Mishkat-ul-Masabeh

Search Results(1)

10)

10) حج اور عمرے کابیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2505

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا» فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْء فدَعُوه . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا :’’ لوگو ! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے لہذا تم حج کرو ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے ، حتیٰ کہ اس نے تین مرتبہ کہا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (پھر ہر سال) واجب ہو جاتا ، اور تم استطاعت نہ رکھتے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ جب تک میں تمہیں کوئی مسئلہ نہ بتاؤں تو مجھے چھوڑے رکھو ، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیا سے زیادہ سوال کرنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ، جب میں کسی چیز کے بارے میں تمہیں حکم دوں تو مقدور بھر اس پر عمل کرو اور جب میں کسی چیز سے تمہیں منع کروں تو اسے چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2506

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ» قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مبرورٌ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا ، کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، پھر کون سا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، پھر کون سا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حج مقبول ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2507

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أمه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے لئے حج کرے ، پھر وہ گناہ کا کام کرے نہ فحش گوئی کرے تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) اس روز کی طرح لوٹتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2508

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزاءٌ إِلا الجنَّةُ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عمرہ دوسرے عمرہ تک کے درمیانی وقفہ میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے ، اور حج مقبول کی جزا جنت ہی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2509

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن عمْرَة فِي رَمَضَان تعدل حجَّة»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رمضان میں عمرہ کرنا (ثواب کے لحاظ سے) حج کے برابر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2510

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «رَسُولُ اللَّهِ» فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَلَكِ أَجَرٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روحاء کے مقام پر ایک قافلے سے ملے تو آپ نے پوچھا :’’ کون ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، مسلمان ۔ پھر انہوں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا رسول ۔‘‘ ایک عورت نے ایک بچہ اٹھا کر عرض کیا : کیا اس کا حج ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، اور تمہارے لئے اس کا اجر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2511

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ: يَا رَسُول الله إِن فَرِيضَة الله عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نعم» ذَلِك حجَّة الْوَدَاع
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بندوں پر جو حج کا فریضہ ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو اس حال میں پایا کہ وہ سواری پر صحیح طرح بیٹھ نہیں سکتے ، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اور یہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2512

وَعَنْهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكَنْتَ قَاضِيَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَاقْضِ دَيْنَ اللَّهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میری بہن نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن وہ فوت ہو چکی ہیں ، تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو ، وہ تو ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2513

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ» . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَخَرَجَتِ امْرَأَتِي حَاجَّةً قَالَ: «اذهبْ فاحجُجْ مَعَ امرأتِكَ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرے نہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر کرے ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فلاں فلاں غزوہ میں میرا نام لکھ لیا گیا ہے جبکہ میری اہلیہ حج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جاؤ اور اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2514

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ. فَقَالَ: «جهادكن الْحَج»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا جہاد حج ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2515

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو محرم»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کوئی عورت محرم کے بغیر ایک دن اور ایک رات کا سفر نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2516

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ: ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ: الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ: قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ: يَلَمْلَمَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ وَكَذَاكَ وَكَذَاكَ حَتَّى أهل مَكَّة يهلون مِنْهَا
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لئے جحفہ ، اہل نجد کے لئے قرن منازل اور اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر کیا ، وہ ان کے لئے ہیں اور ان کے علاوہ ان راستوں سے آنے والوں کے لئے ہیں جبکہ وہ حج اور عمرہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں ، اور جو ان مواقیت کے اندر کی جانب رہتا ہے تو وہ اپنے گھر سے احرام باندھے گا ، اور اس طرح اور اس طرح حتیٰ کہ مکہ والے مکہ سے احرام باندھیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2517

وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اور اہل مدینہ ذوالحلیفہ کے مقام پر احرام باندھیں گے ، جبکہ دوسرے راستوں والے جحفہ سے ، اہل عراق ذات عرق سے ، اہل نجد قرن سے اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2518

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے ہیں وہ سب ذوالقعدہ میں کیے ، بجز اس عمرہ کے جو آپ نے حج کے ساتھ کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عمرہ حدیبیہ سے ذوالقعدہ میں کیا ، ایک عمرہ اگلے سال ذوالقعدہ میں کیا ، ایک عمرہ جعرانہ سے جہاں آپ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا وہ بھی ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2519

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ مَرَّتَيْنِ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کرنے سے پہلے ذوالقعدہ میں دو عمرے کیے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2520

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ» . فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لَوْ قُلْتُهَا: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا وَالْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگو ! اللہ نے تم پر حج کرنا فرض قرار دیا ہے ۔‘‘ تو اقرع بن حابس ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہو جاتا ، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم عمل کرتے نہ تم استطاعت رکھتے ، اور حج کرنا ایک مرتبہ فرض ہے ، اور جو شخص زیادہ مرتبہ کرے تو وہ نفلی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2521

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حَجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِليهِ سَبِيلا) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ والْحَارث يضعف فِي الحَدِيث
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس بیت اللہ تک پہنچنے کے لئے زادراہ اور سواری ہو وہ پھر بھی حج نہ کرے تو پھر اس پر کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر فوت ہو یا نصرانی ، اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :’’ اور جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس پر بیت اللہ کا حج کرنا واجب ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد پر کلام کیا گیا ہے ، جبکہ ہلال بن عبداللہ مجہول ہے اور حارث کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2522

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَرُورَةَ فِي الإِسلامِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسلام میں ’’ صرورہ ‘‘ (گوشہ نشینی اختیار کرنا ، شادی نہ کرنا ، استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا وغیرہ) نہیں ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2523

وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيُعَجِّلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ جلدی کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2524

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حج اور عمرہ پے در پے (ایک کے بعد دوسرا) کرو ، کیونکہ وہ فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے ، سونے اور چاندی کی میل دور کر دیتی ہے ۔ اور حج مقبول کی جزا صرف جنت ہی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2525

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ عُمَرَ إِلَى قَوْله: «خبث الْحَدِيد»
امام احمد اور ابن ماجہ نے عمر ؓ سے ((خبث الحدید)) تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2526

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟ قَالَ: «الزَّادُ وَالرَّاحِلَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وجوبِ حج کی شرط کیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زادراہ اور سواری ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2527

وَعَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الْحَاج؟ فَقَالَ: «الشعث النَّفْل» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْعَجُّ وَالثَّجُّ» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: «زَادٌ وَرَاحِلَةٌ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ. وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ فِي سُنَنِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يذكر الْفَصْل الْأَخير
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا : حاجی کی صفت کیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پراگندہ ، بکھرے ہوئے بال اور میل کچیل ۔‘‘ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سا حج افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلند آواز سے تکبیریں کہنا اور قربانی کا خون بہانا ۔‘‘ پھر ایک اور کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا ، راستے سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زادراہ اور سواری ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا لیکن انہوں نے آخری بات (راستے سے کیا مراد ہے ؟) ذکر نہیں کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی شرح السنہ و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2528

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ: «حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابورزین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں ، وہ حج و عمرے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ سواری کر سکتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کر ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2529

مَرْفُوع وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ قَالَ: «مَنْ شُبْرُمَةُ» قَالَ: أَخٌ لِي أَوْ قَرِيبٌ لِي قَالَ: «أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی آدمی کو شُبرمہ کی طرف سے تلبیہ (لبیک) کہتے ہوئے سنا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شبرمہ کون ہے ؟‘‘ اس نے کہا : میرا بھائی ہے یا میرا کوئی قریبی ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے خود حج کیا ہوا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پہلے اپنی طرف سے حج کرو ، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا ۔‘‘ حسن ، رواہ الشافعی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2530

وَعَنْهُ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات قرار دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2531

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات قرار دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2532

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ أَوْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کے لیے حج یا عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں یا اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2533

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ فَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وتزَوَّدُوا فإِنَّ خيرَ الزَّادِ التَّقوى) رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اہل یمن حج کرتے تو وہ زادراہ ساتھ نہیں لیتے تھے اور وہ کہتے تھے ہم توکل کرنے والے ہیں ۔ لیکن جب وہ مکہ پہنچ جاتے تو پھر لوگوں سے سوال کرتے ، تب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی :’’ زادراہ لے لیا کرو ، اور بہترین زادراہ تقویٰ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2534

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟ قَالَ: نَعَمْ عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ہاں ، ان پر جہاد فرض ہے لیکن ان میں قتال نہیں ، اور وہ جہاد حج و عمرہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2535

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو کوئی ظاہری حاجت (زادِراہ اور سواری کی عدم دستیابی) یا ظالم بادشاہ یا (سفر سے) روکنے والا مرض ، حج سے نہ روکے اور وہ پھر بھی حج کیے بغیر فوت ہو جائے تو پھر اگر وہ چاہے تو یہودی ہو کر مرے اور اگر چاہے تو نصرانی ہو کر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2536

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللَّهِ إِنْ دَعَوْهُ أجابَهمْ وإِنِ استَغفروهُ غَفرَ لهمْ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حج اور عمرہ کرنے والے ، اللہ کے تقرب کا قصد کرنے والے ہیں ۔ اگر وہ اس سے دعا کریں تو وہ ان کی دعا قبول فرمائے اور اگر وہ اس سے مغفرت طلب کریں تو وہ انہیں بخش دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2537

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تین قسم کے لوگ ، مجاہد ، حاجی اور عمرہ کرنے والے ، اللہ کے تقرب کا قصد کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و البیھقی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2538

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمد
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو ، اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کے وہ اپنے گھر میں داخل ہو ۔ اس سے درخواست کرو کہ وہ تمہارے لیے مغفرت طلب کرے ، کیونکہ اس کی مغفرت ہو چکی ہے (اور ایسے شخص کی دعا قبول ہوتی ہے) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2539

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا ثُمَّ مَاتَ فِي طَرِيقِهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ الْغَازِي وَالْحَاجِّ والمعتمِرِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کرنے کے لیے روانہ ہو ، پھر وہ اس کے راستے میں (عمل کرنے سے پہلے) فوت ہو جائے تو اللہ اس کے لیے جہاد کرنے والے ، حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے کا اجر عطا فرماتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2540

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ، آپ کے احرام باندھنے سے پہلے ، خوشبو لگایا کرتی تھی ، اور اسی طرح جب طواف (افاضہ) سے پہلے احرام کھول دیتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کستوری کی خوشبو لگایا کرتی تھی گویا میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مانگ میں جبکہ آپ حالت احرام میں تھے ، خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2541

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تلبیہ کہتے ہوئے سنا ، جبکہ آپ بال جمائے ہوئے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، آپ کا کوئی شریک نہیں ، بے شک ہر قسم کی تعریف ، تمام نعمتیں اور بادشاہت تیرے ہی لیے ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کلمات میں کوئی اضافہ نہیں کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2542

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ منَ عندِ مسجدِ ذِي الحليفة
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنا پاؤں رکاب میں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس تلبیہ پکارتے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2543

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صراخا. رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) روانہ ہوئے تو ہم بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکارتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2544

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بهِما جَمِيعًا: الْحَج وَالْعمْرَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ابوطلحہ ؓ کے پیچھے سواری پر سوار تھا اور وہ (صحابہ کرام) حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہہ رہے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2545

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ ہم میں سے کسی نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ، کسی نے حج اور عمرہ کا اور کسی نے حج کا تلبیہ پکارا ، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا ۔ جس نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا اس نے احرام کھول دیا ، اور جنہوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا تو انہوں نے دس ذوالحجہ تک احرام نہ کھولا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2546

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ بدأَ فأهلَّ بالعمْرةِ ثمَّ أهلَّ بالحجّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ ملایا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے عمرے کے لیے تلبیہ کہا اور پھر حج کے لیے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2547

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے کے لیے اپنا لباس اتارا اور غسل کیا (پھر احرام باندھا) ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2548

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّدَ رَأْسَهُ بِالْغِسْلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کی چیزوں (خطمی اور گوند وغیرہ) سے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2549

وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يرفَعوا أصواتَهم بالإِهْلالِ أَو التَّلبيَةِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
خلاد بن صائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے مجھے فرمایا کہ میں اپنے صحابہ کو بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2550

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ: مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتَّى تنقطِعَ الأرضُ منْ ههُنا وههُنا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
سہل بن سعد بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان تلبیہ پکارتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں زمین کے آخری کناروں تک تمام پتھر ، تمام درخت اور مٹی کے تمام ڈھیلے تلبیہ پکارتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2551

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَل» . مُتَّفق عَلَيْهِ وَلَفظه لمُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحلیفہ کے مقام پر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ان کلمات کے ساتھ تلبیہ پکارتے :’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تمام سعادتیں اور بھلائیاں تیرے ہاتھوں میں ہیں ، میں حاضر ہوں ، رغبت اور طلب خیر تیری ہی طرف ہے اور عمل تیرے ہی لیے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور الفاظ حدیث مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2552

وَعَنْ عِمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ تَلْبِيَتِهِ سَأَلَ اللَّهَ رِضْوَانَهُ وَالْجَنَّةَ وَاسْتَعْفَاهُ بِرَحْمَتِهِ مِنَ النَّارِ. رَوَاهُ الشَّافِعِي
عُمارہ بن خزیمہ بن ثابت اپنے والد سے اور وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ سے اس کی رضا مندی اور جنت کا سوال کرتے اور اس کی رحمت کے ذریعے جہنم سے بچاؤ کی درخواست کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الشافعی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2553

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کرنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں میں اعلان کیا ، وہ اکٹھے ہو گئے ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ’’ بَیْدَاء ‘‘ کے مقام پر تشریف لائے تو احرام باندھا ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2554

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ» إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ. يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، مشرک کہا کرتے تھے : ہم حاضر ہیں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ تم پر افسوس ہے ، بس بس اتنا ہی کہو ۔‘‘ (پھر وہ مشرک کہتے) مگر تیرا وہ شریک ہے جس کا تو مالک ہے اور (اس چیز کا بھی تو مالک ہے) جس کا وہ مالک ہے ۔ اور وہ بیت اللہ کا طواف کرتے وقت یہ کہا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2555

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بالحجِّ فِي الْعَاشِرَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أصنعُ؟ قَالَ: «اغتسِلي واستثقري بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي» فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَطَافَ سَبْعًا فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَرَأَ: (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبراهيمَ مُصَلَّى) فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ: (قُلْ هوَ اللَّهُ أَحَدٌ و (قُلْ يَا أيُّها الكافِرونَ) ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شعائِرِ اللَّهِ) أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» . ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ وَمَشَى إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ نَادَى وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ وَالنَّاسُ تَحْتَهُ فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أسق الهَدْيَ وجعلتُها عُمْرةً فمنْ كانَ مِنْكُم لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً» . فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَى وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ» . وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أهلَّ بهِ رسولُكَ قَالَ: «فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ فَلَا تَحِلَّ» . قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم وَمن كَانَ مَعَه من هدي فَمَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأجَاز رَسُول الله صلى حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ مِنْ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ [ص:786] تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ. فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَدَفَعَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَتَّى أَتَى بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ فَأَتَى عَلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ فَقَالَ: «انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ» . فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ میں نو سال قیام فرمایا اور اس دوران حج نہ کیا ، پھر دسویں سال آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کرایا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کا ارادہ رکھتے ہیں ، بہت سے لوگ مدینہ پہنچ گئے ، ہم آپ کے ساتھ روانہ ہوئے حتی کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس ؓ نے محمد بن ابی بکر ؓ کو جنم دیا ، انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیغام بھیجا کہ اب میں کیا کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ غسل کر ، کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر احرام باندھ لے ۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ذوالحلیفہ) مسجد میں نماز پڑھی پھر (اونٹنی) قصواء پر سوار ہوئے حتی کہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیداء پر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توحیدی تلبیہ پکارا :’’ میں حاضر ہوں ، ہر قسم کی حمد ، تمام نعمتیں اور بادشاہت تیری ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ جابر ؓ بیان کرتے ہیں ہم نے تو صرف حج کی نیت کی تھی ، ہمیں عمرہ کا پتہ نہیں تھا ، حتی کہ ہم آپ کے ساتھ بیت اللہ میں پہنچے ، تو آپ نے حجر اسود کو چوما ، سات چکر لگائے ، تین میں رمل کیا (ذرا اکڑ کر دوڑے) اور چار میں چلے ، پھر آپ مقام ابراہیم پر آئے تو یہ آیت پڑھی :’’ مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ ۔‘‘ آپ نے وہاں دو رکعتیں پڑھیں اور مقام ابراہیم ؑ کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلی رکعت میں سورۂ کافرون اور دوسری میں سورۂ اخلاص پڑھی ۔ پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوم کر دروازے سے نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے ، جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ‘‘ میں وہیں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ، پس آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا سے شروع کیا اور اس پر چڑھ گئے حتی کہ آپ نے بیت اللہ دیکھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ رخ ہوئے تو اللہ کی توحید اور کبریائی بیان کی اور فرمایا :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی حمد سزاوار ہے ۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا ، اپنے بندے کی نصرت فرمائی ، اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دی ۔‘‘ پھر آپ نے اس دوران دعا فرمائی ، آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ فرمائے ۔ پھر آپ نیچے اترے اور مروہ کی طرف گئے حتی کہ جب آپ وادی کے نشیب میں تیزی سے اترنے لگے تو آپ دوڑنے لگے حتی کہ جب آپ چڑھنے لگے تو آپ معمول کے مطابق چلتے گئے حتی کہ آپ مروہ پر پہنچ گئے اور آپ نے وہاں بھی ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا ، حتی کہ جب آپ آخری چکر میں پہنچے تو آپ مروہ پر تھے اور صحابہ آپ کے نیچے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں سے آواز دیتے ہوئے فرمایا :’’ جس چیز کا مجھے اب پتہ چلا ہے اگر اس کا مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور میں اس (حج) کو عمرہ میں تبدیل کر لیتا ، جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہیں وہ احرام کھول دے ، اور اسے عمرہ میں بدل ڈالے ۔‘‘ سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ اس سال کے لیے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیں اور دو مرتبہ فرمایا :’’ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ، اور یہ صرف ہمارے اسی سال کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔‘‘ علی ؓ یمن سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قربانی کے لیے اونٹ لے کر تشریف لائے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سےپوچھا :’’ جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے کہا تھا : اے اللہ ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تیرے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلبیہ پکارا ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ میرے ساتھ قربانی کا جانور ہے لہذا تم احرام نہ کھولو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، قربانیوں کے جانوروں کی وہ جماعت جو علی ؓ یمن سے لائے تھے اور وہ جنہیں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساتھ لے کر آئے تھے (یہ سب) ایک سو تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان صحابہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے ، کے سوا سب لوگوں نے احرام کھول دیے اوربال کتر لیے ، جب ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا دن ہوا تو انہوں نے منیٰ کا ارادہ کیا اور حج کے لیے احرام باندھا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے ، آپ نے وہاں (منیٰ میں) ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں ، پھر تھوڑی دیر قیام فرمایا حتی کہ سورج طلوع ہو گیا ، آپ نے نمرہ میں بالوں کا بنا ہوا خیمہ لگانے کا حکم فرمایا ، پس رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے ، قریش کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ قریش کے دستورِ جاہلیت کے مطابق مشعرِ حرام (مزولفہ) میں وقوف فرمائیں گے ، لیکن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے گزر کر میدانِ عرفات میں تشریف لے گئے آپ نے دیکھا کہ نمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے ، آپ وہاں اترے حتی کہ سورج ڈھل گیا تو آپ نے (اپنی اونٹنی) قصواء کے بارے میں حکم فرمایا تو اس پر پالان رکھ دیا گیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے نشیب (وادی عُرنہ) میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’ بے شک تمہارا خون ، تمہارا مال تم (ایک دوسرے) پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی ، اس مہینے کی اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے ۔ سن لو ! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ہے ، جاہلیت کے خون (یعنی قتل) بھی ختم کر دیے گئے اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے ، اور وہ بنو سعد قبیلے میں دودھ پی رہا تھا کہ قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کر دیا ، اور جاہلیت کا سود ختم کر دیا گیا ، اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) کا ہے ، وہ مکمل طور پر ختم ہے ، عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، تم نے انہیں اللہ کی امان و عہد کے ساتھ حاصل کیا ہے ، اور اللہ کے کلمے کے ذریعے انہیں حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر (مسکن) پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں ، جسے تم ناپسند کرتے ہو ، لیکن اگر وہ ایسے کریں تو پھر تم انہیں ہلکی سی ضرب مار سکتے ہو ، اور میں تم میں ایک ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا تو پھر تم گمراہ نہیں ہونگے ، اور وہ ہے اللہ کی کتاب ۔ اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پہنچا دیا ، حق ادا کر دیا اور خیر خواہی فرمائی ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور اسے لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا :’’ اے اللہ ! گواہ رہنا ، اے اللہ ! گواہ رہنا ۔‘‘ پھر بلال ؓ نے اذان دی اور پھر اقامت کہی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر پڑھائی ، پھر اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھائی ، اور آپ نے ان دونوں (نمازوں) کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی ، پھر آپ سواری پر سوار ہوئے حتی کہ وقوف کی جگہ پر تشریف لے گئے ، آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں کی جانب کیا ، اور جبل المشاۃ (پیدل چلنے والوں کی راہ میں واقع ریتلے تودے) کو اپنے سامنے کیا ، اور قبلہ رخ مسلسل وقوف فرمایا حتی کہ سورج غروب ہونے لگا ، تھوڑی سی زردی رہ گئی حتی کہ سورج کی ٹکیہ غائب ہو گئی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسامہ ؓ کو پیچھے بٹھایا اور وہاں سے چلے حتی کہ مزدلفہ تشریف لے آئے ، آپ نے وہاں ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھیں اوران دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی ، پھر آپ لیٹ گئے حتی کہ فجر پڑھی ، پھر قصواء پر سوار ہوئے اور مشعرِ حرام تشریف لائے ، قبلہ رخ ہو کر اس (اللہ) سے دعا کی اس کی تکبیر و تہلیل اور توحید بیان کی ، آپ مسلسل کھڑے رہے حتی کہ خوب اجالا ہو گیا ، آپ طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل دیے ، آپ نے فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا اور آپ وادی محسر پہنچے تو سواری کو تھوڑا سا تیز کیا ، پھر درمیانی راستے پر ہو لیے جو کہ جمرہ عقبی پر نکلتا تھا ، حتی کہ آپ اس جمرہ کے پاس پہنچے جس کے پاس درخت تھا ، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ، آپ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ، ان میں سے ہر کنکری ایسی تھی جسے چٹکی میں لے کر چلایا جا سکتا تھا ، آپ نے یہ کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں ، پھر آپ قربان گاہ تشریف لے گئے ، آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کیے ، پھر آپ نے یہ فریضہ علی ؓ کو سونپ دیا تو باقی اونٹ انہوں نے ذبح کیے ، اور آپ نے انہیں بھی اپنی قربانی میں شریک کیا ، پھر آپ نے حکم فرمایا اور ہر اونٹ سے ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا ، آپ دونوں (رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور حضرت علی ؓ) نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اس کا شوربا پیا ۔ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر سوار ہوئے اور طواف افاضہ کیا ، نماز ظہر مکہ میں پڑھی ، پھر آپ بنو عبدالمطلب کے پاس تشریف لے گئے جو زم زم پلا رہے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عبدالمطلب کی اولاد ، پانی نکالو ، اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمہارے پانی پلانے کے اس کام میں لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا ۔‘‘ انہوں نے آپ کو ایک ڈول پانی دیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سے نوش فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2556

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ العُمرةِ ثمَّ لَا يحل حَتَّى يحل مِنْهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ» . قَالَتْ: فَحِضْتُ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِالْحَجِّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّي بَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثمَّ طافوا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، حجۃ الوداع کے موقع پر ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، ہم میں ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کے لیے احرام باندھا ، اور ہم میں بعض نے حج کے لیے احرام باندھا ، جب ہم مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے عمرہ کے لیے احرام باندھا اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تو وہ احرام کھول دے اور جس شخص نے عمرہ کے لیے احرام باندھا اور وہ قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے تو وہ عمرے کے ساتھ حج کے احرام کی نیت کر لیں ، پھر وہ احرام نہ کھولے حتی کہ وہ ان دونوں سے فارغ ہو جائے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ احرام نہ کھولے حتی کہ اپنی قربانی سے فارغ ہو جائے ، اور جس شخص نے حج کا احرام باندھا تھا تو وہ اپنا حج مکمل کرے ۔‘‘ وہ فرماتی ہیں ، مجھے حیض آ گیا لہذا میں نے بیت اللہ کا طواف کیا نہ صفا مروہ کی سعی کی ، اور میں عرفہ کے دن (نو ذوالحجہ) تک حالت حیض میں رہی ، میں نے تو عمرہ کے لیے احرام باندھا تھا ، لیکن نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں اپنے سر کے بال کھول کر کنگھی کروں اور حج کے لیے احرام باندھوں ، اور میں عمرہ ترک کر دوں ۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا حتی کہ میں نے اپنا حج پورا کیا ، پھر آپ نے (میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کو میرے ساتھ بھیجا اور مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے عمرے کی جگہ تنعیم سے عمرہ کروں ۔ آپ ؓ بیان کرتی ہیں ، جن لوگوں نے عمرہ کے لیے احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر انہوں نے احرام کھول دیا ، پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد ایک طواف کیا ، رہے وہ لوگ جنہوں نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2557

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وليُهد فمنْ لم يجدْ هَديا فيلصم ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ» فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعًا فَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَاقَ الْهَدْي من النَّاس
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ ملایا تھا ، آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے گئے تھے ، آپ نے پہلے عمرہ کا احرام باندھا ، پھر حج کا احرام باندھا ، تو صحابہ کرام ؓ نے بھی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کو عمرے کے ساتھ ملا کر فائدہ حاصل کیا ، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو قربانی کے جانور اپنے ساتھ لے کر گئے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو قربانی کے جانور ساتھ نہیں لائے تھے ، جب نبی مکہ پہنچے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے تو اس کے لیے کوئی چیز حلال نہیں جو اس پر حرام تھی حتی کہ وہ اپنا حج پورا کر لے ، اور جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے ، صفا مروہ کی سعی کرے ، بال کٹوا کر احرام کھول دے ، پھر (حج کے موقع پر) حج کے لیے احرام باندھے ، اور قربانی کرے ، تو جو شخص قربانی کا جانور نہ پائے تو وہ تین روزے ایام حج میں اور سات روزے اپنے گھر پہنچ کر رکھے ۔‘‘ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ پہنچے تو آپ نے طواف کیا اور سب سے پہلے حجر اسود کو چوما ، پھر آپ نے تین چکر دوڑ کر لگائے اور چار چکر معمول کی چال چل کر لگائے ، جب آپ طواف مکمل کر چکے تو آپ نے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگائے ، پھر آپ پر ان چیزوں میں سے کوئی بھی چیز حلال نہیں ہوئی تھی جو آپ پر حرام تھی حتی کہ آپ نے اپنا حج مکمل کیا اور قربانی کے دن قربانی کی اور بیت اللہ شریف پہنچ کر طوافِ افاضہ کیا ، پھر آپ کے لیے وہ تما م چیزیں حلال ہو گئیں جو آپ پر حرام ہوئیں تھیں ، اور جو لوگ قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2558

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ، اور جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو اس کے لیے تمام چیزیں حلال ہوں گی ، کیونکہ عمرہ روز قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2559

عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّد بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ: «حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ» . قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلَى نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَنِيَّ. قَالَ: «قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ فَحِلُّوا» فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ: بِمَ أَهْلَلْتَ؟ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا» قَالَ: وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ألعامنا هَذَا أم لأبد؟ قَالَ: «لأبد» . رَوَاهُ مُسلم
عطاء ؒ بیان کرتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو اپنے ساتھ بہت سے لوگوں میں سنا ، انہوں نے فرمایا : ہم محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے صرف اکیلے حج ہی کا احرام باندھا تھا ، عطاء بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ نے فرمایا : نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ تشریف لائے تو آپ نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم فرمایا : عطاء بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ احرام کھول دو اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ ۔‘‘ عطاء ؒ بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات (عورتوں کے پاس جانے) کو ان پر واجب قرار نہیں دیا تھا ، بلکہ ان (عورتوں) کو ان کے لیے مباح قرار دیا تھا ۔ ہم نے عرض کیا ، ہمارے میدانِ عرفات میں جانے میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ، تو آپ نے ہمیں اپنی بیویوں کے پاس جانے (یعنی جماع کرنے) کا حکم فرمایا ، اور جب ہم میدانِ عرفات پہنچیں تو (گویا کہ) ہماری شرم گاہیں منی گرا رہی ہوں ۔ عطاء ؒ بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے گویا میں اِن کے ہاتھ کے اشارے کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسے حرکت دے رہے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم میں کھڑے ہوئے تو فرمایا :’’ تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں ، تم سب سے زیادہ سچا اور تم سب سے زیادہ نیکوکار ہوں ، اگر میرے ساتھ میری قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی تمہاری طرح احرام کھول دیتا ، اگر وہ بات جو مجھے اب معلوم ہوئی ہے وہ پہلے معلوم ہو جاتی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا ، تم احرام کھول دو ۔‘‘ تو ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے سمع و اطاعت اختیار کی ، عطاء بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ نے فرمایا : علی ؓ صدقات کی وصولی کے بعد وہاں (مکہ) پہنچے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے کس نیت سے احرام باندھا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جس نیت سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام باندھا تھا ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا :’’ قربانی کرنا اور حالت احرام میں رہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، علی ؓ اپنے لیے قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے ۔ سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ اسی سال کے لیے ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہمیشہ کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2560

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ. قَالَ: «أَو مَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ ثمَّ أُحلُّ كَمَا حلُّوا» . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار یا پانچ ذوالحجہ کو مکہ پہنچے تھے ، آپ میرے پاس تشریف لائے تو آپ غصہ کی حالت میں تھے ۔ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کو کس نے ناراض کیا ہے ؟ اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک کام کا حکم دیا ہے جبکہ وہ تردد کا شکار ہیں ۔ جس چیز کا مجھے اب پتہ چلا ہے اگر اس کا مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا حتی کہ میں اسے یہاں سے خرید لیتا ، پھر میں بھی احرام کھول دیتا جیسے انہوں نے احرام کھولا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2561

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ وَيُصَلِّيَ فَيَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا وَإِذَا نَفَرَ مِنْهَا مَرَّ بِذِي طُوًى وَبَاتَ بِهَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر ؓ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے وادی ذی طویٰ میں رات بسر کرتے ، صبح کو غسل کرتے اور نماز پڑھ کر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے ، اور جب آپ وہاں سے نکلتے تو بھی وادی ذی طویٰ کے پاس سے گزرتے ، وہاں رات بسر کرتے اور بیان کرتے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2562

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ دَخَلَهَا مِنْ أَعْلَاهَا وخرجَ منْ أسفلِها
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ اس کے بالائی حصے کی طرف سے داخل ہوئے اور اس کے نشیبی حصے کی طرف سے نکلے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2563

وَعَن عُروةَ بنِ الزُّبيرِ قَالَ: قَدْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ حجَّ أَبُو بكرٍ فكانَ أوَّلَ شيءٍ بدَأَ بِهِ الطوَّافَ بالبيتِ ثمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ مثلُ ذَلِك
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کیا تو عائشہ ؓ نے مجھے بتایا کہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے وضو کیا ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر اسے عمرہ (کا طواف) نہ بنایا ، پھر ابوبکر ؓ نے حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا ، پھر انہوں نے بھی اسے عمرہ نہ بنایا ، پھر عمر ؓ اور پھر عثمان ؓ نے بھی اسی طرح کیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2564

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعمرَة مَا يَقْدَمُ سَعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا والمروة
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو آپ سب سے پہلے تین چکر دوڑ کر لگاتے اور چار چکر چل کر لگاتے تھے ، پھر آپ دو رکعتیں پڑھتے اور صفا اور مروہ کی سعی فرماتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2565

وَعَنْهُ قَالَ: رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکر تیز چل کر لگائے اور چار چکر عام رفتار سے چل کر لگائے ، اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تو آپ سیلاب کے بہاؤ والی جگہ پر تیز چلتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2566

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشى أَرْبعا. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ حجر اسود کے پاس آئے تو اسے بوسہ دیا ، پھر آپ اپنی دائیں جانب پر چلے تو تین چکر تیز چل کر چار چکر عام رفتار سے چل کر لگائے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2567

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابنَ عمرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
زبیر بن عربی ؒ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے حجر اسود کو بوسہ دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسے ہاتھ لگاتے اور بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2568

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ من الْبَيْت إِلَّا الرُّكْنَيْنِ اليمانيين
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صرف دو رکن یمانی (حجر اسود اور رکنِ یمانی) کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2569

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: طَافَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بعير يسْتَلم الرُّكْن بمحجن
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ چھڑی کے ساتھ حجر اسود کو چھوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2570

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يدِه وكبَّرَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا جب آپ حجر اسود کے پاس آتے تو آپ اپنے ہاتھ میں موجود کسی چیز کے ساتھ اشارہ کرتے اور اللہ اکبر کہتے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2571

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ ويقبِّلُ المحجن. رَوَاهُ مُسلم
ابوطفیل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ کا طواف کرتے اور آپ کے پاس جو چھڑی تھی اس کے ساتھ حجر اسود کو چھوتے ہوئے دیکھا اور آپ چھڑی کو بوسہ دیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2572

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صرف حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ، جب آپ مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شاید کہ تمہیں حیض آ گیا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں پر مقدر کر دیا ہے ، تم جب تک حیض سے پاک نہیں ہو جاتیں ، بیت اللہ کے طواف کے سوا دیگر حاجیوں کی طرح امور بجا لاتی رہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2573

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ أَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ: «أَلَا لَا يَحُجُّ بَعْدَ العامِ مشرِكٌ وَلَا يطوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَان»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے اس حج میں ، جس میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حجۃ الوداع سے پہلے امیر حج بنا کر بھیجا تھا ، مجھے ایک جماعت کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ ’’ لوگوں میں اعلان کر دیا جائے کہ سن لو ! اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج کرے نہ کوئی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2574

عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: سُئِلَ جَابِرٌ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مہاجر مکی ؒ بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہے ، انہوں نے فرمایا : ہم نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کیا تو ہم اس طرح نہیں کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2575

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ فَأَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ وَيَدْعُو. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مدینہ سے) روانہ ہوئے ، جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجر اسود کی طرف آئے اسے بوسہ دیا ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر صفا پر آئے تو اس کے اوپر چڑھ گئے حتی کہ بیت اللہ نظر آنے لگا تو آپ ہاتھ اٹھا کر جس قدر چاہا ، اللہ کا ذکر اور دعائیں کرتے رہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2576

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَذَكَرَ التِّرْمِذِيُّ جَمَاعَةً وَقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عباسٍ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے ، البتہ تم اس میں بات وغیرہ کر لیتے ہو ، جو شخص اس دوران بات کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی کی بات کرے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ، دارمی ۔ امام ترمذی ؒ نے محدثین کی ایک جماعت کا ذکر کیا ہے ، جنہوں نے اسے ابن عباس ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2577

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حجر اسود جنت سے نازل ہوا تھا تو وہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا لیکن اولادِ آدم کی خطاؤں نے اسے سیاہ کر دیا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2578

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ: «وَاللَّهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا :’’ اللہ روز قیامت اسے اٹھائے گا تو اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا ، اور جس نے حق کے ساتھ اس کو بوسہ دیا ہو گا اس کے حق میں گواہی دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2579

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّكْنَ وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ طَمَسَ اللَّهُ نورَهما وَلَو لم يطمِسْ نورَهما لأضاءا مَا بينَ المشرقِ والمغربِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حجر اسود اور مقام ابراہیم (وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر آپ نے بیت اللہ کی تعمیر کی) جنت کے دو یاقوت ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے نور کو ختم کر دیا ، اور اگر وہ ان کے نور کو ختم نہ کرتا تو وہ دونوں مشرق و مغرب کے مابین کو روشن کر دیتے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2580

وَعَن عُبيدِ بنِ عُمَيرٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ» . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلا حطَّ اللَّهُ عنهُ بهَا خَطِيئَة وكتبَ لهُ بهَا حَسَنَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ حجر اسود اور رکن یمانی پر بہت زیادہ غلبہ (رش) کرتے تھے ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی ایک صحابی کو ان پر غلبہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، انہوں نے فرمایا : میں اس لیے ایسے کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ان دونوں کو ہاتھ لگانا گناہوں کا کفارہ ہے ۔‘‘ اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ہر ہفتے بیت اللہ کا طواف کرے اور اس کی حفاظت کرے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے غلام آزاد کیا ہو ۔‘‘ اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب وہ (طواف میں) ایک قدم رکھتا ہے اور دوسرا اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2581

وَعَن عبد الله بن السَّائِب قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَاب النَّار) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن سائب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان یہ دعا کرتے ہوئے سنا :’’ ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2582

وَعَن صفيةَ بنتِ شيبةَ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي بِنْتُ أَبِي تُجْرَاةَ قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ دَارَ آلِ أَبِي حُسَيْنٍ نَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَرَأَيْتُهُ يَسْعَى وَإِنَّ مِئْزَرَهُ لَيَدُورُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَاهُ أَحْمد مَعَ اخْتِلَاف
صفیہ بنت شیبہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابوتجراہ کی بیٹی (حبیبہ ؓ) نے مجھے بتایا کہ میں قریش کی بعض عورتوں کے ساتھ خاندانِ ابوحسین کے گھر گئی تاکہ ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا مروہ کے مابین سعی کرتے ہوئے دیکھیں ، میں نے آپ کو سعی کرتے ہوئے دیکھا اور سعی کی شدت کی وجہ سے آپ کا ازار بکھر رہا تھا ، اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سعی کرنا تم پر فرض کر دیا ہے ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام احمد نے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ و احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2583

وَعَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ لَا ضرب وَلَا طرد وَلَا إِلَيْك. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
قدامہ بن عبداللہ بن عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا مروہ کے درمیان اونٹ پر سعی کرتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کو مارتے نہ ہٹاتے اور نہ کہتے کہ ہٹ جاؤ ، راستہ چھوڑ دو ۔ حسن یاتی ، رواہ شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2584

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَجعا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سبز رنگ کی چادر سے اضطباع (یعنی دایاں کندھا ننگا) کر کے بیت اللہ کا طواف کیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2585

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم وأصحابَه اعتمروا من الجعْرانة فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ ثُمَّ قَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ نے جِعرانہ سے عمرہ کیا تو انہوں نے تین چکر تیز تیز چل کر پورے کئے اور انہوں نے اپنی (احرام کی) چادروں کو (داہنی) بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں کے اوپر ڈال رکھا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2586

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا تَرَكْنَا اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ: الْيَمَانِي وَالْحَجَرِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رخاء مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يستلمهما
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجر اسود اور رکنِ یمانی کا استلام (چھونا) کرتے ہوئے دیکھا ہے تب سے ہم نے تنگی یا آسانی کسی بھی حال میں اِن کا استلام کرنا نہیں چھوڑا ۔ متفق علیہ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2587

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: قَالَ نَافِعٌ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَله
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : نافع بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو چھوتے پھر ہاتھ چومتے ، اور انہوں نے فرمایا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے تب سے میں نے اسے ترک نہیں کیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2588

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ: «طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ» فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ ب (الطُّورِ وكِتَابٍ مسطور)
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے اپنی بیماری کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرو ۔‘‘ میں نے طواف کیا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کی ایک جانب (بیت اللہ کی دیوار کے ساتھ) نماز پڑھ رہے تھے اور آپ سورۂ طور کی تلاوت فرما رہے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2589

وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْت عمر يقبل الْحجر وَيَقُول: وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقبل مَا قبلتك
عابس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عمر ؓ کو دیکھا کہ آپ ؓ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں : میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، تو نفع و نقصان کا مالک نہیں ۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2590

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا» يَعْنِي الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ فَمَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالُوا: آمين . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس رکنِ یمانی پر ستر فرشتے مامور ہیں ، جو شخص کہتا ہے : اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کی درخواست کرتا ہوں ، ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ، ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔ تو وہ فرشتے آمین کہتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2591

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ. وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ كَخَائِضِ الماءِ برجليه . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور اس دوران سبحان اللہ ........ الا باللہ ’’ اللہ پاک ہے ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ سب سے بڑا ہے ، گناہ سے بچنا اور نیک عمل کرنا محض اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ ہے ۔‘‘ کے سوا کوئی بات نہ کرے تو اس کے دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں ۔ اور جو شخص طواف کرے اور اس دوران باتیں کرے تو وہ اس حال میں ایسے ہے کہ اس کے پاؤں تو رحمت میں ہیں (لیکن اوپر کا حصہ رحمت میں نہیں) جیسے کسی نے اپنے پاؤں پانی میں ڈبو رکھے ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2592

عَن محمدِ بن أبي بكرٍ الثَقَفيُّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنكَرُ عَلَيْهِ
محمد بن ابوبکر ؒ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا ، جبکہ وہ دونوں منی سے عرفات جا رہے تھے ، آپ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس روز کیسے (تکبیر و تہلیل) کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہم میں سے کوئی تلبیہ پڑھتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2593

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نحرتُ هَهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ. وَوَقَفْتُ هَهُنَا وعرفةُ كلُّها موقفٌ. ووقفتُ هَهُنَا وجَمْعٌ كلُّها موقفٌ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے (منی میں) اس جگہ قربانی ذبح کی ہے جبکہ منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ میدانِ عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2594

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ باقی ایام کی نسبت عرفہ کے دن ، سب سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔ اور وہ قریب ہوتا ہے ، پھر ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2595

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ: «قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثِ من إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
عمرو بن عبداللہ بن صفوان اپنے ماموں یزید بن شیبان سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نے میدان عرفات میں ایسی جگہ وقوف کیا جو کہ بقول ان کے امام کے وقوف کی جگہ سے بہت دور تھا ، ابن مربع انصاری ؓ ہمارے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تمہاری طرف قاصد بنا کر بھیجا ہے ، وہ تمہیں فرماتے ہیں :’’ تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو ، کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم ؑ کی میراث پر ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2596

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میدان عرفات پورے کا پورا وقوف کی جگہ ہے ، پورا منی قربان گاہ ہے ، پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے ، اور مکہ کے تمام راستے ، راستے اور قربان گاہ ہیں ۔‘‘ (یعنی مکہ آنے والے کے لیے کسی بھی راستے سے مکہ میں داخل ہونا جائز ہے) اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2597

وَعَن خالدِ بنَ هَوْذَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمًا فِي الركابين. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
خالد بن ہوذہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن اونٹ کی دونوں رکابوں میں پاؤں رکھ کر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2598

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْء قدير . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عرفہ کے دن کی دعا بہترین دعا ہے اور میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء ؑ نے جو بہترین دعا کی ہے وہ یہ ہے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کے لیے بادشاہت ہے اور اس کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2599

وروى مالكٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ: «لَا شريك لَهُ»
امام مالک ؒ نے طلحہ بن عبیداللہ سے ((لا شریک لہ)) تک روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2600

لإرساله وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلَا أَدْحَرُ وَلَا أَحْقَرُ وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ» . فَقِيلَ: مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: «فَإِنَّهُ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ
طلحہ بن عبیداللہ بن کریز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شیطان عرفہ کے دن سب سے زیادہ حقیر ، سب سے زیادہ راندہ ہوا ، سب سے زیادہ ذلیل اور سب سے زیادہ غصے میں ہوتا ہے اور وہ ایسی حالت میں اس لیے ہوتا ہے کہ وہ نزولِ رحمت اور کبیرہ گناہوں کی مغفرت ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا ہے ، البتہ غزوہ بدر کے موقع پر بھی اسے اس کیفیت میں دیکھا گیا ۔‘‘ کہا گیا بدر کے دن اس نے کیا دیکھا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ اس نے جبریل ؑ کو فرشتوں کی صف بندی کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔‘‘ امام مالک نے مرسل روایت کیا ہے ، اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ میں مروی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک و شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2601

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاجِّينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ فُلَانٌ كَانَ يُرَهَّقُ وَفُلَانٌ وَفُلَانَةُ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اِن (عرفات میں وقوف کرنے والوں) کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: میرے بندوں کو دیکھو کس طرح بکھرے بالوں ، غبار آلود پاؤں اور بلند آواز سے پکارتے ہوئے دور دراز سے آئے ہیں ۔ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ۔ تو فرشتے عرض کرتے ہیں ، رب جی ! فلاں بندہ تو برے کام کیا کرتا تھا ، اور فلاں مرد اور فلاں عورت بھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ میں نے انہیں بخش دیا ہے ۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عرفہ کے دن کے سوا کوئی ایسا دن نہیں جس میں عرفہ کے دن سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزادی ملتی ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2602

عَن عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بالمزْدَلفَةِ وَكَانُوا يُسمَّوْنَ الحُمْسَ فكانَ سَائِرَ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفُ بِهَا ثُمَّ يَفِيضُ مِنْهَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: (ثُمَّ أفِيضُوا من حَيْثُ أَفَاضَ النَّاس)
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، قریش اور ان کے ہم دین لوگ مزدلفہ میں قیام کیا کرتے تھے ، اور انہیں حمس کہا جاتا تھا ، جبکہ باقی سب عرب عرفہ میں وقوف کیا کرتے تھے ، جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ عرفات آئیں اور وہاں وقوف کریں اور پھر وہاں سے واپس آئیں ۔ اسی طرح اللہ عزوجل کا فرمان ہے :’’ پھر تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے عام لوگ لوٹتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2603

وَعَن عبَّاسِ بنِ مِرْداسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأمَّتي أخذَ الترابَ فَجعل يحشوه عَلَى رَأْسِهِ وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى البيهقيُّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور نحوَه
عباس بن مرداس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وقوفِ عرفات میں اپنی امت کی مغفرت کے لیے دعا فرمائی تو قبولیت کا جواب آیا کہ ’’ میں نے حقوق العباد کے سوا باقی سب گناہ معاف کر دیے ، کیونکہ میں اس سے مظلوم کا حق لوں گا ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرض کیا :’’ رب جی ! اگر آپ چاہیں تو مظلوم کو جنت عطا کر دیں اور ظالم کو بخش دیں ۔‘‘ لیکن اس قیام میں آپ کی دعا قبول نہ ہوئی ، تو جب مزدلفہ میں صبح کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا دہرائی تو آپ کی دعا قبول کر لی گئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسے یا تبسم فرمایا تو ابوبکر ؓ اور عمر ؓ نے عرض کیا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں یہ تو ایسا وقت ہے کہ اس وقت آپ ہنسا نہیں کرتے تھے ، آپ کو کس چیز نے ہنسایا ، اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اللہ کے دشمن ابلیس کو جب پتہ چلا کہ اللہ عزوجل نے میری دعا قبول فرما کر میری امت کو بخش دیا ہے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا اور تباہی و ہلاکت کو پکارنے لگا ، جب میں نے اس کی بے صبری دیکھی تو مجھے ہنسی آ گئی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی ۔