MISHKAT

Search Results(1)

28)

28) فضائل اور خصائل کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5739

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّى كُنْتُ من القرنِ الَّذِي كنتُ مِنْهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اولادِ آدم کے بہترین طبقات سے ہوتا ہوا اس طبقے میں پہنچا ہوں جس میں مَیں پیدا ہوا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5740

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنَى هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ ولد إِبْرَاهِيم إِسْمَاعِيل وَاصْطفى من ولد إِسْمَاعِيل بني كنَانَة»
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ نے اولادِ اسماعیل ؑ میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا ، کنانہ میں سے قریش کو ، قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا ۔‘‘ اور ترمذی کی روایت میں ہے :’’ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے اسماعیل ؑ کو منتخب فرمایا ، اور اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5741

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت آدم ؑ کی اولاد کا سردار میں ہوں گا ۔ سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا ، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول کی جائے گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5742

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الجنةِ» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت تمام انبیا ؑ سے میرے متبعین زیادہ ہوں گے ، اور باب جنت پر سب سے پہلے میں دستک دوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5743

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ. فيقولُ: بكَ أمرت أَن لاأفتح لأحد قبلك . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت کے دن میں جنت کے دروازے پر آؤں گا اور اس کے کھولنے کا مطالبہ کرو ں گا تو محافظ پوچھے گا : آپ کون ہیں ؟ میں کہوں گا : محمد (ﷺ) ۔ وہ عرض کرے گا : آپ ہی کے متعلق مجھے حکم دیا گیا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے (اسے) نہ کھولوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5744

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ وَإِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا مَا صَدَّقَهُ مِنْ أُمَّته إِلَّا رجل وَاحِد» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں جنت میں (داخلے کے لیے) سب سے پہلے سفارش کروں گا ، تمام انبیا ؑ میں سے میری تصدیق کرنے والے زیادہ ہوں گے بلا شبہ انبیا ؑ میں سے کوئی ایسا نبی بھی ہو گا جس کی ، اس کی امت میں سے ، صرف ایک آدمی نے تصدیق کی ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5745

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهُ تُرِكَ مِنْهُ مَوضِع لبنة فَطَافَ النظَّارُ يتعجَّبونَ من حُسنِ بنيانِه إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے اور دوسرے انبیا ؑ کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک محل ہو جسے بہترین انداز میں تعمیر کیا گیا ہو ، لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو ، دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے ہیں اور اس اینٹ کی جگہ کے علاوہ اس کے حسنِ تعمیر پر تعجب میں پڑ جاتے ہیں ، وہ میں تھا جس نے اس اینٹ کی جگہ کو پورا کیا ۔ میرے ساتھ ہی تعمیر مکمل کر دی گئی اور میرے ساتھ ہی رسالت بھی مکمل کر دی گئی ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5746

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمام انبیا ؑ کو معجزات عطا کیے گئے جن کے مطابق انسان ان پر ایمان لائے ، اور جو مجھے عطا کیا گیا وہ وحی (یعنی قرآن) ہے ، اللہ نے میری طرف وحی بھیجی ، میں امید کرتا ہوں کہ روز قیامت ان (انبیا ؑ) سے میرے متبعین زیادہ ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5747

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتي أدركتْه الصَّلاةُ فليُصلِّ وأُحلَّتْ لي المغانمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأَعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عامَّةً . مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں : ایک مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک بنا دی گئی ہے ، میرے امتی کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے ، میرے لیے مال غنیمت حلال کر دیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا ، مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث کیا جاتا تھا جبکہ مجھے عمومی طور پر تمام انسانوں کے لیے مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5748

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے دوسرے انبیا ؑ پر چھ چیزوں سے فضیلت عطا کی گئی ہے : مجھے جوامع الکلم (بات مختصر ، مفہوم زیادہ) عطا کیے گئے ہیں ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا ہے ، میرے لیے تمام زمین سجدہ گاہ اور پاک قرار دی گئی ہے مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے ، اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5749

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وبَينا أَنا نائمٌ رأيتُني أُوتيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، اور اس دوران کے میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں ، اور انہیں میرے ہاتھ میں رکھ دیا گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5750

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ: الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وإنَّ ربِّي قَالَ: يَا محمَّدُ إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وأنْ لَا أُسلطَ عَلَيْهِم عدُوّاً سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعضهم بَعْضًا . رَوَاهُ مُسلم
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا ، اور جس قدر زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی وہاں تک میری امت کی حکومت پہنچے گی ، مجھے دو خزانے عطا کیے گئے ، سرخ اور سفید ، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ عام قحط سالی کے ذریعے اسے ہلاک نہ کرے ، ان کے باہمی دشمنوں کے سوا کسی اور دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے کہ وہ ان کا مرکز (صدر مقام) تباہ کر دے اور بلا شبہ میرے رب نے فرمایا : اے محمد ! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ ٹل نہیں سکتا ، میں نے آپ کو آپ کی امت کے بارے میں یہ عہد دے دیا کہ میں اسے قحط سالی میں مبتلا کر کے تباہ نہیں کروں گا ، یہ بھی عہد دے دیا کہ ان پر ان کے باہمی دشمن کے علاوہ کوئی ایسا دشمن اس پر مسلط نہیں کروں گا جو ان کے مرکز کو تباہ کر دے ، اگرچہ ان کے تمام دشمن متحد ہو کر ان پر حملہ کر دیں ، البتہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور قیدی بنائیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5751

وَعَنْ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: «سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بأسهم بَينهم فَمَنَعَنِيهَا» . رَوَاهُ مُسلم
سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرے تو آپ اس میں تشریف لے گئے ، آپ نے وہاں دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (دو رکعتیں) پڑھیں ، آپ ﷺ نے اپنے رب سے طویل دعا کی ، اور جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگی تھیں ، اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے مجھے روک دیا ، میں نے اپنے رب سے سوال کیا تھا کہ وہ میری امت کو قحط کے ساتھ ہلاک نہ کرے ، اس نے یہ چیز مجھے عطا فرما دی ، میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے ، تو اس نے یہ بھی مجھے عطا کر دی ، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان میں باہم لڑائی پیدا نہ کرے تو اس سے مجھے روک دیا گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5752

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لموصوف بِبَعْض صفتِه فِي القرآنِ: (يَا أيُّها النبيُّ إِنَّا أرسلناكَ شَاهدا ومُبشِّراً وَنَذِيرا) وحِرْزا للاُمِّيّينَ أَنْت بعدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
عطا بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ملاقات کی ، میں نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ کی اس صفت کے متعلق بتائیں جو تورات میں مذکور ہے ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، اللہ کی قسم ! آپ کی جو صفات قرآن کریم میں ہیں ، ان میں سے بعض تورات میں مذکور ہیں ، جیسا کہ :’’ اے نبی ! ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا ، ڈرانے والا اور اَن پڑھوں (عربوں) کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے ، آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں ، میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے ، آپ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل ہیں ، آپ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں ، بلکہ آپ درگزر کرتے ہیں ، معاف کرتے ہیں ، اور اللہ ان کی روح قبض نہیں کرے گا حتی کہ وہ ان کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا کرا لے ، اور وہ ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کا اقرار کر لیں اور وہ اس (کلمے) کے ذریعے اندھی آنکھوں کو قوت بینائی ، بہرے کانوں کو قوت سماعت اور غلاف میں بند دلوں کو کھول دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5753

وَكَذَا الدَّارِمِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ سَلَامٍ نَحْوَهُ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «نَحْنُ الْآخَرُونَ» فِي «بَاب الْجُمُعَة»
اور اسی طرح دارمی نے عطاء عن ابن سلام کی سند سے اسی مثل روایت کیا ہے ، اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث ((نحن الآخرون .....)) ’’ باب الجمعۃ ‘‘ میں ذکر کی گئی ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5754

عَن خبَّابِ بنِ الأرتِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ فَأَطَالَهَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ الله صلَّيتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا قَالَ: «أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ وَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فمنعَنيها» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو اسے طویل کیا ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ، جبکہ آپ نے ایسی نماز (پہلے کبھی) نہیں پڑھائی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ٹھیک ہے ، یہ امید اور خوف والی نماز ہے ، میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کی درخواست کی : اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے روک دیا ، میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ قحط کے ذریعے میری امت کو ہلاک نہیں کرے گا اس نے اسے شرف قبولیت بخشا ، میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ ان کے علاوہ کسی اور دشمن کو ان پر مسلط نہیں کرے گا ، اس نے یہ بھی پوری فرما دی اور میں نے اس سے یہ بھی درخواست کی کہ ان کی آپس میں لڑائی (خانہ جنگی) نہ ہو تو اس نے اس سے مجھے روک دیا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5755

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَجَارَكُمْ مِنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ: أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْكُمْ نَبِيُّكُمْ فَتَهْلَكُوا جَمِيعًا وَأَنْ لَا يُظْهِرَ أَهْلَ الْبَاطِلِ على أهلِ الحقِّ وَأَن لَا تجتمِعوا على ضَلَالَة . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل نے تمہیں تین چیزوں سے محفوظ رکھا ہے ، تمہارا نبی تمہارے لیے یہ بددعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ ، اہل باطل ، اہل حق پر غالب نہیں ہوں گے ، اور تم گمراہی پر اکٹھے نہیں ہو گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5756

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ: سَيْفًا مِنْهَا وسَيفاً منْ عدُوِّها رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس امت پر دو تلواریں جمع نہیں کرے گا ، ایک ان کی اپنی تلوار اور ایک اس کے دشمن کی تلوار (یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بھی ہو اور دشمن بھی ان پر حملہ آور ہو) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5757

وَعَن الْعَبَّاس أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «مَنْ أَنَا؟» فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ ثمَّ جعلهم فرقتَيْن فجعلني فِي خير فِرْقَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبيلَة ثمَّ جعله بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُهُمْ نفسا وَخَيرهمْ بَيْتا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ (غصے کی حالت میں) نبی ﷺ کی خدمت میں آئے گویا انہوں نے کچھ (نسب میں طعن) سنا تھا ، نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے تو فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے بہتر گروہ میں پیدا فرمایا ، پھر اس نے ان کے قبیلے بنائے تو مجھے ان سب سے بہتر قبیلے میں پیدا فرمایا ، پھر ان کو گھرانے گھرانے بنایا تو مجھے ان میں سے بہترین گھرانے میں پیدا فرمایا ، میں ان سے نفس و حسب کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں اور ان کے گھرانے کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5758

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟ قَالَ: «وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نبوت کے منصب سے کب نوازے گئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدم ؑ روح اور جسم کے مابین تھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5759

وَعَن العِرْباض بن ساريةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ: خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لِمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ وَسَأُخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ أَمْرِي دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةُ عِيسَى وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْنِي وَقَدْ خَرَجَ لَهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهَا مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ «. وَرَاه فِي» شرح السّنة
عرباض بن ساریہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تو اس وقت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں خاتم النبیین لکھا ہوا ہوں جب آدم ؑ ابھی (ڈھانچے کی حالت میں) مٹی کی صورت میں پڑے ہوئے تھے ، اور میں ابھی اپنے معاملے (یعنی نبوت) کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں ، میں ابراہیم ؑ کی دعا ، عیسیٰ ؑ کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے قریب دیکھا تھا کہ ان کے لیے ایک نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات ان کے سامنے روشن ہو گئے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5760

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مِنْ قَوْلِهِ: «سأخبركم» إِلَى آخِره
اور امام احمد نے اسے ابوامامہ ؓ سے ((سأخبر کم)) سے لے کر آخر حدیث تک روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5761

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ. وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں روزِ قیامت آدم ؑ کی اولاد کا سردار ہوں گا ، اور میں یہ ازراہِ فخر نہیں کہتا ، حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ، اس روز آدم ؑ سمیت تمام انبیا ؑ میرے پرچم تلے ہوں گے ، سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا ، اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5762

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا وَقَالَ آخَرُ: مُوسَى كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا وَقَالَ آخَرُ: فَعِيسَى كَلِمَةُ الله وروحه. وَقَالَ آخَرُ: آدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «قَدْ سَمِعْتُ كَلَامَكُمْ وَعَجَبَكُمْ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيل الله وَهُوَ كَذَلِكَ وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَهُوَ كَذَلِكَ أَلَا وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَهُ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حَلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لِي فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ عَلَى اللَّهِ وَلَا فَخر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ باہر سے تشریف لائے اور ان کے قریب ہو گئے تو آپ نے انہیں باتیں کرتے ہوئے سنا ، کسی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو خلیل بنایا ، دوسرے نے کہا : اللہ تعالیٰ نے موسی ؑ سے کلام فرمایا ، کسی اور نے کہا : عیسیٰ ؑ تو وہ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ، کسی نے کہا : آدم ؑ کو کہ اللہ نے انہیں منتخب فرمایا : اس دوران رسول اللہ ﷺ ان کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا :’’ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں ، اور تمہارا تعجب کرنا کہ ابراہیم ؑ ، اللہ کے خلیل ہیں ، اور وہ اسی طرح ہیں ، موسی ؑ کلیم اللہ ہیں ، وہ بھی اسی طرح ہیں ، عیسیٰ ؑ اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ، وہ بھی اسی طرح بجا ہیں ، آدم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے ، یہ بھی حقیقت ہے ، جبکہ میں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں ، اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ، روزِ قیامت حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا ، آدم ؑ اور باقی سب انبیا ؑ اسی کے نیچے ہوں گے اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ، روزِ قیامت میں سب سے پہلے سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول ہو گی ، اور یہ میں ازراہِ فخر نہیں کہتا ، سب سے پہلے میں ہی جنت کے کنڈے ہلاؤں گا تو اللہ تعالیٰ میرے لیے کھول دے گا اور مجھے اس میں داخل فرمائے گا ، میرے ساتھ غریب ایماندار ہوں گے اور میں اس پر فخر نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام اولین و آخرین سے سب سے زیادہ معزز میں ہوں اور میں اس پر فخر نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5763

وَعَن عَمْرو بن قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ: إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الله ومُوسَى صفي الله وَأَنا حبييب اللَّهِ وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ اللَّهَ وَعَدَنِي فِي أُمَّتِي وَأَجَارَهُمْ مِنْ ثَلَاثٍ: لَا يَعُمُّهُمْ بِسَنَةٍ وَلَا يَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ وَلَا يجمعهُمْ على ضَلَالَة . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عمرو بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہم (دنیا میں) آخر میں آنے والے ہیں ، اور روزِ قیامت (جنت میں داخل ہونے والوں میں) ہم سب سے آگے ہوں گے ، میں کسی فخر کے بغیر یہ بات کہتا ہوں کہ ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں ، موسی ؑ صفی اللہ ہیں اور میں حبیب اللہ ہوں ، روزِ قیامت حمد کا پرچم میرے ساتھ ہو گا ، اللہ تعالیٰ نے میری امت کے متعلق مجھ سے وعدہ فرما رکھا ہے ، اور اس نے انہیں تین چیزوں سے محفوظ رکھا ہے ، وہ انہیں عام قحط میں مبتلا نہیں کرے گا ، دشمن اس کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے گا ، اور وہ ان سب کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5764

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شافعٍ وَمُشَفَّع وَلَا فَخر» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمام رسولوں کا قائد ہوں ، یہ بات میں ازراہِ فخر نہیں کہتا ، میں خاتم النبیین ہوں ، فخر سے نہیں کہتا ، میں سب سے پہلے سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول کی جائے گی اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5765

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا وَأَنَا قَائِدُهُمْ إِذَا وَفَدُوا وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا أَنْصَتُوا وَأَنَا مُسْتَشْفِعُهُمْ إِذَا حُبِسُوا وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا الْكَرَامَةُ وَالْمَفَاتِيحُ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَلِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي يَطُوفُ عَلَيَّ أَلْفُ خادمٍ كأنَّهنَّ بَيْضٌ مُكْنُونٌ أَوْ لُؤْلُؤٌ مَنْثُورٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا تو میں سب سے پہلے نکلوں گا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو میں ان کا قائد ہوں گا ، جب وہ خاموش ہوں گے تو میں ان کی طرف سے بات کروں گا ، جب انہیں روک لیا جائے گا (حساب شروع نہیں ہو گا) تو میں ان کی سفارش کروں گا ، جب وہ ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں (مغفرت و رحمت کی) خوشخبری سناؤں گا ، کرامت اور چابیاں اس روز میرے ہاتھ میں ہوں گی ، اس روز حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا ، میرے رب کے ہاں تمام انسانوں سے میری سب سے زیادہ عزت ہو گی ، ہزار خادم میرے اردگرد چکر لگا رہے ہوں گے ، گویا وہ پوشیدہ (بند کیے ہوئے) انڈے ہیں ، یا بکھرے ہوئے موتی ہیں ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5766

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَأُكْسَى حُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يقومُ ذلكَ المقامَ غَيْرِي» . رَوَاهُ الترمذيُّ. وَفِي رِوَايَة «جَامع الْأُصُول» عَنهُ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَأُكْسَى»
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے ایک جنتی جوڑا پہنایا جائے گا ، پھر میں عرش کے دائیں طرف کھڑا ہوں گا ، اور میرے علاوہ مخلوق میں سے کوئی اور اس مقام پر کھڑا نہیں ہو گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور جامع الاصول میں ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا اور مجھے جوڑا پہنایا جائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5767

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سلوا الله الْوَسِيلَةَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ؟ قَالَ: «أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رجلٌ واحدٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وسیلہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے ، وہ صرف ایک ہی آدمی کو نصیب ہو گا ، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5768

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غيرَ فَخر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابی بن کعب ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب روزِ قیامت ہو گا تو میں انبیا ؑ کا امام ہوں گا ، ان کا خطیب اور (مقام محمود پر) ان کا صاحب شفاعت ہوں گا ، اور میں یہ بات فخر سے نہیں کہتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5769

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِن لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ وَلِيِّيَ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي ثُمَّ قَرَأَ: [إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمنُوا وَالله ولي الْمُؤمنِينَ] . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کے لیے انبیا ؑ میں سے ایک (نبی) رفیق ہے ، اور میرے لیے رفیق ، میرے باپ اور میرے رب کے خلیل (ابراہیم ؑ) ہیں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ بے شک ابراہیم ؑ کے تمام لوگوں میں سے زیادہ حق دار اور قریبی وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے ان کی اتباع کی اور یہ نبی (ﷺ) اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ، اور اللہ تعالیٰ مومنوں کا دوست و حمایتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5770

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قا ل: «إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي لِتَمَامِ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَمَالِ محَاسِن الْأَفْعَال» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے مکارمِ اخلاق کے مکمل کرنے اور محاسنِ افعال کو کمال تک پہنچانے کے لیے ، مجھے مبعوث فرمایا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5771

وَعَنْ كَعْبٍ يَحْكِي عَنِ التَّوْرَاةِ قَالَ: نَجِدُ مَكْتُوبًا محمدٌ رسولُ الله عَبدِي الْمُخْتَار لَا فظٌّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَهِجْرَتُهُ بِطِيبَةَ وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيُكَبِّرُونَهُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ رُعَاةٌ لِلشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُهَا يتأزَّرون على أَنْصَافهمْ ويتوضؤون عَلَى أَطْرَافِهِمْ مُنَادِيهِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ وَصَفُّهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ لَهُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ «. هَذَا لَفْظُ» الْمَصَابِيحِ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مَعَ تَغْيِير يسير
کعب ؓ تورات سے نقل کرتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں : محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ، میرے منتخب بندے ہیں ، وہ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل ، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں ، بلکہ وہ درگزر کرتے اور معاف کر دیتے ہیں ، ان کی جائے پیدائش مکہ ہے ، ان کی ہجرت طیبہ (مدینہ) کی طرف ہو گی ، ان کی حکومت ملکِ شام میں ہو گی ، ان کی امت بہت زیادہ حمد کرنے والی ہو گی ، وہ خوشحالی و تنگدستی (ہر حال) میں ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے ، ہر بلند جگہ پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر بیان کریں گے ، وہ (نمازوں کے اوقات کے لیے) سورج کا خیال رکھتے ہوں گے ، جب نماز کا وقت ہو جائے گا تو وہ نماز پڑھیں گے ، ان کا ازار نصف پنڈلیوں تک ہو گا ، وہ اعضائے وضو تک وضو کریں گے ، ان کا مؤذن بلند جگہ پر (کھڑا ہو کر) اذان دے گا ، ان کی نماز کے دوران صفیں اور ان کی میدان جہاد میں صفیں برابر ہوں گی ، اور رات کے وقت ان (تہجد کے وقت تسبیح و تہلیل) کی آواز اس طرح ہو گی جس طرح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ۔‘‘ یہ الفاظ مصابیح کے ہیں ، اور امام دارمی نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5772

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَعِيسَى بن مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ قَالَ أَبُو مَوْدُودٍ: وَقَدْ بَقِي فِي الْبَيْت مَوضِع قَبره رَوَاهُ الترمذيُّ
عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، تورات میں محمد ﷺ کی صفت لکھی ہوئی ہے اور عیسیٰ ؑ محمد ﷺ کے ساتھ دفن کیے جائیں گے ۔‘‘ ابو مودود (راوی) نے بیان کیا : (عائشہ ؓ کے) گھر میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5773

عَن ابْن عبَّاس قَالَ: إنَّ الله تَعَالَى فضل مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَعَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ بِمَ فَضَّله الله عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ [وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نجزي الظَّالِمين] وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تأخَّر] قَالُوا: وَمَا فَضْلُهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: [وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاء] الْآيَةَ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: [وَمَا أَرْسَلْنَاك إِلَّا كَافَّة للنَّاس] فَأرْسلهُ إِلَى الْجِنّ وَالْإِنْس
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو تمام انبیا ؑ اور آسمان والوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ انہوں نے کہا : ابو عباس ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان والوں پر کس چیز سے فضیلت عطا فرمائی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں سے فرمایا :’’ ان میں سے جس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ، ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ سے فرمایا :’’ ہم نے آپ کو فتح مبین عطا فرمائی تا کہ اللہ آپ کے تمام گناہ معاف فرما دے ۔‘‘ انہوں نے کہا : آپ ﷺ کی دوسرے انبیا ؑ پر کون سی فضیلت ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ مبعوث فرمایا تا کہ وہ انہیں وضاحت کر سکے ، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے ۔‘‘ جبکہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ سے فرمایا :’’ ہم نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا ۔‘‘ سو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جنوں اور تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی و الحاکم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5774

وَعَن أبي ذرّ الْغِفَارِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ حَتَّى اسْتَيْقَنْتَ؟ فَقَالَ: يَا أَبَا ذَر أَتَانِي ملكان وَأَنا ب بعض بطحاء مَكَّة فَوَقع أَحدهمَا على الْأَرْضِ وَكَانَ الْآخَرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَهْوَ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَزِنْهُ بِرَجُلٍ فَوُزِنْتُ بِهِ فَوَزَنْتُهُ ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِعَشَرَةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ ثُمَّ قَالَ: زنه بِمِائَة فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ خِفَّةِ الْمِيزَانِ. قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لصَاحبه: لَو وزنته بأمته لرجحها . رَوَاهُمَا الدَّارمِيّ
ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے کیسے جانا کہ آپ نبی ہیں ، حتی کہ آپ نے یقین کر لیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوذر ! میرے پاس دو فرشتے آئے جبکہ میں مکہ کی وادی بطحا میں تھا ، ان میں سے ایک زمین پر اتر آیا اور دوسرا آسمان اور زمین کے درمیان تھا ، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : کیا یہ وہی ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : ان کا ایک آدمی کے ساتھ وزن کریں ، میرا اس کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں اس پر بھاری تھا ، پھر اس نے کہا : ان کا دس افراد کے ساتھ وزن کرو ، میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھاری رہا ، پھر اس نے کہا : ان کا سو افراد کے ساتھ وزن کرو ، میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھی بھاری رہا ، پھر اس نے کہا : ان کا ایک ہزار کے ساتھ وزن کرو ، میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھی بھاری رہا ، گویا ترازو کے ہلکے ہونے کی وجہ سے ، میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ مجھ پر گر پڑیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : اگر تم نے ان کا ان کی پوری امت کے ساتھ بھی وزن کر لیا تو یہ اس (امت) پر غالب آ جائیں گے ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5775

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تؤمَروا بهَا» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قربانی کرنا مجھ پر فرض کیا گیا ہے ، جبکہ تم پر فرض نہیں کیا گیا ، اور نماز چاشت کا مجھے حکم دیا گیا ہے جبکہ تمہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الدارقطنی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5776

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إنَّ لي أَسْمَاءً: أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ . وَالْعَاقِب: الَّذِي لَيْسَ بعده شَيْء. مُتَّفق عَلَيْهِ
جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے بہت سے نام ہیں : میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں اللہ میرے ذریعے کفر کو مٹا دے گا ، میں حاشر ہوں کہ تمام لوگ میرے بعد اٹھائے جائیں گے ، اور میں عاقب ہوں ۔‘‘ اور عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5777

وَعَن أبي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَة» . رَوَاهُ مُسلم
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنی ذات مبارکہ کے نام ہمیں بتایا کرتے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں آخر پر آنے والا ہوں ، (میرے بعد کوئی نبی نہیں) ، میں حاشر ہوں ، میں نبی توبہ ہوں (اللہ کے حضور بہت زیادہ رجوع کرنے والا) اور نبی رحمت ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5778

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ؟ يَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ قریش کے سب و شتم اور ان کے لعن طعن کرنے کو کس طرح مجھ سے دور کرتا ہے ؟ وہ مذمم (نعوذ باللہ جس کی مذمت کی گئی ہو) کہہ کر سب و شتم اور لعن طعن کرتے ہیں ، جبکہ میں محمد (ﷺ) ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5779

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قَالَ: لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَكَانَ مُسْتَدِيرًا وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَة الْحَمَامَة يشبه جسده . رَوَاهُ مُسلم
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک اور داڑھی کے اگلے حصے کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے ، جب آپ تیل لگاتے تھے تو وہ نظر نہیں آتے تھے ، اور جب آپ کے سر کے بالوں میں کنگھی نہیں کی ہوتی تھی تو وہ نظر آ جاتے تھے ، آپ کی داڑھی کے بال گھنے تھے ، کسی آدمی نے کہا : آپ کا چہرہ مبارک (چمک کے لحاظ سے) تلوار کی طرح تھا ، جابر ؓ نے فرمایا : نہیں ، بلکہ سورج اور چاند کی طرح چمکتا تھا ، رخ انور گول تھا ، میں نے آپ کے کندھے کے پاس مہر نبوت دیکھی جو کہ کبوتری کے انڈے کی طرح تھی اور وہ آپ کے جسم اطہر (کے رنگ) کے مشابہ تھی ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5780

وَعَن عبدِ الله بن سرجسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا - أَوْ قَالَ: ثَرِيدًا - ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خيلال كأمثال الثآليل. رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن سرجس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی ، یا کہا : ثرید کھائی ، پھر میں گھوم کر آپ کے پچھلی جانب گیا اور میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان بائیں کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت دیکھی ، وہ بند مٹھی کی طرح تھی اس پر دو تل تھے ، جیسے مسّے ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5781

وَعَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ فَأَلْبَسَهَا. قَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي» وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ. فَقَالَ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سِنَاهْ» وَهِيَ بالحبشيَّةِ حسنَة. قَالَت: فذهبتُ أَلعبُ بخاتمِ النبوَّةِ فز برني أُبَيٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دعها» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ام خالد بنت خالد بن سعید ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے ان میں ایک چھوٹی سی کالی چادر تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام خالد کو میرے پاس لاؤ ، اسے اٹھا کر لایا گیا ، آپ نے اپنے دست مبارک سے وہ چادر پکڑی اور اسے پہنا دی ، اور فرمایا :’’ تم اسے بوسیدہ کرو اور تم اسے پرانا کرو (دیر تک جیتی رہو) ، تم اسے بوسیدہ کرو اور اسے پرانا کرو ۔‘‘ اس (چادر) میں سبز یا زرد رنگ کے نشانات تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام خالد ! یہ ’’سناہ‘‘ ہے ۔‘‘ اور یہ (سناہ) حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی خوبصورت ؟ وہ بیان کرتی ہیں ، میں مہر نبوت کے ساتھ کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5782

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وبالمدينة عشر سِنِين وتوفَّاه الله على رَأس سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَفِي رِوَايَةٍ يَصِفُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ. وَقَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: كَانَ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَكَانَ سَبْطَ الكفَّينِ. وَفِي أُخْرَى لَهُ قَالَ: كَانَ شئن الْقَدَمَيْنِ وَالْكَفَّيْنِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ زیادہ لمبے قد کے تھے نہ چھوٹے قد کے نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے ، آپ کے بال نہ بہت زیادہ گھنگریالے تھے نہ سیدھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا ، آپ نے مکہ میں دس سال قیام فرمایا اور مدینہ میں بھی دس سال قیام فرمایا ، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی اور (اس وقت) آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے ۔ ایک دوسری روایت میں انس ؓ نے نبی ﷺ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا : آپ کا قد درمیانہ تھا نہ لمبا تھا اور نہ چھوٹا ، کھلتا اور چمکتا ہوا رنگ تھا ، اور رسول اللہ ﷺ کے بال کانوں کے نصف تک تھے ، ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ کے بال دونوں کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے : آپ ﷺ کا سر اور پاؤں ضخیم تھے ، میں نے آپ کے بعد یا پہلے آپ جیسا کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھا ، آپ ﷺ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں ، صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے : آپ ﷺ کے پاؤں اور ہاتھ موٹے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5783

وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَهُ شَعْرٌ بَلَغَ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ درمیانے قد کے تھے ، آپ کی چھاتی کشادہ تھی ، آپ کے سر کے بال کانوں کی لو تک تھے ، میں نے آپ کو سرخ جوڑے میں دیکھا ، میں نے آپ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ، میں نے کانوں کی لو تک بالوں والے اور سرخ جوڑے میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین نہیں دیکھا آپ کے بال آپ کے کندھوں پر پڑتے تھے ، آپ کی چھاتی کشادہ تھی ، اور آپ نہ زیادہ لمبے تھے اور نہ چھوٹے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5784

وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ قِيلَ لَسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ. قِيلَ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ. قِيلَ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبَيْنِ؟ قَالَ: قليلُ لحم الْعقب. رَوَاهُ مُسلم
سماک بن حرب ، جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ ضلیع الفم ، اشکل العین اور منھوش العقبین تھے ۔ سماک ؒ سے پوچھا گیا ، ضلیع الفم سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : کشادہ چہرے والے ، پوچھا گیا ، اشکل العین سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : آپ ﷺ کی آنکھیں بڑی اور طویل تھیں ، پھر پوچھا گیا : منھوش العقبین سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ کی ایڑھیاں پتلی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5785

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مقصدا . رَوَاهُ مُسلم
ابو طفیل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے آپ کی رنگت سرخی مائل سفید تھی اور آپ کا قد درمیانہ تھا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5786

وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يُخْضَبُ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ - وَفِي رِوَايَةٍ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأسه - فعلت. مُتَّفق عَلَيْهِ
ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ انس ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : آپ کے بال اس قدر سفید نہیں تھے کہ انہیں خضاب کیا جاتا ، اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا ، تو گن سکتا تھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : اگر میں آپ ﷺ کے سر کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ کے عنفقہ (نچلے ہونٹ اور تھوڑی کے درمیان) میں ، آپ کی کن پٹیوں میں اور آپ کے سر میں چند سفید بال تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5787

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ وَمَا مَسَسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شمَمتُ مسكاً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی رنگت میں چمک دمک تھی آپ کے پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح تھے ، جب آپ چلتے تو آگے کی طرف جھک کر چلتے تھے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ، دیباج اور ریشم کو بھی نہیں پایا اور نبی ﷺ کے بدن اطہر سے زیادہ معطر ، کستوری یا عنبر کی خوشبو نہیں سونگھی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5788

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا؟» قَالَتْ: عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ: «أصبت» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف لایا کرتے اور وہیں قیلولہ فرمایا کرتے تھے ، وہ چمڑے کی چٹائی بچھا دیتیں اور آپ اس پر قیلولہ فرماتے ، آپ کو پسینہ بہت آتا تھا ، وہ آپ کا پسینہ جمع کر لیتیں اور پھر اسے خوشبو میں شامل کر لیتیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ام سلیم ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ کا پسینہ ہے ، ہم اسے اپنی خوشبو کے ساتھ ملا لیتے ہیں ، آپ کا پسینہ ایک بہترین خوشبو ہے ، ایک دوسری روایت میں ہے ۔ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اس کے ذریعے اپنے بچوں کے لیے برکت حاصل کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ٹھیک کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5789

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَى ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بردا وريحاً كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: «سَمُّوا بِاسْمِي» فِي «بَابِ الْأَسَامِي» وَحَدِيثُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: نَظَرْتُ إِلَى خاتمِ النبوَّةِ فِي «بَاب أَحْكَام الْمِيَاه»
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز اولی (فجر یا ظہر) پڑھی ، پھر آپ اپنے اہل خانہ کی طرف تشریف لے گئے ، میں بھی آپ کے ساتھ ہی (مسجد سے) نکل آیا ، راستے میں کچھ بچے آپ سے ملے تو آپ نے باری باری ان کے رخساروں پر دست شفقت پھیرا جبکہ آپ نے میرے دونوں رخساروں پر دستِ شفقت پھیرا ۔ میں نے آپ ﷺ کے دست مبارک کی ٹھنڈک اور خوشبو ایسے محسوس کی گویا آپ نے اسے عطار کے ڈبے سے نکالا ہے ۔ رواہ مسلم ۔ جابر ؓ سے مروی حدیث : ((سموا باسمی .....)) ’’باب الاسامی‘‘ میں اور سائب بن یزید ؓ سے مروی حدیث ((نظرت الیٰ خاتم النبوۃ .....)) ’’باب احکام المیاہ‘‘ میں بیان کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5790

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بالطويل وَلَا بالقصير ضخم الرَّأْس واللحية شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبًا حُمْرَةً ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ المَسْرُبَةِ إِذا مَشى تكفَّأ تكفُّأً كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لمبے قد کے تھے نہ چھوٹے قد کے ، سر مبارک ضخیم تھا ، داڑھی گھنی تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے ، سرخ و سفید رنگ تھا ، ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے ، آپ کے سینے سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی ، جب آپ چلتے تو آگے کو جھکے ہوتے گویا آپ بلندی سے نیچے اتر رہے ہیں ، اور میں نے آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ جیسا کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5791

وَعَنْهُ كَانَ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمَشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبةٍ شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُهُمْ عَشِيرَةً مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
علی بن ابی طالب ؓ جب نبی ﷺ کے اوصاف بیان کرتے تو فرماتے : آپ ﷺ زیادہ لمبے تھے نہ زیادہ چھوٹے تھے بلکہ آپ درمیانہ قد تھے ، آپ کے بال بالکل گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان تھے ، آپ کا چہرہ مبارک بالکل گول نہیں تھا ، بلکہ قدرے گولائی میں تھا ، آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا ، آنکھیں سیاہ ، دراز پلکیں ، جوڑوں کی ہڈیاں اٹھی ہوئی مضبوط تھیں ، کندھوں کا درمیانی حصہ بھی بڑا اور مضبوط تھا ، آپ کے بدن پر بال نہیں تھے ، بس سینے اور ناف تک ایک لکیر تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے ، جب آپ چلتے تو پاؤں اٹھا کر رکھتے گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں ، جب آپ کسی کی طرف التفات فرماتے تو مکمل توجہ فرماتے ، آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی ، اور آپ خاتم النبیین ہیں ، آپ سب سے بڑھ کر دل کے سخی تھے ، سب سے زیادہ صاف گو تھے ، سب سے زیادہ نرم مزاج تھے ، قبیلے کے لحاظ سے سب سے زیادہ معزز تھے ، جو آپ کو اچانک دیکھتا تو وہ ہیبت زدہ ہو جاتا ، جو آپ کی صحبت اختیار کرتا اور واقفیت حاصل کر لیتا تو وہ آپ سے والہانہ محبت کرنے لگتا ، اور آپ کے وصف بیان کرنے والا (آخر پر) یہ کہتا : میں نے آپ ﷺ جیسا آپ کی حیات مبارکہ میں کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5792

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْلُكْ طَرِيقًا فَيَتْبَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا عرفَ أَنه قد سلكه من طيب عرقه - أَوْ قَالَ: مِنْ رِيحِ عَرَقِهِ - رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جس راہ سے گزر جاتے تو آپ کے بعد اس راہ سے گزرنے والا آپ کی خوشبو سے یا آپ کے معطر پسینے سے پہچان لیتا کہ آپ ﷺ یہاں سے گزرے ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5793

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ: صِفِي لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَوْ رأيتَه رأيتَ الشَّمسَ طالعة. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں ، میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے کہا : آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف سے آگاہ کریں ، انہوں نے فرمایا : بیٹے ! اگر تم انہیں دیکھتے تو تم (ان کے چہرے مبارک کو) چمکتا ہوا سورج دیکھتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5794

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى الْقَمَرِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ فَإِذَا هُوَ أَحْسَنُ عِنْدِي مِنَ الْقَمَرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے چاندنی رات میں نبی ﷺ کو دیکھا تو میں (باری باری) رسول اللہ ﷺ اور چاند کی طرف دیکھنے لگا ، آپ نے سرخ جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا ، اور اس وقت میری نظر میں آپ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5795

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَن الشَّمْس تجْرِي على وَجْهِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإنَّهُ لغير مكترث. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین چیز کوئی نہیں دیکھی ، گویا آپ کے چہرے مبارک پر سورج جلوہ ریز ہے ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ تیز رفتار کسی کو نہیں دیکھا گویا آپ کے لیے زمین لپیٹی جا رہی ہے ، ہم پوری طرح تیز چلنے کی کوشش کرتے لیکن آپ ﷺ پروا کیے بغیر چلتے رہتے (پھر بھی ہم آپ تک نہیں پہنچ سکتے تھے) ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5796

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بأكحل. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی پنڈلیاں پتلی تھیں آپ ﷺ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے ، جب میں آپ کو دیکھتا تو میں کہتا کہ آپ نے آنکھوں میں سرمہ لگایا ہوا ہے ، حالانکہ آپ نے سرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5797

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَجَ الثَّنِيَّتَيْنِ إِذَا تَكَلَّمَ رُئِيَ كَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے سامنے کے دو دانت کشادہ تھے ، جب آپ گفتگو فرماتے تو ایسے معلوم ہوتا کہ آپ کے دو دانتوں سے نور برس رہا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5798

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّ وَجْهَهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ چمک جاتا اور رخ انور ایسے لگتا جیسے کہ وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم یہ چیز پہچان لیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5799

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَوَجَدَ أَبَاهُ عِنْدَ رَأْسِهِ يَقْرَأُ التَّوْرَاةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا يَهُودِيٌّ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ نَعْتِي وَصِفَتِي وَمَخْرَجِي؟» . قَالَ: لَا. قَالَ الْفَتَى: بَلَى وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَجِدُ لَكَ فِي التَّوْرَاة نعتك وَصِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «أَقِيمُوا هَذَا مِنْ عِنْدِ رَأْسِهِ وَلُوا أَخَاكُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا ، نبی ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ، وہ بیمار ہو گیا تو نبی ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے آپ نے اس کے والد کو اس کے سر کے پاس تورات پڑھتے دیکھ کر فرمایا :’’ اے یہودی ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسی ؑ پر تورات نازل فرمائی ، (بتاؤ) کیا تم تورات میں میری ذات و صفات کے متعلق کچھ لکھا ہوا پاتے ہو ؟‘‘ اس نے کہا : نہیں لیکن وہ لڑکا کہنے لگا ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ! ہم آپ ﷺ کی ذات و صفات اور آپ کی تشریف آوری کے متعلق تورات میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا :’’ اس کو اس (لڑکے) کے سرہانے سے اٹھا دو اور تم اپنے (اسلامی) بھائی کی (تجہیز و تکفین کے متعلق) سر پرستی کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5800

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں بھیجی ہوئی رحمت ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5801

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ وَلَا: لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلَا: أَلَّا صَنَعْتَ؟ مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے دس سال نبی ﷺ کی خدمت کی ، لیکن آپ نے مجھے کبھی اُف تک نہ کہا ، اور نہ ہی یہ کہا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا اور وہ کام کیوں نہیں کیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5802

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «يَا أُنَيْسُ ذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟» . قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُول الله. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے بہترین اخلاق کے حامل تھے ، آپ نے ایک روز مجھے کسی کام کے لیے بھیجا تو میں نے کہا ، اللہ کی قسم ! میں نہیں جاؤں گا ، جبکہ میرے دل میں تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے جس کام کا مجھے حکم فرمایا ہے میں اس کے لیے ضرور جاؤں گا ، میں نکلا ، اور چند ایسے بچوں کے پاس سے گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے ۔ (میں وہاں کھڑا ہو گیا) اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے میرے پیچھے سے میری گدی پکڑ لی ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اُنیس ! جہاں جانے کے متعلق میں نے تمہیں کہا تھا ، کیا وہاں گئے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! میں جا رہا ہوں ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5803

وَعَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فجبذه جَبْذَةً شَدِيدَةً وَرَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أثرت بِهِ حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عنْدك فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ. مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا ، آپ پر موٹے کنارے (چوڑی پٹی) والی نجرانی چادر تھی ، اتنے میں ایک اعرابی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر کے ساتھ آپ کو اتنے زور سے کھینچا کہ نبی ﷺ اس اعرابی کے سینے کے قریب پہنچ گئے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر دیکھا تو زور سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کے کنارے کے نشانات کندھے مبارک پر پڑ چکے تھے ، پھر اس نے کہا : محمد ! اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے میرے لیے بھی حکم فرمایئے ، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا ، اور ہنس دیے ، پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5804

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاس إِلَى الصَّوْت هُوَ يَقُولُ: «لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا» وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ وَفِي عُنُقِهِ سَيْفٌ. فَقَالَ: «لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ حسین ، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے ، ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے تو لوگ اس کی آواز کی طرف چل پڑے ، نبی ﷺ سب سے پہلے اس کی آواز کی طرف گئے تھے اور واپسی پر آپ لوگوں سے ملے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گھبراؤ نہیں ، گھبراؤ نہیں ۔‘‘ آپ اس وقت ابو طلحہ ؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے ، اس پر زین نہیں تھی اور آپ کے گلے میں تلوار تھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اس (گھوڑے) کو نہایت تیز رفتار پایا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5805

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ: لَا. مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، کبھی ایسے نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا اور آپ نے نفی میں جواب دیا ہو ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5806

وَعَن أنس إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ: أَي قوم أَسْلمُوا فو الله إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اتنی بکریاں مانگیں جس سے دو پہاڑوں کا درمیانی فاصلہ بھر جائے ، آپ نے اتنی ہی اسے دے دیں تو وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں کہا : میری قوم ! اسلام قبول کر لو ، اللہ کی قسم ! محمد (ﷺ) اس قدر عطا فرماتے ہیں ، کہ وہ فقر کا اندیشہ نہیں رکھتے ۔ (یا فقر کا اندیشہ نہیں رہتا) رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5807

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَتِ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعْطُونِي رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدَ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمٌ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا كذوباً وَلَا جَبَانًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے ، اس اثنا میں کہ غزوۂ حنین سے واپسی پر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے ، (راستے میں) اعرابی چمٹ کر آپ سے سوال کرنے لگے ، حتی کہ انہوں نے آپ کو ببول کے درخت کی طرف دھکیل دیا ، وہ (کانٹے) آپ کی چادر سے الجھ گئے تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا :’’ میری چادر مجھے دے دو ، اگر میرے پاس ان (کانٹے دار) درختوں جتنے اونٹ ہوتے تو میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا ، لہذا تم مجھے بخیل پاؤ گے نہ جھوٹا اور نہ بزدل ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5808

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يَأْتُونَ بإناءٍ إِلَّا غمسَ يدَه فِيهَا فرُبما جاؤوهُ بِالْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو مدینہ کے خادم اپنے برتن لے آتے ، ان میں پانی ہوتا تھا ، وہ جو بھی برتن لاتے ، آپ اس میں اپنا دستِ مبارک ڈبو دیتے تھے ، بسا اوقات تو وہ موسم سرما میں صبح کے وقت آپ کے پاس آ جاتے تھے ، تو آپ ﷺ اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5809

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَتْ أَمَةٌ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ تَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، مدینے والوں کی لونڈیوں میں کوئی بھی لونڈی وہ رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑتی اور وہ جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5810

وَعَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ فَقَالَت: يَا رَسُول الله إِنِّي لِي إِلَيْكَ حَاجَّةً فَقَالَ: «يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ» فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ حَتَّى فرغت من حَاجَتهَا. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت تھی جس کی عقل کچھ کم تھی ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے کچھ کام ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام فلاں ! دیکھو ! جس گلی میں تم چاہو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں تا کہ میں تمہارا کام پورا کر سکوں ، آپ ایک راستے میں اس کے ساتھ گئے حتی کہ اس کا کام ہو گیا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5811

وَعَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا سَبَّابًا كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: «مَا لَهُ تربَ جَبينُه؟» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ بدگو تھے نہ لعنت کرنے والے تھے ، اور نہ ہی گالی دیتے تھے ، ناراضی کے عالم میں آپ ﷺ بس یہی فرماتے :’’ اسے کیا ہوا ؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5812

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ. قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! مشرکوں کے لیے بددعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے لعنت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ، مجھے تو باعث رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5813

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے ، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار گزرتی تو ہم اسے آپ کے چہرے مبارک سے پہچان لیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5814

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ وَإِنَّمَا كَانَ يتبسم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو اس طرح کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا آخری حصہ دیکھ سکوں کیونکہ آپ ﷺ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5815

وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ. مُتَّفق عَلَيْهِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح نہایت تیز گفتگو نہیں فرماتے تھے ، بلکہ آپ اس طرح گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی (الفاظ) شمار کرنے والا شمار کرنا چاہتا تو شمار کر سکتا تھا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5816

وَعَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مَهْنَةِ أَهْلِهِ - تَعْنِي خدمَة أَهله - فَإِذا حضرت الصَّلَاة خرج إِلَى الصَّلَاة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
اسود ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، نبی ﷺ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ اپنے اہل خانہ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے ، جب نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5817

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يُنتهك حرمةُ الله فينتقم لله بهَا. مُتَّفق عَلَيْهِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں سے ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان دونوں میں سے آسان تر کو اختیار فرماتے تھے ، بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا ، اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے ، رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے متعلق کسی معاملے میں انتقام نہیں لیا ، اگر اللہ کی حدود پامال کی جاتیں تو آپ اس میں اللہ کی رضا کی خاطر انتقام لیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5818

وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لنَفسِهِ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ فينتقم لله. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے علاوہ اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو مارا نہ کسی خادم کو اور نہ ہی کسی عورت کو ، اور اگر آپ کو کسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچتی تو آپ اس تکلیف پہنچانے والے سے انتقام نہیں لیتے تھے ، آپ صرف اس صورت میں انتقام لیتے تھے جب اللہ کی حدود پامال ہوتی ہوں اور وہ انتقام بھی محض اللہ کی رضا کی خاطر ہی لیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5819

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا لَامَنِي عَلَى شَيْءٍ قَطُّ أَتَى فِيهِ عَلَى يَدَيَّ فَإِنْ لَامَنِي لَائِمٌ مِنْ أَهْلِهِ قَالَ: «دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَوْ قُضِيَ شَيْءٌ كَانَ» . هَذَا لَفَظُ «الْمَصَابِيحِ» وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں آٹھ برس کی عمر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لیے حاضر ہوا اور دس سال آپ کی خدمت کی ، آپ نے اس عرصے میں میرے ہاتھوں ہونے والے کسی نقصان پر مجھے ملامت نہیں کی ، اگر آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی مجھے ملامت کرتا تو آپ ﷺ فرماتے :’’ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ جو تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۔‘‘ یہ الفاظِ حدیث مصابیح کے ہیں ، اور امام بیہقی نے کچھ تبدیلی کے ساتھ شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5820

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ طبعاً فحش گو تھے نہ تکلفاً فحش گو تھے ، آپ بازاروں میں شور و غل کرتے تھے نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے ، بلکہ آپ ﷺ درگزر فرماتے تھے ، اور معاف فرما دیتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5821

وَعَنْ أَنَسٍ يُحَدِّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كانَ يعودُ المريضَ وَيتبع الْجِنَازَة ويجيب دَعْوَة الْمَمْلُوك ويركب الْحمار لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ خِطَامُهُ لِيفٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
انس ؓ ، نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ بیماروں کی عیادت کرتے تھے ، جنازوں میں شریک ہوتے تھے ، غلاموں کی دعوت قبول کرتے تھے ، اور گدھے پر سواری کرتے تھے ، خیبر کے دن میں نے آپ کو گدھے پر دیکھا جس کی لگام کھجور کے پتوں کی تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5822

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ وَقَالَتْ: كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنا جوتا مرمت کرتے تھے ، اپنا کپڑا خود سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں تمہاری طرح ہی کام کرتے تھے ۔ اور انہوں نے فرمایا : آپ بھی ایک انسان تھے ، آپ اپنے کپڑے میں جوئیں دیکھ لیا کرتے تھے ، اپنی بکری کا دودھ خود دھوتے تھے اور اپنے ذاتی کام خود کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ الترمذی فی الشمائل و البخاری فی الأدب المفرد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5823

وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: دَخَلَ نَفَرٌ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالُوا لَهُ: حَدِّثْنَا أَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ جَارَهُ فَكَانَ إِذَا نزل الْوَحْيُ بَعَثَ إِلَيَّ فَكَتَبْتُهُ لَهُ فَكَانَ إِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ مَعَنَا فَكُلُّ هَذَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
خارجہ بن زید بن ثابت بیان کرتے ہیں ، کچھ افراد زید بن ثابت ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے ان سے کہا ، آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث سناؤ ، انہوں نے کہا ، میں آپ کا پڑوسی تھا ، جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ مجھے بلاتے اور میں وحی کو لکھ دیتا تھا ، جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تھے تو آپ ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے تھے ، جب ہم آخرت کا ذکر کرتے تو آپ ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے تھے ، اور جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپ ہمارے ساتھ کھانے کا ذکر فرماتے تھے ۔ میں یہ ساری باتیں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے بیان کر رہا ہوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی فی الشمائل و فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5824

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَافَحَ الرَّجُلَ لَمْ يَنْزِعْ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَنْزِعُ يَدَهُ وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَن وَجهه وَلم يُرَ مقدِّماً رُكْبَتَيْهِ بَين يَدي جليس لَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آدمی سے مصافحہ فرماتے تھے تو آپ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے حتی کہ وہ آدمی خود اپنا ہاتھ چھڑا لیتا تھا ، آپ اپنا چہرہ مبارک (توجہ) اس شخص سے نہیں ہٹاتے تھے حتی کہ وہ شخص خود اپنا چہرہ آپ کے چہرۂ مبارک سے ہٹا لیتا (کسی اور طرف متوجہ کر لیتا) اور آپ کو مجلس میں اپنے ہم نشین سے آگے گھٹنے نکال کر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5825

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا ذخیرہ نہیں کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5826

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلَ الصَّمْتِ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ زیادہ تر خاموش رہا کرتے تھے ، (بلا ضرورت تکلم نہیں فرماتے تھے) ۔ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5827

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ فِي كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْتِيلٌ وَتَرْسِيلٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے کلام میں ترتیل اور ٹھہراؤ تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5828

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ يَحْفَظُهُ من جَلَسَ إِلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح نہایت تیز گفتگو نہیں فرماتے تھے ، بلکہ آپ کا کلام الگ الگ ہوتا تھا ، آپ کے پاس بیٹھنے والا اسے یاد کر لیتا تھا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5829

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5830

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَتَحَدَّثُ يُكْثِرُ أَنْ يَرْفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاء. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب گفتگو فرمانے کے لیے بیٹھتے تو آپ (نزول وحی کے انتظار میں) آسمان کی طرف بہت دیکھتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5831

عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُهُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ. قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عمرو بن سعید ، انس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو اپنے بچوں کے ساتھ مہربان نہیں دیکھا ، آپ کے بیٹے ابراہیم مدینے کے دیہات میں زیر رضاعت تھے ، آپ (وہاں) تشریف لے جایا کرتے تھے ، ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے ، آپ اس گھر میں داخل ہو جاتے ، اس میں دھواں ہوتا تھا ، کیونکہ ابراہیم کی دایہ کا شوہر لوہار تھا ، آپ ﷺ اسے پکڑتے اس کا بوسہ لیتے اور پھر واپس آ جاتے تھے ۔ عمرو بیان کرتے ہیں ، جب ابراہیم فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا بیٹا ابراہیم چونکہ شیر خوارگی کے عالم میں فوت ہوا ہے اس لئے جنت میں اس کے لیے دو دایہ ہیں جو مدت رضاعت مکمل کریں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5832

وَعَن عَليّ أَنَّ يهوديّاً يُقَالُ لَهُ: فُلَانٌ حَبْرٌ كَانَ لَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَنَانِيرُ فَتَقَاضَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «يَا يَهُودِيُّ مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ» . قَالَ: فَإِنِّي لَا أُفَارِقُكَ يَا مُحَمَّدُ حَتَّى تُعْطِيَنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذًا أَجْلِسُ مَعَكَ» فَجَلَسَ مَعَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَالْغَدَاةَ وَكَانَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَدَّدُونَهُ وَيَتَوَعَّدُونَهُ فَفَطِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الَّذِي يَصْنَعُونَ بِهِ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَهُودِيٌّ يَحْبِسُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنَعَنِي رَبِّي أَنْ أَظْلِمَ مُعَاهِدًا وَغَيْرَهُ» فَلَمَّا تَرَجَّلَ النَّهَارُ قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَشَطْرُ مَالِي فِي سبيلِ الله أَمَا وَاللَّهِ مَا فَعَلْتُ بِكَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ إِلَّا لِأَنْظُرَ إِلَى نَعْتِكَ فِي التَّوْرَاةِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَمُهَاجَرُهُ بِطَيْبَةَ وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا مُتَزَيٍّ بِالْفُحْشِ وَلَا قَوْلِ الْخَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَهَذَا مَالِي فَاحْكُمْ فِيهِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَكَانَ الْيَهُودِيُّ كَثِيرَ المالِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»
علی ؓ سے روایت ہے کہ فلاں نام سے موسوم ایک یہودی عالم تھا ، اس کا رسول اللہ ﷺ پر کچھ دینار قرض تھا ، اس نے نبی ﷺ سے تقاضا کیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ یہودی ! تمہیں دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا : محمد ! میں تو لے کر ہی یہاں سے ہلوں گا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اچھا پھر میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں ۔‘‘ آپ اس کے ساتھ بیٹھ گئے ، رسول اللہ ﷺ نے ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نماز اس کے ساتھ ادا کی ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اسے ڈراتے دھمکاتے رہے ، رسول اللہ ﷺ کو صحابہ کرام کے اس عمل کی اطلاع ہو گئی ، تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ایک یہودی نے آپ کو روک رکھا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے رب نے کسی ذمی وغیرہ پر ظلم کرنے سے مجھے منع فرمایا ہے ۔‘‘ جب سورج بلند ہوا (دن چڑھا) تو اس یہودی نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ میرا نصف مال اللہ کی راہ میں وقف ہے ؟ سن لو ، اللہ کی قسم ! میں نے آپ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا وہ محض اس لیے کیا تا کہ میں تورات میں آپ کا مذکورہ تعارف دیکھ سکوں ، محمد بن عبداللہ ان کی جائے پیدائش مکہ ، دارِ ہجرت طیبہ (مدینہ منورہ) ، ان کی سلطنت شام تک ، وہ بد زبان ہیں نہ سخت دل اور نہ ہی بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں ، وہ فحش پوش ہیں نہ فحش گو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور یہ مال ہے آپ اللہ کے احکامات کی روشنی میں اس میں جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں ، اور یہودی بہت زیادہ مال دار تھا ۔ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5833

وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ والمسكين فَيَقْضِي الْحَاجة. رَوَاهُ النَّسَائِيّ والدارمي
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ذکر کثرت سے کیا کرتے تھے ، بے مقصد بات بہت ہی کم کیا کرتے تھے ، نماز (خاص طور پر جمعہ کی نماز) لمبی پڑھا کرتے تھے ۔ خطبہ مختصر دیا کرتے تھے ، آپ بیواؤں اور مساکین کے ساتھ چلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ ان کے کام کرتے اور ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5834

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: إنَّا لَا نُكذِّبكَ ولكنْ نكذِّبُ بِمَا جئتَ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِمْ: [فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ ولكنَّ الظالمينَ بآياتِ اللَّهِ يَجْحَدونَ] رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
علی ؓ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے نبی ﷺ سے کہا : ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ ہم تو اس چیز کی تکذیب کرتے ہیں ، جو آپ لے کر آئے ہیں ، تب اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی :’’ یہ لوگ آپ کی تکذیب نہیں کرتے ، بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5835

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِي جِبَالُ الذَّهَبِ جَاءَنِي مَلَكٌ وَإِنَّ حُجْزَتَهُ لَتُسَاوِي الْكَعْبَةَ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا فَنَظَرْتُ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ ضَعْ نَفْسَكَ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! اگر میں چاہوں تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلیں ، ایک فرشتہ میرے پاس آیا ، اس کی کمر (کی چوڑائی) کعبہ (کے طول) کے برابر تھی ، اس نے (آ کر) کہا : تمہارا رب تمہیں سلام کہتا ہے ، اور وہ کہتا ہے : اگر آپ چاہیں تو آپ کو عابد نبی بنا دیتے ہیں اور اگر آپ پسند فرمائیں تو آپ کو بادشاہ پیغمبر بنا دیتے ہیں ، میں نے جبریل ؑ کی طرف دیکھا تو انہوں نے میری طرف اشارہ کیا کہ اپنے آپ کو پست و عاجز رکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5836

وَفِي رِوَايَة ابْن عبَّاسٍ: فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ كَالْمُسْتَشِيرِ لَهُ فَأَشَارَ جِبْرِيلُ بِيَدِهِ أَنْ تَوَاضَعْ. فَقُلْتُ: «نَبِيًّا عَبْدًا» قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ ذَلِكَ لَا يَأْكُلُ متكأ يَقُولُ: «آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ العبدُ» رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
اور ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے ، رسول اللہ ﷺ نے جبریل ؑ کی طرف دیکھا جیسے آپ ان سے مشورہ کر رہے ہیں ، جبریل ؑ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، میں نے کہا : میں عبادت گزار نبی بننا پسند کرتا ہوں ۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ٹیک لگا کر نہیں کھایا کرتے تھے ، اور فرمایا کرتے تھے :’’ میں ایسے کھاؤں گا ، جیسے (عام) بندہ ، کھاتا ہے ، اور میں ایسے بیٹھوں گا ، جیسے بندہ بیٹھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5837

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثلاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فهاجرَ عشر سِنِينَ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث کیا گیا ، آپ (نبوت کے) تیرہ سال مکے میں رہے اور آپ پر وحی آتی رہی ، پھر آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا تو آپ نے ہجرت کے دس سال (مدینے میں) قیام فرمایا ، اور آپ نے تریسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5838

وَعَنْهُ قَالَ: أَقَامَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرَى شَيْئًا وَثَمَانِ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ مکہ میں پندرہ برس رہے ، آپ سات سال تک آواز سنتے اور روشنی دیکھتے رہے ، اور (اس کے علاوہ) آپ کوئی چیز نہیں دیکھتے تھے ، اور آٹھ سال آپ کی طرف وحی آتی رہی ، آپ نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا : اور پینسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5839

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: تَوَفَّاهُ اللَّهُ على رَأس سِتِّينَ سنة. مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ساٹھ سال مکمل ہونے پر وفات دی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5840

وَعَنْهُ قَالَ: قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل البُخَارِيّ: ثَلَاث وَسِتِّينَ أَكثر
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی جب روح قبض کی گئی تو اس وقت آپ کی عمر تریسٹھ برس تھی ، ابوبکر اور عمر ؓ کی بھی روح جب قبض کی گئی تو اس وقت ان کی عمریں بھی تریسٹھ برس کی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔ محمد بن اسماعیل امام بخاری ؒ نے فرمایا : تریسٹھ برس کی عمر کے متعلق روایات زیادہ ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5841

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إليهِ الخَلاءُ وكانَ يَخْلُو بغارِ حِراءٍ فيتحنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدَ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدَ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقَالَ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ» . قَالَ: فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجهد ثمَّ أَرْسلنِي فَقَالَ: [اقرَأْ باسمِ ربِّكَ الَّذِي خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ. الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لم يعلم] . فَرجع بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لخديجةَ وأخبرَها الخبرَ: «لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي» فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وتقْرِي الضيفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْ