AL MUSLIM

Search Results(1)

14) The Book of Fasting

14) کتاب: روزے کے احکام و مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2495

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When there comes the month of Ramadan, the gates of mercy are opened, and the gates of Hell are locked and the devils are chained, اسماعیل بن جعفر نے ابو سہیل ( نافع بن مالک بن ابی عامر ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان آتا ہے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کےدروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین بیڑیوں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2496

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ»
Narrated Abu Huraira: Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When it is the month of Ramadan, the gates of mercy are opened, and the gates of Hell are locked and the devils are chained. یونس نے ابن شہاب سے خبردی ، انھوں نے ( ابوسہیل نافع ) ابن ابی انس سے روایت کی کہ انھیں ان کےوالد نے بیان کیا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان ( کا آغاز ) ہوتاہے ، رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2497

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَالْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ» بِمِثْلِهِ
This hadith is reported by Abu Huraira (with a slight alteration of words) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When (the month of) Ramadan begins. صالح نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان داخل ( شروع ) ہوتا ہے ۔ " ( باقی الفاظ ) اسی ( یونس کی حدیث ) کے مانندہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2498

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ: «لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying in connection with Ramadan: Do not fast till you see the new moon, and do not break fast till you see it; but if the weather is cloudy calculate about it. یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے رمضان کا ذکر کیا اور فرمایا : " روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور افطار ( روزوں کا اختتام ) نہ کرو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اوراگر تم پرمطلع ابرآلود کردیا جائے تو اس ( رمضان ) کی مقدار ( گنتی ) پوری کرو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2499

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَقَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا - ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ - فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ»
Ibn Umar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made a mention of Ramadan and he with the gesture of his hand said: The month is thus and thus. (He then withdrew his thumb at the third time). He then said: Fast when you see it, and break your fast when you see it, and if the weather is cloudy calculate it (the months of Sha'ban and Shawwal) as thirty days. ابواسامہ نے کہا : عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے سمجھاتے ہوئے فرمایا : " مہینہ اس طرح اور اس طرح اوراس طرح ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اپنا انگوٹھا بند کرلیا ۔ ( یعنی 29 کی گنتی بتائی ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزے ختم کرو ، اگر تمھارا مطلع ابر آلود ہوجائے تو اس کے تیس دن پورے کرو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2500

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلَاثِينَ» نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ،
This hadith is narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters, and he said: If (the sky) is cloudy for you, then calculate thirty days (for the month of Ramadan). ہم سے ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، فرمایا : " اگر تم پر بادل چھاجائیں تو اس کے تیس دن شمار کرو ۔ " جس طرح ابو اسامہ کی حدیث ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2501

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَقَالَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» وَقَالَ: «فَاقْدِرُوا لَهُ» وَلَمْ يَقُلْ «ثَلَاثِينَ»
Ubaidullah narrated on the authority of the same chain of transmitters that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made a mention of Ramadan and said: The month may consist of twenty-nine days, and it may be thus, thus and thus, and (he further) said: Calculate it, but he did not say thirty. یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کرکے فرمایا : " مہینہ انتیس کا ہوتا ہے ، ( اشارے سے کہا : ) مہینہ اس طرح ، اس طرح اوراس طرح ( تین دہائیاں ہوتا ) ہے " اور کہا : " اس کی گنتی پوری کرو ۔ " اور تیس کا لفظ نہیں بولا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2502

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»
Ibn'Umar (Allah be pleased with-both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month of Ramadan may consist of twenty-nine days. So do not fast till you have sighted it (the new moon) and do not break fast, till you have sighted it (the new moon of Shawwal), and if the sky is cloudy for you, then calculate. ایوب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ انتیس کا ہوتاہے ( اور فیصلہ چاند سے ہوتا ہے ) اس لئے نہ چاند دیکھے بغیر روزے رکھو اور نہ اسے دیکھے بغیر روزے ختم کرو اگرآسمان ابر آلود ہوتو ا س کی گنتی ( تیس ) پوری کرو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2503

وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month (of Ramadan) may consist of twenty nine days; so when you see the new moon observe fast and when you see (the new moon again at the commencement of the month of Shawwal) then break It, and if the sky is cloudy for you, then calculate it (and complete thirty days). سلمہ بن علقمہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ انتیس کابھی ہوتاہے ، جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو توروزے ختم کرو ، اگر تم پر بادل چھاجائیں تو اس کی گنتی پوری کرو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2504

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Measenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When you see the new moon, observe fast, and when you see it (again) then break it, and if the sky is cloudy for you, then calculate it. سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئےسنا : " جب اس ( چاند ) کو دیکھ لو تو روزہ رکھو اورجب اسے دیکھ لوتو روزے ختم کرو اوراگر بادل چھا جائیں تو اس ( مہینے ) کی گنتی پوری کرلو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2505

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، إِلَّا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month may consist of twenty-nine nights. So do not fast till you have sighted it (the new moon) and do not break it till you have sighted it, except when the sky is cloudy for you, and if it is so, then calculate it. عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : رسول اللہ نے فرمایا : " مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے ۔ چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور اسے دیکھے بغیر ر وزے ختم نہ کرو مگر یہ کہ تم پر بادل چھا جائیں ۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس ( مہینے ) کی گنتی پوری کرو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2506

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا» وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month is thus and thus and thus (i. e. pointing with his fingers thrice), and he held back his thumb at the third time (in order to show that it can also consist of twenty-nine days). عمرو بن دینار نے ہمیں حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، " مہینہ اس طرح ، اس طرح ، اور اس طرح ہوتاہے " اور تیسری دفعہ اپنا انگوٹھا بند کرلیا ۔ ( اشارے سے انتیس 29 کی گنتی بتائی ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2507

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month may consist of twenty-nine days. ابو سلمہ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2508

وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا وَهَكَذَا، عَشْرًا، وَعَشْرًا، وَتِسْعًا»
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month (of Ramadan) is thus and thus, and thus. i.e. ten, ten and nine. موسیٰ بن طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ ایسا ، ایسا ، ایسا ( یعنی ) دس ، دس اور نو کاہوتاہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2509

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّهْرُ كَذَا، وَكَذَا، وَكَذَا» وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ بِكُلِّ أَصَابِعِهِمَا وَنَقَصَ فِي الصَّفْقَةِ الثَّالِثَةِ إِبْهَامَ الْيُمْنَى أَوِ الْيُسْرَى
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month is thus, and thus, and thus, and he flapped his hands with all their fingers twice. but at the third turn, folded his right thumb or left thumb (in order to give an idea of twenty-nine). شعبہ ، جبلۃ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ ہمیشہ ایسے ایسے اور ایسے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ دونوں ہاتھوں کی انگلی سے اشارہ کرکے فرمایا اور تیسری مرتبہ میں آپ نے اپنے دائیں یا بائیں انگوٹھے کو بند فرما لیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2510

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ» وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، قَالَ عُقْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: «الشَّهْرُ ثَلَاثُونَ» وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month (of Ramadan) may consist of twenty nine days, and Shu'ba (one of the narrators) (gave a practical demonstration how the Holy prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) explained to them) by unfolding his hands thrice and folding his thumb at the third turn. 'Uqba (one of the narrators in this chain of transmitters) said: I think that he said that the month consists of thirty days and unfolded his palm three times. شعبہ نے ہمیں عقبہ بن حریث سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مہینہ انتیس کاہوتاہے ۔ "" شعبہ نے تین بار دونوں ہاتھوں کو ( دکھا کر ) ایک دوسرے سے جوڑا اور تیسری بار انگوٹھا کم کرلیا ۔ عقبہ نے کہا : میراخیال ہے ( پھر ) انھوں ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : "" مہینہ تیس کاہوتا ہے "" اور ( ایک دفعہ ) اپنی دونوں ہتھیلیاں تین بار ایک دوسرے کے ساتھ جوڑیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2511

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ «وَالشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا» يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ
Ibn 'Umar (may Allah be pleased with both of them) reported Allah's Apostle as saying: We are an unlettered people who can neither write nor count. The month is thus, and thus. folding his thumb when he said it the third time. محمد بن المثنی ، ابن بشار ، محمد جعفر ، شعبہ ، اسود بن قیس ، سعید ابن عمر وبن سعید ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم امی امت کے لوگ ہیں نہ ہم لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں مہینہ اس طرح ہوتا ہے اور اس طرح اور اس طرح اور تیسری مرتبہ میں انگوٹھے کو بند فرمالیا ، اور مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے یعنی مکمل تیس ( دنوں ) کا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2512

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ لِلشَّهْرِ الثَّانِي ثَلَاثِينَ
This hadith has been narrated on the authority of Aswad b. Qais with the same chain of transmitters, but herein no mention has been made of the other month (consisting of) thirty days. سفیان نے اسود بن قیس سے اسی سندکے ساتھ روایت کی اور دوسرے مہینے کے تیس ( دنوں ) کا ذکر نہیں کیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2513

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، رَجُلًا يَقُولُ: اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ النِّصْفِ، فَقَالَ لَهُ: مَا يُدْرِيكَ أَنَّ اللَّيْلَةَ النِّصْفُ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، - وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْعَشْرِ مَرَّتَيْنِ - وَهَكَذَا - فِي الثَّالِثَةِ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ كُلِّهَا وَحَبَسَ أَوْ خَنَسَ إِبْهَامَهُ -»
Sa'd b. 'Ubaida reported that Ibn'Umar (Allah be pleased with both of them) heard a person saying: This night is the midnight (of the month). Upon this he said to him: How do you know that it is the midnight (of the month), for I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month is thus and thus (and he pointed with his ten fingers twice) and thus (i. e. at the third time he pointed with all his fingers but withdrew or folded his thumb)? سعد بن عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ آج رات آدھا مہینہ ہوگیا توحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا کہ تجھے کس طرح معلوم ہوا کہ رات آدھا مہینہ ہوگیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مہینہ اس طرح اس طرح اور اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں سے دومرتبہ دس کا اشارہ فرمایا اور اپنی ساری انگلیوں سے اشارہ فرمایا ۔ اور ایسا تیسری دفعہ ا‎پنے انگوٹھے کو کھلنے سے روک یا موڑ لیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2514

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Whenever you sight the new moon (of the month of Ramadan) observe fast. and when you sight it (the new moon of Shawwal) break it, and if the sky is cloudy for you, then observe fast for thirty days. سعید بن مسیب ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار ( عید ) کرو اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم تیس د نوں کے روزے رکھو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2515

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Observe fast on sighting it (the new moon) and break (fast) on sighting it (the new moon), but if the sky is cloudy for you, then complete the number (of thirty). ۔ ربیع ، ابن مسلم ، عن محمد ، ابن زیاد ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2516

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Observe fast on sighting it (the new moon) and break it on sighting it. But if (due to clouds) the actual position of the month is concealed from you, you should then count thirty (days). شعبہ ، محمد بن زیاد ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار ( عید ) کرو تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2517

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ»
Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (may peace he upon him) made a mention of the new moon and (in this connection) said: Observe fast when you see it (the new moon) and break fast when you see it (the new moon of Shawwal), but when (the actual position of the month is) concealed from you (on account of cloudy sky), then count thirty days. اعرج ، ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کرروزہ افطار ( عید ) کرو ۔ تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2518

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا، فَلْيَصُمْهُ»
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not observe fast for a day, or two days ahead of Ramadan except a person who is in the habit of observing a particular fast; he may fast on that day. علی بن مبارک ، یحییٰ بن ابن کثیر ، ابی سلمہ ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتاتھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2519

وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Yahya b. Abi Kathir with the same chain of transmitters. ۔ معاویہ ، ابن سلام ، ابن مثنی ، ابو عامر ، ہشام ، ابن مثنی ، ابن ابی عمر ، عبدالوہاب بن عبدالمجید ، ایوب ، ذہیر بن حرب ، حسین بن محمد ، شیبان ، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2520

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ بَدَأَ بِي - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»
Zuhri reported that (once) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took an oath that he would not go to his wives for one Month. Zuhri said that 'Urwa narrated to him from 'A'isha (Allah be pleased with her) that she said: When twenty-nine nights were over, which I had counted, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to me (he came to me first of all). I said: Messenger of Allah, you had taken an oath that you would not come to us for a month, whereas you have come after twenty nine days which I have counted. Whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days. معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ا پنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کا شمار کرتی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ۔ انھوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ۔ ( باریوں کا ) آغاز مجھ سے فرمایا میؔت نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ نےقسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آئے گے ۔ اور آ‎پ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں ، میں گنتی رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایا بیشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2521

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْنَا: إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا الشَّهْرُ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِي الْآخِرَةِ»
Jabir (Allah be pleased with her) narrated that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) separated himself from his wives for a month. (His wives said: ) He came to us on the twenty-ninth day, whereupon we said: It is the twenty-ninth (day) today. Thereupon he said: So far as the month is concerned, (and he, with a view to explaining it) flapped his hands thrice, but held back one finger at the last turn. لیث ، ابن زبیر ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسویں دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے اور آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ میں ایک انگلی کو بند فرمالیا ۔ ( اتنے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2522

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثًا: مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا، وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا
Abu Zubair is reported to have heard Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) as saying: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) separated himself from his wives for a month. (His wives said: ) He came to us on the morning of the twenty-ninth. Upon this some, of the people said: It is the morning of twenty- ninth (according to our calculation). Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The month. may also consist of twenty-nine days. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then flapped his bands thrice, twice with all the fingers of both his hand (to indicate twenty-nine) and by the third time with nine (fingers). ابن جریج ، ابو زبیر ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ساتھ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2523

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، غَدَا عَلَيْهِمْ - أَوْ رَاحَ - فَقِيلَ لَهُ: حَلَفْتَ، يَا نَبِيَّ اللهِ، أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، قَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا»
Umm Salama (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took an oath that he would not go to some of his wives for the whole of the month. When twenty-nine days bad passed he (the Holy Prophet) went to them in the morning or in the evening. Upon this it was said to him: Apostle of Allah, you took an oath that you would not come to us for a month, whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days. حجاج بن محمد ، ابن جریج ، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی ، عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2524

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters. ضحاک ، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ہی اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2525

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَقَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا»
Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) said that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) struck his hand against the other and (then with the gesture of his two hands) said: The month is thus, thus (two times). He then withdrew (one of) his fingers at the third turn. محمد بن بشر ، اسماعیل بن ابی خالد ، محمد بن سعید ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرمالی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2526

وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، عَشْرًا، وَعَشْرًا، وَتِسْعًا مَرَّةً»
Muhammad b. Sa'd reported on the authority of his father (Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: Tho month is thus and thus, and thus, i. e. ten, ten and nine. زائدہ ، اسماعیل ، حضرت محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2527

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا
This hadith has been narrated by Ibn Abu Khalid with the same chain of transmitters. ۔ عبداللہ بن مبارک ، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2528

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ، أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ فَقَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي
Kuraib reported that Umm Fadl, daughter of Harith, sent him (Fadl, i.e. her son) to Mu'awiya in Syria. I (Fadl) arrived in Syria, and did the needful for her. It was there in Syria that the month of Ramadan commenced. I saw the new moon (of Ramadan) on Friday. I then came back to Medina at the end of the month. Abdullah b. 'Abbas (Allah be pleased with him) asked me (about the new moon of Ramadan) and said: When did you see it? I said: We saw it on the night of Friday. He said: (Did) you see it yourself? I said: Yes, and the people also saw it and they fasted and Mu'awiya also fasted, whereupon he said: But we saw it on Saturday night. So we will continue to fast till we complete thirty (fasts) or we see it (the new moon of Shawwal). I said: Is the sighting of the moon by Mu'awiya not valid for you? He said: No; this is how the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has commanded us. Yahya b. Yahya was in doubt (whether the word used in the narration by Kuraib) was Naktafi or Taktafi. کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں گیا شام کو اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا مجھ سے اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو میں نے کہا: آپ کافی نہیں جانتے دیکھنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور ان کا روزہ رکھنا؟ آپ نے فرمایا نہیں ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «‏‏‏‏نَكْتَفِى» ‏‏‏‏ کہا یا «‏‏‏‏تَكْتَفِى» ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2529

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ قَالَ: تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، قَالَ: فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قَالَ فَقُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ، فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ»
Abu'l-Bakhtari reported: We went out to perform Umra and when we encamped in the valley of Nakhla, we tried to see the new moon. Some of the people said: It was three nights old, and others (said) that it was two nights old. We then met Ibn 'Abbas and told him we had seen the new moon, but that some of the people said it was three nights old and others that it was two nights old. He asked on which night we had seen it; and when we told him we had seen it on such and such night, he said the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: Verily Allah deferred it till the time it is seen, so it is to be reckoned from the night you saw it. ۔ حصین ، عمر بن مرہ ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاندہے ۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے ۔ تو ہماری ملاقات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاندہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ د وسری کا چاند ہے ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس ر ات چاند دیکھا تھا؟تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیاہے ۔ در حقیقت کا اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2530

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ»
Abu'l-Bakhtari reported: We saw the new moon of Ramadan as we were at Dhit-i-'Irq. We sent a man to Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) to ask him (whether the sighting of a small moon had something of the nature of defect in it). Upon this Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) said that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: Verily Allah deferred its sight, but if (the new moon) is hidden from you, then, complete its number (thirty). شعبہ ، عمرو ابن مرہ حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاندد یکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند دیکھنے کے لئے بڑھا دیا ہے ۔ تو اگر مطلع ابر آلود ہوتو گنتی پوری کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2531

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ، رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ»
The son of Abu Bakra reported it on the authority of his father that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: The two months of 'Id, Ramadan and Dhu'l-Hijja (are not incomplete). یزید بن زریع ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2532

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، وَخَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ» فِي حَدِيثِ خَالِدٍ «شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ»
Abd ar-Rahman b. Abu Bakra reported on the authority of Abu Bakra that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: The months of 'Id are not incomplete. And in the hadith narrated by Khalid (the words are): The months, of 'Id are Ramadan and Dhu'l-Hijja. معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن سوید ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتےہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایادو مہینے ناقص نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں ۔ خالد کی حدیث میں ہے "" عید کے دونوں مہینے ، رمضان اور ذوالحجہ ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2533

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: 187] مِنَ الْفَجْرِ قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ: عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ، أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ، إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ»
Adi b. Hatim (Allah be pleased with him) reported that when (this verse) was revealed: Until the white streak of the dawn becomes distinct from the dark streak (ii. 187) Adi b. Hatim said: Messenger of Allah, verily I keep underneath my pillow two strings, one white and the other black, by which I distinguish night from dawn. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Your pillow seems to be very large. For the word khait implies the blackness of the night and the whiteness of the dawn. حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‌ نازل ہوئی ۔ تو حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سماگئے ہیں ۔ وہ ( د ھاگا ) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2534

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: 187] قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ، فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مِنَ الْفَجْرِ} [البقرة: 187] فَبَيَّنَ ذَلِكَ
Sahl b. Sa'd said that when this verse was revealed: Eat and drink till the white streak is distinct from the dark streak, a person would take hold of a white thread and a black thread and keep on eating till he could find them distinct (in the light of the dawn). It was then that Allah, the Majestic and Great, reveiled (the words) min al-fajr (from the dawn), and then it became clear (that the word khait refers to the streak of light in the dawn). فضیل بن سلیمان ، ابو حازم ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ جب یہ آیتوَكُلُوا وَاشْرَ‌بُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتاتو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ‌ " نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہوگئی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2535

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: 187] قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ، رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الْأَبْيَضَ، فَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا فَأَنْزَلَ اللهُ بَعْدَ ذَلِكَ: {مِنَ الْفَجْرِ} [البقرة: 187] فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
Sahl b. Sa'd (Allah be pleased with him) said: When this verse was revealed. Eat and drink till the white streak becomes distinct from the dark streak for you, the person who decided to observe fast tied on one of his feet a black thread and on the other a white thread. And he went on eating and drinking till he could distinguish (between their colour) on seeing them. It was after this that Allah reveal- ed (the words): min al-fajr. And they (the Muslims) came to know that (the word khait) refers to the night and day. ابو غسان ، ابو حازم ، سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو ا پنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ‌ " نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ وسفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2536

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»
Abdullah b. Mas'ud (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: Bilal would pronounce Adhan (at the fag end of the night in order to inform the people about the time of the Sahri). So you eat and drink till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum (which was pro- nounced at the conclusion of the Sahri and the commencement of the fast). لیث ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے و قت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2537

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Bilal announces Adhan during the night, so you eat and drink, till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum. یونس ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں ۔ لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2538

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had two Mu'adhdhins, Bilal and son of Umm Maktum, the blind. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Bilal announces Adhan at (the fag end of the) night (i. e. Sahri), so eat and drink till the son of Umm Maktum announces Adhan. And he (the narrator) said: And the (difference of time) between their (Adhans) was not more than this that one climbed down (from the minaret) and the other climbed up (to announce Adhan). ابن نمیر ، عبیداللہ بن نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال اور حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رات کے و قت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دیں راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ سوائے اس کے کہ وہ ا ذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2539

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
A hadith like this has been transmitted on the authority of 'A'isha (Allah be pleased with her). ابن نمیر ، عبیداللہ ، قاسم ، سید عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2540

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidullah on the two chains of transmitters. ابو اسامہ ، عبدہ ، حمادبن مسعدہ ، سب نے عبیداللہ سے ( پچھلی دونوں حدیثوں میں مذکوران کی ) سندوں کےساتھ ابن نمیر کی حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2541

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ - أَوْ قَالَ نِدَاءُ بِلَالٍ - مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ - أَوْ قَالَ يُنَادِي - بِلَيْلٍ، لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ» وَقَالَ: «لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا - وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا - حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا» - وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ -
Ibn Mas'ud (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying The Adhan of Bilal should not restrain anyone among you from eating Sahur (last meal before daybreak during the month of Ramadan) for he announces Adhan (or he calls) at (the fag end of) the night to make him turn who stands for prayer among you, and to awaken those who are sleeping among you. And he said: The dawn is not like it, as one says (and he lifted his hand) till he (dispersed his fingers) and said: It is like this. اسماعیل بن ابراہیم ، سلیمان تیمی ، ابی عثمان ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ ر وکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لئے لوٹ جائے ۔ اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھاکیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایاس کہ صبح اس طرح ہوتی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2542

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا - وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الْأَرْضِ - وَلَكِنِ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا - وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ -»
This hadith has been narrated by Sulaiman al-Taimi with the same chain of transmitters (but with a slight variation of words) that he (the Holy Prophet) said: The dawn is not like it as it is said; he then gathered his fingers and lowered them. But he said, it is like this (and he placed the index finger upon the other one and spread his hand). خالداحمر نے ، سلیمان تیمی ، سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2543

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ: «يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ» وقَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ «وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا» - يَعْنِي الْفَجْرَ - هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters and, at the end, it was said that the first Adhan was meant to awaken those who were in slumber amongst them and in order to make them turn who stand in (prayer) among them (towards food at the commencement of the fast). Jarir (one of the narrators) said that the Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not say like this but he said like it (true dawn) that the streaks of (true dawn ) are horizontal and not vertical. ابو بکر ابن ابی شیبہ ، معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، معتمر بن سلیمان ، اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے ۔ اس میں ہے کہ حضرت بلال کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سورہا ہو وہ بیدار ہوجائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے ۔ اسحاق نے کہا : جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2544

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، حَدَّثَنِي وَالِدِي، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَغُرَّنَّ أَحَدَكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ»
Samura b. Jandub reported Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying. The call of Bilal may not mislead any one of you (and he may, under the wrong impression gathered from it, refrain) from taking meal before the commencement of the fast (for the streaks) of this whiteness (which are vertical indicate the false dawn and the true dawn with which the fast commences is that when the streaks of light are) spread. عبدالوارث ، عبداللہ بن سوادۃ قشیری ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں ۔ کہ تم میں سے کوئی سحری کےوقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2545

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ - لِعَمُودِ الصُّبْحِ - حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا»
Samura b. Jundub reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The Adhan of Bilal should not mislead you nor the whiteness (of the pillar) of dawn, for it is not the whiteness of the true dawn, but that of the false dawn which is vertical like a pillar and you can eat food till the streaks of whiteness spread like it. ۔ اسماعیل بن علیۃ ، عبداللہ بن سوادۃ ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی سفیدی سے جو کہ صبح کے وقت ستونوں کی طرح ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوجائے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2546

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا بَيَاضُ الْأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَكَذَا، حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا» وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ، قَالَ: يَعْنِي مُعْتَرِضًا
Samura b. Jundub (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The Adhan of Bilal may not mislead you with regard to your food at the commencement of the fast, nor the vertical (streaks) of whiteness in the horizon (for it is an indication of false dawn). You should stop eating (food) till (the whiteness) spreads like it. Hammad narrated it and with the gesture of his band he explained, the horizontal position (of the streaks of light). حماد ، ابن زید ، عبداللہ بن سوادۃ قشیری ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے اپنی سحری سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی افق کی لمبی سفیدی سے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔ حماد نے اپنے دونوں ہاتھوں ( کے اشارے ) سے بیان کیا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد چوڑائی میں پھیلنے والی ( سفیدی ) سے تھی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2547

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَوَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ - أَوْ قَالَ - حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ»
Samura b. Jundub addressed and narrated from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said (these words): Neither the call of Bilal should mislead you nor this whiteness (of false dawn) till (the true) dawn appears (or he said) till the dawn breaks. عبیداللہ بن معاذ ، شعبہ ، سوادہ ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ اس سفیدی سے یہاں تک کہ فجر ظاہر ہوجائے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2548

وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ هَذَا
A hadith like this has been narrated on the authority of Samura b. Jundub. ابو داود ( طیالسی ) نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ اس کے بعد یہی ( حدیث ) بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2549

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً»
Anas (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Take meal a little before dawn, for there is a blessing in taking meal at that time. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2550

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ، أَكْلَةُ السَّحَرِ»
Amr b. al-'As reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The difference between our fasting and that of the people of the Book is eating shortly before dawn. لیث ، موسیٰ بن علی ، ابی قیس ، مولی عمرو بن عاص ، حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارےروزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کافرق ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2551

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
Musa b. 'Ali has narrated this hadith through the same chain of transmitters. وکیع اور وہب دونون نے موسیٰ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح ر وایت نقل کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2552

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ» قُلْتُ: كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: خَمْسِينَ آيَةً
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) said: We took meal shortly before dawn along with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). We then stood up for prayer. I said: How much span of time was there between the two (acts, i. e. taking of Sahri and observing of prayer)? He said (a span of reciting) fifty verses. ہشام ، قتادہ ، انس ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر نماز کےلئے کھڑے ہوئے میں نے عرض کیا کہ سحری کھانے اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا آپ نے فرمایا پچاس آیات کے برابر ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2553

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been transmitted on the authority of Qatada too. عمرو ناقد ، یزیدبن ہارون ، ہمام ، ابن مثنی ، سالم بن نوح ، عمربن عامر ، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت نقل کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2554

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ»
Sahl b. Sa'd (Allah be pleased with him) repotted Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The people will continue to prosper as long as they hasten the breaking of the fast. عبدالعزیز بن ابی حازم ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2555

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
A hadith like this has been transmitted by Sahl b. Sa'd. قتیبہ ، یعقوب ، زہیر بن حرب ، عبدالرحمٰن ابن مہدی ، سفیان ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2556

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا «يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ»، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قُلْنَا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَتْ: «كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى
Abu 'Atiyya reported: I and Masruq went to 'A'isha and said to her: Mother of the Believers, there are two persons among the Companions of Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one among whom hastens in breaking the fast and in observing prayer, and the other delays breaking the fast and delays observing prayer. She said: Who among the two hastens in breaking fast and observing prayers? We said, It is 'Abdullah. i. e. son of Mas'ud. whereupon she said: This is how the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did. Abu Kuraib added: The second one was Abu Musa. یحییٰ بن یحییٰ ، ابو کریب ، محمد بن علاء ، ابو معاویہ ، اعمش ، عمارہ بن عمیر ، حضرت ابو عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا اے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتاہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتاہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتاہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا!کہ ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں ۔ حضرت ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ یعنی ابن مسعود ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے اب کریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2557

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ: رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ، أَحَدُهُمَا «يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ»، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ، فَقَالَتْ: مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللهِ، فَقَالَتْ: «هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ»
Abu 'Atiyya reported: I and Misruq went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and Masruq said to her: There are two persons among the Companions of Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) none of whom abandons the good, but one of them hastens to observe sunset prayer and break the fast, and the other delays in observing the sunset prayer and in breaking the fast, whereupon she said: Who hastens to observe sunset prayer and break the fast? He said: It is 'Abdullah. Upon this she said: This is how the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to do. ابن ابی زوائد ، اعمش ، عمارہ ، حضرت ابو عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے دو ایسے ہیں جو بھلائی کے بارے میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب کی نماز اورافطاری میں جلدی کرتا ہے ۔ دوسرا مغرب کی نماز اور افطاری میں تاخیر کرتاہے ۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مغرب کی نماز اور افطاری میں کون جلدی کرتا ہے؟مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2558

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَاتَّفَقُوا فِي اللَّفْظِ قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ» لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ: «فَقَدْ»
Umar (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When the night approaches and the day retreates and the sun sinks down, then the observer of the fast should break it. Ibn Numair made no mention of the word then . یحییٰ بن یحییٰ ، ابو کریب ، ابن نمیر ، یحییٰ ، ابو معاویہ ، ابن نمیر ، ابو کریب ، اسامہ ، ہشام ، عروہ ، عاصم ، ابن عمر ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلیناچاہیے ۔ ابن نمیر نے فقد ( حقیقتاً ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2559

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ: «يَا فُلَانُ، انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» قَالَ: فَنَزَلَ فَجَدَحَ، فَأَتَاهُ بِهِ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِيَدِهِ «إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»
Abdullah b. Abi Aufa reported: We were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on a journey during the month of Ramadan. When the sun had sunk he said: So and so, get down (from your ride) and prepare the meal of parched barley for us. He said: Messenger of Allah, still (there is light of) day. He (the Holy Prophet) said: Get down and prepare meal of parched barley for us. So he got down and prepared the meal of parched barley and offered him, and the apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) drank that (liquid meal). He then told with the gesture of his hand that when the sun sank from that side and the night appeared from that side, then the observer of the fast should break it. ہشیم ، ابی اسحاق شیبانی ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں!اتر اور ہمارے لئے ستو ملااس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابھی تو دن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستو پیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا جب سورج اس طرف سے غروب ہوجائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو افطار کرلیناچاہیے ۔ ( اس کا روزہ ختم ہوچکا )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2560

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ، قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» قَالَ: إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ - فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»
Ibn Abi Aufa (Allah be pleased with him) reported: We were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on a journey. When the sun sank he said to a person: Get down and prepare barley meal for us. Upon this he said: Messenger of Allah, let there be dusk. (He the Holy Prophet) said: Get down and prepare barley meal for us. He (the person) said: There is still (the light of) day upon us. (But) he got down (in obedience to the command of the Holy Prophet) and prepared a barley meal for him and he (the Holy Prophet) drank that (liquid meal) and then said: When you see the night approaching from that side (west) (and he pointed towards the east with his hand), then the observer of the fast should break it. علی بن مسہر ، عباد بن عوام ، شیبانی ، حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے ایک آدمی سے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ شام ہونے دیں؟تو آپ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا ابھی تو دن ہے وہ اترا اور اس نے ستو ملایا آپ نے ستو پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات اس طرف آگئی ہے اور آپ نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہیے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2561

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ: «يَا فُلَانُ، انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ.
Abdullah b. Abi Aufa (Allah be pleased with him) reported: We travelled with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as he had been observing fast. When the sun sank he said: So and so, get down and prepare barley meal for us. The rest of the hadith is the same. ابوکامل ، عبدالواحد ، سلیمان شیبانی ، حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور آپ روزہ کی حالت میں تھے تو جب سورج غروب ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں! اتر اور ہمارے لئے ستو لا آگے حدیث اسی طرح ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2562

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَعَبَّادٍ، وَعَبْدِ الْوَاحِدِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَلَا قَوْلُهُ «وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا» إِلَّا فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abi Aufa (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters (but with a sight alteration of words): In this hadith transmitted by one of the narrators (neither these words are found): During the month of Ramadan. nor his statement: And the night prevails from that side (the eastern side). (These words are found in the narration of) Hushaim only. ابن ابی عمر ، سفیان ، اسحاق ، جریر ، شیبانی ، ابن ابی اوفیٰ ، عبیداللہ بن معاذ ، ابن مثنی ، محمد بن جعفر ، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2563

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى»
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) said that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade uninterrupted fasting. They (some of the Companions) said: You yourself fast uninterruptedly, whereupon he said: I am not like you. I am fed and supplied drink (by Allah). یحییٰ بن یحییٰ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2564

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ النَّاسُ، فَنَهَاهُمْ قِيلَ لَهُ: أَنْتَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى»
Ibn 'Umar reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed fasts uninterruptedly in Ramadan and the people (in his wake) did this. But he forbade them to do so. It was said to him (to the Holy Prophet): You yourself observe the fasts uninterruptedly (but you forbid us to do so) Upon this he said: I am not like you; I am fed and supplied drink (by Allah). ابو بکر بن ابی شیبہ ، عبداللہ بن نمیر ، عبیداللہ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں وصال فرمایا ( یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے ) لہذا صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بھی وصال شروع کردیا تو آپ نے ان کو منع فرمایا ۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وہ وصال کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایاجاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2565

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: فِي رَمَضَانَ
A hadith like this has been transmitted by Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them), but he did not make mention of (the words): During the month of Ramadan. عبدالوارث بن عبدالصمد ، ایوب ، نافع ، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کالفظ نہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2566

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ تُوَاصِلُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي» فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلَالَ، فَقَالَ: «لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ» كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade (his Companions) from observing fast uninterruptedly. One of the Muslims said: Messenger of Allah, you yourself observe Saum Wisal, whereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Who among you is like me? I spend night (in a state) that my Allah feeds me and provides me drink. When they (the Companions of the Holy Prophet) did not agree in abandoning the uninterrupted fast, then the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) also observed this fast with them for a day, and then for a day. They then saw the new moon and he (the Holy Prophet) said: If the appearance of the new moon were delayed. I would have observed more (fasts) with you (and he did it) by way of warning to them as they had not agreed to refrain (from observing Saum Wisal) حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے میری طرح کون ہے؟میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھ کھلاتا اورپلاتاہے ۔ جب اس کے باوجود صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین صوم وصال سے نہ رکے تو آپ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا اور پھر افطارکے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ نے فرمایا کہ اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا گویا کہ آپ نے ان کے نہ رکنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2567

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ» قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ»
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Abstain from Saum-Wisal. They (his Companions) said: Messenger of Allah, but you observe Saum Wisal. Upon this he said: You are not like me in this matter, for I spend my night (in a state) that my Lord feeds me and provides me drink Devote yourselves to the deeds (the burden of which) you can bear. زہیر بن حرب ، اسحاق ، زہیر ، جریر ، عمارہ ، ابی زرعہ ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے فرمایاکہ تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہوکیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2568

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ»
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying (the words as said in the previous hadith) but with this alteration (of words): Take upon yourselves (the burden of the deeds) for which you have the strength to bear. قتیبہ ، مغیرہ ، ابی زناد ، اعرج ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیاہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کام کی تم طاقت رکھو وہ کام کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2569

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade (his Companions) to observe Saum Wisal. ابن نمیر ، اعمش ، ابی صالح ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی سے اسی طرح روایت کیا ہے جس میں ہے کہ آپ نے وصال سے منع فرمایا ۔ ( آگے ) ابو زرعہ سے عمارہ کی حدیث کے مانندہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2570

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَامَ أَيْضًا حَتَّى كُنَّا رَهْطًا فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ، فَصَلَّى صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: حِينَ أَصْبَحْنَا أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ قَالَ: فَقَالَ: «نَعَمْ، ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ» قَالَ: فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللهِ، لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ»
Anas (Allah be pleased with him) reported The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was observing prayer during Ramadan. I came and stood by his side. Then another man came and he stood likewise till we became a group. When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) perceived that we were behind him, he lightened the prayer. He then went to his abode and observed such (a long) prayer (the like of which) he never observed with us. When it was morning we said to him: Did you perceive us during the night? Upon this he said: Yes, it was this (realisation) that induced me to do that which I did. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) began to observe Saum Wisal at the end of the month (of Ramadan), and some persons among his Companions began to observe this uninter- rupted fast, whereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What about such persons who observe uninterrupted fasts? You are not like me. By Allah. if the month were lengthened for me, I would have observed Saum Wisal, so that those who act with an exaggeration would (have been obliged) to abandon their exaggeration. زہیر بن حرب ابو نضر ہاشم بن قاسم سلیمان ثابت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کی جانب کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایاکہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تخفیف شروع فرمادی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئے ۔ آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہوگیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرمادیئے وہ مہینہ کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کردیئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں؟تم لوگ میر ی طرح نہیں ہو اللہ کی قسم! اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2571

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَاصَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْنَا وِصَالًا، يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، - أَوْ قَالَ - إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي»
Anas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed Saum Wisal during the early part of the month of Ramadan. The people among Muslims also observed uninterrupted fast. This (news) reached him (the Holy Prophet) and he said: Had the month been lengthened for me I would have continued observing Saum Wisal, so that those who act with forced hardness would (have been obliged) to abandon it. You are not like me (or he said): I am not like you. I continue to do so (in a state) that my Lord feeds me and provides me drink. ۔ عاصم بن نضر تیمی ، خالد ، ابن حارث ، حمید ، ثابت ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینہ کے آخر میں وصال کے روزے رکھے تو مسلمانوں میں سےکچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کردیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمارے لئے یہ مہینہ لمبا ہوجائے تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضدچھوڑ دیتے کیونکہ تم میری طرح نہیں ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں ۔ کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتاہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2572

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي»
A'isha (Allah be pleased with her) said: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade them (his Companions) to observe Saum Wisal out of mercy for them. They said: You (Holy Prophet) yourself observe it. Upon this he said: I am not like you. My Lord feeds me and provides me drink. اسحاق بن ابراہیم ، عثمان بن ابی شیبہ ، عبدہ بن سلیمان ، ہشام بن عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شفقت کے طور پر وصال کے روزوں سے منع فرمایا صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2573

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ إِحْدَى نِسَائِهِ، وَهُوَ صَائِمٌ» ثُمَّ تَضْحَكُ
A'isha (Allah be pleased with her) said that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kissed one of his wives while he was fasting, and then she ('A'isha) smiled (as she narrated). علی بن حجر ، سفیان ، ہشام بن عروہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مسکرپڑیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2574

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ» فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ
Sufyan reported: I said to 'Abd al-Rahman b. Qasim: Have you heard from your father narrating from 'A'isha (Allah be pleased with her) that he kissed her while observing fast? He ('Abd al-Rahman b. Qasim) kept silence for a short while and then said: Yes. علی بن حجر ، ابن ابی عمر ، حضرت سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے باپ کو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے؟حضرت عبدالرحمٰن تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2575

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ؟»
A'isha reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to kiss me while observing fast; and who among you can control his desire as the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) could control his desire. ۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ، علی بن مسہر ، عبیداللہ بن عمر ، قاسم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔ اور تم میں سے کون ہے جو اپنے جذبات کو قابو میں کرسکے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے جذبات پر کنٹرول تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2576

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ح وحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ»
A'isha (Allah be pleased with her) reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to kiss (his wives) while fasting and embraced (them) while fasting; but he had the greatest mastery over his desire among you. یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، یحییٰ ، ابو معاویہ ، اعمش ، ابراہیم ، اسود ، علقمہ ، سید عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی ازواج مطہرات کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزہ کی حالت میں ان سے بغلگیر ہوجایا کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنے والے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2577

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ»
A'isha (Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to kiss (his wives) while fasting; and he had the greatest control over his desire (as compared with you). علی بن حجر ، زہیر بن حرب ، سفیان ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، سید ہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور آپ کو تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2578

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ»
A'isha (Allah be pleased with her) said that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to embrace (his wives) while fasting. محمد بن مثنی ، ابن بشار ، محمد بن جعفر ، شعبہ ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی ذوجہ مطہرہ سے روزہ کی حالت میں بغلگیر ہوجایا کرتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2579

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْنَا لَهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ أَوْ مِنْ أَمْلَكِكُمْ لِإِرْبِهِ شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ.
Aswad reported: I and Masruq went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and asked. her if the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) embraced (his wives) while fasting. She said: Yes; but he had the greatest control over his desire among you: or he was one of those who had control over his desire. محمد بن مثنی ، ابو عاصم ، ابن عون ، ابراہیم ، اسود ، فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں آئے تو ہم نے آپ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ سے بغل گیر ہوجایا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہاں لیکن آپ تو تم میں سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والے تھے یا فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو آپ کی طرح اپنے جذبات قابو میں رکھ سکے ابو عاصم راوی کو شک ہے ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2580

وحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ لِيَسْأَلَانِهَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ
It is further narrated on the authority of Aswad and Masruq that they went to the Mother of the Believers and they asked her (and the rest of the hadith is the same) یعقوب اسماعیل ، ابن عون ، ابراہیم ، اسود ، مسروق اس سند کے ساتھ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت اسود اور حضرت مسروق کہ بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں ام المومنین کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا پھر آکر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2581

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ»
Urwa b. Zubair narrated that 'A'isha the Mother of the Believers (Allah be pleased with her) informed him that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kissed her while fasting. ابو بکر ابن ابی شیبہ ، ، حسن بن موسیٰ ، شیبان ، یحییٰ ابن ابی کثیر ، ابی سلمہ ، عمر بن عبدالعزیز ، عروہ بن زبیر ، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2582

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
A hadith like this has been narrated by Yahya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters. یحییٰ ابن بشر حریری ، معاویہ ، حضرت یحییٰ بن کثیر سے اس سندکے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2583

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ»
A'isha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to kiss her during the month of fasting. یحییٰ ابن یحییٰ ، قتیبہ بن سعید ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابوااحوص ، زیادہ بن علاقہ ، عمرو بن میمون ، سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2584

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ، فِي رَمَضَانَ، وَهُوَ صَائِمٌ»
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kissed (his wives) during Ramadan while observing fast. محمد بن حاتم ، بھز بن اسد ، ابو بکر نہشلی ، زیاد بن علاقہ ، عمرو بن میمون ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بوسہ لے لیا کر تے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2585

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ»
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Apostle (peace be upon him) kissed (his wives) while fasting. ۔ محمد بن بشار ، عبدالرحمٰن ، سفیان ، ابی زناد ، علی بن حسین ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ کا روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2586

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ»
Hafsa (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kissed (his wives) while fasting. یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، یحییٰ ، ابومعاویہ ، اعمش ، مسلم ، شتیر بن شکل ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ کا بوسہ لے لیا کر تے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2587

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
A hadith like this has been narrated by Hafsa (Allah be pleased with her) through another chain of transmitters. ۔ ابو ربیع زہرانی ، ابو عوانہ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، منصور ، مسلم شتیر بن شکل ، حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس سند کے ساتھ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث نقل کی فرمائی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2588

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ هَذِهِ» لِأُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَاللهِ، إِنِّي لَأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَخْشَاكُمْ لَهُ»
Umar b Abu Salama reported that he asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Should one observing fast kiss (his wife)? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Ask her (Umm Salama). She informed him that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did that, where upon he said: Messenger of Allah, Allah pardoned thee all thy sins, the previous and the later ones. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ) said: By Allah, I am the most God conscious among you and I fear Him most among you. ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابن حارث ، عبدربہ بن سعید ، عبداللہ بن کعب حمیری ، حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا کہ یہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھو تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے ہیں ۔ حضرت عمر بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ سارے معاف فرمادیئے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا سنو!اللہ کی قسم!میں تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2589

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُصُّ، يَقُولُ فِي قَصَصِهِ: «مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ»، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ - لِأَبِيهِ - فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ، ثُمَّ يَصُومُ» قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ: قَالَ: فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ حَاضِرُ ذَلِكَ كُلِّهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَهُمَا قَالَتَاهُ لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هُمَا أَعْلَمُ، ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ إِلَى الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ الْفَضْلِ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ، قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: أَقَالَتَا: فِي رَمَضَانَ؟ قَالَ: كَذَلِكَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ
Abu Bakr (he is Abu Bakr b. Abd al-Rahman b. Harith) reported: I heard Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrating that he who is overtaken by dawn in a state of seminal emission should not observe fast. I made a mention of it to 'Abd al-Rahman b. Harith (i. e. to his father) but he denied it. 'Abd al-Rahman went and I also went along with him till we came to'A'isha and Umm Salama (Allah be pleased with both of them) and Abd al-Rahman asked them about it. Both of them said: (At times it so happened) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) woke up in the morning in a state of junub (but without seminal emission in a dream) and observed fast He (the narrator) said: We then proceeded till we went to Marwan and Abd al-Rahman made a mention of it to him. Upon this Marwan said: I stress upon you (with an oath) that you better go to Abu Huraira and refer to him what is said about it. So we came to Abu Huraira and Abu Bakr had been with us throughout and 'Abd al-Rahman made a mention of it to him, whereupon Abu Huraira said: Did they (the two wives of the Holy Prophet) tell you this? He replied: Yes Upon this (Abu Huraira) said: They have better knowledge. Abu Huraira then attributed that what was said about it to Fadl b. 'Abbas and said: I heard it from Fadl and not from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Abu Huraira then retracted from what he used to say about it. Ibn Juraij (one of the narrators) reported: I asked 'Abd al-Malik, if they (the two wives) said (made the statement) in regard to Ramadan, whereupon he said: It was so, and he (the Holy Prophet) (woke up in the) morning in a state of junub which was not due to the wet dream and then observed fast. محمد بن حاتم ، یحییٰ بن سعید ، ابن جریج ، محمد بن رافع ، عبدالرزاق بن ہمام ، ابن جریج ، عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن ، حضرت ابو بکر سے ر وایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ وہ اپنی روایات بیان کرتے ہیں جس آدمی نے جنبی حالت میں صبح کی تو وہ روزہ نہ رکھے ، راوی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےاس کا ذکر اپنے باپ عبدالرحمٰن سےبن حارث سے کیاتو انہوں نے اس کا انکار کردیا ، توحضرت عبدالرحمٰن چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبدالرحمٰن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ مروا ن کے پاس آگئے حضرت عبدالرحمٰن نے مروان سے اس بارے میں ذکر کیا تو مروان نے کہا کہ میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ تم ضرور حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف جاؤ اور اس کی تردید کرو جو وہ کہتے ہیں تو ہم حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ۔ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہاں موجود تھے حضرت عبداالرحمٰن نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سارا کچھ ذکر کیا حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا ان دونوں نے تجھ سے یہی فرمایا ہے؟حضرت عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہاں!حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا کہ وہ دونوں اس مسئلہ کو زیادہ جانتی ہیں ۔ پھر حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس قول کی جو کہ آپ نے فضل بن عباس سے سنا تھا اس کی تردید کردی ۔ اور حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سناتھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قول سے ر جوع کرلیا جو وہ کہاکرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں نے یہ حدیث رمضان کے بارے میں بیان کی تھی؟انہوں نے کہا کہ آپ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح اٹھتے پھر آپ روزہ رکھتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2590

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ، مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ»
A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: The dawn broke upon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) during the Ramadan in a state of junub not because of sexual dream (but on account of intercourse) and he washed himself and observed fast. حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، عروہ بن زبیر ، ابی بکر بن عبدالرحمٰن ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے اور روزہ رکھتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2591

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَسْأَلُ عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا، أَيَصُومُ؟ فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، لَا مِنْ حُلُمٍ، ثُمَّ لَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْضِي»
Abu Bakr reported that Marwan sent him to Umm Salama to ask whether a person should observe fast who is in a state of junub and the dawn breaks upon him, whereupon she said that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (was at times) junbi on account of intercourse and not due to sexual dream, and the dawn broke upon him, but he neither broke the fast nor recompensed. ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابن حارث ، عبدربہ ، حضرت عبداللہ بن کعب حمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2592

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَتَا: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، غَيْرِ احْتِلَامٍ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ يَصُومُ»
Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman b. al-Harith b. Hisham reported on the authority of 'A'isha and Umm Salama, the wives of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) at times got up in the morning in a state of junub on account of having a sexual intercourse (with his wives during night) but not due to sexual dreams in the month of Ramadan, and would observe fast. یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ، عبدربہ ، بن سعید ، ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اورحضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات فرماتی ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جماع کی وجہ سے نہ کہ احتلام کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے ۔