MISHKAT

Search Result (224)

25)

25) دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5155

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو نعمتیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں : صحت اور فراغت ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5156

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يجعلُ أحدُكم إصبعَه فِي اليمِّ فَلْينْظر بِمَ يرجع» . رَوَاهُ مُسلم
مستورد بن شداد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ کی قسم ! آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال بس ایسے ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے ، پھر وہ دیکھے کہ وہ (انگلی پانی کی) کتنی مقدار کے ساتھ لوٹتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5157

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ. قَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟» فَقَالُوا: مَا نحبُّ أَنه لنا بشيءقال: «فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُم» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بکری کے ایک چھوٹے کانوں والے مردار بچے کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کون اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہم تو اسے کسی معمولی چیز کے بدلے میں لینا بھی پسند نہیں کرتے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ (بکری کا مردہ بچہ) تمہارے نزدیک حقیر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5158

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ المؤمنِ وجنَّةُ الكافرِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ جبکہ کافر کے لیے جنت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5159

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَة يجزى بهَا» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کسی مومن کی کوئی نیکی ضائع نہیں کرتا ، اس کو اس (نیکی) کے بدلے میں دنیا میں عطا کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے آخرت میں جزا دی جائے گی ، اور کافر کو اس کی دنیا میں اللہ کے لیے کی گئی نیکیوں کے بدلے میں کھلایا جاتا ہے ، حتیٰ کہ جب وہ آخرت کو پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی نہیں ہو گی جس کی اسے جزا دی جائے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5160

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. إِلَّا أَنْ عِنْدَ مُسْلِمٍ: «حُفَّتْ» . بَدَلَ «حُجِبَتْ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کو شہوات کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ البتہ صحیح مسلم میں ((حجبت)) کے بدلے ((حفت)) کے الفاظ ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5161

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَكَسَ وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتُقِشَ. طُوبَى لِعَبْدٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشْعَثُ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٌ قَدَمَاهُ إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَة كَانَ فِي السَّاقَة وَإِن اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يشفع» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دینار و درہم اور دوشالے کا (پرستار) بندہ ہلاک ہوا ، اگر اسے دیا جائے تو خوش اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہوتا ہے ، وہ ہلاک ہوا اور ذلیل ہوا ، جب اسے کانٹا چبھے تو وہ نکالا نہ جائے ، خوش حالی ہو اس شخص کے لیے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے ، اس کے بال پراگندہ اور پاؤں گرد آلود ہیں ، اگر وہ پہرے پر مامور ہے تو وہ پہرے پر ڈٹا ہوا ہے اور اگر لشکر کے آخری دستے میں ہے تو وہ وہاں بھی ڈٹا ہوا ہے ، اگر وہ (محفل میں شرکت کے لیے) اجازت طلب کرے تو اسے اجازت نہ دی جائے اور اگر وہ سفارش کرے تو سفارش قبول نہ کی جائے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5162

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا» . فَقَالَ رجلٌ: يَا رَسُول الله أوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ قَالَ: فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» . وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أكلت حَتَّى امتدت خاصرتاها اسْتقْبلت الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ. وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اپنے بعد تمہارے متعلق جس چیز کا اندیشہ ہے وہ یہ ہے کہ تم پر دنیا کی رونق اور اس کی زینت کا دروازہ کھول دیا جائے گا ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا خیر ، برائی کو ساتھ لائے گی ؟ آپ خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ پر وحی اتاری جا رہی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، پھر آپ ﷺ نے اپنے (چہرے مبارک) سے پسینہ صاف کیا ، اور فرمایا :’’ وہ سائل کہاں ہے ؟‘‘ گویا آپ نے اس کی تعریف کی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خیر ، شر کو ساتھ نہیں لائے گی ، بے شک موسم ربیع جو چارہ اگاتا ہے ، اس سے وہ بعض چارہ جانور کو مار ڈالتا ہے ، اپھارہ کر دیتا ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے ، البتہ سبز گھاس کھانے والا جانور کھاتا ہے حتیٰ کہ اس کے کوکھ نکل آتے ہیں ، وہ سورج کی طرف رخ کر کے جگالی کرتا ہے ، گوبر کرتا ہے اور پیشاب کرتا ہے ، اور وہ دوبارہ (چرنے) چلا جاتا ہے اور دوبارہ (سبز گھاس) کھاتا ہے ، یہ مال سرسبز و شاداب ، شیریں ہے جس نے اسے اپنی ضرورت کے مطابق لیا اور اسے اس کے حق کے مطابق خرچ کیا تو وہ بہترین مددگار ہے ، اور جس نے اسے اپنی ضرورت کے بغیر حاصل کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور وہ (مال) روز قیامت اس کے خلاف گواہی دے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5163

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «فَوَاللَّهِ لَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وتهلككم كَمَا أهلكتهم» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عمرو بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میں تمہارے متعلق فقر سے نہیں ڈرتا لیکن مجھے تمہارے متعلق اس بات کا اندیشہ ہے کہ دنیا تم پر فراخ کر دی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کی گئی تھی ، پھر تم اس کے متعلق ویسے ہی رغبت رکھو گے جیسے انہوں نے اس کے متعلق رغبت رکھی ، اور وہ تمہیں ہلاک کر دے گی جیسے اس نے انہیں ہلاک کر دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5164

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» وَفِي رِوَايَةٍ «كفافا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! آل محمد (ﷺ) کو صرف اتنا رزق عطا فرما کہ ان کے جسم و جان کا رشتہ برقرار رہ سکے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ بقدر کفاف ‘‘ (گزارہ لائق روزی عطا فرما)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5165

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص نے فلاح پائی جس نے (اپنے رب کی) اطاعت کر لی اور اسے بقدر ضرورت رزق عطا کیا گیا اور اللہ نے جو اسے عطا کیا اس پر اس نے قناعت اختیار کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5166

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي مَالِي. وَإِن مَاله مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى. وَمَا سِوَى ذَلِك فَهُوَ ذاهبٌ وتاركهُ للنَّاس . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ کہتا ہے ، میرا مال ، میرا مال ، حالانکہ اس کا مال فقط تین صورتوں میں ہے جو اس نے کھا کر ختم کر دیا ، یا پہن کر بوسیدہ کر دیا یا (اللہ کی راہ میں) دے کر ذخیرہ کر لیا ، اور جو ان کے علاوہ ہے وہ تو اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5167

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ: فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عمله . مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں ، ان میں سے دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ باقی رہتی ہے ، اس کے گھر والے ، اس کا مال اور اس کے اعمال اس کے ساتھ جاتے ہیں ، اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس آ جاتے ہیں ، اور اس کے اعمال (اس کے ساتھ) باقی رہ جاتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5168

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ. قَالَ: «فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ وَمَالَ وَارِثِهِ مَا أخر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کون ہے جسے اپنے وارثوں کا مال اپنے مال سے زیادہ پسند ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مال اپنے وارثوں کے مال سے زیادہ پسند ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اس کا مال تو وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا جبکہ وہ مال جو اس نے پیچھے چھوڑا وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5169

وَعَن مُطرّف عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يقْرَأ: (آلهاكم التكاثر) قَالَ: يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي . قَالَ: «وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تصدَّقت فأمضيت؟ ؟» . رَوَاهُ مُسلم
مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (اس وقت) سورۂ تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن آدم کہتا ہے : میرا مال ، میرا مال ، اے ابن آدم ! حالانکہ تیرا مال تو صرف وہ ہے جو تو نے کھایا اور ختم کر دیا ، یا پہن لیا اور بوسیدہ کر دیا یا صدقہ کر کے (آخرت کے لیے) آگے بھیج دیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5170

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفس» مُتَّفق عَلَيْهِ.
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مال داری ، مال اور سازو سامان کی کثرت سے حاصل نہیں ہوتی ، بلکہ مال داری تو نفس کی مال داری (یعنی قناعت) ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5171

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من أَخذ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟» قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ الله فَأخذ بيَدي فَعَدَّ خَمْسًا فَقَالَ: «اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكَ تُمِيتُ الْقَلْبَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کون ہے جو مجھ سے یہ کلمات سیکھے اور ان پر عمل کرے یا کسی ایسے شخص کو سکھائے جو ان پر عمل کرے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ، چنانچہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ ااور پانچ چیزیں شمار کیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ محارم (اللہ کی حرام کردہ چیزوں) سے بچ جاؤ ، اس طرح تم سب لوگوں سے زیادہ عبادت گزرا بن جاؤ گے ، اللہ نے جو تمہاری قسمت میں لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جاؤ اس طرح تم سب لوگوں سے زیادہ غنی بن جاؤ گے ، اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو گے تو مومن بن جاؤ گے ، لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہو ، تو مسلمان بن جائے گا ، زیادہ مت ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5172

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ابْنَ آدَمَ تَفْرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسِدَّ فَقْرَكَ وَإِنْ لَا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَكَ شُغُلًا وَلَمْ أسُدَّ فقرك . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ فرماتا ہے : انسان ! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا ، میں تیرے دل کو مال داری (قناعت) سے بھر دوں گا ، تیری محتاجی ختم کر دوں گا اور اگر تو (ایسے) نہیں کرے گا تو میں تمہیں کاموں میں مصروف کر دوں گا اور تیری محتاجی ختم نہیں کروں گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5173

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِبَادَةٍ وَاجْتِهَادٍ وَذُكِرَ آخَرُ بِرِعَّةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَعْدِلْ بِالرِّعَّةِ» . يَعْنِي الْوَرَعَ. رَوَاهُ الترمذيُّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی کی عبادت اور اس میں بھرپور انہماک کا ذکر کیا گیا اور دوسرے آدمی کا تقویٰ و احتیاط برتنے کا ذکر کیا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تقویٰ کے ساتھ (اس عبادت و اجتہاد کا) موازنہ نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5174

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُهُ: اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ مُرْسلا
عمرو بن میمون اودی ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو ، اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے ، اپنی صحت کو اپنے مرض سے پہلے ، اپنے مال دار ہونے کو اپنی محتاجی سے پہلے ، اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے ۔‘‘ امام ترمذی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5175

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا يَنْتَظِرُ أَحَدُكُمْ إِلَّا غِنًى مُطْغِيًا أَوْ فَقْرًا مُنْسِيًا أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا أَوِ الدَّجَّالَ فَالدَّجَّالُ شَرٌّ غَائِبٌ يُنْتَظَرُ أَوِ السَّاعَةَ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی حد سے تجاوز کر دینے والی تونگری کا انتظار کرتا ہے ، یا (عبادت و اطاعت سے) بھلا دینے والی محتاجی کا انتظار کرتا ہے ، یا خراب کر دینے والے مرض کا ، یا بے ہودہ گوئی کرانے والے بڑھاپے کا ، یا اچانک آ جانے والی موت کا ، یا دجال کا ، دجال تو پوشیدہ فتنہ ہے جس کا انتظار ہے ، یا قیامت کا اور قیامت بڑی آفت اور ناگوار چیز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5176

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلا ذكرُ الله وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہیں ، ہاں ! البتہ اللہ کا ذکر ، اللہ کے پسندیدہ اعمال اور عالم و متعلم اس سے مستثنیٰ ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5177

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شربة» رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر دنیا (کی اہمیت) اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا گھونٹ بھی نہ پلاتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5178

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جاگیریں مت بناؤ ورنہ تم دنیا میں منہمک ہو جاؤ گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5179

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى» . رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے دنیا کو پسند کیا ، اس نے آخرت کا نقصان کیا اور جس نے آخرت کو پسند کیا تو اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا ، تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5180

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَلُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ درہم و دینار کا بندہ ملعون ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5181

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ والشرف لدينِهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو بھوکے بھیڑیے ، جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑا جائے تو وہ ان کے لیے اتنا نقصان دہ نہیں جتنی آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کے لیے نقصان دہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5182

وَعَن خباب عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَنْفَقَ مُؤْمِنٌ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أُجِرَ فِيهَا إِلَّا نَفَقَتَهُ فِي هَذَا التُّرَابِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
خباب ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن جو بھی خرچ کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملتا ہے لیکن اس نے جو خرچ اس مٹی پر (زائد از ضرورت) کیا اس پر اسے اجر نہیں ملتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5183

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّفَقَةُ كُلُّهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا الْبِنَاءَ فَلَا خَيْرَ فِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سارا خرچہ اللہ کی راہ میں سوائے تعمیرات کے ، اس (پر خرچ کرنے) میں کوئی خیر نہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5184

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا وَنَحْنُ مَعَهُ فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» قَالَ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلَانٍ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فِي النَّاسُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عرفَ الرجلُ الغضبَ فِيهِ والإِعراضَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُنْكِرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا: خَرَجَ فَرَأَى قُبَّتَكَ. فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا حَتَّى سَوَّاهَا بِالْأَرْضِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا قَالَ: «مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ؟» قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا. فَقَالَ: «أَمَا إِنَّ كَلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ إِلَّا مَا لَا إِلَّا مَا لَا» يَعْنِي مَا لَا بُدَّ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز باہر تشریف لائے اور ہم آپ کے ساتھ تھے ، آپ نے ایک اونچا سا قبہ دیکھا تو فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ آپ کے صحابہ نے عرض کیا ، یہ ایک انصاری شخص کا ہے ، آپ خاموش ہو گئے اور اسے اپنے دل میں رکھا حتیٰ کہ جب اس کا مالک آیا تو اس نے لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا ، لیکن آپ نے اس سے اعراض کیا ، اس نے کئی مرتبہ ایسے کیا ، حتیٰ کہ اس آدمی نے آپ میں ناراضی اور اپنے سے بے رخی پہچان لی ، اس نے اپنے ساتھیوں سے وجہ دریافت کی اور کہا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ ﷺ کو ناراض محسوس کرتا ہوں لیکن وجہ ناراضی معلوم نہیں ، انہوں نے بتایا ، آپ باہر تشریف لائے تھے اور آپ نے تمہارا قبہ دیکھا تھا ، وہ آدمی اپنے قبے کی طرف گیا اور اسے گرا کر زمین کے برابر کر دیا ، پھر ایک روز رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ نے اس (قبے) کو نہ دیکھا تو فرمایا :’’ قبے کو کیا ہوا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اس کے مالک نے آپ کی بے رخی کی ہم سے وجہ دریافت کی تو ہم نے اسے بتا دیا ، پس اس نے اسے گرا دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! ہر عمارت جس کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہو وہ اپنے مالک کے لیے وبال ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5185

وَعَن أبي هَاشم بن عُتبَةَ قَالَ: عَهِدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي بَعْضِ نسخ «المصابيح» عَن أبي هَاشم بن عتيد بِالدَّال بدل التَّاء وَهُوَ تَصْحِيف
ابوہاشم بن عتبہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا :’’ تمہارے لیے اتنا مال جمع کرنا ہی کافی ہے کہ ایک خادم ہو اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) ایک سواری ہو ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ابوہاشم بن عتبد یعنی تاء کے بجائے دال کا ذکر ہے ، اور یہ تصحیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و نسائی و ابن ماجہ و مصابیح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5186

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ: بَيْتٌ يَسْكُنُهُ وَثَوْبٌ يُوَارِي بِهِ عَوْرَتَهُ وجلف الْخبز وَالْمَاء . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عثمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ انسان کو ان تین چیزوں ، رہائش کے لیے گھر ، ستر ڈھانپنے کے لیے کپڑے اور روٹی پانی کے سوا کسی چیز کا حق نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5187

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ. قَالَ: «ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللَّهُ وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیں جب میں وہ عمل کر لوں تو میں اللہ اور لوگوں کا محبوب بن جاؤں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا سے بے رغبت ہو جا اللہ تجھ سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے رغبت ہو جا تو لوگ تجھ سے محبت کریں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5188

وَعَن ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ عَلَى حَصِيرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَبْسُطَ لَكَ وَنَعْمَلَ. فَقَالَ: «مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟ وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک چٹائی پر سو گئے جب اٹھے تو آپ کے جسد اطہر پر اس (چٹائی) کے نشانات تھے ، ابن مسعود ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر آپ ہمیں حکم فرمائیں تو ہم آپ کے لیے نرم بستر تیار کر دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا دنیا سے کیا سروکار ، میں اور دنیا تو ایسے ہیں جیسے کوئی سوار کسی درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے رکتا ہے اور پھر کوچ کر جاتا ہے اور اسے وہیں چھوڑ جاتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5189

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَغْبَطُ أَوْلِيَائِي عِنْدِي لَمُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا فَصَبَرَ عَلَى ذَلِكَ» ثُمَّ نَقَدَ بِيَدِهِ فَقَالَ: «عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ بَوَاكِيهِ قَلَّ تُراثُه» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوامامہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے دوستوں میں سے وہ مومن میرے نزدیک زیادہ قابل رشک ہے جس کے پاس سازو سامان کم ہو ، نماز میں اسے لذت حاصل ہوتی ہو ، اپنے رب کی عبادت خوب اچھی طرح کرتا ہو اور وہ پوشیدہ حالت میں بھی اس کی اطاعت کرتا ہو ، لوگوں میں مشہور نہ ہو ، اس کی طرف انگلیاں نہ اٹھتی ہوں ، اس کا رزق گزارہ لائق ہو اور وہ اس پر صابر ہو ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ایک چٹکی بجائی اور فرمایا :’’ اس کی موت جلدی آ گئی ، اسے رونے والیاں کم ہیں اور اس کی میراث بھی کم ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5190

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي يطحاء مَكَّة ذَهَبا فَقلت: لَا يارب وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعَتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے رب نے مجھے پیش کش کی کہ وہ مکہ کی وادی بطحا (یا مکہ کے سنگ ریزوں) کو سونا بنا دے ، میں نے کہا : رب جی ! نہیں ، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک روز شکم سیر ہوں اور ایک روز بھوکا رہوں ، جب میں بھوکا رہوں تو تیرے حضور عاجزی کروں اور تیرا ذکر کروں ، اور جب شکم سیر ہوں تو تیری حمد بیان کروں اور تیرا شکر ادا کروں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5191

وَعَن عبيدِ الله بنِ مِحْصَنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
عبید اللہ بن محصن ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اسے اپنے اہل و عیال کے متعلق کوئی خطرہ نہ ہو اور وہ تندرست ہو ، اور اس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو تو گویا اس کے لیے تمام اطراف سے دنیا جمع کر دی گئی ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5192

وَعَن مقدامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ طَعَامٌ وَثُلُثٌ شَرَابٌ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کسی آدمی نے ایسا کوئی برتن نہیں بھرا جو اس کے پیٹ سے زیادہ برا ہو ، انسان کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں ، اگر زیادہ کھانا ضروری ہی ہو تو پھر (پیٹ کا) تہائی حصہ کھانے کے لیے ، تہائی پانی کے لیے اور تہائی سانس کے لیے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5193

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَتَجَشَّأُ فَقَالَ: «أَقْصِرْ مِنْ جُشَائِكَ فَإِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَطْوَلُهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» . وروى التِّرْمِذِيّ نَحوه
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ڈکار لیتے ہوئے سنا تو فرمایا :’’ اپنا ڈکار کم کر ، کیونکہ روز قیامت وہ شخص لوگوں سے بہت دیر تک بھوکا رہے گا جو دنیا میں خوب سیر ہو کر کھاتا تھا ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام ترمذی نے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5194

وَعَن كَعْب بن عِياضٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً وَفِتْنَةُ أُمتي المالُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
کعب بن عیاض ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہر امت کے لیے ایک فتنہ (آزمائش و امتحان) رہا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5195

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ فَيَقُولُ لَهُ: أَعْطَيْتُكَ وَخَوَّلْتُكَ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْكَ فَمَا صَنَعْتَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ جَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ وَتَرَكْتُهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ فَارْجِعْنِي آتِكَ بِهِ كُلِّهِ. فَيَقُولُ لَهُ: أَرِنِي مَا قَدَّمْتَ. فَيَقُولُ: رَبِّ جَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ وَتَرَكْتُهُ أَكثر ماكان فَارْجِعْنِي آتِكَ بِهِ كُلِّهِ. فَإِذَا عَبْدٌ لَمْ يُقَدِّمْ خَيْرًا فَيُمْضَى بِهِ إِلَى النَّارِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَضَعفه
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انسان کو روز قیامت بکری کے بچے کی طرح (ذلت کے ساتھ) پیش کیا جائے گا ، اور اسے اللہ کے حضور کھڑا کیا جائے گا تو وہ اس سے فرمائے گا : میں نے تجھے (حیات و حواس ، صحت و عافیت) عطا کی ، میں نے تجھے خادم ملازم عطا کیے اور (انبیا و کتب نازل فرما کر) تجھ پر انعام فرمایا ، تو نے کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا رب جی ! میں نے اس (مال) کو جمع کیا اور اس کو بڑھایا اور جتنا تھا اس سے زیادہ چھوڑا ، تو مجھے واپس بھیج میں وہ سارا تیری خدمت میں لے آتا ہوں ۔ اسے کہا جائے گا : تم نے جو آگے بھیجا تھا وہ مجھے دکھاؤ ، تو وہ پھر وہی کہے گا ، میں نے اسے جمع کیا ، اسے بڑھایا اور وہ جتنا تھا اس سے زیادہ اسے چھوڑا ، لہذا تو مجھے واپس بھیج میں وہ سارا تیری خدمت میں لا حاضر کرتا ہوں ، چنانچہ وہ ایسا (بد قسمت) انسان ہو گا جس نے کوئی نیکی آگے نہیں بھیجی ہو گی ، اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5196

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُسْأَلُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّعِيمِ أَنْ يُقَالَ لَهُ: أَلَمْ نُصِحَّ جِسْمَكَ؟ وَنَرْوِكَ من المَاء الْبَارِد؟ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت بندے سے نعمتوں کے بارے میں سب سے پہلے یوں سوال کیا جائے گا : کیا ہم نے تیرے جسم کو درست نہیں بنایا تھا ، اور (کیا) ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا ؟‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5197

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ؟ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت انسان کے قدم (اللہ کے دربار میں) برابر جمے رہیں گے حتیٰ کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق نہ پوچھ لیا جائے : اس کی عمر کے متعلق کہ اس نے اسے کن کاموں میں ختم کیا ، اس کی جوانی کے متعلق کہ اس نے اسے کہاں ضائع کیا ، اس کے مال کے متعلق کہ اس نے اسے کہاں سے حاصل کیا اور اسے کن مصارف میں خرچ کیا اور اپنے علم کے مطابق کتنا عمل کیا ؟‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5198

عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «إِنَّكَ لَسْتَ بِخَيْرٍ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ إِلَّا أَنْ تفضلَه بتقوى» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ تم سرخ سے بہتر ہو نہ سیاہ سے ، مگر یہ کہ تم اس سے تقویٰ کے ذریعے فضیلت حاصل کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5199

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَهِدَ عَبْدُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا أَنْبَتَ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فِي قَلْبِهِ وَأَنْطَقَ لِسَانَهُ وَبَصَّرَهُ عَيْبَ الدُّنْيَا وَدَاءَهَا وَدَوَاءَهَا وَأَخْرَجَهُ مِنْهَا سَالِمًا إِلَى دَارِ السَّلَامِ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کے دل میں حکمت پیدا فرما دیتا ہے ، اس (حکمت) کو اس کی زبان پر جاری فرما دیتا ہے ، دنیا کا عیب ، اس کی بیماریاں اور اس کے علاج پر اسے بصیرت عطا فرما دیتا ہے اور اسے اس سے صحیح سلامت دار السلام (جنت) کی طرف نکال لے جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5200

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ اللَّهُ قلبَه للإِيمان وجعلَ قلبَه سليما ولسانَه صَادِقا وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقَمِعٌ وَأَمَّا الْعَيْنُ فَمُقِرَّةٌ لِمَا يُوعَى الْقَلْبُ وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص نے فلاح پائی جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے خالص کر دیا ، اس کے دل کو (حسد و بغض وغیرہ سے) سلامت رکھا ، اس کی زبان کو راست گو بنایا ، اس کے نفس کو مطمئن بنایا ، اس کی طبیعت کو مستقیم بنایا ، اس کے کانوں کو غور سے (حق) سننے والا اور اس کی آنکھ کو (دلائل) دیکھنے والا بنایا ، کان اس چیز کے لیے جسے دل محفوظ رکھتا ہے ، قیف ہیں اور آنکھ محل قرار و ثبات ہے ، اور اس شخص نے فلاح پائی جس نے اپنے دل کو محافظ بنایا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5201

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ» ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (فَلَمَّا نسوا ماذكروا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هم مبلسون) رَوَاهُ أَحْمد
عقبہ بن عامر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم اللہ عزوجل کو دیکھو کہ وہ بندے کو اپنی معصیت کے باوجود دنیا دے رہا ہے جس (معصیت) کو وہ پسند نہیں کرتا تو وہ کوئی تدبیر ہے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جب انہوں نے اس چیز کو بھلا دیا جس کے ذریعے انہیں سمجھایا گیا تھا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ، حتیٰ کہ جب وہ عطا کردہ چیزوں پر خوش ہو گئے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا ، تب وہ متحیر و ناامید ہو گئے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5202

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيَّةٌ» قَالَ: ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَتَرَكَ دِينَارَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيَّتَانِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ والبيهقيُّ فِي «شعب الإِيمان»
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا تو اس نے ایک دینار چھوڑا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (یہ دینار) ایک داغ (دینے کے باعث) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر دوسرا آدمی فوت ہوا تو اس نے دو دینار چھوڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (یہ دو دینار) دو داغ (دینے کا باعث) ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5203

وَعَن مُعَاوِيَة أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عتبَة يعودهُ فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا خَالِ؟ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا؟ قَالَ: كلا ولكنَّ رَسُول الله عهد إِلينا عَهْدًا لَمْ آخُذْ بِهِ. قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . وَإِنِّي أَرَانِي قَدْ جَمَعْتُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ ؓ کی عیادت کے لیے گئے تو ابوہاشم ؓ رونے لگے ، انہوں نے پوچھا : ماموں جان ! کون سی چیز آپ کو رلا رہی ہے ، کیا کوئی تکلیف تمہیں اضطراب میں ڈال رہی ہے یا دنیا کی حرص ؟ انہوں نے کہا ، ہرگز نہیں ، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں وصیت فرمائی تھی لیکن میں نے اس پر عمل نہ کیا ، انہوں نے فرمایا : وہ (وصیت) کیا تھی ؟ انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تمہارے لیے اتنا مال جمع کرنا ہی کافی ہے کہ ایک خادم ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے ایک سواری ہو ۔‘‘ اور میں خیال کرتا ہوں کہ میں (مال) جمع کر چکا ہوں ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5204

وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: قُلْتُ: لِأَبِي الدَّرْدَاءِ: مَالك لَا تَطْلُبُ كَمَا يَطْلُبُ فُلَانٌ؟ فَقَالَ: أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ عَقَبَةً كَؤُودًا لَا يَجُوزُهَا المثقلون» . فَأحب أَن أتخفف لتِلْك الْعقبَة
ام درداء ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ابودرداء ؓ سے کہا : آپ کو کیا ہے کہ آپ فلاں کی طرح (مال و منصب) طلب نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تمہارے آگے ایک دشوار گھاٹی ہے جسے بھاری وزن اٹھانے والے پار نہیں کر سکیں گے ۔‘‘ میں چاہتا ہوں کہ میں اس گھاٹی (سے گزرنے ) کے لیے وزن ہلکا رکھوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5205

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مِنْ أَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الْمَاءِ إِلَّا ابْتَلَّتْ قَدَمَاهُ؟» قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «كَذَلِكَ صَاحِبُ الدُّنْيَا لَا يسلمُ منَ الذُّنُوب» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا کوئی ایسا شخص ہے جو پانی پر چلتا ہو لیکن اس کے پاؤں گیلے نہ ہوتے ہوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا دار شخص اسی طرح ہے ، وہ گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔‘‘ ان دونوں احادیث کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5206

وَعَن جُبَير بن نفير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَجْمَعَ الْمَالَ وَأَكُونَ مِنَ التَّاجِرِينَ وَلَكِنْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ (سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ. واعبد ربَّك حَتَّى يَأْتِيك الْيَقِين) رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية» عَن أبي مُسلم
جبیر بن نفیر ؒ مرسل روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری طرف یہ وحی نہیں کی گئی کہ میں مال جمع کروں اور تاجروں میں سے ہو جاؤں ، بلکہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ ’’ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں ، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں حتیٰ کہ آپ وفات پا جائیں ۔‘‘ شرح السنہ ، اور ابونعیم نے ابو مسلم سے حلیہ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و فی حلیہ الاولیاء ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5207

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَسَعْيًا عَلَى أَهْلِهِ وَتَعَطُّفًا عَلَى جَارِهِ لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهُ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا مُكَاثِرًا مفاخرا مرائيا لَقِي الله وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے حلال طریقے سے ، مانگنے سے بچنے کے لیے ، اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کے لیے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے دنیا طلب کی تو وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح (چمکتا) ہو گا ۔ اور جس شخص نے حلال طریقے سے ، مال میں اضافہ کرنے کے لیے ، باہم فخر کرنے کے لیے اور ریاکاری کے لیے دنیا طلب کی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5208

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ لِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ وَوَيْلٌ لَعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک یہ خیر کے خزانے ہیں ، ان خزانوں کی چابیاں ہیں ، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جسے اللہ نے خیر کے لیے چابی (کھولنے والا) بنا دیا اور شر کو بند کرنے والا بنا دیا ، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جسے اللہ نے شر کھولنے والا اور خیر کو بند کرنے والا بنایا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5209

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَمْ يُبَارَكْ لِلْعَبْدِ فِي مَالِهِ جَعَلَهُ فِي المَاء والطين»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندے کے کسی مال میں برکت نہ رکھی جائے تو وہ اس مال کو پانی اور مٹی (یعنی تعمیر) پر صرف کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5210

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اتَّقُوا الْحَرَامَ فِي الْبُنْيَانِ فَإِنَّهُ أَسَاسُ الْخَرَابِ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تعمیرات کے سلسلے میں (ارتکاب) حرام سے بچو ، کیونکہ وہ خرابی کی اساس ہے ۔‘‘ دونوں روایات کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5211

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں ، اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہیں ، اور اس (دنیا) کے لیے وہی جمع کرتا ہے جو عقل مند نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5212

وَعَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: «الْخَمْرُ جِمَاعُ الْإِثْمِ وَالنِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّيْطَانِ وَحُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ» قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَخِّرُوا النِّسَاءَ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللَّهُ» . رَوَاهُ رزين
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوران خطبہ فرماتے ہوئے سنا :’’ شراب تمام گناہوں کا مجموعہ ہے ، عورتیں شیطان کے جال ہیں ، اور دنیا کی محبت ہر گناہ کی اصل و بنیاد ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عورتوں کو پیچھے رکھو جیسے اللہ نے انہیں پیچھے رکھا ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5213

وروى اليهقي مِنْهُ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا: «حب الدُّنْيَا رَأس كل خَطِيئَة»
اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں اسے حسن سے مرسل روایت کیا ہے :’’ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی بنیاد ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5214

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وسم: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْهَوَى وَطُولُ الْأَمَلِ فَأَمَّا الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ وَأما طول الأمل فيُنسي الْآخِرَةَ وَهَذِهِ الدُّنْيَا مُرْتَحِلَةٌ ذَاهِبَةٌ وَهَذِهِ الْآخِرَةُ مُرْتَحِلَةٌ قَادِمَةٌ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ فَإِنِ اسْتَطَعْتُم أَن لَا تَكُونُوا بَنِي الدُّنْيَا فَافْعَلُوا فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ فِي دَارِ الْعَمَلِ وَلَا حِسَابَ وَأَنْتُمْ غَدًا فِي دَارِ الْآخِرَةِ وَلَا عَمَلَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اپنی امت کے متعلق خواہش نفس اور طول آرزو کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ، کیونکہ خواہش نفس حق سے روکتی ہے جبکہ طول آرزو آخرت بھلا دیتی ہے ، اور یہ دنیا (غیر محسوس طریقے سے) چلی جا رہی ہے جبکہ آخرت (اسی طرح) چلی آ رہی ہے ، اور دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں ، تم دنیا کے طلبگار نہ بنو ، عمل کرتے رہو ، کیونکہ آج تم دارِ عمل میں ہو اور کوئی حساب نہیں ، اور کل دارِ آخرت میں ہو گے اور کوئی عمل نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5215

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ارْتَحَلَتِ الدُّنْيَا مُدْبِرَةً وَارْتَحَلَتِ الْآخِرَةُ مُقْبِلَةً وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ وَلَا حِسَابَ وَغَدًا حِسَابٌ وَلَا عَمَلَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
علی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : دنیا گزر رہی ہے جبکہ آخرت آ رہی ہے ، اور دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں ، تم آخرت کے طلبگار بنو اور دنیا کے طلبگار نہ بنو کیونکہ آج عمل (کا وقت) ہے اور حساب نہیں جبکہ کل حساب ہو گا اور عمل نہیں ہو گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5216

وَعَنْ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ أَلا وَإِن الآحرة أَجَلٌ صَادِقٌ وَيَقْضِي فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ أَلَا وَإِنَّ الْخَيْرَ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا وَإِنَّ الشَّرَّ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي النَّارِ أَلَا فَاعْمَلُوا وَأَنْتُمْ مِنَ اللَّهِ عَلَى حَذَرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مَعْرُوضُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شرا يره» . للشَّافِعِيّ
عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک روز خطبہ ارشاد فرمایا تو آپ ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا :’’ سن لو ! دنیا ایک حاضر مال ہے ، نیک بھی اس سے کھاتا ہے اور فاجر بھی ، سن لو ! آخرت ایک اٹل حقیقت ہے ، اس وقت قادر مطلق بادشاہ (نیک و فاجر کے درمیان) فیصلہ کرے گا ، سن لو ! خیر مکمل طور پر جنت میں ہے اور سن لو ! شر مکمل طور پر جہنم میں ہے ، اور سن لو ! عمل کرتے رہو ، تم اللہ کی طرف سے (وقوع شر کے خوف سے) ڈرتے رہو ، اور جان لو کہ تمہیں تمہارے اعمال پر پیش کیا جائے گا ، جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔‘‘ امام شافعی نے اسے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الشافعی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5217

وَعَنْ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ وَإِنَّ الْآخِرَةَ وَعْدٌ صَادِقٌ يَحْكُمُ فِيهَا مَلِكٌ عَادِلٌ قَادِرٌ يُحِقُّ فِيهَا الْحَقَّ وَيُبْطِلُ الْبَاطِلَ كُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا فَإِنَّ كل أم يتبعهَا وَلَدهَا»
شداد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگو ! بے شک دنیا حاضر مال ہے ، ہر نیک و فاجر اس سے کھاتا ہے ، آخرت اٹل حقیقت اور سچا وعدہ ہے ، عادل قادر بادشاہ اس وقت فیصلہ فرمائے گا ، وہ اس میں حق کو ثابت کر دے گا اور باطل کو ناپید کر دے گا ، آخرت کے طلبگار بنو ، دنیا کے طلبگار نہ بنو ، بے شک ہر بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5218

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِلَّا وَبِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ الْخَلَائِقَ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى «رَوَاهُمَا أَبُو نُعَيْمٍ فِي» الْحِلْية
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں کناروں پر دو فرشتے آواز دیتے ہیں ، وہ جنوں اور انسانوں کے سوا ساری مخلوق کو (اپنی آواز) سناتے ہیں : لوگو ! اپنے رب کی طرف آؤ ، جو (مال) تھوڑا اور کافی ہو وہ اس (مال) سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور (اللہ کی یاد سے) غافل کر دے ۔‘‘ دونوں احادیث کو ابونعیم نے الحلیہ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5219

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ قَالَ: إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: مَا قَدَّمَ؟ وَقَالَ بَنُو آدَمَ: مَا خَلَّفَ؟ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الْإِيمَان
ابوہریرہ ؓ مرفوع روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب فوت ہونے والا فوت ہوتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں : اس نے (اعمال میں سے) آگے کیا بھیجا ہے ؟ اور انسان کہتے ہیں ، اس نے (مال میں سے) پیچھے کیا چھوڑا ہے ؟‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5220

وَعَنْ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ لُقْمَانَ قَالَ لِابْنِهِ: «يَا بُنَيَّ إِنَّ النَّاسَ قَدْ تَطَاوَلَ عَلَيْهِمْ مَا يُوعَدُونَ وَهُمْ إِلَى الْآخِرَةِ سرَاعًا يذهبون وَإنَّك قداستدبرت الدُّنْيَا مُنْذُ كُنْتَ وَاسْتَقْبَلْتَ الْآخِرَةَ وَإِنَّ دَارًا تسيرإليها أقربُ إِليك من دارٍ تخرج مِنْهَا» . رَوَاهُ رزين
امام مالک ؒ سے روایت ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا :’’ بیٹے ! بے شک لوگوں سے جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ان پر دراز ہو چلا ہے ، اور وہ آخرت کی طرف تیز چلے جا رہے ہیں ، اور جب سے تو دنیا میں آیا ہے اس وقت سے تو اسے (آہستہ آہستہ) پیچھے چھوڑ رہا ہے اور آخرت کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے ، بے شک وہ گھر جس کی طرف تو محو سفر ہے ، وہ تیرے اس گھر سے ، جہاں سے تو روانہ ہوا ہے ، زیادہ قریب ہے ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5221

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كُلُّ مَخمومُ الْقلب صَدُوق اللِّسَان» . قَالُوا: صدزق اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ؟ قَالَ: «هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا ، کون سا آدمی سب سے بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر صاف دل ، راست گو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، ہم راست گو کے متعلق تو جانتے ہیں ، صاف دل سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ صاف و پاک جس پر کوئی گناہ ہے نہ کوئی ظلم اور نہ ہی کوئی کینہ و حسد ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5222

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا: حِفْظُ أَمَانَةٍ وَصِدْقُ حَدِيثٍ وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ «. رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الْإِيمَان
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار چیزیں ایسی ہیں جب وہ تم میں ہوں تو پھر اگر تمہیں دنیا نہ بھی ملے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں ، حفظ امانت ، صدق کلام ، حسن اخلاق اور (حرام) کھانے سے پرہیز کرنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5223

وَعَنْ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ الْحَكِيمِ: مَا بَلَغَ بِكَ مَا ترى؟ يَعْنِي الْفَضْلَ قَالَ: صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي. رَوَاهُ فِي «الْمُوَطَّأِ»
امام مالک سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حدیث پہنچی ہے کہ لقمان حکیم سے پوچھا گیا ، جس مقام پر ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اس مقام پر آپ کو کون سی باتوں نے پہنچایا ؟ انہوں نے فرمایا : راست گوئی ، امانت کی ادائیگی اور فضول باتوں چیز کو چھوڑ دینا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5224

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِيء الْأَعْمَال فتجيء الصَّلَاة قتقول: يارب أَنَا الصَّلَاةُ. فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ. فَتَجِيءُ الصَّدَقَة فَتَقول: يارب أَنَا الصَّدَقَةُ. فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ثُمَّ يَجِيء الصّيام فَيَقُول: يارب أَنَا الصِّيَامُ. فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ. ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ. ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنْتَ السَّلَامُ وَأَنَا الْإِسْلَامُ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ: (وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَة من الحاسرين)
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اعمال (اللہ کے حضور سفارش کرنے کے لیے) آئیں گے ، نماز آئے گی ، اور عرض کرے گی ، رب جی ! میں نماز ہوں ، وہ فرمائے گا : تو خیر پر ہے ، صدقہ آئے گا ، وہ عرض کرے گا ، رب جی ! میں صدقہ ہوں ، وہ فرمائے گا : تو خیر پر ہے ، پھر روزہ آئے گا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں روزہ ہوں ، وہ فرمائے گا : تو خیر پر ہے ، پھر اسی طرح اعمال آتے جائیں گے ، اللہ تعالیٰ فرماتا جائے گا : تو خیر پر ہے ، پھر اسلام آئے گا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو خیر پر ہے ، آج میں تیری وجہ سے مؤاخذہ کروں گا اور تیری وجہ سے عطا کروں گا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا :’’ جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5225

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ طَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ حوِّليه فإِني إِذا رَأَيْته ذكرت الدُّنْيَا
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہمارا ایک پردہ تھا جس میں پرندوں کی تصویریں تھیں (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! اسے بدل ڈالو ، کیونکہ جب میں اسے دیکھتا ہوں تو میں دنیا یاد کرتا ہوں (مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے) ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5226

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَحل إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ. فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْذِرُ مِنْهُ غَدًا وَأَجْمِعِ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاس»
ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، مجھے مختصر سی وصیت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تو نماز پڑھے تو ایسے پڑھ جیسے الوداعی نماز ہو ، ایسی بات نہ کر جس کی وجہ سے کل معذرت کرنی پڑے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مکمل طور پر ناامید اور لاتعلق ہو جا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5227

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا وَقَبْرِي فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِيَ الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا» رَوَى الْأَحَادِيث الْأَرْبَعَة أَحْمد
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے یمن کی طرف مبعوث فرمایا تو رسول اللہ ﷺ اسے وصیت کرنے کے لیے اس کے ساتھ باہر تشریف لائے اس وقت معاذ ؓ سوار تھے ، جبکہ رسول اللہ ﷺ اس کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے ، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ معاذ ممکن ہے کہ تم اس سال کے بعد مجھ سے ملاقات نہ کر سکو ، شاید کہ تم میری مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو ۔‘‘ معاذ ؓ رسول اللہ ﷺ کی جدائی کی وجہ سے گھبرا کر رونے لگے ، پھر آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف رخ پھیر کر فرمایا :’’ متقی لوگ میری قرابت و شفاعت کے زیادہ حق دار ہیں وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں ۔‘‘ چاروں احادیث امام احمد نے روایت کی ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5228

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ النُّورَ إِذَا دَخَلَ الصَّدْرَ انْفَسَحَ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِتِلْكَ مِنْ عِلْمٍ يُعْرَفُ بِهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ التَّجَافِي مِنْ دَارِ الْغُرُورِ وَالْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قبل نُزُوله»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ جسے ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نور جب سینے میں داخل ہو جاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس کے ذریعے اس کا پتہ چل سکے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، دھوکے کے گھر (دنیا) سے دوری ، ہمیشہ کے گھر (آخرت) کی طرف رجوع اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5229

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْعَبْدَ يُعْطِي زُهْدًا فِي الدُّنْيَا وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ يلقى الْحِكْمَة» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
ابوہریرہ اور ابوخلاد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم بندے کو دیکھو کہ اسے دنیا سے بے رغبتی عطا کی گئی ہے اور وہ کم گو ہے تو اس کا قرب حاصل کرو کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہے ۔‘‘ دونوں روایتیں امام بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5230

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْعَبْدَ يُعْطِي زُهْدًا فِي الدُّنْيَا وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ يلقى الْحِكْمَة» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
ابوہریرہ اور ابوخلاد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم بندے کو دیکھو کہ اسے دنیا سے بے رغبتی عطا کی گئی ہے اور وہ کم گو ہے تو اس کا قرب حاصل کرو کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہے ۔‘‘ دونوں روایتیں امام بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5231

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بہت سے پراگندہ بالوں والے جنہیں دروازوں سے دھکیلا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لے تو اللہ اسے پوری فرما دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5232

وَعَن مُصعب بن سعدٍ قَالَ: رَأَى سَعْدٌ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ؟» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں ، کہ سعد ؓ نے خیال کیا کہ اسے اپنے سے کم درجہ لوگوں پر (سخاوت کرنے میں) فضیلت و برتری حاصل ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ ہی سے تمہاری مدد کی جاتی ہے اور انہی کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5233

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينَ وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخلهَا النِّسَاء» . مُتَّفق عَلَيْهِ
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں (معراج کی رات) جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر داخل ہونے والے مساکین تھے ، جبکہ صاحب ثروت روک لیے گئے تھے ، اور آگ والوں (یعنی کافروں) کے لیے جہنم کا حکم دے دیا گیا تھا ، اور میں باب جہنم پر کھڑا ہوا اور دیکھا کہ اس میں جانے والوں کی اکثریت عورتوں کی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5234

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ. وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت فقرا کی تھی ، اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو میں نے دیکھا کہ وہاں اکثریت عورتوں کی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5235

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مہاجر فقرا ، روز قیامت مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5236

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ: هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ. قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مر على رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا ينْكح. وإِن شفع أَن لَا يُشفَع. وإِن قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے فرمایا :’’ اس (شخص) کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟‘‘ اس نے کہا : معزز لوگوں میں سے ہے ، اللہ کی قسم ! یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کی شادی کر دی جائے ، اور اگر کہیں سفارش کرے تو وہ قبول کی جائے ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ خاموش رہے ، پھر ایک آدمی گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے ، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کی شادی نہ کی جائے اور اگر کہیں سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (تنہا) شخص اس شخص جیسے لوگوں سے بھری زمین سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5237

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا شَبِعَ آل مُحَمَّد من خبر الشَّعِيرِ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . مُتَّفق عَلَيْهِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، آل محمد (ﷺ) نے دو دن متواتر جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5238

وَعَن سعيد المَقْبُري عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
سعید مقبری ؒ ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ان کے سامنے بھنی ہوئی بکری تھی ، انہوں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا : نبی ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ نے پیٹ بھر کر جو کی روٹی نہیں کھائی ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5239

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ وَإِنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعُ نِسْوَةٍ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ جو کی روٹی اور رنگت بدلی ہوئی چربی لے کر نبی ﷺ کی طرف گئے جبکہ نبی ﷺ کی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے پاس گروی تھی ، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جَو لیے تھے ، اور میں (راوی) نے انسؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : آل محمد (ﷺ) کے ہاں شام کے وقت نہ ایک صاع گندم ہوتی تھی اور نہ ایک صاع کوئی اور اناج ہوتا تھا جبکہ آپ ﷺ کی نو ازواج مطہرات تھیں ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5240

وَعَن عمر قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ. فَقَالَ: «أَوَ فِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخطاب؟ أُولئكَ قوم عجلت لَهُم طيبتاتهم فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ؟» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ نے کوئی بستر وغیرہ نہیں بچھایا ہوا تھا ، اور اس چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر تھے ، اور آپ نے چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی ، جس میں کھجور کے درخت کے پتے بھرے ہوئے تھے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کے حضور دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے ، کیونکہ فارسیوں اور رومیوں پر بہت نوازشات ہیں ، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن خطاب ! کیا تم ابھی تک اسی مقام پر ہو ؟ یہ (کفار) وہ لوگ ہیں کہ انہیں ان کی لذتیں اس دنیا کی زندگی میں جلد عطا کر دی گئی ہیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ کیا تم خوش نہیں کہ ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5241

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ إِمَّا إِزَارٌ وَإِمَّا كِسَاءٌ قَدْ رُبِطُوا فِي أَعْنَاقِهِمْ فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَرَاهِيَةَ أَن ترى عَوْرَته . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میری ستر اصحاب صفہ سے ملاقات ہوئی ہے ، ان میں سے کسی ایک آدمی پر بھی بڑی چادر نہیں تھی ، ان کے پاس یا تو ایک ایک تہبند تھا یا ایک چادر تھی ، انہوں نے اس کے کنارے کو گردنوں کے ساتھ باندھ رکھا تھا ، ان میں سے کچھ چادریں ایسی تھیں جو نصف پنڈلیوں تک پہنچتی تھیں کچھ کی ٹخنوں تک پہنچتی تھیں ، اور وہ اسے اپنے ہاتھ کے ساتھ اکٹھا کرتا تھا کہ کہیں اس کا ستر نہ کھل جائے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5242

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى من هُوَ قوقكم فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُم»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مال اور صورت و جمال میں اپنے سے بہتر شخص کو دیکھے تو وہ اپنے سے کم تر شخص کو دیکھ لے ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ (دنیوی امور میں) اپنے سے کم تر شخص کو دیکھو اور اپنے سے بہتر شخص کو نہ دیکھو ، کیونکہ یہ زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی ان نعمتوں کو حقیر نہ جانو جو اس نے تم پر انعام کی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5243

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ نِصْفِ يَوْمٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ فقرا مال داروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے جو کہ آدھا دن ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5244

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ فَإِنَّ اللَّهَ يُقَرِّبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! مجھے مسکین زندہ رکھنا ، مسکین ہی فوت کرنا اور مجھے مساکین کے گروہ میں جمع فرمانا ۔‘‘ عائشہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیونکہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے ، عائشہ ! کسی مسکین کو خالی ہاتھ نہ موڑنا خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہو ، عائشہ ! مساکین سے محبت کرنا ، انہیں قریب رکھنا چنانچہ روز قیامت اللہ تجھے (اپنے) قریب کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5245

وروى ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى قَوْلِهِ «زمرة الْمَسَاكِين»
اور ابن ماجہ نے ابو سعید ؓ سے ’’مساکین کے گروہ میں اٹھا‘‘ تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5246

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ابْغُونِي فِي ضُعَفَائِكُمْ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ - أَوْ تُنْصَرُونَ - بِضُعَفَائِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابودرداء ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اپنے ضعیفوں میں تلاش کرو ، تم اپنے ان کمزوروں ہی کی وجہ سے رزق دیے جاتے یا مدد کیے جاتے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5247

وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بن أسيد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ بِصَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»
امیہ بن خالد بن عبداللہ بن اسید ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ مہاجر فقرا کی دعاؤں کے ذریعے فتح طلب کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5248

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَغْبِطَنَّ فَاجِرًا بِنِعْمَةٍ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهِ إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ» . يَعْنِي النَّارَ. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی فاجر شخص کو نعمتوں میں دیکھ کر اس پر رشک نہ کرنا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس کی موت کے بعد اس کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے ، اس کے لیے اللہ کے ہاں ایک مہلک چیز ہے جو مرے گی نہیں ۔‘‘ یعنی : جہنم ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5249

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُهُ وَإِذَا فَارَقَ الدُّنْيَا فَارَقَ السجنَ والسنةَ» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور قحط ہے ، جب وہ دنیا سے جدا ہوتا ہے تو وہ قید خانے اور قحط سے جدا ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5250

وَعَن قَتَادَة بن النُّعْمَان أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذا أحب الله عبداحماه الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ کسی بندے کو پسند فرماتا ہے تو اسے دنیا (کے مال و منصب) سے بچا لیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے بچاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5251

وَعَن مَحْمُود بن لبيد أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ: يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقلة المَال أقل لِلْحسابِ . رَوَاهُ أَحْمد
محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے ، انسان موت کو ناپسند کرتا ہے ، حالانکہ موت مومنوں کے لیے فتنے سے بہتر ہے ، اور وہ قلت مال کو ناپسند کرتا ہے جبکہ قلت مال کا حساب کم ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5252

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ. قَالَ: «انْظُرْ مَا تَقُولُ» . فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: «إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا لَلْفَقْرُ أسرعُ إِلى من يحبُّني من السَّيْل إِلَى مُنْتَهَاهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، اس نے تین مرتبہ کہا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم (اپنے دعویٰ میں) سچے ہو تو پھر فقر و فاقہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈھال تیار رکھو کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے تو اس کی طرف فقر سیلاب کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5253

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ قَالَ: وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: حِينَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَارِبًا مِنْ مَكَّةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ إِنَّمَا كَانَ مَعَ بِلَالٍ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَحْمِلُ تحتَ إبطه
انس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اللہ کی راہ میں جتنا ڈرایا گیا ہے اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا ، اللہ کی راہ میں جتنی مجھے اذیت دی گئی ہے اتنی کسی کو اذیت نہیں دی گئی ، مجھ پر تیس دن رات بھی گزرے ہیں کہ میرے اور بلال ؓ کے لیے ایسی کوئی چیز نہیں تھی جسے کوئی جاندار کھاتا ہے ، البتہ اتنی (قلیل) چیز تھی جسے بلال ؓ کی بغل چھپا لیتی تھی ۔‘‘ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب نبی ﷺ مکہ سے بھاگ نکلے تھے تو بلال ؓ آپ کے ساتھ تھے ، اور بلال ؓ کے پاس بس اتنا سا کھانا تھا جو وہ اپنی بغل کے نیچے رکھتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5254

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ فَرَفَعْنَا عَنْ بُطُونِنَا عَنْ حَجَرٍ حَجَرٍ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَطْنِهِ عَن حجرين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: حَدِيث غَرِيب
طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور ہم نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر ایک پتھر بندھا ہوا دکھایا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے دکھائے ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5255

وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّهُ أَصَابَهُمْ جُوعٌ فَأَعْطَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً تَمْرَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہیں بھوک لگی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک ایک کھجور عطا فرمائی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5256

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شاكراً: مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا. وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ: «أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ» فِي بَابٍ بَعْدَ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو خصلتیں جس شخص میں ہوں اللہ اسے شاکر صابر لکھ دیتا ہے ، جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے اور پھر اس کی اقتدا کرتا ہے ، اور دنیا کے معاملے میں وہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھتا ہے اور اللہ نے جو اس کو اس پر فضیلت عطا کی ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے ، تو اللہ اسے شکر گزار صبر کرنے والا لکھ دیتا ہے ، اور جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے برتر کو دیکھتا ہے اور جو چیز اسے نہیں ملی اس پر افسوس کرتا ہے تو اللہ اسے شاکر و صابر نہیں لکھتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔ اور ابوسعید سے مروی حدیث :’’ مہاجرین کی فقیر جماعت خوش ہو جاؤ ‘‘ فضائل القرآن کے باب کے بعد ذکر کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5257

عَن أبي عبد الرَّحْمَن الحُبُليِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ: أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ. قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا. قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ. قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ. فَقَالُوا: يَا أَبَا مُحَمَّد إناوالله مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ لَا نَفَقَةَ وَلَا دَابَّةَ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا» . قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئا . رَوَاهُ مُسلم
ابو عبد الرحمن حبلی بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے سنا ، ایک آدمی نے ان سے سوال پوچھا : کیا ہم مہاجر فقرا میں سے نہیں ؟ عبداللہ ؓ نے اسے فرمایا : کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم رات بسر کرتے ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : کیا تیرے رہنے کے لیے گھر ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : تم تو مال داروں میں سے ہو ، اس نے کہا : میرے پاس تو ایک خادم بھی ہے ، انہوں نے فرمایا : تم تو بادشاہ ہو ، عبد الرحمن نے کہا ، تین آدمی عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آئے ، میں اس وقت ان کے پاس تھا ، انہوں نے کہا : ابو محمد ! اللہ کی قسم ! ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ، کوئی خرچہ ہے نہ سواری اور نہ ہی ساز و سامان ، انہوں نے انہیں فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ اگر تم کچھ چاہو تو تم ہمارے پاس آنا ، اللہ نے تمہارے لیے جو میسر فرمایا وہ ہم تمہیں عطا کریں گے ، اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ بادشاہ سے ذکر کریں گے ؟ اور اگر تم چاہو تو صبر کرو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مہاجر فقرا روز قیامت مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہم صبر کرتے ہیں اور ہم کوئی چیز نہیں مانگیں گے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5258

وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَلْقَةٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ قُعُودٌ إِذْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ إِلَيْهِمْ فَقُمْتُ إِلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُبْشِرْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ بِمَا يَسُرُّ وُجُوهَهُمْ فَإِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا» قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَلْوَانَهُمْ أَسْفَرَتْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ أَو مِنْهُم. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا جبکہ فقرا مہاجرین کا بھی ایک حلقہ لگا ہوا تھا ۔ جب نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ ان کے حلقے میں شامل ہو گئے ، میں بھی اٹھ کر ان کی طرف چلا گیا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ فقرا مہاجرین کو اس بات کی بشارت دی جائے جس سے ان کے چہرے خوش ہو جائیں ، کیونکہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے چمکنے لگے ، اور عبداللہ بن عمرو ؓ نے بیان کیا ، حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ میں ان کے ساتھ ہوتا یا ان میں سے ہوتا ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔