MISHKAT

Search Result (283)

3)

3) پاکیزگی کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 281

عَن أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآنِ - أَوْ تَمْلَأُ - مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَآنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَا فِي «الْجَامِعِ» وَلَكِنْ ذَكَرَهَا الدَّارِمِيُّ بدل «سُبْحَانَ الله وَالْحَمْد لله»
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پاکیزگی نصف ایمان ہے ، الحمدللہ میزان کو بھر دیتا ہے ، سبحان اللہ اور الحمدللہ دونوں یا (ان میں سے ہر کلمہ) زمین و آسمان کے مابین کو بھر دیتا ہے ، نماز نور ہے ، صدقہ برہان ہے ، صبر ضیا ہے اور قرآن تیرے حق میں یا تیرے خلاف دلیل ہو گا ۔ ہر آدمی صبح کے وقت اپنے نفس کا سودا کرتا ہے ، پس وہ اسے آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و الدارمی (۱ /۱۶۷ ح ۶۵۹) و النسائی فی الکبریٰ : ۹۹۹۶) ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے :((لا الہ الا للہ و اللہ اکبر)) زمین و آسمان کے مابین ہر چیز کو بھر دیتے ہیں ۔‘‘ میں نے یہ روایت صحیحین میں پائی ہے نہ حمیدی کی کتاب میں اور نہ ہی الجامع میں ۔ لیکن دارمی نے اسے سبحان اللہ و الحمدللہ کے بدلے ذکر کیا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 282

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاة فذلكم الرِّبَاط»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسا عمل بتاؤں جس کے ذریعے اللہ خطائیں معاف کر دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ناگواری کے باوجود مکمل طور پر وضو کرنا ، مساجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، یہی سرحدی چھاؤنی کی حفاظت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 283

وَفِي حَدِيث مَالك بن أنس: «فَذَلِك الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ» . رَدَّدَ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة التِّرْمِذِيّ ثَلَاثًا
مالک بن انس ؒ کی روایت میں :((فذالکم الرباط)) کے الفاظ دو مرتبہ ہیں ۔ مسلم اور ترمذی کی روایت میں تین مرتبہ ۔ رواہ مسلم و الترمذی (۵۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 284

عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تخرج من تَحت أَظْفَاره»
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح وضو کرے تو اس کی خطائیں اس کے جسم سے نکل جاتی ہیں ، حتیٰ کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (لم اجدہ) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 285

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ المَاء مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خرجت من يَدَيْهِ كل خَطِيئَة بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوب) (رَوَاهُ مُسلم)
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو آنکھوں کے دیکھنے سے ہونے والی تمام خطائیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے نکل جاتی ہیں ، پس جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے ، تو اس کے ہاتھوں سے جو خطائیں سرزد ہوتی ہیں ، وہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں ، پس جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے جو خطائیں سرزد ہوتی ہیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے پاؤں سے نکل جاتی ہیں ، حتیٰ کہ وہ گناہوں سے صاف ہو جاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 286

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ» . رَوَاهُ مُسلم
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان فرض نماز کا وقت ہونے پر اس کے لیے اچھی طرح وضو کرتا ہے اور اس کے خشوع و رکوع کا اچھی طرح اہتمام کرتا ہے تو وہ اس (نماز) سے پہلے کیے ہوئے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ ہو ، اور یہ (فرض نماز سے صغیرہ گناہوں کا معاف ہو جانا) ہمیشہ کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 287

وَعَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفسه فيهمَا بِشَيْء إِلَّا غفر لَهُ مَا تقدم من ذَنبه» . وَلَفظه للْبُخَارِيّ
عثمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا تو تین مرتبہ اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا ، پھر تین مرتبہ کہنی سمیت اپنا دایاں ہاتھ دھویا ، پھر تین مرتبہ کہنی سمیت اپنا بایاں ہاتھ دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر تین مرتبہ اپنا دایاں پاؤں دھویا ، پھر تین مرتبہ بایاں ، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ کو دیکھا ، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر فرمایا :’’ جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرتا ہے ، پھر دو رکعتیں پڑھتا ہے اور وہ اس دوران اپنے دل میں کسی قسم کا خیال نہ لائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ، حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۳۴) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 288

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مقبل عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» . رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اپنا وضو اچھی طرح کرتا ہے پھر کھڑا ہو کر مکمل توجہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 289

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ أَوْ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَفِي رِوَايَةٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ . هَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ وَالْحُمَيْدِيُّ فِي أَفْرَاد مُسلم وَكَذَا ابْن الْأَثِير فِي جَامع الْأُصُول وَذكر الشَّيْخ مُحي الدِّينِ النَّوَوِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثِ مُسْلِمٍ عَلَى مَا روينَاهُ وَزَاد التِّرْمِذِيّ: «الله اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ» وَالْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ مُحْيِي السُّنَّةِ فِي الصِّحَاحِ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ» إِلَى آخِرِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي جَامِعِهِ بِعَيْنِهِ إِلَّا كَلِمَةَ «أَشْهَدُ» قَبْلَ «أَن مُحَمَّدًا»
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص وضو کرتا ہے اور اچھی طرح مکمل وضو کرتا ہے ۔ پھر کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے ۔‘‘ رواہ مسلم و ابن الاثیر فی جامع الاصول (۹ /۳۳۶ ح ۷۰۱۷) زیادۃ الترمذی (۵۵) سنن ترمذی (۱ /۷۹ ۔ ۸۲) ۔ امام مسلم نے اسے اس طرح اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔ حمیدی نے ’’افراد مسلم‘‘ میں اور اسی طرح ابن اثیر نے ’’جامع الاصول‘‘ میں روایت کیا ہے ۔ الشیخ محی الدین النووی نے مسلم کی حدیث کے آخر میں ذکر کیا ہے ، اور امام ترمذی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے ۔‘‘ وہ حدیث جسے محی السنہ ’’الصحاح‘‘ میں روایت کیا ہے ’’ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ۔‘‘ آخر تک ، امام ترمذی نے اسے بالکل اسی طرح اپنی جامع میں روایت کیا ہے ، لیکن ((ان محمد)) سے پہلے ((اشھد)) کا ذکر نہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 290

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِن أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غرته فَلْيفْعَل»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک میری امت کے لوگوں کو قیامت کے دن بلایا جائے گا ، تو وضو کے نشانات کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی چمکتی ہو گی ، پس تم میں سے جو شخص اپنی چمک کو بڑھانا چاہے تو وہ بڑھا لے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۶) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 291

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنَ حَيْثُ يبلغ الْوضُوء» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کا زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 292

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ درست رہو ، اور تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ، اور جان لو کہ نماز تمہارا بہترین عمل ہے ، اور وضو کی حفاظت صرف مومن شخص ہی کر سکتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک (فی الموطا ۱ /۳۴ ح ۶۵) و احمد (۵ /۲۸۰ ح ۲۲۷۷۸) و ابن ماجہ (۲۷۷) و الدارمی (۱ /۱۶۹ ح ۶۶۱) و الحاکم (۱ /۱۳۰ ح ۴۴۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 293

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص وضو ہونے کے باوجود وضو کرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۵۹) و ابوداؤد (۶۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 294

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاة الطّهُور» . رَوَاهُ أَحْمد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی طہارت (وضو) ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، (۳ /۳۴۰ ح ۱۴۷۱۷) و الترمذی (۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 295

وَعَن شبيب بن أبي روح عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الطَّهُورَ فَإِنَّمَا يلبس علينا الْقُرْآن أُولَئِكَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
شبیب بن ابی روح ؒ رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر ادا کی تو سورۃ الروم کی تلاوت فرمائی ، آپ بھول گئے ، جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو فرمایا :’’ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وہ اچھی طرح وضو نہیں کرتے ، یہی لوگ تو ہمیں قرآن بھلا دیتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی (۲ /۱۵۶ ح ۹۴۸) و احمد (۳ /۴۷۱ ح ۱۵۹۶۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 296

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ قَالَ: «التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
بنوسلیم کے ایک آدمی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے انہیں میرے ہاتھ پر یا اپنے ہاتھ پر شمار کیا ، فرمایا :’’ سبحان اللہ کہنا نصف میزان ہے ، اور الحمدللہ کہنا اسے بھر دیتا ہے ، اور اللہ اکبر زمین و آسمان کے درمیان کو بھر دیتا ہے ، روزہ نصف صبر ہے جبکہ طہارت نصف ایمان ہے ۔‘‘ ترمذی اور امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۱۹) و ابن حبان (۴ /۱۱۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 297

عَن عبد الله الصنَابحِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ وَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنفه فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غسل يَدَيْهِ خرجت الْخَطَايَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ» . رَوَاهُ مَالك وَالنَّسَائِيّ
عبداللہ صنابحی ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ مومن وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو خطائیں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں ، جب ناک جھاڑتا ہے تو خطائیں اس کی ناک سے نکل جاتی ہیں ، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو خطائیں اس کے چہرے سے نکل جاتی ہیں ، حتیٰ کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں ، چنانچہ جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو خطائیں اس کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں ، حتیٰ کہ اس کے ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں ، چنانچہ جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو خطائیں اس کے سر سے حتیٰ کہ اس کے کانوں سے نکل جاتی ہیں ، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو خطائیں اس کے پاؤں حتیٰ کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں ، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور اس کی نماز اس کے لیے زائد ہو جاتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک (۱ /۳۱ ح ۵۹) و النسائی (۱ /۷۴ ، ۷۵ ح ۱۰۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 298

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ فَقَالُوا كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْض» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان تشریف لائے تو فرمایا :’’ ان گھروں کے رہنے والے مومنوں تم پر سلامتی ہو ، اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی یقیناً تمہارے پاس پہنچنے والے ہیں ، میری خواہش تھی کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھتے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میرے ساتھی ہو ، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے ۔‘‘ صحابہ نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان افراد کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی نہیں آئے اور وہ بعد میں آئیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ ، اگر کسی شخص کا سفید ٹانگوں اور سفید پیشانی والا گھوڑا ، سیاہ گھوڑوں میں ہو تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچانے گا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں اللہ کے رسول ! ضرور پہچان لے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پس وہ آئیں گے تو وضو کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی چمکتی ہو گی جبکہ میں حوض کوثر پر ان کا پیش رو ہوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 299

عَن أبي الدَّرْدَاء قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يرفع رَأسه فَأنْظر إِلَى بَيْنَ يَدِي فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِك وَعَن شمَالي مثل ذَلِك . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرَهُمْ وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتونَ كتبهمْ بأيمانهم وأعرفهم يسْعَى بَين أَيْديهم ذُرِّيتهمْ» . رَوَاهُ أَحْمد
ابودرداء بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور سب سے پہلے مجھے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی ، پس میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو تمام امتوں میں سے اپنی امت پہچان لوں گا ، اور اسی طرح اپنے پیچھے ، اسی طرح اپنے دائیں اور اسی طرح اپنے بائیں طرف ۔‘‘ تو کسی شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تمام امتوں میں سے اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے جبکہ نوح ؑ سے لے کر آپ کی امت تک کتنی امتیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وضو کے نشانات کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی چمکتی ہو گی ، ان کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں ہو گا اور میں انہیں اس لیے بھی پہچان لوں گا کہ انہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور میں انہیں پہچان ایک اور علامت سے بھی لوں گا کہ ان کی اولاد ان کے آگے دوڑ رہی ہو گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۵ /۱۹۹ ح ۲۲۰۸۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 300

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يتَوَضَّأ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کا وضو ٹوٹ جائے تو جب تک وہ وضو نہ کرے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۵) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 301

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وضو کے بغیر نماز قبول کی جاتی ہے نہ مال حرام سے صدقہ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 302

وَعَن عَليّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيتَوَضَّأ»
علی ؓ بیان کرتے ہیں : مجھے کثرت مذی آتی تھی ، لیکن میں نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے شرم محسوس کرتا تھا کیونکہ آپ میرے سسر تھے ، پس میں نے مقداد ؓ سے کہا تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شرم گاہ دھوئے اور وضو کرے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۶۹) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 303

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «توضؤوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشَّيْخُ الإِمَام الْأَجَل محيي السّنة C: هَذَا مَنْسُوخ بِحَدِيث ابْن عَبَّاس:
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر وضو کرو ۔‘‘ الشیخ الامام الاجل محی السنہ ؒ نے فرمایا : مذکورہ بالا حدیث ابن عباس ؓ سے مروی حدیث کی وجہ سے منسوخ ہے ۔ رواہ مسلم و فی مصابیح السنہ (۲۰۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 304

قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ
ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے شانے کا گوشت کھایا ، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ کیا ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۷) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 305

وَعَن جَابر بن سَمُرَة أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَتَوَضَّأْ» . قَالَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مبارك الْإِبِل؟ قَالَ: «لَا» . رَوَاهُ مُسلم
جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا : کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو وضو کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو ۔‘‘ اس نے پھر دریافت کیا : کیا ہم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کر ۔‘‘ اس شخص نے پوچھا : کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اس نے پوچھا : اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 306

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ گڑبڑ محسوس کرے اور اس پر معاملہ مشتبہ ہو جائے کہ آیا اس سے کوئی چیز نکلی ہے یا نہیں تو وہ مسجد سے نہ نکلے حتیٰ کہ وہ کوئی آواز سن لے یا بدبو محسوس کرلے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 307

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ: «إِنَّ لَهُ دسما»
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیا تو کلی کی اور فرمایا :’’ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۱) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 308

وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصَّلَوَات يَوْم الْفَتْح بِوضُوء وَاحِد وَمسح عل خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ فَقَالَ: «عَمْدًا صَنَعْتُهُ يَا عمر» . رَوَاهُ مُسلم
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے روز ایک وضو سے (متعدد) نمازیں پڑھیں اور موزوں پر مسح کیا ، تو عمر ؓ نے عرض کیا ، آپ نے اس طرح پہلے تو کبھی نہیں کیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! میں نے عمداً ایسے کیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 309

وَعَن سُوَيْد ابْن النُّعْمَان: أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بالصهباء وَهِي أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِيَ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ثمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سوید بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے ، حتیٰ کہ خیبر کے زیریں علاقے صہبا پر پہنچے تو آپ ﷺ نے نماز عصر ادا کی ، پھر آپ نے زاد راہ طلب کیا تو صرف ستو آپ کی خدمت میں پیش کیے گئے آپ کے فرمان کے مطابق انہیں بھگو دیا گیا تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اور ہم نے اسے کھایا ، پھر آپ نماز مغرب کے لیے کھڑے ہوئے تو کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ فرمایا ۔ رواہ البخاری (۲۰۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 310

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آواز یا بدبو (محسوس ہونے) کی صورت میں وضو واجب ہوتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۲ /۴۱ ح ۹۳۰۱) و الترمذی (۷۴) و ابن ماجہ (۵۱۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 311

وَعَن عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمَذْيِ فَقَالَ: «مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغسْل» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے مذی کے متعلق نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مذی سے وضو اور منی سے غسل واجب ہوتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۱۴) و ابن ماجہ (۵۰۴) و ابوداؤد (۲۱۰) و البخاری (۱۳۲ ، ۲۶۹) و مسلم یغنی عنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 312

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ والدارمي
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طہارت نماز کی چابی ، تکبیر (اللہ اکبر) اس کی تحریم (اس تکبیر سے نماز شروع کرنے سے پہلے جو کام مباح تھے وہ حرام ہو جاتے ہیں ) اور تسلیم (السلام علیکم ورحمۃ اللہ) اس کی تحلیل ہے :‘‘ (یعنی سلام پھیرنے سے نماز کی صورت میں حرام ہونے والے کام حلال ہو جاتے ہیں ) حسن ، رواہ ابوداؤد۶۱) و الترمذی (۳) و الدارمی (۱ /۱۷۵ ح ۶۹۳) و ابن ماجہ (۲۷۵) و البیھقی (۲ /۱۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 313

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْهُ وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ
ابن ماجہ نے علی ؓ اور ابوسعید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۲۷۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 314

وَعَن عَليّ بن طلق قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا فسا أحدكُم فَليَتَوَضَّأ وَلَا تأتو النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
علی بن طلق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں کوئی آواز کے بغیر ہوا خارج کرے تو وہ وضو کرے ، اور تم عورتوں سے ان کی پیٹھ میں مجامعت نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۱۶۴) و ابوداود (۲۰۵) و ابن حبان (۲۰۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 315

وَعَن مُعَاوِيَة بن أبي سُفْيَان أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ: «إِنَّمَا الْعَيْنَانِ وِكَاءُ السَّهِ فَإِذَا نَامَتِ الْعَيْنُ اسْتطْلقَ الوكاء» . رَوَاهُ الدِّرَامِي
معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ آنکھیں دبر کا تسمہ ہیں ، جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ /۱۸۴ ح ۷۲۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 316

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وِكَاءُ السَّهِ الْعَيْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَليَتَوَضَّأ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد قَالَ الشَّيْخ الإِمَام محيي السّنة C: هَذَا فِي غير الْقَاعِد لما صَحَّ:
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیٹھ کا تسمہ دونوں آنکھیں ہیں ، پس جو شخص سو جائے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : صحیح حدیث کی روشنی میں یہ حکم لیٹ کر سونے والے شخص کے لیے ہے ، (بیٹھے بیٹھے سو جانے والے کے لیے نہیں ہے) سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۰۳) و ابن ماجہ (۴۷۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 317

عَن أنس قَالَ: كَانَ أَصَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعشَاء حَتَّى تخفق رؤوسهم ثمَّ يصلونَ وَلَا يتوضؤون. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ إِلَّا أَنه ذكرفيه: ينامون بدل: ينتظرون الْعشَاء حَتَّى تخفق رؤوسهم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نمازِ عشاء کا انتظار کرتے رہتے حتیٰ کہ (نیند کی وجہ سے) ان کے سر جھک جاتے ، پھر وہ نماز پڑھتے لیکن وہ (نیا) وضو نہ کرتے ۔ البتہ امام ترمذی ؒ نے روایت میں انتظار کے بدلے سو جانے کا ذکر کیا ہے ، کہ وہ عشاء کے وقت بیٹھے سو جاتے حتیٰ کہ ان کے سر جھک جاتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۰۰) و الترمذی (۷۸) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 318

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْوُضُوءَ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مفاصله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک جو شخص چت لیٹ کر سو جائے ، اس پر وضو کرنا لازم ہے ، کیونکہ جب وہ چت لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں :‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۷) و ابوداؤد (۲۰۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 319

وَعَن بسرة قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدارمي
بسرہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک (۱ /۴۲ ح ۸۸) و احمد (۶ / ۴۰۶ ، ۴۰۷ ح ۲۷۸۳۶ ، ۲۷۸۳۸) و ابوداؤد (۱۸۱) و الترمذی (۸۲) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) و ابن ماجہ (۴۷۹) و الدارمی (۱ / ۱۸۴ ح ۷۳۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 320

وَعَن طلق بن عَليّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ. قَالَ: «وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحوه قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَذَا مَنْسُوخٌ لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ بَعْدَ قدوم طلق
طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، آدمی کے وضو کر لینے کے بعد اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (شرم گاہ) بھی اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ۔‘‘ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ منسوخ ہے ، کیونکہ ابوہریرہ ؓ طلق ؓ کی آمد کے بعد مسلمان ہوئے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۸۲) و الترمذی (۸۵) و النسائی (۱ / ۱۰۱ ح ۱۶۵) و ابن ماجہ (۴۸۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 321

وَقد روى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا شَيْءٌ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ والدراقطني
ابوہریرہ ؓ کی سند سے رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگائے جبکہ اس (ہاتھ) اور اس (شرم گاہ) کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ وضو کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ الشافعی (۱ / ۱۹) و الدار قطنی (۱ / ۱۴۷ ح ۵۲۵) و ابن حبان (۱۱۱۵) المستدرک (۱ / ۱۳۸ تحت ح ۴۷۹) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 322

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ بُسْرَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يذكر: «لَيْسَ بَينه بَينهَا شَيْء»
امام نسائی نے اسے بسرہ ؓ سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ’’ اس کے اور اس کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو ۔‘‘ لم اجدہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 323

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا بِحَالٍ إِسْنَادُ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَأَيْضًا إِسْنَادُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْهَا وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسل وَإِبْرَاهِيم التَّيْمِيّ لم يسمع من عَائِشَة
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ، پھر آپ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : عروہ عن عائشہ ؓ ، اور ابراہیم التیمی عن عائشہ ؓ کی سند سے یہ حدیث ہمارے اصحاب کے ہاں صحیح نہیں ، اور ابوداؤد ؒ نے فرمایا : یہ حدیث مرسل ہے ، اور ابراہیم التیمی نے عائشہ ؓ سے نہیں سنا ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 324

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَده بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه وَأحمد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دستی کا گوشت کھایا ، پھر اپنے نیچے بچھی ہوئی چادر سے اپنا ہاتھ صاف کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 325

وَعَن أم سَلمَة أَنَّهَا قَالَتْ: قَرَّبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے بھنی ہوئی پسلی (چانپ) نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کی تو آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا ، پھر نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 326

عَن أبي رَافع قَالَ: أَشْهَدُ لَقَدْ كُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ ثُمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ. رَوَاهُ مُسلم
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بکری کی کلیجی اور دل وغیرہ بھونا کرتا تھا ، (آپ نے اسے کھایا) پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 327

وَعَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ ثُمَّ قَالَ ناولني الذِّرَاع الآخر فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتُّ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ فَاهُ وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً. رَوَاهُ أَحْمد
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، انہیں ایک بکری ہدیہ کے طور پر دی گئی ، تو انہوں نے اسے ہنڈیا میں ڈال دیا ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا :’’ ابورافع ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک بکری ہمیں بطور ہدیہ دی گئی تھی تو میں نے اسے ہنڈیا میں پکایا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابورافع ! مجھے دستی دو ۔‘‘ میں نے دستی آپ کو دے دی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے دوسری دستی دو ۔‘‘ میں نے دوسری دستی بھی آپ کو دے دی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اور دستی دو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! بکری کی صرف دو دستیاں ہوتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ اگر تم خاموش رہتے اور جب تک خاموش رہتے تو مجھے یکے بعد دیگرے دستی ملتی رہتی ۔‘‘ پھر آپ نے پانی منگوایا ، کلی کی اور اپنی انگلیوں کے کنارے دھوئے ، پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی ، پھر دوبارہ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے ہاں ٹھنڈا گوشت پایا تو اسے کھایا ، پھر آپ مسجد میں تشریف لے گئے تو نماز پڑھی ، اور پانی کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 328

وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ إِلَى آخِرِهِ
دارمی نے ابوعبید سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے :’’ پھر پانی منگایا ۔‘‘ سے آخر تک ذکر نہیں کیا ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 329

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ فَقَالَا لِمَ تَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا فَقَالَا أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْك. رَوَاهُ أَحْمد
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ، ابی بن کعب اور ابوطلحہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے ، پس ہم نے گوشت روٹی کھائی ، پھر میں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، تو ان دونوں نے کہا : تم وضو کیوں کرتے ہو ؟ میں نے کہا : اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے ، تو انہوں نے کہا : کیا تم پاکیزہ چیزوں سے وضو کرتے ہو ؟ یہ چیزیں کھا کر تو اس شخصیت (یعنی نبی ﷺ) نے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 330

وَعَن ابْن عمر كَانَ يَقُولُ: قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسُّهَا بِيَدِهِ مِنَ الْمُلَامَسَةِ. وَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَعَلَيهِ الْوضُوء. رَوَاهُ مَالك وَالشَّافِعِيّ
ابن عمر ؓ کہا کرتے تھے : آدمی کا اپنی اہلیہ کا بوسہ لینا اور اسے اپنے ہاتھ سے چھونا ملامسہ کے زمرے میں ہے ، اور جو شخص اپنی اہلیہ کا بوسہ لے یا اسے اپنے ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو کرنا لازم ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک و الشافعی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 331

وَعَن ابْن مَسْعُود كَانَ يَقُولُ: مِنْ قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ الْوُضُوءُ. رَوَاهُ مَالك
ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے : اپنی اہلیہ کا بوسہ لینے سے وضو کرنا ضروری ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 332

وَعَن ابْن عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِن الْقبْلَة من اللَّمْس فتوضؤوا مِنْهَا
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : بے شک بوسہ لینا ، لمس کے زمرے میں آتا ہے ، پس اس (وجہ) سے وضو کرو ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 333

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ» . رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيُّ وَقَالَ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَلَا رَآهُ وَيَزِيدُ بن خَالِد وَيزِيد بن مُحَمَّد مَجْهُولَانِ
عمر بن عبدالعزیز ؒ تمیم داری ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر قسم کے بہتے خون کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے ۔‘‘ دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیا ، اور انہوں نے کہا : عمر بن عبدالعزیز ؒ نے تمیم داری ؓ سے سنا نہ انہیں دیکھا ، جبکہ یزید بن خالد اور یزید بن محمد دونوں مجہول ہیں ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 334

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ الشَّيْخ الإِمَام محيي السّنة C: هَذَا الْحَدِيثُ فِي الصَّحْرَاءِ وَأَمَّا فِي الْبُنْيَانِ فَلَا بَأْس لما رُوِيَ:
ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ کرو نہ پشت ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث صحراء کے بارے میں ہے ، رہا عمارت وغیرہ میں قضائے حاجت کرنا تو اس میں کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 335

عَن عبد الله بن عمر قَالَ: ارْتَقَيْتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْضِي حَاجته مستدبر الْقبْلَة مُسْتَقْبل الشَّام
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنی کسی ضرورت کے تحت ام المومنین حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 336

وَعَن سلمَان قَالَ: نَهَانَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْل أَو أَن نستنتجي بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ. رَوَاهُ مُسلم
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے بول و براز کے لیے قبلہ کی طرف منہ کرنے یا دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے یا تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا کرنے یا لید یا ہڈی کے ساتھ استنجا کرنے سے ہمیں منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 337

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخبث والخبائث»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ بیت الخلا میں داخل ہوتے تو فرماتے :’’ اے اللہ ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک مادہ جنات سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 338

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحدهمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ - وَفِي رِوَايَةٍ لمُسلم: لَا يستنزه مِنَ الْبَوْلِ - وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثمَّ أَخذ جَرِيدَة رطبَة فَشَقهَا نِصْفَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً قَالُوا يَا رَسُول الله لم صنعت هَذَا قَالَ لَعَلَّه يُخَفف عَنْهُمَا مَا لم ييبسا
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے ، اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا ، ان میں سے ایک پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کیا کرتا تھا ، اور مسلم کی روایت میں ہے : پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کیا کرتا تھا ، جبکہ دوسرا شخص چغل خور تھا ۔‘‘ پھر آپ نے ایک تازہ شاخ لے کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے ، پھر ہر قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے یہ کیوں کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ممکن ہے ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 339

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ. قَالُوا: وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ . قَالَ: «الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاس أَو فِي ظلهم» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لعنت کا باعث بننے والی دو چیزوں سے بچو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لعنت کا سبب بننے والی دو چیزیں کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو لوگوں کی راہ گزر یا ان کے سائے کی جگہ میں بول و براز کرتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 340

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا شرب أحدكُم فَلَا ينتنفس فِي الْإِنَاءِ وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ»
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز پیئے تو وہ برتن میں سانس نہ لے ، اور جب بیت الخلا میں جائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو مت چھوئے اور دائیں سے استنجا بھی مت کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 341

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فليوتر
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص وضو کرے تو وہ ناک جھاڑے اور جو ڈھیلوں سے استنجا کرے تو وہ ڈھیلے طاق عدد میں لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 342

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً يستنجي بِالْمَاءِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ بیت الخلا میں جاتے تو میں اور ایک دوسرا لڑکا پانی کا برتن اور برچھی اٹھاتے ، اور آپ پانی سے استنجا کرتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 343

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ. وَفِي رِوَايَتِهِ وَضَعَ بَدَلَ نزع
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ جب بیت الخلا میں جانے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۔ اسے ابوداؤد ، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، اور ابوداؤد ؒ نے فرمایا : یہ روایت منکر ہے ، ان کی روایت میں ((نزع)) کے بجائے ((وضع)) کا لفظ ہے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 344

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ حَتَّى لَا يرَاهُ أحد. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ بول و براز کا ارادہ فرماتے تو آپ (صحرا کی طرف) چلتے جاتے حتیٰ کہ آپ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 345

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَأَتَى دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَال ثُمَّ قَالَ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فليرتد لبوله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک روز نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا تو آپ دیوار کی بنیاد کے پاس نرم جگہ آئے اور پیشاب کیا ۔ پھر فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو وہ پیشاب کرنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کرے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 346

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الأَرْض. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو آپ (بیٹھتے وقت) زمین کے قریب ہو کر اپنا کپڑا اٹھایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 347

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ وَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمہارے لیے اسی طرح ہوں جس طرح والد اپنے بچے کے لیے ہوتا ہے ، میں تمہیں سکھا سکتا ہوں ، جب تم بول و براز کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ کرو نہ پشت ، آپ نے (استنجا کے لیے) تین پتھر استعمال کرنے کا حکم فرمایا ، آپ نے لید اور ہڈی سے (استنجا کرنے سے) منع فرمایا اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 348

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطَهُورِهِ وَطَعَامِهِ وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو ، اور کھانے کے لیے تھا ، جبکہ بایاں ہاتھ استنجا اور ناپسندیدہ کاموں کے لیے تھا ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 349

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی بول و براز کے لیے جائے تو وہ استنجا کرنے کے لیے اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جائے ، یہ اس کے لیے کافی ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 350

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ فَإِنَّهَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «إخْوَانكُمْ من الْجِنّ»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گوبر اور ہڈی کے ساتھ استنجا نہ کرو ، کیونکہ وہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ۔ البتہ امام نسائی نے ’’ تمہاری جن بھائیوں کی خوراک ‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 351

وَعَن رويفع بن ثَابت قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رُوَيْفِعُ لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّة أَو عظم فَإِن مُحَمَّدًا بَرِيء مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
رویفع بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ رویفع ! شاید میرے بعد تمہاری عمر دراز ہو جائے ، لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے اپنی داڑھی کو گرہ دی یا گلے میں تانت ڈالی یا جانور کی لید یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد ﷺ اس سے بری ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 352

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حرج وَمن أكل فَمَا تخَلّل فليلفظ وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْغَائِط فليستتر وَمن لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سرمہ لگائے تو وہ طاق عدد میں لگائے ، جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، جو شخص ڈھیلے سے استنجا کرے تو وہ بھی طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے ، جس نے ایسے کیا تو اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، جو شخص کوئی چیز کھائے تو جو اجزا خلال کرنے سے نکلیں انہیں پھینک دے اور جو اپنی زبان کے ذریعے نکالے تو انہیں نگل جائے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو شخص بول و براز کے لیے جائے تو وہ پردہ کرے ، اگر وہ کوئی چیز نہ پائے تو وہ ریت کا ایک ٹیلہ سا بنائے اور اس کی طرف پشت کر لے کیونکہ شیطان ، اولاد آدم کی مقعد کے ساتھ کھیلتا ہے ، جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 353

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ أَوْ يَتَوَضَّأُ فِيهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا لم يذكرَا: «ثمَّ يغْتَسل فِيهِ أويتوضأ فِيهِ»
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے ، پھر وہ اس میں غسل کرے یا وضو کرے ، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی (پیشاب) سے ہوتے ہیں ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ۔ البتہ ان دونوں نے ’’ پھر اس میں غسل کرے یا وضو کرے ۔‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 354

وَعَن عبد الله بن سرجس قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عبداللہ بن سرجس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی بل (کیڑے مکوڑوں کی جگہ) میں پیشاب نہ کرے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 355

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَةَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَالظِّلِّ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین باتوں سے بچو ، جن کے کرنے والے پر لعنت کی جاتی ہے ، پانی کے گھاٹ ، راستے کے درمیان اور سائے میں بول و براز کرنے سے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 356

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْرُجِ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَنْ عَوْرَتِهِمَا يَتَحَدَّثَانِ فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو شخص بول و براز کرتے وقت عریاں حالت میں باہم باتیں نہ کریں ، کیونکہ اللہ ایسا کرنے پر ناراض ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 357

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ والخبائث . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ان مقامات پر جنات کی آمدو رفت رہتی ہے لہذا جب تم میں سے کوئی بیت الخلا جائے تو یہ دعا پڑھے :’’ میں نر اور مادہ ناپاک جنات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 358

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلَاءَ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَاده لَيْسَ بِقَوي
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ان میں سے کوئی بیت الخلا میں جائے تو وہ ((بسم اللہ)) کہے ۔ یہ جنوں کی آنکھوں اور اولاد آدم کی پردہ کی چیزوں (شرم گاہ وغیرہ ) کے درمیان پردہ اور آڑ ہے ۔‘‘ ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی اسناد قوی نہیں ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 359

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ «غفرانك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو یہ دعا : ((غفرانک))’’ میں تیری مغفرت چاہتا ہوں ۔‘‘ پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 360

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وروى الدَّارمِيّ وَالنَّسَائِيّ مَعْنَاهُ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔ جب نبی ﷺ بیت الخلا جاتے تو میں مٹی کے برتن یا چمڑے کی چھاگل میں آپ کو پانی پیش کرتا ، آپ استنجا کرتے ، پھر اپنا ہاتھ زمین پر پھیرتے ، پھر میں ایک دوسرا برتن پیش خدمت کرتا تو آپ وضو فرماتے ۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی اور نسائی نے بھی انہی کے معنی میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 361

وَعَن الحكم بن سُفْيَان قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَالَ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
حکم بن سفیان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ پیشاب کرتے تو وضو فرماتے اور اپنی شرم گاہ پر پانی کے چھینٹے مارتے تھے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 362

وَعَن أُمَيْمَة بنت رقيقَة قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
امیمہ بنت رقیقہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کی چارپائی کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ ہوتا تھا جس میں آپ ﷺ رات کے وقت پیشاب کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 363

وَعَن عمر قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا فَقَالَ: «يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا» فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السّنة C: قد صَحَّ:
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے مجھے دیکھا ، جبکہ میں کھڑا پیشاب کر رہا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ۔‘‘ پس اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا ۔ ضعیف ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث ثابت ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 364

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سباطة قوم فَبَال قَائِما. . قيل: كَانَ ذَلِك لعذر
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی ﷺ کسی قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔ امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ (کھڑے ہو کر پیشاب کرنا) کسی عذر کی وجہ سے تھا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 365

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ مَا كَانَ يَبُول إِلَّا قَاعِدا» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
عائشہؓ نے فرمایا : جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ نبی ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے ، تو اس کی تصدیق نہ کرو ، آپ تو صرف بیٹھ کر پیشاب کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 366

وَعَن زيد بن حَارِثَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَاهُ فِي أَوَّلِ مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوءِ أَخَذَ غُرْفَةً مِنَ الْمَاءِ فَنَضَحَ بِهَا فَرْجَهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالدَّارَقُطْنِيّ
زید بن حارثہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جب جبرائیل پہلی مرتبہ ان کے پاس وحی لے کر آئے تو انہوں نے آپ کو وضو اور نماز سکھائی ، جب وضو سے فارغ ہوئے تو چلو میں پانی لیا اور اسے اپنی شرم گاہ پر چھڑک دیا ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 367

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: الْحَسَنُ بْنُ عَليّ الْهَاشِمِي الرَّاوِي مُنكر الحَدِيث
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : محمد ﷺ جب آپ وضو کریں تو (اس کے بعد شرم گاہ پر) پانی چھڑک لیا کریں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور میں نے محمد یعنی امام بخاری ؒ سے سنا کہ حسن بن علی الہاشمی راوی منکر الحدیث ہے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 368

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عمر؟ قَالَ: مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهِ. قَالَ: مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً «.» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا تو عمر ؓ پانی کا لوٹا لیے آپ کے پیچھے کھڑے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : پانی ہے ، آپ اس سے وضو فرمائیں گے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب میں پیشاب کروں تو وضو بھی کروں ۔ اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت بن جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 369

وَعَن أبي أَيُّوب وَجَابِر وَأنس: أَن هَذِه الْآيَة نَزَلَتْ (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يحب المطهرين) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ فَمَا طَهُورُكُمْ قَالُوا نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ قَالَ فَهُوَ ذَاك فعليكموه» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوایوب ، جابر اور انس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت :’’ اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ پاک صاف رہیں ، اور اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے :‘‘ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انصار کی جماعت ! اللہ نے پاکیزگی کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے ، تمہاری پاکیزگی کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں ، غسل جنابت کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پس یہی وجہ ہے ، چنانچہ تم اس کی پابندی کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 370

وَعَن سلمَان قَالَ قَالَ لَهُ بعض الْمُشْركين وَهُوَ يستهزئ بِهِ إِنِّي لأرى صَاحبكُم يعلمكم كل شَيْء حَتَّى الخراءة قَالَ أَجَلْ أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأحمد وَاللَّفْظ لَهُ
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی مشرک نے ازراہ مذاق کہا : میرا خیال ہے تمہارا ساتھی (رسول اللہ ﷺ) تمہیں بول و براز کے آداب بھی سکھاتا ہے ، میں نے کہا : ہاں بالکل ٹھیک ہے ، آپ ﷺ نے یہی حکم دیا ہے کہ ہم بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کریں اور ہم (استنجا کے لیے) تین ڈھیلوں سے کم استعمال نہ کریں ، اور ان میں لید اور ہڈی نہ ہو ۔‘‘ اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے مذکورہ الفاظ احمد کے ہیں ۔ رواہ مسلم و احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 371

وَعَن عبد الرَّحْمَن بن حَسَنَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَده كَهَيئَةِ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ فَسَمعهُ فَقَالَ أَو مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذا أَصَابَهُم شَيْء من الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
عبدالرحمن بن حسنہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کے ہاتھ میں چمڑے کی ڈھال تھی ، آپ نے اسے رکھا ، پھر بیٹھ کر اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا ، تو ان میں سے کسی نے کہا : انہیں دیکھو ، کیسے عورت کی طرح (چھپ کر) پیشاب کر رہے ہیں ، نبی ﷺ نے اس کی بات سن لی ، اور فرمایا :’’ تم پر افسوس ہے ، کیا تم اس سے باخبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک ساتھی کے ساتھ ہوا کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے ۔ چنانچہ اس شخص نے ان کو منع کر دیا جس کی وجہ سے اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 372

وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَنهُ عَن أبي مُوسَى
امام نسائی نے یہ روایت ان (عبدالرحمن بن حسنہ ؓ) کی سند سے ابوموسیٰ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 373

عَن مَرْوَان الْأَصْفَر قَالَ: «رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا قَالَ بلَى إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْس» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
مروان اصفر ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری کو قبلہ رخ بٹھایا ۔ پھر اس کے رخ بیٹھ کر پیشاب کیا ، میں نے عرض کیا : ابوعبدالرحمن ! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا : (نہیں) بلکہ صرف کھلی ٖفضا میں اس سے منع کیا گیا ہے ۔ اگر تمہارے اور قبلہ کے مابین کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے پردہ ہو تو پھر (قبلہ رخ پیشاب کرنے میں) کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 374

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي» . رَوَاهُ أبن مَاجَه
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ بیت الخلا سے باہر تشریف لائے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف و شکر اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی اور مجھے عافیت عطا فرمائی ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 375

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب جنوں کا وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ ! اپنی امت کو ہڈی یا لید یا کوئلے سے استنجا کرنے سے منع فرمائیں ، کیونکہ اللہ نے ان چیزوں میں ہمارے لیے رزق رکھا ہے ، پس رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 376

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعشَاء وبالسواك عِنْد كل صَلَاة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں نماز عشاء تاخیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم فرماتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 377

وَعَن شُرَيْح بن هَانِئ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دخل بَيته؟ قَالَت: بِالسِّوَاكِ. رَوَاهُ مُسلم
شریح بن ہانی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، جب رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لاتے تو آپ سب سے پہلے کون سا کام کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : مسواک ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 378

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ رات تہجد کے لیے اٹھتے تو آپ مسواک سے اپنے منہ کو صاف کرتے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 379

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرَ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ) يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ - قَالَ الرَّاوِي: ونسيت الْعَاشِرَة إِلَّا أَن تكون الْمَضْمَضَة. رَوَاهُ مُسلم وَفِي رِوَايَةٍ «الْخِتَانُ» بَدَلَ «إِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ» لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي «الصَّحِيحَيْنِ» وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهَا صَاحِبُ «الْجَامِعِ» وَكَذَا الْخطابِيّ فِي «معالم السّنَن» :
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دس خصلتیں فطرت سے ہیں : موچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا ، ناخن کترنا ، انگلیوں کے جوڑ دھونا ، بغلوں کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجا کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں ، دسویں خصلت میں بھول گیا ہوں ، ممکن ہے وہ کلی کرنا ہو ۔ ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کے بجائے ختنوں کا ذکر ہے ۔ میں نے یہ روایت صحیحین میں پائی ہے نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن صاحب ’’الجامع‘‘ اور اسی طرح الخطابی نے ’’معالم السنن‘‘ میں اسے ذکر کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 380

عَن أبي دَاوُد بِرِوَايَة عمار بن يَاسر
ابوداؤد نے عمار بن یاسر ؓ کی روایت سے ذکر کیا ہے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 381

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ البُخَارِيّ فِي صَحِيحه بِلَا إِسْنَاد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسواک منہ کو صاف کرنے والی اور رب کی رضا مندی کا باعث ہے ۔‘‘ شافعی ، احمد ، دارمی ، نسائی اور امام بخاری نے اسے اپنی صحیح میں معلق بیان کیا ہے ۔ صحیح ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 382

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاحُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار چیزیں تمام رسولوں کی سنت ہیں : حیا ، کسی روایت میں ختنے کا ذکر ہے ، عطر لگانا ، مسواک کرنا اور نکاح کرنا ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 383

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا يَتَسَوَّكُ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ رات یا دن کے کسی حصے میں سوتے تو آپ بیدار ہو کر وضو کرنے سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 384

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهُ فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ مسواک کیا کرتے تھے ، پھر آپ مسواک مجھے دے دیتے تاکہ میں اسے دھو دوں تو میں دھونے سے پہلے خود مسواک کرتی ، پھر اسے دھو کر آپ کو لوٹا دیتی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 385

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لي: كبر فَدَفَعته إِلَى الْأَكْبَر مِنْهُمَا
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اپنے آپ کو خواب میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا چنانچہ اس دوران دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی ، تو مجھے کہا گیا : بڑے کو دو ، چنانچہ میں نے بڑے کو دے دی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 386

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا أَمَرَنِي بِالسِّوَاكِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدِّمَ فِيَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل جب بھی میرے پاس تشریف لاتے تو آپ مجھے مسواک کرنے کا حکم فرماتے ، مجھے تو اندیشہ ہوا کہ میں کہیں اپنے منہ کا سامنا حصہ نہ چھیل دوں ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 387

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاك» رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں مسواک کے بارے میں بہت مرتبہ کہا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔