MISHKAT

Search Results(1)

8)

8) فضائل قرآن کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2109

عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ من تعلم الْقُرْآن وَعلمه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور (دوسروں کو) سکھایا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2110

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْم إِلَى بطحان أَو إِلَى العقيق فَيَأْتِي مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رحم» فَقُلْنَا يَا رَسُول الله نُحِبُّ ذَلِكَ قَالَ: «أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ الله عز وَجل خير لَهُ من نَاقَة أَو نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِل» . رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے جبکہ ہم صفہ میں تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت وادی بطحان یا وادی عقیق جائے اور کسی گناہ اور قطع رحمی کا ارتکاب کیے بغیر وہاں سے بڑی کوہان والی دو اونٹنیاں لے آئے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم سب اسے پسند کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی صبح کے وقت مسجد کیوں نہیں آتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے دو آیتیں سیکھے یا پڑھے ، تو یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین (آیتیں) اس کے لیے تین (اونٹنیوں) سے اور چار ، چار سے بہتر ہیں ، اور وہ جتنی زیادہ ہوں گی ، وہ اتنی ہی اونٹنیوں سے بہتر ہوں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2111

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ» . قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ «فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صلَاته خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر جائے تو وہاں تین بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں پائے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں تین آیات پڑھتا ہے تو وہ (تین آیات) اس کے لیے تین موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2112

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شاق لَهُ أَجْرَانِ»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ماہر قرآن ، اطاعت گزار معزز لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا ، اور جو شخص اٹک اٹک کر قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس پر دشوار ہوتا ہے تو اس کے لیے دہرا اجر ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2113

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حَسَدَ إِلَّا على اثْنَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَار
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے ، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن (کا علم) عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس (کی تلاوت و عمل) کا اہتمام کرتا ہو ، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس میں سے خرچ کرتا ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2114

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مثل الْمُؤمن الَّذِي يقْرَأ الْقُرْآن كَمثل الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طِيبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يقْرَأ الْقُرْآن كَمثل التمرة لَا ريح لَهَا وطعمها حلوومثل الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يقْرَأ الْقُرْآن مثل الريحانة رِيحهَا طيب وَطَعْمُهَا مَرٌّ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالْأُتْرُجَّةِ وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ»
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن کی تلاوت کرنے والا مومن نارنگی کی طرح ہے اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور وہ خوش ذائقہ بھی ہے ، اور قرآن کی تلاوت نہ کرنے والا مومن کھجور کی طرح ہے ، جس کی خوشبو نہیں لیکن اس کا ذائقہ شیریں ہے ، اورر قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال تمے کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے جبکہ قرآن پڑھنے والا منافق نازبو کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اور ذائقہ کڑوا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والا مومن ترنجبین کی مثل ہے جبکہ قرآن نہ پڑھنے والا لیکن اس پر عمل کرنے والا مومن کھجور کی طرح ہے ۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2115

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن الله يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ» . رَوَاهُ مُسلم
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ، اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو رفعت عطا فرماتا ہے اور کچھ لوگوں کو پستی کا شکار کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2116

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُسَيْدَ بنَ حُضَيْرٍ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ فَقَرَأَ فجالت الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ الْفرس ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يحيى قَرِيبا مِنْهَا فأشفق أَن تصيبه فَلَمَّا أَخَّرَهُ رَفْعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ» . قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يحيى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبا فَرفعت رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ وَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا قَالَ: «وَتَدْرِي مَا ذَاكَ؟» قَالَ لَا قَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي مُسْلِمٍ: «عرجت فِي الجو» بدل: «خرجت على صِيغَة الْمُتَكَلّم»
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ اُسید بن حضیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ رات کے وقت سورۂ بقرہ تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا کہ گھوڑا اچانک اچھلنے لگا ، وہ خاموش ہو گئے تو وہ (گھوڑا) بھی ٹھہر گیا ، انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر اچھلنے لگا وہ خاموش ہو گئے تو وہ (گھوڑا) بھی ٹھہر گیا ۔ انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر اچھلنے لگا ، وہ فارغ ہوئے ، اور ان کا بیٹا یحیی اس (گھوڑے) کے قریب ہی تھا ، لہذا انہیں اندیشہ ہوا کہ وہ اسے نقصان نہ پہنچائے اور جب انہوں نے اسے دور کیا ، اور آسمان کی طرف سر اٹھایا تو سائبان سا دکھائی دیا جس میں چراغوں کی طرح روشنی تھی ، جب صبح ہوئی تو انہوں نے نبی ﷺ کو بتایا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن حضیر ! پڑھ ، ابن حضیر ! تم پڑھتے رہتے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! مجھے اندیشہ ہوا کہ (اگر میں پڑھتا رہتا تو) وہ یحیی کو روند ڈالتا ، کیونکہ وہ اس کے قریب تھا ، لہذا میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا ، میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو (اوپر) سائبان کی طرح کوئی چیز تھی اور اس میں چراغوں جیسی کوئی چیز تھی ، میں باہر نکلا حتیٰ کہ میں نے اس (روشنی) کو نہ دیکھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جانتے ہو وہ کیا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، فرمایا :’’ وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کے قریب آ گئے تھے ، اگر تم پڑھتے رہتے تو وہ وہیں رہتے اور لوگ انہیں دیکھ لیتے اور وہ ان سے مخفی نہ رہتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور یہ الفاظ حدیث بخاری کے ہیں ، اور صحیح مسلم میں ہے :’’ میں باہر نکلا ‘‘ صیغہ متکلم کے بدل لفظ :’’ وہ فضا میں بلند ہو گئے ‘‘ استعمال ہوا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2117

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «تِلْكَ السكينَة تنزلت بِالْقُرْآنِ»
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی سورۂ کہف پڑھ رہا تھا ، اور اس کے ایک جانب ایک گھوڑا دو مضبوط رسیوں سے بندھا ہوا تھا ، پس بادل کے ٹکڑے نے اس (آدمی) کو ڈھانپ لیا اور وہ اس کے قریب سے قریب تر ہونے لگا ، جبکہ اس کا گھوڑا بدکنے لگا ، جب صبح ہوئی تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ سکینت تھی جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2118

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَلم أجبه حَتَّى صليت ثُمَّ أَتَيْتُهُ. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كنت أُصَلِّي فَقَالَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ (اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دعَاكُمْ) ثمَّ قَالَ لي: «أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ» . فَأَخَذَ بِيَدِي فَلَمَّا أَرَادَ أَن يخرج قلت لَهُ ألم تقل لأعلمنك سُورَة هِيَ أعظم سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتهُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوسعید بن معلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا تو نبی ﷺ نے مجھے بلایا ، میں نے آپ کی آواز پر لبیک کہی ، پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نماز پڑھ رہا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا اللہ نے نہیں فرمایا ! جب اللہ اور اس کا رسول تمہیں بلائیں تو تم ان کی اطاعت کرو ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں ، اس سے پہلے کہ تم مسجد سے باہر نکلو ، تمہیں قرآن کی عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟‘‘ آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑ لیا ، جب ہم نے مسجد سے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں قرآن کی عظیم تر سورت سکھاؤں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (الحمد للہ رب العالمین) ’’ سورۂ فاتحہ ‘‘ وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2119

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْعَلُوا بِيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ من الْبَيْت الَّذِي يقْرَأ فِيهِ سُورَة الْبَقَرَة» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ، کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2120

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَو فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تستطيعها البطلة» . رَوَاهُ مُسلم
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ،’’ قرآن پڑھا کرو ، کیونکہ وہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا ، سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران دو چمکتی ہوئی روشن سورتوں کو پڑھو ، کیونکہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل ہیں یا دو سائبان ہیں یا پرندوں کے غول ہیں جو صفیں باندھے ہوئے اپنے پڑھنے والوں کے حق میں بحث و مباحثہ کریں گے ، سورۂ بقرہ پڑھا کرو ، کیونکہ اسے حاصل کر لینا باعث برکت اور اسے ترک کر دینا باعث حسرت ہے ، اور جادوگر اسے حاصل نہیں کر سکتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2121

وَعَن النواس بن سمْعَان قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تحاجان عَن صَاحبهمَا» . رَوَاهُ مُسلم
نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قرآن اور اس پر عمل کرنے والوں کو روز قیامت لایا جائے گا ، سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران اس (قرآن کی سورتوں) کے آگے ہوں گی گویا وہ سیاہ بادل ہیں یا دو سائبان ہیں ان کے درمیان روشنی ہے ، یا وہ پرندوں کے دو غول ہیں جو صفیں باندھے ہوئے اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2122

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَك أعظم؟» . قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَك أعظم؟» . قَالَ: قُلْتُ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ القيوم) قَالَ فَضرب فِي صَدْرِي وَقَالَ: «وَالله لِيَهنك الْعلم أَبَا الْمُنْذر» . رَوَاهُ مُسلم
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابومنذر ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں قرآن کریم کی کون سی سب سے عظیم آیت یاد ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے پھر فرمایا :’’ ابومنذر ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں قرآن کریم کی کون سی سب سے عظیم آیت یاد ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : (اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم) ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا :’’ ابومنذر ! تمہیں علم مبارک ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2123

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو من الطَّعَام فَأَخَذته وَقلت وَالله لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَة مَا فعل أسيرك البارحة» . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ» . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ سيعود» . فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذبك وَسَيَعُودُ» . فرصدته الثَّالِثَة فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُول الله وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ينفعك الله بهَا قلت مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ من الله حَافظ وَلَا يقربنك شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَات يَنْفَعنِي الله بهَا فخليت سبيلهقال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أما إِنَّه قد صدقك وَهُوَ كذوب تعلم من تخاطب مُنْذُ ثَلَاث لَيَال» . يَا أَبَا هُرَيْرَة قَالَ لَا قَالَ: «ذَاك شَيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت کرنے پر مامور فرمایا ، پس ایک شخص میرے پاس آیا اور غلے سے لپیں بھرنے لگا ، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر جاؤں گا ، اس نے کہا : میں محتاج ہوں ، میرے بچے ہیں اور میں بہت ضرورت مند ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! گزشتہ رات تیرے قیدی نے کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس نے سخت ضرورت اور بچوں کی شکایت کی تو مجھے اس پر رحم آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تمہارے ساتھ غلط بیانی کی اور وہ پھر آئے گا ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ پھر آئے گا لہذا میں اس کی تاک میں بیٹھ گیا ، وہ آیا اور غلہ بھرنے لگا تو میں نے اسے پکڑ لیا ، اور میں نے کہا : میں تمہیں ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ اس نے کہا : میں ضرورت مند اور عیال دار ہوں ، میں پھر نہیں آؤں گا ۔ میں نے اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا :’’ ابوہریرہ ! تمہارے قیدی کا کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس نے سخت ضرورت اور بچوں کی شکایت کی تو میں نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تو تم سے غلط بیانی کی اور وہ پھر آئے گا ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ضرور آئے گا ۔ میں اس کی تاک میں بیٹھ گیا ، وہ آیا اور غلہ بھرنے لگا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : میں تمہیں ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا اور یہ تیسری اور آخری مرتبہ ہے ، تم کہتے ہو میں پھر نہیں آؤں گا لیکن پھر آ جاتے ہو ، اس نے کہا مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں چند کلمات سکھاؤں گا جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ پہنچائے گا ۔ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر پر آؤ تو مکمل آیت الکرسی پڑھو ، اس طرح اللہ کی طرف سے تم پر ایک محافظ مقرر ہو جائے گا اور شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا حتیٰ کہ صبح ہو جائے گی ، میں نے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اس نے کہا کہ وہ مجھے چند کلمات سکھائے گا جن کے ذریعے اللہ مجھے فائدہ پہنچائے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تم سے سچ کہا حالانکہ وہ جھوٹا ہے ، کیا تم جانتے ہو کہ تم تین روز سے کس کے ساتھ باتیں کرتے رہے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شیطان تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2124

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَقَالَ هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أَعْطيته» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اس دوران کے جبریل ؑ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے سر کے اوپر سے زور دار آواز سنی تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا :’’ یہ آسمان سے پہلی مرتبہ ایک دروازہ کھلا اور اس سے ایک فرشتہ نازل ہوا ہے ، جبریل ؑ نے فرمایا : یہ جو فرشتہ زمین کی طرف نازل ہوا ہے ، اس سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا ہے ، اس نے سلام عرض کیا ، تو کہا : آپ کو دو نوروں کی خوشخبری ہو ، وہ آپ ہی کو عطا کیے گئے ہیں ، آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے ، سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری (تین) آیات ، آپ (اور آپ کے متبعین) ان دونوں میں سے جو حرف (دعا) پڑھیں گے وہ آپ کو عطا کر دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2125

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْآيَتَانِ مِنْ آخَرِ سُورَة الْبَقَرَة من قَرَأَ بهما فِي لَيْلَة كفتاه»
ابومسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو شخص رات کے وقت انہیں پڑھ لے تو وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2126

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَفِظَ عشر آيَات من أول سُورَة الْكَهْف عصم من فتْنَة الدَّجَّال» . رَوَاهُ مُسلم
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لے تو اسے (فتنہ) دجال سے بچا لیا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2127

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ يَقْرَأُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: «قُلْ هُوَ الله أحد» يعدل ثلث الْقُرْآن . رَوَاهُ مُسلم
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، تہائی قرآن کیسے پڑھا جا سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2128

وَرَوَاهُ البُخَارِيّ عَن أبي سعيد
امام بخاری ؒ نے اسے ابوسعید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2129

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابه فِي صلَاتهم فيختم ب (قل هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ» فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لِأَنَّهَا صفة الرَّحْمَن وَأَنا أحب أَن أَقرَأ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبِرُوهُ أَن الله يُحِبهُ»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو کسی لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تو قراءت کے آخر میں سورۂ اخلاص پڑھتا ، جب وہ واپس آئے تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا :’’ اس سے پوچھو کے وہ ایسے کیوں کرتا تھا ؟‘‘ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا : کیونکہ وہ رحمان کی صفت ہے ، اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اسے بتا دو کہ اللہ اسے پسند فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2130

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ: (قُلْ هُوَ الله أحد) قَالَ: إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وروى البُخَارِيّ مَعْنَاهُ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سورۂ اخلاص سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا :’’ بے شک تمہاری اس سے محبت ہی تمہیں جنت میں لے جائے گی ۔‘‘ ترمذی ۔ اور امام بخاری نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے ۔ رواہ البخاری و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2131

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ (قل أعوذ بِرَبّ الفلق) و (قل أعوذ بِرَبّ النَّاس) رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج رات ایسی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی پہلے نہیں دیکھی گئیں ، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2132

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فيهمَا (قل هُوَ الله أحد) و (قل أعوذ بِرَبّ الفلق) و (قل أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ) ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاث مَرَّات وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَابِ الْمِعْرَاج إِن شَاءَ الله تَعَالَى
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ اپنے بستر پر آرام کرتے تو آپ ہر رات اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کرتے ، پھر سورۂ اخلاص ، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک مارتے ، پھر جہاں تک ممکن ہوتا انہیں اپنے جسم پر پھیرتے ، آپ ﷺ اپنے سر ، چہرے اور اپنے جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے اور آپ تین مرتبہ ایسا کرتے ۔ متفق علیہ ۔ رسول اللہ ﷺ کے معراج سے متعلق ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث ، ہم ان شاء اللہ تعالیٰ باب المعراج میں ذکر کریں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2133

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ تَحْتَ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْقُرْآنُ يُحَاجُّ الْعِبَادَ لَهُ ظَهْرٌ وَبَطْنٌ وَالْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ تُنَادِي: أَلَا مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
عبدالرحمن بن عوف ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تین چیزیں روز قیامت عرش کے نیچے ہوں گی ، قرآن بندوں کی طرف سے جھگڑا کرے گا ، اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ، اور امانت بھی ، جبکہ رحم آواز دے گا ، سن لو ! جس نے مجھے ملایا ، اللہ اسے ملائے اور جس نے مجھے قطع کیا اللہ اسے قطع کرے ۔‘‘ امام بغوی ؒ نے اسے شرح السنہ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2134

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارَتْقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَة تقرؤها . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حامل و عاملِ قرآن سے کہا جائے گا : پڑھتا جا اور چڑھتا جا ، اور ویسے ترتیل سے پڑھ جیسے تو دنیا میں ترتیل کے ساتھ پڑھا کرتا تھا ، اور تو جہاں آخری آیت پڑھے گا وہیں تیری منزل ہو گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2135

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيح
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پیٹ (دل) میں قرآن کا کچھ حصہ نہ ہو وہ بے آباد گھر کی طرح ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2136

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ. وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : قرآن نے جس شخص کو میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا ہو میں اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہوں جو سوال کرنے والوں کو دیا جاتا ہے ، اور اللہ کے کلام کو دیگر کلاموں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے جیسے اللہ کو اپنی مخلوق پر برتری حاصل ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2137

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا لَا أَقُولُ: آلم حَرْفٌ. أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب إِسْنَادًا
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن کریم کا ایک حرف پڑھتا ہے تو اسے اس کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے ، اور نیکی دس گنا بڑھ جاتی ہے ، میں نہیں کہتا کہ (الم) ایک حرف ہے ، بلکہ الف ایک حرف ہے ، لام ایک حرف ہے ، میم ایک حرف ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ سند کے لحاظ سے غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2138

وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟ قلت نعم قَالَ: أما إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَلا إِنَّهَا سَتَكُون فتْنَة» . فَقلت مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «كتاب الله فِيهِ نبأ مَا كَانَ قبلكُمْ وَخبر مَا بعدكم وَحكم مَا بَيْنكُم وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلِقُ على كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلَا يَنْقَضِي عَجَائِبُهُ هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا (إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنا بِهِ) مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ وَفِي الْحَارِث مقَال
حارث اعور ؒ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد سے گزرا تو لوگ باتوں میں مشغول تھے ، میں علی ؓ کے پاس گیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا : کیا انہوں نے ایسے کیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : سن لو ! بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سن لو ! عنقریب فتنے پیدا ہوں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی کتاب ، اس میں سابقہ قوموں کے احوال اور مستقبل کے اخبار اور تمہارے مسائل کا حل ہے ، وہ فیصلہ کن ہے ، بے فائدہ نہیں ، جس نے ازراہ تکبر اسے ترک کر دیا ، اللہ نے اسے ہلاک کر ڈالا ، جس نے اس کے علاوہ کسی اور چیز سے ہدایت تلاش کرنے کی کوشش کی تو اللہ نے اسے گمراہ کر دیا ، وہ اللہ کی مضبوط رسی (یعنی وسیلہ) ہے ، وہ ذکر حکیم اور صراط مستقیم ہے ، اس کی وجہ سے خواہیش ٹیڑھی ہوتی ہیں نہ زبانیں اختلاط و التباس کا شکار ہوتی ہیں اور نہ علما اس سے سیر ہوتے ہیں ، کثرت تکرار سے وہ پرانی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے عجائب ختم ہوتے ہیں ، وہ ایسی کتاب ہے کہ جسے سن کر جن بے ساختہ پکار اٹھے کہ ’’ہم نے عجب قرآن سنا ہے جو رشد و بھلائی کی طرف راہنمائی کرتی ہے لہذا ہم اس پر ایمان لے آئے ۔‘‘ جس نے اس کے حوالے سے کہا ، اس نے سچ کہا ، جس نے اس کے مطابق عمل کیا وہ اجر پا گیا ، جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت پا گیا ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : اس حدیث کی سند مجہول ہے اور حارث پر کلام کیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2139

وَعَن معَاذ الْجُهَنِيّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا؟» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
معاذ جہنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس کے مطابق عمل کیا تو روز قیامت اس کے والدین کو ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی تمہارے دنیا کے گھروں میں چمکنے والے سورج کی روشنی سے زیادہ اچھی ہو گی ، تمہارا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اس کے مطابق عمل کیا ہو ! ‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2140

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّار مَا احْتَرَقَ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اگر قرآن کو چمڑے میں رکھ کر آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ جلے گا نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2141

وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلِّهِمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب وَحَفْص بن سُلَيْمَان الرَّاوِي لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ يَضْعُفُ فِي الْحَدِيثِ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے قرآن پڑھا ، اسے یاد کیا اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے اہل خانہ کے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی تھی ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور حفص بن سلیمان راوی قوی نہیں ، وہ حدیث میں ضعیف سمجھا جاتا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2142

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ؟» فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أنزلت فِي التَّوْرَاة وَلَا فِي الْإِنْجِيل وَلَا فِي الزبُور وَلَا فِي الْفرْقَان مِثْلُهَا وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مِنْ قَوْلِهِ: «مَا أُنْزِلَتْ» وَلَمْ يَذْكُرْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا :’’ تم نماز میں کیسے قراءت کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے سورۂ فاتحہ پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس جیسی سورت تورات و انجیل میں اتری ہے نہ زبور و قرآن (یعنی باقی قرآن) میں ، وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔‘‘ ترمذی اور امام دارمی نے ((ماانزلت)) کے الفاظ سے حدیث بیان کی ہے اور انہوں نے ابی بن کعب کا ذکر نہیں کیا ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2143

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَءُوهُ فَإِن مثل الْقُرْآن لمن تعلم وَقَامَ بِهِ كَمثل جراب محشو مسكا يفوح رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِئَ عَلَى مسك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن سیکھو اور اسے پڑھو ، کیونکہ قرآن سیکھنے والا ، اسے پڑھنے اور اس کا اہتمام کرنے والا کستوری سے بھری ہوئی تھیلی کی مانند ہے جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل جاتی ہے ، اور جس نے اسے سیکھا لیکن سویا رہا حالانکہ وہ حافظ ہے تو وہ کستوری کی بند تھیلی کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2144

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ (حم) الْمُؤْمِنَ إِلَى (إِلَيْهِ الْمَصِيرُ) وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ حِينَ يُصْبِحُ حُفِظَ بِهِمَا حَتَّى يُمْسِيَ. وَمَنْ قَرَأَ بِهِمَا حِينَ يُمْسِي حُفِظَ بهما حَتَّى يصبح . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدرامي وَقَالَ التِّرْمِذِيّ هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سورۂ مومن کی پہلی آیات (الیہ المصیر) تک اور آیۃ الکرسی صبح کے وقت پڑھتا ہے تو وہ ان کے سبب شام تک محفوظ رہے گا ۔ اور جو شخص شام کے وقت انہیں پڑھے گا تو وہ ان کی وجہ سے صبح ہونے تک محفوظ رہے گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2145

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كتب كتابا قبل أَن يخلق السَّمَوَات وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ أَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَا تُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی ، اس سے دو آیتیں اتار کر سورۂ بقرہ کو مکمل کیا گیا ، اور جس گھر میں انہیں تین رات پڑھا جائے تو شیطان اس (گھر) کے قریب نہیں آتا ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2146

وَعَن أبي الدَّرْدَاء قَالَ ك قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سورۂ کہف کی پہلی تین آیتیں پڑھتا ہے وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2147

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ (يس) وَمَنْ قَرَأَ (يس) كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۂ یٰسین ہے ، جو شخص ایک مرتبہ سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی قراءت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2148

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَرَأَ (طه) و (يس) قبل أَن يخلق السَّمَوَات وَالْأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ الْقُرْآنَ قَالَتْ طُوبَى لِأُمَّةٍ يَنْزِلُ هَذَا عَلَيْهَا وَطُوبَى لِأَجْوَافٍ تَحْمِلُ هَذَا وَطُوبَى لِأَلْسِنَةٍ تَتَكَلَّمُ بِهَذَا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے ہزار برس پہلے سورۂ طہ اور سورۂ یٰسین کی تلاوت فرمائی ، جب فرشتوں نے قرآن سنا تو انہوں نے کہا : اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پر یہ اتارا جائے گا ، ان مبارک دلوں کے لیے خوشخبری ہو جو اسے یاد کریں گے ، اور اسے پڑھنے والی زبان کے لیے خوشخبری ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2149

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ (حم) الدُّخَانِ فِي لَيْلَةٍ أَصْبَحَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب وَعمر بن أبي خَثْعَمٍ الرَّاوِي يُضَعَّفُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْبُخَارِيَّ هُوَ مُنكر الحَدِيث
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رات کے وقت سورت حٰم الدخان کی تلاوت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، عمر بن ابی خثعم راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور محمد یعنی امام بخاری ؒ نے فرمایا : وہ منکر الحدیث ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2150

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ (حم) الدُّخَانِ فِي لَيْلَةِ الْجُمْعَةِ غُفِرَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَهِشَام أَبُو الْمِقْدَام الرَّاوِي يضعف
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص شب جمعہ کو سورۂ دخان کی تلاوت کرتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، نیز ہشام ابوالمقدام راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2151

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ يَقُولُ: «إِنَّ فِيهِنَّ آيَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺسونے سے پہلے مسبحات (سورۂ الاسراء ، الحدید ، الحشر ، الصّف ، الجمعہ ، التغابن اور الاعلی) کی تلاوت کیا کرتے تھے ، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ ان میں ایک آیت ہے جو کہ ہزار آیات سے بہتر ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2152

وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ مُرْسَلًا وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
امام دارمی ؒ نے خالد بن معدان سے اسے مرسل روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2153

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ: (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن میں تیس آیات کی ایک سورت ہے اس نے ایک آدمی کے بارے میں سفارش کی حتیٰ کہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورۃ الملک ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2154

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَرَبَ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ وَهُوَ لَا يَحْسَبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَان يَقْرَأُ سُورَةَ (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) حَتَّى خَتَمَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے ایک صحابی نے کسی قبر کی جگہ پر اپنا خیمہ نصب کیا جبکہ انہیں پتہ نہیں تھا وہ قبر ہے ، اس میں ایک انسان سورۃ الملک پڑھ رہا تھا حتیٰ کہ اس نے اسے مکمل کیا ، پس وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کے متعلق بتایا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ مانعہ ‘‘ اور ’’ منجیہ ‘‘ ہے اسے اللہ کے عذاب سے بچائے گی ۔‘‘ ترمذی اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2155

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: (آلم تَنْزِيل) و (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. وَكَذَا فِي شرح السّنة. وَفِي المصابيح
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ، سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے ۔ احمد ، ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے ۔ جبکہ مصابیح میں ہے کہ یہ غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2156

وَعَن ابْن عَبَّاس وَأنس بن مَالك رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذا زلزلت) تعدل نصف الْقُرْآن (قل هُوَ الله أحد) تعدل ثلث الْقُرْآن و (قل يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) تَعْدِلُ رُبْعَ الْقُرْآنِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ اور انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۃ الزلزال نصف قرآن کے برابر ہے ، سورۃ الاخلاص تہائی قرآن کے برابرہے اور سورۃ الکافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2157

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ (الْحَشْرِ) وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا. وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
معقل بن یسار ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ ((اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم)) اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے ، جو شام تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں ، اور اگر وہ اسی روز فوت ہو جائے تو وہ شہادت کی موت مرتا ہے ، اور جو شخص شام کے وقت انہیں پڑھتا ہے تو اسے بھی یہی منزلت و فضیلت حاصل ہو جاتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2158

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَتَيْ مَرَّةٍ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) مُحِيَ عَنْهُ ذُنُوبُ خَمْسِينَ سَنَةً إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَتِهِ «خَمْسِينَ مَرَّةٍ» وَلَمْ يَذْكُرْ «إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دين»
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہر روز دو سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتا ہے تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور ان کی روایت میں پچاس مرتبہ کا ذکر ہے ، اور انہوں نے ((الا ان یکون علیہ دین)) کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2159

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ عَلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ عَلَى يَمِينِهِ ثُمَّ قَرَأَ مِائَةَ مَرَّةٍ (قل هُوَ الله أحد) إِذا كَانَ يَوْم الْقِيَامَةِ يَقُولُ لَهُ الرَّبُّ: يَا عَبْدِي ادْخُلْ عَلَى يَمِينِكَ الْجَنَّةَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں :’’ جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کر سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھ کر سو جائے تو روز قیامت رب اسے فرمائے گا : میرے بندے ! اپنی دائیں جانب سے جنت میں داخل ہو جاؤ ۔‘‘ ترمذی اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2160

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) فَقَالَ: «وَجَبَتْ» قُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: «الْجنَّة» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو سورۂ اخلاص پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا :’’ واجب ہو گئی ۔‘‘ میں نے عرض کیا : کیا واجب ہو گئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2161

وَعَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي. فَقَالَ: «اقْرَأْ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي
فروہ بن نوفل ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں کہ جب میں بستر پر لیٹوں تو اسے پڑھ لیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۃ الکافرون پڑھا کرو کیونکہ وہ شرک سے براءت (اور توحید کا اعلان) ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2162

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا سير مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَالْأَبْوَاءِ إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ ب (أعوذ بِرَبّ الفلق) و (أعوذ بِرَبِّ النَّاسِ) وَيَقُولُ: «يَا عُقْبَةُ تَعَوَّذْ بِهِمَا فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جحفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہا تھا کہ اچانک آندھی اور شدید تاریکی ہم پر چھا گئی تو رسول اللہ ﷺ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے ذریعے پناہ طلب کرنے لگے ، اور آپ ﷺ فرمانے لگے :’’ عقبہ ! ان دونوں (سورتوں) کے ذریعے پناہ طلب کرو ، کسی پناہ طلب کرنے والے نے ان دونوں جیسی پناہ نہیں پائی ۔‘‘ سندہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2163

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبِيبٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْنَاهُ فَقَالَ: «قُلْ» . قُلْتُ مَا أَقُولُ؟ قَالَ: « (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُصْبِحُ وَحِينَ تُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
عبداللہ بن خبیب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم برسات میں ایک شدید تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلے تو ہم نے آپ کو پا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں کیا کہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم صبح و شام تین مرتبہ سورۂ اخلاص اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھا کرو ، وہ تمہیں ہر چیز کے لیے کافی ہو جائیں گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2164

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ سُورَةَ (هُودٍ) أَوْ سُورَةَ (يُوسُفَ) ؟ قَالَ: لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں سورۂ ہود پڑھوں یا سورۂ یوسف ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اللہ کے ہاں سورۃ الفلق سے بلیغ تر کوئی چیز نہیں پڑھ سکو گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2165

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ وَاتَّبِعُوا غَرَائِبَهُ وَغَرَائِبُهُ فَرَائِضُهُ وَحُدُودُهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن کے معانی بیان کرو اور اس کے ’’ غرائب ‘‘ کی اتباع کرو ، اس کے ’’ غرائب ‘‘ اس کے فرائض و حدود ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2166

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ دوران نماز قراءت قرآن ، نماز کے علاوہ قراءت قرآن سے افضل ہے ، اور نماز کے علاوہ قراءت قرآن ، تسبیح و تکبیر سے افضل ہے ، اور تسبیح (سبحان اللہ کہنا) صدقہ سے افضل ہے ، صدقہ روزہ سے افضل ہے جبکہ روزہ جہنم سے ڈھال ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2167

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قِرَاءَةُ الرَّجُلِ الْقُرْآنَ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ أَلْفُ دَرَجَةٍ وَقِرَاءَتُهُ فِي الْمُصحف تضعف عل ذَلِك إِلَى ألفي دَرَجَة» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کا زبانی قرآن پڑھنا ہزار درجے رکھتا ہے ، جبکہ اس کا قرآن کریم سے دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے دو ہزار درجے رکھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2168

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: «كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ دل زنگ آلودہو جاتے ہیں جس طرح لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہو جاتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ان کی چمک کس طرح آتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا ۔‘‘ بیہقی نے چاروں احادیث کو شعب الایمان میں ذکر کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2169

وَعَنْ أَيْفَعَ بْنِ عَبْدٍ الْكَلَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ سُورَةِ الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ تُصِيبَكَ وَأُمَّتَكَ؟ قَالَ: «خَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنَّهَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ تَحْتِ عَرْشِهِ أَعْطَاهَا هَذِهِ الْأُمَّةَ لَمْ تتْرك خيرا من يخر الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
ایفع بن عبدالکلاعی ؒ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! قرآن میں سب سے عظیم سورت کون سی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۃ الاخلاص ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : تو پھر قرآن میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آیۃ الکرسی ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! آپ کون سی آیت پسند فرماتے ہیں کہ وہ آپ کو اور آپ کی امت کو مل جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۂ بقرہ کا آخری حصہ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اس کی رحمت کے خزانوں میں سے ہے جو اس نے اس امت کو عطا فرمائی ہے ، اور وہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں پر مشتمل ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2170

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
عبدالملک بن عمیر مرسل روایت بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۂ فاتحہ میں ہر بیماری سے شفا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2171

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ قَرَأَ آخِرَ آلِ عِمْرَانَ فِي لَيْلَة كتب لَهُ قيام لَيْلَة. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص رات کے کسی حصہ میں سورۂ آل عمران کا آخری حصہ پڑھتا ہے ، اس کے لیے رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2172

وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّيْل. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
مکحول بیان کرتے ہیں ، جو شخص جمعہ کے روز سورۂ آل عمران پڑھتا ہے تو رات تک فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2173

وَعَن جُبَير بن نفير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ خَتَمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ بِآيَتَيْنِ أُعْطِيتُهُمَا مِنْ كَنْزِهِ الَّذِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَعَلَّمُوهُنَّ وَعَلِّمُوهُنَّ نِسَاءَكُمْ فَإِنَّهَا صَلَاةٌ وقربان وَدُعَاء» . رَوَاهُ الدِّرَامِي مُرْسلا
جبیر بن نفیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے سورۂ بقرہ کا اختتام دو آیتوں سے فرمایا ہے ، وہ مجھے عرش کے نیچے اس خزانے سے عطا کی گئی ہیں ، پس انہیں سیکھو اور انہیں اپنی خواتین کو سکھاؤ کیونکہ وہ باعث رحمت ، باعث تقرب اور دعا ہیں ۔‘‘ اسے دارمی نے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2174

وَعَن كَعْب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «اقرؤوا سُورَة هود يَوْم الْجُمُعَة» . رَوَاهُ الدِّرَامِي مُرْسلا
کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جمعہ کے روز سورۂ ھود پڑھا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2175

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من قَرَأَ سُورَة الْكَهْف فِي يَوْم الْجُمُعَة أَضَاء لَهُ النُّور مَا بَيْنَ الْجُمْعَتَيْنِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِير
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص جمعہ کے روز سورۃ الکہف پڑھتا ہے تو اس کے لیے دو جمعوں کی درمیانی مدت کے لیے نور چمکتا رہتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2176

وَعَن خَالِد بن معدان قَالَ: اقرؤوا المنجية وَهِي (آلم تَنْزِيل) فَإِن بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُهَا مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَهَا وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَايَا فَنَشَرَتْ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ قَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِي فَشَفَّعَهَا الرَّبُّ تَعَالَى فِيهِ وَقَالَ: اكْتُبُوا لَهُ بِكُلِّ خَطِيئَةٍ حَسَنَةٍ وَارْفَعُوا لَهُ دَرَجَةً . وَقَالَ أَيْضًا: إِنَّهَا تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا فِي الْقَبْرِ تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْ كِتَابِكَ فَامْحُنِي عَنْهُ وَإِنَّهَا تَكُونُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ فَتَشْفَعُ لَهُ فَتَمْنَعُهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر وَقَالَ فِي (تبَارك) مثله. وَكَانَ خَالِد لَا يَبِيتُ حَتَّى يَقْرَأَهُمَا. وَقَالَ طَاوُوسُ: فُضِّلَتَا عَلَى كُلِّ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ بِسِتِّينَ حَسَنَةً. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
خالد بن معدان ؒ بیان کرتے ہیں ، منجیہ ، (عذاب قبر و حشر سے بچانے والی سورت) جو کہ سورۃ السجدہ ہے ، پڑھا کرو ، کیونکہ مجھے خبر ملی ہے کہ ایک آدمی صرف اسے ہی پڑھا کرتا تھا جبکہ وہ بہت گناہ گار تھا ، پس اس (سورت) نے اس پر اپنے پَر بچھا دیے اور عرض کیا ، رب جی ! اسے بخش دو ، کیونکہ وہ مجھے کثرت سے پڑھا کرتا تھا ، رب تعالیٰ نے اس کے متعلق اس کی سفارش قبول فرما لی ، اور فرمایا :’’ اس کی ہر غلطی کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھ دو اور اس کا درجہ بلند کر دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔ اور انہوں (خالد بن معدان) نے یہ بھی کہا :’’ وہ اپنے پڑھنے والے کے متعلق قبر میں جھگڑا کرے گی اور کہے گی : اے اللہ ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو پھر اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما ، اور اگر میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو پھر مجھے اس سے ختم فرما دے ، اور وہ پرندے کی طرح ہو گی اور اس پر اپنے پر پھیلا دے گی ، وہ اس کی سفارش کرے گی اور اسے عذاب قبر سے بچا لے گی ۔‘‘ اور انہوں (خالد بن معدان) نے سورۃ الملک کے متعلق بھی اسی طرح بیان کیا ہے ، اور وہ ان دونوں سورتوں کو پڑھے بغیر نہیں سویا کرتے تھے ، اور طاؤس ؒ بیان کرتے ہیں ان دونوں سورتوں کو قرآن کی ہر سورت پر ساٹھ نیکیوں سے فضیلت دی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2177

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (يس) فِي صَدْرِ النَّهَارِ قضيت حَوَائِجه» رَوَاهُ الدَّارمِيّ مُرْسلا
عطاء بن ابی رباح ؒ بیان کرتے ہیں ، مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دن کے پہلے حصے میں سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی تمام ضروریات پوری کر دی جاتی ہیں ۔‘‘ امام دارمی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2178

وَعَن معقل بن يسَار الْمُزنِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (يس) ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنبه فاقرؤوها عِنْدَ مَوْتَاكُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
معقل بن یسار مزنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، اسے اپنے قریب المرگ افراد کے پاس پڑھا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2179

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا وَإِنَّ لباب الْقُرْآن الْمفصل. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے ، اور ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے اور قرآن کا مغز مفصل سورتیں (سورۃ الحجرات سے الناس تک) ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2180

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «لكل شَيْء عروس وعروس الْقُرْآن الرَّحْمَن» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ہر چیز کا حسن و جمال ہوتا ہے جبکہ قرآن کا حسن و جمال سورۃ الرحمن ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2181

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا» . وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَأْمُرُ بَنَاتَهُ يَقْرَأْنَ بهَا فِي كل لَيْلَة. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہر رات سورۃ الواقعہ پڑھتا ہے تو وہ کبھی فاقے کا شکار نہیں ہو گا ۔ اور ابن مسعود ؓ اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ ہر رات اسے پڑھا کریں ۔ امام بیہقی نے ان دونوں کو شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2182

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يجب هَذِهِ السُّورَةَ (سَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَى) رَوَاهُ أَحْمد
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اس سورت ، سورۃ الاعلی کو پسند کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2183

وَعَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ (ألر) فَقَالَ: كَبُرَتْ سِنِّي وَاشْتَدَّ قَلْبِي وَغَلُظَ لِسَانِي قَالَ: فَاقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ (حم) فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ. قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً فَأَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (إِذَا زُلْزِلَتْ الأَرْض) حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيد عَلَيْهَا أبدا ثمَّ أدبر الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پڑھائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ الرٰٓ والی سورتوں (یونس ، ھود ، یوسف ، ابراہیم ، الحجر) میں سے تین سورتیں پڑھو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں ، میرا دل سخت ہو گیا ہے اور میری زبان موٹی ہو گئی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حٰم والی سورتوں (المومن ، الفصلت ، الشوری ، الزخرف ، الدخان ، الجاشیہ ، الاحقاف) میں سے تین سورتیں پڑھو ۔‘‘ اس نے پھر وہی عرض کیا ، اس آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی جامع سورت پڑھائیں ، تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے سورۃ الزلزال پوری پڑھائی تو اس آدمی نے عرض کیا ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، میں اس پر کبھی بھی اضافہ نہ کروں گا ، پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا :’’ وہ آدمی فلاح پا گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2184

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كل يَوْم؟ قَالَ: أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ: (أَلْهَاكُمُ التكاثر) ؟) رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی ہر روز ہزار آیت پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہر روز ہزار آیت کون پڑھ سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی سورۃ التکاثر نہیں پڑھ سکتا ؟‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2185

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (قل هُوَ الله أحد) عشر مَرَّات بني لَهُ بِهَا قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَ عِشْرِينَ مَرَّةً بُنِي لَهُ بِهَا قَصْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِينَ مَرَّةً بُنِيَ لَهُ بِهَا ثَلَاثَةُ قُصُورٍ فِي الْجَنَّةِ» . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا لَنُكَثِّرَنَّ قُصُورَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَوْسَعُ من ذَلِك» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
سعید بن مسیب ؒ نبی ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے ، جو شخص بیس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں دو محل بنا دیے جاتے ہیں اور جو شخص تیس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے اس کے بدلہ میں جنت میں تین محل بنا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! تب تو ہم اپنے محل زیادہ کر لیں گے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس سے بھی زیادہ کشائش و فراخی والا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2186

وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ لَمْ يُحَاجِّهِ الْقُرْآنُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسَمِائَةً إِلَى الْأَلْفِ أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ مِنَ الْأَجْرِ» . قَالُوا: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: «اثْنَا عَشَرَ ألفا» . رَوَاهُ الدِّرَامِي
حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رات میں سو آیات تلاوت کرتا ہے تو اس رات قرآن اس سے جھگڑا نہیں کرتا ، جو شخص رات میں دو سو آیات پڑھتا ہے تو اس کے لیے رات بھر کا قیام لکھ دیا جاتا ہے ، اور جو شخص رات میں پانچ سو سے ہزار آیات تلاوت کرتا ہے تو صبح کے وقت اس کے لیے ڈھیروں اجر ہو گا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ڈھیروں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا :’’ بارہ ہزار ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2187

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهْوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا»
ابوموسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن کی خبر گیری کرتے رہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے ! وہ (قرآن سینوں سے) نکل جانے میں ، اس اونٹ کے نکل جانے سے بھی زیادہ تیز ہے جس کی رسی کھل چکی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2188

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: بئس مالأحدهم أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسلم: «بعقلها»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی کے لیے یہ کہنا بہت ہی برا ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا ہوں ، بلکہ (یوں کہے) مجھے بھلا دی گئی ہے ، قرآن یاد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ آدمیوں کے سینوں سے نکل جانے میں کھلے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیز ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور امام مسلم نے : ((بعقلھا)) کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2189

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ»
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ حافظ قرآن ، بندھے ہوئے اونٹوں کے مالک کی طرح ہے ، اگر وہ اس کا خیال رکھے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے گا تو وہ چلے جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2190

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اقرؤوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقومُوا عَنهُ»
جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر متوجہ ہوں ، اور جب تمہارے خیالات منتشر ہو جائیں تو پھر اسے پڑھنا چھوڑ دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2191

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَت مدا مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَمُدُّ بِبَسْمِ اللَّهِ وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
قتادہ بیان کرتے ہیں ، انس ؓ سے نبی ﷺ کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ مد کے ساتھ تھی ، پھر انہوں نے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھی ، اور (بسم اللہ) اور (الرحمن) اور (الرحیم) کو مد کے ساتھ پڑھا (یعنی لمبا کر کے پڑھا) ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2192

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے اتنی توجہ سے کسی چیز کو نہیں سنا جتنا اس نے نبی کو ترنم کے ساتھ قرآن پڑھتے ہوئے توجہ سے سنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2193

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسِنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے اتنی توجہ سے کسی چیز کو نہیں سنا جتنا اس نے اپنے نبی کو خوش الحانی کے ساتھ با آواز بلند قرآن پڑھتے ہوئے سنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2194

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص خوش الحانی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2195

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «اقْرَأْ عَلَيَّ» . قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» . فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ (فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدا) قَالَ: «حَسْبُكَ الْآنَ» . فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ منبر پر تھے کہ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ مجھے قرآن سناؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں آپ کو قرآن سناؤں ، جبکہ وہ آپ پر نازل کیا گیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اپنے علاوہ کسی اور سے اسے سننا چاہتا ہوں ۔‘‘ میں نے سورۃ النساء تلاوت کی حتیٰ کہ جب میں اس آیت (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاء شَهِيْدًا ) پر پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اب بس کرو ۔‘‘ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2196

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ» قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ: وَقَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ (لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا) قَالَ: وَسَمَّانِي؟ قَالَ: «نَعَمْ» . فَبَكَى
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا :’’ اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ نے میرا نام لیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرا رب العالمین کے ہاں ذکر کیا گیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ (یہ سن کر) ان کی آنکھوں میں (خوشی کے) آنسو بہنے لگے ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورۃ البینہ سناؤں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرا نام لے کر (آپ کو بتایا ہے) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پس وہ رونے لگے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2197

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِن يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي لَا آمن أَن يَنَالهُ الْعَدو»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے قرآن لے کر دشمن کی سر زمین (دار الحرب) کی طرف سفر کرنے سے منع فرمایا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے :’’ قرآن لے کر سفر نہ کرو ، کیونکہ اگر دشمن (یعنی کافر) اسے پا لے تو مجھے (اس کی بے حرمتی کا) اندیشہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2198

عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: جَلَست فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لِيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْنَا فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟» قُلْنَا: كُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كتاب الله قَالَ فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ» . قَالَ فَجَلَسَ وَسَطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنصْف يَوْم وَذَاكَ خَمْسمِائَة سنة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مہاجرین کی ایک کمروز جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اور ان میں سے بعض (عام لباس کی وجہ سے) برہنہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے پیچھے چھپے ہوئے تھے اور قاری ہمیں قرآن سنا رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آ کر کھڑے ہو گئے ، جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا ۔ آپ ﷺ نے سلام کیا اور پھر فرمایا :’’ تم کیا کر رہے تھے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ہم بغور قرآن کریم سن رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میری امت میں ایسے افراد بنا دیے جن کے پاس ٹھہرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ ہمارے وسط میں بیٹھ گئے تاکہ آپ ہم سب کو برابر شرف بخش سکیں ، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا تو انہوں نے حلقہ بنا لیا اور وہ سب آپ کے سامنے آ گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مہاجرین کی جماعت فقراء ! تمہیں قیامت کے روز مکمل نور کی خوشخبری ہو ، تم مال دار لوگوں سے نصف سال پہلے ، اور وہ پانچ سو سال ہے ، جنت میں جاؤ گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2199

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی آوازوں کے ذریعے قرآن کو مزین کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2200

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا من امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والدارمي
سعد بن عبادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن پڑھتا ہو لیکن پھر وہ اسے بھول جائے تو وہ روز قیامت حالت کوڑھ میں اللہ سے ملاقات کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2201

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاث» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرتا ہے تو وہ قرآن فہمی سے محروم رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2202

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كالجاهر بِالصَّدَقَةِ ولامسر بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ، علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے ، جبکہ آہستہ قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2203

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيّ
صہیب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص کا قرآن پر ایمان نہیں جو اس کی حرام کردہ اشیاء کو حلال جانتا ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2204

وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مليكَة عَنْ يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
لیث بن سعد ، ابن ابی ملیکہ سے ، وہ یعلی بن مملک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ ؓ سے نبی ﷺ کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : آپ ﷺ کی قراءت واضح اور حرف حرف (یعنی الگ الگ) تھی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2205

وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ثُمَّ يَقِفُ ثُمَّ يَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ يَقِفُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ اللَّيْثَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَدِيثُ اللَّيْث أصح
ابن جریج ، ابن ابی ملیکہ سے اور وہ ام سلمہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ اپنی قراءت ٹھہر ٹھہر کر کیا کرتے تھے ، آپ (الحمد للہ رب العالمین) پڑھتے ، پھر وقف فرماتے پھر (الرحمن الرحیم) پڑھتے پھر وقف فرماتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، کیونکہ لیث نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ عن یعلی بن مملک عن ام سلمہ ؓ کی سند سے روایت کی ہے ، اور لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے ۔ سندہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2206

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفينَا الْأَعرَابِي والأعجمي قَالَ: «اقرؤوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
جابر بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں اعرابی اور عجمی بھی تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پڑھو ، سب ٹھیک ہے ۔ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے اس طرح (مبالغہ کے ساتھ) درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے ۔ وہ دنیا میں ہی جزا چاہیں گے اور اسے آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے ۔‘‘ (یعنی وہ طلب دنیا کے لیے پڑھیں گے) اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2207

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اقرؤوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وَأَصْوَاتِهَا وَإِيَّاكُمْ وَلُحُونَ أَهْلِ الْعِشْق وَلُحُون أهل الْكِتَابَيْنِ وسيجي بعدِي قوم يرجعُونَ بِالْقُرْآنِ ترجع الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ مَفْتُونَهٌ قُلُوبُهُمْ وَقُلُوبُ الَّذِينَ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن ، عربی لہجے اور عربی آواز سے پڑھا کرو اور اہل عشق اور یہود و نصاریٰ کے لہجوں سے بچو ، اور میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو نغمے اور نوحے کی طرح آواز دہرا دہرا کر قرآن پڑھیں گے ، اور وہ (قرآن کا پڑھنا) ان کے حلق سے نیچے (دل تک) نہیں اترے گا ۔ ان کے اور ان لوگوں کے دل ، جو ان کی حالت پر فریفتہ ہوں گے ، فتنہ سے دوچار ہوں گے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور رزین نے اسے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف منکر ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2208

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «حَسِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يُزِيدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اپنی آوازوں سے قرآن کو حسین بناؤ ، کیونکہ اچھی آواز ، قرآن کے حسن میں اضافہ کرتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2209

وَعَنْ طَاوُوسٍ مُرْسَلًا قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَحْسَنُ صَوْتًا لِلْقُرْآنِ؟ وَأَحْسَنُ قِرَاءَةً؟ قَالَ: «مَنْ إِذَا سَمِعْتَهُ يقْرَأ أَرَأَيْت أَنَّهُ يَخْشَى اللَّهَ» . قَالَ طَاوُوسٌ: وَكَانَ طَلْقٌ كَذَلِك. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
طاؤس ؒ روایت کرتے ہیں ، نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا ، کون لوگ اچھی آواز اور اچھی قراءت سے قرآن پڑھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جسے تم قرآن پڑھتے سنو اور اس پر خشیت الٰہی ظاہر ہو ۔‘‘ طاؤس بیان کرتے ہیں ، طلق ؒ اسی طرح تھے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2210

وَعَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ مِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَفْشُوهُ وَتَغَنُّوهُ وَتَدَبَّرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَلَا تَعْجَلُوا ثَوَابَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
عبیدہ ملیکی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اہل قرآن ! قرآن کے معاملے میں سستی و تغافل نہ برتو ، جیسے اس کی تلاوت کا حق ہے ویسے صبح و شام اس کی تلاوت کرو ، اس (کی تعلیمات) کو عام کرو ، اس کے علاوہ دوسری چیزوں سے بے نیاز ہو جاؤ ، اس پر تدبر کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ ، دنیا میں اس کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ (آخرت میں) اس کا ثواب (بہت زیادہ) ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2211

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يقْرَأ سُورَة الْفرْقَان على غير مَا أقرؤوها. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقلت يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسِلْهُ اقْرَأ فَقَرَأت الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ» . ثُمَّ قَالَ لي: «اقْرَأ» . فَقَرَأت. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَكَذَا أنزلت إِن الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تيَسّر مِنْهُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ. وَاللَّفْظ لمُسلم
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ہشام بن حکیم بن جزام ؓ کو سورۃ الفرقان اس انداز سے ہٹ کر پڑھتے ہوئے سنا جس انداز سے میں اسے پڑھتا تھا اور جس طرح رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھایا تھا ، قریب تھا کہ میں فوراً اس سے تعرض و انکار کرتا ، لیکن میں نے اسے مہلت دی حتیٰ کہ وہ (قراءت سے) فارغ ہو گیا ، پھر میں نے اس کی گردن میں اس کی چادر ڈالی اور اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لا کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے اسے اس انداز سے ہٹ کر سورۃ الفرقان پڑھتے ہوئے سنا ہے جس انداز سے آپ نے اسے مجھے پڑھایا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ، (اور اسے فرمایا) پڑھو ۔‘‘ اس نے اسی قراءت سے پڑھا جو میں نے ا س سے سنی تھی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسی طرح نازل کی گئی ہے ۔‘‘ پھر مجھے فرمایا :’’ پڑھو ۔‘‘ میں نے پڑھا تو فرمایا :’’ اسی طرح نازل کی گئی ہے کیونکہ قرآن سات لہجوں میں مجھ پر اتارا گیا ہے ، ان میں سے جس لہجے میں آسانی سے پڑھ سکو پڑھو ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور الفاظ حدیث مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2212