AL MUSLIM

Search Result (147)

49) The Book Pertaining to the Remembrance of Allah , Supplication , Repentance and Seeking Forgiveness

49) کتاب: ذکر الٰہی‘دعا ‘توبہ اور استغفار

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6805

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, thus stated: I am near to the thought of My servant as he thinks about Me, and I am with him as he remembers Me. And if he remembers Me in his heart, I also remember him in My Heart, and if he remembers Me in assembly I remember him in assembly, better than his (remembrance), and if he draws near Me by the span of a palm, I draw near him by the cubit, and if he draws near Me by the cubit I draw near him by the space (covered by) two hands. And if he walks towards Me, I rush towards him. جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے بارے میں میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں ۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے ( بھری ) مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں ان کی مجلس سے اچھی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں ، اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب جاتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میر قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی پوری لمبارئی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں ، اگر وہ میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس جاتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6806

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعً
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but there is no mention of these words: He draws near Me by the space of a hand, I draw near him by the space (covered) by two hands. ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ " اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی پوری لمبائی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6807

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ أَتَيْتُهُ بِأَسْرَعَ
Hammam b. Munabbih reported so many ahadith from Abu Huraira and one out of them is this that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that Allah thus stated: When My servant draws close to me by the span of a palm, I draw close to him by the space of a cubit, and when he draws close to Me by the space of a cubit, I draw close to him by the space (covered) by two hands, and when he draws close to Me by the space (covered by) two hands, I go in hurry towards him. ) ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " جب بندہ ایک بالشت ( بڑھ کر ) میرے پاس آتا ہے تو میں ایک ہاتھ ( بڑھ کر ) اس کے پاس جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ ( بڑھ کر ) میرے پاس آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر ( بڑھ کر ) اس کے پاس جاتا ہوں اور اگر وہ دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر بڑھ کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں ، اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6808

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ جُمْدَانُ فَقَالَ سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ قَالُوا وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ
Abu Huraira reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was travelling along the path leading to Mecca that he happened to pass by a mountain called Jumdan. He said: Proceed on, it is Jumdan, Mufarradun have gone ahead. They (the Companions of the Holy Prophet) said: Allah's Messenger, who are Mufarradun? He said: They are those males and females who remember Allah much. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چلے جا رہے تھے کہ آپ کا ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ہوا جس کو جمدان کہا جاتا ہے ، آپ نے فرمایا : " چلتے رہو ، یہ جُمدان ہے ۔ مفردون 0لوگوں سے الگ ہو کر تنہا ہو جانے والے ) بازی لے گئے ۔ " لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! مفردون سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : " کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے ( مرد ) اور اللہ کو یاد کرنے والی ( عورتیں ۔ ) "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6809

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ مَنْ أَحْصَاهَا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There are ninety-nine names of Allah; he who commits them to memory would get into Paradise. Verily, Allah is Odd (He is one, and it is an odd number) and He loves odd number. And in the narration of Ibn 'Umar (the words are): He who enumerated them. عمرو ناقد ، زُہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ عمرو کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ، جس نے ان کی حفاظت کی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور اللہ وتر ( طاق ) ہے ، وتر کو پسند کرتا ہے ۔ " اور ابن ابی عمر کی روایت میں ہے : " جس نے ان کو شمار کیا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6810

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَزَادَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily, there are ninety-nine names for Allah, i. e. hundred excepting one. He who enumerates them would get into Paradise. And Hammam has made this addition on the authority of Abu Huraira who reported it from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he said: He is Odd (one) and loves odd number. معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے ابن سیرین سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، نیز ( ایوب نے ) ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ کے ننانوے ، ایک کم سو نام ہیں ، جس نے ان ( سب ) کو شمار کیا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ "" اور ہمام نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مزید یہ بیان کیا "" بےشک وہ ( اللہ ) طاق ہے ، طاق ہی کو پسند کرتا ہے ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6811

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ
Anas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When one of you makes supplication, he should supplicate with a will and should not say: O Allah, confer upon me if Thou likest, for there is none to coerce Allah. ) عبدالعزیز بن صُہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تک تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو قطعیت کے ساتھ ( اصرار کرتے ہوئے ) دعا کرے اور یہ نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دے دے ، کیونکہ اللہ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6812

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ وَلْيُعَظِّمْ الرَّغْبَةَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When one of you makes a supplication (to his Lord) one should not say: O Allah, grant me pardon, if Thou so likest, but one should beg one's (Lord) with a will and full devotion, for there is nothing so great in the eye of Allah which He cannot grant. علاء کے والد ( عبدالرحمٰن ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یہ نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، بلکہ وہ پختگی اور اصرار سے سوال کرے اور بڑی رغبت کا اظہار کرے ، کیونکہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز بڑی نہیں ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6813

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّ اللَّهَ صَانِعٌ مَا شَاءَ لَا مُكْرِهَ لَهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: None of you should say to Allah (like this): O Allah, grant me mercy, if thou so likest. The supplication (of his) should (be permeated with) conviction (that it would be accepted by the Lord), for Allah is the Doer of (everything) He likes to do, and there is none to force Him (to do or not to do this or that). عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما ۔ وہ دعا میں پختگی اور قطعیت سے کام لے کیونکہ اللہ جو چاہے وہی کرتا ہے ، کوئی نہیں جو اسے مجبور کر سکے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6814

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِيُ
Anas (b. Malik) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying. None of you should make a request for death because of the trouble in which he is involved, but if there is no other help to it, then say: O Allah, keep me alive as long as there is goodness in life for me and bring death to me when there is goodness in death for me. عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص کسی نقصان ( مصیبت ) کی وجہ سے ، جو اس پر نازل ہو ، موت کی تمنا نہ کرے ۔ اگر اسنے لامحالہ موت مانگنی بھی ہو تو یوں کہے : اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے وفات دے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6815

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ كِلَاهُمَا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَه
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters, but with a small variation of wording. ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انہوں نے کہا : " کسی نقصان کی وجہ سے جو اسے پہنچے ۔ " ( نازل ہو نہیں کہا ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6816

حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ وَأَنَسٌ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ قَالَ أَنَسٌ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ
Nadr b. Anas reported, as when Anas was alive, that he said: Had Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) not stated this.. None should make a request for death, I would have definitely done that. عاصم نے ہمیں نضر بن انس سے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ان دنوں زندہ تھے ۔ ( نضر نے ) کہا : انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ ہوتا : " تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے " تو میں موت کی تمنا کرتا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6817

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ وَقَدْ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ فِي بَطْنِهِ فَقَالَ لَوْ مَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ
Abu Hazim reported: I visited Khabbab who had seven cauteries on his stomach and he said: Had Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) not forbidden us to call for death, I would have done so. عبداللہ بن ادریس نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اس وقت ان کے پیٹ پر ( علاج کے لئے ) سات جگہ ( تپتی ہوئی دھات سے ) داغ لگائے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا : اگر یہ نہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے منع فرمایا تھا ، تو میں اس ( موت ) کی دعا کرتا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6818

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَوَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been transmitted on the authority of Isma'il through other chains of narrators. سفیان بن عیینہ ، جریر بن عبدالحمید ، وکیع ، عبداللہ بن نمیر ، معتمر بن سلیمان اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6819

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ انْقَطَعَ عَمَلُهُ وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا
Hammam b. Munabbih said: Abu Huraira narrated to us ahadith from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and out of these one is that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: None amongst you should make a request for death, and do not call for it before it comes, for when any one of you dies, he ceases (to do good) deeds and the life of a believer is not prolonged but for goodness معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ ( بھی ) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ہرگز موت کی تمنا نہ کرے ، نہ موت آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص مر گیا تو اس کا عمل منقطع ہو گیا ( مزید عمل کی مہلت ختم ہو گئی ) اور مومن کی عمر اس کی بھلائی ہی میں اضافہ کرتی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6820

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
Ubida b. Samit reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who loves to meet Allah, Allah also loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah also abhors to meet him. ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھے ، اللہ اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6821

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubada b. Samit through another chain of transmitters. شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6822

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ فَقَالَ لَيْسَ كَذَلِكِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
A'isha reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him. I ('A'isha) said: Allah's Apostle, so far as the feeling of aversion against death is concerned, we all have this feeling. Thereupon he (the Holy Prophet) said: It is not that (which you construe), but (this) that when a believer (at the time of death) is given the glad tidings of the mercy of Allah, His Pleasure, and of Paradise, he loves to meet Allah, and Allah also loves to meet him, and when an unbeliever is given the news of the torment at the Hand of Allah, and Hardship to be imposed by Him, he dislikes to meet Allah and Allah also abhors to meet him. خالد بن حارث بجیمی نے کہا : ہمیں سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے زُرارہ سے ، انہوں نے سعد بن ہشام سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ " میں نے کہا : اللہ کے نبی! کیا اس سے موت کی ناپسندیدگی مراد ہے؟ ہم میں سے ہر شخص ( طبعا ) موت کو ناپسند کرتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ بات نہیں ہے ، لیکن جب مومن کو اللہ کی رحمت ، اس کی رضامندی اور جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس ( ناشکرے اور متکبر ) سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6823

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been reported on the authority of Qatida with the same chain of transmitters. محمد بن بکر نے کہا : ہمیں سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6824

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ
A'isha reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who loves to meet Allah, Allah also loves to meet him, and who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him. There is death before (one is able to) meet Allah. علی بن مسہر نے زکریا سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے شریح بن بانی سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے ۔ " ( ملاقات کا معاملہ اس کے بعد آئے گا ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6825

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
A hadith like this has been narrated on the authority of A'isha through another chain of transmitters. عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں زکریا نے عامر ( شعبی ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے شُریح بن بانی نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اسی ( گزشتہ روایت ) کے مانند ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6826

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا فَقَالَتْ إِنَّ الْهَالِكَ مَنْ هَلَكَ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَلَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ فَقَالَتْ قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ إِذَا شَخَصَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ وَتَشَنَّجَتْ الْأَصَابِعُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who loves meeting Allah, Allah loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him. I (Shuraih b. Hani, one of the narrators) came to A'isha and said to her: Mother of the faithful, I heard Abu Huraira narrate from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) which, if it is actually so, is a destruction to us. Thereupon she said: Those are in fact ruined who are ruined at the words of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). What are (the words which in your opinion would cause your destruction)? He said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had stated: He who loves to meet Allah, Allah too loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah too abhors to meet him, and there is none amongst us who dons not hate death. Thereupon she said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has in fact stated this, but it does not mean what you construe, but it implies (the time) when one loses the lustre of the eye, and there is rattling in the throat, shudder in the body and convulsion in fingers (at the time of death). (It is about this time) that it has been said: He who loves to meet Allah, Allah would love to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah would abhor to meet him عبثر نے مطرف سے ، انہوں نے عامر سے ، انہوں نے شریح بن ہانی سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ ( شریح بن ہانی نے ) کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی : ام المومنین! میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، اگر وہ اسی طرح ہے ( جس طرح وہ بیان کرتے ہیں ) تو ہم ہلاک ہو گئے ۔ تو انہوں ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے فرمایا : ہلاک ہونے والا واقعی وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے ہلاک ہوا ، ( بتاؤ ) وہ کیا حدیث ہے؟ ( میں نے عرض کی : ) انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے " اور ہم میں ایسا کوئی نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو ، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا ، لیکن ( مفہوم کے اعتبار سے ) جس طرف تم گئے ہو وہ بات اس طرح نہیں بلکہ ( وہ اس طرح ہے کہ ) جب نگاہ اوپر کی طرف اٹھ جاتی ہے اور سینے میں سانس اکھڑ رہی ہوتی ہے اور جلد پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انگلیاں ٹیڑھی ہو کر اکڑ جاتی ہیں تو اس وقت جو اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو ( اس وقت ) اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6827

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْثَرٍ
This hadith has been reported on the authority of Mutarrif with the same chain of transmitters. جریر نے مطرف سے اسی سند کے ساتھ عبثر کی حدیث کے مانند خبر دی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6828

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
Abu Musa reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who loves to meet Allah, Allah too loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him. حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6829

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him as saying that Allah thus stated: I live in the thought of My servant as he thinks of Me and with him as he calls Me. یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے ، میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6830

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا أَوْ بُوعًا وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, said: When My servant draws close to Me by the span of a palm, I draw close to him by the cubit and when he draws close to Me by the cubit, I draw close to him by the space (covered) by two armspans, and when he comes to me walking, I go in a hurry towards him. یحییٰ بن سعید اور ابن ابی عدی نے سلیمان تیمی سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس جاتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6831

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
This hadith has been narrated on the authority of Mu'tamar from his father with the same chain of transmitters, with a slight variation of wording. معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور " جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس جاتا ہوں " ذکر نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6832

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُ وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, thus stated: I live in the thought of My servant as he thinks about Me, and I am with him, as he remembers Me. And if he remembers Me in his heart, I also remember him in My Heart, and if he remembers Me in assembly I remember him in the assembly, better than he (does that), and if he draws near Me by the span of a palm I draw near him by the cubit, and if he draws near Me by the cubit I draw near him by the space (covered by) two hands. And if he walks towards Me, I rush towards him. ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے تو میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں ۔ اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں ان لوگوں کی مجلس سے بہتر مجلس میں اس کو یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں ، اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں پھیلے ہوئے دونوں ہاتھوں کی لمبائی جتنا ( فاصلہ ) اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس آتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6833

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ
Abu Dharr reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, stated: He who comes with goodness, there are in store for him ten like those and even more than those: 'And he who comes with vice, ' it is only for that that he is called to account. I even forgive him (as I like) and he who draws close to Me by the span of a palm I draw close to him by the cubit, and he who draws close to Me by the cubit I draw close to him by the space (covered) by two hands, and he who walks towards Me I rush towards him, and he who meets Me in the state that his sins fill the earth, but not associating anything with Me, I would meet Him with the same (vastness) of pardon (on My behalf). This hadith has been transmitted on the authority of Waki'. وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل فرماتا ہے : جو شخص ایک نیکی لے کر آتا ہے ، اسے اس جیسی دس ملتی ہیں اور میں بڑھا ( بھی ) دیتا ہوں اور جو شخص برائی لے کر آتا ہے تو اس کا بدلہ اس جیسی ایک برائی ہے یا ( چاہوں تو ) معاف کر دیتا ہوں ، جو ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کےپھیلاؤ جتنا اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے ، میں اس کے پاس دوڑتا ہوا جاتا ہوں اور جو مجھ سے پوری زمین کی وسعت بھر گناہوں کے ساتھ ملاقات کرتا ہے ( اور ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا ، میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملاقات کرتا ہوں ۔ "" ( امام مسلم کے شاگرد ) ابراہیم نے کہا : ہم سے حسب بن بشر نے ، ان کو وکیع نے یہی حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6834

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ
A hadith like this has been transmitted on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and he (further) said: There is for him ten like that (the good he performed) or more than that. ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ملتی ہیں ، یا میں ( اس سے بھی ) زیادہ دیتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6835

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ قَالَ نَعَمْ كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ أَفَلَا قُلْتَ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited a person from amongst the Muslims in order to inquire (about his health) who had grown feeble like the chicken. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Did you supplicate for anything or beg of Him about that? He said: Yes. I used to utter (these words): Impose punishment upon me earlier in this world, what Thou art going to impose upon me in the Hereafter. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Hallowed be Allah, you have neither the power nor forbearance to take upon yourself (the burden of His Punishment). Why did you not say this: O Allah, grant us good in the world and good in the Hereafter, and save us from the torment of Fire. He (the Holy Prophet) made this supplication (for him) and he was all right. محمد بن ابوعدی نے حمید سے ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ایک ایسے شخص کی عیادت کی جو لاغر ہو کر چوزے کی طرح ہو گیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا کرتے تھے یا اس سے کچھ مانگتے تھے؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، میں کہتا تھا : اے اللہ! تو مجھے آخرت میں جو سزا دینے والا ہے ابھی دنیا ہی میں دے دے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ پاک ہے! تم میں اس کی طاقت نہیں ہے ۔ ۔ یا ( فرمایا : ) تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ تم نے یہ کیوں نہ کہا : اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ سے دعا فرمائی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6836

حَدَّثَنَاه عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ وَلَمْ يَذْكُرْ الزِّيَادَةَ
This hadith has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording. خالد بن حارث نے کہا : ہمیں حمید نے اسی سند کے ساتھ دعا کے ان الفاظ تک حدیث بیان کی : " ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا " اور اس سے اضافی بات بیان نہیں کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6837

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ وَقَدْ صَارَ كَالْفَرْخِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حُمَيْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ لَا طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited a person from amongst his Companions who had grown as feeble as the chicken. The rest of the hadith is the same, but with this variation that he (the Holy Prophet) said: You have not power enough to undergo the torment imposed by Allah. And there is no mention of: He supplicated Allah for him and He cured him. حماد نے کہا : ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لےگئے ، وہ چوزے کی طرح ( لاغر ) ہو گیا تھا ، اس کے بعد حمید کی حدیث کے ہم معنی ہے ، مگر انہوں نے اس طرح کہا : " تم میں اللہ کا عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں " انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اللہ سے دعا کی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6838

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
This hadith had been transmitted on the authority of Anas through another chain of narrators. ) قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6839

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَتَتَبَّعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ فَيَقُولُونَ جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُهَلِّلُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيَسْأَلُونَكَ قَالَ وَمَاذَا يَسْأَلُونِي قَالُوا يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ قَالَ وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا لَا أَيْ رَبِّ قَالَ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا وَيَسْتَجِيرُونَكَ قَالَ وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي قَالُوا مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ قَالَ وَهَلْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا لَا قَالَ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا وَيَسْتَغْفِرُونَكَ قَالَ فَيَقُولُ قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا قَالَ فَيَقُولُونَ رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ قَالَ فَيَقُولُ وَلَهُ غَفَرْتُ هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying Allah has mobile (squads) of angels, who have no other work (to attend to but) to follow the assemblies of Dhikr and when they find such assemblies in which there is Dhikr (of Allah) they sit in them and some of them surround the others with their wings till the space between them and the sky of the world is fully covered, and when they disperse (after the assembly of Dhikr is adjourned) they go upward to the heaven and Allah, the Exalted and Glorious, asks them although He is best informed about them: Where have you come from? They say: We come from Thine servants upon the earth who had been glorifying Thee (reciting Subhan Allah), uttering Thine Greatness (saying Allah o-Akbar) and uttering Thine Oneness (La ilaha ill Allah) and praising Thee (uttering al-Hamdu Lillah) and begging of Thee. Be would say: What do they beg of Me? They would say: They beg of Thee the Paradise of Thine. He (God) would say: Have they seen My Paradise? They said: No, our Lord. He would say: (What it would be then) if they were to see Mine Paradise? They (the angels) said: They seek Thine protection. He (the Lord) would say: Against what do they seek protection of Mine? They (the angels) would say: Our Lord, from the Hell-Fire. He (the Lord) would say: Have they seen My Fire? They would say: No. He (the Lord) would say: What it would be if they were to see My Fire? They would say: They beg of Thee forgiveness. He would say: I grant pardon to them, and confer upon them what they ask for and grant them protection against which they seek protection. They (the angels) would again say: Our Lord, there is one amongst them such and such simple servant who happened to pass by (that assembly) and sat there along with them (who had been participating in that assembly). He (the Lord) would say: I also grant him pardon, for they are a people the seat-fellows of whom are in no way unfortunate. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو ( اللہ کی زمین میں ) چکر لگاتے رہتے ہیں ، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں ، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں ( اللہ کا ) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور دنیا کے آسمان کے درمیان ( کی وسعت کو ) بھر دیتے ہیں ۔ جب ( مجلس میں شریک ہونے والے ) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ ( فرشتے ) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں ، کہا : تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے : تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں : ہم زمین میں ( رہنے والے ) تیرے بندوں کی طرف سے ( ہو کر ) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے ، تیزی بڑائی کہہ رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھی سے مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے ۔ فرمایا : کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : پروردگار! ( انہوں نے ) نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا! ( کس الحاح و زاری سے مانگتے! ) وہ کہتے ہیں : اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : تیری آگ ( جہنم ) سے ، اے رب! فرمایا : کیا انہوں نے میری آگ ( جہنم ) دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : اے رب! نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو ( ان کا کیا حال ہوتا! ) وہ کہتے ہیں : وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے ، تو وہ فرماتا ہے : میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انہوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : وہ ( فرشتے ) کہتے ہیں : پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا ، سخت گناہ گار بندہ ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : تو اللہ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی بخش دیا ۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6840

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا يَقُولُ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهِ
Qatada asked Anas which Supplication Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) frequently made. He said: The supplication that he (the Prophet made very frequently is this: O Allah, grant us the good in this world and the good in the Hereafter and save us from the torment of Hell-Fire. He (Qatada) said that whenever Anas had to supplicate he made this very supplication, and whenever he (intended) to make another supplication he (inserted) this very supplication in that. ) عبدالعزیز بن صہیب نے کہا : قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کثرت سے مانگا کرتے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ تھی کہ آپ کہے : "" اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما ، آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔ "" کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ جب کوئی ایک دعا مانگنا چاہتے تو یہی دعا مانگتے اور جب بڑی دعا مانگنا چاہتے تو اس میں یہ دعا بھی مانگتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6841

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to supplicate (in these words): Our Lord, grant us the good in this world and the good in the Hereafter and save us from the torment of Hell Fire. ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دعا فرماتے ہوئے یہ ) کہا کرتے تھے : " اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6842

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنْ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who uttered these words: There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and all the praise is due to Him, and He is Potent over everything one hundred times every day there is a reward of emancipating ten slaves for him, and there are recorded hundred virtues to his credit, and hundred vices are blotted out from his scroll, and that is a safeguard for him against the Satan on that day till evening and no one brings anything more excellent than this, except one who has done more than this (who utters these words more than one hundred times and does more good acts) and he who utters: Hallowed be Allah, and all praise is due to Him, one hundred times a day, his sins are obliterated even if they are equal to the extent of the foam of the ocean. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص دن میں سو مرتبہ : " لا اله الا لله وحده لا شريك له له الملك وله لحمد وهو على كل شيء قدير " اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، ساری بادشاہت اسی کی ہے ، حمد صرف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے " کہے اس شخص کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ملتا ہے ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، اس کے سو گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور یہ کلمات شام تک پورا دن شیطان سے اس کی حفاظت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی شخص اس سے زیادہ افضل عمل نہیں کر سکتا ، سوائے اس شخص کے جو اس سے بھی زیادہ مرتبہ یہی عمل کرے اور جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ " سبحان الله وبحمده " کہا تو اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6843

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who recites in the morning and in the evening (these words): Hallowed be Allah and all praise is due to Him one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جب صبح کرے اور جب شام کرے تو سو بار " سبحان الله وبحمده " کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس کے جو اتنی بار ( یہ کلمات ) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6844

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ حَدَّثَنَا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مِرَارٍ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ
Amr b. Maimun reported: He who uttered: There is no god but Allah, the One, having no partner with Him, His is the Sovereignty and all praise is due to Him and He is Potent over everything ten times, he is like one who emancipated four slaves from the progeny of Isma'il. Rabi' b. ابواسحٰق نے عمرو بن میمون سے روایت کی ، کہا : جس شخص نے دس بار : " لا اله الا لله وحده لا شريك له له الملك وله لحمد وهو على كل شيء قدير " پڑھا وہ اس شخص کی طرح ہو گا جس نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے چار غلام آزاد کیے ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6845

و قَالَ سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ قَالَ مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ مِمَّنْ سَمِعْتُهُ قَالَ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَقُلْتُ مِمَّنْ سَمِعْتُهُ قَالَ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Khuthaim narrated a hadith like this. Sha'bi reported: I said to Rabi': From whom did you hear it? He said: From 'Amr b. Maimun. I came to 'Amr b. Maimun and said to him: From whom did you hear this hadith? He said: from Ibn Abi Laila. I came to Ibn Abi Laila and said to him: From whom did you hear this hadith? He said: From Abu Ayyub Ansari, who narrated from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). شعبی نے ربیع بن خُثیم سے اسی کے مانند روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ربیع سے پوچھا : آپ نے یہ ( حدیث ) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا : عمرو بن میمون سے ، پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا ، ان سے پوچھا : آپ نے یہ ( حدیث ) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا : ابن ابی لیلیٰ سے ، کہا : تو میں ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا : آپ نے یہ ( حدیث ) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنی ، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6846

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Two are the expressions which are light on the tongue, but heavy in scale, dear to the Compassionate One: Hallowed be Allah and praise is due to Him ; Hallowed be Allah, the Great. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور میزان میں بھاری ہیں اور اللہ کو بہت محبوب ہیں : " سبحان الله وبحمده سبحان العظيم " اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور سب حمد اسی کو سزاوار ہے ، اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور عظمت کی ہر صفت سے متصف ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6847

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ أَقُولَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The uttering of (these words): Hallowed be Allah; all praise is due to Allah, there is no god but Allah and Allah is the Greatest, is dearer to me than anything over which the sun rises. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ بات کہ میں " سبحان الله والحمدلله ولا اله الا لله والله اكبر " کہوں ، مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6848

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ قَالَ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ قَالَ فَهَؤُلَاءِ لِرَبِّي فَمَا لِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي قَالَ مُوسَى أَمَّا عَافِنِي فَأَنَا أَتَوَهَّمُ وَمَا أَدْرِي وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ مُوسَى
Mu'sab b. Sa'd reported on the authority of his father that a desert Arab came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said to him: Teach me the words which I should (often) utter. He said: Utter, There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Allah is the Greatest of the great and all praise is due to Him. Hallowed be Allah, the Lord of the worlds, there is no Might and Power but that of Allah, the All-Powerful and the Wise. He (that desert Arab) said: These all (glorify) my Lord. But what about me? Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should say: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to righteousness and provide me sustenance. Musa (one of the narrators) said: I think he also said: Grant me safety. But I cannot say for certain whether he said this or not. Ibn Abi Shaiba has not made a mention of the words of Musa in his narration. ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں علی بن مسہر اور ابن نمیر نے موسیٰ جہنی سے حدیث بیان کی ، اور ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بھی یہی حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں موسی جہنی نے معصب بن سعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : مجھے کچھ کلمات سکھائیے جنہیں میں ( بطور ذکر ) کہا کروں ۔ آپ نے فرمایا : "" یہ کہا کرو : "" لا اله الا لله وحده لا شريك له الله اكبر كبيرا والحمدلله كثيرا وسبحان الله رب العالمين لا حول ولا قوة الا بالله العزيز الحكيم "" "" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ بڑائی میں سب سے بڑا ہے اور بے حد و حساب تعریف اللہ کی ہے ، اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں ، وہ سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ، کسی میں برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر صرف اور صرف اللہ کی دی ہوئی جو سب پر غالب ہے ، بڑی حکمت والا ہے ۔ "" اس شخص نے کہا : یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں ، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کہو : "" اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى "" اے اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔ "" موسیٰ نے کہا : جہاں تک "" عافنى "" مجھے عافیت عطا کر "" کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مجھے تھوڑا سا وہم ہے اور مجھے یقین نہیں ہے ، اور ابن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں موسیٰ کا یہ قول نقل نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6849

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي
Abu Malik Ashaja'i reported on the authority of his father that whenever a person embraced Islam, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) instructed him to recilte: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness and provide me sustenance. عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے اپنے والد ( طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : جو شخص اسلام قبول کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے : " اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى " " اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6850

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي
Abu Malik reported on the authority of his father that when a person embraced Islam, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to teach him how to observe prayer and then commanded him to supplicate in these words: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness, grant me protection and provide me sustenance. ابومعاویہ نے کہا؛ ہمیں ابومالک اشجعی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نماز سکھاتے ، پھر اس کو حکم دیتے کہ ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرے : اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وعافنى وارزقنى
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6851

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي وَيَجْمَعُ أَصَابِعَهُ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ تَجْمَعُ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ
Abu Malik reported on the authority Of his father that he heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying to the person who bad come to him and asked him as to how he should beg his Lord, that he should utter these words: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, protect me, provide me sustenance, and he collected his fingers together except his thumb and said: It is in these words (that there is supplication) which sums up for you (the good) of this world and that of the Hereafter. یزید بن ہارون نے کہا : ابومالک نے ہمیں اپنے والد سے خبر دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، ( اس وقت ) ان کے پاس ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی : اللہ کے رسول! جب میں اپنے رب سے مانگوں تو کیا کہا کروں؟ آپ نے فرمایا : " تم کہو : " اللهم اغفرلى وارحمنى وعافنى وارزقنى " ساتھ ہی اپنے انگوٹھے کے سوا ( ایک ایک کر کے ) ساری انگلیاں بند کرتے گئے ( اور فرمایا : ) " یہ کلمات تمہارے لیے تمہاری دنیا اور آخرت دونوں جمع کر دیں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6852

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ قَالَ يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ
Mus'ab b. Sa'd reported that his father told him that he had been in the company of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he said: Is one amongst you powerless to get one thousand virtues every day. Amongst those who had been sitting there, one asked: How one amongst us can get one thousand virtues every day? He said: Recite: Hallowed be Allah one hundred times for (by reciting them) one thousand virtues are recorded (to your credit) and one tbousand vices are blotted out. ) معصب بن سعد سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمائے؟ " آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے پوچھا ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا : " وہ سو بار سبحان الله کہے ۔ اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کے سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6853

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who alleviates the suffering of a brother out of the sufferings of the world, Allah would alleviate his suffering from the sufferings of the Day of Resurrection, and he who finds relief for one who is hard-pressed, Allah would make things easy for him in the Hereafter, and he who conceals (the faults) of a Muslim, Allah would conceal his faults in the world and in the Hereafter. Allah is at the back of a servant so long as the servant is at the back of his brother, and he who treads the path in search of knowledge, Allah would make that path easy, leading to Paradise for him and those persons who assemble in the house among the houses of Allah (mosques) and recite the Book of Allah and they learn and teach the Qur'an (among themselves) there would descend upon them tranquility and mercy would cover them and the angels would surround them and Allah mentions them in the presence of those near Him, and he who is slow-paced in doing good deeds, his (high) lineage does not make him go ahead. ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص اس راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ، اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں لوگوں کا کوئی گروہ اکٹھا نہیں ہوتا ، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس و تدریس کرتے ہیں مگر ان پر سکینت ( اطمینان و سکون قلب ) کا نزول ہوتا ہے اور ( اللہ کی ) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے اور جس کے عمل نے اسے ( خیر کے حصول میں ) پیچھے رکھا ، اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6854

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَاه نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَخَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي أُسَامَةَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ التَّيْسِيرِ عَلَى الْمُعْسِرِ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters but with a slight variation of wording. عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس طرح ابومعاویہ کی حدیث ہے ، مگر ابواسامہ کی حدیث میں تنگدست کے لیے آسانی کرنے کا ذکر نہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6855

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ
Agharr Abi Muslim reported: I bear witness to the fact that both Abu Huraira and Abu Sa'id Khudri were present when Allah's Messenger may peace be upon him) said: The people do not sit but they are surrounded by angels and covered by Mercy, and there descends upon them tranquillity as they remember Allah, and Allah makes a mention of them to those who are near Him. ) محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابواسحاق کو ابومسلم اغر سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں ، ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دی کہ آپ نے فرمایا : " جو قوم بھی اللہ عزوجل کو یاد کرنے کے لیے بیٹھتی ہے ، ان کو فرشتے گھیر لیتے ہیں ، رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر اطمینان قلب نازل ہوتا ہے اور اللہ ان کا ذکر ان میں کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6856

و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters. عبدالرحمٰن نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6857

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ
Abu Sa'id Khudri reported that Mu'awiya went to a circle in the mosque and said: What makes you sit here? They said: We are sitting here in order to remember Allah. He said: I adjure you by Allah (to tell me whether you are sitting here for this very purpose)? They said: By Allah, we are sitting here for this very purpose. Thereupon, he said: I have not demanded you to take an oath, because of any allegation against you and none of my rank in the eye of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) is the narrator of so few ahadith as I am. The fact is that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went out to the circle of his Companions and said: What makes you sit? They said: We are sitting here in order to remember Allah and to praise Him for He guided us to the path of Islam and He conferred favours upon us. Thereupon he adjured by Allah and asked if that only was the purpose of their sitting there. They said: By Allah, we are not sitting here but for this very purpose, whereupon he (the Messenger) said: I am not asking you to take an oath because of any allegation against you but for the fact that Gabriel came to me and he informed me that Allah, the Exalted and Glorious, was talking to the angels about your magnificence. حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں ایک حلقے ( والوں ) کے پاس سے گزرے ، انہوں نے کہا : تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا : ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا : کیا اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تمہیں اس کے علاوہ اور کسی غرض نے نہیں بٹھایا؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم اس کے علاوہ اور کسی وجہ سے نہیں بیٹھے ، انہوں نے کہا؛ دیکھو ، میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے قسم نہیں دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری حیثیت کا کوئی شخص ایسا نہیں جو حدیث بیان کرنے میں مجھ سے کم ہو ، ( اس کے باوجود اپنے یقینی علم کی بنا پر میں تمہارے سامنے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اپنے ساتھیوں کے ایک حلقے کے قریب تشریف لائے اور فرمایا : " تم کس غرض سے بیٹھے ہو؟ " انہوں نے کہا : ہم بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد کر رہے ہیں کہ اس نے اسلام کی طرف ہماری رہنمائی کی ، اس کے ذریعے سے ہم پر احسان کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہو؟ " انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم اس کے سوا اور کسی غرض سے نہیں بیٹھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی ، بلکہ میرے پاس جبریل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرما رہا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6858

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ
Al-Agharr al-Muzani, who was one amongst the Companions (of the Holy Prophet) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is (at times) some sort of shade upon my heart, and I seek forgiveness from Allah a hundred times a day. ثابت نے ابو بُردہ سے اور انہوں نے حضرت اغرمزنی رضی اللہ عنہ سے ، جنہیں شرفِ صحبت حاصل تھا ، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے دل پر غبار سا چھا جاتا ہے تو میں ( اس کیفیت کے ازالے کے لیے ) ایک دن میں سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6859

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَغَرَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ
Al-Agharr al-Muzani who was from amongst the Companions of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reported that Ibn 'Umar stated to him that Allah's Messenger (may peace 'be upon him) said: O people, seek repentance from Allah. Verily, I seek repentance from Him a hundred times a day. غندر نے شعبہ سے ، انہوں نے عمرہ بن مُرہ سے اور انہوں نے ابوبُردہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت اغر رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ ۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ۔ ۔ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگو! اللہ کی طرف توبہ کیا کرو کیونکہ میں اللہ سے ۔ ۔ ایک دن میں ۔ ۔ سو بار توبہ کرتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6860

حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters. عبیداللہ کے والد معاذ ، ابوداؤد اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند سے ( یہی ) روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6861

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as say- ing: He who seeks repentance (from the Lord) before the rising of the sun from the west (before the Day of Resurrection), Allah turns to him with Mercy. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6862

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ قَالَ وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
Abu Musa reported: We were along with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on a journey when the people began to pronounce Allahu Akbar in a loud voice. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O people, show mercy to yourselves for you are not calling One who is deaf or absent. Verily, you are calling One who is All-Hearing (and) Near to you and is with you. Abu Musa said that he had been behind him (the Prophet) and reciting: There is neither might nor power but that of Allah. He (the Prophet), while addressing 'Abdullah b. Qais, said: Should I not direct you to a treasure from amongst the treasures of Paradise? I ('Abdullah b. Qais) said: Allah's Messenger, do it, of course. Thereupon he (the Prophet) said: Then recite: There is no might and no power but that of Allah. محمد بن فضیل اور ابومعاویہ نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ بلند آواز کے ساتھ اللہ اکبر کہنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو ، تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو ، نہ غائب کو ، تم اس کو پکار رہے ہو جو ہر وقت خوب سننے والا ہے ، قریب ہے اور تمہارے ساتھ ہے ۔ " اس وقت میں آپ کے پیچھے تھا اور یہ کہہ رہا تھا : " لا حول ولا قوة الا بالله " " گناہوں سے بچنے اور نیکی کی قوت صرف اور صرف اللہ سے ملتی ہے ۔ " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عبدالہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کا پتہ نہ بتاؤں؟ " میں نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله " کہا کرو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6863

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of 'Asim with the same chain of transmitters. ) حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6864

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَصْعَدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلَا ثَنِيَّةً نَادَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
Abu Musa reported that he (and his other companions) were climbing upon the hillock along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and when any person climbed up, he pronounced (loudly): There is no god but Allah, Allah is the Greatest. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily, you are not supplicating One Who is deaf or absent. He said: Abu Musa or Abdullah b Qais, should I not direct you to the words (which form) the treasure of Paradise? I said: Allah's Messenger, what are these? He said: There is no might and no power but that of Allah. یزید بن زُریع نے کہا : ہمیں ( سلیمان ) تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ، کہا : ایک آدمی جب بھی اونچائی پر چڑھتا زور سے پکارنا شروع کر دیتا : " لا اله الا لله والله اكبر " ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ کسی بہرے کو یا اسے جو غائب ہو ، نہیں پکار رہے ۔ " کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوموسیٰ! یا ( فرمایا : ) عبداللہ بن قیس! کیا تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانے میں سے ہے؟ " میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله " ( گناہوں سے بچنے کی ) کوئی کوشش اور ( نیکی کرنے کی ) کوئی قوت اللہ کے سوا کسی سے حاصل نہیں ہوتی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6865

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa with a slight variation of wording. معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کی طرح بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6866

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَاصِمٍ
Abu Musa reported: We were along with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on a journey; the rest of the hadith is the same as transmitted by A'sim. ایوب نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، پھر عاصم کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6867

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِكُمْ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
Abu Musa, reported. We were along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in an expedition. The rest of the hadith is the same (and there is an addi- tion of these words in that): He (the Holy Prophet) said: He Whom you are sup- plicating is nearer to every one of you than the neck of his camel. And there is no mention of these words: There is no might and no power but that of Allah. خالد حذاء نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، پھر اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " تم جس کو پکار رہے ہو وہ تم میں سے کسی کی اونٹنی کی گردن کی نسبت بھی اس کے زیادہ قریب ہے ۔ " اور ان ( خالد حذاء ) کی حدیث میں " لا حول ولا قوة الا بالله " کا ذکر نہیں ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6868

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ أَوْ قَالَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَى فَقَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
Abu Musa Ash'ari reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Should I not direct you to the words from the treasures of Paradise, or he said: Like a treasure from the treasures of Paradise? I said: Of course, do that. Thereupon he said: There is no might and no power but that of Allah. عثمان بن غیاث نے کہا : ہمیں ابوعثمان نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا : " کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ بتاؤں؟ " ۔ ۔ یا فرمایا : ۔ ۔ " جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کا پتہ نہ بتاؤں؟ " میں نے عرض کی : کیوں نہیں ( ضرور بتائیں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6869

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي قَالَ ‏ ‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَبِيرًا - وَقَالَ قُتَيْبَةُ كَثِيرًا - وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‏ ‏ ‏.‏
Abu Bakr reported that he said to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Teach me a supplication which I should recite in my prayer. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Recite: O Allah, I have done great wrong to myself. According to Qutaiba (the words were: ) much (wrong) -there is none to forgive the sins but Thou only, say: Grant me pardon from Thyself, have mercy upon me for Thou art much Forgiving and Compassionate. ابو بکر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اﷲ ﷺ سے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ مجھے ایک دعا سکھلائیے جس کو میں پڑھا کروں اپنی نماز میں آپ نے فرمایا یہ کہا کر یااﷲ میں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کیا ہے یا بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا سوا تیرے تو بخش دے مجھے اپنے پاس کی بخشش سے اور رحم کر مجھ پر تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6870

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقَولُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي وَفِي بَيْتِي ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ظُلْمًا كَثِيرًا
This hadith has been transmitted on the authority of 'Amr b. al-'As that Abu Bakr Siddiq said to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) Allah's Messenger, teach me a supplication which I should make in my prayer and in my house. The rest of the hadith is the same except with this variation that he said: Much wrong (Zulman Kathira). عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ایک آدمی نے جس کا انہوں نے نام لیا اور عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی اور انہوں نے ابوالخیر سے روایت کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی دعا سکھائیے جس کو میں اپنی نماز میں بھی مانگا کروں اور اپنے گھر میں بھی مانگا کروں ۔ ۔ پھر لیث کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ مگر انہوں نے ( بغیر شک کے ) " ظلما كثيرا " ( بہت ظلم کیا ) کہا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6871

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
A'isha reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to make these supplications: O Allah, I seek refuge in Thee from the trial of Hell-Fire; and from the torment of Hell-Fire; and from the trial of the grave and torment of the grave; and from the evil of the trial of the affluence and from the evil of the trial of poverty and I seek refuge in Thee from the evil of the turmoil of the Dajjal. O Allah, wash away my sins with snow and hail water, purify my heart from the sins as is purified the white garment from the dirt, and keep away at a distance the sins from me as yawns the distance between the East and the West; O Allah, I seek refuge in Thee from sloth, from senility, from sin, and from debt. ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اللہ تعالیٰ سے ) یہ دعائیں مانگا کرتے تھے : " اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے اور آگ کے عذاب سے اور غنا کی آزمائش کے شر سے اور فقر کی آزمائش کے شر سے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں جھوٹے مسیح کے فتنے کی برائی سے ۔ اے اللہ! میری خطائیں برف اور اولوں ( کے پانی ) سے دھودے ، اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح صاف ستھرا کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کرتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ ڈال دے جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان ڈالا ہے ۔ اے اللہ! میں سستی ، عاجز کر دینے والے بڑھاپے ، گناہ اور قرج ( کے غلبے ) سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6872

و حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters. ابومعاویہ اور وکیع نے ہمیں ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6873

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters. ابن علیہ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں عاجز ہونے ، سستی ، بزدلی ، بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6874

و حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ كِلَاهُمَا عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ يَزِيدَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلُهُ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
Anas reported from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (this suppli- cation) but with this variation that these words are not found in that supplication: From the trial of life and death. یزید بن زریع اور معتمر دونوں نے تیمی سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، البتہ یزید کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول : " اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے ( میں تیزی پناہ میں آتا ہوں ) " مذکور نہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6875

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تَعَوَّذَ مِنْ أَشْيَاءَ ذَكَرَهَا وَالْبُخْلِ
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to seek refuge in Allah from such things as mentioned in the above-mentioned hadith and from 'miserliness too. ابن مبارک نے سلیمان تیمی سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی اشیاء سے ، جن کا انہوں نے ذکر کیا اور بخل سے اللہ کی پناہ طلب کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6876

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَعْوَرُ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
Anas reported that Allah's Messenger (may peace he upon him) wed to make this supplication: O Allah, I seek refuge in Thee from miserliness, from sloth and from decrepitude. شعیب بن حبحاب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں مانگا کرتے تھے : " اے اللہ! میں بخل ، سستی ، ذلیل ترین عمر ، قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6877

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي سُمَيٌّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَمِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَمِنْ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ وَمِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ قَالَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ قَالَ سُفْيَانُ أَشُكُّ أَنِّي زِدْتُ وَاحِدَةً مِنْهَا
It was narrated from Abu Huraira that: Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to seek refuge (in Allah) from the evil of what has been decreed, from misery, from the mockery of (triumphant) enemies, and from severe calamity. `Amr (one of the narrators) said in his narration: Sufyan said: 'I fear I may have added one of them (the phrases). ) عمرو ناقد اور زُہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے سُمی نے ابوصالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان کے حق میں برا ثابت ہونے والے فیصلے ، بدبختی کے آ لینے ، اپنی تکلیف پر دشمنوں کے خوش ہونے اور عاجز کر دینے والی آزمائش سے پناہ مانگا کرتے تھے ۔ عمرو نے اپنی حدیث ( کی سند ) میں کہا : سفیان نے کہا : مجھے شک ہے کہ ( شاید ) میں نے ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بڑھا دی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6878

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ
Khaula bint Hakim Sulamiyya reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When anyone lands at a place, and then says: I seek refuge in the Perfect Word of Allah from the evil of what He has created, nothing would harm him until he marches from that stopping place. لیث نے یزید بن ابی حبیب سے اور انہون نے حارث بن یعقوب سے روایت کی کہ یعقوب بن عبداللہ نے انہیں حدیث سنائی ، انہوں نے بسر بن سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا ، میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ سے سنا ، وہ کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جو شخص کسی ( بھی ) منزل پر اترا اور اس نے یہ کلمات کہے : میں اللہ ( سے اس ) کے مکمل ترین کلمات کی پناہ طلب کرتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ، تو اس شخص کو اس منزل سے چلے جانے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6879

و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ وَهْبٍ وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ
Khaula bint Hakim Sulamiyya reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When any one of you stays at a place, he should say: I seek refuge in the Perfect Word of Allah from the evil of that He created. Nothing would then do him any harm until he moves from that place. عبداللہ بن وہب نے کہا : ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی کہ یزید بن ابی حبیب اور حارث بن یعقوب نے انہیں یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ سے روایت کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کوئی شخص جب کسی منزل پر پہنچے تو یہ کلمات کہے : " میں ہر اس چیز کے شر سے جو اللہ نے پیدا کی ، اس نے مکمل ترین کلمات کی پناہ میں آتا ہوں ، اس طرح وہاں سے کوچ کر جانے تک کوئی بھی چیز اسے نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6880

قَالَ يَعْقُوبُ وَقَالَ الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ قَالَ أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ
Abu Huraira reported that a person came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, I was stung by a scorpion during the night. Thereupon he said: Had you recited these words in the evening: I seek refuge in the Perfect Word of Allah from the evil of what He created, it would not have done any harm to you. یعقوب نے کہا : قعقاع بن حکیم نے ذوان سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے اس بچھو سے کتنی شدید تکلیف پہنچی جس نے کل رات مجھے کاٹ لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم نے جب رات کی تھی ، یہ ( کلمات ) کہہ دیتے : میں ہر اس چیز کے شر سے جسے اللہ نے پیدا کیا ، اس کے کامل ترین کلمات کی پناہ میں آتا ہوں تو وہ ( بچھو ) تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچاتا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6881

و حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ يَعْقُوبَ أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ مَوْلَى غَطَفَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with a slight variation of wording. لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے جعفر سے ، انہوں نے یعقوب سے روایت کی ، انہوں نے ان کو بتایا کہ غطفان کے آزاد کردہ غلام ابوصالح نے انہیں بتایا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہتے تھے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول! مجھے بچھو نے کاٹ لیا ۔ ( آگے ) ابن وہب کی حدیث کے مانند ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6882

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ وَاجْعَلْهُنَّ مِنْ آخِرِ كَلَامِكَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ قَالَ فَرَدَّدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُنَّ فَقُلْتُ آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ قَالَ قُلْ آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ
Al-Bara' b. 'Azib reported that Allah's, Messenger (may peace be upon said: When you go to bed, perform ablution as is done for prayer; then lie down pn the right side and recite: O Allah, I turn my face towards Thee and entrust my affair to Thee. I retreat unto Thee for protection with hope in Thee and fear of Thee. There is no resort and no deliverer (from hardship) but Thou only. I affirm my faith in Thine books which Thou revealed and in Thine Apostles whom Thou sent. Make this as the last word of yours (when you go to sleep) and in case you die during that night, you would die upon Fitra (upon Islam). And as I repeated these words in order to commit them to memory, I said: I affirm my faith in Thy Messenger (Rasul) whom Thou sent. He said: Say: I affirm my faith in the Apostle (Nabi) whom Thou sent. منصور نے سعد بن عبیدہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرو ، پھر اپنی دائیں کروٹ لیٹو ، پھر یہ کہو : "" اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی ، یہ سب سے امید اور تیرے خوف کے ساتھ کیا ۔ تیرے سوا تجھ سے نہ کہیں پناہ مل سکتی ہے ، نہ نجات حاصل ہو سکتی ہے ۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ۔ ان کلمات کو تم ( اپنی زبان سے ادا ہونے والے ) آخری کلمات بنا لو ( ان کے بعد اور کچھ نہ بولو ) تو اس رات اگر تمہیں موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی ۔ "" ( حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے ان کلمات کو یاد کرنے کے لیے انہیں دہرایا تو کہا : "" میں تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ( یوں ) کہو : میں تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6883

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنًا عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ مَنْصُورًا أَتَمُّ حَدِيثًا وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ وَإِنْ أَصْبَحَ أَصَابَ خَيْرًا
This hadith has been transmitted on the authority of al-Bara' b. 'Azib with a slight variation of wording and there is this addition in the hadith transmitted on the authority of Husain: In case you get up in the morning, you will get up with bliss. حُصین بن سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ، مگر منصور نے زیادہ مکمل حدیث بیان کی اور حصین کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : " اگر یہ ( کہنے والا ) صبح کرے گا تو خیر حاصل کرے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6884

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنْ اللَّيْلِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ مِنْ اللَّيْلِ
Al-Bara' b. 'Azib reported that Allah's Messenger (in may peace be upon him) commanded a person (in these words): When you go to bed during night, you should say: O Allah, I surrender myself to Thee and entrust my affair to Thee, with hope in Thee and fear of Thee. There is no resort and no deliverer (from hardship but Thou). I affirm my faith in the Book which Thou revealed and in the Messengers whom Thou sent. If you die in this state you would die on Fitra, and Ibn Bashshdr did not make a mention of night in this hadith. محمد بن مثنیٰ نے ابوداود سے اور ابن بشار نے عبدالرحمٰن اور ابوداود دونوں سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمروہ بن مرہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا ، وہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ رات کو اپنی خواب گاہ میں جانے لگے تو ( دعا کرتے ہوئے ) یہ کہے : " اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر لیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا ، یہ سب تجھی سے امید کرتے ہوئے اور تجھی سے ڈرتے ہوئے کیا ۔ تجھ سے خوف تیرے سوا نہ پناہ کی کوئی جگہ ہے نہ نجات کی ۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ، پھر اگر ( اس رات ) اسے موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی ۔ " ابن بشار نے اپنی حدیث میں : " رات کے وقت " ( بستر پر جانے لگے ) کے الفاظ نہیں کہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا
This hadith has been transmitted on the authority of al-Bara' b. 'Azib that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to a person: O, so and so, as you go to your bed; the rest of the hadith is the same but with this variation of wording that he said: Thine Apostle whom Thou sent. If you die that night you would die on Fitra and if you get up in the morning you would get up with a bliss. ابو احوص نے ابواسحٰق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : " اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو ۔ ۔ ۔ " اس کے بعد عمرو بن مرہ کی حدیث کے مانند ہے ۔ ( مگر ابو احوص نے منصور کی روایت کی طرح ) یہ الفاظ کہے : " ( اور میں ایمان لایا ) تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ، پھر اگر تم اس رات مر گئے تو ( عین ) فطرت پر مرو گے اور اگر تم نے ( زندہ حالت میں ) صبح کر لی تو خیر ( و بھلائی ) حاصل کرو گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6886

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا
This hadith has been transmitted on the authority of al-Bara' b. 'Azib that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded a person (in these words) and there is no mention of this: if you get up in the morning you would get up with a bliss. شعبہ نے ابواسحٰق سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا ، اسی کے مانند ، اور انہوں نے " اگر تم نے ( زندہ حالت میں ) صبح کی تو خیر حاصل کرو گے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6887

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنْ أَبَي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
Al-Bara' reported that whenever Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went to bed, he said: O Allah, it is with Thine Name that I live and it is with Thine Name that I die. And when he got up he used to say: Praise is due to Allah, Who gave us life after our death (sleep) and unto Thee is resurrection. حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا کرتے : " اے اللہ! میں تیرے نام سے جیتا ہوں اور تیرے نام سے وفات پاؤں گا " اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے : " اللہ کی حمد ہے جس نے ہمیں وفات دینے کے بعد زندہ کر دیا اور اسی کی طرف ( قیامت کے روز ) زندہ ہو کر جاتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6888

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ فَقَالَ مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ
Abdullah b. 'Umar commanded a person that as he went to bed, he should say: O Allah, Thou created my being and it is for Thee to take it to its ultimate goal. And its death and life is due to Thee, and if Thou givest it life, safeguard it; and if Thou bringst death, grant it pardon. O Allah, I beg of Thee safety. A person said to him: Did you hear it from Umar? Thereupon he said: (I have heard from one) who is better than Umar, viz. from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Ibn Nafi, reported this on the authority of Abdullah b. Harith but he did not make mention of this that he heard it himself . عقبہ بن مُکرم اور ابوبکر بن نافع نے کہا : ہمیں غندر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خالد سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن حارث کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے ایک شخص سے کہا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کرے : "" اے اللہ! میری جان کو تو نے پیدا کیا اور تو ہی اس کو موت دے گا ، اس جان کی موت بھی اور زندگی بھی تیرے ہی لیے ہے ، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرمانا اور اگر تو اس کو موت دے تو اس کی مغفرت کرنا ، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت مانگتا ہوں ۔ "" ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ان سے جو حضرت عمر سے زیادہ افضل ہیں ( میں نے یہ حدیث ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سنی ہے ۔ ) ابن نافع نے اپنی روایت میں کہا : عبداللہ بن حارث سے روایت ہے ، یہ نہیں کہا : میں نے سنا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6889

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ قَالَ كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Suhail reported that Abu Salih used to command us (in these words): When any one of you intends to go to sleep, he should lie on the bed on his right side and then say: O Allah. the Lord of the Heavens and the Lord of the Earth and Lord of the Magnificent Throne, our Lord, and the Lord of evervthina, the Splitter of the grain of corn and the datestone (or fruit kernal), the Revealer of Torah and Injil (Bible) and Criterion (the Holy Qur'an), I seek refuge in Thee from the evil of every- thing Thou art to sieze by the forelock (Thou hast perfect control over it). O Allah, Thou art the First, there is naught before Thee, and Thou art the Last and there is naught after Thee, and Thou art Evident and there is nothing above Thee, and Thou art Innermost and there is nothing beyond Thee. Remove the burden of debt from us and relieve us from want. Abu Salih used to narrate it from Abu Huraira who narrated it from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). جریر نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ( میرے والد ) ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے ، پھر دعا کرے : اے اللہ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب ، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب ، دانے اور گٹھلیوں کو چیر ( کر پودے اور درخت اگا ) دینے والے! تورات ، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے ، اے اللہ! تو ہی اول ہے ، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں ، اے اللہ! تو ہی آخر ہے ، تیرے بعد کوئی شے نہیں ہے ، تو ہی ظاہر ہے ، تیرے اوپر کوئی شے نہیں ہے ، تو ہی باطن ہے ، تجھ سے پیچھے کوئی شے نہیں ہے ، ہماری طرف سے ( ہمارا ) قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے غنا عطا فرما ۔ وہ اس حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ ( آگے ) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6890

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذْنَا مَضْجَعَنَا أَنْ نَقُولَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا
Abu Huraira reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to command us that as we go to our bedo, we should utter the words (as mention- ed above) and he also said (these words): From the evil of every animal, Thou hast hold upon its forelock (Thou bast full control over it). خالد طحان نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹیں تو یہ دعا کریں ، جریر کی حدیث کے مانند ( اور خالد طحان نے " ہر اس چیز کے شر سے " کے بجائے ) کہا : " ہر اس جاندار کے شر سے ( تیری پناہ چاہتا ہوں ) جسے تو نے اس کی پیشانی سے پکڑا ہوا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6891

و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ لَهَا قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ
Abu Huraira reported that Fatima (the daughter of the Holy Prophet) came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and asked for a servant. He said to her: Say: O Allah, the Lord of the seven heavens ; the rest of the hadith is the same. اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خادم مانگنے کے لیے آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جواب میں ) ان سے کہا : " ( بیٹی! ) تم کہا کرو : اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب! " جس طرح سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6892

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ وَلْيُسَمِّ اللَّهَ فَإِنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا خَلَفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ وَلْيَقُلْ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as say- ing: When any one of you goes to bed, he should take hold of the hem of his lower garment and then should clean (his bed) with the help of that and then should recite the name of Allah for he himself does tiot know what he left behind him on his bed, and when he intends to lie on bed, he should lie on his right side and utter these words: Hallowed be Allah, my Lord. It is with Thine (grace) that I place my side (upon the bed) and it is with Thee that I take it up (after sleep), and in case Thou withholdst my being (if thou causest me to die), then grant pardon to my being, and if Thou keepst (this process of breathing on), then protect it with that with which Thou protected Thine pious servants. انس بن عیاض نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر لیٹنا چاہے تو اپنے تہبند کا اندرونی حصہ لے کر اس سے اپنے بستر کو جھاڑے ، پھر بسم اللہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس ( کے اٹھ جانے ) کے بعد اس کے بستر پر ( مخلوقات میں سے ) کون آیا؟ پھر جب لیٹنا چاہے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹے اور کہے : " میرے پروردگار! تو ( ہر نا شایان بات سے ) پاک ہے ، میں نے تیرے ( حکم ) سے اپنا پہلو ( بستر پر ) رکھا اور تیرے ہی حک سے اسے اٹھاؤں گا اگر تو نے میری روح کو ( اپنے پاس ) روک لیا تو اس کی مغفرت کر دینا اور اگر تو نے اسے ( واپس ) بھیج دیا تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمانا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6893

و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ ثُمَّ لْيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي فَإِنْ أَحْيَيْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا
This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah b. Umar with the same chain of transmitters and he said: Then utter: My Lord. with Thine name I place my side and if Thou keepest me alive have mercy upon myself عبدہ نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی اور کہا : " پھر وہ یہ ہے : تیرے نام سے اے پروردگار! میں نے اپنا پہلو ٹکایا ، اگر تو نے میری جان کو زندہ کیا تو اس پر رحمت فرمانا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6894

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ
Anas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When you go to bed, say: Praise is due to Allah Who fed us, provided us drink, sufficed us and provided us with shelter, for many a people there is none to suffice and none to provide shelter. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو فرماتے : " اللہ تعالیٰ کی حمد ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا ، ( ہر طرح سے ) کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانا دیا ۔ کتنے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے نہ ٹھکانہ دینے والا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6895

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهَ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
Farwa' b. Naufal Ashja'i reported: I asked: 'A'isha, in what words did Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) supplicate Allah? She said that he used to utter: I seek refuge in Thee from the evil of what I did and from the evil of what I did not. Farwa' b. Naufal Ashja'i reported: I asked: 'A'isha, in what words did Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) supplicate Allah? She said that he used to utter: I seek refuge in Thee from the evil of what I did and from the evil of what I did not. منصور نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل اشجعی سے روایت کی ، کہا : میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کیا دعائیں کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے : " اے اللہ! جو میں نے کیا اس کے شر سے اور جو میں نے نہیں کیا ، اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6896

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
Farwa' b. Naufal reported: I asked 'A'isha about the supplication that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made. She said that he used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from the evil of what I have done and from the evil of what I have not done. عبداللہ بن ادریس نے حصین سے ، انہوں نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دعا فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں نے جو کام کیے ہیں ، ان کے شر سے اور جو کام میں نے نہیں کیے ، ان کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6897

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
This hadith has been narrated on the authority of Muhammad b. ja'far through another chain of transmitters. ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے اور انہوں نے حصین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، مگر محمد بن جعفر کی حدیث میں ( وشر ما لم اعمل کے بجائے ) و من شر ما لم اعمل ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6898

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
Farwa' b. Naufal reported on the authority of 'A'isha that Allah's Mes- senger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to supplicate (in these words): O Allah, I seek refuge in Thee from the evil of what I did and from the evil of what I did not. عبدہ بن ابولبابہ نے ہلال بن سیاف سے ، انہوں نے فروہ بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے : " اے اللہ! میں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے اور ان کے شر سے جو نہیں کیے ، تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6899

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to say: O Allah, it is unto Thee that I surrender myself. I affirm my faith in Thee and repose my trust in Thee and turn to Thee in repentance and with Thy help fought my adversaries. O Allah, I seek refuge in Thee with Thine Power; there is no god but Thou, lest Thou leadest me astray. Thou art ever-living that dieth not, while the Jinn and mankind die. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں تیرے لیے فرمانبردار ہو گیا ، تیرے ساتھ ایمان لایا ، تجھ پر بھروسہ کیا ، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے ( کفر کے ساتھ ) مخاصمت کی ۔ اے اللہ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں ۔ ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ۔ کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا دے ۔ ۔ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6900

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ يَقُولُ سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ
Abu Huraira reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) set out on a journey in the morning, he used to say: A listener listened to our praising Allah (for) His goodly trial of us. Our Lord! acompany us, guard us and bestow upon us Thy grace. I am seeker of refuge in Allah from the Fire. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں ہوتے اور سحر کے وقت اٹھتے تو فرماتے : " ( ہماری طرف سے ) اللہ کی حمد اور اس کے انعام کی خوبصورتی ( کے اعتراف ) کا سننے والا یہ بات دوسروں کو بھی سنا دے ۔ اے ہمارے رب! ہمارے ساتھ رہ ، ہم پر احسان کر ، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کر رہا ہوں ۔ "