MISHKAT

Search Result (316)

29)

29) كتاب المناقب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5979

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْن مسلمهم تبع مسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس (دین یا خلافت) کے معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں ، ان (لوگوں) کے مسلمان ، قریشی مسلمانوں کے تابع ہیں ، اور ان (عام لوگوں) کے کافر ، ان (قریش کے) کافروں کے تابع ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5980

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّر» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ خیر (اسلام) اور شر (کفر) میں قریش کے تابع ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5981

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَان» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ معاملہ (خلافت) قریش میں رہے گا جب تک ان میں دو آدمی بھی باقی رہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5982

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجهه مَا أَقَامُوا الدّين» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے ، اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا اللہ اسے چہرے کے بل اوندھا کر کے ذلیل کر دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5983

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَة أَو يَكُونُ عَلَيْهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْش» . مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بارہ خلیفوں تک اسلام غالب رہے گا اور وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ لوگوں کے معاملات صحیح اور درست چلتے رہیں گے جب تک بارہ آدمی ان کے حکمران رہیں گے ، وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے :’’ قیامت تک دین قائم رہے گا اور ان پر بارہ خلیفے ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5984

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قبیلہ غفار جو ہے ، اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ، قبیلہ اسلم کو اللہ نے سلامت رکھا اور جو قبیلہ عصیہ ہے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5985

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، غفار اور اشجع قبیلے میرے حمایتی ہیں ، اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5986

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بني تَمِيم وَبني عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسْدٍ وَغَطَفَانَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلم ، غفار ، مزینہ ، اور جہینہ قبیلے ، بنو تمیم اور بنو عامر قبیلوں سے بہتر ہیں ، اور وہ دو حلیفوں بنو اسد اور غطفان سے بھی بہتر ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5987

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثلاثٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ» قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا» وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: «اعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے بنو تمیم کے متعلق جب سے رسول اللہ ﷺ سے تین خصلتیں سنی ہیں ، تب سے میں انہیں محبوب رکھتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہوں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ان کے صدقات آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں ۔‘‘ اور عائشہ ؓ کے پاس ان کے کچھ قیدی تھے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں آزاد کر دو کیونکہ وہ اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5988

عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ الله» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
سعد ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قریش کی اہانت کرنا چاہے گا اللہ اس کی اہانت و تذلیل کرے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5989

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! تو نے (بدر و احزاب میں) قریش کے پہلے افراد کو عذاب میں مبتلا کیا ، تو ان کے بعد والوں کو انعام عطا فرما ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5990

وَعَن أبي عَامر الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرُونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابوعامر اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسد اور اشعر قبیلے اچھے ہیں ، وہ میدان جہاد سے فرار ہوتے ہیں نہ خیانت کرتے ہیں ، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5991

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَزْدُ أَزْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًا وَيَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ازد قبیلہ زمین پر اللہ کا لشکر ہے ، لوگ چاہتے ہیں کہ وہ انہیں نیچا دکھائیں لیکن اللہ نے اس بات کا انکار فرما دیا ہے ، وہ انہیں رفعت ہی عطا فرماتا ہے ، لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ آدمی خواہش کرے گا کہ کاش میرا والد ازدی ہوتا اور کاش میری والدہ ازدی ہوتی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5992

وَعَن عمرَان بن حُصَيْن قَالَ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفٌ وَبَنِي حَنِيفَةَ وَبَنِي أُمَيَّةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے وفات پائی تو وہ تین قبیلوں کو ناپسند فرماتے تھے ، ثقیف ، بنو حنیفہ اور بنو امیہ ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5993

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ يُقَالُ: الْكَذَّابُ هُوَ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ وَالْمُبِيرُ هُوَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا فَبَلَغَ مِائَةَ ألفٍ وَعشْرين ألفا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ثقیف (قبیلے) میں ایک شخص کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔‘‘ عبداللہ بن عصمہ نے کہا : کذاب سے مراد مختار بن ابی عبید اور ظالم سے مراد حجاج بن یوسف ہے ، ہشام بن حسان نے کہا : حجاج نے جن افراد کو باندھ کر قتل کیا ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچتی ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5994

وَرَوَى مُسْلِمٌ فِي «الصَّحِيحِ» حِينَ قَتَلَ الْحَجَّاجُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَتْ أَسْمَاءَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا «أَن فِي ثَقِيف كذابا ومبيرا» فَأَما الْكذَّاب فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. وَسَيَجِيءُ تَمام الحَدِيث فِي الْفَصْل الثَّالِث
امام مسلم ؒ نے صحیح مسلم میں روایت کیا ہے ، جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو قتل کیا تو اسماء ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ ثقیف قبیلے میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔ رہا کذاب تو ہم نے اسے دیکھ لیا اور رہا ظالم تو میرا خیال ہے کہ یہ وہی ہے ۔ رواہ مسلم ۔ اور مکمل حدیث تیسری فصل میں آئے گی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5995

وَعَن جَابر قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ ثقيفا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ثقیف قبیلے کے تیروں نے ہمیں جلا کر رکھ دیا ہے ، آپ ان کے لیے اللہ سے بددعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ثقیف قبیلے کو ہدایت عطا فرما ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5996

وَعَن عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فجَاء رَجُلٌ أَحْسَبُهُ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ من الشقّ الآخر فَأَعْرض عَنهُ ثمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ويُروى عَن ميناءَ هَذَا أَحَادِيث مَنَاكِير
عبدالرزاق ، اپنے والد سے ، وہ میناء سے اور وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نبی ﷺ کے پاس تھے کہ آدمی آپ کے پاس آیا میرا خیال ہے قیس قبیلے سے تھا ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! حمیر قبیلے پر لعنت فرمائیں ، آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، پھر وہ دوسری جانب سے آیا تو آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، پھر وہ دوسری جانب سے آیا تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا ، نیز فرمایا :’’ اللہ حمیر پر رحم فرمائے ، ان کے منہ سلام کرتے ہیں ، ان کے ہاتھ کھانا کھلاتے ہیں ، اور وہ امن و امان والے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ہم اسے صرف عبدالرزاق کے طریق سے پہچانتے ہیں ، اور اس میناء سے منکر احادیث روایت کی جاتی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5997

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ دَوْسٍ. قَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أحدا فِيهِ خير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تم کس قبیلے سے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، دوس سے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نہیں سمجھتا تھا کہ دوس قبیلے کے کسی شخص میں بھلائی ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5998

وَعَن سلمَان قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ» قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ؟ قَالَ: «تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ مجھے ناراض نہ کرنا ورنہ تم اپنے دین سے نکل جاؤ گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو کیسے ناراض کر سکتا ہوں ، آپ کی وجہ سے اللہ نے ہمیں ہدایت نصیب فرمائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم عربوں سے دشمنی رکھو گے تو تم مجھ سے دشمنی رکھو گے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5999

وَعَن عُثْمَان بن عَفَّان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدَ أهل الحَدِيث بِذَاكَ الْقوي
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے عربوں کو فریب دیا تو وہ میری شفاعت میں داخل ہو گا نہ اسے میری مودّت نصیب ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اس حدیث کو صرف حصین بن عمر کے طریق سے پہچانتے ہیں ، اور وہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6000

وَعَن أم حَرِير مولاة طَلْحَة بن مَالك قَالَتْ: سَمِعْتُ مَوْلَايَ يَقُولَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
طلحہ بن مالک کی آزاد کردہ لونڈی ام الحریر بیان کرتی ہیں ، میں نے اپنے مالک کو بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی علامت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6001

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ» يَعْنِي الْيَمَنَ. وَفِي رِوَايَةٍ مَوْقُوفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا أصح
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خلافت قریش میں ہے ، قضاء انصار میں ، اذان حبشیوں میں اور امانت ازد یعنی یمن میں ہے ۔‘‘ یہ روایت موقوف ہے ، امام ترمذی نے اسے روایت کیا ، اور فرمایا : اس کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6002

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اس روز کے بعد روز قیامت تک کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6003

وَعَنْ أَبِي نَوْفَلٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوقف عَلَيْهِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولًا لِلرَّحِمِ أَمَا وَاللَّهِ لَأُمَّةٌ أَنْتَ شَرُّهَا لَأُمَّةُ سَوْءٍ - وَفِي رِوَايَةٍ لَأُمَّةُ خَيْرٍ - ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ وَقَوْلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ. قَالَ: فَأَبَتْ وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ من يسحبُني بقروني. قَالَ: فَقَالَ: أَرُونِي سِبْتِيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللَّهِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ وَأَمَّا الْآخَرُ فنطاق المرأةِ الَّتِي لَا تَسْتَغْنِي عَنهُ أما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدثنَا: «أَن فِي ثَقِيف كذابا ومبيرا» . فَأَما الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاه. قَالَ فَقَامَ عَنْهَا وَلم يُرَاجِعهَا. رَوَاهُ مُسلم
ابو نوفل معاویہ بن مسلم بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو مدینے کی گھاٹی پر (سولی پر لٹکتے ہوئے) دیکھا ، قریشی اور دوسرے لوگ ان کے پاس سے گزرتے رہے حتیٰ کہ عبداللہ بن عمر ؓ ان کے پاس سے گزرے اور وہاں ٹھہر کر فرمایا : ابو خبیب ! تم پر سلام ، ابو خبیب ! تم پر سلام ، ابو خبیب ! تم پر سلام ، اللہ کی قسم ! کیا میں تمہیں اس (خلافت کے معاملے) سے منع نہیں کرتا تھا ، اللہ کی قسم ! کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ اللہ کی قسم ! میں تمہیں بہت روزے رکھنے والا ، بہت زیادہ قیام کرنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا ہی جانتا ہوں ، سن لو ! اللہ کی قسم ! جو لوگ تجھے برا خیال کرتے ہیں حقیقت میں وہ خود برے ہیں ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، (جو تمہیں برا سمجھتے ہیں کیا) وہ لوگ اچھے ہیں ؟ پھر عبداللہ بن عمر ؓ چلے گئے ، حجاج کو عبداللہ کا مؤقف اور ان کی بات پہنچی تو اس نے انہیں بلا بھیجا ، ان (عبداللہ بن زبیر ؓ) کو سولی سے اتار دیا گیا اور انہیں یہودیوں کے قبرستان میں ڈال دیا گیا ۔ پھر حجاج نے ان کی والدہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کو بلا بھیجا تو انہوں نے آنے سے انکار کر دیا ، پھر اس نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ آپ آ جائیں ورنہ میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جو تمہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ لائے گا ، راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے انکار کیا اور کہا ، اللہ کی قسم ! میں تیرے پاس نہیں آؤں گی حتیٰ کہ تو اس شخص کو میرے پاس بھیجے جو میرے بالوں سے پکڑ کر مجھے گھسیٹے ، راوی بیان کرتے ہیں ، حجاج نے کہا : میرے جوتے مجھے دو ، اس نے اپنے جوتے پہنے اور تیز تیز چلتا ہوا ان تک پہنچ گیا ، اور کہا : بتاؤ ! اللہ کے دشمن کے ساتھ میں نے کیسا سلوک کیا ؟ اسماء ؓ نے فرمایا : میں سمجھتی ہوں کہ تو نے عبداللہ ؓ کی دنیا خراب کی اور اس نے تیری آخرت برباد کر دی ۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (توہین کے انداز میں) اسے ذات النطاقین (دو ازار والی) کا بیٹا کہتا ہے ، اللہ کی قسم ! میں ذات النطاقین ہوں ، ان (ازار بندوں) میں سے ایک کے ساتھ میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے کھانے کو چوپایوں سے بچانے کے لیے ، اور رہا دوسرا تو اس سے کوئی بھی عورت بے نیاز نہیں ہو سکتی ، سن لو ! کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیث بیان فرمائی کہ ’’ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔‘‘ رہا کذاب تو ہم اسے دیکھ چکے ، اور رہا ظالم تو میرا خیال ہے کہ وہ تم ہی ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ ان کے پاس سے چلا گیا اور پھر ان کے پاس دوبارہ نہیں آیا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6004

وَعَن نَافِع عَن ابْنَ عُمَرَ أَتَاهُ رَجُلَانِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا: إِنَّ النَّاسَ صَنَعُوا مَا تَرَى وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ؟ فَقَالَ: يَمْنعنِي أنَّ اللَّهَ حرم دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ. قَالَا: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: [وقاتلوهم حَتَّى لَا تكونَ فتْنَة] فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لغيرِ اللَّهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ابن زبیر ؓ کے فتنے سے پہلے دو آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : لوگوں نے جو کچھ کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں اور آپ عمر ؓ کے بیٹے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں ، آپ کو نکلنے سے کون سی چیز مانع ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے لیے یہ چیز مانع تھی کہ اللہ نے مسلمان کو قتل کرنا مجھ پر حرام قرار دیا ہے ، ان دونوں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا :’’ ان سے قتال کرو حتیٰ کہ فتنہ ختم ہو جائے ۔‘‘ ابن عمر ؓ نے فرمایا : ہم نے قتال کیا حتیٰ کہ فتنہ (شرک) ختم ہو گیا اور دین خالص اللہ کے لیے ہو گیا ، اور تم چاہتے ہو کہ تم لڑو حتیٰ کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6005

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وسل فَقَالَ: إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، طفیل بن عمرو دوسی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا : دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا ، اس نے نافرمانی کی اور انکار کیا ، آپ ان کے لیے بددعا کریں ، لوگوں نے سمجھا کہ آپ ان کے لئے بددعا کریں گے ۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! دوس کو ہدایت نصیب فرما اور انہیں (مسلمان بنا کر) لے آ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6006

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّي عَرَبِيٌّ وَالْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ وَكَلَامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عربيٌّ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الْإِيمَان
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عربوں کے ساتھ تین خصلتوں کی وجہ سے محبت کرو ، کیونکہ میں عربی ہوں ، قرآن عربی (زبان میں) ہے اور اہل جنت کا کلام عربی میں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6007

عَن أبي سعيدٍ الْخُدْرِيّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نصيفه» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ کو برا مت کہو ، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر ڈالے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے مد (تقریباً سوا چھ سو گرام) خرچ کرنے کو پہنچ سکتا ہے نہ اس کے نصف مد کو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6008

وَعَن أبي بردة عَن أَبيه قَالَ: رَفَعَ - يَعْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم - رَأسه إِلَى السَّمَاء وَكَانَ كثيرا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ. فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومَ أَتَى السَّمَاءَ مَا توعَدُ وَأَنا أَمَنةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمتي مَا يُوعَدُون» . رَوَاهُ مُسلم
ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، آپ یعنی نبی ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ، اور آپ اکثر اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ستارے آسمان کی حفاظت کا باعث ہیں ، جب ستارے جاتے رہیں گے تو آسمان وعدہ کے مطابق ٹوٹ پھوٹ جائے گا ، اور میں اپنے صحابہ کی حفاظت کا باعث ہوں ، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ کو ان فتنوں کا سامنا ہو گا جس کا ان سے وعدہ ہے ، اور میرے صحابہ میری امت کی حفاظت کا باعث ہیں ، جب میرے صحابہ جاتے رہیں گے تو میری امت میں وہ چیزیں (بدعات وغیرہ) آ جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6009

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُم بِهِ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی ، ان سے کہا جائے گا : کیا تم میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی صحابی بھی ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، انہیں فتح ہو گی ، پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی صحبت اختیار کی ہو ؟ وہ کہیں گے ہاں ، تو انہیں فتح حاصل ہو گی ۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی ، ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں کوئی تبع تابعین ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، تو انہیں فتح حاصل ہو گی ۔‘‘ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ان میں سے ایک لشکر بھیجا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا : دیکھو ، کیا تم اپنے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا کوئی صحابی پاتے ہو ؟ ایک صحابی مل جائے گا تو انہیں فتح نصیب ہو جائے گی ، پھر دوسرا لشکر بھیجا جائے گا ، تو ان سے کہا جائے گا : کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو ؟ انہیں فتح حاصل ہو گی ۔ پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا ، تو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو ؟ پھر چوتھا لشکر ہو گا ، کہا جائے گا : کیا تم ان میں کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہو جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھنے والے شخص کو دیکھا ہو ، ایسا شخص مل جائے گا تو انہیں فتح حاصل ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6010

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذُرُونَ وَلَا يفون وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَيَحْلِفُونَ وَلَا يستحلفون» . مُتَّفق عَلَيْهِ
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے ، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دیں گے ، وہ خیانت کریں گے ، اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا ، وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے ، اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6011

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «ثُمَّ يخلف قوم يحبونَ السمانة»
اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے :’’ پھر ایسے لوگ جانشین بنیں گے جو موٹاپے کو پسند کریں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6012

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَحْلِفُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ وَيَشْهَدُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ أَلَا مَنْ سَرَّهُ بُحْبُوحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمْ وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سيئته فَهُوَ مُؤمن»
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ کی عزت کرو ، کیونکہ وہ تم میں سے سب سے بہتر ہیں ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا حتیٰ کہ آدمی حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائے گا ، گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا ، سن لو ! جو شخص جنت کے وسط میں مقام حاصل کرنا پسند کرتا ہے وہ جماعت کے ساتھ لگا رہے ، کیونکہ منفرد شخص کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور وہ دو افراد سے (ایک کی نسبت) زیادہ دور ہوتا ہے ، اور کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ تیسرا ان کا شیطان ہوتا ہے ، اور جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے بری لگے تو وہ مومن ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی فی اکبریٰ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6013

وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَو رأى من رَآنِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس مسلمان کو ، جس نے مجھے دیکھا یا اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ، جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6014

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ ؓ کے (حقوق کے) متعلق اللہ سے بار بار ڈرتے رہنا ، میرے بعد انہیں نشانہ مت بنانا ، جس شخص نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کے باعث ان سے محبت کی ، اور جس نے ان سے دشمنی رکھی تو اس نے میرے ساتھ دشمنی رکھنے کی وجہ سے ان سے دشمنی رکھی ، جس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی ، اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی ، اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی ، قریب ہے کہ وہ اس کو (دنیا میں) پکڑ لے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6015

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أَصْحَابِي فِي أُمَّتِي كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ لَا يَصْلُحُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ» قَالَ الْحَسَنُ: فَقَدْ ذَهَبَ مِلْحُنَا فَكَيْفَ نصلح؟ رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں میرے صحابہ کی مثال اس طرح ہے جس طرح کھانے میں نمک ، اور کھانا نمک کے ساتھ ہی بہتر (لذیذ) بنتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔ حسن بصری ؒ نے فرمایا : ہمارا نمک تو جا چکا تو ہم کس طرح سنور سکتے ہیں ؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6016

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَذُكِرَ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ «لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ» فِي بَاب «حفظ اللِّسَان»
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا کوئی صحابی جس سرزمین پر فوت ہو گا تو وہ قیامت کے دن ان لوگوں کا قائد اور نور بن کر اٹھایا جائے گا ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور ابن مسعود ؓ سے ((لا یبلغنی احد)) مروی حدیث باب حفظ اللسان میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6017

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِذا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شركم . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہوں تو تم کہو : تمہارے شر پر اللہ کی لعنت ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6018

وَعَن عمر بن الْخطاب قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِي مِنْ بَعْدِي فَأَوْحَى إِلَيَّ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أَصْحَابَكَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ بَعْضُهَا أَقْوَى مِنْ بَعْضٍ وَلِكُلٍّ نُورٌ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ فَهُوَ عِنْدِي عَلَى هُدًى قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ» . رَوَاهُ رزين
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے اپنے رب سے ۔ اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق دریافت کیا تو اس نے میری طرف وحی فرمائی :’’ محمد ! آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں سے بعض ، بعض سے زیادہ قوی ہیں ، اور ہر ایک کی روشنی ہے ، اور جس شخص نے باوجود ان کے اختلاف کے جن پر وہ ہیں ، عمل کیا تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔‘‘ ضعیف جذا ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6019

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ - وَعِنْدَ الْبُخَارِيِّ أَبَا بَكْرٍ - وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوسعید خدری ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وقت اور مال صرف کرنے کے لحاظ سے ابوبکر کا مجھ پر سب سے زیادہ احسان ہے ۔‘‘ اور صحیح بخاری میں لفظ ’’ابابکر‘‘ ہے ۔‘‘ اور اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو میں لازماً ابوبکر کو خلیل بناتا ، لیکن اخوتِ اسلامی اور اس کی مودت و محبت کافی ہے ، مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں البتہ ابوبکر کا دروازہ رہنے دو ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی اور کو دوست بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6020

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَدِ اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن مسعود ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا ، لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں اور اللہ تمہارے ساتھی کو خلیل بنا چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6021

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ: أَنَا وَلَا وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ «. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي» كِتَابِ الْحميدِي : «أَنا أولى» بدل «أَنا وَلَا»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض میں مجھے فرمایا :’’ اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ حتیٰ کہ میں تحریر لکھ دوں ، مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں خلافت کا مستحق ہوں ، حالانکہ اللہ اور تمام مومن صرف ابوبکر کو ہی قبول کریں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور کتاب الحمیدی میں ((أنا ولا)) کی جگہ : ((أنا اولی)) کے الفاظ ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6022

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ؟ كَأَنَّهَا تُرِيدُ الْمَوْتَ. قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی تو اس نے کسی معاملہ میں آپ سے بات کی تو آپ نے اسے دوبارہ اپنی خدمت میں حاضر ہونے کا حکم فرمایا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں ، گویا اس سے مراد (آپ ﷺ کی) وفات تھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم مجھے نہ پاؤ تو پھر ابوبکر کے پاس آنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6023

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» . قُلْتُ: مِنِ الرِّجَالِ؟ قَالَ: «أَبُوهَا» . قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «عُمَرُ» . فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرهم. مُتَّفق عَلَيْهِ
عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے غزوۂ ذات السلاسل میں ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ سے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : مردوں میں سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے والد (ابوبکر ؓ) سے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : پھر کس سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر سے ۔‘‘ آپ نے کئی آدمی گنے ، (کہ اس کے بعد فلاں ، پھر فلاں ....) پھر میں اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ مجھے ان میں سے سب سے آخر میں نہ لے جائیں ، خاموش ہو گیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6024

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ. قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ. وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ: عُثْمَانُ. قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ قَالَ: «مَا أَنَا إِلَّا رجلٌ من الْمُسلمين» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے والد سے کہا : نبی ﷺ کے بعد سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر ؓ ۔ میں نے پوچھا : پھر کون ؟ انہوں نے فرمایا : عمر ؓ ۔ اور اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ عثمان ؓ کہہ دیں گے ، میں نے کہا : پھر آپ ؟ انہوں نے فرمایا : میں تو ایک عام مسلمان ہوں ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6025

وَعَن ابْن عمرٍ قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عمر ثمَّ عُثْمَان رَضِي الله عَنْهُم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے زمانے میں ابوبکر ؓ کے برابر کسی کو قرار نہیں دیتے تھے ، پھر عمر ؓ اور پھر عثمان ؓ پھر ہم نبی ﷺ کے صحابہ (کی باہم فضیلت کی بحث) کو ترک کر دیتے تھے اور ہم ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے ۔ اور ابوداؤد کی روایت ہے : ہم رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں کہا کرتے تھے کہ نبی ﷺ کی امت میں آپ کے بعد سب سے افضل ابوبکر ؓ ہیں ، پھر عمر ؓ ہیں اور پھر عثمان ؓ ہیں ۔ رواہ البخاری و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6026

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللَّهُ بهَا يومَ الْقِيَامَة وَمَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ؓ کے علاوہ جس شخص نے ہم پر کوئی احسان کیا تھا ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے ، لیکن انہوں نے جو کچھ ہمیں عطا کیا ہے ، اس کی جزا روز قیامت اللہ ہی انہیں عطا فرمائے گا ۔ اور کسی شخص کے مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر ؓ کے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے ، اگر میں نے کسی شخص کو خلیل (جگری دوست) بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا ، سن لو ! تمہارا صاحب ، اللہ کا خلیل ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6027

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمر ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ابوبکر ؓ ہمارے سردار ہیں ، ہم سب سے بہتر ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو ہم سب سے زیادہ پیارے ہیں ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6028

وَعَن ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وصاحبي على الْحَوْض» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا :’’ تم میرے غار کے ساتھی ہو ، اور حوض پر میرے ساتھی ہو گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6029

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر کی موجودگی میں کسی اور شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان کی امامت کرائے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6030

وَعَن عُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ وَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالًا فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا. قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقُلْتُ: مِثْلَهُ. وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ. فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ؟ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» . فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قُلْتُ: لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ، اس وقت میرے پاس مال بھی تھا ، میں نے (دل میں) کہا : اگر ہو سکا تو میں آج ابوبکر ؓ پر سبقت لے جاؤں گا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں اپنا نصف مال لے کر حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اتنا ہی (یعنی نصف) ابوبکر ؓ اپنا سارا اثاثہ لے کر حاضر ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول (کی رضا) چھوڑ کر آیا ہوں ، میں (عمر ؓ) نے کہا : میں کسی چیز میں ان سے کبھی بھی سبقت حاصل نہیں کر سکتا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6031

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْت عتيقُ اللَّهِ من النَّار» . فَيَوْمئِذٍ سمي عتيقا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ آگ سے اللہ کے آزاد کردہ (عتیق اللہ) ہیں ۔‘‘ اس روز سے ان کا نام (لقب) عتیق رکھ دیا گیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6032

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أحشرَ بَين الْحَرَمَيْنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا ، پھر ابوبکر کو ، پھر عمر کو پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ جمع کیے جائیں گے ، پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا حتیٰ کہ میں حرمین کے درمیان جمع کیا جاؤں گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6033

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي يَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے ہاتھ سے پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی ۔‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا حتیٰ کہ میں اسے دیکھ لیتا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! ابوبکر ! میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تم ہی تو ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6034

عَن عمر ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَكَى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهُ مِثْلُ عَمَلِهِ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهِ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَار فَلَمَّا انتهينا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهُ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهِ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَاره وسدها بِهِ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَان فألقمها رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ رَأسه فِي حجره وَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهِ مِنَ الْجُحر وَلم يَتَحَرَّك مَخَافَة أَن ينتبه رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهِ وَأَمَّا يَوْمُهُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيّ؟ . رَوَاهُ رزين
عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ابوبکر ؓ کا تذکرہ کیا گیا تو وہ رو پڑے اور کہا : میں چاہتا ہوں کہ میرے سارے عمل ان کے ایام میں سے ایک یوم اور ان کی راتوں میں سے ایک رات کی مثل ہو جائیں ، رہی ان کی رات ، تو وہ رات جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غار کی طرف سفر کیا تھا ، جب وہ دونوں وہاں تک پہنچے تو ابوبکر نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! آپ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ میں آپ سے پہلے داخل ہو جاؤں ، تا کہ اگر اس میں کوئی چیز ہو تو اس کا نقصان مجھے پہنچے آپ اس سے محفوظ رہیں ، وہ اس میں داخل ہوئے ، اسے صاف کیا ، اور انہوں نے اس کی ایک جانب سوراخ دیکھے ، انہوں نے اپنا ازار پھاڑا اور اس سے سوراخوں کو بند کیا ، مگر دو سوراخ باقی رہ گئے اور انہوں نے ان پر اپنے پاؤں رکھ دیے ، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، تشریف لے آئیں ، رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لے آئے اور اپنا سر مبارک ان کی گود میں رکھ کر سو گئے ، سوراخ سے ابوبکر کا پاؤں ڈس لیا گیا ، لیکن انہوں نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ بیدار نہ ہو جائیں حرکت نہ کی ، ان کے آنسو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر گرے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ! کیا ہوا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر فدا ہوں مجھے ڈس لیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے لعاب لگایا اور تکلیف جاتی رہی ، اور بعد ازاں اس زہر کا اثر ان پر دوبارہ شروع ہو گیا اور یہی ان کی وفات کا سبب بنا ، رہا ان کا دن تو جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی کچھ عرب مرتد ہو گئے اور انہوں نے کہا : ہم زکوۃ نہیں دیں گے ، انہوں نے فرمایا : اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا تو میں ان سے جہاد کروں گا ۔ میں نے کہا : رسول اللہ کے خلیفہ ! لوگوں کو ملائیں اور نرمی کریں ، انہوں نے مجھے فرمایا : کیا جاہلیت میں سخت تھے اور اسلام میں بزدل ہو گئے ہو ، وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، دین مکمل ہو چکا ، تو کیا میرے جیتے ہوئے دین کم (ناقص) ہو جائے گا ؟ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6035

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أمّتي أحدٌ فإِنَّه عمر» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سے پہلی امتوں میں محدث (جنہیں الہام ہوتا ہو) ہوا کرتے تھے ، اگر میری امت میں کوئی شخص (محدث) ہوتا تو وہ عمر ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6036

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: اسْتَأْذن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ فَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ» قَالَ عُمَرُ: يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم؟ قُلْنَ: نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: زَادَ الْبَرْقَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا أَضْحَكَكَ
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی ، اس وقت آپ کے پاس قریش کی چند خواتین (آپ کی ازواج مطہرات) تھیں ، وہ آپ سے بلند آواز میں گفتگو کر رہیں تھیں اور آپ سے نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں ، جب عمر ؓ نے اجازت طلب کی تو وہ کھڑی ہوئیں اور جلدی سے پردے میں چلی گئیں ، عمر ؓ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ ہنس رہے تھے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ آپ کو سدا خوش رکھے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے ان پر تعجب ہے کہ وہ میرے پاس تھیں ، جب انہوں نے آپ کی آواز سنی تو وہ فوراً حجاب میں چلی گئیں ۔‘‘ عمر ؓ نے فرمایا : اپنی جان کی دشمنو ! تم مجھ سے ڈرتی ہو لیکن رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو ، انہوں نے فرمایا : ہاں ، آپ سخت مزاج اور سخت دل ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن خطاب ! اور کچھ کہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا مل جاتا ہے تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور امام حمیدی ؒ بیان کرتے ہیں ، برقانی نے ’’یا رسول اللہ‘‘ کے الفاظ کے بعد ’’ما أضحک‘‘ ’’آپ کو کس چیز نے ہنسایا‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6037

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: دخلتُ الجَنَّةَ فإِذا أَنا بالرُميضاء امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا بِلَالٌ وَرَأَيْتُ قَصْرًا بِفِنَائِهِ جاريةٌ فَقلت: لمن هَذَا؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِليه فذكرتُ غيرتك فَقَالَ عمر: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَيْكَ أغار؟ . مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (معراج کی رات) میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے ابوطلحہ ؓ کی اہلیہ رمیصاء کو دیکھا (نیز) میں نے قدموں کی آواز سنی تو میں نے پوچھا ، یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ بلال ہیں ، میں نے ایک محل دیکھا ، اس کے صحن میں ایک لونڈی دیکھی ، میں نے پوچھا :’’ یہ (محل) کس کے لیے ہے ؟‘‘ انہوں نے بتایا ، عمر بن خطاب ؓ کے لیے ہے ، میں نے اس کے اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا تا کہ میں اسے دیکھ سکوں ، لیکن مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، کیا میں آپ سے غیرت کروں گا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6038

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں سو رہا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ میرے سامنے پیش کیے گئے ہیں ، ان پر قمیصیں تھیں ، ان میں سے کسی کی قمیص سینے تک پہنچتی تھی ، کسی کی اس سے چھوٹی تھی ، عمر بن خطاب ؓ مجھ پر پیش کیے گئے ، ان پر جو قمیص تھی وہ (چلتے وقت) اسے گھسیٹتے تھے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی کیا تاویل فرمائی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس سے) دین مراد ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6039

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمَ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں سویا ہوا تھا تو میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا تو میں نے پی لیا حتیٰ کہ سیرابی کا اثر میں نے اپنے ناخنوں میں ظاہر ہوتا دیکھا ، پھر میں نے اپنے سے بچا ہوا عمر بن خطاب ؓ کو عطا کیا :’’ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی کیا تاویل فرمائی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ علم ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6040

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ؟ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفَهُ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ حَتَّى ضرب النَّاس بِعَطَن»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا ، اس پر ایک ڈول تھا ، جس قدر اللہ نے چاہا میں نے اس سے پانی نکالا ، پھر ابن ابی قحافہ (ابوبکر ؓ) نے اسے حاصل کر لیا ، انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے ، اور ان کے نکالنے میں ضعف تھا ، اللہ ان کے ضعف کو معاف فرمائے ، پھر وہ (ڈول) بڑے ڈول میں بدل گیا ، اور عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا ، میں نے ایسا طاقت ور آدمی نہیں دیکھا جو عمر ؓ کی طرح ڈول کھینچتا ہو ، حتیٰ کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6041

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بعَطَنٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے ابن خطاب نے اسے لے لیا تو وہ ان کے ہاتھ میں بڑا ہو گیا ، میں نے ایسا سردار نہیں دیکھا جو ان کی طرح کام کرتا ہو ، حتیٰ کہ لوگ سیراب ہو گئے اور انہوں نے اونٹوں کو بھی حوض سے سیراب کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6042

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے حق کو عمر ؓ کی زبان اور ان کے دل پر جاری فرما دیا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6043

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَان عمر يَقُول بِهِ»
اور ابوداؤد کی روایت میں جو کہ ابوذر ؓ سے مروی ہے ، فرمایا :’’ اللہ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے جس کے ذریعے وہ بولتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6044

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عمر. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»
علی ؓ نے فرمایا : ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے کہ تسکین بخشنے والا کلام عمر ؓ کی زبان پر جاری ہوتا ہے ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6045

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ ثُمَّ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ظَاهرا. رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے غلبہ عطا فرما ۔‘‘ صبح ہوئی تو عمر پہلے پہر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور اسلام قبول کیا ، پھر آپ نے مسجد میں علانیہ نماز ادا فرمائی ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6046

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَلِكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا : اے وہ انسان جو رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر شخصیت ہے ! ابوبکر ؓ نے فرمایا : سن لو ! اگر آپ نے یہ بات کی ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ عمر سے بہتر شخص کوئی نہیں جس پر سورج طلوع ہوا ہو ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6047

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لوكان بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6048

وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كنتُ نذرت إِن ردك الله سالما أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا» فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ واپس ہوئے تو ایک سیاہ فام عورت آپ کے پاس آئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آیا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور غزل پڑھوں گی ، رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ اگر تو نے نذر مانی تھی تو پھر دف بجا لے اور اگر نذر نہیں مانی تو پھر نہیں ۔‘‘ وہ بجانے لگی تو ابوبکر ؓ تشریف لائے ، وہ (ان کے آنے پر) بجاتی رہی ، پھر علی ؓ تشریف لائے اور وہ بجاتی رہی ، پھر عثمان ؓ تشریف لائے تو وہ بجاتی رہی ، پھر عمر ؓ تشریف لائے تو اس نے دف اپنے سرین کے نیچے رکھ لی اور اس پر بیٹھ گئی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! شیطان تم سے ڈرتا ہے ، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ دف بجاتی رہی ، ابوبکر آئے تو وہ بجاتی رہی ، پھر علی آئے تو وہ بجاتی رہی ، پھر عثمان آئے تو وہ بجاتی رہی ، عمر جب تم آئے تو اس نے دف پھینک دی ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6049

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي» فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ. فَقَالَ لِي: «أَمَا شَبِعْتِ؟ أَمَا شَبِعْتِ؟» فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ إِذ طلع عمر قَالَت فَارْفض النَّاس عَنْهَا. قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لأنظر إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ» قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی ، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ ایک حبشی خاتون رقص کر رہی تھی اور بچے اس کے اردگرد (تماشا دیکھ رہے) تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! آؤ اور دیکھو ۔‘‘ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے (چہرہ) رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر رکھ دیئے اور میں آپ کے کندھے اور سر کے درمیان سے اسے دیکھنے لگی ، آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم سیر نہیں ہوئی ، کیا تم سیر نہیں ہوئی ؟‘‘ میں کہنے لگی نہیں ، تا کہ میں آپ کے ہاں اپنی قدر و منزلت کا اندازہ لگا سکوں ، اچانک عمر ؓ تشریف لے آئے تو سارے لوگ اس (حبشیہ) کے پاس سے تتر بتر ہو گئے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے شیاطین جن و انس کو دیکھا کہ وہ عمر کی وجہ سے بھاگ رہے ہیں ۔‘‘ عائشہ ؓ نے فرمایا : میں واپس آ گئی ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6050

عَن أنس وَابْن عمر أَن عمر قَالَ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى؟ فَنَزَلَتْ [وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى] . وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ يَحْتَجِبْنَ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ [عَسَى رَبُّهُ إِنْ طلَّقكنَّ أَن يُبدلهُ أَزْوَاجًا خيرا منكنَّ] فَنزلت كَذَلِك
انس اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے فرمایا : میں نے تین امور میں اپنے رب سے موافقت کی ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں ؟ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی :’’ مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کی ازواج مطہرات کے پاس نیک و فاسق قسم کے لوگ آتے ہیں ، اگر آپ انہیں پردہ کرنے کا حکم فرما دیں ، تب اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی ، اور (ایک موقع پر) نبی ﷺ کی ازواج مطہرات قصہ غیرت (شہد پینے والے واقعہ) پر اکٹھی ہو گئیں ، تو میں نے کہا :’’ قریب ہے کہ اس کا رب ، اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں ، تم سے بہتر بیویاں انہیں عطا فرما دے ۔‘‘ اسی طرح آیت نازل ہو گئی ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6051

وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ. مُتَّفق عَلَيْهِ
اور ابن عمر ؓ کی روایت میں ہے ، انہوں نے کہا ، عمر ؓ نے فرمایا : میں نے تین امور میں ، اپنے رب سے موافقت کی ، مقام ابراہیم کے متعلق ، پردے اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6052

وَعَن ابْن مَسْعُود قَالَ: فُضِّلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُم عَذَاب عَظِيم] وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعا فَاسْأَلُوهُنَّ من وَرَاء حجاب] وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أول نَاس بَايعه. رَوَاهُ أَحْمد
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ کو چار چیزوں کی وجہ سے دیگر لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی ، انہوں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ اگر اللہ کی کتاب میں یہ حکم پہلے سے موجود نہ ہوتا تو تم نے جو (فدیہ) لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا ۔‘‘ اور ان کا حجاب کے متعلق فرمانا ، انہوں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ وہ پردہ کیا کریں ، تو زینب ؓ نے انہیں فرمایا : ابن خطاب ! کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں جبکہ وحی تو ہمارے گھروں میں اترتی ہے ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو ان سے پردے کے پیچھے سے طلب کرو ۔‘‘ اور ان کے متعلق نبی ﷺ کی دعا :’’ اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت فرما ۔‘‘ اور ابوبکر ؓ کے (خلیفہ ہونے کے) متعلق سب سے پہلی انہیں کی رائے تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے اُن کی بیعت کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6053

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ» . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا نُرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ آدمی میری امت میں سے جنت میں ایک درجہ بلند مقام پر فائز ہو گا ۔‘‘ ابوسعید ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہمارے خیال میں وہ آدمی عمر بن خطاب ؓ ہی ہیں حتیٰ کہ وہ وفات پا گئے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6054

وَعَن أسلم قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عُمَرَ بَعْضَ شَأْنِهِ - يَعْنِي عُمَرَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ قُبِضَ كَانَ أَجَدَّ وَأَجْوَدَ حَتَّى انْتهى من عمر. رَوَاهُ البُخَارِيّ
اسلم (عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام) بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے مجھ سے عمر ؓ کے بعض حالات کے متعلق دریافت کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کسی شخص کو اتنی زیادہ جدوجہد اور سخاوت کرنے والا نہیں دیکھا حتیٰ کہ یہ فضائل عمر ؓ پر ختم ہو گئے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6055

وَعَن المِسور بن مَخْرَمةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا كُلُّ ذَلِكَ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ. قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَرضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاك مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَلِك من من الله جلّ ذكره مَنَّ بِهِ عَلَيَّ. وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جزعي فَهُوَ من أَجلك وَأجل أَصْحَابِكَ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبا لافتديت بِهِ من عَذَاب الله عز وَجل قبل أَن أرَاهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب عمر ؓ زخمی کر دیے گئے تو وہ تکلیف محسوس کرنے لگے ، اس پر ابن عباس ؓ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کیا : امیر المومنین ! آپ اتنی تکلیف کا کیوں اظہار کر رہے ہیں ؟ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی اور اسے اچھے انداز میں نبھایا ، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ پر راضی تھے ، پھر آپ ابوبکر ؓ کی صحبت میں رہے ، اور ان کے ساتھ بھی خوب رہے ، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ بھی آپ پر راضی تھے ، پھر آپ مسلمانوں کی صحبت میں رہے ، اور آپ ان کے ساتھ بھی خوب اچھی طرح رہے ، اور اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو آپ ان سے بھی اس حال میں جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے ، انہوں نے فرمایا : تم نے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور آپ کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے ، اور تم نے جو ابوبکر ؓ کے ساتھ اور ان کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے ، اور رہی میری گھبراہٹ اور پریشانی جو تم دیکھ رہے ہو تو وہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں فکر مند ہونے کی وجہ سے ہے ، اللہ کی قسم ! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات حاصل کرتا ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6056

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَينا رجل يَسُوق بقرة إِذْ أعيي فَرَكِبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الْأَرْضِ. فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أومن بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . وَمَا هُمَا ثَمَّ وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ إِذْ عدا الذِّئْب فَذهب عَلَى شَاةٍ مِنْهَا فَأَخَذَهَا فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَاسْتَنْقَذَهَا فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ الله ذِئْب يتَكَلَّم؟ . قَالَ: أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هما ثمَّ. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس اثنا میں کہ ایک آدمی گائے ہانک رہا تھا ، جب وہ تھک جاتا تو وہ اس پر سوار ہو جاتا ، اس نے کہا : ہمیں اس لیے نہیں پیدا کیا گیا ، ہمیں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، لوگوں نے کہا : سبحان اللہ : گائے کلام کرتی ہے ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں ابوبکر اور عمر ؓ بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ اور وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ، اور فرمایا :’’ ایک آدمی بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اسے پکڑ لیا ، اس کے مالک نے اسے جا لیا اور اسے چھڑا لیا ، بھیڑیے نے اسے کہا : جس دن درندے ہی درندے رہ جائیں گے اور اس دن میرے سوا بکریوں کو چرانے والا کون ہو گا ؟ لوگوں نے کہا : سبحان اللہ ! بھیڑیا کلام کرتا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکر و عمر ؓ اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ اور وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6057

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوُا اللَّهَ لِعُمَرَ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي قد وضع مِرْفَقُهُ عَلَى مَنْكِبِي يَقُولُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ وَأَبُو بكر وَعمر» . فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو عمر ؓ کے لیے دعائیں کر رہے تھے ، اور ان کا جنازہ ان کی چار پائی پر رکھا ہوا تھا ، کہ اچانک ایک آدمی نے میرے پیچھے سے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھ دی ، اور وہ کہہ رہے تھے : اللہ آپ ؓ پر رحم فرمائے ، مجھے امید ہے کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ (دفن) کرائے گا ۔ کیونکہ میں اکثر رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا :’’ میں ، ابوبکر اور عمر تھے ، میں ، ابوبکر اور عمر نے کلام کیا ، میں ، ابوبکر اور عمر گئے ، میں ، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ، میں ، ابوبکر اور عمر باہر نکلے ۔‘‘ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب ؓ تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6058

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِن أهل الْجنَّة ليراءون أهلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَرَوَى نَحْوَهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والے مقام علیین والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے افق میں چمک دار ستارے کو دیکھتے ہو ، اور ابوبکر و عمر انہی میں سے ہیں ، اور وہ کیا خوب ہیں ۔‘‘ شرح السنہ ، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6059

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيين وَالْمُرْسلِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر اور عمر ؓ اہل جنت کے اولین و آخرین کے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہوں گے البتہ انبیا ؑ اور رسول اس سے مستثنیٰ ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6060

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ
امام ابن ماجہ ؒ نے اسے علی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6061

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ؟ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بكر وَعمر . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نہیں جانتا کہ میں تم میں کتنی دیر باقی رہوں گا ، میرے بعد تم ابوبکر اور عمر دونوں کی اقتدا کرنا ۔‘‘ حسن ، راہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6062

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ لَمْ يَرْفَعْ أَحَدٌ رَأْسَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں تشریف لاتے تو ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے سوا کوئی اپنا سر نہ اٹھاتا وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر مسکراتے اور آپ ان دونوں کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6063

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا. فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی ﷺ (گھر سے) باہر نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ۔ اور ابوبکر و عمر ؓ میں سے ایک آپ کے دائیں طرف تھا اور ایک آپ کے بائیں طرف تھا ، آپ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت ہم اسی طرح اٹھائے جائیں گے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6064

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلا
عبداللہ بن حنطب ؒ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ابوبکر اور عمر ؓ کو دیکھا تو فرمایا :’’ یہ دونوں سمع و بصر (کی طرح) ہیں ۔‘‘ امام ترمذی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6065

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کے آسمان والوں سے دو وزیر ہیں اور زمین والوں سے دو وزیر ہیں ۔ آسمان والوں سے میرے دو وزیر جبریل ؑ اور میکائیل ؑ ہیں ، اور زمین والوں میں سے ابوبکر اور عمر ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6066

إِن سلم من عنعنة الْحسن الْبَصْرِيّ) وَعَن أبي بكرَة أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَسَاءَهُ ذَلِكَ. فَقَالَ: «خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، میں نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا ایک ترازو آسمان سے اترا ہے ، آپ ﷺ کا ابوبکر ؓ سے وزن کیا گیا تو آپ بھاری رہے ، ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کا وزن کیا گیا تو ابوبکر ؓ بھاری رہے ، عمر ؓ اور عثمان ؓ کا وزن کیا گیا تو عمر ؓ بھاری رہے ، پھر ترازو اٹھا لی گئی ۔ اس سے رسول اللہ ﷺ غمگین ہوئے ، یعنی اس (خواب) نے آپ کو غمگین کر دیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نبوت کا خلافت کی جانب اشارہ ہے ، پھر اللہ جسے چاہے گا بادشاہت عطا فرمائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6067

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» . فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَاطَّلَعَ عُمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اہل جنت میں سے ایک آدمی تمہارے پاس ظاہر ہو گا ۔‘‘ ابوبکر ؓ تشریف لائے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اہل جنت میں سے ایک آدمی تمہارے پاس ظاہر ہو گا ۔‘‘ عمر ؓ تشریف لائے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6068

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: بَيْنَا رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حجري لَيْلَةٍ ضَاحِيَةٍ إِذْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: «نَعَمْ عُمَرُ» . قُلْتُ: فَأَيْنَ حَسَنَاتُ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا جَمِيعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ» رَوَاهُ رزين
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں چاندنی رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا کہ اچانک میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا کسی شخص کی آسمان کے ستاروں کے برابر نیکیاں ہوں گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، عمر ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ابوبکر ؓ کی نیکیاں کہاں گئیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر کی ساری نیکیاں ، ابوبکر کی نیکیوں کے مقابلے میں ایک نیکی کی مانند ہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6069

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهِ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ - أَوْ سَاقَيْهِ - فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَان فَجَلَست وسوَّيت ثِيَابك فَقَالَ: «أَلا أستحي من رجل تَسْتَحي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟» وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالَةِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجته» . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور اس وقت آپ کی رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا ہوا تھا ، ابوبکر ؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو انہیں اجازت دے دی گئی اور آپ اسی حالت میں رہے ، انہوں نے بات چیت کی ، پھر عمر ؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ اسی حالت میں رہے ، انہوں نے بات چیت کی ، پھر عثمان ؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے ، اپنے کپڑے درست کیے ، جب وہ (آپ ﷺ کے پاس سے اٹھ کر) چلے گئے تو عائشہ ؓ نے عرض کیا ، ابوبکر ؓ آئے تو آپ نے ان کی خاطر کوئی حرکت نہ کی اور نہ ان کی کوئی پرواہ کی ، پھر عمر ؓ تشریف لائے تو آپ نے ان کی خاطر کوئی حرکت کی نہ ان کی کوئی پرواہ کی ، پھر عثمان ؓ تشریف لائے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کیے ، (کیا معاملہ ہے ؟) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں ؟‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ نے فرمایا :’’ عثمان حیا دار شخص ہے ، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی تو ہو سکتا ہے کہ (شرم کے مارے) وہ اپنے کسی کام کے بارے میں اپنی بات مجھے نہ پہنچا سکیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6070

عَن طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ وَرَفِيقِي - يَعْنِي فِي الْجنَّة - عُثْمَان» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
طلحہ بن عبید اللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کا ایک رفیق (خاص) ہوتا ہے اور میرے رفیق یعنی جنت میں ، عثمان ؓ ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6071

وَرَاه ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطع
اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ، اور ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور اس کی سند قوی نہیں ، اور وہ منقطع ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6072

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: يَا رَسُول الله عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ حَضَّ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ ثَلَاثُمِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبد الرحمن بن خباب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ غزوۂ تبوک کے لیے آمادہ کر رہے تھے ، عثمان ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سو اونٹ مع سازو سامان اللہ کی راہ میں میرے ذمے ہیں ، پھر آپ نے لشکر کے لیے آمادہ کیا تو عثمان ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ مع سازو سامان میرے ذمے ہیں ، پھر آپ نے ترغیب دلائی تو عثمان ؓ کھڑے ہوئے تو عرض کیا ، اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ میرے ذمے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ منبر سے اترتے فرما رہے تھے :’’ عثمان ؓ نے اس کے بعد جو بھی عمل کیا اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ، عثمان ؓ اس کے بعد جو بھی عمل کرے اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6073

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَنَثَرَهَا فِي حِجْرِهِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: «مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ» مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمد
عبد الرحمن بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ نے جیش العسرہ تیار فرمایا تو عثمان نے اپنی جیب میں ایک ہزار دینار لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیے اور آپ کی گود میں ڈھیر کر دیے ، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں انہیں پلٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ عثمان نے جو بھی عمل کیا آج کے بعد وہ اس کے لیے نقصان دہ نہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے دو مرتبہ ایسے فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6074

وَعَن أنسٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَبَايَعَ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ» فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا من أَيْديهم لأَنْفُسِهِمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان کے لیے حکم فرمایا تو عثمان ؓ مکہ کی طرف رسول اللہ ﷺ کے قاصد بن کر گئے تھے ، صحابہ کرام ؓ نے بیعت کی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام گئے ہوئے ہیں ، آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا ، رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ ، عثمان ؓ کی خاطر ان کے اپنی ذات کی خاطر ہاتھوں سے بہتر تھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6075

وَعَن ثُمامة بن حَزْنٍ الْقشيرِي قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ يَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نعم. فَقَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِد بِخَير مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» . فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نعم. قَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ قَالَ: «اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» . قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ وَالدَّارَقُطْنِيّ
ثمامہ بن حزن قشیری ؒ بیان کرتے ہیں ، میں اس وقت گھر کے پاس تھا ، جب عثمان ؓ نے (اپنے گھر سے) جھانک کر فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینے تشریف لائے تو رومہ کنویں کے علاوہ وہاں میٹھا پانی نہیں تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رومہ کنویں کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا تو اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہو گا ۔‘‘ میں نے اپنے خالص مال سے اسے خریدا ، اور آج تم مجھے اس کا پانی پینے سے روک رہے ہو حتیٰ کہ میں سمندری پانی پی رہا ہوں ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ایسے ہی ہے ، پھر عثمان ؓ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں : کیا تم جانتے ہو کہ مسجد اپنے نمازیوں کے لیے تنگ تھی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص آل فلاں سے زمین کا قطعہ خرید کر اس سے مسجد کی توسیع کر دے گا تو اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہو گا ۔‘‘ میں نے اپنے خالص مال سے اسے خریدا ، اور آج تم مجھے اس میں دو رکعت نماز ادا کرنے سے روک رہے ہو ، انہوں نے کہا : ہاں ! ایسے ہی ہے ، آپ نے فرمایا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تمہیں پوچھتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ جیش العسرہ کو میں نے اپنے مال سے تیار کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! عثمان ؓ نے فرمایا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں : کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے پہاڑ پر تھے ، اور اس وقت ابوبکر ، عمر اور میں آپ کے ساتھ تھے ، پہاڑ نے حرکت کی حتیٰ کہ زمین پر کچھ ٹکڑے گر گئے تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے اسے ٹھوکر مار کر فرمایا :’’ پہاڑ ٹھہر جا ، تجھ پر ایک نبی ہے ، ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہاں ! ایسے ہی ہے ، آپ نے تین بار فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! انہوں نے گواہی دے دی کہ میں شہید ہوں ۔ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و الدارقطنی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6076

وَعَن مرّة بن كَعْب قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذكر الْفِتَن فقر بهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: «هَذَا يَوْمئِذٍ على هدى» فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. قَالَ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ. فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن صَحِيح
مرہ بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ نے فتنوں کا ذکر کیا اور ان کے قریب ہونے کا ارشاد فرمایا ، اتنے میں ایک آدمی گزرا ، اس نے ایک کپڑا لپیٹ رکھا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا یہ شخص اس (فتنے کے) دن ہدایت پر ہو گا ۔‘‘ میں ان کی طرف گیا ، دیکھا کہ وہ عثمان بن عفان ؓ ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے ان کا چہرہ آپ کی طرف پھیر کر عرض کیا : یہ وہ (آدمی) ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6077

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ فِي الحَدِيث قصَّة طَوِيلَة
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ عثمان ! امید ہے کہ اللہ تمہیں قمیص پہنائے گا ، اگر وہ تم سے اسے اتروانا چاہیں تو تم ان کی خاطر اسے نہ اتارنا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : حدیث میں طویل قصہ ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6078

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَالَ: «يُقْتَلُ هَذَا فِيهَا مَظْلُومًا» لِعُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنے کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ یہ یعنی عثمان اس میں مظلوم شہید کر دیے جائیں گے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے اس کی سند غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6079

وَعَنْ أَبِي سَهْلَةَ قَالَ: قَالَ لِي عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابوسہلہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عثمان ؓ نے محاصرے کے دن مجھے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا اور اس پر میں قائم ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6080

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُرِيدُ حَجَّ الْبَيْتِ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ. قَالَ فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ. قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ؟ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَك أما فِراره يَوْم أُحد فأشهدُ أَن اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ» . وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَان وَكَانَت بَيْعةُ الرضْوَان بعدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: «هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ» فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ وَقَالَ: «هَذِه لعُثْمَان» . فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عثمان بن عبداللہ بن موہب ؒ بیان کرتے ہیں ، اہل مصر سے ایک آدمی حج کے ارادے سے آیا تو اس نے کچھ لوگوں کو