AL MUSLIM

Search Results(1)

11) The Book of Prayer - Eclipses

11) کتاب: سورج اور چاند گرہن کے احکام

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2089

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ
A'isha reported that there was a solar eclipse in the time of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He stood up to pray and prolonged his stand very much. He then bowed and prolonged very much his bowing. He then raised his head and prolonged his stand much, but it was less than the (duration) of the first stand. He then bowed and prolonged bowing much, but it was less than the duration of his first bowing. He then prostrated and then stood up and prolonged the stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged his bowing, but it was less than the first bowing. He then lifted his head and then stood up and prolonged his stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged bowing and it was less than the first bowing. He then prostrated himself; then he turned about, and the sun had become bright, and he addressed the people. He praised Allah and landed Him and said: The sun and the moon are two signs of Allah; they are not eclipsed on account of anyones death or on account of anyone's birth. So when you see them, glorify and supplicate Allah, observe prayer, give alms. O Ummah of Muhammad, none is more indignant than Allah When His servant or maid commits fornication. O people of Muhammad, by Allah, if you knew what I know, you would weep much and laugh little. امام مالک بن انس اور عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ سے حدیث سنا ئی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے قیام فر ما یا اور بہت ہی لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے رکو ع کیا تو انتہا ئی طویل رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھا یا تو انتہائی طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے ( کچھ ) کم تھا پھر آپ نے ( دوبارہ ) رکو ع کیا تو بہت لمبا رکو ع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے سجدے کیے پھر آپ کھڑے ہو گئے اور قیام کو لمبا کیا وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھا یا اور قیا م کیا تو بہت لمبا قیام کیا جبکہ وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدے کیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز سے فارغ ہو کر ) پلٹے تو سورج روشن ہو چکا تھا اور آپ نے لو گو ں سے خطا ب فر ما یا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی ، پھر فر ما یا : "" بے شک سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کو کسی کی مو ت یا زند گی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا جب تم انھیں ( اس حالت میں ) دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اللہ تعا لیٰ سے دعا مانگو نماز پڑھو اور صدقہ کرو اے اُمت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ئی نہیں جو ( اس بات پر ) اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت رکھنے والا ہو کہ اس کا بندہ یا اس کی باندی زنا کرے !اے اُمت محمد!اللہ کی قسم !اگر تم ان باتوں کو جان لو جن کو میں جا نتا ہوں ۔ تو تم بہت زیادہ روؤاور بہت کم ہنسو ۔ دیکھو !کیا میں نے ( پیغام ) اچھی طرح پہنچا دیا ؟ "" اور امام مالک کی روایت میں ہے : "" یقیناً سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2090

و حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَزَادَ أَيْضًا ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ
This hadith has been narrated by Hisham b. 'Urwa with the same chain of transmitters but with this addition: Verily the sun and the moon are among the signs of Allah. And similarly this addition was made: He then lifted his hands and said: O Allah! have I not conveyed it? ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت کی اور اس میں یہ اضافہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " امابعد ( حمد و صلاۃ کے بعد ) !بلا شبہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ۔ " اور یہ بھی اضافہ کیا : پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھا اٹھا ئے اور فر ما یا : " اے اللہ !کیا میں نے ( پیغام ) اچھی طرح پہنچا دیا ؟ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2091

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنْ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنْ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى اسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ وَقَالَ أَيْضًا فَصَلُّوا حَتَّى يُفَرِّجَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنْ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أُقَدِّمُ و قَالَ الْمُرَادِيُّ أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ
A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported There was an eclipse of the sun during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). So, the Messenger of Allah (may peace he upon him) went to the mosque and stood up and glorified Allah, and the people formed themselves in rows behind him. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made a long recital (of the Qur'an) and then pronounced takbir and then observed a long ruku'. He then raised his head and said: Allah listened to him who praised Him: our Lord, praise is due to Thee. He then again stood up and made a long recital, which was less than the first recital. He pronounced takbir and observed a long ruku', and it was less than the first one. He again said: Allah listened to him who praised Him; our Lord, praise is due to Thee. (Abu Tahir, one of the narrators) made no mention of: He then prostrated himself. He did like this in the second rak'ah, till he completed four rak'ahs and four prostrations and the sun became bright before he deported. He then stood up and addressed people, after lauding Allah as He deserved, and then said: The sun and the moon are two signs among the signs of Allah These do not eclipse either on the death of anyone or on his birth. So when you see them, hasten to prayer. He also said this: Observe prayer till Allah dispels the anxiety (of this extraordinary phenomenon) from you. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I saw in my place everything which you have been promised. I even saw myself desiring to pluck a bunch (of grapes) from Paradise (and it was at the time) when you saw me moving forward. And I saw Hell and some of its parts crushing the others, when you saw me moving back; and I saw in it Ibn Luhayy and he was the person who made the she-camels loiter about. In the hadith transmitted by Abu Tahir the words are: He hastened to prayer, and he made no mention of what follows. حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے ابن وہب نے یونس سے خبر دی نیز ابو طاہر اور محمد بن سلمہ مرادی نے کہا : ابن وہب نے یو نس سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن شہاب سے روا یت کی انھوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر مسجد میں تشریف لے گئے آپ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہی اور لو گ آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قراءت فر ما ئی پھر آپ نےالله اكبرکہا اور ایک لمبا رکو ع کیا پھر آپ نے اپنا سر اٹھا یا اور سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد کہا پھر آپ نے قیام کیا اور ایک طویل قراءت کی یہ پہلی ( قراءت ) سے کچھ کم تھی پھر الله اكبرکہا اور کہہ کر طویل رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد کہا پھر سجدہ کیا اور ابو طاہر نے ( ثم سجده ) ( پھر آپنے سجدہ کیا ) کے الفا ظ نہیں کہے ۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا حتیٰ کہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو گیا پھر آپ کھڑے ہو ئے اور لو گوں کو خطاب فر ما یا اور اللہ تعا لیٰ کی ( ایسی ) ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی پھر فر ما یا "" سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں انھیں کسی کی مو ت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے جب تم انھیں ( گرہن میں ) دیکھو تو فوراًنماز کی طرف لپکو ۔ "" آپ نے یہ بھی فر ما یا : "" اور نماز پڑھتے رہو یہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے کشادگی کر دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" میں نے اپنی اس جگہ ( پر ہو تے ہو ئے ) ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کا ایک گچھا لینا چاہتا ہوں اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا تھا کہ میں قدم آگے بڑھا رہا ہوں ۔ اور ( محمد بن سلمہ ) مرادی نے "" آگے بڑھ رہا ہوں "" کہا ۔ ۔ ۔ اور میں نے جہنم بھی دیکھی اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو ریزہ ریزہ کر رہا تھا یہ اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا ۔ اور میں نے جہنم میں عمرو بن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کی نذر کی اونٹنیاں چھوڑیں ۔ "" ابو طا ہر کی روایت "" نماز کی طرف لپکو پر ختم ہو گئی انھوں نے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2092

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ
A'isha reported that there was a solar eclipse during the lifetime of the Messenger of Allah (way peace be upon him) and he sent the announcer (to summon them) for congregational prayer. The people gathered together and he pronounced takbir and he observed four rak'ahs, in the form of two rak'ahs (i. e. he observed two qiyams and two ruku's in one rak'ah) and four prostrations. ابو عمرو اوزاعی اور ان کے علاوہ د وسرے ( راوی ، دونوں میں سے ہرایک ) نے کہا : میں نے ابن شہاب زہری سے سنا ، وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ نے یہ اعلان کرنے والا ( ایک شخص ) بھیجاکہ " کہ نماز جمع کرنے والی ہے ۔ اس پر لوگ جمع ہوگئے ، آپ آگے بڑھے ، تکبیر تحریمہ کہی اور چار رکوعوں اور چار سجدوں کےساتھ دو رکعتیں پڑھیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2093

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ
A'isha reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited loudly in the eclipse prayer, and he observed four rak'ahs in the form of two rak'ahs and four prostrations. Zuhri said: Kathir b. 'Abbas narrated on the authority of Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed four rak'ahs and four prostrations in two rak'ahs. عبدالرحمان بن نمر نے خبر دی کہ انھوں نے ابن شہاب سے سنا ، وہ عروہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخسوف ( چاند یاسورج گرہن کی نماز ) میں بلند آوازسے قراءت کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کرکے نماز ادا کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2094

قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ
Zuhri said: Kathir b. Abbas used to narrate that Ibn 'Abbas used to relate about the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in regard to the eclipse of the sun like that what was narrated by 'Urwa on the authority of 'A'isha. ۔ ( عبدالرحمان بن نمر نے ہی کہا : ) زہری نے کہا : کثیر بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( اپنے بھائی حضرت عبداللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2095

و حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ
Ata' reported: I heard 'Ubaid b. 'Umair say: It has been narrated to me by one whom I regard as truthful, (the narrator says: I can well guess that he meant 'A'isha) that the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he stood up (in prayer) for a rigorously long time. He then bowed and then stood up and then bowed and then stood up and then bowed, thus observing three ruku's in two rak'ahs and four prostrations. He then departed and the sun brightened. He pronounced Allah is the Greatest while bowing. He would then bow and say: Allah listened to him who praised Him while lifting up his head. He then stood up, and praised Allah and lauded Him, and then said: The sun and the moon do not eclipse on the death of anyone or on his birth. But both of them are among the signs of Allah with which Allah terrifies His servants. So when you see them under eclipse, remember Allah till they are brightened. محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کثیر بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث بیان کرتے تھےکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج گرہن والے دن کی نماز ( اسی طرح ) بیان کرتےتھے جس طرح عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2096

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ قَائِمًا ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللَّهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا
This hadith is narrated thus on the authority of 'A'isha through another chain of transmitters: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed six ruku's and four prostration in (two rak'ahs). ابن جریج نے کہا : میں نے عطاء ( بن ابی رباح ) کو کہتے ہوئے سنا : میں نے عبید بن عمیر سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھ سے اس شخص نے حدیث بیان کی جنھیں میں سچا سمجھتاہوں ۔ ( عطاء نے کہا : ) میرا خیال ہے ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تھی ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ نے بڑا پُر مشقت قیام کیا ۔ سیدھے کھڑے ہوتے ، پھر رکوع میں چلے جاتے ، پھرکھڑے ہوتے ۔ پھر رکوع کرتے ، پھر کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے ، دو رکعتیں ( تین ) تین رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں ، پھر آپ نے سلام پھیر ا تو سورج روشن ہوچکا تھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو الله اكبرکہا کہتے اس کے بعد جب رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو " سمع الله لمن حمده " کہتے ۔ اسکے بعد آپ ( خطبہ کے لئے ) کھڑے ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " سورج اور چاند نہ کسی کی موت پر بےنور ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کی زندگی پر بلکہ وہ اللہ کی نشانیاں ہیں ، ان کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ، جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو حتیٰ کہ وہ روشن ہوجائیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2097

و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ
Amra reported that a Jewess came to 'A'isha to ask (about something) and said: قتادہ نے عطاء بن ابی رباح سے ، انھوں نے عبید بن عمیر سے اور انھوں نے حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسوف میں ) چھ رکوعوں اور چار سجدوں پر مشتمل نماز پڑھی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2098

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِذًا بِاللَّهِ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَخَسَفَتْ الشَّمْسُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيْ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالَتْ عَمْرَةُ فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
May Allah protect you from the torment of the grave! 'A'isha said: Messenger of Allah, would people be tormented in the graves? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (May there be) protection of Allah! The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) mounted one morning on the ride, and the sun eclipsed. 'A'isha said: I came in the company of the women in the mosque from behind the rooms. The Messenger of Allah (way peace he upon him) dismounted from his ride and came to the place of worship where he used to pray. He stood up (to pray) and the people stood behind him. 'A'isha said: He stood for a long time. He then bowed and it was a long ruku'. He then raised his head and he stood for a long time, less than the first standing. He then bowed and his ruku' was long, but it was less than that (the first) ruku'. He then raised (his head) and the sun had become bright. He (the Holy Prophet) then said: I saw you under trial in the grave like the turmoil of Dajjal. 'Amra said: I heard 'A'isha say: I listened after this to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) seeking refuge from the torment of Fire and the torment of the grave. سلیمان بن بلال نے یحییٰ ( بن سعید ) سے اور انھوں نے عمرہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس مانگنے کے لئے آئی ۔ اس نے آکر ( کہا : اللہ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !لوگوں کو قبرمیں عذاب ہوگا؟عمرہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح کسی سواری پر سوار ہوکر نکلے تو سورج کوگرہن لگ گیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں بھی عورتوں کے سات حجروں کے درمیان سے نکل کر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے ( اتر کر ) نماز پڑھنے کی اس جگہ پرآئے جہاں آپ نماز پڑھایا کرتے تھے ، آپ کھڑے ہوگئے اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : پھر آپ نے لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا ، پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا ۔ اور پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا تو سورج روشن ہوچکا تھا ، پھر ( نماز سے فراغت کے بعد ) آپ نے فرمایا : "" میں نے تمھیں دیکھا ہے کہ تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمائش میں ڈالے جاؤگے ۔ "" عمرہ نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2099

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ح و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ
This hadith has been narrated by Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters. عبدالوہاب اور سفیان نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ سلیمان بن بلال کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2100

و حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَاكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُولَجُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا فَإِذَا خَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ
Jabir b. 'Abdullah reported: The sun eclipsed on one extremely hot day during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) prayed along with his Companions. He prolonged his qiyam (standing posture in prayer) till they (his Companions) began to fall down. He then observed a long ruku'. He raised his head (and stood up for long) and then observed a long ruku'. He then raised (his head and stood up) for a long time and then made two prostrations. He then stood up and did like this and thus he observed four ruku's and four prostrations (in two rak'ahs) and then said: All these things were brought to me in which you will be made to enter. Paradise was brought to me till (I was so close to it) that if I (had intended) to pluck a bunch (of grapes) out of it. I would have got it, or he (the Holy Prophet) said: I intended to get a bunch (out of that) but my hand could not reach it. Hell was also brought to me and I saw in it a woman belonging to the tribe of Israel who was tormented for a cat whom she had tied, but did not give it food nor set it free to eat the creatures of the earth; and I saw Abu Thumama 'Amr b. Malik who was dragging his intestines in Hell. They (the Arabs) used to say that the sun and the moon do not eclipse but on the death of some great person; but (in reality) both these (the sun and the moon) are among the signs of Allah which are shown to you; so when there is an eclipse, observe prayer till it (the sun or the moon) brightens. This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters except this I saw a dark woman with a tail stature and loud voice, but he made no mention of from among Bani Israel . اسماعیل ابن علیہ نے ہشام دستوائی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے جابر بن عبداللہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن سورج کوگرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کے ساتھ نمازپڑھی ، آپ نے ( اتنا ) لمبا قیام کیا کہ کچھ لوگ گرنے لگے ، پھر آپ نے رکوع کیا اوراے لمبا کیا ، پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور لمبا ( قیام ) کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر رکوع کیا اور لمبا کیا ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور ( اس قیام کو لمبا ) کیا ، پھر دو سجدے کیے ، پھر آپ ( دوسری رکعت کے لئے ) اٹھے اور اسی طرح کیا ، اس طرح چار رکوع اورچار سجدے ہوگئے ، پھر آپ نے فرمایا : بلاشبہ مجھ پر ہر وہ چیز ( حشر نشر ، پل صراط ، جنت اور دوزخ ) جس میں سے تم گزروگے ، پیش کی گئی ، میرے سامنے جنت پیش کی گئی حتیٰ کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھے کو لینا چاہتا تو اسے پکڑ لیتا ۔ یا آپ نے ( یوں ) فرمایا : میں نے ایک گچھہ لیناچاہا تو میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچا ، اور میرے سامنے جہنم پیش کی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت دیکھی جسے اپنی بلی ( کے معاملے ) میں عذاب دیا جارہا تھا ۔ اس نے اسے باندھ دیا نہ اسے کچھ کھلایا ( پلایا ) نہ اسے چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے چھوٹے موٹے جاندار پرندے وغیرہ کھالیتی ۔ اور میں نے ابو ثمامہ عمرو ( بن عامر ) بن مالک ( جس کالقب لحی تھا اور خزاعہ اس کی اولاد میں سے تھا ) کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہاتھا ، لوگ کہا کرتے تھےکہ سورج اور چاند کسی عظیم شخصیت کی موت پر ہی بے نور ہوتے ہیں ، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ جو وہ تمھیں دیکھاتا ہے ، جب انھیں گرہن لگے تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہو کہ وہ ( گرہن ) چھٹ جائے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2101

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً وَلَمْ يَقُلْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
Same as Hadees 2100 عبدالملک بن صباح نے ہشام دستوائی سے اسی سند کےھ ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : ( آپ نے فرمایا : ) " میں نے آگ میں بلاد حمیر کی ( رہنے والی ) ایک سیاہ لمبی عورت دیکھی ۔ " اور انھوں نےمن بني اسرائيل ( بنی اسرائیل کی ) کے الفاظ نہیں کہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2102

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ بَدَأَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ أَيْضًا ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنْ الَّتِي بَعْدَهَا وَرُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَتْ الصُّفُوفُ خَلْفَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ فَانْصَرَفَ حِينَ انْصَرَفَ وَقَدْ آضَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِمَوْتِ بَشَرٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِنْ فُطِنَ لَهُ قَالَ إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ
Jabir reported that the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on that very day when Ibrahim (the Prophet's son) died. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up and led people in (two rak'ahs of) prayer with six ruku's and four prostrations. He commenced (the prayer) with takbir (Allah-o-Akbar) and then recited and prolonged his recital. He then bowed nearly the (length of time) that he stood up. He then raised his head from the ruku' and recited but less than the first recital. He then bowed (to the length of time) that he stood up. He then raised his head from the ruku' and again recited but less than the second recital. He then bowed (to the length of time) that he stood up. He then lifted his head from the ruku'. He then fell in prostration and observed two prostrations. He stood up and then bowed, observing six ruku's like it, without (completing) the rak'ah in them, except (this difference) that the first (qiyam of ruku') was longer than the later one, and the ruku' was nearly (of the same length) as prostration. He then moved backward and the rows behind him also moved backward till we reached the extreme (Abu Bakr said: till he reached near the women) He then moved forward and the people also moved forward along with him till he stood at his (original) place (of worship). He then completed the prayer as it was required to complete and the sun brightened and he said: O people! verily the sun and the moon are among the signs of Allah and they do not eclipse at the death of anyone among people (Abu Bakr said: On the death of any human being). So when you see anything like it (of the nature of eclipse), pray till it is bright. There is nothing which you have been promised (in the next world) but I have seen it in this prayer of mine. Hell was brought to me as you saw me moving back on account of fear lest its heat might affect me; and I saw the owner of the curved staff who dragged his intestines in the fire, and he used to steal (the belongings) of the pilgrims with his curved staff. If he (the owner of the staff) became aware, he would say: It got (accidentally) entangled in my curved staff, but if he was unaware of that, he would take that away. I also saw in it (in Hell) the owner of a cat whom she had tied and did not feed her nor set her free so that she could eat the creatures of the earth, till the cat died of starvation. Paradise was brought to me, and it was on that occasion that you saw me moving forward till I stood at my place (of worship). I stretched my hand as I wanted to catch hold of its fruits so that you may see them. Then I thought of not doing it. Nothing which you have been promised was there that I did not see in this prayer of mine. ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہم سے عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن عبداللہ نمیر نے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ دونوں کے لفظ ملتے جلتے ہیں ۔ کہا : ہمیں میرے والد ( عبداللہ بن نمیر ) نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالملک نے عطاء سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیتے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، سورج گرہن ہوگیا ، ( بعض ) لوگوں نے کہا : سورج کو گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت کی بنا پر لگا ہے ۔ ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوعوں ، چار سجدوں کے ساتھ ( دو رکعت ) نماز پڑھائی ۔ آغاز کیاتو اللہ اکبر کہا ، پھرقراءت کی اور طویل قراءت کی ، پھر جتنا قیام کیا تھا تقریباً رکوع کیا ، پھر رکوع سے ا پنا سر اٹھایا اور پہلی قراءت سےکچھ کم قراءت کی ، پھر ( اس ) قیام جتنا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور دوسری قراءت سے کچھ کم قراءت کی ، پھر ( اس ) قیام جتنا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، پھر سجدے کے لئے جھکے اور دو سجدے فرمائے ، پھر کھڑے ہوئے اور ( اس دوسری ر کعت میں بھی ) تین رکوع کیے ، ان میں سے ہر پہلا رکوع بعد والے رکوع سے زیادہ لمباتھا اور آپ کا رکوع تقریباً سجدے کے برابر تھا ، پھرآپ پیچھے ہٹے تو آپ کے پیچھے والی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں حتیٰ کہ ہم لوگ آخر ( آخری کنارے ) تک پہنچ گئے ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : حتیٰ کہ آپ عور توں کی صفوں کے قر یب پہنچ گئے ۔ پھر آپ آگے بڑھے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی ( صفوں میں ) آگے بڑھ آئے حتیٰ کہ آپ ( واپس ) اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے پھر جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا ، اس وقت سورج اپنی اصلی حالت پر آچکا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " لوگو!سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہی ہیں اور بلا شبہ ان دونوں کو ، لوگوں میں سے کسی کی موت پر گرہن نہیں لگتا ۔ ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے " کسی بشر کی موت پر " کہا ۔ پس جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو اس وقت تک نماز پڑھو جب تک کہ یہ زائل ہوجائے ، کوئی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیاگیا ہے مگر میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھ لیاہے ۔ آگ ( میرے سامنے ) لائی گئی اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں اس ڈر سے پیچھے ہٹا ہوں کہ اس کی لپٹیں مجھ تک نہ پہنچیں ۔ یہاں تک کہ میں نے اس آگ میں مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے مالک کو دیکھ لیا ، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا ہے ۔ وہ اپنی اس مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے زریعے سے حاجیوں کی ( چیزیں ) چوری کرتا تھا ۔ اگر اس ( کی چوری ) کا پتہ چل جاتا تو کہہ دیتا : یہ چیز میری لاٹھی کے ساتھ اٹک گئی تھی ، اور اگر پتہ نہ چلتا تووہ اسے لے جاتا ۔ یہاں تک کہ میں نے اس ( آگ ) میں بلی والی اس عورت کو بھی دیکھا جس نے اس ( بلی ) کو باندھ رکھا ، نہ خود اسے کچھ کھلایااور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے اس چھوٹے موٹے جاندار اور پرندے کھا لیتی ، حتیٰ کہ وہ ( بلی ) بھوک سے مر گئی ، پھر جنت کو ( میرے سامنے ) لایاگیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتیٰ کہ میں واپس اپنی جگہ پر آکھڑا ہوا ، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں چاہتا تھا کہ میں اس کے پھل میں سے کچھ لے لوں تاکہ تم اسے دیکھ سکو ، پھر مجھ پر بات کھلی کہ میں ایسا نہ کروں ، کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے مگر میں نے وہ اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2103

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ آيَةٌ قَالَتْ نَعَمْ فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي أَوْ عَلَى وَجْهِي مِنْ الْمَاءِ قَالَتْ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَأَطَعْنَا ثَلَاثَ مِرَارٍ فَيُقَالُ لَهُ نَمْ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنَّكَ لَتُؤْمِنُ بِهِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ
Asma' reported: The sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). As I went to 'A'isha who was busy in prayer. I said: What is the matter with the people that they are praying (a special prayer)? She ('A'isha) pointed towards the sky with her head. I said: Is it (an unusual) sign? She said: Yes. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up for prayer for such a long time that I was about to faint. I caught hold of a waterskin lying by my side, and began to pour water over my head, or (began to sprinkle water) on my face. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then finished and the sun had brightened. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then addressed the people, (after) praising Allah and lauding Him, and then said: There was no such thing as I did not see earlier, but I saw it at this very place of mine. I ever saw Paradise and Hell. It was also revealed to me that you would be tried in the graves, as you would he tried something like the turmoil of the Dajjal. Asma' said: I do not know which word he actually used (qariban or mithl), and each one of you would be brought and it would be said: What is your knowledge about this man? If the person is a believer, (Asma' said: I do not know whether it was the word al-Mu'min or al-Mu'qin) he would say: He is Muhammad and he is the Messenger of Allah. He brought to us the clear signs and right guidance. So we responded and obeyed him. (He would repeat this three times), and it would be said to him: You should go to sleep. We already knew that you are a believer in him. So the pious man would go to sleep. So far as the hypocrite or sceptic is concerned (Asma' said: I do not know which word was that: al-Munafiq (hypocrite) or al-Murtad (doubtful) he would say: I do not know. I only uttered whatever I heard people say. ہمیں ( عبداللہ ) ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ہشام نے ، انھوں نے ( اپنی بیوی ) فاطمہ ( بنت منذر بن زبیر بن عوام ) سے اور انھوں نے ( اپنی دادی ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کوگرہن لگ گیا ، چنانچہ میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں آئی اور وہ ( ساتھ مسجد میں ) نماز پڑھ رہی تھیں ، میں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہوا وہ ( اس وقت ) نماز پڑھ رہے ہیں؟انھوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ تو میں نے پوچھا : کوئی نشانی ( ظاہر ہوئی ) ہے؟انھوں نے ( اشارے سے ) بتایا : ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کو بہت زیادہ لمبا کی حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی ، میں نے اپنے پہلو میں پڑی مشک اٹھائی اور اپنے سریا اپنے چہرے پر پانی ڈالنےلگی ۔ کہا : رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے توسورج روشن ہوچکا تھا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے خطاب فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور اس کی ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " اما بعد ( حمد وثنا کے بعد ) ! کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں نے مشاہدہ نہیں کیا تھا مگر اب میں نے اپنی اس جگہ سے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے حتی ٰ کہ جنت اور دوزخ بھی دیکھ لی ہیں ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ عنقریب ہے کہ عنقریب قبروں میں تمھاری مسیح دجال کی آزمائش کے قریب یا س جیسی آزمائش ہوگی ۔ ۔ ( فاطمہ نے کہا ) مجھے پتہ نہیں ، حضر ت اسما رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کون سا لفظ کہا ۔ اور تم میں سے ہر ایک کے پاس ( فرشتوں کی ) آمد ہو گی اور پوچھا جائے گا : تم اس آدمی کے بارے میں کیاجانتے ہو ؟ تومومن یا یقین رکھنے والا ۔ مجھے معلوم نہیں حضرت اسما رضی اللہ عنہا نے کون سا لفظ کہا ۔ ۔ کہنے گا : وہ محمد ہیں ، وہ اللہ کے رسول ہیں ، ہمارےپاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ، ہم نے ان ( کی بات ) کوقبول کیا اور اطاعت کی ، تین دفعہ ( سوال وجواب ) ہوگا ۔ پھراُس سے کہاجائے گا : سوجاؤ ، ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر ایمان رکھتےہو ۔ ایک نیک بخت کی طرح سوجاؤ ۔ اور رہامنافق یا وہ جوشک وشبہ میں مبتلا تھا ۔ معلوم نہیں حضرت اسما رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کو ن سا لفظ کہا ۔ تو وہ کہے گا : میں نہیں جانتا ، میں نے لوگوں کو کچھ کہتےہوئے سناتھا تو وہی کہہ دیا تھا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2104

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ وَإِذَا هِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ
Asma' said: I came to 'A'isha when the people were standing (in prayer) and she was also praying. I said: What is this excitement of the people for? And the rest of the hadith was narrated like one, (narrated above). 'Urwa said: Do not say Kasafat-ush-Shamsu, but say Khasafat-ush-Shamsu. ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے فاطمہ سے اور انھوں نے حضرت اسمارضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو اس وقت لوگ ( نماز میں ) کھڑے تھے اور وہ بھی نما ز پڑھ رہی تھیں ۔ میں نے پوچھا : لوگو ں کو کیا ہوا؟ اور ( آگے ) ہشام سے ابن نمیر کی ( سابقہ ) حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2105

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ لَا تَقُلْ كَسَفَتْ الشَّمْسُ وَلَكِنْ قُلْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ
Asma' bint Abu Bakr said: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was one day (i. e. on the day when the sun eclipsed) so perturbed that he (in haste) took hold of the outer garment (of a female member of his family) and it was later on that his (own) cloak was sent to him. He stood in prayer along with people for such a long time that if a man came he did not realise that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had observed ruku', as it has been narrated about ruku' in connection with long qiyam. عروہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : سورج کے لیے کسف نہ کہو ، بلکہ خسف کا لفظ استعمال کرو ۔ ( اردو میں دونوں کا معنی " گرہن " ہی ہے ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2106

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَتْ تَعْنِي يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا أَتَى لَمْ يَشْعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكَعَ مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ
Asma' bint Abu Bakr said: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was one day (i. e. on the day when the sun eclipsed) so perturbed that he (in haste) took hold of the outer garment (of a female member of his family) and it was later on that his (own) cloak was sent to him. He stood in prayer along with people for such a long time that if a man came he did not realise that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had observed ruku', as it has been narrated about ruku' in connection with long qiyam. خالد بن حارث نے کہا : ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی ، ( انھوں نے کہا : ) مجھ سے منصور بن عبدالرحٰمن نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے اور انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک دن نبی اکرم ﷺ تیزی سے ( لپک کر ) گئے ۔ کہا : ان کی مراد اس دن سے تھی جس دن سورج کو گرہن لگا تھا ۔ ۔ تو ( جلدی میں ) آپ نے ایک زنانہ قمیض اٹھالی حتیٰ کہ پیچھے سے آپ کو آپ کی چادر لا کر دی گئی ۔ آپ نے لوگوں کی امامت کرتے ہوئے انتہائی طویل قیام کیا ۔ اگرکوئی ایسا انسان آتا جس کو یہ پتہ نہ ہوتا کہ آ پ ( قیام کے بعد ) رکوع کرچکے ہیں تو اس قیام کی لمبائی کی بنا پر وہ کبھی نہ کہہ سکتا کہ آپ ( ایک دفعہ ) رکوع کرچکے ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2107

و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ قِيَامًا طَوِيلًا يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَزَادَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي وَإِلَى الْأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي
Abu Juraij narrated this hadith with the same chain of transmitters (but with the addition of these words): It was for a long duration that he (the Holy Prophet) observed qiyam and he would then observe ruku'. (The narrator also added) I (Asma') looked at a woman who was older than I, and at another who was weaker than I. یحیٰ اموی نے کہا : ہم سے ا بن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ ( اس میں ) انھوں نے کہا : ( آپ نے ) طویل قیام کیا ، آپ قیام کرتے ، پھر رکو ع میں چلے جاتے ۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں ( بیٹھنے کا ارادہ کرتی تو ) ایسی عورت کو دیکھنے لگتی جو مجھ سے بڑھ کر عمر رسیدہ ہوتی اور کسی دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے زیادہ بیمار ہوتی ( اور ان سے حوصلہ پا کر کھڑی رہتی ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2108

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعٍ حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَتْ فَقَضَيْتُ حَاجَتِي ثُمَّ جِئْتُ وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ ثُمَّ أَلْتَفِتُ إِلَى الْمَرْأَةِ الضَّعِيفَةِ فَأَقُولُ هَذِهِ أَضْعَفُ مِنِّي فَأَقُومُ فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَرْكَعْ
Asma' daughter of Abu Bakr reported: The sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ; so he felt perturbed and he, by mistake, took hold of the outer garment of a woman till he was given his own cloak. After this I satisfied my need and then came and entered the mosque. I saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) standing in prayer. I stood along with him. He prolonged his qiyam till I wished to sit down. Then I cast a glance towards an old woman. So I said: She is older than I. I, therefore, kept standing. He (the Holy Prophet) then observed ruku', and prolonged his ruku'. He then raised his head. He then prolonged his qiyam to such an extent that if a person happened to come he would have thought that he had not observed the ruku'. وہیب نے کہا : ہمیں منصور نے اپنی والدہ ( صفیہ ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ جلدی سے لپکے ( اور ) غلطی سے زنانہ قمیص اٹھا لی حتیٰ کہ اسکے بعد ( پیچھےسے ) آپ کی چادر آپ کو لاکر دی گئی ۔ کہا : میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوئی اور ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سے ) مسجد میں داخل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام کی حالت میں دیکھا ۔ میں بھی آپ کی اقتداء میں کھڑی ہوگئی ۔ آپ نے بہت لمبا قیام کیا حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ میں بیٹھنا چاہتی تھی ، پھر میں کسی کمزور عورت کی طرف متوجہ ہوتی اور ( دل میں ) کہتی : یہ تو مجھ سے بھی زیادہ کمزور ہے ۔ ( اور کھڑی رہتی ہے ) پھر آپ نے رکوع کیا تو رکوع کو انتہائی لمبا کردیا ، پھر آپ نے ( رکوع سے ) اپناسر اٹھایا تو قیام کو بہت طول دیا ۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی ( اس حالت میں ) آتا تو اسے خیال ہوتا کہ ابھی تک آپ نے رکوع نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2109

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَدْرَ نَحْوِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ انْجَلَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَفَفْتَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ بِكُفْرِ الْعَشِيرِ وَبِكُفْرِ الْإِحْسَانِ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
Ibn 'Abbas reported: There was an eclipse of the sun during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The Messenger of Allah, ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) prayed accompanied by the people. He stood for a long time, about as long as it would take to recite Surah al-Baqara; then he bowed for a long time; then he raised his head and stood for a long time, but it was less than the first qiyam. He then bowed for a long time but for a shorter while than the first. He then prostrated and then stood for a long time, but it was less than the first qiyam. He then bowed for a long time, but it was less than the first bowing. He then raised (his head) and stood for a long time, but it was less than the first qiyam. He then bowed for a long time but it was less than the first bowing. He then observed prostration, and then he finished, and the sun had cleared (by that time). He (the Holy Prophet) then said: The sun and moon are two signs from the signs of Allah. These two do not eclipse on account of the death of anyone or on account of the birth of anyone. So when you see that, remember Allah. They (his Companions) said: Messenger of Allah, we saw you reach out to something, while you were standing here, then we saw you restrain yourself. He said: I saw Paradise and reached out to a bunch of its grapes; and had I taken it you would have eaten of it as long as the world endured. I saw Hell also. No such (abominable) sight have I ever seen as that which I saw today; and I observed that most of its inhabitants were women. They said: Messenger of Allah, on what account is it so? He said: For their ingratitude or disbelief (bi-kufraihinna). It was said: Do they disbelieve in Allah? He said: (Not for their disbelief in God) but for their ingratitude to their husbands and ingratitude to kindness. If you were to treat one of them kindly for ever, but if she later saw anything (displeasing) in you, she would say: I have never seen any good in you. حفص بن میسرہ نے کہا : زید بن اسلم نے مجھے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کی معیت میں لوگوں نے نماز پڑھی ۔ آپ نے بہت طویل قیام کیا ، سورہ بقرہ کے بقدر ، پھر آپ نے بہت طویل رکوع کیا ، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر آپ نے طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدے کیے ، پھر آپ نے طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کچھ کم تھا ، پھر آپ نے طویل ر کوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ اپنے سے پہلے والے قیام سے کم تھا ، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے کے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدے کیے ، پھر آپ نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : " سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیوں میں سےنشانیاں ہیں ، وہ کسی کی موت پر گرہن زدہ نہیں ہوتے اور نہ کسی کی زندگی کے سبب سے ( انھیں گرہن لگتاہے ) جب تم ( ان کو ) اس طرح دیکھ تو اللہ کا زکر کرو ( نماز پڑھو ۔ ) " لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے اپنے کھڑےہونے کی اس جگہ پر کوئی چیز لینے کی کوشش کی ، پھرہم نے دیکھاکہ آپ رک گئے ۔ آپ نے فرمایا : " میں نے جنت دیکھی اور میں نے اس میں سے ایک گچھہ لینا چاہا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم ر ہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے رہتے ( اور ) میں نے جہنم دیکھی ، میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اہل جہنم کی اکثریت عورتوں کی دیکھی ۔ " لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( یہ ) کس وجہ سے؟آپ نے فرمایا : " ان کے کفر کی وجہ سے ۔ " کہا گیا : کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟آپ نے فرمایا : " رفیق زندگی کا کفران ( ناشکری ) کرتی ہیں ۔ اوراحسان کا کفران کر تی ہیں ۔ اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرتے رہو پھر وہ تم سے کسی دن کوئی ( ناگوار ) بات دیکھے تو کہہ دے گی : تم سے میں نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2110

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ
This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters except with this difference that he (the narrator said): then we saw you keeping aloof (back). امام مالک نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اس ( مذکورہ حدیث ) کے مانند روایت کی ، البتہ انھوں نے " ثم رايناك كففت کے بجائے ) ثم رايناك تكعكعت " ( پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ آگے بڑھنے سے باز رہے )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2111

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ
Ibn 'Abbas reported: When there was a solar eclipse the Messenger of Allah (way peace be upon him) observed eight ruku's and four prostrations (in two rak'ahs). This has been narrated by 'Ali also. اسماعیل ابن علیہ نے سفیان سے ، انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انھوں نے طاوس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں کے ساتھ آٹھ رکوع کیے ۔ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی کے مانند روایت کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2112

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ قَالَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا
Ibn 'Abbas reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed prayer while it was (solar) eclipse. He recited (the Qur'an in qiyam) and then bowed. He again recited and again bowed. He again recited and again bowed and again recited and again bowed, and then prostrated; and the second (rak'ah) was like this. یحییٰ نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حبیب نے طاوس سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے کسوف ( کے دوران ) میں نماز پڑھائی ، قراءت کی پھر رکوع کیا ، پھر قرءات کی ، پھر رکوع کیا ، پھر قراءت کی ۔ پھر رکوع کیا ۔ پھر قراءت کی ۔ پھر رکوع کیا ۔ پھر سجدے کئے ۔ کہا : دوسری ( رکعت ) بھی اسی طرح تھی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2113

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ بِ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ جُلِّيَ عَنْ الشَّمْسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ
Amr b. al-'As reported: When the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), they (the people) were called to congregational prayers. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed two ruku's in one rak'ah. He then stood and observed two ruku's in (the second) rak'ah. The sun then became bright, and 'A'isha said; Never did I observe, ruku' and prostration longer than this (ruku' and prostration). حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گرہن ہواتو " الصلواة جامعة " ( کے الفاظ کے ساتھ ) اعلان کیاگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے ، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوگئے اور ایک رکعت میں دو رکوع کیے ، پھر سورج سے گرہن زائل کردیا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے نہ کبھی ایسا رکوع کیا اور نہ کبھی ایسا سجدہ کیا جو اس سے زیادہ لمبا ہو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2114

و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ
Abu Mas'ud al-Ansari reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily the sun and the moon are the two signs among the signs of Allah by which He frightens his servants and they do not eclipse on account of the death of any one of the people. So when you see anything about them, observe prayer, supplicate Allah till it is cleared from you. ہشیم نے اسماعیل سے ، انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، اور انھوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتاہے ۔ اور ان دونوں کو انسانوں میں سے کسی کی موت کی بناء پر گرہن نہیں لگتا ، لہذا جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ کو پکارو یہاں تک کہ جو کچھ تمہارے ( ساتھ ہوا ) ہے وہ کھل جائے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2115

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا
Abu Mas'ud reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily the sun and the moon do not eclipse on account of the death of any one of the people, but they are the two signs among the signs of Allah. So when you see it, stand up and observe prayer. معتمر نے اسماعیل سے ، انھوں نے قیس سے اور انھوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سورج اور چاند کو لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سےدو نشانیاں ہیں ۔ لہذا جب تم اس ( گرہن ) کو دیکھو تو قیام کرو اور نماز پڑھو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2116

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَوَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمَرْوَانُ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَوَكِيعٍ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il with the same chain of transmitters and in the hadith narrated by Sufyan and Waki' (the words are): The sun eclipsed on the day when Ibrahim died, and the people said: It has eclipsed on the death of Ibrahim. وکیع ، ابواسامہ ، ابن نمیر ، جریر ، سفیان ، اورمروان سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، سفیان اوروکیع ، کی روایت میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے دن سورج کو گرہن لگا تو لوگوں نے کہا : سورج کو ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی بناء پر گرہن لگا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2117

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلَاءِ كَسَفَتْ الشَّمْسُ وَقَالَ يُخَوِّفُ عِبَادَهُ
Abu Musa reported: The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He stood in great anxiety fearing that it might be the Doomsday, till he came to the mosque. He stood up to pray with prolonged qiyam, ruku', and prostration which I never saw him doing in prayer; and then he said: These are the signs which Allah sends, not on account of the death of anyone or life of any one, but Allah sends them to frighten thereby His servants. So when you see any such thing, hasten to remember Him, supplicate Him and beg pardon from Him, and in the narration transmitted by Ibn 'Ala the words are: The sun eclipsed . He frightens His servants. ابو عامر اشعری عبداللہ بن براد اور محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو بردہ سے اور انھوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ تیزی سے اٹھے ، آپ کو خوف لاحق ہوا کہ مبادا قیامت ( آگئی ) ہو ، یہاں تک کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے اور آپ کھڑے ہوئے بہت طویل قیام ، رکوع اورسجدے کے ساتھ نماز پڑھتے رہے ، میں نے کبھی آپ کو نہیں دیکھا تھا کہ کسی نماز میں ( آپ نے ) ایسا کیا ہو ، پھر آپ نے فرمایا : " یہی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے ۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی بناء پر نہیں ہوتیں ، بلکہ اللہ ان کو بھیجتا ہے تاکہ ان کے زریعے سے اپنے بندوں کو ( قیامت سے ) خوف دلائے ، اس لئے جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو جلد از جلد اس کے ذکر ، دعا اور استغفار کی طرف لپکو ، " ابن علاء کی ر وایت میں " خسفت الشمس " کے بجائے ) كسفت الشمس ( سورج کو گرہن لگا ) کے الفاظ ہیں ( معنی ایک ہی ہے ) اور انھوں نے ( يخوف بها عباده ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے کے بجائے ) يخوف عباده ( اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ) کہا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2118

و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انْكِسَافِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ حَتَّى جُلِّيَ عَنْ الشَّمْسِ فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ
Abd al-Rahman b. Samura said: During the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) I was shooting my arrows in Medina, when an eclipse of the sun took place. I, therefore, threw them away and said, I must see how the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) acts in a solar eclipse today. When I came to him, he had been supplicating with his hands, raised, pronouncing Allah-o-Akbar, praising Him, acknowledging that He is One God till the eclipse was over, then he recited two surahs and prayed two rak'ahs. بشر بن مفضل نے کہا : جریری نے ہمیں ابو علاء حیان بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنے تیروں کے زریعے سے تیر انداز کررہا تھا کے سورج کو گرہن لگ گیا ، تو نے ان کو پھینکا اور ( دل میں ) کہا کہ میں آج ہرصورت دیکھوں گا کہ سورج گرہن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ میں آپ کے پاس پہنچا تو ( دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے ، ( اللہ کو ) پکار رہے تھے ، اس کی بڑائی بیان کررہے تھے ، اس کی حمد و ثنا بیان کررہے تھے اور لاالٰہ الا اللہ کا ورد فرما رہے تھے ، یہاں تک کہ سورج سے گرہن ہٹا دیاگیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہررکعت میں ) دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں ادا کیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2119

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ أَرْتَمِي بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَسَفَتْ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا قَالَ فَلَمَّا حُسِرَ عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ
Abd al-Rahman b. Samura, who was one of the Companions of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: During the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) I was shooting some of my arrows in Medina, when the sun eclipsed. I threw (the arrows) and said: By Allah, I must see how the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) acts in solar eclipse. So I came to him and he was standing in prayer, raising his hands, glorifying Him, praising Him, acknowledging His Oneness, declaring His greatness, and supplicating Him, till the sun cleared. When the eclipse was over, he recited two surahs and prayed two rak'ahs. عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے جریری سے ، انھوں نے حیان بن نمیر سے اور انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے تھے ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک د ن مدینہ میں ا پنے تیروں سے نشانے لگا رہا تھا کہ اچانک سورج کو گرہن لگ گیا ، اس پر میں نے انھیں ( تیروں کو ) پھینکا اور ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم!میں ضرور د یکھوں گا کہ سورج کے گرہن کے اس و قت میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوئی ہے ۔ کہا : میں آپ کے پاس آیا ، آپ نماز میں کھرے تھے ، دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے ، پھر آپ نے تسبیح ، حمد و ثنا لاالٰہ الا اللہ اور اللہ کی بڑائی کا ورد اور د عا مانگنی شروع کردی یہاں تک کہ سورج کا گرہن چھٹ گیا ، کہا : اور جب سورج کا گرہن چھٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2120

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا
Abd al-Rahman b. Samura reported: I was shooting some of my arrows during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that the sun eclipsed. The rest of the hadith is the same. سالم بن نوح نے کہا : ہمیں جریری نے حیان بن عمیر سے خبر دی اور انھوں نے عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باہر نکل کر اپنے تیروں سے نشانہ بازی کی مشق کررہا تھا کہ سورج گرہن ہوگیا ، پھر ( سالم بن نوح نے ) ان دونوں ( بشر اور عبدالاعلیٰ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2121

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا
Abdullah b. 'Umar reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Verily the sun and the moon do not eclipse on account of the death or life of anyone. They are in fact the signs among the signs of Allah. So when you see them, observe prayer. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر سنایا کرتے تھے ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یقیناً سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں ، جب تم انھیں ( اس طرح ) دیکھو تو نماز پڑھو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2122

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ قَالَ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ
Ziyad b. 'Ilaqa reported: I heard Mughira b. Shu'ba saying that the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the day when Ibrahim died. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily the sun and the moon are the two signs among the signs of Allah. They do not eclipse on account of the death of anyone or on account of the birth of anyone. So when you see them, supplicate Allah, and observe prayer till it is over. حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا ، اسی دن جب ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتاہے اور نہ کسی کی زندگی سے اس لئے جب تم ان کو ( گرہن لگا ) دیکھو تو اللہ کو پکارو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ گرہن زائل ہوجائے ۔ "

آیت نمبر