AL MUSLIM

Search Result (223)

46) The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinshio

46) کتاب: حسن سلوک‘صلہ رحمی اور ادب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6500

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوكَ وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي وَلَمْ يَذْكُرْ النَّاسَ
Abu Huraira reported that a person came to Allah, 's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Who among the people is most deserving of a fine treatment from my hand? He said: Your mother. He again said: Then who (is the next one)? He said: Again it is your mother (who deserves the best treatment from you). He said: Then who (is the next one)? He (the Holy Prophet) said: Again, it is your mother. He (again) said: Then who? Thereupon he said: Then it is your father. In the hadith transmitted on the authority of Qutalba, there is no mention of the word the people . قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف ثقفی اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : لوگوں میں سے حسنِ معاشرت ( خدمت اور حسن سلوک ) کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا : تمہاری ماں ۔ "" اس نے کہا : پھر کون؟ فرمایا : "" پھر تمہاری ماں ۔ "" اس نے پوچھا : اس کے بعد کون؟ فرمایا : "" پھر تمہاری ماں ۔ "" اس نے پوچھا : پھر کون؟ فرمایا : "" پھر تمہارا والد ۔ "" اور قتیبہ کی حدیث میں ہے : میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اور انہوں نے "" لوگوں میں سے "" کا ذکر نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6501

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أَبُوكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكٍَ
Abu Huraira reported that a person said: Allah's Messenger, who amongst the people is most deserving of my good treatment? He said: Your mother, again your mother, again your mother, then your father, then your nearest relatives according to the order (of nearness). فضیل نے عمارہ بن قعقاع سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! لوگوں میں سے ( میری طرف سے ) حسن معاشرت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہارا باپ ، پھر جو تمہارا زیادہ قریبی ( رشتہ دار ) ہو ، ( پھر جو اس کے بعد ) تمہارا قریبی ہو ۔ " ( اسی ترتیب سے آگے حق دار بنیں گے ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6502

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُمَارَةَ وَابْنِ شُبْرُمَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فَقَالَ نَعَمْ وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ
Abu Huraira reported: A person came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The rest of the hadith is the same as transmitted by jarir but with this addition: By your father, you would get the information. شریک نے عمارہ اور ابن شبرمہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، اس کے بعد ( شریک نے ) جریر کی روایت کے مانند بیان کیا اور مزید کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، تمہارے باپ کی قسم! تمہیں ضرور بتایا جائے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6503

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ مَنْ أَبَرُّ وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِير
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shubruma with the same chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of Wuhaib there is a slight variation of wording. Same is the case with the hadith transmitted on the authority of Muhammad b. Talha (and the words are): Who amongst the people deserves the best treatment from me محمد بن طلحہ اور وہیب دونوں نے ابن شبرمہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ وہیب کی حدیث میں ہے : میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ اور محمد بن طلحہ کی حدیث میں ہے : لوگوں میں سے میری طرف سے حسن معاشرت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ پھر جریر کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6504

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: «أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»
Abdullah b. 'Amr reported that a person came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and sought permission (to participate) in Jihad, whereupon he (the Holy Prophet) said: Are your parents living? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should put in your best efforts (in their) service. وکیع نے سفیان سے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان اور شعبہ دونوں سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حبیب نے ابوعباس سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ نے فرمایا : " کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر ان ( کی خدمت بجا لانے ) میں جہاد کرو ۔ ( اپنی جان اور مال کو ان کی خدمت میں صرف کرو ۔ ) "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6505

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ. قَالَ مُسْلِمٌ: «أَبُو الْعَبَّاسِ اسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الْمَكِّيُّ»
This hadith has been narrated on the authority of Habib with the several chains of transmitters. معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے حبیب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوعباس سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔ امام مسلم نے کہا : ابوعباس کا نام سائب بن فروخ مکی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6506

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، جَمِيعًا عَنْ حَبِيبٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
Same as Hadees 6505 ابن بشر نے مسعر سے ، ابواسحاق اور زائدہ دونوں نے اعمش سے ، سب نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6507

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ، أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ، قَالَ: «فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟» قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا، قَالَ: «فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا»
Yazid b. Abu Habib reported that Na'im, the freed slave of Umm Salama, reported to him that 'Abdullah b. 'Amr b. 'As said: There came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a person and said: I owe allegiance to you for migration and Jihad seeking reward only from Allah. He (the Holy Prophet) said: Is one from amongst your parents living? He said: Yes, of course, both are living. He further asked: Do you want to seek reward from Allah? He said: Yes. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Go back to your parents and accord them benevolent treatment. حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، بلکہ دونوں زندہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم اللہ سے اجر کے طالب ہو؟ " اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : " اپنے والدین کے پاس جاؤ اور اچھے برتاؤ سے ان کے ساتھ رہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6508

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ. قَالَ حُمَيْدٌ: فَوَصَفَ لَنَا أَبُو رَافِعٍ صِفَةَ أَبِي هُرَيْرَةَ لِصِفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّهُ حِينَ دَعَتْهُ، كَيْفَ جَعَلَتْ كَفَّهَا فَوْقَ حَاجِبِهَا، ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَيْهِ تَدْعُوهُ، فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّكَ كَلِّمْنِي فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي، فَقَالَ: اللهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، فَرَجَعَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فِي الثَّانِيَةِ، فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي، قَالَ: اللهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، فَقَالَتْ: اللهُمَّ إِنَّ هَذَا جُرَيْجٌ وَهُوَ ابْنِي وَإِنِّي كَلَّمْتُهُ، فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي، اللهُمَّ فَلَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ. قَالَ: وَلَوْ دَعَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَنَ لَفُتِنَ. قَالَ: وَكَانَ رَاعِي ضَأْنٍ يَأْوِي إِلَى دَيْرِهِ، قَالَ: فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا الرَّاعِي، فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقِيلَ لَهَا: مَا هَذَا؟ قَالَتْ: مِنْ صَاحِبِ هَذَا الدَّيْرِ، قَالَ فَجَاءُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ، فَنَادَوْهُ فَصَادَفُوهُ يُصَلِّي، فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا لَهُ: سَلْ هَذِهِ، قَالَ فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ فَقَالَ: مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي رَاعِي الضَّأْنِ، فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْهُ قَالُوا: نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِكَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَعِيدُوهُ تُرَابًا كَمَا كَانَ، ثُمَّ عَلَاهُ
Abu Huraira reported that Juraij was one who was devoted to (prayer) in the temple. His mother came to him. Humaid said that Abu Rafi' demonstrated before us like the demonstration made by abu Huraira to whom Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had demonstrated as his mother called him placing her palms upon the eyebrows and lifting her head for calling him and said: Juraij, it is your mother, so talk to her. She found him at that time absorbed in prayer, so he said (to himself): O Lord, my mother (is calling me) (whereas I am absorbed) in my prayer. He opted for prayer. She (his mother) went back, then came again for the second time and said: O Juraij, it is your mother (calling you), so talk to me. He said: O Allah. there is my mother also and my prayer, and he opted for prayer. She said: O Allah, this Juraij is my son. I pray to talk to him but he refuses to talk to me. O Allah, don't bring death to him unless he has seen the prostitutes, and had she invoked the curse upon him (from the heart of her heart) he would have been involved in some turmoil. There was a shepherd living near by his temple (the temple where Juraij was engaged in prayer). It so happened that a woman of that village came there and that shepherd committed fornication with her and she became pregnant and gave birth to a child. It was said to her: Whose child is this? She said: He is the child of one who is living in this temple. So there came persons with hatchets and spades. They called Juraij. He was absorbed in prayer and he did not talk to them and they were about to demolish that temple that he saw them and then came to them and they said: Ask her (this woman) what she says. He smiled and then touched the head of the child and said: Who is your father? He (the child) said: My father is the shepherd of the sheep, and when they heard this, they said: We are prepared to rebuild with gold and silver what we have demolished from your temple. He said: No, rebuild it with clay as it had been before. He then went up (to his room and absorbed himself in prayer). سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے ابورافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جریج نوکیلی چھت والی چھوٹی سی عبادت گاہ میں عبادت کر رہا تھا کہ اس کی ماں آئی ۔ حمید نے کہا : ابو رافع نے ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح واضح کر کے دکھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے واضح کیا تھا کہ جب اس کی ماں نے اسے بلایا تو اس نے کس طرح اپنا ہاتھ اپنے ابروؤں پر رکھا تھا اور پھر اسے بلانے کے لیے اپنا سر اوپر کی طرف کیا تھا تو آواز دی : جریج! میں تیری ماں ہوں ، میرے ساتھ بات کر ۔ ماں نے عین اسی وقت ان ( جریج ) کو بلایا تھا جب وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ تو اس نے کہا : میرے اللہ! ( ایک طرف ) میری ماں ہے اور ( دوسری طرف ) میری نماز ہے؟ تو اس نے اپنی نماز کو ترجیح دی ۔ وہ واپس چلی گئیں ، پھر دوسری بار آئیں اور بلایا : جریج! میں تیری ماں ہوں ، میرے ساتھ بات کرو ۔ اس نے کہا : اے اللہ! میری ماں اور میری نماز ہے ، انہوں نے نماز کو ترجیح دی ، تو ماں نے دعا کی : اے اللہ! یہ جریج ہے ، یہ میرا بیٹا ہے ، میں نے اس سے بات کی ہے ، اس نے میرے ساتھ بات کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ یا اللہ! تو اسے بدکار عورتوں کا منہ دکھانے سے پہلے موت نہ دینا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر وہ اس کو یہ بددعا دیتیں کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے تو وہ ہو جاتا ۔ فرمایا : بھیڑوں کا ایک چرواہا ( بھی ) اس کی عبادت گاہ کی پناہ لیا کرتا تھا ( اس کے سائے میں آ بیٹھتا تھا ۔ ) فرمایا : بستی سے ایک عورت نکلی ، چرواہے نے اس کے ساتھ بدکاری کی ، وہ حاملہ ہو گئی اور ایک بیٹے کو جنم دیا ۔ اس عورت سے پوچھا گیا : یہ کیا ہے؟ اس نے کہا : یہ اس عبادت گاہ والے شخص سے ( ہوا ) ہے ۔ کہا : تو وہ ( بستی والے ) لوگ اپنے پھاؤڑے اور کدال لے کر آ گئے ، انہوں نے جریج کو بلایا ، انہوں نے اسی وقت ان کو بلایا تھا جب وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اس لیے انہوں نے ان لوگوں سے یہ بات نہ کی ۔ لوگوں نے ان کی عبادت گاہ گرانی شروع کر دی ، جب انہوں نے یہ دیکھا تو اتر کر ان کی طرف آئے ۔ لوگوں نے ان سے کہا : اس عورت سے پوچھو ( کیا معاملہ ہے ) ، فرمایا : تو وہ مسکرائے ، بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا ، پھر پوچھا : تمہارا باپ کون ہے؟ اس نے کہا : میرا باپ بھیڑوں کا چرواہا ہے ۔ جب انہوں نے اس ( شیر خوار ) سے یہ سنا تو کہنے لگے : ہم نے آپ کی عبادت گاہ کا جو حصہ گرایا ہے اسے سونے اور چاندی سے ( دوبارہ ) بنا دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا؛ نہیں ، لیکن اسی طرح مٹی سے بنا دو جس طرح پہلے تھی ، پھر وہ اس کے اوپر ( عبادت گاہ میں ) چلے گئے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6509

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ، وَكَانَ جُرَيْجٌ رَجُلًا عَابِدًا، فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً، فَكَانَ فِيهَا، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ فَقَالَ: يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي، فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، فَانْصَرَفَتْ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ فَقَالَ: يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي، فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، فَانْصَرَفَتْ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي، فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، فَقَالَتْ: اللهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ، فَتَذَاكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتُمْ لَأَفْتِنَنَّهُ لَكُمْ، قَالَ: فَتَعَرَّضَتْ لَهُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ، فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ، فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ: هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ، فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ، فَوَلَدَتْ مِنْكَ، فَقَالَ: أَيْنَ الصَّبِيُّ؟ فَجَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ، فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى الصَّبِيَّ فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ، وَقَالَ: يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ الرَّاعِي، قَالَ: فَأَقْبَلُوا عَلَى جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، وَقَالُوا: نَبْنِي لَكَ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: لَا، أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ، فَفَعَلُوا. وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ، فَمَرَّ رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى دَابَّةٍ فَارِهَةٍ، وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: اللهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا، فَتَرَكَ الثَّدْيَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهِ فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ . قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْكِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ، فَجَعَلَ يَمُصُّهَا، قَالَ: وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ: زَنَيْتِ، سَرَقْتِ، وَهِيَ تَقُولُ: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: اللهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا، فَتَرَكَ الرَّضَاعَ وَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا، فَهُنَاكَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ، فَقَالَتْ: حَلْقَى مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ: اللهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهُ، فَقُلْتَ: اللهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، وَمَرُّوا بِهَذِهِ الْأَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ، سَرَقْتِ، فَقُلْتُ: اللهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ: اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا، قَالَ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ كَانَ جَبَّارًا، فَقُلْتُ: اللهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا زَنَيْتِ وَلَمْ تَزْنِ، وَسَرَقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ: اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: None spoke in the cradle but only three (persons), Christ son of Mary, the second one the companion of Juraij. Juraij had got constructed a temple and confined himself in that. His mother came to him as he was busy in prayer and she said: Juraij. He said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged in) my prayer. He continued with the prayer. She returned and she came on the next day and he was busy in prayer, and she said: Juraij. And he said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged) in prayer, and he continued with the prayer and she went back, and then on the next day she again came and he was busy in prayer and she said: Juraij. And he said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged in my prayer, and he continued with the prayer, and she said: My Lord, don't give him death unless he has seen the fate of the prostitutes. The story of Juraij and that of his meditation and prayer gained currency amongst Bani Isra'il. There was a prostitute who had been a beauty incarnate. She said (to the people): If you like I can allure him to evil. She presented herself to him but he paid no heed (to her). She came to a shepherd who lived near the temple and she offered herself to him and he had a sexual intercourse with her and so she became pregnant arid when she gave birth to a child she said: This is from Juraij. So they came and asked him to get down and demolished the temple and began to beat him. He said: What is the matter? They said: You have committed fornication with this prostitute and she has given birth to a child from your loins. He said: Where is the child? They brought him (the child) and he said: just leave me so that I should observe prayer. And he observed prayer and when he finished, he came to the child. He struck his stomach and said: O boy, who is your father? lie said: He is such shepherd. So they turned towards Juraij, kissed him and touched him (for seeking blessing) and said: We are prepared to construct your temple with gold. He said. No, just rebuild it with mud as it had been, and they did that. Then there was a babe who was sucking his mother that a person dressed in fine garment came riding upon a beast. His mother said: O Allah, make my child like this one. He (the babe) left sucking and began to see towards him, and said: O Allah, don't make me like him. He then returned to the chest and began to suck the milk of his mother. He (Abu Huraira) said: I perceived as if I am seeing Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as he is explaining the scene of his sucking milk with his forefinger in his mouth and sucking that. He (Abu Huraira) further reported Allah's Apostle (may be peace upon him) as saying: There happened to pass by him a girl who was being beaten and they were saying: You have committed adultery and you have committed theft and she was saying: Allah is enough for me and He is my good Protector, and his mother said: O Allah, don't make my child like her and he left sucking the milk, and looked towards her and said: O Allah, make me like her, and there was a talk between them. She said: O with shaven head, a good-looking person happened to pass by and I said: O Allah, make my child like him, and you said: O Allah, don't make me like him, and they passed by a girl while they were beating her and saying: You committed fornication and you committed theft, and I said: O Allah, don't make my child like her, and you said: O Allah, make me like her. Thereupon he said: That person was a tyrant, and I said: O Allah, don't make me like him, and they were saying about her: You committed fornication whereas in fact she had not committed that and they were saying: You have committed theft whereas she had not committed theft, so I said: O Allah, make me like her. محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : "" صرف تین بچوں کے سوا پنگھوڑے میں کسی نے بات نہیں کی : حضرت عیسیٰ بن مریم اور جریج ( کی گواہی دینے ) والے نے ۔ جریج ایک عبادت گزار آدمی تھی ۔ انہوں نے نوکیلی چھت والی ایک عبادت گاہ بنا لی ۔ وہ اس کے اندر تھے کہ ان کی والدہ آئی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ تو اس نے پکار کر کہا : جریج! انہوں نے کہا : میرے رب! ( ایک طرف ) میری ماں ہے اور ( دوسری طرف ) میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ ہو گئے اور وہ چلی گئی ۔ جب دوسرا دن ہوا تو وہ آئی ، وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ اس نے بلایا : او جریج! تو جریج نے کہا : میرے پروردگار! میری ماں ہے اور میری نماز ہے ۔ انہوں نے نماز کی طرف توجہ کر لی ۔ وہ چلی گئی ، پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ آئی اور آواز دی : جریج! انہوں نے کہا : میرے پروردگار! میری ماں ہے اور میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز میں لگ گئے ، تو اس نے کہا : اے اللہ! بدکار عورتوں کا منہ دیکھنے سے پہلے اسے موت نہ دینا ۔ بنی اسرائیل آپس میں جریج اور ان کی عبادت گزاری کا چرچا کرنے لگے ۔ وہاں ایک بدکار عورت تھی جس کے حسن کی مثال دی جاتی تھی ، وہ کہنے لگی : اگر تم چاہو تو میں تمہاری خاطر اسے فتنے میں ڈال سکتی ہوں ، کہا : تو اس عورت نے اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کیا ، لیکن وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔ وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو ( دھوپ اور بارش مین ) ان کی عبادت گاہ کی پناہ لیا کرتا تھا ۔ اس عورت نے چرواہے کو اپنا آپ پیش کیا تو اس نے عورت کے ساتھ بدکاری کی اور اسے حمل ہو گیا ۔ جب اس نے بچے کو جنم دیا تو کہا : یہ جریج سے ہے ۔ لوگ ان کے پاس آئے ، انہیں ( عبادت گاہ سے ) نیچے آنے کا کہا ، ان کی عبادت گاہ ڈھا دی اور انہیں مارکا شروع کر دیا ۔ انہوں نے کہا : تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا : تم نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تمہارے بچے کو جنم دیا ہے ۔ انہوں نے کہا : بچہ کہاں ہے؟ وہ اسے لے آئے ۔ انہوں نے کہا : مجھے نماز پڑھ لینے دو ، پھر انہوں نے نماز پڑھی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو بچے کے پاس آئے ، اس کے پیٹ میں انگلی چبھوئی اور کہا : بچے! تمہارا باپ کون ہے ۔ اس نے جواب دیا ۔ فلاں چرواہا ۔ آپ نے فرمایا : پھر وہ لوگ جریج کی طرف لپکے ، انہیں چومتے تھے اور برکت حاصل کرنے کے لیے ان کو ہاتھ لگاتے تھے اور انہوں نے کہا : ہم آپ کی عبادت گاہ سونے ( چاندی ) کی بنا دیتے ہیں ، انہوں نے کہا : نہیں ، اسے مٹی سے دوبارہ اسی طرح بنا دو جیسی وہ تھی تو انہوں نے ( ویسے ہی ) کیا ۔ اور ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا ۔ وہاں سے ایک آدمی عمدہ سواری پر سوار خوبصورت لباس پہنے ہوئے گزرا تو اس بچے کی ماں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو ایسا بنا دے ۔ بچے نے پستان ( دودھ ) چھوڑا ، اس آدمی کی طرف رخ کیا ، اسے دیکھا اور کہا؛ اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا ، پھر اپنے پستان ( دودھ ) کا رخ کیا اور دودھ پینے میں لگ گیا ۔ "" ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر اس کو چوستے ہوئے اس بچے کا دودھ پینا بیان کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "" پھر لوگ ایک لونڈی کو لے کر گزرے ۔ وہ اسے مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ، تو نے چوری کی اور وہ کہہ رہی تھی : مجھے اللہ کافی ہے ، وہی بہترین کارساز ہے ۔ اس بچے کی ماں کہنے لگی : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنانا ۔ بچے نے دودھ چھوڑا ، اس باندی کی طرف دیکھا اور کہا : اے اللہ! مجھے اسی جیسا بنانا ۔ یہاں آ کر ان دونوں ( ماں بیٹے ) نے ایک دوسرے سے سوال جواب کیا ۔ وہ کہنے لگی : میرا سر منڈے! بہت اچھی ہئیت کا ایک آدمی گزرا ، میں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا بنانا تو تم نے کہا : اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا ۔ پھر لوگ اس کنیز کو لے کر گزرے ، اسے مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے ۔ میں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو تم نے یہ کہہ دیا : اے اللہ! مجھے اس جیسا بنانا ۔ اس ( بچے ) نے کہا : وہ شخص دوسروں پر ظلم ڈھانے والا جابر تھا ، اس لیے میں نے کہا : اے اللہ! مجھے اس کی طرح نہ بنانا ۔ اور یہ عورت جسے لوگ کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا اور تو نے چوری کی حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی ، اس لیے میں نے کہا : اے اللہ! مجھے اس کی طرح ( پاکباز ) بنانا ۔ "" فائدہ : حقیقی اور دائمی عزت والا وہی ہے جو اپنے پروردگار کی نافرمانی سے بچا ہوا ہے ، چاہے لوگ اسے حقیر اور گناہ گار سمجھتے ہوں اور حقیقت میں دائمی طور پر رذیل وہی ہے جو اللہ کا نافرمان ہے ، چاہے عارضی زندگی میں لوگ اسے معزز سمجھتے ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6510

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Let him be humbled into dust; let him be humbled into dust. It was said: Allah's Messenger, who is he? He said: He who sees either of his parents during their old age or he sees both of them, but he does not enter Paradise. ابو عوانہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( اس شخص کی ) ناک خاک آلود ہو گئی ، پھر ( اس کی ) ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول! وہ کون شخص ہے؟ فرمایا : " جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا تو ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہوا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6511

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ» قِيلَ: مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Let him be humbled, let him be humbled. It was said: Allah's Messenger, who is he? He said. He who finds his parents in old age, either one or both of them, and does not enter Paradise. جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس شخص کی ناک خاک آلود ہو گئی ، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو گئی ، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول! وہ کون شخص ہے؟ فرمایا : " جس کے ہوتے ہوئے اس کے ماں باپ ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے نے پایا ، پھر وہ ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہوا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6512

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَغِمَ أَنْفُهُ ثَلَاثًا ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Let him be humbled thrice, and the rest of the hadith is the same. سلیمان بن بلال نے کہا : مجھے سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : " اس شخص کی ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پھر ( آگے ) اُسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6513

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ، وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ. وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً، كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ: فَقُلْنَا لَهُ: أَصْلَحَكَ اللهُ إِنَّهُمُ الْأَعْرَابُ وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ»
bn Dinar reported that a desert Arab met Abdullah b. 'Umar on the way to Mecca. 'Abdullah greeted him and mounted him upon the donkey on which he had been riding and gave him the turban that he had on his head. Ibn Dinar (further) reported: We said to him ('Abdullah b. 'Umar): May Allah do good to you, these are desert Arabs and they are satisfied even with meagre (things). Thereupon Abdullah said: His father was loved dearly by 'Umar b. Khattib and I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The finest act of goodness on the part of a son is to treat kindly the loved ones of his father. ولید بن ولید نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کو مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک بدوی شخص ملا ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کیا اور جس گدھے پر خود سوار ہوتے تھے اس پر اسے بھی سوار کر لیا اور اپنے سر پر جو عمامہ تھا وہ اتار کر اس کے حوالے کر دیا ۔ ابن دینار نے کہا : ہم نے ان سے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو ہر نیکی کی توفیق عطا فرمائے! یہ بدو لوگ تھوڑے دیے پر راضی ہو جاتے ہیں ۔ تو حضرت عبداللہ ( بن عمر ) رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص کا والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محبوب دوست تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " والدین کے ساتھ بہترین سلون ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہے جن کے ساتھ اس کے والد کو محبت تھی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6514

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَبَرُّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ أَبِيهِ»
Abdullah b. Umar reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The finest act of goodness is that a person should treat kindly the loved ones of his father. حیوہ بن شریح نے ابن ہاد سے ، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے والد کے ساتھ سب سے بڑا نیک سلوک یہ ہے کہ انسان اس شخص سے بھی بہت اچھا سلوک کرے جس کے ساتھ اس کے والد کا محبت کا رشتہ تھا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6515

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ، كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ، إِذَا مَلَّ رُكُوبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذَلِكَ الْحِمَارِ، إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، قَالَ: بَلَى، فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ، وَقَالَ: ارْكَبْ هَذَا وَالْعِمَامَةَ، قَالَ: اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ لَهُ: بَعْضُ أَصْحَابِهِ غَفَرَ اللهُ لَكَ أَعْطَيْتَ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ حِمَارًا كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ، وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ وَإِنَّ أَبَاهُ كَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ»
Abdullah b. Dinar reported that when 'Abdullah b. 'Umar set out to Mecea, 'he kept a donkey with him which he used as a diversion from the tedium of journey on the camel's back and had a turban which he tied round his head. One day, as he was riding the donkey a desert Arab happened to pass by him. He ('Abdullah b. 'Umar) said: Arn't you so and so? He said: Yes He gave him his donkey and said: Ride it, and tie the turban round your head. Some of his companions said: May Allah pardon you, you gave to this desert Arab the donkey on which you enjoyed ride for diversion and the turban which you tied round your. head. Thereupon he said: Verily I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The finest act of goodness is the kind treatment of a person to the loved ones of his father after his death and the father of this person was a friend of 'Umar ابراہیم بن سعد اور لیث بن سعد دونوں نے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کی کہ وہ مکہ مکرمہ کے لیے نکلتے تو جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو ان کا گدھا ( ساتھ ہوتا ) تھا جس پر وہ سہولت کے لیے سواری کرتے ۔ اور ایک عمامہ ( ہوتا ) تھا جو اپنے سر پر باندھتے تھے ۔ تو ایسا ہوا کہ ایک دن وہ اس گدھے پر سوار تھے کہ ایک بادیہ نشیں ان کے قریب سے گزرا ، انہوں نے اس سے کہا؛ تم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو! اس نے کہا : کیوں نہیں ( اسی کا بیٹا ہوں ) تو انہوں نے گدھا اس کو دے دیا اور کہا : اس پر سوار ہو جاؤ اور عمامہ ( بھی ) اسے دے کر کہا : اسے سر پر باندھ لو ۔ تو ان کے کسی ساتھی نے ان سے کہا : اللہ آپ کی مغفرت کرے! آپ نے اس بدو کو وہ گدھا بھی دے دیا جس پر آپ سہولت ( تکان اتارنے ) کے لیے سواری کرتے تھے اور عمامہ بھی دے دیا جو اپنے سر پر باندھتے تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " والدین کے ساتھ بہترین سلوک میں سے یہ ( بھی ) ہے کہ جب اس کا والد رخصت ہو جائے تو اس کے ساتھ محبت کا رشتہ رکھنے والے آدمی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ " اور اس کا والد ( میرے والد ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6516

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ
Nawwas b. Sam'an al-Ansari reported: I asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about virtue and vice. He said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your heart and that you disapprove that people should come to know of it. ابن مہدی نے ہمیں معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : " نیکی اچھا خلق ہے ، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6517

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ قَالَ أَقَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةً مَا يَمْنَعُنِي مِنْ الْهِجْرَةِ إِلَّا الْمَسْأَلَةُ كَانَ أَحَدُنَا إِذَا هَاجَرَ لَمْ يَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ
Nawwas b. Sam'an reported: I stayed with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for one year. What obstructed me to migrate was (nothing) but (persistent) inquiries from him (about Islam). (It was a common observation) that when anyone of us migrated (to Medina) he ceased to ask (too many questions) from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). So I asked him about virtue and vice. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your mind and that you disapprove of its being known to the people. عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے ( باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ) حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں ایک سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں مقیم رہا ۔ مجھے سوالات کرنے کے سوا اور کوئی بات ہجرت کرنے سے نہیں روکتی تھی کیونکہ ہم میں سے جب کوئی ہجرت کر لیتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا تھا ۔ کہا : ( تو اسی دوران مین ) میں نے آپ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نیکی حسن خلق ( اچھی عادات ) کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6518

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنِي عَمِّي أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتْ الرَّحِمُ فَقَالَتْ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنْ الْقَطِيعَةِ قَالَ نَعَمْ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَذَاكِ لَكِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
Abu Huraira reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily Allah created the universe and when He had finished that, ties of relationship came forward and said This is the place for him who seeks refuge from severing (of blood-relationship). He said: Yes. Are you not satisfied that I should keep relationship with one who joins your ties of relationship and sever it with one who severs your (ties of relationship)? They (the ties of blood) said: Certainly so. Thereupon He said: Well, that is how things are for you. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then said: Recite if you like: But if you turn away you are sure to make mischief in the land and cut off the ties of kinship. Those it is whom Allah has cursed, so He has made them deaf and blinded their eyes. Do they not reflect on the Qur'an? Or, are there locks on their hearts? . حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا حتی کہ جب وہ ان سے فارغ ہو گیا تو رَحم نے کھڑے ہو کر کہا : یہ ( میرا کھڑا ہونا ) اس کا کھڑا ہونا ہے جو قطع رحمی سے پناہ کا طلب گار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں ، ( اس مقصد کے لیے تمہارا کھڑا ہونا مجھے قبول ہے ) کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میں اسی سے تعلق رکھوں جو تمہارا تعلق جوڑ کر رکھے اور اس سے تعلق توڑ دوں جو تمہارا تعلق توڑ دے؟ "" رَحم نے کہا : کیوں نہیں! ( میں راضی ہوں ۔ ) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہیں یہ عطا کر دیا گیا ۔ "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر تم چاہو تو ( قرآن مجید کا یہ مقام ) پڑھ لو : "" تو کیا تم اس ( بات ) کے قریب ( ہو گئے ) ہو کہ اگر تم پیچھے ہٹو گے تو زمین میں فساد برپا کرو گے اور خون کے رشتے توڑ ڈالو گے ، ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں ( ہدایت کی آواز سننے سے ) بہرا کر دیا اور ان کی آنکھوں کو ( اللہ کی نشانیاں دیکھنے سے ) اندھا کر دیا ۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غوروخوض نہیں کرتے یا ( پھر ) ان کے دلوں پر قفل لگ چکے ہیں ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6519

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ
A'isha reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The tie of kinship is suspended to the Throne and says: He who unites me Allah would unite him and he who severed me Allah would sever him. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رَحم ( خونی رشتوں کا سارا سلسلہ ) عرش کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے : جس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا اللہ اس کے ساتھ تعلق جوڑے گا اور جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6520

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ
Jubair b. Mut'im reported on the authority of his father that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The severer would not enter Paradise. Ibn Umar said that Sufyan (explained it as): One who severs the tie of kinship would not enter Paradise. زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد بن جبیر بن معطم سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ "" ابن ابی عمر نے بتایا کہ سفیان نے کہا : یعنی قطع رحمی کرنے والا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6521

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ
Jubair b. Mutlim reported that his father narrated to him that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The severer of the tie of kinship would not get into Paradise. امام مالک نے زہری سے روایت کی ، محمد بن جبیر بن معطم نے خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6522

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters. معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ( اس میں ہے : حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6523

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ أَوْ يُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
Anas b. Malik reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who is desirous that his means of sustenance should be expanded for him or his age may be lengthened, should join the tie of relationship. یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس پر اس کا رزق کشادہ کیا جائے یا اس کے چھوڑے ہوئے کو مؤخر کیا جائے ( خود اس کی اور اس کی چھوڑی ہوئی اشیاء ، اعمال اور اولاد کی عمر لمبی ہو ) وہ صلہ رحمی کرے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6524

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who likes that his sustenance should be expanded and his age may be lengthened should join the tie of kinship. عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص یہ چاہتا کہ اس کے لیے اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور جو اس نے چھوڑ جانا ہے اس کی مہلت لمبی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6525

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنْ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ
Abu Huraira reported that a person said: Allah's Messenger, I have relatives with whom I try, to have close relationship, but they sever (this relation). I treat them well, but they treat me ill. I am sweet to them but they are harsh towards me. Upon this he (the Holy Prophet) said: If it is so as you say, then you in fact throw hot ashes (upon their faces) and there would always remain with you on behalf of Allah (an Angel to support you) who would keep you dominant over them so long as you adhere to this (path of righteousness). حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے ( بعض ) رشتہ دار ہیں ، میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں ، میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں ، میں بردباری کے ساتھ ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کا سلوک کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا : " اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس روش پر رہو گے ، ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6526

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ»
Anas b. Malik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Neither nurse mutual hatred, nor jealousy, nor enmity, and become as fellow brothers and servants of Allah. It is not lawful for a Muslim that he should keep his relations estranged with his brother beyond three days. امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے ( ایک دوسرے کے ) بھائی بن کر رہو ۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے تعلق ترک کیے رکھے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6527

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ. حَدِيثِ مَالِكٍ،
Anas b. Malik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying like this. This hadith has been narrated through another chain of transmitters. محمد بن ولید زبیدی اور یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6528

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ «وَلَا تَقَاطَعُوا»
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters with the addition of Ibn Uyaina (and the words are): Do not cut off (mutual relations). ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، نیز ابن عیینہ نے مزید یہ کہا : " اور ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6529

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا رِوَايَةُ يَزِيدَ، عَنْهُ فَكَرِوَايَةِ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، يَذْكُرُ الْخِصَالَ الْأَرْبَعَةَ جَمِيعًا، وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ «وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا»
This hadith has been narrated through another chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of Abd al-Razziq (the words are): Neither nurse grudge nor sever (the ties of kinship), nor nurse enmity. یزید بن زریع اور عبدالرزاق ، دونوں نے معمر سے ، انہوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ معمر سے یزید کی روایت اسی طرح ہے جس طرح سفیان کی روایت زہری سے ہے ، انہوں نے چاروں خصلتیں بیان کی ہیں ، البتہ عبدالرزاق کی روایت اس طرح ہے : "" ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ( منہ نہ موڑو ۔ ) ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6530

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا»
Anas reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Nurse no grudge, nurse no aversion and do not sever ties of kinship and live like fellow-brothers as servants of Allah. ابوداؤد نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے ( ایک دوسرے کے ) بھائی بن کر رہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6531

حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ كَمَا أَمَرَكُمُ اللهُ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with this addition: As Allah has commanded you. ) وہب بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور مزید یہ کہا : " جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6532

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ»
Abu Ayyub Ansiri reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: It is not permissible for a Muslim to have estranged relations with his brother beyond three nights, the one turning one way and the other turning the other way when they meet; the better of the two is one who is the first to give a greeting. امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے ( قطع تعلق کر کے رکھے کہ ) دونوں ایک دوسرے سے ملیں تو یہ بھی منہ موڑ لے اور وہ بھی منہ موڑ لے اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6533

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ وَمِثْلِ حَدِيثِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ «فَيُعْرِضُ هَذَا، وَيُعْرِضُ هَذَا» فَإِنَّهُمْ جَمِيعًا قَالُوا فِي حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ مَالِكٍ «فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا»
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording (and the words are): The one turning away and the other turning away when they meet and one avoids the other and the other also avoids him. سفیان ، یونس ، ( محمد بن ولید ) زبیدی اور معمر سب نے زہری سے مالک کی سند کے ساتھ ، اس قول کے سوا " یہ بھی منہ موڑ لے اور وہ بھی منہ موڑ لے " انہی کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر مالک بن انس کے سوا سب نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ کہے : " یہ بھی اُس کی طرف نہ دیکھے ، وہ بھی اس کی طرف نہ دیکھے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6534

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ»
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: It is not permissible for a Muslim to have estranged relations with his brother beyond three days. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے ( مسلمان ) بھائی سے تعلق ترک کرے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6535

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There should be no estranged relations beyond three days. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین دن کے بعد ( بھی ) روٹھے رہنا جائز نہیں ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6536

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Avoid suspicion, for suspicion is the gravest lie in talk and do not be inquisitive about one another and do not spy upon one another and do not feel envy with the other, and nurse no malice, and nurse no aversion and hostility against one another. And be fellow-brothers and servants of Allah. اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدگمانی سے دور رہو کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے ، دوسروں کے ظاہری عیب تلاش کرو نہ دوسروں کے باطنی عیب ڈھونڈو ، مال و دولت میں ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت نہ کرو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، آپس میں بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ، اور اللہ کے ایسے بندے بن کر رہو جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6537

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَهَجَّرُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Don't have estranged relations (with the others) and don't nurse enmity and don't enter into a transaction when the other (has already entered) and be fellow-brothers and servants of Allah. علاء کے والد ( عبدالرحمٰن ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے ترکِ تعلق مت کرو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ، دوسروں کے عیب تلاش نہ کرو ، تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے ایسے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6538

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying. Don't nurse malice against one another, don't nurse aversion against one another and don't be inquisitive about one another and don't outbid one another (with a view to raising the price) and be fellow-brothers and servants of Allah. جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، دوسروں کے ظاہری عیب تلاش نہ کرو ، دوسروں کے باطنی عیب مت ڈھونڈو ، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ ، اور اللہ کے ایسے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6539

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmit ters (and the words are): Don't sever relations of kinship, don't bear enmity against one another, don't bear aversion against one another and don't feel envy against the other and live as fellow-brothers as Allah has commanded you. شعبہ نے ہمیں اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی : " ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اللہ کے ایسے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6540

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Don't bear aversion against one another and don't be jealous of one another and be servants of Allah. ) سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ، دولت کا حصول اور نمائش میں ایک دوسرے سے مقابلہ نہ کرو اور اللہ کے ایسے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6541

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا» وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ «بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Don't nurse grudge and don't bid him out for raising the price and don't nurse aversion or enmity and don't enter into a transaction when the others have entered into that transaction and be as fellow-brothers and servants of Allah. A Muslim is the brother of a Muslim. He neither oppresses him nor humiliates him nor looks down upon him. The piety is here, (and while saying so) he pointed towards his chest thrice. It is a serious evil for a Muslim that he should look down upon his brother Muslim. All things of a Muslim are inviolable for his brother in faith: his blood, his wealth and his honour. داؤد بن قیس نے ہمیں عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو ، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ مسلمان ( دوسرے ) مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے ۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا ، ( پھر فرمایا ) : " کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ، ہر مسلمان پر ( دوسرے ) مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6542

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ، وَزَادَ، وَنَقَصَ وَمِمَّا زَادَ فِيهِ «إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ» وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with some addition (and it is this): Verily Allah does not look to your bodies nor to your faces but He looks to your hearts, and he pointed towards the heart with his fingers. اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاَ اس کے بعد داؤد کی حدیث کی طرح بیان کیا ، کچھ چیزیں زیادہ بیان کیں اور کچھ کم ، زائد بیان کردہ باتوں میں سے ایک یہ ہے : " اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ۔ " اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6543

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily Allah does not look to your faces and your wealth but He looks to your heart and to your deeds. یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا ، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6544

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The gates of Paradise are not opened but on two days, Monday and Thursday. and then every servant (of Allah) is granted pardon who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. And it would be said: Look towards both of them until there is reconciliation; look toward both of them until there is reconciliation; look towards both of them until there is reconciliation. This hadith has been narrated on the authority of Suhail who narrated it on the authority of his father with the chain of transmitters of MaIik, but with this variation of wording:, (Those would not be granted pardon) who bycott each other. ) امام مالک بن انس نے سہیل ( بن ابی صالح ) سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا ، اس بندے کےسوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو ، چنانچہ کہا جاتا ہے : ان دونون کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ، ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔ " ( اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6545

حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، نَحْوَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ» إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: «إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ»
Abu Huraira reported it as a marfu' hadith (and the words are): The deeds are presented on every Thursday and Monday and Allah, the Exalted and Glorious. grants pardon to every person who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. It would be said: Put both of them off until they are reconciled. زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے حدیث بیان کی ۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے عبدالعزیز دراوردی سے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( جریر اور عبدالعزیز ) نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے مالک کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ابن عبدہ سے دراوردی کی بیان کردہ حدیث میں ہے : " سوائے ان دو کے جنہوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ رکھا ہو ۔ " اور قتیبہ نے کہا : " سوائے ان دو کے جنہوں نے دوری اختیار کر رکھی ہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6546

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ مَرَّةً قَالَ: تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ، فَيَغْفِرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا
Abu Huraim reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancour against his brother and it would he said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation. سفیان نے مسلم بن ابی مریم سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے ایک بار اس حدیث کو مرفوعا بیان کیا ، کہا : ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں ، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو ، تو ( ان کے بارے میں ) کہا جاتا ہے : ان دونوں کو رینے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ، ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6547

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ، إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا، أَوِ ارْكُوا، هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا
Abu Huraim reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancour against his brother and it would he said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation. امام مالک بن انس نے مسلم بن ابی مریم سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دو بار پیش کیے جاتے ہیں ، پیر کے دن اور جمعرات کے دن اور ہر ایمان رکھنے والے بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے ، اس بندے کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور بغض ہوتا ہے ۔ تو ( ان کے بارے میں ) کہا جاتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو ، یا مؤخر کر دو یہاں تک کہ دونوں ( عداوت چھوڑ کر ایک دوسرے کی طرف ) واپس آ جائیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6548

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily. Allah would say on the Day of Resurrection: Where are those who have mutual love for My Glory's sake? Today I shall shelter them in My shadow when there is no other shadow but the shadow of Mine. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا : میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں رکھوں گا ، آج کے دن جب میرے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6549

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْصَدَ اللهُ لَهُ، عَلَى مَدْرَجَتِهِ، مَلَكًا فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ، قَالَ: هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟ قَالَ: لَا، غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكَ، بِأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: A person visited his brother in another town and Allah deputed an Angel to wait for him on his way and when he came to him he said: Where do you intend to go? He said: I intend to go to my brother in this town. He said: Have you done any favour to him (the repayment of which you intend to get)? He said: No, excepting this that I love Mm for the sake of Allah, the Exalted and Glorious. Thereupon he said: I am a meesenger to you from, Allah: (to inform you) that Allah loves you as you love him (for His sake). عبدالاعلیٰ بن حماد نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابورافع سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : ا " ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے گیا جو دوسری بستی میں تھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو اس کی نگرانی ( یا انتظار ) کے لیے مقرر فرما دیا ۔ جب وہ شخص اس ( فرشتے ) کے سامنے آیا تو اس نے کہا : کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا : میں اپنے ایک بھائی کے پاس جانا چاہتا ہوں جو اس بستی میں ہے ۔ اس نے پوچھا : کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے جسے مکمل کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا : نہیں ، بس مجھے اس کے ساتھ صرف اللہ عزوجل کی خاطر محبت ہے ۔ اس نے کہا : تو میں اللہ ہی کی طرف سے تمہارے پاس بھیجا جانے والا قاصد ہوں کہ اللہ کو بھی تمہارے ساتھ اسی طرح محبت ہے جس طرح اس کی خاطر تم نے اس ( بھائی ) سے محبت کی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6550

قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُشَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Hammid b. Salama with the same of transmitters. ابوبکر بن محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6551

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ
Abu Rabi' reported directly from Allah's Apostle (may peace upon him) as saying: The one who visits the sick is in fact like one who is in the fruit garden of Paradise so long as he does not return. سعید بن منصور اور ابوربیع زہرانی سے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواسماء سے ، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ ابو ربیع نے کہا : انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کیا ۔ ۔ اور سعید کی حدیث میں ہے : ( ثوبان رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے درمیان گزرنے والی روش پر ہوتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6552

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ
Thauban, the freed slave of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who visits the sick continues to remain in the fruit garden of Paradise until he returns. ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواسماء سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش پر رہتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6553

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ
Thauban reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily, when a Muslim visits his brother in Islam he is supposed to remain in the fruit garden of Paradise until he returns. یزید بن زُرَیع نے کہا : ہمیں خالد نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابو اسماء رحبی سے ، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش میں موجود ہوتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6554

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ قَالَ جَنَاهَا
Thauban, the freed slave of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who visits the sick is supposed to remain in the fruit garden of Paradise. It was said: Allah's Messenger, what is this Khurfat-ul-jannah? He said: It is a place abounding in fruits. یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں عاصم احول نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے خبر سنائی ، انہوں نے ابو اشعث سے ، انہوں نے ابو اسماء رحبی سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی وہ مسلسل جنت کی روش میں رہا ۔ " آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ! جنت کی روش کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا : " اس کے پھل جنہیں وہ چنتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6555

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of Asim al-Ahwal with the same chain of transmitters. مروان بن معاویہ نے عاصم احول سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6556

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَالَ يَا رَبِّ وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily, Allah, the Exalted and Glorious, would say on the Day of Resurrection: O son of Adam, I was sick but you did not visit Me. He would say: O my Lord; how could I visit Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Didn't you know that such and such servant of Mine was sick but you did not visit him and were you not aware of this that if you had visited him, you would have found Me by him? O son of Adam, I asked food from you but you did not feed Me. He would say: My Lord, how could I feed Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? He said: Didn't you know that such and such servant of Mine asked food from you but you did not feed him, and were you not aware that if you had fed him you would have found him by My side? (The Lord would again say: ) O son of Adam, I asked drink from you but you did not provide Me. He would say: My Lord, how could I provide Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Such and such of servant of Mine asked you for a drink but you did not provide him, and had you provided him drink you would have found him near Me. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا : آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی ۔ وہ کہے گا : میرے رب! میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا ، تو نے اس کی عیادت نہ کی ۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا ، تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ۔ وہ شخص کہے گا : اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا : تو نے اسے کھانا نہ کھلایا اگر تو اس کو کھلا دیتا تو تمہیں وہ ( کھانا ) میرے پاس مل جاتا ۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ۔ وہ شخص کہے گا : میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا ، اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو ( آج ) اس کو میرے پاس پا لیتا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6557

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - قَالَ: إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا - جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ - مَكَانَ الْوَجَعِ - وَجَعًا.
A'isha reported, I did not see anyone else being afflicted with more severe illness than Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). In the narration transmitted by 'Uthman there is a slight variation of wording. عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو ۔ عثمان کی روایت میں " سخت تکلیف کا سامنا " کے بجائے " جس کی تکلیف زیادہ سخت ہو " ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6558

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ
This hadith has been narrated on the authority of A'mash through other chains of transmitters. شعبہ اور سفیان دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6559

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا - جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ» قَالَ: فَقُلْتُ: ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ، فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا» وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ: فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي.
Abdullah reported: I visited Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as he was running a high temperature. I touched his body with my hand and said to him: Allah's Messenger, you are running a high temperature, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Yes, it is so. I comparatively have a more severe fever than any one of you. I said: Is it because there is a double reward in store for you? Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Yes, it is so. And Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) again said: When a Muslim falls ill, his compensation is that his minor sins are obliterated just as leaves fall (in autumn). In the hadith transmitted on the authority of Zubair there is (no mention of these words): I touched his body with my hands. عثمان بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا؛ ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے حارث بن سوید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کو بخار چڑھ رہا تھا ، میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کو تو بہت سخت بخار چڑھا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، مجھے اتنا بخار چڑھتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو بخار چڑھتا ہے ۔ "" میں نے عرض کی : یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دہرا اجر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، ( یہی بات ہے ۔ ) "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی تکلیف پہنچے ، مرض ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور تکلیف مگر اللہ اس کے سبب سے اس کی برائیاں ( گناہ ) جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے ۔ "" زہیر کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں : "" تو میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6560

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: «نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ»
This hadith has been transmitted on the authority of jarir and the hadith transmitted on the authority of Abu Mu'awiya there is an addition of these words: He said: Yes, by Him in Whose Hand is my life, there is no Muslim upon the earth. The rest of the hadith is the same. ابومعاویہ ، سفیان ، عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عبدالملک بن ابی غنیہ سب نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ ، اسی کی حدیث کے مانند روایت کی اور ابومعاویہ کی حدیث میں مزید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ۔ ۔ ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6561

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ بِمِنًى وَهُمْ يَضْحَكُونَ فَقَالَتْ مَا يُضْحِكُكُمْ قَالُوا فُلَانٌ خَرَّ عَلَى طُنُبِ فُسْطَاطٍ فَكَادَتْ عُنُقُهُ أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ فَقَالَتْ لَا تَضْحَكُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
Aswad reported that some young men from the Quraish visited 'A'isha as she was in Mina and they were laughing. She said: What makes you laugh? They said: Such and such person stumbled against the rope of the tent and he was about to break his neck or lose his eyes. She said: Don't laugh for I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If a Muslim runs a thorn or (gets into trouble) severe than this, there is assured for him (a higher) rank and his sins are obliterated. منصور نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود ( بن یزید نخعی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : کچھ قریشی نوجوان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ منیٰ میں تھیں ۔ وہ نوجوان ہنس رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تم کس وجہ سے ہنس رہے ہو؟ انہوں نے کہا : فلاں شخص خیمے کی رسیوں پر گر پڑا ، قریب تھا کہ اس کی گردن یا آنکھ جاتی رہتی ۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ہنسو مت ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " کوئی مسلمان نہیں جسے کانٹا چبھ جائے یا اس سے بڑھ کر ( تکلیف ) ہو مگر اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6562

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً
A'isha reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: A believer does not receive (the trouble) of running a thorn or more than that but Allah elevates him in rank or effaces his sins because of that. اعمش نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6563

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ
A'isha reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: A believer does not undergo (the trouble) of running a thorn or more than that when Allah effaces his sins. محمد بن بشر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مومن کو جب بھی کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بڑھ کر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6564

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
The above hadith has been transmitted by Hisham with the same chain. ابو معاویہ نے ہمیں ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6565

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
A'isha reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is no trouble that comes to a believer except that it obliterates from his sins, even if it is the pricking of a thorn ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی مصیبت نہیں جس میں کوئی مسلمان مبتلا ہو مگر اس کی بنا پر اس کا کوئی گناہ اس سے ہٹا دیا جاتا ہے حتی کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے ( اور کسی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے ۔ ) "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6566

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّى الشَّوْكَةِ إِلَّا قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ أَوْ كُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا قَالَ عُرْوَةُ
A'isha said: No trouble comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that it becomes (the means) whereby his sins are effaced or his sins are obliterated. Yazid says: He does not know which word 'Urwa said (whether he said Qussa or Kuffira). امام مالک بن انس نے یزید بن خُصَیفہ سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان پر کوئی بھی مصیبت نہیں آتی ، چاہے ایک کانٹا ہی ( چبھا ) ہو مگر اس کی وجہ سے اس کی غلطیاں معاف کر دی جاتی ہیں یا اس کو اس کی کچھ غلطیوں کا کفارہ بنا دیا جاتا ہے ۔ "" یزید کو پتہ نہیں کہ عروہ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ بولا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6567

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّى الشَّوْكَةِ تُصِيبُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
A'isha reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is nothing (in the form of trouble) that comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that there is decreed for him by Allah good or his sins are obliterated. عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی مصیبت نہیں جو مومن پر آتی ہے ، حتی کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کی وجہ سے اس کی کوئی غلطی معاف کر دی جاتی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6568

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
Abu Sa'id and abu Huraira reported that they heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Never a believer is stricken with discomfort, hardship or illness, grief or even with mental worry that his sins are not expiated for him. عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " مومن کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ، نہ تھکاوٹ ، نہ بیماری ، نہ غم حتی کہ کوئی فکر بھی جو اسے فکرمند کر دے مگر اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6569

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبْي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ بَلَغَتْ مِنْ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَفِي كُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا أَوْ الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا قَالَ مُسْلِم هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ
Abu Huraira reported that when this verse was revealed: Whoever does evil will be requited for it , and when this was conveyed to the Muslims they were greatly perturbed. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Be moderate and stand firm in trouble that falls to the lot of a Muslim (as that) is an expiation for him; even stumbling on the path or the pricking of a thorn (are an expiation for him). Muslim said that 'Umar b. Abd al-Rahman Muhaisin was from amongst the people of Mecca. سفیان نے قریش کے ایک بزرگ ابن محیصن سے روایت کی ، انہوں نے محمد بن قیس بن مخرمہ کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : جب ( یہ آیت ) نازل ہوئی : "" جو شخص کوئی برائی کرے گا ، اس کے بدلے اسے سزا دی جائے گی ۔ "" یہ ( بات ) مسلمانوں کے لیے سخت خوف اور تشویش کا باعث بنی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ( مطلوبہ معیار کے ) قریب تر پہنچو اور اچھی طرح سیکھے ہو جاؤ ۔ ہر مصیبت میں ، جو کسی مسلمان کو پہنچتی ہے ، ایک کفارہ ہوتا ہے حتی کہ ٹھوکر جو اسے لگ جاتی ہے یا کانٹا اسے چبھ جاتا ہے ۔ "" امام مسلم نے کہا : وہ ( قریش کے شیخ ابن محیصن ) اہل مکہ میں سے عمر بن عبدالرحمان بن محیصن ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6570

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ قَالَتْ الْحُمَّى لَا بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا فَقَالَ لَا تَسُبِّي الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited Umm Sa'ib or Umm Musayyib and said: Umm Sa'ib or Umm Musayyib. why is it that you are shivering? She said: It is fever and may it not be blessed by Allah, whereupon he (the Holy Prophet) said: Don't curse fever for it expiates the sin of the children of Adam just as furnace removes the alloy of iron. ابوزبیر نے کہا : ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک انصاری خاتون ) حضرت ام سائب یا حضرت ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا : " ام سائب یا ( فرمایا : ) ام مسیب! تہیں کیا ہوا؟ کیا تم شدت سے کانپ رہی ہو؟ " انہوں نے کہا : بخار ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے! آپ نے فرمایا : " بخار کو برا نہ کہو ، کیونکہ یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6571

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَا حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَكَرٍ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَى قَالَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ قَالَتْ أَصْبِرُ قَالَتْ فَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا
Ata' b. Abi Rabih said: Ibn Abbas said to me: May I show you a woman of Paradise? I said: Yes. He said: Here is this dark-complexioned woman. She came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I am suffering from falling sickness and I become naked; supplicate Allah for me, whereupon he (the Holy Prophet) said: Show endurance as you can do and there would be Paradise for you and, if you desire, I supplicate Allah that He may cure you. She said: I am prepared to show endurance (but the unbearable trouble is) that I become naked, so supplicate Allah that He should not let me become naked, so he supplicated for her. عطاء بن ابی رباح نے حدیث بیان کی ، کہا : ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمہیں اہل جنت میں سے ایک عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا : کیوں نہیں! انہوں نے کہا : یہ سیاہ فام عورت ہے ، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھ پر مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے ( کبھی ) میرا لباس کھل جاتا ہے ۔ آپ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو اس پر صبر کرو اور تمہارے لیے جنت ہے اور اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو صحت عطا فرمائے ۔ " اس عورت نے کہا : میں صبر کروں گی ، اس نے کہا : میرا لباس کھل جاتا ہے ، آپ اللہ سے یہ دعا فرما دیں کہ میرا لباس نہ کھلے ، تو آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6572

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَى عَنْ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ قَالَ سَعِيدٌ كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ
Abu Dharr reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, said: My servants, I have made oppression unlawful for Me and unlawful for you, so do not commit oppression against one another. My servants, all of you are liable to err except one whom I guide on the right path, so seek right guidance from Me so that I should direct you to the right path. O My servants, all of you are hungry (needy) except one whom I feed, so beg food from Me, so that I may give that to you. O My servants, all of you are naked (need clothes) except one whom I provide garments, so beg clothes from Me, so that I should clothe you. O My servants, you commit error night and day and I am there to pardon your sins, so beg pardon from Me so that I should grant you pardon. O My servants, you can neither do Me any harm nor can you do Me any good. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and even the whole of human race of yours, and that of jinns even, become (equal in) God-conscious like the heart of a single person amongst you, nothing would add to My Power. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and the whole human race of yours and that of the Jinns too in unison become the most wicked (all beating) like the heart of a single person, it would cause no loss to My Power. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and the whole human race of yours and that of jinns also all stand in one plain ground and you ask Me and I confer upon every person what he asks for, it would not. in any way, cause any loss to Me (even less) than that which is caused to the ocean by dipping the needle in it. My servants, these for you I shall reward you for thern, so he who deeds of yours which I am recording finds good should praise Allah and he who does not find that should not blame anyone but his ownself. Sa'id said that when Abu Idris Khaulini narrated this hadith he knelt upon his knees. مروان بن محمد دمشقی نے کہا؛ ہمیں سعید بن عبدالعزیز نے ربیعہ بن یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے ، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی روایت بیان کی جو آپ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے بیان کی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "" میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے ، اس لیے تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔ میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو ، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں ، اس لیے مجھ سے ہدایت مانگو ، میں تمہیں ہدایت دوں گا ۔ میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو ، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں ، اس لیے مجھ سے کھانا مانگو ، میں تمہیں کھلاؤں گا ۔ میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو ، سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں ، لہذا مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا ۔ میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں ہی سب کے سب گناہ معاف کرتا ہوں ، سو مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہارے گناہ معاف کروں گا ۔ میرے بندو! تم کبھی مجھے نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھو گے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو ، نہ کبھی مجھے فائدہ پہنچانے کے قابل ہو گے کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو ۔ میرے بندو! اگر تمہارے پہلے والے اور تمہارے بعد والے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن سب مل کر تم میں سے ایک انتہائی متقی انسان کے دل کے مطابق ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا ۔ میرے بندو! اگر تمہارے پہلے والے اور تمہارے بعد والے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن سب مل کر تم میں سے سب سے فاجر آدمی کے دل کے مطابق ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن سب مل کر ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دوں تو اس سے جو میرے پاس ہے ، اس میں اتنا بھی کم نہیں ہو گا جو اس سوئی سے ( کم ہو گا ) جو سمندر میں ڈالی ( اور نکال لی ) جائے ۔ "" سعید نے کہا : ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تو اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6573

حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ مَرْوَانَ أَتَمُّهُمَا حَدِيثًا
The hadith is narrated through Abu Mushir from Sa'id bin 'Abdil'Aziz except that the previous hadith through Marwan was the more complete of the two. ابوبکر بن اسحٰق نے کہا : ہمیں ابومسہر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں سعید بن عبدالعزیز نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ مروان کی حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6574

قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ابْنَا بِشْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
This hadith is also transmitted through Ibna Bashr and Muhammad bin Muhammad through Abu Mashur through the same chain, narrated to its (full) extent ابواسحٰق نے کہا : ہمیں یہ حدیث بشر کے دو بیٹوں حسن اور حسین نے اور محمد بن یحییٰ نے بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابومسہر نے حدیث بیان کی ، پھر پوری طویل حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6575

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِي الظُّلْمَ وَعَلَى عِبَادِي فَلَا تَظَالَمُوا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَحَدِيثُ أَبِي إِدْرِيسَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ أَتَمُّ مِنْ هَذَا
Abu Dharr reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that he reported it from his Lord, the Exalted and Glorious: Verily I have made oppression unlawful for Me and for My servants too, so do not commit oppression. The rest of the hadith is the same. ابواسماء نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے اپنے اوپر اور اپنے بندوں پر ظلم کو حرام کر دیا ہے ، لہذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔ " اور ( اس کے بعد ) اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح حدیث بیان کی اور ابوادریس ( خولانی ) کی حدیث جو ہم نے ( پہلے ) بیان کی ہے اس سے زیادہ مکمل ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6576

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Be on your guard against committing oppression, for oppression is a darkness on the Day of Resurrection, and be on your guard against stinginess for stinginess destroyed those who were before you, as it incited them to shed blood and make lawful what was unlawful for them. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ظلم سے بچو ، کیونکہ ظلم قیامت کے دن ( دلوں پر چھانے والی ) ظلمتیں ہوں گی ۔ بخل اور ہوس سے بچو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو بخل و ہوس نے ہلاک کر دیا ، اسی نے ان کو اکسایا تو انہوں نے اپنے ( ایک دوسرے کے ) خون بہائے اور اپنی حرمت والی چیزوں کو حلال کر لیا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6577

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
Ibu 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Oppression is the darkness on the Day of Resurrection. عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ظلم قیامت کے دن کئی ظلمتیں ( تاریکیاں ) ہوں گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6578

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
Salim reported on the authority of his father that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: A Muslim is the brother of a fellow-Muslim. He should neither commit oppression upon him nor ruin him, and he who meets the need of a brot'ier, Allah would meet big needs, and he who relieved a Muslim from hardship Allah would relieve him from the hardships to which he would be put on the Day of Resurrection, and he who did not expose (the follies of a Muslim) Allah would conceal his follies on the Day of Resurrection. سالم نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے ( ظالموں کے ) سپرد کرتا ہے ۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے ۔ جو کسی مسلمان سے اس کی ایک تکلیف دور کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور کرتا ہے ۔ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس ( کے عیبوں ) کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6579

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do you know who is poor? They (the Companions of the Holy Prophet) said: A poor man amongst us is one who has neither dirham with him nor wealth. He (the Holy Prophet) said: The poor of my Umma would be he who would come on the Day of Resurrection with prayers and fasts and Zakat but (he would find himself bankrupt on that day as he would have exhausted his funds of virtues) since he hurled abuses upon others, brought calumny against others and unlawfully consumed the wealth of others and shed the blood of others and beat others, and his virtues would be credited to the account of one (who suffered at his hand). And if his good deeds fall short to clear the account, then his sins would be entered in (his account) and he would be thrown in the Hell-Fire. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ " صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو ، نہ کوئی سازوسامان ۔ آپ نے فرمایا : " میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ ( دنیا میں ) اس کو گالی دی ہو گی ، اس پر بہتان لگایا ہو گا ، اس کا مال کھایا ہو گا ، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا ، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا ، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6580

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنْ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The claimants would get their claims on the Day of Resurrection so much so that the hornless sheep would get its claim from the horned sheep. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن تم سب حقداروں کے حقوق ان کو ادا کرو گے ، حتی کہ اس بکری کا بدلہ بھی جس کے سینگ توڑ دیے گئے ہوں گے ، سینگوں والی بکری سے پورا پورا لیا جائے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6581

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
Abu Musa reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, grants respite to the oppessor. But when He lays Hand upon him, He does not then let him off. Re (the Holy Prophet) then recited this verse: Such is the chastisement of thy Lord when He chastises the towns (inhabited by) wrongdoing persons. Surely, His punishment is painful, severe (xi. 103). حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دے دیتا ہے اور جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر جانے نہیں دیتا ۔ " پھر آپ نے ( یہ آیت ) پڑھی : " اور جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو آپ کے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے ( کہ کوئی بچ نہیں سکتا ۔ ) بےشک اس کی گرفت سخت دردناک ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6582

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَنَادَى الْمُهَاجِرُ أَوْ الْمُهَاجِرُونَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَنَادَى الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ اقْتَتَلَا فَكَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ قَالَ فَلَا بَأْسَ وَلْيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ
Jabir b. Abdullah reported that two young men, one from the Muhajirin (emigrants) and the other one from the Angr (helpers) fell into dispute and the Muhajir called his fellow Muhajirin, and the Ansari (the helper) called the Ansar (for help). In the meanwhile, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came there and said: What is this, the proclamation of the days of jahiliya (ignorance)? They said: Allah's Messenger, there is nothing serious. The two young men fell into dispute and the one struck at the back of the other. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Well, a person should help his brother whether he is an oppressor or an oppressed. If he is the oppressor he should prevent him from doing it, for that is his help; and if he is the oppressed he should be helped (against oppression). ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ، ایک لڑکا مہاجرین میں سے تھا اور دوسرا لڑکا انصار میں سے ۔ مہاجر نے پکار کر آواز دی : اے مہاجرین! اور انصاری نے پکار کر آواز دی : اے انصار! تو ( اچانک ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا : " یہ کیا زمانہ جاہلیت کی سی چیخ و پکار ہے؟ " انہوں نے عرض کی : نہیں ، اللہ کے رسول! بس یہ دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے ، آپ نے فرمایا : " کوئی ( بڑی ) بات نہیں ، اور ہر انسان کو اپنے بھائی کی ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، مدد کرنی چاہئے ، اگر اس کا بھائی ظالم ہو تو اسے ( ظلم سے ) روکے ، یہی اس کی مدد ہے ، اور اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6583

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ قَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ
Jabir b. Abdullah reported: We were along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in an expedition that a person from amongst the emigrants struck at the back of a person from the Ansir. The Ansiri said: O Ansar! And the Muhijir said: O Emigrants! Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What are these proclamations of the Days of Ignorance? They said: Allah's Messenger, a person from the emigrants struck at the back of an Ansari, whereupon he said: It is something disgusting. 'Abdullah b. Ubayy heard it and said: They have indeed done it. By Allah, when we would return to Medina the respectable amongst them (the Ansar) would turn away the mean (the emigrants). Thereupon 'Umar said: Permit me so that I should strike the neck of this hypocrite. But he (the Holy Prophet) said: Leave him, the people may not say that Muhammad kills his companions. سفیان بن عیینہ نے کہا : عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم ایک غزوے ( غزوہ مریسیع ) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، وہاں ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر ضرب لگائی ، انصاری نے کہا : اے انصار! ( آؤ ، مدد کرو ) اور مہاجر نے کہا : اے مہاجرو! ( آؤ ، مدد کرو ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کیا زمانہ جاہلیت کی طرح کی چیخ و پکار ہے؟ "" انہوں نے کہا : یا رسول اللہ! ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ہے ، آپ نے فرمایا : "" ( جب یہ اتنا چھوٹا سا معاملہ ہے تو جاہلی دور کی سی ) اس ( چیخ و پکار ) کو چھوڑو ۔ یہ ایک کریہہ اور بدبودار بات ہے ۔ "" عبداللہ بن اُبی نے یہ بات سنی تو کہنے لگا : ( اچھا! ) انہوں نے ( ایسا ) کیا ہے ، اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا اسے ، جو ذلت والا ہے ، وہاں سے نکال باہر کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے چھوڑئیے ، میں اس منافق کی گردن اڑاتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے رہنے دو ، کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6584

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا
Jabir b. 'Abdullah reported that a person from the emigrants struck the back of an Ansari. He came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and asked for compensation. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Leave it. for it is something disgusting. Ibn Mansur said that in the narration transmitted on the authority of Amr (these words are also found): I heard Jabir. ) اسحٰق بن ابراہیم ، اسحٰق بن منصور اور محمد بن رافع نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ابن رافع نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی جبکہ دوسرے دونوں نے کہا : خبر دی ۔ ۔ عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ایوب سے خبر دی ، انہوں نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بدلہ دلوانے کی درخواست کی ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری کاروائی کے بعد ) لوگوں سے کہا : "" اس ( چیخ و پکار اور فساد انگیزی ) کو چھوڑ دو ، یہ ایک کریہہ اور بدبودار ( ھرکت ) ہے ۔ "" ابن منصور نے اپنی روایت میں عمرو سے روایت کرتے ہوئے صراحت کی کہ عمرو نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6585

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَابْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا
Abu Musa reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: A believer is like a brick for another believer, the one supporting the other. حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کے مانند ہے ، جس کی ایک ( اینٹ ) دوسری ( اینٹ ) کو مضبوط کرتی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6586

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
Nu'man b. Bashir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of believers in regard to mutual love, affection, fellow-feeling is that of one body; when any limb of it aches, the whole body aches, because of sleeplessness and fever. زکریا نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت ، ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کی طرف التفات و تعاون کی مثال ایک جسم کی طرح ہے ، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی سارا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے سے ( سب اعضاء کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر ) اس کا ساتھ دیتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6587

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
Nu'man b. Bashir reported a hadith like this from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). مطرف نے شعبی سے ، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کی طرح روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6588

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنْ اشْتَكَى رَأْسُهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ
Nu'man b. Bashir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The believers are like one person; if his head aches, the whole body aches with fever and sleeplessness. وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان ( باہم ) ایک ہی انسان کی طرح ہیں ، اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بخار اور بے خوابی کے ذریعے سے باقی سارا جسم اس کا ساتھ دیتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6589

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنْ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وَإِنْ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ ُ
Nu'man b. Bashir reported that Muslims are like one body of a person; if the eye is sore, the whole body aches, and if the head aches, the whole body aches. خیثمہ ( بن عبدالرحمٰن ) نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان ( باہم ) ایک انسان کی طرح ہیں ، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6590

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَه
A hadith like this has been narrated on the authority of Nu'man b. Bashir through another chain of transmitters. ) شعبی نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6591

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When two persons indulge in hurling (abuses) upon one another, it would be the first one who would be the sinner so long as the oppressed does not transgress the limits. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والے جو کچھ بھی کہتے ہیں ، اس کا وبال پہل کرنے والے پر ہے جب تک مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6592

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Charity does not in any way decrease the wealth and the servant who forgives Allah adds to his respect, and the one who shows humility Allah elevates him in the estimation (of the people). حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صدقے نے مال میں کبھی کوئی کمی نہیں کی اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کو عزت ہی میں بڑھاتا ہے اور کوئی شخص ( صرف اور صرف ) اللہ کی خاطر تواضع ( انکسار ) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6593

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do you know what is backbiting? They (the Companions) said: Allah and His Messenger know best. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Backbiting implies your talking about your brother in a manner which he does not like. It was said to him: What is your opinion about this that if I actually find (that failing) in my brother which I made a mention of? He said: If (that failing) is actually found (in him) what you assert, you in fact backbited him, and if that is not in him it is a slander. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ " انہوں ( صحابہ ) نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول خوب جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اپنے بھائی کا اس طرح تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو ۔ " عرض کی گئی : آپ یہ دیکھئے کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات واقعی موجود ہو جو میں کہتا ہوں ( تو؟ ) آپ نے فرمایا : " جو کچھ تم کہتے ہو ، اگر اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی ، اگر اس میں وہ ( عیب ) موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6594

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The servant (whose fault) Allah conceals in this world, Allah would also conceal (his faults) on the Day of Resurrection. ) رَوح ( بن قاسم ) نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دنیا میں جس شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے ، قیامت کے دن بھی اس کا پردہ رکھے گا ۔ "