MISHKAT

Search Result (218)

27)

27) قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5521

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ» قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ. قَالُوا: أَرْبَعُونَ شَهْرًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ. قَالُوا: أَرْبَعُونَ سَنَةً؟ قَالَ: أَبَيْتُ. «ثُمَّ يَنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءٌ فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ» قَالَ: «وَلَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ لَا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يركب»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو مرتبہ صور پھونکے جانے کا درمیانی وقفہ چالیس ہو گا ۔‘‘ انہوں نے کہا : ابوہریرہ ! چالیس دن ؟ انہوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، انہوں نے پوچھا : چالیس ماہ ؟ انہوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا ، انہوں نے کہا : چالیس سال ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا ۔‘‘ پھر اللہ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح سبزیاں اُگ آتی ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ انسان کی ایک ہڈی کے سوا باقی سارا جسم گل سڑ جائے گا ، وہ ریڑھ کی ہڈی کا آخری سرا ہے ، اور روز قیامت تمام مخلوق اسی سے دوبارہ بنائی جائے گی ۔‘‘ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ انسان کو مٹی کھا جائے گی ، البتہ ریڑھ کی ہڈی کا آخری سرا باقی رہ جائے گا ، اسی سے وہ پیدا کیا گیا اور اسی سے دوبارہ بنایا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5522

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت اللہ زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5523

وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: قا ل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ - وَفِي رِوَايَة: يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْأُخْرَى - ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أينَ الجبَّارونَ أينَ المتكبِّرونَ؟ . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ لے گا ، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لے گا ، پھر فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، جابر و متکبر کہاں ہیں ؟ پھر وہ زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ، ایک دوسری روایت میں ہے :’’ ان کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا ، پھر فرمائے گا ، میں بادشاہ ہوں ، جابر و متکبر کہاں ہیں ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5524

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ وَسَائِرَ الْخَلْقِ علىأصبع ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا اللَّهُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ. ثُمَّ قَرَأَ: (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يشركُونَ) مُتَّفق عَلَيْهِ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک یہودی عالم نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا : محمد ! روزِ قیامت اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا ، زمینوں کو ایک انگلی پر ، پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر ، پانی و مٹی کو ایک انگلی پر ، اور باقی ساری مخلوق کو ایک انگلی پر روک لے گا ، پھر انہیں بلائے گا اور فرمائے گا ، میں بادشاہ ہوں ، میں اللہ ہوں ، رسول اللہ ﷺ اس بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس دیے ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا ، اور روزِ قیامت تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ، پاک ہے وہ ذات اور بلند ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5525

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: (يَوْمَ تُبَدَّلُ الأرضُ غيرَ الأَرْض والسَّماواتُ) فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «عَلَى الصِّرَاطِ» . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ اس روز زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا ۔‘‘ کے متعلق دریافت کیا کہ اس روز لوگ کہاں ہوں گے ؟ فرمایا :’’ پل پر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5526

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت سورج اور چاند کو لپیٹ دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5527

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدِ الْتَقَمَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ ونِعمَ الْوَكِيل . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں جبکہ صور (پھونکنے) والے نے اس (صور) کو اپنے منہ کے ساتھ لگا رکھا ہے ، اپنے کان اور اپنی پیشانی کو جھکا رکھا ہے اور وہ انتظار کر رہا ہے کہ اسے پھونک مارنے کا کب حکم ملتا ہے ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو : ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5528

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
عبداللہ بن عمرو ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ صور ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5529

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى (فإِذا نُقر فِي النَّاقور) : الصّور قَالَ: و (الرجفة) : النَّفْخَةُ الْأُولَى وَ (الرَّادِفَةُ) : الثَّانِيَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَة بَاب
ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان (فَإِذَا نُقِرَ فِیْ النَّاقُوْرِ) کی تفسیر میں فرمایا : (الرَّاجِفَۃُ) سے پہلی بار صور پھونکا جانا جبکہ (الرَّادِفَۃُ) سے دوسری بار صور پھونکا جانا مراد ہے ۔ امام بخاری ؒ نے اسے ترجمۃ الباب میں روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری (کتاب الرقاق باب ۴۳ قبل ح ۶۵۱۷ تعلیقا) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5530

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبُ الصُّورِ وَقَالَ: «عَن يَمِينه جِبْرِيل عَن يسَاره مِيكَائِيل»
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے صور والے (اسرافیل ؑ) کا ذکر کیا اور فرمایا :’’ اس کے دائیں جبرائیل ؑ اور اس کے بائیں میکائیل ؑ ہوں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ رزین (لم اجدہ)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5531

وَعَن أبي رزين الْعقيلِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُعِيدُ الله الْخلق؟ مَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: «أَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي قَوْمِكَ جَدْبًا ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَتِلْكَ آيَةُ اللَّهِ فِي خلقه (كَذَلِك يحيي اللَّهُ الْمَوْتَى) رَوَاهُمَا رزين
ابو رزین عقیلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ مخلوق کو دوبارہ کیسے پیدا فرمائے گا ۔ اور اس کی مخلوق میں کون سی نشانی (موجود) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم کبھی اپنی قوم کی خشک و سخت وادی سے گزرے ہو ؟ پھر تم وہاں سے گزرتے ہو تو وہ سرسبز و شاداب لہلہا رہی ہوتی ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اللہ کی اس کی مخلوق میں نشانی ہے ، اللہ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا ۔‘‘ دونوں احادیث رزین نے نقل کی ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5532

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لأحدٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں کو روزِ قیامت سفید سرخی مائل زمین پر جمع کیا جائے گا ، وہ (زمین) میدے کی روٹی کی طرح ہو گی اس میں کسی کے لیے کوئی نشان نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5533

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَتَكَفَّأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السّفر نُزُلاً لِأَهْلِ الْجَنَّةِ» . فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ. فَقَالَ: بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَا أُخبرُك بِنُزُلِ أهل الجنةِ يومَ القيامةِ؟ قَالَ: «بَلَى» . قَالَ: تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَدَامِهِمْ؟ بَالَامٌ وَالنُّونُ. قَالُوا: وَمَا هَذَا؟ قَالَ: ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ ألفا. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت زمین ایک روٹی کی طرح ہو گی جسے الجبار (اللہ تعالیٰ) اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے اس طرح الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں سے کوئی دوران سفر اپنی روٹی الٹ پلٹ کرتا ہے ۔‘‘ اتنے میں ایک یہودی آیا اور اس نے کہا : ابو القاسم ! رحمن آپ پر برکت نازل فرمائے ، کیا میں آپ کو روزِ قیامت اہل جنت کی میزبانی کے متعلق نہ بتاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ضرور بتاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : زمین ایک روٹی کی طرح ہو گی جس طرح نبی ﷺ نے فرمایا ، پھر نبی ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور ہنسنے لگے حتی کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ، پھر اس (یہودی) نے کہا : کیا میں آپ کو ان کے سالن کے متعلق نہ بتاؤں ؟ (اس نے خود ہی بتایا) بالام اور نون ، صحابہ کرام ؓ نے کہا : یہ کیا چیز ہے ؟ اس نے کہا : بیل اور مچھلی ، ان دونوں کی کلیجی کے ساتھ ، گوشت کا ٹکڑا جو کہ علیحدہ لٹک رہا ہوتا ہے ، اس کے ساتھ ستر ہزار افراد کھائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5534

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ: رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ. تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ باتو وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ يمسوا . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ تین فرقوں میں جمع کیے جائیں گے ، رغبت کرنے اور ڈرنے والے ایک اونٹ پر دو (سوار) ہوں گے ، ایک اونٹ پر تین ہوں گے ، ایک اونٹ پر چار ہوں گے اور ایک اونٹ پر دس ہوں گے ، جبکہ باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی ، جب وہ قیلولہ کریں گے تو وہ ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ، جب وہ رات گزاریں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی ، جہاں وہ صبح کریں گے وہ صبح کرے گی اور جہاں وہ شام کریں گے وہ (شام کے وقت) ان کے ساتھ شام کرے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5535

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» ثُمَّ قَرَأَ: (كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فاعلين) وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَنْ يَزَالُوا مرتدين على أَعْقَابهم مذْ فَارَقْتهمْ. فَأَقُول كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دمت فيهم) إِلى قَوْله (الْعَزِيز الْحَكِيم) مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بے ختنہ اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جیسا کہ ہم نے پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ ہم ایسے ہی لوٹائیں جائیں گے ، یہ ہماری طرف سے ایک وعدہ ہے جسے ہم پورا کر کے رہیں گے ۔‘‘ اور روزِ قیامت سب سے پہلے ابراہیم ؑ کو لباس پہنایا جائے گا ، اور میرے اصحاب سے بعض کو جہنم میں لے جانے کے لیے پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا : یہ میرے اصحاب ہیں ، یہ میرے اصحاب ہیں ! تو وہ کہے گا : آپ کے بعد یہ لوگ اپنی ایڑھیوں کے بل پھر گئے تھے ، تو میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے عیسیٰ ؑ نے کہا تھا :’’ جب تک میں ان میں تھا تو میں ان پر نگران تھا ..... العزیز الحکیم ۔‘‘ تک ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5536

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ؟ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگ روزِ قیامت ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے ، وہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! وہ (قیامت کا) معاملہ اس سے بہت سنگین ہو گا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5537

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! کافر کو روز قیامت اس کے چہرے کے بل کیسے چلایا جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وہ ذات جس نے اسے دنیا میں پاؤں پر چلایا اس پر قادر نہیں کہ وہ روزِ قیامت اسے اس کے چہرے کے بل چلائے ؟‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5538

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ: لَا تَعْصِنِي؟ فَيَقُولُ لَهُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ. فَيَقُول إِبراهيم: يَا رب إِنَّك وَعَدتنِي أَلا تخزني يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ ثُمَّ يُقَالُ لِإِبْرَاهِيمَ: مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ فَيُؤْخَذُ بقوائمه فَيُلْقى فِي النَّار . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابراہیم ؑ روزِ قیامت اپنے والد آزر سے ملیں گے تو آزر کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہو گا ، ابراہیم ؑ اسے فرمائیں گے : کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میری مخالفت نہ کرو ، ان کا والد ان سے کہے گا : آج میں تمہاری مخالفت و نافرمانی نہیں کرتا ، ابراہیم ؑ عرض کریں گے : رب جی ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو روزِ قیامت مجھے رسوا نہیں کرے گا ؟ اس سے زیادہ رسوائی کیا ہے کہ میرا والد (تیری رحمت سے) سب سے زیادہ دور ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے ، پھر ابراہیم ؑ سے کہا جائے گا : تمہارے قدموں تلے کیا ہے ؟ وہ دیکھیں گے تو وہاں (آزر کی بجائے) ایک گھنے بالوں والا بجو ہو گا ، جو اپنی غلاظت کے ساتھ لت پت ہو گا ، اس کو اس کے پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5539

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے حتی کہ ان کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا ، اور وہ ان کے منہ تک ہوتا ہوا ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5540

وَعَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُمُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا» وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ. رَوَاهُ مُسلم
مقداد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ روزِ قیامت سورج مخلوق کے قریب ہو جائے گا حتی کہ وہ میل کی مسافت کے برابر ان کے قریب ہو گا ، اور لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں (ڈوبے) ہوں گے ، ان میں سے کسی کے ٹخنوں تک ہو گا ، کسی کے گھٹنوں تک ہو گا ، کسی کے ازار باندھنے کی جگہ تک اور بعض کے منہ تک ہو گا ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5541

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ. قَالَ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ. قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ (وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شديدٌ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: «أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلًا وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفٌ» ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرْنَا. فَقَالَ: «أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرْنَا فَقَالَ: «أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرْنَا قَالَ: «مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ كشعرة بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! وہ عرض کریں گے : حاضر ہوں ، تیار ہوں ، اور ساری خیر تیرے ہاتھوں میں ہے ۔ وہ فرمائے گا : جہنم جانے والوں کو نکال دو ، وہ عرض کریں گے ، جہنم جانے والے کتنے ہیں ؟ وہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ، اس وقت بچے بوڑھے ہو جائیں گے ، ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی ، اور تم لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو گے ، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے ، بلکہ اللہ کا عذاب شدید ہو گا ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے وہ ایک کون ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں بشارت ہو ، کیونکہ وہ ایک آدمی تم میں سے ہو گا جبکہ یاجوج ماجوج ہزار ہوں گے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ ایک چوتھائی جنتی تم ہو گے ۔‘‘ ہم نے (خوش ہو کر) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ تم جنت میں ایک تہائی ہو گے ۔‘‘ ہم نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ نصف جنتی تم ہو گے ۔‘‘ ہم نے اللہ اکبر کہا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم تمام لوگوں میں اتنے ہو گے جتنے سفید بیل کی جلد پر ایک سیاہ بال ، یا کسی سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5542

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہمارا رب (روزِ قیامت) اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر مومن مرد اور مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ ریز ہو جائیں گے ، صرف وہی باقی رہ جائے گا جو دنیا میں ریا اور شہرت کی خاطر سجدہ کیا کرتا تھا ، وہ سجدہ کرنا چاہے گا لیکن اس کی کمر تختہ بن جائے گی (اور وہ سجدہ کے لیے جھک نہیں سکے گی) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5543

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عندَ الله جَناحَ بعوضة» . وَقَالَ: اقرؤوا (فَلَا نُقيمُ لَهُم يومَ القيامةِ وَزْناً) مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت ایک موٹا تازہ شخص آئے گا ، اللہ کے ہاں وہ مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہو گا ۔‘‘ اور فرمایا :’’ یہ آیت پڑھو : روزِ قیامت ہم ان کا کوئی وزن نہیں کریں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5544

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: (يَوْمَئِذٍ تُحدِّثُ أخبارَها) قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقول: عمِلَ عَليَّ كَذَا وَكَذَا يومَ كَذَا وَكَذَا . قَالَ: «فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جس روز وہ (زمین) اپنی خبریں بتا دے گی ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور ہر عورت کے متعلق اس کے تمام اعمال کے متعلق گواہی دے گی جو اس نے اس کی پشت پر کیے ہوں گے ، وہ کہے گی : اس نے فلاں فلاں دن مجھ پر فلاں فلاں کام کیا تھا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس کی خبریں ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5545

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ» . قَالُوا: وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يكونَ نزع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بھی فوت ہوتا ہے تو وہ حسرت و افسوس کرتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس کی حسرت و افسوس کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ نیکوکار تھا تو وہ افسوس کرتا ہے کہ اس نے زیادہ نیکیاں کیوں نہیں کیں ، اور اگر وہ گناہ گار تھا تو وہ افسوس کرتا ہے کہ اس نے گناہ کیوں نہ چھوڑے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5546

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً وَصِنْفًا رُكْبَانًا وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: «إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت لوگوں کو تین اقسام میں جمع کیا جائے گا ، ایک قسم پیدل چلنے والوں کی ہو گی ، ایک سواروں کی اور ایک گروہ اپنے چہروں کے بل چل رہا ہو گا ۔‘‘ عرض کیا گیا اللہ کے رسول ! وہ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس ذات نے انہیں ان کے قدموں پر چلایا وہ اس پر قادر ہے کہ وہ انہیں چہروں کے بل چلا دے ، سنو ! وہ (کفار) ہر اونچی جگہ اور کانٹے (ہر تکلیف دہ چیز) سے اپنے چہروں کے ذریعے اپنا بچاؤ کریں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5547

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فليَقرأْ: (إِذا الشَّمسُ كُوِّرَتْ) و (إِذا السَّماءُ انفطرَتْ) و (إِذا السَّماءُ انشقَّتْ) رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص روزِ قیامت کا آنکھوں دیکھا منظر دیکھنا پسند کرتا ہو تو وہ سورۃ التکویر ، الانفطار اور سورۃ الانشقاق کی تلاوت کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5548

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي: أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ: فَوْجًا رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ وفوجا تسحبنهم الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ وَفَوْجًا يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ وَيُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ فَلَا يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، الصادق المصدوق ﷺ نے مجھے حدیث بیان کی کہ ’’ لوگوں کو تین گروہوں میں جمع کیا جائے گا ، ایک گروہ کے لوگ سواریوں پر ہوں گے ، کھاتے پیتے اور خوش حال ہوں گے ، ایک گروہ ایسا ہو گا کہ فرشتے انہیں ان کے چہروں کے بل گھسیٹ رہے ہوں گے ، اور وہ انہیں (جہنم کی) آگ میں جمع کریں گے ، اور ایک گروہ ہو گا کہ وہ چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے ، اور اللہ سواریوں پر کوئی آفت بھیجے گا تو کوئی سواری باقی نہیں رہے گی ، حتی کہ آدمی کا باغ ہو گا وہ اسے سواری کے بدلے میں دے گا لیکن وہ اس پر قادر نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5549

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ» . قلتُ: أوَ ليسَ يقولُ اللَّهُ: (فسوْفَ يُحاسبُ حسابا يَسِيرا) فَقَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ الْعَرْضُ وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ فِي الْحساب يهلكُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت جس کسی سے حساب لیا گیا وہ مارا گیا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا :’’ (جس کسی کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا) اس سے آسان حساب لیا جائے گا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو صرف پیش کرنا ہو گا ، لیکن جس کی حساب میں جانچ پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5550

وَعَن عديِّ بن حاتمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا مِنْكُم أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ وَلَا حِجَابٌ يَحْجُبُهُ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَة» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا رب کلام فرمائے گا ، اس کے اور اس (بندے) کے درمیان کوئی ترجمان ہو گا نہ کوئی حجاب ہو گا جو اسے چھپا سکے ، اپنے دائیں دیکھے گا تو وہ اپنے اعمال ہی دیکھے گا جو اس نے آگے بھیجے تھے ، وہ اپنے بائیں دیکھے گا تو وہ آگے بھیجے ہوئے اپنے اعمال ہی دیکھے گا ، وہ اپنے آگے چہرے کے سامنے دیکھے گا تو اسے (جہنم) کی آگ ہی نظر آئے گی ، تم (جہنم کی) آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5551

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِن الله يدني الْمُؤمن فَيَضَع على كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْب كَذَا؟ فَيَقُول: نعم يَا رب حَتَّى قَرَّرَهُ ذنُوبه وَرَأى نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ. قَالَ: سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ على رؤوسِ الْخَلَائِقِ: (هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لعنةُ اللَّهِ على الظالمينَ) مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ مومن کو قریب کر لے گا ، اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا کر فرمائے گا : کیا تم فلاں گناہ پہچانتے ہو ؟ کیا تم کو فلاں گناہ یاد ہے ؟ وہ عرض کرے گا ، رب جی ! جی ہاں ، حتی کہ جب وہ اسے اس کے گناہوں کا اعتراف و اقرار کرا لے گا تو وہ شخص اپنے دل میں سوچے گا کہ وہ تو مارا گیا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا اور آج میں تیرے گناہ معاف کرتا ہوں ، اسے اس کی نیکیوں کی کتاب (اعمال نامہ) دے دی جائے گی ، البتہ کفار اور منافقین تو انہیں ساری مخلوق کے سامنے بلایا جائے گا اور کہا جائے گا :’’ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا ، سن لو ! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5552

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ: هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ رَوَاهُ مُسلم
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ ہر مسلمان کو ایک یہودی یا ایک عیسائی دے گا اور فرمائے گا : اس کے بدلے میں (جہنم کی) آگ سے تیری آزادی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5553

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُجَاءُ بِنُوحٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ فَتُسْأَلُ أُمَّتُهُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا جَاءَنَا مِنْ نَذِيرٍ. فَيُقَالُ: مَنْ شُهُودُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فيجاء بكم فتشهدون على أنَّه قد بلَّغَ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدا) رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت نوح ؑ کو لایا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا : کیا آپ نے (اللہ تعالیٰ کے احکامات و تعلیمات) پہنچا دیے تھے ؟ وہ کہیں گے : جی ہاں ، میرے پروردگار ! ان کی امت سے پوچھا جائے گا : کیا انہوں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچا دیے تھے ؟ وہ کہیں گے : ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے (آگاہ کرنے) والا آیا ہی نہیں ۔ ان سے کہا جائے گا : آپ کا گواہ کون ہے ؟ وہ کہیں گے : محمد (ﷺ) اور ان کی اُمت ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر تمہیں لایا جائے گا ، تو تم گواہی دو گے کہ انہوں نے پہنچا دیا تھا ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ہم نے اسی طرح تمہیں امت وسط بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول اللہ تم پر گواہ ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5554

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ . قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ: يَقُولُ: بَلَى . قَالَ: فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي . قَالَ: فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا . قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ: انْطِقِي . قَالَ: «فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ» . قَالَ: فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا فعنكنَّ كنتُ أُناضلُ . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ ہنس دیے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے ہنس رہا ہوں ؟‘‘ انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا : بندے کے اپنے رب سے مخاطب ہونے سے ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! کیا آپ مجھے ظلم سے نہیں بچائیں گے ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ (رب تعالیٰ) فرمائے گا : کیوں نہیں ، ضرور ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرے گا : میں اپنے خلاف صرف اپنے نفس ہی کی گواہی قبول کروں گا ، فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :’’ آج تیرا نفس ہی تیرے خلاف گواہی دینے کے لیے کافی ہے ۔ اور لکھنے والے معزز فرشتے بھی گواہی کے لیے کافی ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی ، اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا ، کلام کرو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اس کے اعمال کے متعلق بولیں گے ، پھر اس (بندے) کے اور اس کی زبان کے درمیان سے پابندی اٹھا لی جائے گی ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ (اپنی زبان سے بول کر) کہے گا : تمہارے لیے دوری ہو اور ہلاکت ہو ، میں تو تمہاری ہی طرف سے جھگڑا تھا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5555

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبنَا يَوْم الْقِيَامَة؟ قَالَ: «فَهَل تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رؤيةالقمر لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا» . قَالَ: فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ: أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ بَلَى قَالَ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ لَا فَيَقُولُ: فَإِنِّي قَدْ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مثل ذَلِك فَيَقُول يارب آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ ويثني بِخَير مااستطاع فَيَقُول: هَهُنَا إِذا. ثمَّ يُقَال الْآن تبْعَث شَاهِدًا عَلَيْكَ وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ وَذَلِكَ يسخطُ اللَّهُ عَلَيْهِ رَوَاهُ مُسلم وذُكر حَدِيث أبي: «يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ» فِي «بَابِ التَّوَكُّلِ» بِرِوَايَة ابْن عَبَّاس
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم روزِ قیامت اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم ، دوپہر کے وقت جبکہ مطلع ابر آلود نہ ہو ، سورج دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم ، چودھویں رات جبکہ مطلع ابر آلود بھی نہ ہو ، چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم اپنے رب کے دیدار میں بس اتنی تکلیف محسوس کرو گے ، جس طرح تم ان دونوں (سورج اور چاند) میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ بندے سے ملاقات کرے گا تو وہ فرمائے گا : اے فلاں ! کیا میں نے تمہیں عزت نہیں بخشی تھی ؟ کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا ؟ کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی ؟ کیا میں نے گھوڑے اور اونٹ تیرے لیے مسخر نہیں کیے تھے ؟ کیا میں نے تجھے (تیری قوم پر) سردار نہیں بنایا تھا ؟ اور تو ان سے چوتھا حصہ وصول کرتا تھا ؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ رب تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو جانتا تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرنے والا ہے ؟ وہ کہے گا : نہیں ، پھر رب تعالیٰ فرمائے گا : میں نے (آج) تجھے بھلا دیا جس طرح تم نے مجھے (دنیا میں) بھلا رکھا تھا ، پھر رب تعالیٰ دوسرے سے ملاقات کرے گا ، اور اسی (پہلے) کی مثل ذکر کیا ، پھر وہ تیسرے سے ملاقات کرے گا تو وہ اس سے بھی اسی کی مثل کہے گا : وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں آپ پر ، آپ کی کتاب پر اور آپ کے رسولوں پر ایمان لایا ، میں نے نماز پڑھی ، روزہ رکھا ، صدقہ کیا ، اور وہ جس قدر ہو سکا اپنی تعریف کرے گا ، رب تعالیٰ فرمائے گا : یہیں ٹھہرو ، پھر کہا جائے گا : ہم ابھی تجھ پر گواہ پیش کرتے ہیں ، وہ اپنے دل میں غور و فکر کرے گا ، وہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا ، اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی ، اور اس کی ران سے کہا جائے گا ، بولو ، چنانچہ اس کی ران ، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے مطابق کلام کریں گی ، اور یہ اس لیے ہو گا تا کہ اللہ تعالیٰ اس کے نفس کی طرف سے اس کا عذر زائل کر دے ، اور یہ منافق شخص ہو گا ، اور یہ وہ ہو گا جس پر اللہ ناراض ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث ((یدخل من امتی الجنۃ)) بروایت ابن عباس ؓ ، باب التوکل میں ذکر کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5556

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت سے ستر ہزار افراد حساب و عذاب کے بغیر جنت میں لے جائے گا ۔ اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے ۔ اور مزید یہ کہ میرے رب کی طرف سے تین چلو ہوں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5557

وَعَن الحسنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ: فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ وَأَمَّا الْعَرْضَةُ الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ لَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أبي هُرَيْرَة
حسن بصری ؒ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت لوگ تین بار (اللہ کے حضور) پیش کیے جائیں گے ، پہلی دو مرتبہ کی پیشی میں جھگڑا اور معذرت ہو گی اور تیسری پیشی کے وقت ہاتھوں کی طرف اعمال نامے اڑیں گے ، چنانچہ کوئی انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑنے والا ہو گا اور کوئی بائیں میں ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث اس وجہ سے صحیح نہیں کہ حسن بصری ؒ نے ابوہریرہ ؓ سے نہیں سنا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5558

وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى
اور بعض راویوں نے اسے حسن بصری ؒ کے واسطے سے ابوموسی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5559

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ سيخلِّصُ رجلا من أُمّتي على رُؤُوس الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلَ مَدِّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الحافظون؟ فَيَقُول: لَا يارب فَيَقُول: أَفَلَك عذر؟ قَالَ لَا يارب فَيَقُولُ بَلَى. إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ فَتُخْرَجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ احْضُرْ وَزْنَكَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ الله شَيْء . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت اللہ میری امت کے ایک آدمی کو ساری مخلوق کے سامنے لائے گا اور اس کے ننانوے رجسٹر کھولے گا ، اور ہر رجسٹر کی لمبائی حد نظر تک ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو (کہ تم نے نہ کی ہو) ؟ یا میرے لکھنے والوں نے ، حفاظت کرنے والوں نے تم پر کوئی ظلم کیا ہو ؟ وہ عرض کرے گا ، رب جی ! نہیں ، اللہ فرمائے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ؟ نہیں ، اللہ فرمائے گا : ہاں ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے ، کیونکہ آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہو گا ، ایک کارڈ نکالا جائے گا ، اس پر درج ہو گا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اللہ فرمائے گا : وزن پر حاضر ہو ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کارڈ کی کیا حیثیت ہے ؟ چنانچہ اللہ وہ فرمائے گا : آج تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ، فرمایا : ایک پلڑے میں وہ دفاتر رکھے جائیں گے اور دوسرے پلڑے میں وہ کارڈ رکھا جائے گا تو وہ دفاتر ہلکے پڑ جائیں گے اور وہ کارڈ بھاری ہو جائے گا ، اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5560

وَعَن عائشةَ أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» . قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا: عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ: أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَمْ يَثْقُلُ؟ وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ (هاؤم اقرؤوا كِتَابيه) حَتَّى يَعْلَمَ: أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أم فِي شِمَاله؟ أم مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ؟ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ: إِذَا وُضِعَ بينَ ظَهْري جَهَنَّم . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جہنم کی آگ کو یاد کیا تو وہ رو پڑیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میں نے جہنم کی آگ کو یاد کیا تو میں رو پڑی ، تو کیا روزِ قیامت آپ اپنے اہل خانہ کو یاد رکھیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! تین مقامات ہیں ، جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا ، میزان کے موقع پر حتی کہ وہ جان لے کہ آیا اس کی میزان ہلکی پڑتی ہے یا وہ بھاری ہوتی ہے ، نامہ اعمال کے وقت ، جب کہا جائے گا :’’ آؤ اپنا نامہ اعمال پڑھو ۔‘‘ حتی کہ وہ جان لے کہ اس کا نامۂ اعمال کہاں دیا جاتا ہے ، اس کے دائیں ہاتھ میں یا اس کی پشت کے پیچھے سے اس کے بائیں ہاتھ میں ملتا ہے ، اور پل صراط کے موقع پر جب اسے جہنم پر رکھا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5561

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يَكْذِبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي وَأَشْتِمُهُمْ وَأَضْرِبُهُمْ فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذَنْبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ فَتَنَحَّى الرَّجُلُ وَجَعَلَ يَهْتِفُ وَيَبْكِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَقْرَأُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: (وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ) فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلِهَؤُلَاءِ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ أُشْهِدُكَ أَنهم كلَّهم أحرارٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک آدمی آیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے کچھ غلام ہیں ، وہ میرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں ، خیانت کرتے ہیں ، اور میری نافرمانی کرتے ہیں ، جبکہ میں انہیں برا بھلا کہتا ہوں اور انہیں مارتا ہوں ، ان کی وجہ سے (اللہ تعالیٰ کے ہاں) میرا معاملہ کیسا ہو گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب روزِ قیامت ہو گا تو انہوں نے تجھ سے جو خیانت کی ہو گی ، تیری نافرمانی کی ہو گی اور تجھ سے جھوٹ بولا ہو گا ان کا اور تو نے جو انہیں سزا دی ہو گی اس کا حساب کیا جائے گا ، اگر تیری سزا ان کی غلطیوں کے مطابق ہوئی تو پھر معاملہ برابر رہے گا تیرے لیے کوئی ثواب و عقاب نہیں ہو گا اور اگر تیری سزا ان کی خطاؤں سے کم رہی تو پھر تجھے زائد حق حاصل ہو گا اور اگر تیری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو پھر اس کی زیادتی کا تجھ سے انہیں بدلہ دلایا جائے گا ۔‘‘ (یہ سن کر) وہ آدمی (مجلس سے) دور ہو کر چیخنے اور رونے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ کیا تم اللہ کا فرمان نہیں پڑھتے :’’ ہم روز ِ قیامت انصاف کا ترازو قائم کریں گے تو کسی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ، اگر (عمل و ظلم) رائی کے دانے کے برابر بھی ہو ، تو ہم اسے لے آئیں گے اور کافی ہیں ہم حساب کرنے والے ۔‘‘ چنانچہ اس آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اپنے لیے اور ان کے لیے ، ان کی علیحدگی سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا ، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ سارے آزاد ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5562

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: «أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابه فيتجاوز عَنْهُ إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَة هلك» . رَوَاهُ أَحْمد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کی کسی نماز میں یہ دعا ((اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا)) ’’ اے اللہ ! میرا آسان حساب لینا ۔‘‘ کرتے ہوئے سنا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! آسان حساب سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس سے مراد یہ ہے کہ) (اللہ تعالیٰ) اس کے نامہ اعمال پر نظر ڈال کر اس سے درگزر فرمائے گا ، کیونکہ عائشہ ! اس روز جس کے حساب کی جانچ پڑتال کی گئی تو وہ مارا گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5563

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَنْ يَقْوَى عَلَى الْقِيَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: (يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لربِّ الْعَالمين) ؟ فَقَالَ: «يُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ عَلَيْهِ كَالصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَة»
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو انہوں نے عرض کیا : مجھے بتائیں کہ اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے :’’ اس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے ۔‘‘ تو روزِ قیامت کھڑے ہونے کی کون طاقت رکھے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (قیامت کا دن) مومن پر ہلکا کر دیا جائے گا حتی کہ وہ اس پر فرض نماز کی طرح ہو گا ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی البعث و النشور ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5564

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ (يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ ألف سنةٍ) مَا طُولُ هَذَا الْيَوْمِ؟ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَهْوَنَ عَلَيْهِ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ «الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ»
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق دریافت کیا گیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی کہ اس دن کی طوالت کس قدر ہو گی (کیا لوگ اتنا لمبا قیام کر سکیں گے) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس (دن) کو مومن پر اس قدر آسان کر دیا جائے گا کہ وہ اس پر فرض نماز سے بھی ہلکا ہو جائے گا جو اس نے دنیا میں پڑھی تھی ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام بیہقی نے ’’ کتاب البعث و النشور ‘‘ میں نقل کیا ہے ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی البعث و النشور ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5565

وَعَن أَسمَاء بنت يزِيد عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُحْشَرُ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَة فينادي منادٍ فَيَقُول: أَيْنَ الَّذِينَ كَانَتْ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ؟ فَيَقُومُونَ وَهُمْ قَلِيلٌ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ثمَّ يُؤمر لسَائِر النَّاسِ إِلَى الْحِسَابِ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَان
اسماء بنت یزید ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت تمام لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کیا جائے گا تو اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : وہ تہجد گزار کہاں ہیں ؟ وہ کھڑے ہوں گے اور وہ قلیل ہوں گے ، اور وہ بغیر حساب جنت میں جائیں گے ، پھر باقی لوگوں کے حساب کے متعلق حکم فرمایا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5566

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الجنَّةِ إِذا أَنا بنهر حافتاه الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أذفر . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (معراج کی رات) میں جنت میں چل رہا تھا کہ اچانک میں ایک نہر پر پہنچا ، اس کے دونوں کناروں پر خول دار موتیوں کے گنبد تھے ، میں نے کہا : جبریل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ کوثر ہے ، جو آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمائی ہے ، میں نے دیکھا کہ اس کی مٹی اعلیٰ خوشبو والی کستوری تھی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5567

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ يَشْرَبُ مِنْهَا فَلَا يظمأ أبدا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے ، اس کے اطراف برابر ہیں ۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے ، اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ اچھی ہے اور اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں ، جس شخص نے اس سے پی لیا وہ پھر کبھی (میدان حشر میں) پیاسا نہ ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5568

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ لَكُمْ سِيمَاءُ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الْأُمَم تردون عليّ غرّاً من أثر الْوضُوء» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا حوض ایلہ اور عدن کے درمیانی مسافت سے زیادہ مسافت والا ہے ۔ وہ برف سے زیادہ سفید ، اور وہ شہد ملے دودھ سے زیادہ شیریں و لذیذ ہے ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، اور میں (دوسرے) لوگوں کو اس سے اس طرح دور ہٹاؤں گا جس طرح آدمی لوگوں کے اونٹوں کو اپنے حوض سے دور ہٹاتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ اس روز ہمیں پہچان لیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، تمہارے لیے ایک خاص نشان ہو گا جو کسی اور امت کے لیے نہیں ہو گا ۔ تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ وضو کے نشان کی وجہ سے تمہاری پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5569

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «تَرَى فِيهِ أَبَارِيقَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ»
اور صحیح مسلم کی انس ؓ سے مروی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ اس (حوض) میں سونے اور چاندی کے پیالے آسمان کے ستاروں کی طرح ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5570

وَفِي أُخْرَى لَهُ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ. فَقَالَ: أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ: أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ ورق
اور صحیح مسلم ہی کی ایک حدیث ، جو کہ ثوبان ؓ سے مروی ہے ، اس میں ہے : آپ سے اس کے مشروب کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، اس میں جنت سے دو پرنالے گرتے ہیں ، ان میں سے ایک سونے کا ہے جبکہ دوسرا چاندی کا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5571

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَأَقُولُ: إِنَّهُمْ مِنِّي. فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟ فَأَقُولُ: سُحْقًا سحقاً لمن غير بعدِي . مُتَّفق عَلَيْهِ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں حوض پر تم سے پہلے ہی موجود ہوں گا جو شخص میرے پاس سے گزرے گا ، وہ (اس سے) پیئے گا اور جس نے پی لیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی ، کچھ لوگ میرے پاس آئیں گے ، میں انہیں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے ، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی ، میں کہوں گا : یہ تو مجھ سے ہیں ، (میرے امتی ہیں) ، مجھے کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئے کام ایجاد کر لیے تھے ، میں کہوں گا : اس شخص کے لیے (مجھ سے) دوری ہو جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کر لی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5572

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهَمُّوا بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا. فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ. وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ: أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا - وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ: سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ - وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ. قَالَ: فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ كَذَبَهُنَّ - وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا. قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ النَّفْسَ - وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ قَالَ: فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا عبدا غفر اللَّهُ لَهُ ماتقدم مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ . قَالَ: فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي فَيَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ . قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي فأثني على رَبِّي بثناء تحميد يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ. فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا. فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ. قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَاره فيؤذي لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ . قَالَ: «فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بثناءوتحميد يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ قَدْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ» أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ثُمَّ تَلَا هَذِه الْآيَة (عَسى أَن يَبْعَثك الله مقَاما مَحْمُودًا) قَالَ: «وَهَذَا الْمقَام المحمود الَّذِي وعده نَبِيكُم» مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ مومنوں کو روزِ قیامت روک رکھا جائے گا حتی کہ اس وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے ، وہ کہیں گے : کاش کہ ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارشی تلاش کریں تا کہ وہ ہمیں ہماری اس جگہ سے نجات دے دے ، وہ آدم ؑ کے پاس آئیں گے ، اور کہیں گے : آپ آدم ، تمام انسانوں کے باپ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا ، آپ کو جنت میں بسایا ، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے ، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں حتی کہ وہ ہمیں ہماری اس جگہ سے نجات دے دے ، وہ کہیں گے : میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا ، وہ اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جس کا ارتکاب اس درخت کے کھانے سے ہوا تھا حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا ، بلکہ تم نوح ؑ کے پاس جاؤ ، وہ پہلے نبی ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف مبعوث فرمایا تھا ، وہ نوح ؑ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو وہ بھی یہی کہیں گے ، میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا ، اور وہ اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جو ان سے لاعلمی میں اپنے رب سے سوال کرنے سے سرزد ہوئی تھی ، بلکہ تم رحمن کے خلیل ابراہیم ؑ کے پاس جاؤ ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ ابراہیم ؑ کے پاس جائیں گے ، تو وہ بھی یہی کہیں گے : میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا ، اور وہ اپنے تین جھوٹوں کو یاد کریں گے جو انہوں نے بولے تھے ، بلکہ تم موسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تورات عطا کی ، ان سے کلام فرمایا اور سرغوشی کے لیے انہیں قریب کیا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ موسیٰ ؑ کے پاس جائیں گے تو وہ بھی کہیں گے میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا ، اور وہ اپنی اس غلطی کا تذکرہ کریں گے کہ انہوں نے اس (قبطی) آدمی کو قتل کیا تھا ، بلکہ تم اللہ کے بندے عیسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جو کہ اس کے رسول ہیں ، اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ عیسیٰ ؑ کے پاس جائیں گے تو وہ بھی یہی کہیں گے ، میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا ، بلکہ تم اللہ کے بندے محمد ﷺ کے پاس جاؤ ، اللہ نے جن کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے میں اپنے رب سے ، اس کے حضور آنے کی ، اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دے دی جائے گی ، جب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھوں گا تو سجدہ ریز ہو جاؤں گا ، پھر جتنی دیر اللہ چاہے گا وہ مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا ، پھر فرمائے گا : محمد ! اٹھو ، بات کرو ، تمہاری بات سنی جائے گی ، سفارش کرو ، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی ، آپ سوال کریں ، آپ کو عطا کیا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ چنانچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو میں اپنے رب کی وہ حمد و ثنا بیان کروں گا ، جو وہ مجھے سکھائے گا ، پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے تعداد کا تعین کر دیا جائے گا ، میں (دربار الٰہی سے) باہر آؤں گا اور میں انہیں جہنم کی آگ سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا ، پھر میں دوسری مرتبہ جاؤں گا ، اور اپنے رب کے حضور پیش ہونے کی اجازت طلب کروں گا ، مجھے اس کے پاس جانے کی اجازت مل جائے گی ، جب میں اسے دیکھوں گا تو سجدہ ریز ہو جاؤں گا ، جس قدر اللہ چاہے گا وہ مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا ، پھر فرمائے گا : محمد ﷺ سر اٹھاؤ ، بات کرو ، تمہیں سنا جائے گا ، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی ، سوال کرو آپ کو عطا کیا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ میں اپنا سر اٹھاؤں گا ، میں اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا ، پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے حد متعین کر دی جائے گی ، میں (بارگاہ رب العزت سے) باہر آؤں گا تو میں انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا ، پھر میں تیسری مرتبہ جاؤں گا ، اپنے رب کے پاس جانے کی اجازت طلب کروں گا تو مجھے اس کے پاس جانے کی اجازت مل جائے گی ، جب میں اسے دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا ، اللہ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں چھوڑ دے گا پھر فرمائے گا : محمد ! سر اٹھائیں ، بات کریں ، تمہیں سنا جائے گا ، سفارش کریں تمہاری سفارش قبول کی جائے گی ، اور سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا ، پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے حد کا تعین کر دیا جائے گا ، میں (بارگاہ رب العزت سے) باہر آؤں گا ، انہیں میں آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا ، حتی کہ جہنم میں صرف وہی رہ جائے گا جسے قرآن نے روک رکھا ہو گا ۔‘‘ یعنی جس پر دائمی جہنمی ہونا واجب ہو چکا ہو ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔‘‘ قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر مبعوث فرمائے ۔‘‘ فرمایا :’’ اور یہ وہ مقام محمود ہے جس کا اس نے تمہارے نبی سے وعدہ فرمایا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5573

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ فَيَأْتُونَ آدم فَيَقُولُونَ: اشفع لنا إِلَى رَبِّكَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ الله فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ فَيَأْتُونِّي فَأَقُولُ أَنَا لَهَا فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لَا تَحْضُرُنِي الْآنَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تشفع فَأَقُول يارب أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَنْطَلِقُ فأفعل ثمَّ أَعُود فأحمده بِتِلْكَ المحامدوأخر لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يارب أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ المحامدوأخر لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يارب أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ من خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فأفعل ثمَّ أَعُود الرَّابِعَة فأحمده بِتِلْكَ المحامدوأخر لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يارب ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ وَلَكِنْ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لَا إِلَه إِلَّا الله . مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ اضطراب کا شکار ہوں گے وہ مل کر آدم ؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے : اپنے رب سے سفارش کرو ، وہ کہیں گے : میں اس کا اہل نہیں ہوں ، لیکن تم ابراہیم ؑ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں ، وہ ابراہیم ؑ کے پاس جائیں گے ، وہ بھی کہیں گے ، میں اس کا اہل نہیں ہوں ، لیکن تم موسی ؑ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں ، وہ موسی ؑ کے پاس آئیں گے ، وہ بھی یہی کہیں گے : میں اس کا اہل نہیں ہوں ، لیکن تم عیسیٰ ؑ کے پاس جاؤ ، کیونکہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ، وہ عیسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ، وہ کہیں گے : میں اس کے اہل نہیں ہوں ، لیکن تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ ، چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا : میں اس کے لیے تیار ہوں ، میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دے دی جائے گی ، وہ مجھے حمد کے الفاظ الہام فرمائے گا تو میں ان (کلمات و الفاظ) کے ذریعے اس کی حمد بیان کروں گا ، ان کلمات کا اس وقت مجھے علم نہیں ، میں ان حمدیہ الفاظ کے ساتھ اس کی حمد بیان کروں گا اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا ، مجھے کہا جائے گا ، سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا اور سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی ، میں کہوں گا : رب جی ! میری امت ، میری امت ! چنانچہ کہا جائے گا جاؤ اور جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے (دوزخ سے) نکال لو ، میں جاؤں گا اور ایسے ہی کروں گا ، پھر میں دوبارہ (رب کے حضور) جاؤں گا اور انہی حمدیہ کلمات کے ذریعے اس کی حمد بیان کروں گا ، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو کہا جائے گا ، محمد ! اپنا سر اٹھاؤ ، بات کرو ، سنی جائے گی ، سوال کرو اسے پورا کیا جائے گا اور سفارش قبول کی جائے گی ، میں کہوں گا ، رب جی ! میری امت ، میری امت ! کہا جائے گا : جاؤ ! جس کے دل میں ذرہ یا رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے اسے (جہنم سے) نکال لو ، میں جاؤں گا اور ایسے ہی کروں گا ، پھر میں (تیسری مرتبہ) لوٹوں گا ، اور ان حمدیہ کلمات کے ذریعے اس کی حمد بیان کروں گا ، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا ، تو کہا جائے گا : محمد ! اپنا سر اٹھائیں ، بات کریں ، سنی جائے گی ، سوال کریں اسے پورا کیا جائے گا اور سفارش کریں اسے قبول کیا جائے گا ، میں کہوں گا : رب جی ! میری امت ، میری امت ! کہا جائے گا : جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی ادنی ترین ایمان ہے اسے بھی جہنم کی آگ سے نکال لو ، میں جاؤں گا اور ایسے ہی کروں گا ، پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا ، اور ان حمدیہ کلمات کے ذریعے اس کی حمد بیان کروں گا ، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو کہا جائے گا : محمد ! اپنا سر اٹھائیں ، بات کریں سنی جائے گی ، مانگیں عطا کیا جائے گا ، اور سفارش کریں تمہاری سفارش قبول کی جائے گی ، میں کہوں گا : رب جی ! مجھے اس شخص کے بارے میں اجازت دے دیں کہ جس نے ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کہا ہو اور میں اسے جہنم سے نکال لاؤں ، فرمایا : اس کا آپ کو حق حاصل نہیں ، لیکن میری عزت ، میرے جلال ، میری کبریائی اور میری عظمت کی قسم ! جس شخص نے ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کہا ہو گا میں اسے اس (جہنم) سے ضرور نکالوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5574

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصا من قلبه أونفسه رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت میری شفاعت کے لحاظ سے سب سے زیادہ سعادت مند شخص وہ ہو گا جس نے خلوص دل سے ((لا الہ الا اللہ)) ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ‘‘ پڑھا ہو گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5575

وَعَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ثُمَّ قَالَ: «أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ يَقُومَ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالمين وتدنو الشَّمْس فَيبلغ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ فَيَقُولُ النَّاس أَلا تنْظرُون من يشفع لكم إِلَى ربكُم؟ فَيَأْتُونَ آدَمَ» . وَذَكَرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ وَقَالَ: «فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي يارب أمتِي يارب فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَبْوَابِ» . ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا تو اس سے ایک دستی آپ کی خدمت میں پیش کی گئی ، جبکہ دستی آپ کو پسند تھی ، آپ ﷺ نے اپنے دانتوں سے ایک بار اسے نوچا ، پھر فرمایا :’’ روزِ قیامت مَیں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا ، اس دن تمام لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے ، سورج قریب ہو جائے گا ، اور لوگ غم و تکلیف کی انتہا کو پہنچ جائیں گے ، تمام لوگ کہیں گے ، کیا تمہیں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا ہے جو تمہارے رب کے ہاں تمہاری سفارش کرے ، چنانچہ وہ آدم ؑ کے پاس آئیں گے ، اور پھر آگے حدیث شفاعت بیان کی ، اور فرمایا :’’ میں جاؤں گا اور عرش کے نیچے پہنچوں گا تو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا ، پھر اللہ اپنی حمد و ثنا کے ایسے کلمات مجھے سکھائے گا جو اس نے مجھ سے پہلے کسی کو نہیں سکھائے ہوں گے ، پھر وہ فرمائے گا : محمد ! اپنا سر اٹھائیں ، سوال کریں ، آپ کا سوال پورا کیا جائے گا ، اور سفارش کریں تمہاری سفارش قبول کی جائے گی ، میں اپنا سر اٹھاؤں گا ، اور کہوں گا ، رب جی ! میری امت ، رب جی ! میری امت ، رب جی ! میری امت ، کہا جائے گا : محمد ! آپ اپنی امت کے ان افراد کو ، جن پر کوئی حساب نہیں ، ابواب جنت میں سے دائیں دروازے سے داخل کیجئے ، حالانکہ انہیں اس کے علاوہ دیگر دروازوں سے لوگوں کے ساتھ گزرنے کا بھی حق حاصل ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جنت کے دروازے کی دہلیز کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5576

وَعَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا» رَوَاهُ مُسلم
شفاعت سے متعلق حذیفہ ؓ سے مروی حدیث جو وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا :’’ امانت اور صلہ رحمی کو چھوڑا جائے گا تو وہ پل صراط کے دونوں کناروں پر کھڑی ہو جائیں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5577

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى فِي إِبْرَاهِيمَ: [رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مني] وَقَالَ عِيسَى: [إِن تُعَذبهُمْ فَإِنَّهُم عِبَادك] فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ «اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي» . وَبَكَى فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: «يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْكِيهِ؟» . فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ فَقَالَ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أمَّتك وَلَا نسوؤك . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سورۂ ابراہیم میں موجود اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :’’ رب جی ! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ، جس نے میری اتباع کی تو وہ مجھ سے ہے ۔‘‘ اور عیسیٰ ؑ نے فرمایا :’’ اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی :’’ اے اللہ ! میری امت ، میری امت !‘‘ اور آپ رونے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ جبریل ! محمد ﷺ کے پاس جاؤ ، اور تیرا رب زیادہ جانتا ہے ، ان سے پوچھو کہ انہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟‘‘ جبریل ؑ آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے تو آپ سے دریافت کیا ، رسول اللہ ﷺ نے جو کہا تھا وہی انہیں بتا دیا ، اللہ تعالیٰ نے جبریل ؑ سے فرمایا :’’ محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور کہو : ہم آپ کی امت کے متعلق آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو غمگین نہیں کریں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5578

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُنَاسًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟» قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: مَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يعبد غيرالله مِنَ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ: فَمَاذَا تَنْظُرُونَ؟ يَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَت تعبد. قَالُوا: ياربنا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا كُنَّا إِلَيْهِم وَلم نصاحبهم
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا روزِ قیامت ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیا دوپہر کے وقت ، جب مطلع ابر آلود نہ ہو تو سورج دیکھنے میں تم کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو ؟ اور کیا چودھویں رات جب مطلع ابر آلود نہ ہو تو تم چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسی طرح تم روزِ قیامت اللہ کو دیکھنے میں تکلیف محسوس نہیں کرو گے ، مگر جس قدر تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو ۔ جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : ہر امت اپنے معبود کے پیچھے چلی جائے ، اللہ کے علاوہ اصنام اور بتوں کی پوجا کرنے والے سارے کے سارے آگ میں گر جائیں گے حتی کہ جب صرف اللہ کی عبادت کرنے والے نیک اور فاجر قسم کے لوگ رہ جائیں گے تو رب العالمین ان کے پاس آئے گا ، اور پوچھے گا ، تم کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ ہر امت اپنے معبود کے پیچھے جا چکی ہے ، وہ عرض کریں گے : رب جی ! ہم نے دنیا میں ان سے علیحدگی اختیار کیے رکھی جبکہ ہم ان کے ضرورت مند تھے اور ہم ان کے ساتھ نہ رہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5579

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ فَيَقُولُونَ: هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ وَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ اتِّقَاءً وَرِيَاءً إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَى قَفَاهُ ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ كَطَرَفِ الْعَيْنِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَالطَّيْرِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ أحد مِنْكُم بأشدَّ مُناشدةً فِي الْحق - قد تبين لَكُمْ - مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ فِي النَّارِ يَقُولُونَ رَبَّنَا كَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا وَيُصَلُّونَ وَيَحُجُّونَ فَيُقَالُ لَهُمْ: أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَتُحَرَّمُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ. فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وجدْتُم فِي قلبه مِثْقَال دنيار مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيِّرًا فَيَقُولُ اللَّهُ شُفِّعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشُفِّعَ النَّبِيُّونَ وَشُفِّعَ الْمُؤْمِنُونَ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ قَدْ عَادُوا حُمَمًا فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهْرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ: نَهْرُ الْحَيَاةِ فَيَخْرُجُونَ كَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ كَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِمُ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَن أدخلهم الْجنَّة بِغَيْر عمل وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ فَيُقَالُ لَهُمْ لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمثله مَعَه . مُتَّفق عَلَيْهِ
اور ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے :’’ وہ کہیں گے جب تک ہمارا رب ہمارے پاس نہیں آتا تب تک ہماری یہی جگہ ہے ، جب ہمارا رب آ جائے گا ہم اسے پہچان لیں گے ۔‘‘ اور ابوسعید ؓ کی روایت میں ہے :’’ وہ فرمائے گا : کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جسے تم پہچانتے ہو ؟ وہ عرض کریں گے : جی ہاں ، وہ اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر وہ شخص جو اخلاص کے ساتھ سجدہ کرتا تھا اسے اللہ سجدے کی اجازت دے دے گا اور جو کسی خوف ، ریا کاری کی خاطر سجدہ کیا کرتا تھا اللہ اس کی کمر کو تختہ بنا دے گا ، جب وہ سجدہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو وہ اپنی گدی کے بل گر جائے گا ، اس کے بعد جہنم پر پل رکھا جائے گا اور سفارش کرنے کی اجازت مل جائے گی تمام (انبیا ؑ) کہیں گے : اے اللہ ! سلامتی فرمانا ، سلامتی فرمانا ، مومن (اپنے اپنے اعمال کے مطابق) کچھ آنکھ جھپکنے کی طرح ، کچھ ہوا کی رفتار کی طرح ، کچھ پرندے کی اڑان کی طرح ، کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح اور کچھ مختلف سواریوں کی رفتار کی طرح گزریں گے ، کوئی تو صحیح سلامت نجات پا جائیں گے اور کسی کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیا جائے گا ۔ حتی کہ مومن جہنم کی آگ سے نجات پا جائیں گے ، تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! حق لینے کی خاطر تم سے زیادہ شدید مطالبہ کرنے والا کوئی نہیں ہو گا ، جب انہیں روزِ قیامت اپنے بھائیوں کے حق کا پتہ چلے گا ، جو کہ جہنم کی آگ میں ہوں گے ، وہ کہیں گے ، ہمارے رب ! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے ، ہمارے ساتھ نمازیں پڑھا کرتے تھے اور وہ حج کیا کرتے تھے ، انہیں کہا جائے گا : جن کو تم پہچانتے ہو انہیں نکال لو ، ان کی صورتوں کو جہنم کی آگ پر حرام قرار دیا جائے گا ، وہ بہت سی مخلوق کو نکالیں گے ، پھر وہ کہیں گے ، ہمارے رب ! جن کے متعلق تو نے ہمیں حکم دیا تھا ان میں سے کوئی ایک بھی باقی نہیں رہا ، وہ فرمائے گا : دوبارہ جاؤ اور تم جس کے دل میں دینار کے برابر بھی خیر پاؤ ، اس کو نکال لاؤ ، وہ بہت ساری مخلوق کو نکال لائیں گے ، وہ پھر فرمائے گا : لوٹ جاؤ اور تم جس کے دل میں نصف دینار کے برابر بھی خیر پاؤ تو اس کو نکال لاؤ ، وہ بہت ساری مخلوق کو نکال لائیں گے ۔ وہ پھر فرمائے گا : لوٹ جاؤ اور تم جس کے دل میں ذرہ برابر خیر پاؤ ، اسے نکال لاؤ ، وہ بہت ساری مخلوق کو نکال لائیں گے ، پھر وہ عرض کریں گے : ہمارے رب ! ہم نے اس (جہنم) میں کسی اہل خیر کو نہیں چھوڑا ، (سب کو نکال لیا ہے) تب اللہ فرمائے گا : فرشتوں نے سفارش کی ، انبیا ؑ نے سفارش کی اور مومنوں نے سفارش کی صرف ارحم الراحمین ہی باقی رہ گیا ہے ، وہ جہنمیوں کی ایک مٹھی بھرے گا اور وہ اس سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہیں کیا ہو گا اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے ، وہ انہیں جنت کے دروازوں پر بہنے والی نہر میں ڈالے گا ، اسے نہر حیات کہا جائے گا ، وہ اس طرح نکلیں گے جس طرح دانہ سیلابی مٹی میں اگ آتا ہے ، وہ موتیوں کی طرح نکلیں گے ، ان کی گردنوں میں (علامت کے طور پر) ہار ہوں گے ، اہل جنت کہیں گے : یہ رحمن (اللہ تعالیٰ) کے آزاد کردہ ہیں ، اس نے انہیں بلا کسی عمل کے اور کسی نیکی کے جس کو انہوں نے آگے بھیجا ہو ، جنت میں داخل فرمایا ہے ، ان کے لیے کہا جائے گا : تمہارے لیے (جنت میں) وہ کچھ ہے جو تم نے (حد نظر تک) دیکھ لیا اور اس کے ساتھ اتنا اور ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5580

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيَخْرُجُونَ قَدِ امْتَحَشُوا وَعَادُوا حُمَمًا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے نکال لو ، انہیں نکال لیا جائے گا ، وہ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے ، انہیں نہر حیات میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اس سے اس طرح نمودار ہوں گے جس طرح سیلابی مٹی میں دانہ اگ آتا ہے ، کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ (دانہ شروع میں) زرد رنگ کا لپٹا ہوا پودا نکل آتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5581

وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ غَيْرَ كَشْفِ السَّاقِ وَقَالَ: يُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ الرُّسُلُ وَكَلَامُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ. وَفِي جهنمَ كلاليب مثلُ شوك السعدان وَلَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمر الْمَلَائِكَة أَن يخرجُوا من يَعْبُدُ اللَّهَ فَيُخْرِجُونَهُمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الجنَّةِ والنارِ وَهُوَ آخرُ أهلِ النارِ دُخولاً الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ فَيَقُولُ: يَا رب اصرف وَجْهي عَن النَّار فَإِنَّهُ قد قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا. فَيَقُولُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَفْعَلْ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَيَقُول: وَلَا وعزَّتكَ فيُعطي اللَّهَ مَا شاءَ اللَّهُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النارِ فإِذا أقبلَ بِهِ على الجنةِ وَرَأى بَهْجَتَهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الجنةِ فَيَقُول الله تبَارك وَتَعَالَى: الْيَسْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ. فَيَقُولُ: فَمَا عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتُ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ. فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَ ذَلِكَ فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا فَرَأَى زَهْرَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ فَسَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ فَإِذَا ضَحِكَ أَذِنَ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ. فَيَقُولُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: تَمَنَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا أَقْبَلَ يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذَلِكَ ومثلُه معَه وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذلكَ وعشرةُ أمثالِه . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم روزِ قیامت اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ انہوں نے ابوسعید ؓ سے مروی حدیث کا مفہوم بیان کیا ، البتہ پنڈلی کھولنے کا ذکر نہیں کیا ، اور فرمایا :’’ جہنم کے دونوں کناروں پر پل قائم کیا جائے گا ، تمام رسولوں سے پہلے میں اپنی امت کے ساتھ اس (پل) کو عبور کروں گا ، اس دن صرف رسول ہی کلام کریں گے اور اس دن رسولوں کا کلام یہی ہو گا : اے اللہ ! سلامتی عطا فرمانا ، اے اللہ سلامتی عطا فرمانا ، اور جہنم میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے ، اور ان (آنکڑوں) کے طول و عرض کو صرف اللہ ہی جانتا ہے ، وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے ، چنانچہ ان میں سے ایسے بھی ہوں گے جو ہلاک ہو جائیں گے ، اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوں گے جو کاٹ ڈالے جائیں گے پھر (گرنے سے) بچ جائیں گے ، حتی کہ جب اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور وہ جہنم سے نکالنے کا ارادہ فرمائے گا تو وہ جنہیں اس سے نکالنے کا ارادہ فرمائے گا وہ ایسے ہوں گے جو یہ گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ فرشتوں کو حکم فرمائے گا کہ اللہ کی عبادت کرنے والوں کو نکالیں ، وہ انہیں نکالیں گے ، اور وہ انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے ، اور اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشانات (کی جگہ) کو کھائے ، آگ انسان کے سجدوں کے نشانات کے سوا باقی تمام اعضاء کو کھا جائے گی ، اور وہ آگ سے نکال لیے جائیں گے درآنحالیکہ وہ جل چکے ہوں گے پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا اور وہ ایسے نمودار ہوں گے جس طرح سیلابی مٹی سے دانہ اگ آتا ہے ، جنت اور جہنم کے مابین ایک آدمی باقی رہ جائے گا ، اور جنت میں داخل ہونے والا وہ آخری جہنمی ہو گا ، اس کا چہرہ جہنم کی آگ کی طرف ہو گا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! میرا چہرہ جہنم سے دوسری طرف کر دے ، (کیونکہ) اس کی بدبو نے مجھے اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے اور اس کے شعلوں نے مجھے جلا دیا ہے ، رب تعالیٰ فرمائے گا : کیا ایسا تو نہیں کہ اگر میں نے یہ کر دیا تو تو اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز کا سوال کر دے ، وہ عرض کرے گا : تیری عزت کی قسم ! نہیں (کوئی اور سوال نہیں کروں گا) ، وہ جو اللہ چاہے گا ، اللہ کو عہد و میثاق دے گا تو اللہ اس کے چہرے کو آگ سے دوسری طرف پھیر دے گا ، اور جب وہ جنت کی طرف منہ کر لے گا اور وہ اس کی رونق دیکھے گا تو جس قدر اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے تو وہ اس قدر خاموش رہے گا ، پھر وہ عرض کرے گا : رب جی ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے ، اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو نے مجھ سے عہد و میثاق نہیں کیا تھا کہ تو اس سوال کے بعد کسی اور چیز کے متعلق سوال نہیں کرے گا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں تیری مخلوق کا سب سے زیادہ بد نصیب شخص نہ ہو جاؤں : چنانچہ وہ فرمائے گا : کیا ہو سکتا ہے کہ اگر میں تمہیں یہ عطا کر دوں تو تو اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کا مطالبہ کر دے ؟ وہ عرض کرے گا : تیری عزت کی قسم ! (ایسے) نہیں ، میں اس کے علاوہ کسی اور چیز کا تجھ سے مطالبہ نہیں کروں گا ، وہ اپنے رب کو ، جو اللہ تعالیٰ چاہے گا عہد و میثاق دے گا ، تو وہ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا ، اور جب وہ اس کے دروازے پر پہنچ جائے گا ، تو وہ اس کی تروتازگی ، اور اس میں جو رونق و سرور دیکھے گا تو جس قدر اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے تو وہ خاموش رہے گا ، پھر عرض کرے گا : رب جی ! مجھے جنت میں داخل فرما دے ، اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : ابن آدم ! تجھ پر افسوس ہے ، تو کتنا بڑا وعدہ خلاف ہے ! کیا تو نے عہد و میثاق نہیں دیا تھا کہ تو اس چیز کے علاوہ ، جو میں نے تمہیں عطا کر دی ، کوئی دوسری چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بد نصیب نہ بنا ، وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا حتی کہ اللہ اس کی وجہ سے ہنس دے گا ، جب وہ ہنس دے گا تو وہ اسے دخولِ جنت کی اجازت فرما دے گا ، اور فرمائے گا : تمنا کر ، وہ تمنا کرے گا حتی کہ جب اس کی تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو فلاں فلاں چیز کی تمنا کر ، اس کا رب اسے یاد دلائے گا ، حتی کہ جب یہ سب تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ فرمائے گا ، یہ (جو تو نے تمنا کی) تیرے لیے ہے اور اتنی ہی مزید اس کے ساتھ (تجھے عطا کی جاتی ہیں) ۔‘‘ اور ابوسعید ؓ کی روایت میں ہے :’’ اللہ فرمائے گا : یہ (جو تو نے تمنا کی) تیرے لیے ہے اور اس کی مثل دس گنا مزید (عطا کی جاتی ہیں) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5582

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَمْشِي مَرَّةً وَيَكْبُو مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النارُ مرّة فإِذا جاؤوها الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلْأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فيقولُ: أَي رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ مَا يصريني مِنْك؟ أيرضيك أَن أُعْطِيك الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا. قَالَ: أَيْ رَبِّ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَلا تسألونيّ ممَّ أضْحك؟ فَقَالُوا: مِم تضحك؟ فَقَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: من ضحك رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ وَلَكِنِّي على مَا أَشَاء قدير . رَوَاهُ مُسلم
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا آدمی وہ ہو گا جو ایک بار چلے گا اور ایک بار منہ کے بل گرے گا اور ایک بار آگ اسے جھلسے گی ، جب وہ اس (آگ) سے گزر جائے گا تو وہ اس کی طرف مڑ کر دیکھ کر کہے گا ، بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے بچا لیا اور اللہ نے مجھے وہ چیز عطا فرما دی جو اس نے اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمائی ، اسے ایک درخت دکھایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا : رب جی ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تا کہ میں اس کے سائے سے سایہ حاصل کر سکوں ، اور اس کے (پاس چشمے کے پانی سے) پانی پی سکوں ، اللہ فرمائے گا : ابن آدم ! شاید کہ میں وہ تجھے عطا کر دوں تو پھر تم اس کے علاوہ کسی اور چیز کا مطالبہ کرو گے ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! نہیں ، وہ اس سے معاہدہ کرے گا کہ وہ اس سے اس کے علاوہ کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا ، اور اس کا رب (سوال کرنے پر) اسے معذور سمجھے گا ، کیونکہ وہ ایسی چیزوں کا مشاہدہ کرے گا جنہیں دیکھ کر وہ صبر نہیں کر سکے گا ، وہ اس کو اس (درخت) کے قریب کر دے گا تو وہ اس کے سائے سے سایہ حاصل کرے گا اور اس کے (چشمے) سے پانی پیئے گا ، پھر اسے ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو پہلے سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہو گا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تا کہ میں اس کے (چشمے کے) پانی سے پانی پی سکوں اور اس کے سایہ سے سایہ حاصل کر سکوں ، اور میں اس کے علاوہ تجھ سے اور کوئی چیز نہیں مانگوں گا ، وہ فرمائے گا : ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس کے علاوہ مجھ سے کوئی اور چیز نہیں مانگے گا ، اور وہ فرمائے گا : ہو سکتا ہے کہ میں تجھے اس کے قریب کر دوں تو پھر تو مجھ سے اس کے علاوہ کوئی اور چیز مانگ لے ، وہ اس سے ، اس کے علاوہ کوئی اور چیز نہ مانگنے کا وعدہ کر لے گا ، جبکہ اس کا رب اسے (دوبارہ سوال کرنے پر) معذور سمجھے گا ، کیونکہ وہ ایسی نعمتوں کا مشاہدہ کرے گا جنہیں دیکھ کر اس کا پیمانہ صبر لبریز ہو جائے گا ، وہ اس کو اس کے قریب کر دے گا تو وہ اس کے سائے سے سایہ حاصل کرے گا ، اور اس کے (چشمے کے) پانی سے پانی پیئے گا ۔ پھر جنت کے دروازے پر اسے ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو سابقہ دونوں درختوں سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو گا ، یہ عرض کرے گا : رب جی ! مجھے اس (درخت) کے قریب کر دے تا کہ میں اس کے سائے سے سایہ حاصل کر سکوں اور اس کے (چشمے کے) پانی سے پانی پیوں ، پھر میں اس کے علاوہ تجھ سے کوئی سوال نہیں کروں گا ، وہ فرمائے گا : ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس کے علاوہ مجھ سے کوئی اور چیز نہیں مانگے گا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! بالکل ٹھیک ہے ، بس یہ پورا فرما دے ، میں اس کے علاوہ کوئی اور سوال نہیں کروں گا ، اس کا رب اسے معذور سمجھے گا ، پھر وہ ایسی نعمتوں کا مشاہدہ کرے گا جنہیں دیکھ کر وہ صبر نہیں کر سکے گا ، وہ اس کے قریب کر دے گا ، جب وہ اسے اس کے قریب کر دے گا تو وہ اہل جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا ، رب جی ! مجھے اس میں داخل فرما دے ، وہ فرمائے گا : ابن آدم ! کون سی چیز (چاہنے کے بعد) تو مجھ سے سوال کرنا ترک کرے گا ؟ کیا تو راضی ہو جائے گا کہ میں دنیا کے برابر اور اس کی مثل مزید تجھے عطا کر دوں ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! کیا آپ مجھ سے مذاق کرتے ہو جبکہ آپ رب العالمین ہو ؟‘‘ ابن مسعود ؓ ہنس دیے ، اور فرمایا : کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں کس وجہ سے ہنس رہا ہوں ؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی ہنسے تھے ، اس پر صحابہ ؓ نے عرض کیا تھا ، اللہ کے رسول ! آپ کس وجہ سے ہنس رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ رب العالمین کے ہنسنے کی وجہ سے جب اس نے کہا تھا ، کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے جبکہ تو رب العالمین ہے ؟ وہ فرمائے گا : میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا بلکہ میں جو چاہوں اس کے کرنے پر قادر ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5583

وَفِي رِوَايَة لَهُ عَن أبي سعيدٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ: وَيَذْكُرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ. قَالَ: فَيَقُولُ: مَا أَعْطَى أَحَدٌ مثلَ مَا أَعْطَيْت
اور صحیح مسلم ہی کی ابوسعید ؓ سے مروی حدیث اسی طرح ہے ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا :’’ وہ فرمائے گا : ابن آدم ! کون سی چیز تجھے مجھ سے (سوال کرنے سے) باز رکھے گی ؟‘‘ آخر حدیث تک ، اور اس میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اللہ اسے یاد کرائے گا ، فلاں چیز مانگو ، فلاں چیز مانگو ، حتی کہ جب اس کی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : وہ (جو تو نے مانگا) تیرے لیے ہے اور اس سے دس گنا مزید تیرے لیے ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا تو حورعین سے اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی ، تو وہ کہیں گی : ہر قسم کی حمد و شکر اللہ کے لیے ہے جس نے تجھے ہماری خاطر اور ہمیں تیری خاطر پیدا فرمایا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (بندہ) کہے گا : جو مجھے عطا کیا گیا ہے ویسا کسی اور کو عطا نہیں کیا گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5584

وَعَن أنس أَن النَّبِي الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا عُقُوبَةً ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِهِ وَرَحْمَتِهِ فَيُقَالُ لَهُمُ: الجهنميون . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کچھ لوگ ان گناہوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیے ہوں گے بطورِ سزا آگ انہیں جھلس دے گی ، پھر اللہ اپنے فضل و رحمت سے انہیں جنت میں داخل فرمائے گا ، انہیں جہنمی کہا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5585

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ أَقْوَامٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ: «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ»
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ محمد (ﷺ) کی شفاعت کے ذریعے کچھ لوگوں کو جہنم کی آگ سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا ، ان کا نام جہنمی رکھا جائے گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میری امت کے کچھ لوگ میری شفاعت کے ذریعے جہنم کی آگ سے نکالے جائیں گے ، ان کا نام جہنمی رکھا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5586

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا. فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ مِنِّي - أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي - وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَكَانَ يُقَالُ: ذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جہنمیوں میں سے سب سے آخر پر اس (جہنم) سے کون نکلے گا اور سب سے آخر پر جنت میں کون داخل ہو گا ، ایک آدمی سرین کے بل گھسٹ کر جہنم سے نکلے گا تو اللہ فرمائے گا : جا ، جنت میں داخل ہو جا ، وہ وہاں آئے گا تو اسے ایسے خیال آئے گا کہ وہ تو بھر چکی ہے ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں نے تو اسے بھرا ہوا پایا ہے ، اللہ فرمائے گا ، جا ، جنت میں داخل ہو جا ، تیرے لیے دنیا اور اس کی مثل دس گنا ہے ، وہ عرض کرے گا : کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے ، حالانکہ تو بادشاہ ہے ۔‘‘ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہنس دیے حتی کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ، کہا جاتا ہے کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5587

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارهَا فتعرض عَلَيْهِ صغَار ذنُوبه وفيقال: عملت يَوْم كَذَا وَكَذَا وَكَذَا وَكَذَا وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ. فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً. فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَهُنَا وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اچھی طرح جانتا ہوں جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا ، ایک آدمی کو روزِ قیامت پیش کیا جائے گا تو کہا جائے گا ، اس پر اس کے صغیرہ گناہ پیش کرو اور اس کے کبیرہ گناہ چھپا رکھو ، اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کیے جائیں گے تو کہا جائے گا : فلاں دن تو نے یہ ، یہ ،یہ اور یہ کیا اور فلاں دن تو نے یہ ، یہ ، یہ اور یہ کیا ، وہ عرض کرے گا : جی ہاں ! وہ انکار نہیں کر سکے گا ، اور وہ اپنے کبیرہ گناہوں سے ڈر رہا ہو گا کہ وہ اس پر پیش کیے جائیں گے ، اتنے میں اسے کہا جائے گا : ہر برائی کے بدلے تجھے نیکی عطا کی جاتی ہے ، تو وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں نے تو کچھ ایسے (کبیرہ) گناہ کیے تھے جنہیں میں یہاں دیکھ نہیں رہا ۔‘‘ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہنس دیے حتی کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5588

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ؟ لَقَدْ كنتُ أَرْجُو إِذا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا قَالَ: «فينجيه الله مِنْهَا» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (سب سے آخر پر) جہنم سے چار آدمیوں کو نکال کر اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا ، وہ پھر انہیں جہنم میں لے جانے کا حکم فرمائے گا ، ان میں سے ایک پھر مڑ مڑ کر دیکھے گا اور عرض کرے گا : رب جی ! میں تو امید کرتا تھا کہ جب تو نے مجھے وہاں سے نکال لیا تو پھر تو مجھے اس میں نہیں لوٹائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ اس کو اس (جہنم) سے نجات دے دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5589

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ لَهُ فِي الدُّنْيَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن جہنم سے خلاصی حاصل کر لیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے دنیا کے باہمی مظالم (حق تلفیوں) کا ایک دوسرے سے بدلہ دلایا جائے گا حتی کہ جب وہ صاف ستھرے کر دیے جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے ! ان میں سے ہر ایک جنت میں اپنے گھر کو ، دنیا میں اپنے گھر کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے جانتا ہو گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5590

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ لِيَزْدَادَ شُكْرًا وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ ليَكُون عَلَيْهِ حسرة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہر شخص کو اس کا جہنم کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر اس نے نافرمانی کی ہوتی (تو اس کا ٹھکانا وہ ہوتا) تا کہ وہ مزید شکر کرے ، اور (اسی طرح) جہنم میں داخل ہونے والے ہر شخص کا اس کو جنت کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا ، اگر اس نے اچھے عمل کیے ہوتے (تو اس کا ٹھکانا یہ ہوتا) تا کہ وہ اس کے لیے حسرت و افسوس کا باعث ہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5591

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ثُمَّ يُذْبَحَ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ. فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حزنهمْ . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت و جہنم کے درمیان کھڑا کر دیا جائے گا ، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا ، پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : جنت والو ! (اب) موت نام کی کوئی چیز نہیں ، جہنم والو ! (اب) موت کوئی نہیں ، جنتیوں کی فرحت میں ، جبکہ جہنمیوں کے حزن و ملال میں اضافہ ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5592

عَن ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَوْضِي مِنْ عَدَنٍ إِلَى عُمَّانَ الْبَلْقَاءِ مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَكْوَابُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ وُروداً فقراءُ المهاجرينَ الشُّعثُ رؤوساً الدُّنْسُ ثِيَابًا الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَلَا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ثوبان ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے حوض کا طول و عرض عدن اور بلقاء کے عمان کی درمیانی مسافت جتنا ہو گا ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ، اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ، جس نے اس سے ایک بار پی لیا تو اس کے بعد وہ پیاسا نہیں ہو گا ، وہاں سب سے پہلے فقرا مہاجرین کا ورود ہو گا ان کے سر کے بال بکھرے ہوں گے ، کپڑے میلے ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ناز و نعمت والی عورتوں سے نکاح کیا ہو گا نہ ان کے لیے دروازے کھولے جاتے تھے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5593

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْنَا منزلا فَقَالَ: «مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ» . قِيلَ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: سَبْعَمِائَةٍ أَوْ ثَمَانِمِائَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے تم ان کا لاکھواں حصہ ہو ۔‘‘ (زید بن ارقم ؓ سے) پوچھا گیا : اس روز تم کتنے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : سات سو یا آٹھ سو ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5594

وَعَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا وَإِنَّهُمْ لَيَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کے لیے ایک حوض ہے ، اور وہ اس بات پر باہم فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کے پاس زیادہ پینے والے آتے ہیں ، میں امید کرتا ہوں کہ ان سب میں سے میرے پاس آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5595

وَعَن أنس قا ل سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ: «أَنَا فَاعِلٌ» . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ؟ قَالَ اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ . قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ؟ قَالَ: «فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ» قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ؟ قَالَ: «فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخطىءُ هَذِه الثلاثَ المواطن» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وقا لهَذَا حَدِيث غَرِيب
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے درخواست کی ، روزِ قیامت وہ میری سفارش فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کر دوں گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! (سفارش کے لیے) میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سب سے پہلے مجھے پل صراط پر تلاش کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اگر میں پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ کروں (تو پھر) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر مجھے میزان کے پاس تلاش کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اگر میں میزان کے پاس آپ کو نہ پاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حوض کے پاس تلاش کرنا ، کیونکہ میں ان تین جگہوں کے علاوہ کہیں نہیں ہوں گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5596

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قا ل: قيل لَهُ مَا الْمقَام الْمَحْمُود؟ قا ل: ذَلِكَ يَوْمَ يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى كُرْسِيِّهِ فَيَئِطُّ كَمَا يئطُّ الرحلُ الْجَدِيد من تضايقه بِهِ وَهُوَ كَسَعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَيُجَاءُ بِكُمْ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَيَكُونُ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبراهيم يَقُول الله تَعَالَى: أُكسوا خليلي بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ مِنْ رِيَاطِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أُكْسَى عَلَى أَثَرِهِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ مقَاما يغبطني الْأَولونَ وَالْآخرُونَ . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابن مسعود ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ مقام محمود کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر نزول فرمائے گا تو وہ (کرسی) اپنی تنگی کی وجہ سے اس طرح چر چر کی آواز نکالے گی جس طرح نئی زین چر چر کی آواز نکالتی ہے ، حالانکہ وہ (کرسی) زمین و آسمان کے درمیان مسافت کی طرح وسیع ہے ۔ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور ختنوں کے بغیر لائے جاؤ گے ، سب سے پہلے ابراہیم ؑ کو لباس پہنایا جائے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے خلیل کو لباس پہناؤ ، آپ کو جنت کی چادروں میں سے دو سفید چادریں دی جائیں گی ، پھر ان کے بعد مجھے لباس پہنایا جائے گا ، پھر میں اللہ کے دائیں طرف ایک جگہ کھڑا ہو جاؤں گا ، تمام اگلے پچھلے مجھ پر رشک کریں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5597

وَعَن الْمُغيرَة بن شُعْبَة قا ل: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِعَارُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الصِّرَاطِ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت مومنوں کا پل صراط پر یہ شعار (نشان پہچان) ہو گا :’’ رب جی ! سلامتی عطا فرما ، سلامتی عطا فرما ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5598

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قا ل: «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میری شفاعت ، میری امت کے ان افراد کے لیے ہے جو کبیرہ گناہ کرتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5599

وَرَوَاهُ ابْن مَاجَه عَن جَابر
اور ابن ماجہ نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5600

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ وَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے رب کی طرف سے آنے والا ایک میرے پاس آیا تو اس نے مجھے اختیار دیا کہ آپ اپنی نصف امت جنت میں داخل کر لیں یا شفاعت کا حق لے لیں ، میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ، اور وہ اس شخص کے لیے ہے جو اس حالت میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5601

وَعَن عبدِ الله بن أبي الجَدعاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدارمي وَابْن مَاجَه
عبداللہ بن ابی جدعاء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت کے ایک آدمی (عثمان ؓ) کی سفارش پر قبیلہ بنو تمیم سے زیادہ افراد جنت میں جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5602

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْعُصْبَةِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلرَّجُلِ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے بعض ایک جماعت کی سفارش کریں گے ، ان میں سے بعض قبیلے کی ، ان میں سے بعض ایک خاندان کی اور ان میں سے کوئی کسی آدمی کی سفارش کرے گا حتی کہ (اس طرح سفارش کرتے کرتے) وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5603

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وعَدَني أَن يدْخل الجنةَ من أُمتي أربعمائةِ أَلْفٍ بِلَا حِسَابٍ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَهَكَذَا فَحَثَا بِكَفَّيْهِ وَجَمَعَهُمَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: وَهَكَذَا فَقَالَ عُمَرُ دَعْنَا يَا أبكر. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ كُلَّنَا الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَنْ يُدْخِلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ فَعَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ عُمَرُ» رَوَاهُ فِي شرح السّنة
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت سے چار لاکھ افراد کو بغیر حساب جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اضافہ فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور اس طرح ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بنایا ، ابوبکر ؓ نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہماری اس تعداد میں بھی اضافہ فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور اس طرح ۔ عمر ؓ نے فرمایا : ابوبکر ! ہمیں چھوڑ دو ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : اگر اللہ ہم سب کو جنت میں داخل فرما دے تو تمہارا کیا نقصان ہے ؟ عمر ؓ نے فرمایا : اگر اللہ عزوجل چاہے کہ وہ اپنی مخلوق کو ایک چلو کے ذریعے جنت میں داخل فرما دے تو وہ کر سکتا ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ عمر نے ٹھیک کہا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5604

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُصَفُّ أَهْلَ النَّارِ فَيَمُرُّ بِهِمُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي؟ أَنَا الَّذِي سَقَيْتُكَ شَرْبَةً. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنَا الَّذِي وَهَبْتُ لَكَ وَضُوءًا فَيَشْفَعُ لَهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنمیوں کی صف بنائی جائے گی تو جنت والوں میں سے آدمی ان کے پاس سے گزرے گا تو ان میں سے ایک آدمی کہے گا : اے فلاں ! کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ؟ میں وہی ہوں جس نے ایک مرتبہ تجھے پانی پلایا تھا ، اور ان میں سے کوئی کہے گا : میں وہی ہوں جس نے وضو کے لیے پانی دیا تھا ، وہ اس کے لیے سفارش کرے گا تو وہ اسے جنت میں (اپنے ساتھ) داخل کرائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5605

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ رَجُلَيْنِ مِمَّنْ دَخَلَ النَّارَ اشْتَدَّ صِيَاحُهُمَا فَقَالَ الرَّبُّ تَعَالَى: أَخْرِجُوهُمَا. فَقَالَ لَهُمَا: لِأَيِّ شَيْءٍ اشْتَدَّ صِيَاحُكُمَا؟ قَالَا: فَعَلْنَا ذَلِكَ لِتَرْحَمَنَا. قَالَ: فَإِنَّ رَحْمَتِي لَكُمَا أَنْ تَنْطَلِقَا فَتُلْقِيَا أَنْفُسَكُمَا حَيْثُ كُنْتُمَا مِنَ النَّارِ فَيُلْقِي أَحَدُهُمَا نَفْسَهُ فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ بَرْدًا وَسَلَامًا وَيَقُومُ الْآخَرُ فَلَا يُلْقِي نَفْسَهُ فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ تَعَالَى: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُلْقِيَ نَفْسَكَ كَمَا أَلْقَى صَاحِبُكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا بَعْدَ مَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا. فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ تَعَالَى: لَكَ رَجَاؤُكَ. فَيُدْخَلَانِ جَمِيعًا الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم میں جانے والوں میں سے دو آدمی بہت زور سے آہ و بکا کر رہے ہوں گے ، رب تعالیٰ فرمائے گا : ان دونوں کو نکالو ، وہ انہیں فرمائے گا : تم کس وجہ سے زور زور سے چیخ رہے ہو ؟ وہ عرض کریں گے ، ہم نے یہ اس لیے کیا ہے تا کہ آپ ہم پر رحم فرمائیں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تمہارے لیے میری رحمت یہی ہے کہ تم چلے جاؤ اور تم جہنم میں جہاں تھے اپنے آپ کو وہیں ڈال دو ، ان میں سے ایک اپنے آپ کو (جہنم میں) ڈال لے گا ، اللہ اس کو اس پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دے گا ، جبکہ دوسرا کھڑا رہے گا ، اور وہ اپنے آپ کو (جہنم میں) نہیں ڈالے گا ، رب تعالیٰ اس سے پوچھے گا : کس چیز نے تجھے اپنے آپ کو جہنم میں ڈالنے سے منع کیا جیسا کہ تیرے ساتھی نے (اپنے آپ کو) ڈال لیا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں امید کرتا ہوں کہ تو مجھے وہاں نہیں بھیجے گا جہاں سے تو نے مجھے نکال لیا تھا ، رب تعالیٰ اسے فرمائے گا : تمہارے لیے تمہاری امید کے مطابق عطا کر دیا گیا ، وہ دونوں اللہ کی رحمت سے اکٹھے ہی جنت میں داخل کیے جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5606

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثمَّ يصدون مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمام لوگ آگ (پل صراط) پر وارد ہوں گے ، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے پار ہوں گے ، ان میں سے سب سے پہلے بجلی چمکنے کی مانند گزر جائیں گے ، پھر ہوا کی مانند ، پھر تیز رفتار گھوڑے کی مانند ، پھر سواری پر سوار کی مانند ، پھر دوڑنے والے آدمی کی مانند اور پھر پیدل چلنے والے کی مانند (اس پل سے گزریں گے جو کہ جہنم پر نصب ہو گا) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5607

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضِي مَا بَيْنَ جَنْبَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ» . قَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ: هُمَا قَرْيَتَانِ بِالشَّامِ بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِ لَيَالٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: «فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے آگے میرا حوض ہے ، اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان ہے ۔‘‘ بعض راویوں نے کہا ہے : یہ دونوں (جرباء اور اذرح) شام کے دو گاؤں ہیں ۔ ان دونوں کے درمیان تین راتوں کی مسافت ہے ۔ ایک روایت میں ہے : اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں ، جو کوئی وہاں آئے گا اور اس سے پانی پی لے گا تو پھر اس کے بعد وہ کبھی پیاس محسوس نہیں کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5608

وَعَن حذيفةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ قَالَ: فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ اعْمَدُوا إِلَى مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ فَيَقُولُ عِيسَى: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَيَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ . قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ. ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ. حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا . وَقَالَ: «وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ تَأْخُذُ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ وَمُكَرْدَسٌ فِي النَّارِ» . وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعِينَ خَرِيفًا. رَوَاهُ مُسلم
حذیفہ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو مومن کھڑے ہوں گے حتی کہ ان کے لیے جنت قریب کر دی جائے گی ، وہ آدم ؑ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے : ہمارے ابا جان ! ہمارے لیے جنت کھلنے کی درخواست کریں ، وہ کہیں گے : تمہارے والد کی غلطی ہی نے تو تمہیں جنت سے نکلوایا تھا ، میں اس کے اہل نہیں ہوں ، تم میرے بیٹے اللہ کے خلیل ابراہیم ؑ کے پاس جاؤ ، فرمایا :’’ ابراہیم ؑ فرمائیں گے : میں بھی اس کے اہل نہیں ہوں میں تو بہت پہلے (دنیا میں) خلیل تھا ، تم موسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جس سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے ، وہ موسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ، تو وہ بھی کہیں گے ، میں اس کے اہل نہیں ہوں ، تم عیسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ، عیسیٰ ؑ بھی کہیں گے : میں اس کے اہل نہیں ہوں ، وہ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے ، وہ کھڑے ہوں گے ، انہیں اجازت دی جائے گی ، امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا ، وہ پل صراط کے دونوں طرف کھڑی ہو جائیں گی ، تم میں سے پہلا بجلی کی طرح گزر جائے گا َ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، بجلی کی طرح گزرنے کی کیا صورت ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے بجلی نہیں دیکھی ، وہ آنکھ جھپکنے میں گزرتی ہے اور واپس آ جاتی ہے ۔ پھر ہوا کے چلنے کی طرح ، پھر پرندے کی طرح اور تیز چلنے والے آدمیوں کی طرح ، ان کے اعمال انہیں لے کر چلیں گے ، اور تمہارے نبی ﷺ پل صراط پر کھڑے ہوں گے ، وہ کہہ رہے ہوں گے : رب جی ! سلامتی عطا فرما ، سلامتی عطا فرما : حتی کہ بندوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے ۔ یہاں تک کہ ایک ایسا آدمی آئے گا جو چلنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو گا ، بلکہ وہ سرین کے بل گھسٹ رہا ہو گا ۔‘‘ اور فرمایا :’’ پل صراط کے دونوں کناروں پر آنکڑے معلق ہوں گے ، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جس کے متعلق اسے حکم دیا جائے گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، کچھ لوگ مجروح ہوں گے ، نجات پانے والے ہوں گے ، اور کچھ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے ۔‘‘ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے ! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5609

وَعَن حذيفةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ قَالَ: فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ اعْمَدُوا إِلَى مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ فَيَقُولُ عِيسَى: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَيَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ . قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ. ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ. حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا . وَقَالَ: «وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ تَأْخُذُ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ وَمُكَرْدَسٌ فِي النَّارِ» . وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعِينَ خَرِيفًا. رَوَاهُ مُسلم
حذیفہ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو مومن کھڑے ہوں گے حتی کہ ان کے لیے جنت قریب کر دی جائے گی ، وہ آدم ؑ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے : ہمارے ابا جان ! ہمارے لیے جنت کھلنے کی درخواست کریں ، وہ کہیں گے : تمہارے والد کی غلطی ہی نے تو تمہیں جنت سے نکلوایا تھا ، میں اس کے اہل نہیں ہوں ، تم میرے بیٹے اللہ کے خلیل ابراہیم ؑ کے پاس جاؤ ، فرمایا :’’ ابراہیم ؑ فرمائیں گے : میں بھی اس کے اہل نہیں ہوں میں تو بہت پہلے (دنیا میں) خلیل تھا ، تم موسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جس سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے ، وہ موسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ، تو وہ بھی کہیں گے ، میں اس کے اہل نہیں ہوں ، تم عیسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ، عیسیٰ ؑ بھی کہیں گے : میں اس کے اہل نہیں ہوں ، وہ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے ، وہ کھڑے ہوں گے ، انہیں اجازت دی جائے گی ، امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا ، وہ پل صراط کے دونوں طرف کھڑی ہو جائیں گی ، تم میں سے پہلا بجلی کی طرح گزر جائے گا َ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، بجلی کی طرح گزرنے کی کیا صورت ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے بجلی نہیں دیکھی ، وہ آنکھ جھپکنے میں گزرتی ہے اور واپس آ جاتی ہے ۔ پھر ہوا کے چلنے کی طرح ، پھر پرندے کی طرح اور تیز چلنے والے آدمیوں کی طرح ، ان کے اعمال انہیں لے کر چلیں گے ، اور تمہارے نبی ﷺ پل صراط پر کھڑے ہوں گے ، وہ کہہ رہے ہوں گے : رب جی ! سلامتی عطا فرما ، سلامتی عطا فرما : حتی کہ بندوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے ۔ یہاں تک کہ ایک ایسا آدمی آئے گا جو چلنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو گا ، بلکہ وہ سرین کے بل گھسٹ رہا ہو گا ۔‘‘ اور فرمایا :’’ پل صراط کے دونوں کناروں پر آنکڑے معلق ہوں گے ، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جس کے متعلق اسے حکم دیا جائے گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، کچھ لوگ مجروح ہوں گے ، نجات پانے والے ہوں گے ، اور کچھ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے ۔‘‘ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے ! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5610

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ مِنَ النَّار بالشفاعة كَأَنَّهُمْ الثعارير؟ قَالَ: «إِنَّه الضغابيس» . مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کچھ لوگ جہنم سے شفاعت کے ذریعے نکلیں گے گویا وہ ثغاریر ہیں ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : ثغاریر کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ لکڑیاں ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5611

مَوْضُوع وَعَن عُثْمَان بن عَفَّان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُشَفَّعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْعلمَاء ثمَّ الشُّهَدَاء . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت تین قسم کے لوگ سفارش کریں گے ، انبیا ؑ ، پھر علما اور پھر شہدا ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5612

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بشر. واقرؤوا إِنْ شِئْتُمْ: (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّة عين) مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے سنی ہیں ، اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے ۔‘‘ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :’’ کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کر رکھی گئی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5613

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ ، دنیا اور اس میں جو کچھ ہے ، سب سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5614

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعت إِلى الأَرْض لَأَضَاءَتْ مابينهما وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں صبح کو یا شام کو چلنا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے ، سب سے بہتر ہے ۔ اگر اہل جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت زمین پر جھانک لے تو ان دونوں (زمین و آسمان) کے درمیان ہر چیز روشن ہو جائے ، ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ معطر ہو جائے اور اس (عورت) کے سر کا ایک دوپٹہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔