MISHKAT

Search Result (303)

13)

13) نکاح کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3079

] وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ
امام بیہقی نے اسے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3080

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ»
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شخص جماع اور نکاح کے اخراجات کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ شادی کرے ، کیونکہ وہ نگاہوں کو نیچا رکھنے اور عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے زیادہ مؤثر ہے ، اور جو شخص (عقدِ نکاح کی) استطاعت نہ رکھے تو وہ روزہ رکھے ، کیونکہ یہ اس کی شہوت کم کرنے کا باعث ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3081

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: رَدَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَان ابْن مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کی ترکِ نکاح کی سوچ کو رد فرمایا ، اور اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3082

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَات الدّين تربت يداك
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت سے چار چیزوں ، اس کے مال ، اس کے حسب و نسب ، اس کے حسن و جمال اور اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں تم دین دار کے ساتھ نکاح کر کے کامیابی حاصل کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3083

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَة الصَّالِحَة» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا مکمل طور پر متاع ہے ، اور بہترین متاعِ دنیا نیک بیوی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3084

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ نسَاء ركبن الْإِبِل صَالح نسَاء قُرَيْش أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اونٹوں پر سوار ہونے والی (عرب) عورتوں میں سے ، قریش کی صالحہ خواتین بہتر ہیں ۔ وہ اپنے چھوٹے بچوں پر نہایت شفیق اور شوہر کے مال کی انتہائی محافظ ہوتی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3085

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ من النِّسَاء»
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ مضر کوئی فتنہ خیال نہیں کرتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3086

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاء» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا شیریں اور سرسبز و شاداب ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے ، وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، تم دنیا اور عورتوں کے فتنے سے بچو ، کیونکہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کی وجہ سے رونما ہوا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3087

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَة: فِي الْمَرْأَة والمسكن وَالدَّابَّة
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت ، گھر اور گھوڑے میں نحوست (یعنی بے برکتی) ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ تین چیزوں میں نحوست ہے عورت ، گھر اور جانور ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3088

وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بعرس قَالَ: «تَزَوَّجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ قَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تلاعبها وتلاعبك» . فَلَمَّا قدمنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ: «أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عشَاء لكَي تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے ، جب ہم واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے نئی نئی شادی کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے شادی کر لی ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کنواری سے یا بیوہ سے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ! بیوہ سے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی ، تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔‘‘ جب ہم (مدینہ کے) قریب پہنچ گئے اور اس میں داخل ہونے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ٹھہر جاؤ حتی کہ ہم رات یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں گے تاکہ منتشر بالوں والی کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غائب رہا ہو وہ زیر ناف بال صاف کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3089

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ: الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں ، مکاتب جو کہ ادائیگی چاہتا ہو ، عفت و پاک دامنی کی خاطر نکاح کرنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی اللہ ضرور مدد کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3090

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ إِنْ لَا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتَنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام نکاح آئے جس کا دین اور اخلاق و عادات تمہیں پسند ہوں تو اسے بچی کا رشتہ دے دو ، اگر ایسا نہ کرو گے تو پھر زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3091

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی عورتوں سے شادی کرو ، کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3092

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه مُرْسلا
عبدالرحمن بن سالم بن عتبہ بن عویم بن ساعدہ انصاری اپنے والد (سالم) سے وہ اس کے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم کنواری لڑکیوں سے شادی کرو ، کیونکہ وہ شیریں گفتار ، زیادہ بچوں کو جننے والی اور بہت کم چیز پر راضی ہو جانے والی ہیں ۔‘‘ ابن ماجہ ، روایت مرسل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3093

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ تَرَ لِلْمُتَحَابِّينَ مثل النِّكَاح» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے نکاح (یعنی خاوند و بیوی) کی مثل دو باہم محبت کرنے والے نہیں دیکھے ہوں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3094

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى الله طَاهِرا مطهراً فليتزوج الْحَرَائِر» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص پاکیزہ حالت میں اللہ سے ملاقات کرنے کا خواہش مند ہو تو اسے آزاد عورتوں سے شادی کرنی چاہیے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3095

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقُولُ: «مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ إِنْ أَمْرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سرته وَإِن أقسم عَلَيْهِ أَبَرَّتْهُ وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَاله» . روى ابْن مَاجَه الْأَحَادِيث الثَّلَاثَة
ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن نے اللہ کے تقوی کے بعد اپنے لیے جس خیر سے استفادہ کیا ، وہ صالحہ بیوی ہے ، اگر اس (مومن) نے اسے حکم دیا تو اس (بیوی) نے اس کی اطاعت کی ، اگر اس نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اسے خوش کر دیا ، اگر اس نے اسے قسم دے دی تو اس نے اسے پورا کیا اور اگر وہ اس کے پاس سے چلا گیا تو اس نے اپنی جان اور اس کے مال میں اس سے خیر خواہی کی ۔‘‘ تینوں احادیث ابن ماجہ نے روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3096

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّينِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ شادی کر لیتا ہے تو وہ نصف دین مکمل کر لیتا ہے ، اسے نصف باقی میں اللہ سے ڈرنا چاہیے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3097

وَعَن عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے ، جس میں اخراجات کم ہوں ۔‘‘ امام بیہقی ؒ نے دونوں احادیث کو شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3098

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میں نے انصار کی ایک عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے دیکھ لو ، کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ (نقص) ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3099

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ ينظر إِلَيْهَا»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت ، عورت کے ساتھ جسم نہ ملائے ، پھر وہ اس کے متعلق اپنے خاوند سے بیان کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3100

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي ثوب وَاحِد» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی ، آدمی کی شرم گاہ کی طرف دیکھے نہ عورت ، عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھے اور نہ ہی مرد ، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ ہی عورت ، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3101

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا لَا يبتن رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ناكحا أَو ذَا محرم» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! کوئی آدمی کسی بیوہ عورت کے ہاں رات بسر نہ کرے مگر یہ کہ وہ (اس کا) شوہر ہو یا محرم ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3102

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ: «الْحَمْوُ الْمَوْتُ»
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورتوں کے پاس جانے سے بچو ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! دیور کے بارے میں بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دیور تو موت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3103

وَعَن جَابِرٍ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَو غُلَاما لم يَحْتَلِم. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ ام سلمہ ؓ نے پچھنے لگوانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ابوطیبہ کو حکم فرمایا کہ وہ انہیں پچھنے لگائے ، راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ وہ (ابوطیبہ) ام سلمہ ؓ کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3104

وَعَن جرير بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ فَأمرنِي أَن أصرف بَصرِي. رَوَاهُ مُسلم
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اچانک اٹھ جانے والی نظر کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنی نظر ہٹا لوں ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3105

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ إِذَا أَحَدَكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفسه» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان کی صورت میں مڑتی ہے ، جب کوئی عورت تم میں سے کسی کو بھلی لگے اور وہ اس کے دل میں گھر کر جائے تو وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے جماع کرے ، کیونکہ یہ چیز (جماع) اس (گناہ کے خیال) کو دور کر دے گی جو اس کے دل میں ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3106

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحهَا فَلْيفْعَل» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغامِ نکاح بھیجے تو پھر اگر وہ اس سے داعیہ نکاح (عورت کی شکل و صورت وغیرہ) کو دیکھ سکے تو دیکھ لے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3107

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَطَبْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟» قُلْتُ: لَا قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک عورت کو پیغامِ نکاح بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے دیکھ لو ، کیونکہ وہ زیادہ مناسب ہے کہ تم دونوں کے درمیان محبت ڈال دی جائے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3108

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى سَوْدَةَ وَهِيَ تَصْنَعُ طِيبًا وَعِنْدَهَا نِسَاءٌ فَأَخْلَيْنَهُ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ رَأَى امْرَأَةً تُعْجِبُهُ فَلْيَقُمْ إِلَى أَهْلِهِ فَإِنَّ مَعَهَا مثل الَّذِي مَعهَا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے کسی عورت کو دیکھا تو وہ آپ کو اچھی لگی ، آپ سودہ ؓ کے پاس تشریف لائے ، وہ اس وقت خوشبو تیار کر رہی تھیں اور ان کے پاس کچھ عورتیں تھیں ، آپ ﷺ نے انہیں علیحدہ کیا اور اپنی حاجت پوری کی پھر فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے خوش لگے تو وہ آدمی اپنی اہلیہ کے پاس آئے کیونکہ اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اُس عورت کے پاس ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3109

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن مسعود ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت پردہ ہے ، جب وہ (بے پردہ) نکلتی ہے تو شیطان اسے مزین کر کے دکھاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3110

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدارمي
بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا :’’ علی ! (کسی اجنبی عورت کو) لگاتار نہ دیکھ ، کیونکہ تم (غیر ارادی طور پر) پہلی بار دیکھ سکتے ہو جبکہ دوسری مرتبہ دیکھنے کا تمہیں حق حاصل نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3111

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى عَوْرَتِهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى مَا دُونُ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی شادی ، اپنی لونڈی سے کر دے تو پھر وہ اس (لونڈی) کے پردہ کی جگہ کو نہ دیکھے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ زیر ناف اور گھٹنوں کے اوپر کے حصے کو نہ دیکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3112

وَعَنْ جَرْهَدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
جرہد ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ران پردہ (یعنی ستر) ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3113

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا عَلِيُّ لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ علی ! تم اپنی ران ظاہر کرو نہ کسی زندہ و مردہ کی ران کو دیکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3114

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَعْمَرٍ وَفَخذه مَكْشُوفَتَانِ قَالَ: «يَا مَعْمَرُ غَطِّ فَخِذَيْكَ فَإِنَّ الفخذين عَورَة» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
محمد بن جحش ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ معمر ؓ کے پاس سے گزرے تو ان کی دونوں رانیں ننگی تھیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معمر ! اپنی رانیں ڈھانپو ، کیونکہ رانیں ستر ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3115

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْغَائِطِ وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ننگے ہونے سے بچو ، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ (فرشتے) ہیں جو تمہارے ساتھ ہی رہتے ہیں ، اور وہ صرف اس وقت جُدا ہوتے ہیں جب آدمی بیت الخلا جاتا ہے اور جب اپنی اہلیہ سے تعلق زن و شو قائم کرتا ہے ، تم ان سے حیا کرو اور ان کی تکریم کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3116

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ إِذْ أقبل ابْن مَكْتُومٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجِبَا مِنْهُ» فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا؟ أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ اور میمونہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم ؓ آئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم دونوں اس سے پردہ کرو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ نابینا نہیں ؟ وہ ہمیں دیکھ نہیں سکتا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم دونوں نابینا ہو ! تم اسے نہیں دیکھ رہی ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3117

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَو مَا ملكت يَمِينك» فَقلت: يَا رَسُول الله أَفَرَأَيْت إِن كَانَ الرَّجُلُ خَالِيًا؟ قَالَ: «فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يستحيى مِنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اس کے دادا (معاویہ بن حیوہ) سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی اہلیہ یا اپنی لونڈی کے علاوہ اپنے ستر کی حفاظت کر ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ جب آدمی تنہائی میں ہو (پھر بھی) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3118

وَعَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثالثهما الشَّيْطَان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی آدمی کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ علیحدگی میں ہوتا ہے تو ان دونوں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3119

وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغَيَّبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ» قُلْنَا: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَمِنِّي وَلَكِنَّ الله أعانني عَلَيْهِ فَأسلم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جن (اجنبی) عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں تم ان کے پاس نہ جاؤ ، کیونکہ شیطان تم میں دورانِ خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ میں بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (ہاں) اور مجھ میں بھی ، لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی تو وہ مطیع ہو گیا / میں محفوظ رہتا ہوں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3120

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا وَعَلَى فَاطِمَةَ ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وغلامك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک غلام لے کر فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لائے جسے آپ نے انہیں ہبہ کر دیا تھا ، فاطمہ ؓ پر ایک کپڑا تھا ، جب فاطمہ ؓ اس سے اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ آپ کے پاؤں تک نہ پہنچتا ، اور جب وہ اس سے اپنے پاؤں ڈھانپتیں تو وہ ان کے سر تک نہ پہنچتا ، جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس پریشانی اور تکلیف کو دیکھا تو فرمایا :’’ تم پر کوئی حرج نہیں ، ان ، میں سے ایک تمہارے والد ہیں اور دوسرا تمہارا غلام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3121

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ فَقَالَ: لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يدخلن هَؤُلَاءِ عَلَيْكُم»
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ گھر میں ایک مخنث تھا ، اس نے ام سلمہ ؓ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ ؓ سے کہا : عبداللہ ! اگر اللہ نے کل تمہیں طائف میں فتح عطا کی تو میں تمہیں غیلان کی ایک لڑکی بتاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب مڑتی ہے تو اس پر آٹھ بل پڑتے ہیں ۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (مخنث) لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3122

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ حَمَلْتُ حَجَرًا ثقيلاً فَبينا أَنَا أَمْشِي سَقَطَ عَنِّي ثَوْبِي فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَخْذَهُ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ وَلَا تَمْشُوا عُرَاة» . رَوَاهُ مُسلم
مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک بھاری پتھر اٹھایا ہوا تھا اور اسی حالت میں مَیں چل رہا تھا کہ میرا کپڑا گر گیا (جس سے ستر کھل گیا) ، میں اسے اٹھا نہ سکا ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا :’’ اپنے اوپر کپڑا لو اور عریاں حالت میں نہ چلو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3123

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا نَظَرْتُ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قطّ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی شرم گاہ کبھی نہیں دیکھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3124

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حلاوتها» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان پہلی مرتبہ کسی عورت کے حسن و جمال پر نظر ڈالتا ہے اور پھر وہ اپنی نظر جھکا لیتا ہے تو اللہ اسے ایک ایسی عبادت کی توفیق عطا فرماتا ہے جس کی وہ حلاوت محسوس کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3125

وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَيْهِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
حسن بصری ؒ مرسل روایت کرتے ہیں کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ ستر دیکھنے والے اور ستر دکھانے والے پر لعنت فرمائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3126

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ» . قَالُوا: يَا رَسُول الله وَكَيف إِذْنهَا؟ قَالَ: «أَن تسكت»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیوہ عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے مشاورت نہ کر لی جائے ، اور کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے ۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور اس کی اجازت کس طرح ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا خاموش رہنا اجازت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3127

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تَسْتَأْذِنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صِمَاتُهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صِمَاتُهَا» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے ۔ جبکہ کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت طلب کی جائے گی ، اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے ۔‘‘ ایک روایت میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے جبکہ کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے ، جبکہ کنواری کے متعلق اس کا والد اس سے اجازت طلب کرے گا اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3128

وَعَن خنساء بنت خذام: أَنْ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه: نِكَاح أَبِيهَا
خنساء بنت خذام ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیوہ تھیں اور ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ۔ خنساء نے اسے ناپسند کیا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں تو آپ ﷺ نے ان کا نکاح فسخ کر دیا ۔ رواہ البخاری ۔ اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے : اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3129

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے شادی کی تو ان کی عمر سات برس تھی ، آپ ﷺ کے گھر ان کی رخصتی ہوئی تب ان کی عمر نو برس تھی اور ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے ، اور جب آپ ﷺ نے وفات پائی تو ان کی عمر اٹھارہ برس تھی ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3130

عَن أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
ابوموسی ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ ولی کے بغیر نکاح نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3131

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلَيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ من لَا ولي لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ۔ اگر اس (مرد) نے اس سے جماع کیا ہے تو وہ مہر کی حق دار ہے کیونکہ اس نے اس سے مباشرت کی ہے ، اگر وہ (ولی) اختلاف کریں تو جس کا ولی نہ ہو تو سلطان (بادشاہ) اس کا ولی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3132

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَغَايَا اللَّاتِي يُنْكِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ» . وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عَبَّاس. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ زانیہ وہ ہیں جو گواہ کے بغیر اپنا نکاح کریں ۔‘‘ درست بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3133

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے گی ، اگر وہ خاموش رہے تو پھر یہی اس کی اجازت ہے ، اور اگر وہ انکار کر دے تو پھر اس پر زیادتی نہ کی جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3134

وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن أبي مُوسَى
امام دارمی نے اسے ابوموسی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3135

وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدرامي
جابر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو وہ زانی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3136

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذكرت أَن أَبَاهَا زَوجهَا وَهِي كَارِهًا فَخَيَّرَهَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک نابالغہ لڑکی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کی شادی کر دی ہے جب کہ وہ اسے ناپسند کرتی ہے ، نبی ﷺ نے اسے (شادی برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا) اختیار دیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3137

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تزوج الْمَرْأَة الْمَرْأَةَ وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی عورت دوسری عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرائے کیونکہ وہ زانیہ ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3138

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا فَإِنَّمَا إثمه على أَبِيه»
ابوسعید ؓ اور ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے ، اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دے ، اگر وہ بالغ ہو جائے اور وہ (والد) اس کی شادی نہ کرے اور وہ کسی گناہ (زنا وغیرہ) کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3139

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ: مَنْ بَلَغَتِ ابْنَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَمْ يُزَوِّجْهَا فَأَصَابَتْ إِثْمًا فَإِثْمُ ذَلِكَ عَلَيْهِ «. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ
عمر بن خطاب ؓ اور انس بن مالک ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تورات میں لکھا ہوا ہے ، جس شخص کی بیٹی بارہ برس کی ہو جائے اور وہ اس کی شادی نہ کرے اور وہ (لڑکی) کسی گناہ کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے ۔‘‘ بیہقی نے یہ دونوں روایتیں شعب الایمان میں بیان کیں ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3140

عَن الرّبيع بنت معوذ بن عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كمجلسك مني فَجعلت جويرات لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ: «دَعِي هَذِهِ وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
رُبَّیع بنت معوذ بن عفراء ؓ بیان کرتی ہیں ، جب مجھے شادی کے بعد میرے خاوند کے گھر لایا گیا تو نبی ﷺ تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جس طرح آپ (حدیث کے راوی خالد بن ذکوان) مجھ سے (دور) بیٹھے ہیں ، پس انصار کی چھوٹی چھوٹی بچیاں دف بجا کر میرے ان اباء جو غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے ، کے محاسن بیان کرنے لگیں ، کہ اچانک ان میں سے ایک نے کہہ دیا : ہم میں ایک نبی ہیں ، جو مستقبل کے واقعات جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑو ، اور جو تم پہلے کہہ رہی تھیں وہی کہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3141

وَعَن عَائِشَة رَضِي الله عَنهُ قَالَتْ: زُفَّتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ؟ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْو» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت کی ایک انصاری صحابی کے ساتھ رخصتی ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کھیل کود کا سامان نہیں تھا ؟ کیونکہ انصار کو دف اور اشعار کہنا اچھا لگتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3142

وَعَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟ . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے شوال میں مجھ سے شادی کی اور شوال میں مجھے اپنے گھر لائے اور رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کون سی وہ بیوی ہے جسے آپ کے ہاں مجھ سے اہم مقام حاصل تھا ؟ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3143

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفروج»
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جن شروط کے ساتھ تم نے شرم گاہوں کو حلال بنایا ہے ، وہ (شروط) زیادہ حق رکھتی ہیں کہ انہیں پورا کیا جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3144

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَو يتْرك»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح نہ بھیجے حتی کہ وہ نکاح کر لے یا چھوڑ دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3145

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْكِحَ فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اسے اس کا رزق بھی مل جائے اسے چاہیے کہ وہ اس مرد سے خود شادی کر لے ، حالانکہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ اسے مل جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3146

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ’’نکاح شغار‘‘ سے منع فرمایا ہے ۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرے کہ دوسرا آدمی اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے اور ان دونوں کے درمیان مہر نہ ہو ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام میں شغار (بٹے کا نکاح) نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3147

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أكل لُحُوم الْحمر الإنسية
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3148

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَى عَنْهَا. رَوَاهُ مُسلم
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے غزوہ اوطاس کے موقع پر تین روز کے لیے متعہ کی اجازت دی پھر اس سے منع فرما دیا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3149

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ: التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» . وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسنَا من يهد اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» . وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسلمُونَ) (يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تساءلون وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا) (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيما) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ فَسَّرَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَادَ ابْنُ مَاجَهْ بَعْدَ قَوْلِهِ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ» وَبَعْدَ قَوْلِهِ: «من شرور أَنْفُسنَا وَمن سيئات أَعمالنَا» وَالدَّارِمِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ «عَظِيمًا» ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِهِ وَرَوَى فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خطْبَة الْحَاجة من النِّكَاح وَغَيره
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز میں تشہد پڑھنا سکھائی اور حاجت (نکاح وغیرہ) میں تشہد سکھائی ، راوی بیان کرتے ہیں ، نماز میں تشہد کے الفاظ یہ ہیں : ((التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) ’’قولی ، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلامتی ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں ، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اور کسی حاجت و ضرورت کے وقت پڑھا جانے والا تشہد یہ ہے : ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلہِ نَسْتَعِیْنُہ وَنَسْتَغْفِرُہ وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا ، مِنْ یَّھْدِہِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَہ ، وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَہ ، وَاَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ)) ’’بے شک ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے ، ہم اسی سے مدد چاہتے اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، ہم اپنے نفوس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔ جس کو اللہ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اور آپ ﷺ یہ تین آیات تلاوت فرماتے : (یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ امَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ ۔ ) ’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ اور تم اس حال میں مرو کہ تم مسلمان ہو ۔‘‘ (یَآیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مَّنْ نَّفْسِِ وَّاحِدَۃِِ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآءً وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہِ وَالَا رْ حَامَ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا ۔) ’’اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک شخص (حضرت آدم ؑ) سے پیدا کیا ، اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا ، پھر ان دونوں سے بڑی تعداد میں مرد اور عورتیں پیدا کر کے انہیں روئے زمین پر پھیلا دیا اور ڈرو اللہ سے جس کے ذریعے تم اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہو ، اور قطع رحمی سے بچو ۔ اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔‘‘ (یَآ اَیُّھَا الَّذِیْ امَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا یُّصْلِحْ لکُمْ اَعْمَالکُمْ وَیَغْفِرْلکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ۔) ’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور درست بات کرو ، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرے وہ بہت بڑی کامیابی حاصل کر لے گا ۔‘‘ اور جامع ترمذی میں ہے ۔ سفیان ثوری نے تینوں آیات کی وضاحت کی ۔ اور ابن ماجہ نے ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلہِ)) کے بعد ((نَحْمَدُہُ)) اور ((مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا)) کے بعد ((وَمِنْ سَیَّئَاتِ اَعْمَالِنَا)) کا اضافہ نقل کیا اور دارمی نے (عَظِیْمًا) کے بعد اضافہ نقل کیا ہے کہ پھر اپنی حاجت و ضرورت کا تذکرہ کرے ۔ اور شرح السنہ میں ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ اس تشہد کو نکاح کے خطبہ حاجت یا کسی دوسرے خطبہ میں پڑھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی و فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3150

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر وہ خطبہ جس میں تشہد (حمد و ثنا) نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3151

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ فَهُوَ أَقْطَعُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر اہم کام جس کا آغاز اللہ کی حمد سے نہ کیا جائے وہ (کام) برکت سے خالی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3152

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نکاح کا اعلان کرو اور اسے مسجد میں کرو ، اور اس موقع پر دف بجاؤ ۔‘‘ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3153

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَصَلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ: الصَّوْتُ وَالدُّفُّ فِي النِّكَاحِ . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
محمد بن حاطب جمحی ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نکاح کے موقع پر (نکاح کی) تشہیر اور دف بجانا (نکاح) حلال اور حرام میں فرق کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3154

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زَوَّجْتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ أَلَا تُغَنِّينَ؟ فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ الْغِنَاءَ» . رَوَاهُ ابْن حبَان فِي صَحِيحه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرے پاس انصار کی ایک لڑکی تھی ، میں نے اس کی شادی کر دی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! تم اشعار کا انتظام کیوں نہیں کرتی ، کیونکہ انصار کا یہ قبیلہ اشعار پسند کرتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن حبان فی صحیحہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3155

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أنكحت عَائِشَة ذَات قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَهَدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟» قَالُوا: نعم قَالَ: «أرسلتم مَعهَا من تغني؟» قَالَتْ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فحيانا وحياكم . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، عائشہ ؓ نے انصار میں سے اپنی ایک عزیزہ کی شادی کی تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا :’’ کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے اشعار پڑھنے والوں کو اس کے ساتھ بھیجا ہے ؟‘‘ عائشہ ؓ نے عرض کیا : نہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انصار ایسے لوگ ہیں جو گانے کا رجحان رکھتے ہیں ، اگر تم اس کے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجتی جو کہتا : اَتَیْنا کُمْ اَتَیْنَا کُمْ فَحَیَّانَا وَ حَیَّاکُمْ ہم تمہارے پاس آئے ، ہم تمہارے پاس آئے ہمیں بھی مبارک ہو اور تمہیں بھی مبارک ہو ‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3156

وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس عورت کی شادی دو ولی کر دیں تو وہ ان دونوں میں سے پہلے والے کے نکاح میں ہو گی ۔ اور جو شخص دو آدمیوں سے بیع کرے تو وہ ان میں سے پہلے کے لیے ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3157

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا: أَلَا نَخْتَصِي؟ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ فَكَانَ أَحَدُنَا يَنْكِحُ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ)
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں ، ہم نے عرض کیا : کیا ہم خصی نہ ہو جائیں ؟ آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرمایا ، پھر آپ ﷺ نے ہمیں متعہ کرنے کی رخصت عطا فرمائی ، ہم میں سے کوئی شخص کپڑے کے عوض ایک مدت تک کسی عورت سے نکاح کرتا ، پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اے مومنو ! پاکیزہ چیزوں کو ، جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ، حرام قرار نہ دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3158

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أول الْإِسْلَام كَانَ الرجل يقدم الْبَلدة لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يرى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيَّهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ (إِلَّا عَلَى أَزوَاجهم أَو مَا ملكت أَيْمَانهم) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَاهُمَا فَهُوَ حرَام. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، متعہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا وہ اس طرح کہ آدمی شہر میں جاتا ، اس کی وہاں جان پہچان نہ ہوتی تو وہ وہاں اپنے قیام کے اندازے کے مطابق عورت سے شادی کر لیتا تو وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کے لیے کھانا تیار کرتی حتی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ مگر اپنی بیویوں پر یا اپنی لونڈیوں پر ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا :’’ ان دونوں (بیوی اور لونڈی) کی شرم گاہ کے سوا ہر شرم گاہ حرام ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3159

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فِي عُرْسٍ وَإِذَا جِوَارٍ يُغَنِّينَ فَقُلْتُ: أَيْ صَاحِبَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلَ بَدْرٍ يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ؟ فَقَالَا: اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ فَاسْمَعْ مَعَنَا وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ فَإِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
عامر بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک شادی کے موقع پر قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری ؓ کے پاس گیا تو دیکھا کہ چھوٹی بچیاں گا رہی تھیں ، میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے ساتھیو اور بدر کے غازیو ! تمہارے پاس یہ ہو رہا ہے ؟ ان دونوں نے فرمایا : اگر تم چاہو تو ہمارے پاس بیٹھ کر سنو اور اگر تم چاہو تو جاؤ ، کیونکہ شادی کے موقع پر گانے کے متعلق ہمیں اجازت دی گئی ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3160

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَة وعمتها وَلَا بَين الْمَرْأَة وخالتها»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت اور اس کی پھوپھی نیز عورت اور اس کی خالہ کو نکاح میں اکٹھا نہ کیا جائے ۔‘‘ (یعنی پھوپھی ، بھتیجی اور خالہ بھانجی ، ایک وقت میں ایک آدمی کی بیویاں نہیں ہو سکتیں) متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3161

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يحرم من الْولادَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں ، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3162

وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «أَنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ» قَالَت: فَقلت: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يرضعني الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّه عمك فليلج عَلَيْك» وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضرب علينا الْحجاب
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرے رضاعی چچا آئے ، انہوں نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتی کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر لوں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے لہذا اسے اجازت دے دو ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے ۔ لہذا وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے ۔‘‘ اور یہ ہم پر پردہ کے احکام نازل ہونے سے بعد کا واقعہ ہے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3163

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ عَمِّكَ حَمْزَةَ؟ فَإِنَّهَا أَجْمَلُ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ حَمْزَةَ أَخِي مَنِ الرَّضَاعَةِ؟ وَأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حرم من النّسَب؟» . رَوَاهُ مُسلم
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ اپنے چچا حمزہ ؓ کی بیٹی کے بارے میں رغبت رکھتے ہیں ؟ وہ قریش کی سب سے زیادہ حسین و جمیل لڑکی ہے ۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں ، اور اللہ نے رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام کیے ہیں ، جو اس نے نسب کی وجہ سے حرام کیے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3164

وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الرضعة أَو الرضعتان»
ام فضل ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دودھ پینا حرمت ثابت نہیں کرتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3165

وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ والمصتان»
اور عائشہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ ایک مرتبہ اور دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت واقع نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3166

وَفِي أُخْرَى لِأُمِّ الْفَضْلِ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الإملاجة والإملاجتان» . هَذِه رِوَايَات لمُسلم
اور ام فضل ؓ سے مروی دوسری حدیث میں ہے :’’ ایک یا دو مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع نہیں ہوتی ۔‘‘ تینوں روایات صحیح مسلم کی ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3167

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: «عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ» . ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، قرآن میں یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع ہوتی ہے ۔ پھر وہ حکم پانچ مرتبہ پینے کی قید کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے جس وقت وفات پائی تو اس وقت تک (پانچ مرتبہ دودھ پینے والی آیت) قرآن میں پڑھی جاتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3168

وَعَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَت: إِنَّه أخي فَقَالَ: «انظرن من إخوانكن؟ فَإِنَّمَا الرضَاعَة من المجاعة»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس ایک آدمی تھا ، گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا ، عائشہ ؓ نے عرض کیا ، یہ تو میرا بھائی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دیکھو کہ تمہارے بھائی کون ہیں ، رضاعت تو صرف وہ دودھ ہے جسے بھوک دور کرنے کے لیے پیا گیا ہو ۔‘‘ (بچے کو صغر سنی کی عمر میں بھوک لگی ہو اور وہ کسی عورت کا دودھ پی لے) متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3169

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ: أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ فَأَتَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ بِهَا فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ قَدْ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا أَرْضَعْتَ صَاحِبَتُنَا فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟» فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زوجا غَيره. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عقبہ بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کر لی تو ایک عورت آئی ، اس نے کہا : میں نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے ۔ (یعنی یہ آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں) عقبہ نے اس عورت سے کہا : مجھے تو معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ ہی تم نے مجھے بتایا ہے ۔ انہوں نے ابواہاب کے گھر والوں کے پاس کسی آدمی کو بھیجا تو اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہمیں تو معلوم نہیں کہ اس نے ہماری اس لڑکی کو دودھ پلایا ہے ، وہ مدینہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (تم اس کے ساتھ) کس طرح (تعلق زن و شو قائم کر سکتے ہو) حالانکہ یہ کہہ دیا گیا (کہ تم اس کے رضاعی بھائی ہو) ۔‘‘ عقبہ ؓ نے اسے الگ کر دیا اور اس نے ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح کیا ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3170

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ (وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلَّا مَا ملكت أَيْمَانكُم) أَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ. رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا ، انہوں نے ان سے قتال کیا اور وہ ان پر غالب آ گئے اور انہوں نے کچھ خواتین گرفتار کر لیں ، نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے ان لونڈیوں سے ان کے مشرک خاوندوں کے موجود ہونے کی وجہ سے ، جماع کرنے میں حرج محسوس کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی :’’ اور شادی شدہ عورتیں (تم پر حرام کی گئی ہیں) مگر تمہاری لونڈیاں ۔‘‘ یعنی جب ان کی عدت مکمل ہو جائے تو پھر وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3171

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدارمي وَالنَّسَائِيّ وَرِوَايَته إِلَى قَوْله: بنت أُخْتهَا
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ایسی عورت سے نکاح کیا جائے جس کی پھوپھی اس کے نکاح میں پہلے سے ہو یا پھوپھی سے اس کی بھتیجی کے ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے ، اسی طرح خالہ اور بھانجی کو یا بھانجی اور خالہ کو ایک ساتھ ایک مرد کے نکاح میں جمع نہ کیا جائے نیز (رشتے میں) چھوٹی (مثلاً : بھتیجی ، بھانجی) کا بڑی پر اور اور بڑی کا چھوٹی پر نکاح کرنے سے منع فرمایا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، نسائی ۔ اور ان کی روایت ((بنت اختھا)) تک ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3172

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بردة بن دِينَار وَمَعَهُ لِوَاءٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ آتِيهِ بِرَأْسِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے ماموں ابوبُردہ بن نیار ؓ پرچم اٹھائے میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : مجھے نبی ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے ، جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کی ہے ، تاکہ میں اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کروں ۔ اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال لے لوں ۔ اور اس روایت میں ’’میرے ماموں‘‘ کے بجائے ’’میرے چچا‘‘ کا لفظ ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و نسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3173

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرِّضَاعِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ وَكَانَ قبل الْفِطَام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ رضاعت باعث حرمت ہے ، جو براہ راست چھاتیوں سے دودھ پی کر (بھوک مٹا کر) انتڑیاں کھول دے ، اور یہ (رضاعت) دودھ چھڑانے سے پہلے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3174

وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرِّضَاعِ؟ فَقَالَ: غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
حجاج بن حجاج اسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے کس طرح حقِ رضاعت ادا ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ رضاعی ماں کو غلام یا لونڈی دینے سے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3175

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْغَنَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ هَذِهِ أَرْضَعَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوطفیل غنوی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عورت آئی ۔ نبی ﷺ نے اپنی چادر بچھائی حتی کہ وہ اس پر بیٹھ گئی ، جب وہ چلی گئی تو بتایا گیا کہ اس خاتون نے نبی ﷺ کو دودھ پلایا تھا (آپ ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں) ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3176

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غيلَان بن سَلمَة الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ نے اسلام قبول کیا اور ان کی دور جاہلیت میں دس بیویاں تھیں ، وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ چار رکھ لو اور باقی فارغ کر دو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3177

وَعَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فَارِقْ وَاحِدَةً وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا» فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ صُحْبَةً عِنْدِي: عَاقِرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سنة ففارقتها. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
نوفل بن معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اسلام قبول کیا تو اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں ، میں نے نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک کو چھوڑ دو اور چار رکھ لو ۔‘‘ میں نے ان میں سے اپنی سب سے پہلی بیوی کو ، جو بانجھ تھی اور ساٹھ سال سے میری رفیقہ حیات تھی ، خود سے جدا کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3178

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وتحتي أختَان قَالَ: «اختر أيتها شِئْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ضحاک بن فیروز دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور دو بہنیں میرے نکاح میں ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو (دوسری چھوڑ دو) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3179

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: إِنَّهَا أَسْلَمَتْ مَعِي فَرَدَّهَا عَلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت نے اسلام قبول کیا اور اس نے شادی کر لی ، اتنے میں اس کا (پہلا) خاوند نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور اس (عورت) کو میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اس (عورت) کو اس کے دوسرے خاوند سے لے کر اس کے پہلے خاوند کو واپس کر دیا ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے عرض کیا : اس (عورت) نے میرے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ہے ، آپ ﷺ نے اس (عورت) کو اس کے حوالے کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3180

وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ النِّسَاءِ رَدَّهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنِّكَاحِ الأول على أَزوَاجهنَّ عِنْد اجْتِمَاع الإسلاميين بَعْدَ اخْتِلَافِ الدِّينِ وَالدَّارِ مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ مُغِيرَةَ كَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ فَبعث النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ فَلَمَّا قَدِمَ جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْيِيرَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ حَتَّى أَسْلَمَ فَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ وَأَسْلَمَتْ أَمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أَمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ الْيَمَنَ فَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شهَاب مُرْسلا
شرح السنہ میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کتنی ہی عورتوں کو پہلے نکاح پر ہی ان کے خاوندوں کی طرف لوٹا دیا جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اگرچہ ایک وقت تک ان کا دین اور رہن سہن ایک دوسرے سے الگ رہا ، ان میں ولید بن مغیرہ کی بیٹی ہیں جو کہ صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں ، فتح مکہ کے روز وہ تو مسلمان ہو گئیں جبکہ ان کا خاوند اسلام قبول کرنے سے بھاگ گیا ، آپ ﷺ نے اس کے چچا زادوہب بن عمیر کو صفوان کی امان کے لیے اپنی چادر دے کر بھیجا ، جب وہ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چار ماہ گھومنے پھرنے کی مہلت عطا کی حتی کہ اس نے اسلام قبول کر لیا تو وہ (ولید بن مغیرہ کی بیٹی) اس کے نکاح میں رہیں ، اور (اسی طرح) عکرمہ بن ابی جہل کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کر لیا جبکہ اس کا خاوند اسلام سے بھاگ کر یمن چلا گیا تو ام حکیم نے بھی کوچ کیا حتی کہ اس کے پاس یمن پہنچ گئیں اور اسے اسلام کی دعوت پیش کی تو اس نے اسلام قبول کر لیا ، اور دونوں کا نکاح برقرار رہا ۔ امام مالک نے ابن شہاب سے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک و فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3181

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ ثُمَّ قَرَأَ: (حُرِّمَتْ عَلَيْكُم أُمَّهَاتكُم) الْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، سات رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور سات نکاح کی وجہ سے ۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں ۔۔۔۔۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3182

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ أُمَّهَا دَخَلَ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَهُمَا يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت کی تو پھر اس کے لیے اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا حلال نہیں ، اور اگر اس نے اس کے ساتھ تعلق زن و شو قائم نہیں کیا تو پھر وہ اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے ۔ اور جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا تو پھر اب اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں خواہ اس نے اس سے تعلق زن و شو قائم کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث اسناد کے حوالے سے صحیح نہیں ، ابن لہیعہ اور مثنی بن صباح نے اسے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے ، اور ان دونوں کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3183

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَد أَحول فَنزلت: (نساوكم حرث لكم فَأتوا حَرْثكُمْ أَنى شِئْتُم)
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، یہود کہا کرتے تھے ، جب آدمی اپنی بیوی سے اس کی پچھلی جانب سے اس کی اندام نہانی میں جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، تم جیسے چاہو اپنی کھیتی کو آؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3184

وَعنهُ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلم ينهنا
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم عزل کیا کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا تھا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور امام مسلم نے مزید یہ بھی روایت کیا ہے کہ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے ہمیں منع نہیں فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3185

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن لي جَارِيَةً هِيَ خَادِمَتُنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ: «اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا» . فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: إِن الْجَارِيَة قد حبلت فَقَالَ: «قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا» . رَوَاهُ مُسلم