you. I said (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen.' Then you were shown to me, the angel carrying you in a silken piece of cloth, and I said (to him), 'Uncover (her), and behold, it was you. I said (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen.' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم سے شادی کرنے سے پہلے مجھے تم دو مرتبہ دیکھائی گئیں، میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ کھولو اس نے کھولا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کے پاس سے ہے تو وہ خود ہی اسے انجام تک پہنچائے گا۔ پھر میں نے تمہیں دیکھا کہ فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ کھولو! اس نے کھولا تو اس میں تم تھیں، پھر میں نے کہا کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جو ضرور پورا ہو گا۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7013

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ وَبَلَغَنِي أَنَّ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ الْأُمُورَ الْكَثِيرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُكْتَبُ فِي الْكُتُبِ قَبْلَهُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ وَالْأَمْرَيْنِ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ.
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, I have been sent with Jawami al-Kalim (i.e., the shortest expression carrying the widest meanings), and I was made victorious with awe (caste into the hearts of the enemy), and while I was sleeping, the keys of the treasures of the earth were brought to me and were put in my hand. Muhammad said, Jawami'-al-Kalim means that Allah expresses in one or two statements or thereabouts the numerous matters that used to be written in the books revealed before (the coming of) the Prophet . میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں «جوامع الكلم» کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی ہے اور میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں انہیں رکھ دیا گیا اور محمد نے بیان کیا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ «جوامع الكلم» سے مراد یہ ہے کہ بہت سے امور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کتابوں میں لکھے ہوئے تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک یا دو امور یا اسی جیسے میں جمع کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7014

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَوْنٍ. ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ وَوَسَطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ عُرْوَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لِي، ‏‏‏‏‏‏ارْقَهْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ، ‏‏‏‏‏‏لَا أَسْتَطِيعُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَانِي وَصِيفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي، ‏‏‏‏‏‏فَرَقِيتُ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَبَهْتُ وَأَنَا مُسْتَمْسِكٌ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ تِلْكَ الرَّوْضَةُ رَوْضَةُ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى، ‏‏‏‏‏‏لَا تَزَالُ مُسْتَمْسِكًا بِالْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ"".
Narrated `Abdullah bin Salam: (In a dream) I saw myself in a garden, and there was a pillar in the middle of the garden, and there was a handhold at the top of the pillar. I was asked to climb it. I said, I cannot. Then a servant came and lifted up my clothes and I climbed (the pillar), and then got hold of the handhold, and I woke up while still holding it. I narrated that to the Prophet who said, The garden symbolizes the garden of Islam, and the handhold is the firm Islamic handhold which indicates that you will be adhering firmly to Islam until you die. میں نے ( خواب ) دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ہے۔ کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر میرے پاس خادم آیا اور اس نے میرے کپڑے چڑھا دئیے پھر میں اوپر چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، ابھی میں اسے پکڑے ہی ہوئے تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ باغ اسلام کا باغ تھا اور وہ ستون اسلام کا ستون تھا اور وہ حلقہ «عروة الوثقى» تھا، تم ہمیشہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہو گے یہاں تک کہ تمہاری وفات ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7015

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سَرَقَةً مِنْ حَرِيرٍ لَا أَهْوِي بِهَا إِلَى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ.
Narrated Ibn `Umar: I saw in a dream a piece of silken cloth in my hand, and in whatever direction in Paradise I waved it, it flew, carrying me there. I narrated this (dream) to (my sister) میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور میں جنت میں جس جگہ جانا چاہتا ہوں وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے۔ میں نے اس کا ذکر حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7016

فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ"".
Hafsa and she told it to the Prophet who said, (to Hafsa), Indeed, your brother is a righteous man, or, Indeed, `Abdullah is a righteous man. اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا بھائی مرد نیک یا فرمایا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7017

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عَوْفًا، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ تَكْذِبُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا كَانَ مِنَ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَكْذِبُ""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَأَنَا أَقُولُ هَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُقَالُ:‏‏‏‏ الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ:‏‏‏‏ حَدِيثُ النَّفْسِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَخْوِيفُ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُكْرَهُ الْغُلُّ فِي النَّوْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يُعْجِبُهُمُ الْقَيْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏وَهِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَدْرَجَهُ بَعْضُهُمْ كُلَّهُ فِي الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ عَوْفٍ أَبْيَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ يُونُسُ:‏‏‏‏ لَا أَحْسِبُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَيْدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ لَا تَكُونُ الْأَغْلَالُ إِلَّا فِي الْأَعْنَاقِ.
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, When the Day of Resurrection approaches, the dreams of a believer will hardly fail to come true, and a dream of a believer is one of forty-six parts of prophetism, and whatever belongs to prothetism can never be false. Muhammad bin Seereen said, But I say this. He said, It used to be said, 'There are three types of dreams: The reflection of one's thoughts and experiences one has during wakefulness, what is suggested by Satan to frighten the dreamer, or glad tidings from Allah. So, if someone has a dream which he dislikes, he should not tell it to others, but get up and offer a prayer. He added, He (Abu Huraira) hated to see a Ghul (i.e., iron collar around his neck in a dream) and people liked to see fetters (on their feet in a dream). The fetters on the feet symbolizes one's constant and firm adherence to religion. And Abu `Abdullah said, Ghuls (iron collars) are used only for necks. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیامت قریب ہو گی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ( جو کہ علم تعبیر کے بہت بڑے عالم تھے ) نے کہا کہ نبوت کا حصہ جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ خواب تین طرح کے ہیں۔ دل کے خیالات، شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے خوشخبری۔ پس اگر کوئی شخص خواب میں بری چیز دیکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خواب میں طوق کو ناپسند کرتے تھے اور قید دیکھنے کو اچھا سمجھتے تھے اور کہا گیا ہے کہ قید سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے۔ اور قتادہ، یونس، ہشام اور ابوہلال نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور بعض نے یہ ساری روایت حدیث میں شمار کی ہے لیکن عوف کی روایت زیادہ واضح ہے اور یونس نے کہا کہ قید کے بارے میں روایت کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی سمجھتا ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ طوق ہمیشہ گردنوں ہی میں ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7018

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ""طَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَاشْتَكَى، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى تُوُفِّيَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ وَمَا يُدْرِيكِ؟، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ فِي النَّوْمِ عَيْنًا تَجْرِي، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ذَاكِ عَمَلُهُ يَجْرِي لَهُ"".
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit: Um Al-`Ala an Ansari woman who had given the Pledge of allegiance to Allah's Apostle said, `Uthman bin Maz'un came in our share when the Ansars drew lots to distribute the emigrants (to dwell) among themselves, He became sick and we looked after (nursed) him till he died. Then we shrouded him in his clothes. Allah's Apostle came to us, I (addressing the dead body) said, May Allah's Mercy be on you, O Aba As-Sa'ib! I testify that Allah has honored you. The Prophet said, 'How do you know that?' I replied, 'I do not know, by Allah.' He said, 'As for him, death has come to him and I wish him all good from Allah. By Allah, though I am Allah's Apostle, I neither know what will happen to me, nor to you.' Um Al-`Ala said, By Allah, I will never attest the righteousness of anybody after that. She added, Later I saw in a dream, a flowing spring for `Uthman. So I went to Allah's Apostle and mentioned that to him. He said, 'That is (the symbol of) his good deeds (the reward for) which is going on for him.' میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب انصار نے مہاجرین کے قیام کے لیے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے یہاں ٹھہرنے کے لیے نکلا۔ پھر وہ بیمار پڑ گئے، ہم نے ان کی تیمارداری کی لیکن ان کی وفات ہو گئی۔ پھر ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوالسائب! تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی بات ( موت ) ان تک پہنچ چکی ہے اور میں اللہ سے ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں لیکن اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہوں اور اس کے باوجود مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ واللہ! اس کے بعد میں کسی انسان کی پاکی نہیں بیان کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے خواب میں ایک جاری چشمہ دیکھا تھا۔ چنانچہ میں نے حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے جس کا ثواب ان کے لیے جاری ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7019

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا نَافِعٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، ‏‏‏‏‏‏فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ"".
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, (I saw in a dream that) while I was standing at a well and drawing water therefrom, suddenly Abu Bakr and `Umar came to me. Abu Bakr took the bucket and drew one or two buckets (full of water), but there was weakness in his pulling, but Allah forgave him. Then Ibn Al- Khattab took the bucket from Abu Bakr's hand and the bucket turned into a very large one in his hand. I have never seen any strong man among the people doing such a hard job as `Umar did, till (the people drank to their satisfaction) and water their camels to their fill and they sat near the water. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( خواب میں ) میں ایک کنویں سے پانی کھینچ رہا تھا کہ ابوبکر اور عمر بھی آ گئے۔ اب ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا۔ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے آمین۔ اس کے بعد عمر بن خطاب نے اسے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے عمر جیسا پانی کھینچنے میں کسی کو ماہر نہیں دیکھا۔ انہوں نے خوب پانی نکالا یہاں تک کہ لوگوں نے اونٹوں کے لیے پانی سے حوض بھر لیے۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7020

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ ابْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، ‏‏‏‏‏‏فَمَا رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ"".
Narrated Salim's father: about the Prophet's dream in which he has seen Abu Bakr and `Umar: The Prophet said, I saw (in a dream) that the people had gathered. Then Abu Bakr stood up and pulled out one or two buckets full of water (from a well) and there was weakness in his pulling -- may Allah forgive him. Then Ibn Al- Khattab stood up, and the bucket turned into a very large one and I have never seen any strong man among the people doing such a hard job. He pulled out so much water that the people (drank to their satisfaction) and watered their camels to their fill, (and then after quenching their thirst) they sat beside the water. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے خواب کے سلسلے میں فرمایا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جمع ہو گئے ہیں پھر ابوبکر کھڑے ہوئے اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور وہ بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے لوگوں میں سے کسی کو اتنی مہارت کے ساتھ پانی نکالتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ لوگوں نے حوض بھر لیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7021

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ وَعَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ"".
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, While I was sleeping, I saw myself standing at a well over which there was a bucket. I pulled out from it as many buckets of water as Allah wished, and then Ibn Abi Quhafa (Abu Bakr) took the bucket from me and pulled out one or two full buckets, and there was weakness in his pull--may Allah forgive him. Then the bucket turned into a very large one and `Umar bin Al-Khattab took it. I have never seen any strong man among the people, drawing water with such strength as `Umar did, till the people (drank to their satisfaction and) watered their camels to their fill; whereupon the camels sat beside the water. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ اس پر ایک ڈول تھا۔ جتنا اللہ نے چاہا میں نے اس میں سے پانی کھینچا، پھر اس ڈول کو ابن ابی قحافہ نے لے لیا اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچنے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے پھر وہ بڑا ڈول بن گیا اور اسے عمر بن خطاب نے اٹھا لیا۔ میں نے کسی ماہر کو عمر بن خطاب کی طرح کھینچتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کے لیے اونٹوں کے حوض بھر دئیے۔ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے اپنے تھانوں پر لے جا کر بیٹھا دیا۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7022

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنِّي عَلَى حَوْضٍ أَسْقِي النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرِيحَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَعَ ذَنُوبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى ابْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ مِنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يَنْزِعُ حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ يَتَفَجَّرُ"".
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, While I was sleeping, I saw myself standing over a tank (well) giving water to the people to drink. Then Abu Bakr came to me and took the bucket from me in order to relieve me and he pulled out one or two full buckets, and there was weakness in his pulling --may Allah forgive him. Then Ibn Al-Khattab took it from him and went on drawing water till the people left (after being satisfied) while the tank was over flowing with water. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں حوض پر ہوں اور لوگوں کو سیراب کر رہا ہوں پھر میرے پاس ابوبکر آئے اور مجھے آرام دینے کے لیے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا پھر انہوں نے دو ڈول کھینچے ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر بن خطاب آئے اور ان سے ڈول لے لیا اور برابر کھینچے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چل دئیے اور حوض سے پانی لبالب ابل رہا تھا۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7023

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ فَبَكَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَعَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ.
Narrated Abu Huraira: We were sitting with Allah's Apostle, he said, While I was sleeping, I saw myself in Paradise. Suddenly I saw a woman performing ablution beside a palace. I asked, For whom is this palace? They (the angels) replied, It is for `Umar bin Al-Khattab. Then I remembered `Umar's ghira and went back hurriedly. On hearing that, `Umar started weeping and said, Let my father and mother be sacrificed for you. O Allah's Apostle! How dare I think of my Ghira being offended by you? ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جنت کے محل کے ایک کنارے ایک عورت وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ گیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر رو پڑے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7024

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لِمَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِلَّا مَا أَعْلَمُ مِنْ غَيْرَتِكَ""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah: Allah's Apostle said: (I saw in a dream that) I entered Paradise, and behold, there was a palace built of gold! I asked, 'For whom is this palace?' They (the angels) replied, 'For a man from the Quraish.' The Prophet added, O Ibn Al-Khattab! Nothing stopped me from entering it except your Ghira. `Umar said, How dare I think of my Ghira being offended by you, O Allah's Apostle? رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک سونے کا محل مجھے نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا ہے جسے میں خوب جانتا ہوں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7025

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لِعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا، ‏‏‏‏‏‏فَبَكَى عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ عَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ"".
Narrated Abu Huraira: We were sitting with Allah's Apostle he said, While I was sleeping, I saw myself in Paradise, and behold, a woman was performing ablution by the side of a palace. I asked, 'For whom is this palace?' They replied, 'For `Umar' Then I remembered the Ghira of `Umar and returned immediately. `Umar wept (on hearing that) and said, Let my father and mother be sacrificed for you, O Allah's Apostle! How dare I think of my Ghira being offended by you.' ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ کہا عمر رضی اللہ عنہ کا۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ کر چلا آیا۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ رو دئیے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا آپ پر غیرت کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7026

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ ابْنُ مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ قَطَنٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ"".
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, While I was sleeping, I saw myself performing the Tawaf of the Ka`ba. Behold, there I saw a whitish-red lank-haired man (holding himself) between two men with water dropping from his hair. I asked, 'Who is this?' The people replied, 'He is the son of Mary.' Then I turned my face to see another man with red complexion, big body, curly hair, and blind in the right eye which looked like a protruding out grape. I asked, 'Who is he?' They replied, 'He is Ad-Dajjal.' Ibn Qatan resembles him more than anybody else among the people and Ibn Qatan was a man from Bani Al-Mustaliq from Khuza`a. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لیے ہوئے تھے ) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ، بھاری جسم والا، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔“ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7027

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلَهُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْعِلْمُ"".
Narrated `Abdullah bin `Umar: I heard Allah's Apostle saying, While I was sleeping, I saw a bowl full of milk was brought to me and I drank of it (to my fill) till I noticed its wetness flowing (in my body). Then I gave the remaining of it to `Umar. They asked, O Allah's Apostle! What have you interpreted (about the dream)? He said, (It is Religious) knowledge. (See Hadith No. 134) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں سویا ہوا تھا کہ دودھ کا ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا اور اس میں سے اتنا پیا کہ سیرابی کو میں نے ہر رگ و پے میں پایا۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ فرمایا کہ علم اس کی تعبیر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7028

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا نَافِعٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا غُلَامٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَبَيْتِي الْمَسْجِدُ قَبْلَ أَنْ أَنْكِحَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ فِي نَفْسِي:‏‏‏‏ لَوْ كَانَ فِيكَ خَيْرٌ لَرَأَيْتَ مِثْلَ مَا يَرَى هَؤُلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا اضْطَجَعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي رُؤْيَا، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَنِي مَلَكَانِ فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ يُقْبِلَانِ بِي إِلَى جَهَنَّمَ وَأَنَا بَيْنَهُمَا أَدْعُو اللَّهَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُرَانِي لَقِيَنِي مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَنْ تُرَاعَ، ‏‏‏‏‏‏نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ لَوْ كُنْتَ تُكْثِرُ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفُوا بِي عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ لَهُ قُرُونٌ كَقَرْنِ الْبِئْرِ بَيْنَ كُلِّ قَرْنَيْنِ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ وَأَرَى فِيهَا رِجَالًا مُعَلَّقِينَ بِالسَّلَاسِلِ رُءُوسُهُمْ أَسْفَلَهُمْ عَرَفْتُ فِيهَا رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَانْصَرَفُوا بِي عَنْ ذَاتِ الْيَمِينِ،‏‏‏‏
Narrated Ibn `Umar: Men from the companions of Allah's Apostle used to see dreams during the lifetime of Allah's Apostle and they used to narrate those dreams to Allah's Apostle. Allah's Apostle would interpret them as Allah wished. I was a young man and used to stay in the mosque before my wedlock. I said to myself, If there were any good in myself, I too would see what these people see. So when I went to bed one night, I said, O Allah! If you see any good in me, show me a good dream. So while I was in that state, there came to me (in a dream) two angels. In the hand of each of them, there was a mace of iron, and both of them were taking me to Hell, and I was between them, invoking Allah, O Allah! I seek refuge with You from Hell. Then I saw myself being confronted by another angel holding a mace of iron in his hand. He said to me, Do not be afraid, you will be an excellent man if you only pray more often. So they took me till they stopped me at the edge of Hell, and behold, it was built inside like a well and it had side posts like those of a well, and beside each post there was an angel carrying an iron mace. I saw therein many people hanging upside down with iron chains, and I recognized therein some men from the Quraish. Then (the angels) took me to the right side. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواب دیکھتے تھے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر دیتے جیسا کہ اللہ چاہتا۔ میں اس وقت نوعمر تھا اور میرا گھر مسجد تھی یہ میری شادی سے پہلے کی بات ہے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر تجھ میں کوئی خیر ہوتی تو تو بھی ان لوگوں کی طرح خواب دیکھتا۔ چنانچہ جب میں ایک رات لیٹا تو میں نے کہا: اے اللہ! اگر تو میرے اندر کوئی خیر و بھلائی جانتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا۔ میں اسی حال میں ( سو گیا اور میں نے دیکھا کہ ) میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا تھا اور وہ مجھے جہنم کی طرف لے چلے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے درمیان میں تھا اور اللہ سے دعا کرتا جا رہا تھا کہ اے اللہ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر مجھے دکھایا گیا ( خواب ہی میں ) کہ مجھ سے ایک اور فرشتہ ملا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور اس نے کہا ڈرو نہیں تم کتنے اچھے آدمی ہو اگر تم نماز زیادہ پڑھتے۔ چنانچہ وہ مجھے لے کر چلے اور جہنم کے کنارے پر لے جا کر مجھے کھڑا کر دیا تو جہنم ایک گول کنویں کی طرح تھی اور کنویں کے مٹکوں کی طرح اس کے بھی مٹکے تھے اور ہر دو مٹکوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا۔ جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور میں نے اس میں کچھ لوگ دیکھے جنہیں زنجیروں میں لٹکا دیا گیا تھا اور ان کے سر نیچے تھے۔ ( اور پاؤں اوپر ) ان میں سے بعض قریش کے لوگوں کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ مجھے دائیں طرف لے کر چلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7029

فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ""، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ نَافِعٌ:‏‏‏‏ فَلَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ.
I narrated this dream to (my sister) Hafsa and she told it to Allah's Apostle. Allah's Apostle said, No doubt, `Abdullah is a good man. (Nafi` said, Since then `Abdullah bin `Umar used to pray much.) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( سن کر ) فرمایا، عبداللہ مرد نیک ہے، ( اگر رات کو تہجد پڑھتا ہوتا ) نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے یہ خواب دیکھا وہ نفل نماز بہت پڑھا کرتے تھے۔ مٹکے جن پر موٹھ کی لکڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7030

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مَنْ رَأَى مَنَامًا قَصَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي مَنَامًا يُعَبِّرُهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَنِمْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ لَنْ تُرَاعَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، ‏‏‏‏‏‏ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ.
Narrated Ibn `Umar: I was a young unmarried man during the lifetime of the Prophet. I used to sleep in the mosque. Anyone who had a dream, would narrate it to the Prophet. I said, O Allah! If there is any good for me with You, then show me a dream so that Allah's Apostle may interpret it for me. So I slept and saw (in a dream) two angels came to me and took me along with them, and they met another angel who said to me, Don't be afraid, you are a good man. They took me towards the Fire, and behold, it was built inside like a well, and therein I saw people some of whom I recognized, and then the angels took me to the right side. In the morning, I mentioned that dream to Hafsa. میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان غیر شادی شدہ تھا تو مسجد نبوی میں سوتا تھا اور جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کرتا۔ میں نے سوچا: اے اللہ! اگر تیرے نزدیک مجھ میں کوئی خیر ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تعبیر دیں۔ پھر میں سویا اور میں نے دو فرشتے دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے لے چلے۔ پھر ان دونوں سے تیسرا فرشتہ بھی آ ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں تم نیک آدمی ہو۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے جہنم کی طرف لے گئے تو وہ کنویں کی طرح تہ بتہ تھی اور اس میں کچھ لوگ تھے جن میں سے بعض کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ دونوں فرشتے مجھے دائیں طرف لے چلے، جب صبح ہوئی تو میں نے اس تذکرہ اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7031

فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ""إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ.
Hafsa told me that she had mentioned it to the Prophet and he said, `Abdullah is a righteous man if he only prays more at night. (Az-Zuhri said, After that, `Abdullah used to pray more at night. ) ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ نیک مرد ہے۔ کاش وہ رات میں نماز زیادہ پڑھا کرتا۔ زہری نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد وہ رات میں نفلی نماز زیادہ پڑھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7032

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْعِلْمَ"".
Narrated `Abdullah bin `Umar: I heard Allah's Apostle saying, While I was sleeping, I saw that a cup full of milk was brought to me and I drank of it and gave the remaining of it to `Umar bin Al-Khattab. They asked. What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Apostle? The Prophet said. (It is Religious) knowledge. میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے اس میں سے پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم سے تعبیر لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7033

حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَرْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ.
Narated Ubaidullah bin Abdullah: I asked Ibn Abbas about the dream of Allah's Messenger which he mentioned. (see following hadith) میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جو انہوں نے بیان کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7034

فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَأُذِنَ لِي، ‏‏‏‏‏‏فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ""، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزٌ بِالْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ.
Narrated `Abdullah bin `Abbas: Allah's Apostle said, While I was sleeping, two golden bangles were put in my two hands, so I got scared (frightened) and disliked it, but I was given permission to blow them off, and they flew away. I interpret it as a symbol of two liars who will appear. 'Ubaidullah said, One of them was Al-`Ansi who was killed by Fairuz at Yemen and the other was Musailama (at Najd) . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7035

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرٌ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهِ خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بِهِ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ"".
Narrated Abu Musa: The Prophet said, I saw in a dream that I was migrating from Mecca to a land where there were date palm trees. I thought that it might be the land of Al-Yamama or Hajar, but behold, it turned out to be Yathrib (i.e. Medina). And I saw cows (being slaughtered) there, but the reward given by Allah is better (than worldly benefits). Behold, those cows proved to symbolize the believers (who were killed) on the Day (of the battle) of Uhud, and the good (which I saw in the dream) was the good and the reward and the truth which Allah bestowed upon us after the Badr battle. (or the Battle of Uhud) and that was the victory bestowed by Allah in the Battle of Khaibar and the conquest of Mecca) . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ یہ جگہ یمامہ ہے یا ہجر۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ مدینہ یعنی یثرب ہے اور میں نے خواب میں گائے دیکھی ( زبح کی ہوئی ) اور یہ آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اور اللہ کے یہاں ہی خیر ہے تو اس کی تعبیر ان مسلمانوں کی صورت میں آئی جو جنگ احد میں شہید ہوئے اور خیر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے خیر اور سچائی کے ثواب کی صورت میں دیا یعنی وہ جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے بعد ( دوسری فتوحات کی صورت میں ) دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7036

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ.
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, We (Muslims) are the last (to come) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection). یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم سب امتوں سے آخری امت ( وقت کے اعتبار سے ) اور سب امتوں سے پہلی امت ( جنت میں داخلہ کے اعتبار سے ) ہیں۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7037

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُوتِيتُ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، ‏‏‏‏‏‏فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏صَاحِبَ صَنْعَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ"".
Allah's Apostle further said, ''While sleeping, I was given the treasures of the world and two golden bangles were put in my hands, but I felt much annoyed, and those two bangles distressed me very much, but I was inspired that I should blow them off, so I blew them and they flew away. Then I interpreted that those two bangles were the liars between whom I was (i.e., the one of San`a' and the one of Yamama). اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور میرے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن رکھ دئیے گئے جو مجھے بہت شاق گزرے۔ پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں میں ہوں ایک صنعاء کا اور دوسرا یمامہ کا۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7038

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رَأَيْتُ كَأَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَيْهَا"".
Narrated `Abdullah: The Prophet said, I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling at Mahai'a, i.e., Al-Juhfa. I interpreted that as a symbol of epidemic of Medina being transferred to that place (Al-Juhfa). نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا جیسے ایک سیاہ عورت پراگندہ بال، مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ مہیعہ حجفہ کو کہتے ہیں۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا حجفہ نامی بستی میں چلی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7039

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ""رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى نَزَلَتْ بِمَهْيَعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَأَوَّلْتُهَا أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ"".
Narrated `Abdullah bin `Umar: concerning the dream of the Prophet in Medina: The Prophet said, I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling at Mahai'a. I interpreted that as (a symbol of) the epidemic of Medina being transferred to Mahai'a, namely, Al-Juhfa. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں خواب کے سلسلے میں کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ”میں نے ایک پراگندہ بال، سیاہ عورت دیکھی کہ وہ مدینہ سے نکل کر مہیعہ چلی گئی۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا مهيعۃ منتقل ہو گئی ہے۔“ مہیعہ یعنی الجحفۃ کو کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7040

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ"".
Narrated Salim's father: The Prophet said, I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling in Mahai'a. I interpreted that as (a symbol of) epidemic of Medina being transferred to Mahai'a, namely, Al-Juhfa. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے ایک پراگندہ بال، کالی عورت دیکھی جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی۔ میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ یعنی منتقل ہو گئی۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7041

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ"".
Narrated Abu Musa: The Prophet said, I saw in a dream that I waved a sword and it broke in the middle, and behold, that symbolized the casualties the believers suffered on the Day (of the battle) of Uhud. Then I waved the sword again, and it became better than it had ever been before, and behold, that symbolized the Conquest (of Mecca) which Allah brought about and the gathering of the believers. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو وہ بیچ سے ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر احد کی جنگ میں مسلمانوں کے شہید ہونے کی صورت میں سامنے آئی پھر دوبارہ میں نے اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی شکل میں ہو گئی۔ اس کی تعبیر فتح اور مسلمانوں کے اتفاق و اجتماع کی صورت میں سامنے آئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7042

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهُ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَنْ يَفْعَلَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ وَصَلَهُ لَنا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَوْلَهُ مَنْ كَذَبَ فِي رُؤْيَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ قَوْلَهُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَحَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اسْتَمَعَ. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنِ اسْتَمَعَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَحَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ صَوَّرَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ.
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, Whoever claims to have seen a dream which he did not see, will be ordered to make a knot between two barley grains which he will not be able to do; and if somebody listens to the talk of some people who do not like him (to listen) or they run away from him, then molten lead will be poured into his ears on the Day of Resurrection; and whoever makes a picture, will be punished on the Day of Resurrection and will be ordered to put a soul in that picture, which he will not be able to do. Ibn `Abbas also narrated a similar hadith. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا نہ ہو تو اسے دو جَو کے دو دانوں کو قیامت کے دن جوڑنے کے لیے کہا جائے گا اور وہ اسے ہرگز نہیں کر سکے گا ( اس لیے مار کھاتا رہے گا ) اور جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے جو اسے پسند نہیں کرتے یا اس سے بھاگتے ہیں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور اس پر زور دیا جائے گا کہ اس میں روح بھی ڈالے جو وہ نہیں کر سکے گا۔ اور سفیان نے کہا کہ ہم سے ایوب نے یہ حدیث موصولاً بیان کی اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جو اپنے خواب کے سلسلے میں جھوٹ بولے۔ اور شعبہ نے کہا، ان سے ابوہاشم الرمانی نے، انہوں نے عکرمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( کا قول موقوفاً ) جو شخص مورت بنائے، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، جو شخص کان لگا کر دوسروں کی باتیں سنے۔ ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو کسی کی بات کان لگا کر سننے کے پیچھے لگا اور جس نے غلط خواب بیان کیا اور جس نے تصویر بنائی ( ایسی ہی حدیث نقل کی موقوفاً ابن عباس سے ) خالد حذاء کے ساتھ اس حدیث کو ہشام بن حسان فردوسی نے بھی عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7043

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""إِنَّ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ"".
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, The worst lie is that a person claims to have seen a dream which he has not seen. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان خواب میں ایسی چیز کو دیکھنے کا دعویٰ کرے جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7044

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ وَأَنَا كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفِلْ ثَلَاثًا وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ"".
Narrated Abu Salama: I used to see a dream which would make me sick till I heard Abu Qatada saying, I too, used to see a dream which would make me sick till I heard the Prophet saying, A good dream is from Allah, so if anyone of you saw a dream which he liked, he should not tell it to anybody except to the one whom he loves, and if he saw a dream which he disliked, then he should seek refuge with Allah from its evil and from the evil of Satan, and spit three times (on his left) and should not tell it to anybody, for it will not harm him. میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں ( برے ) خواب دیکھتا تھا اور اس کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا تھا۔ آخر میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی خواب دیکھتا اور میں بھی بیمار پڑ جاتا۔ آخر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7045

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّهَا مِنَ اللَّهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِّهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ"".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: I heard Allah's Apostle saying, If anyone of you saw a dream which he liked, then that was from Allah, and he should thank Allah for it and tell it to others; but if he saw something else, i.e, a dream which he did not like, then that is from Satan and he should seek refuge with Allah from it and should not tell it to anybody for it will not harm him. انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس پر اسے اللہ کی تعریف کرنا چاہئیے اور اسے بیان بھی کرنا چاہئیے اور جب کوئی خواب ایسا دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے اور اسے چاہئیے کہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور اس کا ذکر کسی سے نہ کرے، کیونکہ وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7046

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يُحَدِّثُ""أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطُفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَأَعْبُرَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اعْبُرْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الَّذِي يَنْطُفُ مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ، ‏‏‏‏‏‏حَلَاوَتُهُ تَنْطُفُ، ‏‏‏‏‏‏فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُهُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُقْسِمْ"".
Narrated Ibn `Abbas: A man came to Allah's Apostle and said, I saw in a dream, a cloud having shade. Butter and honey were dropping from it and I saw the people gathering it in their hands, some gathering much and some a little. And behold, there was a rope extending from the earth to the sky, and I saw that you (the Prophet) held it and went up, and then another man held it and went up and (after that) another (third) held it and went up, and then after another (fourth) man held it, but it broke and then got connected again. Abu Bakr said, O Allah's Apostle! Let my father be sacrificed for you! Allow me to interpret this dream. The Prophet said to him, Interpret it. Abu Bakr said, The cloud with shade symbolizes Islam, and the butter and honey dropping from it, symbolizes the Qur'an, its sweetness dropping and some people learning much of the Qur'an and some a little. The rope which is extended from the sky to the earth is the Truth which you (the Prophet) are following. You follow it and Allah will raise you high with it, and then another man will follow it and will rise up with it and another person will follow it and then another man will follow it but it will break and then it will be connected for him and he will rise up with it. O Allah's Apostle! Let my father be sacrificed for you! Am I right or wrong? The Prophet replied, You are right in some of it and wrong in some. Abu Bakr said, O Allah's Prophet! By Allah, you must tell me in what I was wrong. The Prophet said, Do not swear. ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ انہیں اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ کوئی زیادہ اور کوئی کم اور ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اسے پکڑ اور اوپر چڑھ گئے پھر ایک دوسرے صاحب نے بھی اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھ گئے پھر ایک تیسرے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی چڑھ گئے پھر چوتھے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعہ چڑھ گئے۔ پھر وہ رسی ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی تعبیر بیان کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیان کرو۔ انہوں نے کہا سایہ سے مراد دین اسلام ہے اور شہد اور گھی ٹپک رہا تھا وہ قرآن مجید کی شیرینی ہے اور بعض قرآن کو زیادہ حاصل کرنے والے ہیں، بعض کم اور آسمان سے زمین تک کی رسی سے مراد وہ سچا طریق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اس کے ذریعہ اللہ آپ کو اٹھا لے گا پھر آپ کے بعد ایک دوسرے صاحب آپ کے خلیفہ اول اسے پکڑیں گے وہ بھی مرتے دم تک اس پر قائم رہیں گے۔ پھر تیسرے صاحب پکڑیں گے ان کا بھی یہی حال ہو گا۔ پھر چوتھے صاحب پکڑیں گے تو ان کا معاملہ خلافت کا کٹ جائے گا وہ بھی اوپر چڑھ جائیں گے۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے بتائیے کیا میں نے جو تعبیر دی ہے وہ غلط ہے یا صحیح۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض حصہ کی صحیح تعبیر دی ہے اور بعض کی غلط۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پس واللہ! آپ میری غلطی کو ظاہر فرما دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم نہ کھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7047

حَدَّثَنِي مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَوْفٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ ""هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رُؤْيَا؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ غَدَاةٍ:‏‏‏‏ إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي:‏‏‏‏ انْطَلِقْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَثْلَغُ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَتَهَدْهَدُ الْحَجَرُ هَهُنَا فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ فَيَأْخُذُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لَهُمَا:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا هَذَانِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ انْطَلِقِ انْطَلِقْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْخِرَهُ إِلَى قَفَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَيْنَهُ إِلَى قَفَاهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو رَجَاءٍ:‏‏‏‏ فَيَشُقُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ ذَلِكَ الْجَانِبُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا هَذَانِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ انْطَلِقِ انْطَلِقْ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ التَّنُّورِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ فَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاطَّلَعْنَا فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهَبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَهُمَا:‏‏‏‏ مَا هَؤُلَاءِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ انْطَلِقِ انْطَلِقْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ سَابِحٌ يَسْبَحُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا عَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ حِجَارَةً كَثِيرَةً، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا ذَلِكَ السَّابِحُ يَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الَّذِي قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ الْحِجَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا فَيَنْطَلِقُ يَسْبَحُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ فَغَرَ لَهُ فَاهُ فَأَلْقَمَهُ حَجَرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَهُمَا:‏‏‏‏ مَا هَذَانِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ انْطَلِقِ انْطَلِقْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلًا مَرْآةً، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا عِنْدَهُ نَارٌ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَهُمَا:‏‏‏‏ مَا هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ انْطَلِقِ انْطَلِقْ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْتَمَّةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ لَوْنِ الرَّبِيعِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَهُمَا:‏‏‏‏ مَا هَذَا، ‏‏‏‏‏‏مَا هَؤُلَاءِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ انْطَلِقِ انْطَلِقْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ رَوْضَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ ارْقَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَارْتَقَيْنَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَفْتَحْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَفُتِحَ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْنَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَتَلَقَّانَا فِيهَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لَهُمْ:‏‏‏‏ اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبُوا، ‏‏‏‏‏‏فَوَقَعُوا فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا قَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسَمَا بَصَرِي صُعُدًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ هَذَاكَ مَنْزِلُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَهُمَا:‏‏‏‏ بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا، ‏‏‏‏‏‏ذَرَانِي فَأَدْخُلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ أَمَّا الْآنَ فَلَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ دَاخِلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَهُمَا:‏‏‏‏ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَا لِي:‏‏‏‏ أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْخِرُهُ إِلَى قَفَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَيْنُهُ إِلَى قَفَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يَسْبَحُ فِي النَّهَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُلْقَمُ الْحَجَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا وَشَطْرٌ قَبِيحًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ"".
Narrated Samura bin Jundub: Allah's Apostle very often used to ask his companions, Did anyone of you see a dream? So dreams would be narrated to him by those whom Allah wished to tell. One morning the Prophet said, Last night two persons came to me (in a dream) and woke me up and said to me, 'Proceed!' I set out with them and we came across a man Lying down, and behold, another man was standing over his head, holding a big rock. Behold, he was throwing the rock at the man's head, injuring it. The rock rolled away and the thrower followed it and took it back. By the time he reached the man, his head returned to the normal state. The thrower then did the same as he had done before. I said to my two companions, 'Subhan Allah! Who are these two persons?' They said, 'Proceed!' So we proceeded and came to a man Lying flat on his back and another man standing over his head with an iron hook, and behold, he would put the hook in one side of the man's mouth and tear off that side of his face to the back (of the neck) and similarly tear his nose from front to back and his eye from front to back. Then he turned to the other side of the man's face and did just as he had done with the other side. He hardly completed this side when the other side returned to its normal state. Then he returned to it to repeat what he had done before. I said to my two companions, 'Subhan Allah! Who are these two persons?' They said to me, 'Proceed!' So we proceeded and came across something like a Tannur (a kind of baking oven, a pit usually clay-lined for baking bread). I think the Prophet said, In that oven t here was much noise and voices. The Prophet added, We looked into it and found naked men and women, and behold, a flame of fire was reaching to them from underneath, and when it reached them, they cried loudly. I asked them, 'Who are these?' They said to me, 'Proceed!' And so we proceeded and came across a river. I think he said, .... red like blood. The Prophet added, And behold, in the river there was a man swimming, and on the bank there was a man who had collected many stones. Behold. while the other man was swimming, he went near him. The former opened his mouth and the latter (on the bank) threw a stone into his mouth whereupon he went swimming again. He returned and every time the performance was repeated. I asked my two companions, 'Who are these (two) persons?' They replied, 'Proceed! Proceed!' And we proceeded till we came to a man with a repulsive appearance, the most repulsive appearance, you ever saw a man having! Beside him there was a fire and he was kindling it and running around it. I asked my companions, 'Who is this (man)?' They said to me, 'Proceed! Proceed!' So we proceeded till we reached a garden of deep green dense vegetation, having all sorts of spring colors. In the midst of the garden there was a very tall man and I could hardly see his head because of his great height, and around him there were children in such a large number as I have never seen. I said to my companions, 'Who is this?' They replied, 'Proceed! Proceed!' So we proceeded till we came to a majestic huge garden, greater and better than I have ever seen! My two companions said to me, 'Go up and I went up' The Prophet added, So we ascended till we reached a city built of gold and silver bricks and we went to its gate and asked (the gatekeeper) to open the gate, and it was opened and we entered the city and found in it, men with one side of their bodies as handsome as the handsomest person you have ever seen, and the other side as ugly as the ugliest person you have ever seen. My two companions ordered those men to throw themselves into the river. Behold, there was a river flowing across (the city), and its water was like milk in whiteness. Those men went and threw themselves in it and then returned to us after the ugliness (of their bodies) had disappeared and they became in the best shape. The Prophet further added, My two companions (angels) said to me, 'This place is the Eden Paradise, and that is your place.' I raised up my sight, and behold, there I saw a palace like a white cloud! My two companions said to me, 'That (palace) is your place.' I said to them, 'May Allah bless you both! Let me enter it.' They replied, 'As for now, you will not enter it, but you shall enter it (one day) I said to them, 'I have seen many wonders tonight. What does all that mean which I have seen?' They replied, 'We will inform you: As for the first man you came upon whose head was being injured with the rock, he is the symbol of the one who studies the Qur'an and then neither recites it nor acts on its orders, and sleeps, neglecting the enjoined prayers. As for the man you came upon whose sides of mouth, nostrils and eyes were torn off from front to back, he is the symbol of the man who goes out of his house in the morning and tells so many lies that it spreads all over the world. And those naked men and women whom you saw in a construction resembling an oven, they are the adulterers and the adulteresses. And the man whom you saw swimming in the river and given a stone to swallow, is the eater of usury (Riba). aand the bad looking man whom you saw near the fire kindling it and going round it, is Malik, the gatekeeper of Hell. And the tall man whom you saw in the garden, is Abraham and the children around him are those children who die with Al-Fitra (the Islamic Faith). The narrator added: Some Muslims asked the Prophet, O Allah's Apostle! What about the children of pagans? The Prophet replied, And also the children of pagans. The Prophet added, My two companions added, 'The men you saw half handsome and half ugly were those persons who had mixed an act that was good with another that was bad, but Allah forgave them.' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں صحابہ سے اکثر کیا کرتے تھے ان میں یہ بھی تھی کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے۔ بیان کیا کہ پھر جو چاہتا اپنا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو میں ان کے ساتھ چل دیا۔ پھر ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا اور اس کے سر پر پتھر پھینک کر مارتا تو اس کا سر اس سے پھٹ جاتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، لیکن وہ شخص پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اٹھا لاتا اور اس لیٹے ہوئے شخص تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر ٹھیک ہو جاتا جیسا کہ پہلے تھا۔ کھڑا شخص پھر اسی طرح پتھر اس پر مارتا اور وہی صورتیں پیش آتیں جو پہلے پیش آئیں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ فرمایا کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو، آگے بڑھو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا اور یہ اس کے چہرہ کے ایک طرف آتا اور اس کے ایک جبڑے کو گدی تک چیرتا اور اس کی ناک کو گدی تک چیرتا اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیرتا۔ ( عوف نے ) بیان کیا کہ بعض دفعہ ابورجاء ( راوی حدیث ) نے «فيشق» کہا، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) بیان کیا کہ پھر وہ دوسری جانب جاتا ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ بھی نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی پہلی صحیح حالت میں لوٹ آتی۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ ( اس طرح برابر ہو رہا ہے ) فرمایا کہ میں نے کہا سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلو، ( ابھی کچھ نہ پوچھو ) چنانچہ ہم آگے چلے پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کہا کرتے تھے کہ اس میں شور و آواز تھی۔ کہا کہ پھر ہم نے اس میں جھانکا تو اس کے اندر کچھ ننگے مرد اور عورتیں تھیں اور ان کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی جب آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیتی تو وہ چلانے لگتے۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے کہا کہ وہ خون کی طرح سرخ تھی اور اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور نہر کے کنارے ایک دوسرا شخص تھا جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے تھے اور یہ تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس شخص کے پاس پہنچتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو یہ اپنا منہ کھول دیتا اور کنارے کا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا وہ پھر تیرنے لگتا اور پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا اور جب بھی اس کے پاس آتا تو اپنا منہ پھیلا دیتا اور یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا۔ فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک نہایت بدصورت آدمی کے پاس پہنچے جتنے بدصورت تم نے دیکھے ہوں گے ان میں سب سے زیادہ بدصورت۔ اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے جلا رہا تھا اور اس کے چاروں طرف دوڑتا تھا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا چلو آگے چلو۔ ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو ہرا بھرا تھا اور اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے۔ اس باغ کے درمیان میں بہت لمبا ایک شخص تھا، اتنا لمبا تھا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا دشوار تھا کہ وہ آسمان سے باتیں کرتا تھا اور اس شخص کے چاروں طرف سے بہت سے بچے تھے کہ اتنے کبھی نہیں دیکھے تھے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہے یہ بچے کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ چلو آگے چلو فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک عظیم الشان باغ تک پہنچے، میں نے اتنا بڑا اور خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ اس پر چڑھئیے ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر دکھائی دیا جو اس طرح بنا تھا کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک اینٹ چاندی کی۔ ہم شہر کے دروازے پر آئے تو ہم نے اسے کھلوایا۔ وہ ہمارے لیے کھولا گیا اور ہم اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے اس میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے جسم کا نصف حصہ تو نہایت خوبصورت تھا اور دوسرا نصف نہایت بدصورت۔ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ۔ ایک نہر سامنے بہہ رہی تھی اس کا پانی انتہائی سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے اور پھر ہمارے پاس لوٹ کر آئے تو ان کا پہلا عیب جا چکا تھا اور اب وہ نہایت خوبصورت ہو گئے تھے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ ان دونوں نے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میری نظر اوپر کی طرف اٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل اوپر نظر آیا فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی منزل ہے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ مجھے اس میں داخل ہونے دو۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو آپ نہیں جا سکتے لیکن ہاں آپ اس میں ضرور جائیں گے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ آج رات میں نے عجیب و غریب چیزیں دیکھی ہیں۔ یہ چیزیں کیا تھیں جو میں نے دیکھی ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا ہم آپ کو بتائیں گے۔ پہلا شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا تھا اور پھر اسے چھوڑ دیتا اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے اور جس کا جبڑا گدی تک اور ناک گدی تک اور آنکھ گدی تک چیری جا رہی تھی۔ یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹی خبر تراشتا، جو دنیا میں پھیل جاتی اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور عورتیں تھیں وہ شخص جس کے پاس آپ اس حال میں گئے کہ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیا جاتا تھا وہ سود کھانے والا ہے اور وہ شخص جو بدصورت ہے اور جہنم کی آگ بھڑکا رہا ہے اور اس کے چاروں طرف چل پھر رہا ہے وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی ہے اور وہ لمبا شخص جو باغ میں نظر آیا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور جو بچے ان کے چاروں طرف ہیں تو وہ بچے ہیں جو ( بچپن ہی میں ) فطرت پر مر گئے ہیں۔ بیان کیا کہ اس پر بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مشرکین کے بچے بھی ( ان میں داخل ہیں ) اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا بدصورت تھا تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے عمل کے ساتھ برے عمل بھی کئے اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا۔

آیت نمبر