Mishkat-ul-Masabeh

Search Results(1)

14)

14) شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ،ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3382

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے ، اللہ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے میں اس (آزاد کرنے والے) کے ایک ایک عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دیتا ہے ، حتی کہ اس کی شرم گاہ کو اس کی شرم گاہ کے بدلے میں (آزاد کر دیتا ہے) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3383

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا» . قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: «تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» . قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: «تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بهَا على نَفسك»
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا ، کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ وہ (راوی) بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس کی قیمت زیادہ ہو اور وہ اپنے اہل کے ہاں بہت پسندیدہ ہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اگر میں ایسا نہ کر سکوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی بھی کام کرنے والے کی مدد کر ، یا جو شخص کوئی چیز بنانا نہیں جانتا تو اس کے لیے وہ چیز بنا دے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھ ، یہ ایسا صدقہ ہے جس کے ذریعے تو اپنی جان پر صدقہ کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3384

عَن الْبَراء بن عَازِب قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: «لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفك الرَّقَبَة» . قَالَ: أَو ليسَا وَاحِدًا؟ قَالَ: لَا عِتْقُ النَّسَمَةِ: أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكُّ الرَّقَبَةِ: أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا وَالْمِنْحَةَ: الْوَكُوفَ وَالْفَيْءَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لم تطق فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، مجھے کوئی ایسا عمل سکھائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگرچہ تم نے بات مختصر کی ہے لیکن بات بہت اہم دریافت کی ہے ۔ ذی روح کو آزاد کر ، اور گردن کو غلامی سے آزاد کر ۔‘‘ اس نے عرض کیا : کیا ان دونوں کا ایک ہی معنی نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، عتق سے مراد ہے کہ تو اکیلا اسے آزاد کرے ، جبکہ ’’ فک رقبہ ‘‘ یہ ہے کہ تو اس کی قیمت ادا کرنے میں معاونت کر ، زیادہ دودھ والا جانور بطورِ عطیہ دے اور ظالم رشتہ دار پر مہربانی و احسان کر ، اگر تم اس کی طاقت نہ رکھو تو پھر بھوکے کو کھانا کھلاؤ ، پیاسے کو پانی پلاؤ ، نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ۔ اگر تم اس کی طاقت نہ رکھو تو پھر خیر و بھلائی کی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3385

وَعَن عَمْرو بن عبسة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِيُذْكَرَ اللَّهُ فِيهِ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ أَعْتَقَ نَفْسًا مُسْلِمَةً كَانَتْ فِدْيَتَهُ مِنْ جَهَنَّمَ. وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مسجد بناتا ہے تاکہ اس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے ، جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے تو یہ اس کا جہنم سے فدیہ بن جاتا ہے ، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (تحصیل علم یا جہاد کرتے ہوئے) بوڑھا ہو گیا تو روز قیامت (جب اندھیرے ہوں گے) اس کے لیے نور ہو گا ۔‘‘ صحیح ، فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3386

عَن الغريف بن عَيَّاش الديلمي قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَة بن الْأَسْقَع فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ فَقُلْنَا: إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ يَعْنِي النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ: «أعتقوا عَنهُ بِعِتْق الله بِكُل عُضْو مِنْهُ عُضْو أَمنه من النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
غریف بن عیاش دیلمی بیان کرتے ہیں ، ہم واثلہ بن اسقع ؓ کے پاس آئے تو ہم نے کہا : ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو ، وہ (اس بات سے) ناراض ہو گئے اور کہا : تم قرآن کی تلاوت کرتے ہو ، جبکہ اس کا مصحف اس کے گھر میں موجود ہوتا ہے اس کے باوجود وہ کمی بیشی کر لیتا ہے ، ہم نے کہا : ہم نے تو صرف ایسی حدیث کا ارادہ کیا تھا جو آپ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو ، انہوں نے کہا : ہم اپنے ایک ساتھی کے بارے میں ، جس نے قتل کی وجہ سے جہنم کو واجب کر لیا تھا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کی طرف سے غلام آزاد کرو ، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3387

وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الشَّفَاعَةُ بِهَا تُفَكُّ الرَّقَبَة» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ افضل صدقہ کسی کے لیے ایسی سفارش کرنا ہے جس کی وجہ سے کسی کی گردن آزاد کر دی جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3388

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ وَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ فَأُعْطِيَ شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے ، تو غلام کی منصفانہ قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ اس کے شرکاء کو ان کے حصوں کے مطابق دی جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا ، ورنہ جتنا آزاد ہو گیا سو ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3389

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي عَبْدٍ أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْبعد غير مشقوق عَلَيْهِ»
ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے کسی غلام میں موجود اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اگر وہ شخص مال دار ہے تو غلام کو مکمل طور پر آزاد کر دیا جائے گا ، اور اگر اس شخص کے پاس مال نہیں تو غلام سے مال کمانے کے لیے کہا جائے گا لیکن اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3390

وَعَن عمرَان بن حُصَيْن: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَدَعَا بهم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْهُ وَذَكَرَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ» بَدَلَ: وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِر الْمُسلمين»
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے قریب اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے ، اور اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، چنانچہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کر دیا ، پھر ان کے مابین قرعہ اندازی کی تو دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رکھا ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق سخت الفاظ فرمائے ۔ انہی سے مروی نسائی کی ایک روایت میں ’’ اس کے متعلق سخت الفاظ فرمائے ‘‘ کی بجائے یہ ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھوں ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا :’’ اگر میں اس کی تدفین سے پہلے موجود ہوتا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا ۔‘‘ رواہ مسلم ، و النسائی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3391

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِده إِلَّا أَن يجده مَمْلُوكا فيشتر بِهِ فيعتقه» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ صرف اس صورت میں ادا کر سکتا ہے کہ اگر وہ باپ کو مملوک پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3392

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ مني؟» فَاشْتَرَاهُ نعيم بن النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بثمانمائة دِرْهَم فجَاء بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا» يَقُولُ: فَبين يَديك وَعَن يَمِينك وَعَن شمالك
جابر ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے ایک غلام مدّبر کیا (یوں کہا کہ میری موت کے بعد یہ غلام آزاد ہو گا) ، اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہیں تھا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھ سے اسے کون خریدتا ہے ؟‘‘ تو نعیم بن نحام ؓ نے آٹھ سو درہم کے بدلے میں اسے خرید لیا ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ نعیم بن عبداللہ عدوی نے آٹھ سو درہم کے عوض اسے خرید لیا ۔ اور اس آدمی نے یہ رقم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ اسے دے دی ، پھر فرمایا :’’ پہلے اپنی جان سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو ۔ اگر کچھ بچ جائے تو پھر تیرے گھر والوں کے لیے ، اگر تیرے گھر والوں سے بچ جائے تو تیرے رشتہ داروں کے لیے ، اگر تیرے رشتہ داروں سے بچ جائے تو پھر اس طرح اور اس طرح ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اپنے سامنے اور اپنے دائیں بائیں تقسیم کر ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3393

عَن الْحسن عَن سَمُرَة عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من ملك ذَا رحم محرم فَهُوَ حُرٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
حسن ، سمرہ کی سند سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (غلام) آزاد ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3394

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
ابن عباس ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی کی لونڈی اس کے بچے کو جنم دے تو وہ اس کی موت کے بعد آزاد ہو جائے گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3395

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا عَنْهُ فَانْتَهَيْنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابوبکر ؓ کے دور میں ام ولد (وہ لونڈی جس کے ساتھ اس کا مالک ہم بستر ہوا اور اس سے اولاد پیدا ہو گئی) کی بیع کیا کرتے تھے ۔ جب عمر ؓ کا دور آیا تو انہوں نے ہمیں اس سے منع کیا تو ہم رک گئے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3396

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص غلام آزاد کرے اور اس (غلام) کا مال ہو تو غلام کا مال غلام ہی کا ہے مگر یہ کہ آقا کوئی شرط طے کر لے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3397

وَعَن الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ غُلَامٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ» فَأَجَازَ عتقه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوملیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ کسی آدمی نے غلام میں موجود اپنے حصے کو آزاد کیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے لیے کوئی شریک نہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے مکمل طور پر آزاد کرنے کی ترغیب دلائی ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3398

وَعَن سفينة قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ فَقُلْتُ: إِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
سفینہ بیان کرتے ہیں ، میں ام سلمہ ؓ کا غلام تھا ، انہوں نے فرمایا : میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور تم پر شرط عائد کرتی ہوں کہ تم زندگی بھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کرو گے ، میں نے کہا : اگر آپ مجھ پر شرط نہ بھی عائد کریں تب بھی میں زندگی بھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے الگ نہ ہوتا ۔ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر شرط عائد کر دی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3399

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتبَته دِرْهَم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مکاتب پر جب تک مکاتبت کا ایک درہم بھی باقی رہتا ہے تو وہ غلام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3400

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ عِنْدَ مكَاتب إحداكن وَفَاء فلنحتجب مِنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تمہارے کسی مکاتب کے پاس اس قدر رقم ہو کہ وہ ادا کر سکے تو وہ (مالکہ) اس سے پردہ کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3401

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ أَوْ قَالَ: عَشْرَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ، اس کے ذمے صرف دس اوقیہ یا فرمایا : دس دینار باقی رہ گئے اور وہ انہیں ادا نہ کر سکا تو وہ غلام ہی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3402

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ مِيرَاثًا وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عَتَقَ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: «يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ حر وَمَا بَقِي دِيَة عبد» . وَضَعفه الفص الثَّالِث
ابن عباس ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب مکاتب دیت یا میراث کا مستحق بنتا ہے تو وہ اپنی آزادی کے حساب سے وارث بنے گا ۔‘‘ اور ترمذی کی روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مکاتب کو اس حصہ کے مطابق دیت دی جائے گی جو اس نے دیت حر ادا کی ہے اور جو بچ جائے وہ دیت عبد ہے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3403

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ فَأَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ فَمَاتَتْ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نعم» . رَوَاهُ مَالك
عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اسے صبح تک مؤخر کر دیا ، سو وہ فوت ہو گئیں ، عبدالرحمن بیان کرتے ہیں ، میں نے قاسم بن محمد سے کہا : اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کر دوں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا ؟ قاسم نے کہا : سعد بن عبادہ ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا : میری والدہ فوت ہو گئیں ہیں ، اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا ؟ تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3404

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ أُخْتُهُ رِقَابًا كَثِيرَةً. رَوَاهُ مَالك
یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں ، عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ حالت نیند ہی میں وفات پا گئے تو ان کی بہن عائشہ ؓ نے ان کی طرف سے بہت سے غلام آزاد کیے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3405

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَلَمْ يَشْتَرِطْ مَاله فَلَا شَيْء لَهُ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے کوئی غلام خریدا اس (غلام) کے مال کی شرط قائم نہ کی تو اس (خریدنے والے) کے لیے (اس کے مال سے) کچھ بھی نہیں ملے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3406

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَكْثَرُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يحلف: «لَا ومقلب الْقُلُوب» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ تر ان الفاظ کے ساتھ قسم اٹھایا کرتے تھے :’’ دلوں کے پھیرنے والے کی قسم !‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3407

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ ليصمت»
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسمیں اٹھانے سے منع فرماتا ہے ، جس نے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3408

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي وَلَا بِآبَائِكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم
عبدالرحمن بن سمرہ ؓ روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بتوں اور اپنے باپ دادا کے ناموں کی قسمیں مت اٹھاؤ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3409

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أقامرك فليتصدق
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے لات و عُزی (بتوں) کی قسم اٹھائی تو اسے ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ پڑھنا چاہیے ۔ اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا : آؤ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں تو اسے صدقہ کرنا چاہیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3410

وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَلَيْسَ عَلَى ابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا قِلَّةً»
ثابت بن ضحاک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور ملت پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ، اور ابن آدم پر ایسی چیز کی نذر پوری کرنا واجب نہیں جس کا وہ مالک نہیں ، جس نے کسی چیز کے ساتھ اپنے آپ کو دنیا میں قتل کیا تو روزِ قیامت اسے اسی کے ساتھ عذاب دیا جائے گا ، کسی مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے جس نے کسی مومن شخص پر کفر کا بہتان لگایا تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے اسے قتل کر دیا اور جس نے مال بڑھانے کی خاطر جھوٹا دعویٰ کیا تو اللہ اس کی تنگ دستی میں اضافہ فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3411

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ»
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! اگر میں کسی بات پر قسم اٹھا لوں اور پھر اس کا غیر اس سے بہتر جانوں تو ان شاء اللہ میں اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور اس سے بہتر کو اختیار کر لوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3412

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأْتِ الَّذِي هُوَ خير وَكفر عَن يَمِينك»
عبدالرحمن بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عبدالرحمن بن سمرہ ! امارت مت طلب کرنا ، اگر وہ تمہیں تمہاری طلب پر دے دی گئی تو تم اس کے سپرد کر دیے جاؤ گے اور اگر وہ طلب کیے بغیر تمہیں دے دی گئی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی ، اور جب تم کسی چیز پر قسم اٹھا لو اور پھر تم اس کے غیر کو بہتر جانو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور جو بہتر ہو اسے اختیار کر لو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو بہتر ہے اسے اختیار کر لو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3413

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وليفعل» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی چیز پر قسم اٹھائے اور وہ اس سے بہتر چیز جان لے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور جو بہتر چیز ہے وہ کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3414

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ الله نم أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! تمہارا اپنی اس قسم پر اصرار کرنا جو اپنے گھر والوں کے متعلق ہو ، اللہ کے نزدیک قسم توڑنے سے زیادہ گناہ رکھتا ہے جس کا کفارہ ادا کرنا اللہ نے اس پر فرض کیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3415

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهِ صَاحبك» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جس پر تیرا ساتھی (قسم طلب کرنے والا) تمہیں سچا جانے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3416

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قسم ، قسم طلب کرنے والے کی نیت پر معتبر ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3417

عَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ) فِي قَوْلِ الرَّجُلِ: لَا وَاللَّهِ وَبَلَى وَاللَّهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ لَفْظُ الْمَصَابِيحِ وَقَالَ: رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، یہ آیت ’’ اللہ تم سے لغو قسم کا مؤاخذہ نہیں کرے گا ، اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو (عادت کے طور پر) کہتا ہے : لا واللہ ! اور بلیٰ واللہ ! ’’ نہیں ، نہیں ! اللہ کی قسم ‘‘ ۔ ’’ ہاں ، ہاں ! اللہ کی قسم ۔‘‘ رواہ البخاری ۔ اور شرح السنہ میں مصابیح کے یہی الفاظ ہیں اور امام بغوی نے فرمایا : بعض محدثین نے اسے عائشہ ؓ سے مرفوع بیان کیا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3418

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ وَلَا بِالْأَنْدَادِ وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کی قسمیں مت اٹھاؤ اور نہ ہی اپنے بتوں کی ، اور اللہ کی قسم بھی صرف اس صورت میں اٹھاؤ جب تم سچے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3419

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا :’’ جس نے اللہ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھائی ، اس نے شرک کیا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3420

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ منا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے امانت کی قسم اٹھائی تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3421

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قسم اٹھاتے وقت یہ کہتا ہے کہ معاملہ ایسا ہوا تو میں اسلام سے بیزار و لاتعلق ہوں اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ، اور اگر وہ سچا ہے تو وہ سالم طور پر اسلام کی طرف نہیں لوٹے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3422

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: «لَا وَالَّذِي نفس أَبُو الْقَاسِم بِيَدِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تاکید کے ساتھ قسم اٹھاتے تو یوں فرماتے :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3423

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ: «لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قسم اٹھاتے تو یوں فرماتے :’’ نہیں ! اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3424

مَرْفُوع وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله ليه وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَذَكَرَ التِّرْمِذِيُّ جَمَاعَةً وَقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قسم اٹھائے اور ان شاء اللہ کہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے محدثین کی ایک جماعت کا ذکر کیا جس نے اسے ابن عمر ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3425

عَن أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ابْنَ عَم لي آتيه فَلَا يُعْطِينِي وَلَا يَصِلُنِي ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَيَّ فَيَأْتِينِي فَيَسْأَلُنِي وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ قَالَ: «كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ»
ابو الاحوص عوف بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ میرا چچا زاد ہے ، میں اس کے پاس جاتا ہوں اور اس سے کوئی چیز مانگتا ہوں تو وہ مجھے نہ تو چیز دیتا ہے اور نہ مجھ سے تعلق جوڑتا ہے ، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے جبکہ میں قسم اٹھا چکا ہوں کہ میں اسے کوئی چیز نہیں دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ’’ میں اس چیز کو اختیار کروں جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کروں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرا چچا زاد میرے پاس آتا ہے ، اور میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں اس کو کچھ نہیں دوں گا اور نہ ہی اس سے صلہ رحمی کروں گا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3426

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْذُرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ من الْبَخِيل»
ابوہریرہ ؓ اور ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نذر نہ مانو کیونکہ نذر تقدیر کے معاملہ میں کوئی فائدہ نہیں دیتی ، البتہ اس کے ذریعے بخیل سے (اس کا مال) نکالا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3427

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانتا ہے تو وہ اسے پورا کرے ، اور جو شخص اس کی نافرمانی کی نذر مانتا ہے تو وہ اسے پورا نہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3428

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيّة الله»
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نافرمانی کی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے اور نہ اس چیز کی جو انسان کے بس میں نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں ۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3429

وَعَن عقبَة بن عَامر عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عقبہ بن عامر ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نذر کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3430

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذا هُوَ بِرَجُل قَائِم فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَقَالُوا: أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اس دوران کے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک آدمی کھڑا دکھائی دیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق دریافت کیا تو صحابہ ؓ نے عرض کیا : ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا ، بیٹھے گا نہیں ، وہ سایہ میں بیٹھے گا نہ کلام کرے گا اور وہ روزہ رکھے گا ۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے حکم دو کہ وہ کلام کرے ، سایہ میں بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3431

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ: «مَا بَالُ هَذَا؟» قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيت الله قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفسه لَغَنِيّ» . وَأمره أَن يركب
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عمر رسیدہ شخص کو دیکھا کہ اسے اپنے دو بیٹوں کے سہارے چلایا جا رہا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کو کیا ہوا ؟‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس نے پیدل چل کر بیت اللہ جانے کی نذر مانی ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالے ۔‘‘ اور آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3432

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَن نذرك»
اور مسلم کی روایت میں ہے ، ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بزرگوار ! سوار ہو جاؤ کیونکہ اللہ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3433

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ سَعْدَ بن عبَادَة رَضِي الله عَنْهُم اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَأَفْتَاهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس نذر کے متعلق ، جو ان کی والدہ کے ذمہ تھی لیکن وہ اسے پورا کرنے سے پہلے وفات پا گئیں ، مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ان (کی والدہ) کی طرف سے اسے ادا کرنے کا فتوی دیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3434

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» . قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَر. وَهَذَا طرف من حَدِيث مطول
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری توبہ کا یہ تقاضا ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنا کچھ مال رکھ لو وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : میں اپنا خیبر والا حصہ روک لیتا ہوں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ، اور یہ ایک لمبی حدیث کا کچھ حصہ ہے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3435

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ معصیت میں کوئی نذر نہیں ، اور اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی طرح ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3436

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لم يسمه فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ. وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَا يُطِيقُهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ. وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَوَقفه بَعضهم على ابْن عَبَّاس
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے کسی چیز کا نام لیے بغیر نذر مانی تو اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی طرح ہے ، جس نے معصیت کی نذر مانی تو اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے ، جس نے کسی ایسی چیز کی نذر مانی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے ۔ اور جس نے کوئی ایسی نذر مانی جس کی وہ طاقت رکھتا ہے تو وہ اسے پورا کرے ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور بعض نے اسے ابن عباس ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3437

وَعَن ثَابت بن الضَّحَّاك قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَهَلْ كَانَ فِيهِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟» قَالُوا: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوف بِنَذْرِك فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ثابت بن ضحاک ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تو وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (اس کے متعلق) بتایا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہاں دور جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہاں ان کی عیدوں میں سے کوئی عید تھی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی معصیت میں نذر پوری کرنا ضروری نہیں اور نہ اس میں جس کا انسان مالک نہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3438

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده رَضِي الله عَنهُ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ قَالَ: «أَوْفِي بِنَذْرِكِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ رَزِينٌ: قَالَتْ: وَنَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا مَكَانٌ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: «هَلْ كَانَ بِذَلِكِ الْمَكَانِ وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟» قَالَتْ: لَا قَالَ: «هَلْ كَانَ فِيهِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟» قَالَتْ: لَا قَالَ: «أَوْفِي بِنَذْرِك»
عمر وبن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کی موجودگی میں دف بجاؤں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو ۔‘‘ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ، اس (عورت) نے عرض کیا : میں نے فلاں فلاں جگہ جہاں اہل جاہلیت ذبح کرتے تھے ، ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس جگہ جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی تھی ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس جگہ ان کی کوئی عید تھی ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3439

وَعَن أبي لبَابَة: أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً قَالَ: «يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ» . رَوَاهُ رزين
ابولبابہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا ، میری توبہ (کے اتمام میں) سے ہے کہ میں اپنی آبائی جگہ سے ہجرت کر جاؤں جہاں میں نے گناہ کیا تھا اور میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری طرف سے ایک تہائی کافی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3440

وَعَن جَابر بن عبد الله: أَنَّ رَجُلًا قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: يَا رَسُول الله لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ: «صلى الله عَلَيْهِ وَسلم هَهُنَا» ثمَّ عَاد فَقَالَ: «صل هَهُنَا» ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «شَأْنَكَ إِذًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے اللہ عزوجل کے لیے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ میں فتح عطا فرمائے تو میں بیت المقدس میں دو رکعتیں پڑھوں گا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہیں (بیت اللہ میں) پڑھ لو ۔‘‘ اس نے پھر یہی بات دہرائی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہیں پڑھ لو ۔‘‘ اس نے پھر یہی بات دہرائی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تب تیری مرضی ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3441

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَة وَأَنَّهَا لَا تطِيق ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ أُخْتِكَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ: فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكَبَ وَتُهْدِيَ هَدْيًا وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا فَلْتَرْكَبْ ولتحج وتكفر يَمِينهَا»
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عقبہ بن عامر ؓ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی جبکہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتی تھی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تیری بہن کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے ، وہ سوار ہو اور قربانی کرے ۔‘‘ اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے : نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم فرمایا کہ وہ سواری کرے اور قربانی کرے ۔ اور انہی کی ایک روایت میں ہے : نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تیری بہن کو مشقت و تھکاوٹ میں ڈال کر کیا کرے گا ، وہ سواری کرے ، حج کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3442

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عُقْبَةَ بن عَامر سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَقَالَ: «مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
عبداللہ بن مالک سے روایت ہے کہ عقبہ بن عامر ؓ نے اپنی بہن کے متعلق نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا کہ اس نے ننگے پاؤں ننگے سر حج کرنے کی نذر مانی ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے حکم دو کہ وہ سر پر کپڑا لے ، سواری کرے اور تین روزے رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3443

وَعَن سعيد بن الْمسيب: أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ فَقَالَ: إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ فَكُلُّ مَالِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَكَلِّمْ أَخَاكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَمِينَ عَلَيْكَ وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَلَا فِيمَا لَا يملك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں کے درمیان میراث تھی ۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا : اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے اخراجات کے لیے وقف ہے ۔ تو عمر ؓ نے اسے فرمایا : کعبہ کو تیرے مال کی ضرورت نہیں ، اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور اپنے بھائی سے کلام کر ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ رب کی معصیت ، قطع رحمی اور اس چیز کے بارے میں جس کا تو مالک نہیں تجھ پر نہ تو کوئی نذر ہے اور نہ قسم ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3444

عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي طَاعَةٍ فَذَلِكَ لِلَّهِ فِيهِ الْوَفَاءُ وَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلَا وَفَاء فِيهِ وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ نذر کی دو قسمیں ہیں ، جو شخص اطاعت میں نذر مانے تو نذر اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے ، اور جس نے معصیت میں نذر مانی تو وہ شیطان کے لیے ہے وہ پوری نہیں کرنی چاہیے ، اور وہ اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی مثل ادا کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3445

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ إِنْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْ عَدُوِّهِ فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ: سَلْ مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ: لَا تَنْحَرْ نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ مُؤْمِنًا قَتَلْتَ نَفْسًا مُؤْمِنَةً وَإِنْ كُنْتَ كَافِرًا تَعَجَّلْتَ إِلَى النَّارِ وَاشْتَرِ كَبْشًا فَاذْبَحْهُ لِلْمَسَاكِينِ فَإِنَّ إِسْحَاقَ خَيْرٌ مِنْكَ وَفُدِيَ بِكَبْشٍ فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: هَكَذَا كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أُفْتِيَكَ. رَوَاهُ رَزِينٌ
محمد بن منتشر بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے اس کے دشمن سے نجات دی تو وہ اپنے آپ کو ذبح کرے گا ، ابن عباس ؓ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اسے فرمایا : مسروق سے پوچھو ، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اپنے آپ کو ذبح نہ کرو ، کیونکہ اگر تم مومن ہو تو تم نے ایک مومن کی جان کو قتل کیا ، اور اگر تم کافر ہو تو تم نے آگ میں جانے کی جلدی کی ، ایک مینڈھا خریدو اور اسے مساکین کے لیے ذبح کرو ، کیونکہ اسحاق ؑ تم سے بہتر تھے اور ان کے فدیہ میں ایک مینڈھا دیا گیا ، جب ابن عباس ؓ کو بتایا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں بھی تمہیں اسی طرح کا فتوی دینے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔

آیت نمبر