AL MUSLIM

Search Result (106)

51) Characteristics of the Hypocrites and Rulings Convering Them

51) کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7024

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَاءَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ فَقَالَ كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوهُ شِدَّةٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقِي إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالَ ثُمَّ دَعَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَ فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ و قَوْله كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ وَقَالَ كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْءٍ
Zaid b. Arqam reported: We set out on a journey along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in which we faced many hardships. 'Abdullah b. Ubayy said to his friends: Do not give what you have in your possession to those who are with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) until they desert him. Zubair said: That is the reciting of that person who recited as min haulahu (from around him) and the other reciting is man haulahia (who are around him). And in this case when we would return to Medina the honourable would drive out the meaner therefrom (lxiv. 8). I came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and informed him about that and he sent someone to 'Abdullah b. Ubayy and he asked him whether he had said that or not. He took an oath to the fact that he had not done that and told that it was Zaid who had stated a lie to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Zaid said: I was much perturbed because of this until this verse was revealed attesting my truth: When the hypocrites come (lxiii. 1). Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then called them in order to seek forgiveness for them, but they turned away their heads as if they were hooks of wood fixed in the wall (lxiii. 4), and they were in fact apparently good-looking persons. ) ہمیں زہیر بن معاویہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابواسحٰق نے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، اس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہ ہو جائیں ، ان پر کچھ خرچ نہ کرو ( مہاجرین سے تعاون بند کر دو ۔ ) زہیر نے کہا : اور یہ اس کی قراءت ہے جس نے حوله کو زیر کے ساتھ من حوله پڑھا ۔ اور اس نے ( یہ بھی ) کہا : اگر ہم مدینہ کو لوٹ گئے تو جو عزت والے ہیں وہ وہاں سے ذلت والوں کو نکال دیں گے ۔ ( زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتا دی ، آپ نے عبداللہ بن اُبی کو بلوایا اور اس سے ( اس بات کے متعلق ) پوچھا ، اس نے بہت پکی قسم کھائی کہ اس نے ایسا نہیں کہا اور کہا : زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا ہے ۔ ( حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میرے دل کو ان لوگوں کی اس بات سے بہت تکلیف پہنچی ، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں یہ آیت نازل کی : "" جب آپ کے پاس منافقین آتے ہیں "" پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے استغفار کے لیے ان کو بلوایا تو انہوں نے ( تمسخر سے ) اپنے سر ٹیڑھے کر لیے ۔ "" اور ( اس آیت میں ) اللہ تعالیٰ کے قول : "" گویا وہ سہارے سے کھڑے ہوئے شہتیر ہیں "" ( سے مراد ) حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا : ( یہ ہے کہ ) یہ لوگ ( جسمانی اعتبار سے سیدھے ، لمبے اور دیکھنے میں ) بہت خوبصورت تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7025

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ
Jabir reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to the grave of 'Abdullah b. Ubayy, brought him out from that, placed him on his knee and put his saliva in his mouth and shrouded him in his own shirt and Allah knows best. سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے روایت کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لائے ، اس کو قبر سے نکال کر اپنے گھٹنوں پر رکھا ، اس پر اپنا لعاب مبارک چھڑکا اور اسے اپنی قمیص پہنچائی ، ( ایسا کیوں کیا؟ ) اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7026

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to the grave of 'Abdullah b. Ubayy as he was placed in that. The rest of the hadith is the same. ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس اس کو اس کے گڑھے میں داخل کر دیے جانے کے بعد آئے ، پھر سفیان کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7027

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَسَأَزِيدُهُ عَلَى سَبْعِينَ قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ
Ibn 'Umar reported that when 'Abdullah b. Ubayy b. Salul died. His son 'Abdullah b. 'Abdullah (b. Ubayy) came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and begged him that he should give him his shirt which he would use as a coffin for his father, he gave him that. He then begged that he should conduct funeral prayer for him. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had hardly got up to observe the prayer for him that 'Umar stood up and caught hold of the garment of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, are you going to conduct prayer for this man, whereas Allah has forbidden you to offer prayer for him? Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah has given me an option as He has said: You may beg pardon for them or you may not beg pardon for them, and even if you beg pardon for them, seventy times (ix. 80), and I am going to make an addition to the seventy. He was a hypocrite and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) offered prayer for him and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: Do not offer prayer for any one of them at all and do not stand upon their graves for (offering prayer over them) (ix. 84). ابواسامہ نے کہا : ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب عبداللہ بن ابی ابن سلول مر گیا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ سے سوال کیا کہ آپ اپنی قمیص اس کو عطا فرمائیں ، جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دیں تو آپ نے ( وہ قمیص ) ان کو عطا کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور ( التجا کرنے کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے ( کے ایک کنارے ) کو پکڑ لیا اور کہا : اللہ کے رسول! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے ، اس نے فرمایا ہے : " آپ ان کے لیے استغفار کریں یا استغفار نہ کریں ، خواہ آپ ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کریں " اور میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا ۔ " ( عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : یقینا وہ منافق ہے ، ( مگر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی ، اس پر اللہ عزوجل نے ( واضح حکم ) نازل فرمایا : " اور ان ( منافقین ) میں سے جو شخص مر جائے آپ کبھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7028

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ قَالَ فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah with the same chain of transmitters but with this addition: He then abandoned offering (funeral) prayer for them. ) یحییٰ قطان نے عبیداللہ ( بن عمر بن حفص ) سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور مزید یہ کہا : چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز جنازہ ترک کر دی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7029

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتُرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ وَقَالَ الْآخَرُ يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَقَالَ الْآخَرُ إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَهُوَ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ الْآيَةَ
Ibn Mas'ud reported that there gathered near the House three persons amongst whom two were Quraishi and one was a Thaqafi or two were Thaqafis and one was a Quraishi. They lacked understanding but wore more flesh. One of them said: Do you think that Allah hears as we speak? The other one said: He does hear when we speak loudly and He does not hear when we speak in undertones, and still the other one said: If He listens when we speak loudly, He also listens when we speak in undertones. It was on this occasion that this verse was revealed: You did not conceal yourselves lest your ears, your eyes and your skins would stand witness against you (xli. 22). محمد بن ابی عمر مکی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : تین آدمی بیت اللہ کے پاس اکٹھے ہوئے ، ( ان میں سے ) دو قریشی تھے اور ایک ثقفی تھا ، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی تھا ، ان کے دلوں کا فہم کم تھا ، ان کے پیٹوں کی چربی بہت تھی ۔ ان میں سے ایک نے کہا : کیا تم سمجھتے ہو کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں ، اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا : اگر ہم اونچی آواز سے بات کریں تو سنتا ہے اور آہستہ بات کریں تو نہیں سنتا ۔ تیسرے نے کہا : اگر ہم اونچا بولیں تو وہ سنتا ہے تو پھر ہم آہستہ بولیں تو بھی سنتا ہے ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ آیتیں ) نازل فرمائیں : " تم اس لیے ( اپنی باتیں ) نہیں چھپا رہے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7030

و حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ح و قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah through another chain of transmitters. ) ابوبکر بن خلاد باہلی نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سلیمان نے عمارہ بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے وہب بن ربیعہ سے اور انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، نیز ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے منصور نے مجاہد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7031

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ فَرَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ قَالَ بَعْضُهُمْ نَقْتُلُهُمْ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا فَنَزَلَتْ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ
Zaid b. Thabit reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) set out for Uhud. Some of those persons who were with them came back. The Companions of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) were divided in two groups. One group said: We would kill them, and the other one said: No, this should not be done, and it was on this occasion that this verse was revealed: Why should you, then, be two parties in relation to hypocrites? (iv. 88). معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن یزید کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( جنگ کے لئے ) اُحد کی جانب روانہ ہوئے ۔ جو لوگ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ واپس آ گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ان کے بارے میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ۔ بعض نے کہا : ہم انہیں قتل کر دیں اور بعض نے کہا : نہیں ۔ تو ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تم وہ دو گروہ بن گئے ہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7032

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters. یحییٰ بن سعید اور غندر دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7033

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رِجَالًا مِنْ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْهُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنْ الْعَذَابِ
Abu Sa'id Khudri reported that during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the hypocrites behaved in this way that when Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) set out for a battle, they kept themselves behind, and they became happy that they had managed to sit in the house contrary to (the act of) Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and when Allah's Apostle (may peace he upon him) came back, they put forward excuses and took oath and wished that people should laud them for the deeds which they had not done. It was on this occasion that this verse was revealed: Think not that those who exult in what they have done, and love to be praised for what they have not done-think not them to be safe from the chastisement; and for them is a painful chastisement (iii. 18). ) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کچھ منافقین ایسے تھے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ کے لئے تشریف لے جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اپنے پیچھے رہ جانے پر خوش ہوتے ، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو آپ کے سامنے عذر بیان کرتے اور قسمیں کھاتے اور چاہتے کہ لوگ ان کاموں پر ان کی تعریف کریں جو انہوں نے نہیں کیے تھے ، اس پر یہ ( آیت نازل ) ہوئی : " ان لوگوں کے متعلق گمان نہ کرو جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیا ، ان کے متعلق یہ گمان بھی نہ کرو کہ وہ عذاب سے بچنے والے مقام پر ہوں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7034

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أَتَى وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ الْآيَةِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ
Humaid b. 'Abd al-Rahman b. 'Auf reported that Marwan said to Rafi', his chamberlain, that he should go to Ibn 'Abbas and ask him: If every one of us be punished for his being happy upon his deed and for his being praised for what he has not done, nobody would be saved from the torment. Ibn 'Abbas said: What you have to do with this verse? It has been in fact revealed in connection with the people of the Book. Then Ibn Abbas recited this verse: When Allah took a covenant from those who had been given the Book: You shall explain it to people and shall not conceal this (iii. 186), and then Ibn 'Abbas recited this verse: Think not that those who exult in what they have done and love to be praised for what they have not done (iii. 186). Ibn 'Abbas (further) said: Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked them about something and then they concealed that and they told him something else and they went out and they thought that they had informed him as lie had asked them and they felt happy of what they had concealed. ابن جریج سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے ابن ابی ملیکہ نے بتایا ، انہیں حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا : " رافع! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور کہو کہ اگر یہ بات ہے کہ ہم میں سے ہر شخص جو اپنے کیے پر خوش ہوتا ہے اور ہر ایک جو یہ پسند کرتا ہے کہ جو اس نے نہیں کیا ، اس پر اس کی تعریف کی جائے ، اس کو عذاب ہو گا تو ہم سب ہی ضرور عذاب میں ڈالے جائیں گے ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں کا اس آیت سے کیا تعلق ( بنتا ) ہے؟ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں اتری تھی ، پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ( اس سے پہلی ) یہ آیت پڑھی : " اور جب اللہ نے ان لوگوں کا ، جنہیں کتاب دی گئی تھی ، عہد لیا کہ تم اسے لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کرو گے اور اس کو چھپاؤ گے نہیں ۔ " پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ( اس کے بعد والی ) آیت تلاوت فرمائی : " ان لوگوں کے بارے میں گمان نہ کرو جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیا ۔ " اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( ان کی کتاب میں لکھی ہوئی ) کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ سے وہ چیز چھپا لی اور ( اس کے بجائے ) ایک دوسری بات بتا دی اور وہ اس طرح نکلے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو پوچھا تھا ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی بتا دیا ہے اور اس بات پر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعریف بھی بٹورنی چاہی اور جو بات آپ نے ان سے پوچھی وہ بات چھپا کر انہوں نے جو کچھ لیا تھا اس پر ( اپنے دلوں میں ) خوش بھی ہوئے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7035

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَلَكِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ
Qais reported: I said to 'Ammar: What is your opinion about that which you have done in case (of your siding with Hadrat 'Ali)? Is it your personal opinion or something you got from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? 'Ammar said: We have got nothing from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) which people at large did not get, but Hudhaifa told me that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had especially told him amongst his Companion, that there would be twelve hypocrites out of whom eight would not get into Paradise, until a camel would be able to pass through the needle hole. The ulcer would be itself sufficient (to kill) eight. So far as four are concerned, I do not remember what Shu'ba said about them. اسود بن عامر نے کہا : ہمیں شعبہ بن حجاج نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس ( بن عباد ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نے اپنے اس کام پر غور کیا جو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کیا ہے ( ان کا بھرپور ساتھ دیا ہےاور ان کے مخالفین سے جنگ تک کی ہے ) یہ آپ کے اپنے غوروفکر سے اختیار کی ہوئی آپ کی رائے تھی یا ایسی چیز تھی جس کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کے سپرد کی تھی؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی ذمہ داری ہمارے سپرد نہیں کی جو انہوں نے تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو لیکن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے ساتھیوں میں سے بارہ افراد منافق ہیں ، ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے ( کبھی داخل نہیں ہوں گے ) ، ان میں آٹھ ایسے ہیں ( کہ ان کے شر سے نجات کے لیے ان کے کندھوں کے درمیان ظاہر ہونے والا سرخ ) پھوڑا تمہاری نجات کے لیے تمہیں کفایت کرے گا ۔ اور چار ۔ " ( آگے کا حصہ ) مجھے ( اسود بن عامر کو ) یاد نہیں کہ شعبہ نے ان ( چار ) کے بارے میں کیا کہا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7036

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ قُلْنَا لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي أُمَّتِي قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ وَقَالَ غُنْدَرٌ أُرَاهُ قَالَ فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنْ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ
Qais b. 'Ubad reported: We said to 'Ammar: Was your fighting (on the side of 'Ali in the Battle of Siffin) a matter of your own choice or you got its hints from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for it, is likely for one to err in one's own discretion or was it because of any covenant that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got from you? He said: It was not because of any covenant that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got from us which he did get from other people, and he further said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: In my Ummah. And I think that Hudhaifa reported to me and according to Ghundar (the words are) that he said: In my Ummah, there would be twelve hypocrites and they would not be admitted to Paradise and they would not smell its odour, until the camel would pass through a needle's hole. Dubaila (ulcer) would be enough to (torment them) -a kind of flame of Fire which would appear in their shoulders and it would protrude from their chest. محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا؛ ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں ) اپنی جنگ کو کیسے دیکھتے ہیں ، کیا یہ ایک رائے ہے جو آپ نے غوروفکر سے اختیار کی ہے؟ تو رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی ، یا کوئی ذمہ داری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی ایسی ( خصوصی ) ذمہ داری نہیں دی تھی جو تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" بےشک میری امت میں ۔ ۔ ۔ "" شعبہ نے کہا : اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھا : مجھے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ( یہ ) حدیث سنائی ۔ اور غندر نے کہا : مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے کہا : "" میری امت میں بارہ منافق ہیں ، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے ، جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے ۔ ان میں سے آٹھ ایسے ہیں ( کہ ان کے شر سے بچاؤ کے لیے ) تمہاری کفایت ایک ایسا پھوڑا کرے گا جو آگ کے جلتے ہوئے دیے کی طرح ( اوپر سے سرک ) ہو گا ، ان کے کندھوں میں طاہر ہو گا یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نکل آئے گا ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7037

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ قَالَ كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً قَالُوا مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ
Abu Tufail reported that there was a dispute between Hudhaifa and one from the people of Aqaba as it happens amongst people. He said: I adjure you by Allah to tell me as to how many people from Aqaba were. The people said to him (Hudhaifa) to inform him as he had asked. We have been informed that they were fourteen and If you are to be counted amongst them, then they would be fifteen and I state by Allah that twelve amongst them were the enemies of Allah and of His Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in this world. The rest of the three put forward this excuse: We did not hear the announcement of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and we were not aware of the intention of the people as he (the Holy Prophet) had been in the hot atmosphere. He (the Holy Prophet) then said: The water is small in quantity (at the next station). So nobody should go ahead of me, but he found people who had gone ahead of him and he cursed them on that day. ولید بن جمیع نے کہا : ہمیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ( اس طرح کا ) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے ۔ ( گفتگو کے دوران میں ) انہوں نے ( اس شخص سے ) کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ ( حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے ) کہا : لوگوں نے اس سے کہا : جب وہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو انہیں بتاؤ ۔ ( پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی جواب دیتے ہوئے ) کہا : ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ لوگ تھے اور اگر تم بھی ان میں شامل تھے تو وہ کل پندرہ لوگ تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ دنیا کی زندگی میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں تھے اور ( آخرت میں بھی ) جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین لوگوں کا عذر قبول فرما لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کا اعلان نہیں سنا تھا اور اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرہ میں تھے ، آپ چل پڑے اور فرمایا : " پانی کم ہے ، اس لیے مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے ۔ " چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہاں پہنچ کر ) دیکھا کہ کچھ لوگ آپ سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہیں تو آپ نے اس روز ان پر لعنت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7038

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who climbed this hill, the hill of Murar, his sins would be obliterated as were obliterated the sins of Bani Isra'il. So the first to take their horses were the people of Banu Khazraj. Then there was a ceaseless flow of persons and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to them: All of you are those who have been pardoned except the owner of a red camel. We came to him and said to him: You also come on, so that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) may seek forgiveness for you. But he said: By Allah, so far as I am concerned, the finding of something lost is dearer to me than seeking of forgiveness for me by your companion (the Holy Prophet), and he remained busy in finding out his lost thing. معاذ عنبری نے کہا : ہمیں قروہ بن خالد نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کون ہے جو اس گھاٹی ( یعنی ) مرار کی گھاٹی پرچڑھے گا!بے شک اس کے گناہ بھی اسی طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑ گئے تھے ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو سب سے پہلے جو اس گھاٹی پر چڑھے وہ ہمارے بنو خزرج کے گھوڑ ے تھے ، پھر لوگوں کا تانتابندھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم سب وہ ہو جن کے گناہ بخش دیئے گئے ، سوائے سرخ اونٹ والے شخص کے ۔ "" ہم اس کے پاس آئے اور ( اس سے ) کہا : آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے بھی استغفار فرمائیں ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم!اگر میں اپنی گم شدہ چیز پالوں تو یہ بات مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ تمہارا صاحب میرے لئے مغفرت کی دعا کرے ۔ ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : وہ آدمی اس وقت اپنی سے کم شدہ چیز کو ڈھونڈنے کے لئے آوازیں لگارہا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7039

و حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ أَوْ الْمَرَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَاءَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ
Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who would climb this hill of Murar. The rest of the hadith is the same but with this variation that it was a desert Arab who was finding out his lost thing. یحییٰ بن حبیب حارثی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں خالد بن حارث نےحدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قرہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کون ہےجو مراد مرار یا مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا ۔ " ( آگے ) معاذ عنبری کی حدیث کے مانند ، البتہ ( اس حدیث میں ) انھوں نے کہا : اور وہ ایک اعرابی تھا جو اپنی گم شدہ چیز ڈھونڈنے کے لئے اعلان کرنے کے لئے آیا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7040

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ فَرَفَعُوهُ قَالُوا هَذَا قَدْ كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ فَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا
Anas b. Malik reported: There was a person amongst us who belonged to the tribe of Bani Najjar and he recited Sura al-Baqarah and Surat Al-i-'Imran and he used to transcribe for Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He ran away as a rebel and joined the People of the Book. They gave it much importance and said: He is the person who used to transcribe for Muhammad and they were much pleased with him. Time rolled on that Allah caused his death. They dug the grave and buried him therein, but they found to their surprise that the earth had thrown him out over the surface. They again dug the grave for him and buried him but the earth again threw him out upon the surface. They again dug the grave for him and buried him but the earth again threw him out upon the surface. At last they left him unburied. حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ہم بنو نجار میں سے ایک شخص تھا ، اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھی ( یاد کی ) ہوئی تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کتابت کیا کرتا تھا ، وہ بھاگ کر چلا گیا اور اہل کتاب کے ساتھ شامل ہوگیا ، انھوں نے اس کو بہت اونچا اٹھایا اور کہا : یہ ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے کتابت کرتا تھا وہ اس کے آنے سے بہت خوش ہوئے ، تھوڑے ہی دن گزرے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیچ میں ( ہوتے ہوئے ) اس کی گردن توڑ دی ۔ انھوں نے اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کردیا ۔ صبح ہوئی تو زمین نے اسے اپنی سطح کے ا وپر پھینک دیا تھا ۔ انھوں نے دوبارہ وہی کیا ، اس کی قبر کھودی اور اسے دفن کردیا ۔ پھر صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا تھا ، انھوں نے پھر ( تیسری بار ) اسی طرح کیا ، اس کے لئے قبر کھودی اور اسے دفن کردیا ، صبح کو زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہواتھا تو انھوں نے اسے اسی طرح پھینکا ہوا چھوڑ دیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7041

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ تَكَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاكِبَ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ الْمُنَافِقِينَ قَدْ مَاتَ
Jabir reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came back from a journey and as he was near Medina, there was such a violent gale that the mountain seemed to be pressed. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: This wind has perhaps been made to blow for the death of a hypocrite, and as he reached Medina a notorious hypocrite from amongst the hypocrites had died. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے و اپس آئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب تھے تو اتنے زور کی آندھی چلی کہ قریب تھا وہ سوار کو بھی ( ریت میں ) دفن کردے گی ۔ تو وہ ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) یقین سے کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لئے بھیجی گئی ہے " جب آ پ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو منافقوں میں سے ایک بہت بڑا منافق مرچکا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7042

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ حَدَّثَنَا إِيَاسٌ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَوْعُوكًا قَالَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَشَدَّ حَرًّا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَيْنِكَ الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ
Iyas reported on the authority of his father: We went along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to visit a person suffering from fever. When I placed my hand upon him, I said: By Allah, I have never seen, till this day, a person running higher temperature than he. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), turning his face to his companions, said: May I not inform you of a severer temperature than this which these two persons would run on the Day of Resurrection? And they were two hypocrites riding upon the camel turning their back towards (the Muslims). ایاس ( بن سلمہ بن اکوع ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص کی ، جسے بخار چڑھا ہوا تھا ، عیادت کی ، کہا : میں نے اس ( کےجسم ) پر اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں نے آج کی طرح کسی شخص کو نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ تپ رہا ہو ، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ تپتے ہوؤں کے بارے میں نہ بتاؤں؟یہ دونوں شخص جو ( اونٹوں پر ) سوار ہیں ، اپنے منہ دوسری طرف کیے ہوئے ہیں ۔ " ( آپ نے یہ بات ) دو آدمیوں کے بارے میں ( فرمائی ) جو اس وقت ( ظاہر طور ) آپ کے ساتھیوں میں ( شمار ہوتے ) تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7043

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً
Ibn Umar reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of a hypocrite is that of a sheep which roams aimlessly between two flocks. She goes to one at one time and to the other at another time. عبیداللہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ممیاتی ہوئی بھاگی پھرتی ہے کبھی بھاگ کر اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس طرف جاتی ہے ( کسی بھی ایک ریوڑ کا حصہ نہیں ہوتی ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7044

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً
Ibn Umar reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying like this but with this change of words: She sometimes finds a way in one flock and then in another flock. موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے کہا : " پلٹ کر ایک باراس ( ریوڑ ) میں آتی ہے اور دوسری بار اس میں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7045

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَءُوا فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: A bulky person would be brought on the Day of judgment and he would not carry the weight to the eye of Allah equal even to that of a gnat. Nor shall We set up a balance for them on the Day of Resurrection (xviii. 105). حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( قیامت کے دن ایک بہت بڑا ( اور ) موٹا آدمی آئے گا ، ( لیکن ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ( وزن میں ) مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا ( یہ آیت ) پڑھ لو : " پس ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7046

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
Abdullah b. Mas'ud reported that a Jewish scholar came to Allah's Apostle (may peace he upon him) and said: Muhammad, or Abu al-Qasim, verily, Allah, the Exalted and Glorious would carry the Heavens on the Day of Judgment upon one finger and earths upon one finger and the mountains and trees upon one finger and the ocean and moist earth upon one finger, and in fact the whole of the creation upon one finger, and then He would stir them and say: I am your Lord, I am your Lord. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) smiled testifying what that scholar had said. He then recited this verse: And they honour not Allah with the honour due to Him; and the whole earth will be in His grip on the Day of Resurrection and the heaven rolled up in His right hand. Glory be to Him I and highly Exalted is He above what they associate (with Him) (Az-Zumar:67). افضیل بن عیاض نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا ، اور زمینوں کو ایک انگلی پر ، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اورپانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، بادشاہ میں ہوں ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئےہنسے ، پھر آپ نے ( یہ آیت ) پڑھی : " انھوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ۔ وہ ( ہراس چیز کی شراکت سے ) پاک اور بلند ہے جنھیں وہ ( اس کے ساتھ ) شریک کر تے ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7047

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ جَاءَ حَبْرٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ وَقَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَتَلَا الْآيَةَ
This hadlth has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of truemittm (and the words are): A Jew scholar came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The rest of the hadith is the same, but there is no mention of then He would stir them. But there is this addition: I saw Allah's Messengcr ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) smiling so much that his front teeth appeared and testifying him (th Jew scholar) ; then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited the verse: And they honour not Allah with the honour due to Him (xxxix. 67). جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا : یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، فضیل کی حدیث کے مانند ، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا : "" وہ ( اللہ ) ان ( انگلیوں ) کو ہلائے گا ۔ "" اور ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا ، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ( اس طرح ) ہنسے کہ آپ سے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انھوں نے ( اس طرح ) اللہ کی قدر نہیں کی ( جس طرح ) اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ "" ( اور ( پوری ) آیت تلاوت فرمائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7048

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْأَرْضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
Abdullah reported that a person from the People of the Book came to Allah's Apostle (may peace he upon him) and said: Abu al-Qasim, verily, Allah holds the Heavens upon one finger and the earths upon one finger and the trees and moist earth upon one finger and in fact the whole of the creation upon one finger and then say: I am the King. I am the King. And he (the narrator) further said: I saw Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) smiling until his front teeth became visible and then he recited the verse: And they measure not the power of Allah with His true measure (39:67). حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا : میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر ، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں بادشاہ میں ہوں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ( اس بات پر ) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوئے ، پھرآپ نے ( اس آیت کی ) تلاوت کی : " انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ( اس طرح قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7049

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording. ابو معاویہ ، عیسی بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگران سب کی روایتوں میں ہے : " اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لےگااور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے " اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا " لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے : " اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا " اور انھوں نے جریر کی حدیث میں مذید یہ کہا : " اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ( آپ ہنسے ۔ ) "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7050

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, will take in His grip the Earth on the Day of Judgment and He would roll up the sky in His right hand and would say: I am the Lord; where are the sovereigns of the world? ابن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7051

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying: Allah, the Exalted and Glorious, would fold the Heavens on the Day of Judgment and then He would place them on His right hand and say: I am the Lord; where are the haughty and where are the proud (today)? He would fold the' earth (placing it) on the left hand and say: I am the Lord; where are the haughty and where are the proud (today)? سالم بن عبداللہ نے کہا : مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل قیامت کےدن آسمانوں کو لپیٹے گا ، پھران کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا : بادشاہ میں ہوں ۔ ( آج دوسروں پر ) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، ( آج ) جبر کرنےوالے کہاں ہیں؟تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ ‘ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7052

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ فَيَقُولُ أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا أَنَا الْمَلِكُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Abdullah b. Miqsam reported that he saw Abdullah b. Umar as he narrated Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, would take in His hand His Heavens and His Earth, and would say: I am Allah. And He would clench His fingers and then would open them (and say): I am your Lord. I saw the pulpit in commotion from underneath because of something (vib-ating) there. And (I felt this commotion so much) that I said (to myself): It may not fall with Allah's Massenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) upon it. یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا : مجھے ابو حازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھا کہ وہ ( حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً ) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کرکے دکھاتے ہیں ۔ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : " اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا " میں اللہ ، میں بادشاہ ہوں ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ا پنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے ۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا ، وہ اپنے نچلے حصے سے ( لے کر او پرکے حصے تک ) ہل رہاتھا ۔ یہاں تک کہ میں نے کہا : کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گرجائے گا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7053

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
Abdullah b. Miqsam reported that 'Abdullah b. 'Umar reported: I saw Allah'h Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) upon the pulpit and he was saying that the Mighty Lord, the Exalted and Glorious would take hold of the Heavens and earth in His hand. The rest of the hadith is the same, عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا : مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " ( اللہ ) جبارعزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا ۔ " پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7054

حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ
Abu Huraira reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took hold of my hands and said: Allah, the Exalted and Glorious, created the clay on Saturday and He created the mountains on Sunday and He created the trees on Monday and He created the things entailing labour on Tuesday and created light on Wednesday and He caused the animals to spread on Thursday and created Adam (peace be upon him) after 'Asr on Friday; the last creation at the last hour of the hours of Friday, i. e. between afternoon and night. This hadith is narrated through another chain of transmitters. سریج بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حجاج بن محمد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے اسماعیل بن امیہ نے ایوب بن خالد سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر فرمایا : "" اللہ عزوجل نے مٹی ( زمین ) کو ہفتے کےدن پیداکیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کےدن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلادیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ ( کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں پیدا فرمایا ۔ "" جلودی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے شاگرد ابراہیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حسین بن علی بسطامی ، سہل بن عمار ، حفص کے نواسے ابراہیم اور دوسروں نے حجاج سے یہی حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7055

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ
Sahl b. Sa'd reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The people will be assembled on the Day of Resurrection on a white plain with a reddish tinge like the loaf of white bread with no marks set up for anyone. حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن لوگوں کو غبار کی رنگت ملی ، سفید زمین پر اکٹھا کیا جا ئے گا ، جیسے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی ہو تی ہے اور اس کسی شخص کے لیے کو ئی علامت موجود نہیں ہو گی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7056

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى الصِّرَاطِ
A'isha reported: I asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about the words of Allah, the Exalted and Glorious: The day when the earth would be changed for another earth and Heaven would be changed for another Heaven (XiV. 48), (and inquired: ) (Allah's Messenger), where would the people be on that day? He said: They would be on the Sirat. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول کے متعلق سوال کیا : " جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جا ئے گی اور آسمان ( بھی بدل دیا جائےگا ) تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( پل صراط پر ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7057

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ بَلَى قَالَ تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ بَلَى قَالَ إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ قَالُوا وَمَا هَذَا قَالَ ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا
Abu al-Sa'id Khudri reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that the earth would turn to be one single bread on the Day of Resurrection and the Almighty would turn it in His hand as one of you turns a loaf while on a journey. It would be a feast arranged in the honour of the people of Paradise. He (the narrator) further narrated that a person from among the Jews came and he said: Abu al-Qasim, may the Compassionate Lord be pleased with you! May I inform you about the feast arranged in honour of the people of Paradise on the Day of Resurrection? He said: Do it, of course. He said: The earth would become one single bread. Then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) looked towards us and laughed until his molar teeth became visible. He then again said: May I inform you about that with which they would season it? He said: Do it, of course. He said: Their seasoning would be balim and fish. The Companions of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What is this balam? He said: Ox and fish from whose excessive livers seventy thousand people would be able to eat. عطاءبن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن یہ زمین ایک ہی روئی بن جائے گی ۔ جبار ( اللہ تعالیٰ ) اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرروئی کی طرح بنا دے گا جس طرح تم میں سے کو ئی شخص سفر میں روئی کو الٹ پلٹ کرتا ہے ۔ ( حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اتنے میں یہودیوں میں سے ایک شخص آگیا اس نے کہا : ابو القاسم الرحمٰن آپ پر برکت نازل فرمائے !کیا میں آپ کو قیامت کے روز اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟آپ نے ارشاد فرمایا : " کیوں نہیں ! ( بتاؤ ) اس نے کہا : زمین ایک ( بڑی سی ) روئی بن جا ئے گی ۔ جس طرح ( اس کی آمد سے قبل خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ ( ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتی کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے ۔ اس نے ( پھر ) کہا : کیامیں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں نہ بتاؤں ؟آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں ( بتاؤ ) " اس نے کہا " ان کا سالن بالام اور نون ہو گا یہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا وہ کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیل اور مچھلی یہ اس کے جگر کے چھوٹے سے اضافی حصے کو ( جوا صل جگر کے ساتھ ایک طرف موجود ہو تا ہے ) ستر ہزار لوگ کھائیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7058

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَابَعَنِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ لَمْ يَبْقَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If ten scholars of the Jews would follow me, no Jew would be left upon the surface of the earth who would not embrace Islam. محمد بن سیرین نے ہمیں حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دس ( بڑے ) یہودی ( عالم ) میری پیروی کر لیتے تو روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا مگر مسلمان ہو جا تا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7059

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَقَالُوا مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ لَا يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ فَقَالُوا سَلُوهُ فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَسَأَلَهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ فَأَسْكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ قَالَ فَقُمْتُ مَكَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ قَالَ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
`Abdullah (b. Mas`ud) reported: As I was going along with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in a cultivable land and he (the Holy Prophet) was walking with the support of a wood, a group of Jews happened to meet him. Some of them said to the others: Ask him about the Soul. They said: What is your doubt about it? There is a possibility that you may ask him about anything (the answer of) which you may not like. They said: Ask him. So one amongst them asked him about the Soul. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kept quiet and he gave no reply and I came to know that revelation was being sent to him, so I stood at my place and thus this revelation descended upon him: They ask thee about the Soul. Say: The Soul is by the Commandment of my Lord, and of Knowledge you are given but a little (xvii. 58). حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابراہیم نے علقمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جارہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لے ( کر چل ) رہے تھے کہ آپ کا یہود کے چند لوگوں کے قریب سے گزر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان سے روح کے بارے میں سوال کرو پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : ان کے بارے میں تمھیں شک کس بات کا ہے؟ایسا نہ ہو کہ وہ آگے سے ایسی بات کہہ دیں جو تمھیں بری لگے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوکر آپ کے پاس آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا ۔ ( حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تھوڑی دیر کے لیے ) خاموش ہو گئے اور ان کو کو ئی جواب نہ دیا ۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پروحی نازل ہو رہی ہے ۔ کہا میں بھی اپنی جگہ پر ( رک کر ) کھڑا ہو گیا ۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ پڑھتے ہوئے ) فرمایا : " یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم ( انسانوں ) کو بہت کم علم دیا گیا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7060

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَفْصٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا وَفِي حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَمَا أُوتُوا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ خَشْرَمٍ
Abdullah reported: I was walking along with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in a field of Medina. The rest of the hadith is the same, but there is a slight variation of wording. ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم حنظلی اور علی بن خشرم نے بھی حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ۔ ان دونوں ( وکیع اور عیسیٰ ) نےاعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک ( اجزائے ہوئے ) کھیت میں جارہاتھا ۔ حفص کی حدیث کے مانند مکروکیع کی حدیث میں ہے : "" وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا "" "" اور تم لوگوں کو علم کا تھوڑا حصہ ہی دیا گیا ہے ۔ "" ( جس طرح قرآن کی مشہور متواتر قرآءت ہے ۔ اور عیسیٰ بن یو نس کی اس روایت میں جوان سے ( علی ) بن خشرم نے بیان کی ہے وما اوتوا "" انھیں نہیں دیا گیا "" کے الفاظ ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7061

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ يَقُولُ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ عَنْ الْأَعْمَشِ وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
Abdullah reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was reclining against a tree in the garden. The rest of the hadith is the same with a slight variation of wording. ابو سعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن ادریس سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، میں نے اعمش سے سنا وہ اس روایت کو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مرہ سے اور وہ مسروق سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر رہے تھے ، انھوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں میں ( کھجور کی ) ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے ( چلے جارہے ) تھے پھر اعمش سے ان سب کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور انھوں نے ( بھی ) اپنی روایت میں مشہور اور متواتر قرآءت کے مطابق "" وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا "" بیان کیا ۔ ان روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرث ( کھیت ) اور نخل ( کھجورکے درختوں ) کے درمیان جارہے تھے ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حرث ہے ۔ ( حدیث 4721 ۔ ) جبکہ دوسری روایت میں "" خرب "" ( اجازجگہ ) ہے ۔ ( حدیث : 125 ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھیت جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جارہے تھے ۔ مدینہ کے عام کھیتوں کی طرح کھجور کے باغ میں تھا اور اب اس میں کچھ کاشت نہیں ہو رہاتھا اجڑاہوا اور ناہموار ہونے کی وجہ سے آپ اس کے اندرکھجور کی شاخ کا سہارا لے کر چل رہے تھے ۔ جامع ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ روح کے متعلق یہودیوں سے پوچھ کر قریش مکہ نے بھی سوال کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی یہی جواب دیا تھا ( جمع المومنین حدیث 3140 ) مدینہ میں جب یہود نے خود سوال کیا تو چونکہ وہ اہل کتاب تھے اس لیے یہ امکان تھا کہ ان کی کتاب میں یہی بات کسی اور رنگ میں کہی گئی ہو اور وہ انداز کے اس اختلاف کو اپنے لیےدلیل بنانے کی کو شش کریں اس لیے جواب دینے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف کیا اور اللہ تعالیٰ نے دوبارہ وہی جواب وحی فرمادیا جو تورات کےعین مطابق تھا اور یہود کو اپنے لیے آپ کی رسالت سے انکار کا کو ئی عذر نہ مل سکا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7062

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ كَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لِي لَنْ أَقْضِيَكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي لَنْ أَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ قَالَ وَكِيعٌ كَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا إِلَى قَوْلِهِ وَيَأْتِينَا فَرْدًا
Khabbab reported that Al-`As b. Wa'il owed debt to me. I came to him in order to demand that. He said: I will never repay you unless you belie Muhammad. I said: I would never belie Muhammad until you die and you are again raised up. He said: When I would be raised up after death, I would repay your debt when I would get my property and children back. Waki` said: This is how Al-A`mash has narrated and it was on this occasion that this verse was revealed: Hast thou seen him who disbelieves in Our message and says: I shall certainly be given wealth and children (xix, 77) up to he would come to Us alone (xix, 80). وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو ضحیٰ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت خباب ( بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا ۔ میں اس سے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا : میں اس وقت تک تمھیں ادائیگی نہیں کروں گا ۔ یہاں تک کہ تم نعوذ باللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کرو ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : تم مر کردوبارہ زندہ ہو جاؤ گے ۔ پھر بھی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہیں کروں گا ۔ اس نے کہا : اور میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟تو ( اس وقت ) جب میں دوبارہ مال اور اولاد کے پاس پہنچ جاؤں گاتو تمھیں ادائیگی کردوں گا ۔ وکیع نے کہا : اعمش نے اسی طرح کہا : انھوں نے کہا : اس پریہ آیت نازل ہوئی : "" کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہا : مجھے ( اپنا ) مال اور ( اپنی ) اولاد ضروری دی جائے گی "" سے لے کر اس ( اللہ ) کے فرمان "" اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا "" تک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7063

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ عَمَلًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ
This hadith has been narrated on the authority of Khabbib through another chain of transmitters and the words are. I in the pre-Islamic days used to work as an iron-smith. I did some work for 'As b. Wa'il and came to him for getting the remuneration of my wages. ابو معاویہ عبد اللہ بن نمیر جریر اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ وکیع کی حدیث کی طرح بیان کیا اور جریر کی حدیث میں ہے ۔ ( حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا تو میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا پھر میں اس سے ( اجرت کا ) تقاضا کرنے کے لیے آیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7064

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ أَبُو جَهْلٍ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنْ السَّمَاءِ أَوْ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمْ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
Anas b. Malik reported that Abu Jahl said: O Allah, if he is true, then shower upon us the volley of stones from the sky or inflict upon us a grievous torment, and it was on this occasion that this verse was revealed: 'Allah would never torment them so long as you are amongst them. And Allah is not going to torment them as long as they seek forgiveness. And why is it that Allah should not torment them and they prevent people from coming to the sacred mosque.... (viii. 34) to the end. شعبہ نے عبد الحمید زیادی سے روایت کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا : وہ کہہ رہے تھے کہ ابو جہل نے کہا : اے اللہ !اگر ( یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ) یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ ۔ تو اس پر ( آیت ) نازل ہوئی : " اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر ( اس طرح کا ) عذاب بھیجنے والا نہ تھا جبکہ آپ بھی ان میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب وہ ( علیحدگی میں ) استغفار کیے جارہے تھے ۔ اور انھیں کیا ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دےجبکہ وہ ( ایمان لانے والوں کو ) مسجد حرام سے روکتے ہیں ۔ " آیت کے آخرتک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7065

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ قَالَ فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ قَالَ فَقِيلَ لَهُ مَا لَكَ فَقَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٌ بَلَغَهُ كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ كَلَّا لَا تُطِعْهُ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ يَعْنِي قَوْمَهُ
Abu Huraira reported that Abu Jahl asked (people) whether Muhammad placed his face (on the ground) in their presence. It was said to him: Yes. He said: By Lat and `Uzza. If I were to see him do that, I would trample his neck, or I would smear his face with dust. He came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as he was engaged in prayer and thought of trampling his neck (and the people say) that he came near him but turned upon his heels and tried to repulse something with his hands. It was said to him: What is the matter with you? He said: There is between me and him a ditch of fire and terror and wings. Thereupon Allah's Messenger (may peace he upon him) said: If he were to come near me the angels would have torn him to pieces. Then Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse- (the narrator) said: We do not know whether it is the hadith transmitted by Abu Huraira or something conveyed to him from another source: Nay, man is surely inordinate, because he looks upon himself as self-sufficient. Surely to thy Lord is the return. Hast thou seen him who forbids a servant when he prays? Seest thou if he is on the right way, or enjoins observance of piety? Seest thou if he [Abu Jahl] denies and turns away? Knowest he not that Allah sees? Nay, if he desists not, We will seize him by the forelock-a lying, sinful forelock. Then let him summon his council. We will summon the guards of the Hell. Nay! Obey not thou him (lcvi, 6-19). (Rather prostrate thyself.) Ubaidullah made this addition: It was after this that (prostration) was enjoined upon and Ibn Abd al-Ala made this addition that by Nadiyah he meant his people. عبید اللہ بن معاذ اور محمد بن عبد الاعلی قیسی نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے نعیم بن ابی ہندنےابوحازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : ابوجہل نے کہا : کیا محمدتم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں؟ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو کہا گیا : ہاں چنانچہ اس نے کہا : لات اور عزیٰ کی قسم !اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو روندوں گا یا ان کے چہرےکو مٹی میں ملاؤں گا ( العیاذ باللہ! ) کہا : پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے وہ آپ کے پاس آیا اور یہ ارادہ کیا کہ آپ کی گردن مبارک کوروندے ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تووہ انھیں اچانک ایڑیوں کے بل پلٹتا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھوں ( کو آگے کر کے ان ) سے اپنا بچاؤ کرتا ہوا نظر آیا ۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو اس سے کہا کیا : تمھیں کیا ہوا ؟تو اس نے کہا : میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق اور سخت ہول ( پیدا کرنے والی مخلوق ) اور بہت سے پر تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے ۔ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیاتنازل فرمائیں ۔ ( ابو حازم نے کہا ۔ ( ہمیں معلوم نہیں کہ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ) اپنی حدیث ہے یا انھیں ( کسی کی طرف سے ) پہنچی ہے ۔ ( وہ آیات یہ تھیں ) "" اس کے سواکوئی بات نہیں کہ انسان ہر صورت میں سر کشی کرتا ہے اس لیے کہ وہ خود کو دیکھتا ہے کہ وہ ہر ایک سے مستغنی ہے حقیقت یہ ہے کہ ( اسے ) آپ کے رب کی طرف واپس جانا ہے ۔ آپ نے اسے دیکھا جو روکتا ہے ۔ ( اللہ کے ) بندے کو جب وہ نماز اداکرتا ہے ۔ کیا تم نے دیکھا کہ اگر وہ ( اللہ کا بندہ ) ہدایت پر ہو اور تقوی کا حکم دیتا ہو ( تو روکنے والے کا کیا بنے گا؟ ) کیا آپ نے دیکھا کہ آکر اس یعنی ابو جہل نے جھٹلایا ہے اور ہدایت سے منہ پھیراہے ۔ ( تو ) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھتا ہے ۔ ہر گز نہیں !اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ( اسے ) پیشانی سے پکڑ کر کھینچیں کے ۔ ( اس کی ) جھوٹی گناہ کرنے والی پیشانی سے پھر وہ اپنی مجلس کو ( مددکے لیے ) پکارے ہم عذاب دینے والے فرشتوں کو بلائیں گے ۔ ہر گز نہیں!آپ اس کی ( کوئی بات بھی ) نہ مانیں ۔ "" عبید اللہ ( بن معاذ ) نے اپنی حدیث میں مزید کہا ۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ کی تفسیر کرتے ہوئے ) کہا : اور اس بات کا حکم دیتا ہو جس کا اس ( اللہ ) نے اسے حکم دیا ہے ۔ اور ( محمد ) بن عبد الاعلیٰ نے مزید یہ کہا : "" وہ اپنی مجلس کو پکارے "" یعنی اپنی قوم کو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7066

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ يَا أَيَّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنْ النَّاسِ إِدْبَارًا فَقَالَ اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ قَالَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنْ الْجُوعِ وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ أَحَدُهُمْ فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ قَالَ أَفَيُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ
Masruq reported: We were sitting in the company of Abdullah and he was lying on the bed that a person came and said: Abd Abd al-Rabmin, a story-teller at the gates of Kinda says that the verse (of the Qur'an) which deals with the smoke implies that which is about to come and it would hold the breath of the infidels and would inflict the believers with cold. Thereupon Abdullah got up and said in anger. O people, fear Allah and say only that which one knows amongst you and do not say which he does not know and he should simply say: Allah has the best knowledge for He has the best knowledge amongst all of you. It does not behove him to say that which he does not know. Allah has the best knowledge of it. Verily Allah, the Exalted and Glorious, said to His Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to state: I do not ask from you any remuneration and I am not the one to put you in trouble, and when Allah's Mesqenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw people turning back (from religion) he said: O Allah, afflict thern with seven famines as was done in the case of Yusuf, so they were afflicted with famine by which they were forced to eat everything until they were obliged to eat the hides and the dead bodies because of hunger, and every one of them looked towards the sky and he found a smoke. And Abu Sufyan came and he said: Muhammad, you have come to command us to obey Allah and cement the ties of blood- relation whereas your people are undone; supplicate Allah for tlicm. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, said: Wait for the day when there would be clear smoke from the sky which would envelop people and that would be grievous torivent up to the words: you are going to return to (evil). (if this verse implied the torment of the next life) could the chastisement of the next (life) be averted (as the Qur'an states): On the day when We seize (them) with the most violent seizing; surely We shall exact retribution (xliv. 16)? The seizing (in the hadith) implies that of the Day of Badr. And so far as the sign of smoke, seizing, inevitability and signs of Rome are concern- ed, they have become things of the past now. منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صحیح ) سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان ( اپنے بستر یا بچھونے پر ) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ابو عبدالرحمان!ابواب کندہ ( کوفہ کا ایک محلہ ) میں ایک قصہ گو ( واعظ ) آیا ہوا ہے ، وہ وعظ کررہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی ( اللہ کی ) نشانی آئے گی اور ( یہ د ھواں ) کافروں کی روحیں قبض کرلے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا ۔ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے ، لوگو! اللہ سے ڈرو ، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو ، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتاہو اور جو نہیں جانتا ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ بے شک وہ ( اللہ تعالیٰ ) تم میں سے اس کو ( بھی ) زیادہ جاننے والاہے ۔ جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا ، یہ کہتا ہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ عزوجل نے ا پنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا؛ "" کہہ دیجئے : میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ۔ "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : "" اے اللہ! ( ان پر ) یوسف علیہ السلام کےسات سالوں جیسے سات سال ( بھیج دے ۔ ) "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو انھیں ( قحط کے ) ایک سال نے آلیا جس نے ہر چیز کاصفایاکرایا ، یہاں تک کہ ان ( مشرک ) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے ۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی ۔ چنانچہ ابو سفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ آئے ہیں ، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کاحکم دیتے ہیں ، آپ کی قوم ( قحط اور بھوک سے ) ہلاک ہورہی ہے ۔ ان کےلیے اللہ سے دعا کریں ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : "" آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا ۔ ( اور وہ ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا ۔ یہ دردناک عذاب ہوگا ، سے لے کر اس کے فرمان : "" نے شک تم ( کفر میں ) لوٹ جانے والے ہوگئے "" تک ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کیا آخرت کا عذاب ہٹایا جائے گا؟ "" جس دن ہم تم پر بڑی گرفت کریں گے ( اس دن ) ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ "" وہ گرفت بدر کے دن تھی ۔ اب تک دھوئیں کی نشانی گرفت اور چمٹ جانےوالا عذاب ( بدر میں شکست فاش اور قتل ) اور روم ( کی فتح ) کی نشانی ( سب ) آکر گذر چکی ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7067

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ فَقَالَ تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ قَالَ يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنْ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ اللَّهَ لِمُضَرَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا فَقَالَ لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ قَالَ فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمْ الرَّفَاهِيَةُ قَالَ عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ
Masruq reported that there came to Abdullah a person and said: I have left behind in the mosque a man who explains the Qur'an according to his personal discretion and he explained this verse: So wait for the day when the Heaven brings a clear smoke. He says that a smoke would come to the people on the Day of Resurrection anl it will withhold breath and they would be inflicted with cold. 'Abdullah said: He who has knowledge should say something and he who has no knowledge should simply say: Allah is best aware. This reflects the understanding of a person that he should say about that which he does not know that it is Allah who knows best. The fact is that when the Quraish disobeyed Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) he supplicated Allah that they should be afflicted with famine and starvation as was done in case of Yusuf. And they were so much hard pressed that a person would ace the sky and he would see between him and the sky something like smoke and they were so much hard pressed that they began to cat the bones, and a person came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger. seek forgiveness for the tribe of Mudar for (its people) have been undone. The Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: For Mudar? You are overbold, but he supplicated Allah for them. It was upon this that this verse was revealed: We shall remove the chastisement a little, but they will surely return to evil (xliv. 15). lie (the narrator) said: There was a downpoor of rain upon them. When there was some relief for them they returned to the same position as they had been before, and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: So wait for the day when the heaven brings a clear smoke enveloping people. This is a grievous torment on the day when We seize them with the most violent seizing; surely, We shall exact retribution. And this (seizing) implied (Battle) of Badr. ابو معاویہ ، وکیع ، اور جریر نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم بن صحیح سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ ( قرآن کی ) آیت : " جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا " کی تفسیر کرتا ہے ، کہتا ہے : " قیامت کےدن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا ، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت ( جس میں سانس لینی مشکل ہوجاتی ہے ) درپیش ہوگی ، توحضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ یہ بات انسان کے فہم ( دین ) کاحصہ ہے ۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے : اللہ زیادہ جاننے والاہے ۔ اس ( دھوئیں ) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام ( کے زمانےوالے ) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعاکی ۔ انھیں قحط اور تنگ دستی نے آلیا یہاں تک کہ ( ان میں سے ) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں ساچھایا ہوا نظرآتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے ( بھوک کی شدت سے ) ہڈیاں تک کھائیں ، چنانچہ ( ان میں سے ) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ( قبیلہ ) مضر کے لئے بخشش طلب فرمائیں ۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں ، تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مضر کے لئے؟تو بہت جراءت والا ہے ( کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود د رخواست کررہا ہے کہ میں تمہارے لئے اللہ سے دعا کروں ) " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر بھی ) ان کے حق میں دعا فرمادی ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( آیت ) نازل فرمائی : " ہم ( تم سے ) تھوڑے عرصے کے لئے عذاب ہٹادیتے ہیں ۔ تم ( پھر کفر ہی میں ) لوٹنے والا ہو ۔ " ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان پر بارش برسائی گئی ۔ انھیں خوشحالی مل گئی ، کہا : ( تو پھر ) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ حصہ ) نازل فرمایا : " آپ انتظار کیجئے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا ۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا ، یہ دردناک عذاب ہوگا ۔ ( پھر یہ آیت نازل فرمائی ) جس دن ہم بڑ ی گرفت میں لیں گے ، ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ " کہا : یعنی جنگ بدر کو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7068

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَاللِّزَامُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالْقَمَرُ
Abdullah said that five signs have (become things) of the past (and have proved the truth of the Holy Prophet): (Enveloping) by the smoke, inevitable (punishment to the Meccans at Badr), (the victory of) Rome, (violent) seizing (of the Meccans at Badr) and (the splitting up of) the Moon. قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : پانچ ( نشانیاں گزر چکی ہیں : دھواں ، چمٹ جانے والا عذاب ( بدر کے دن شکست اور ہلاکتیں ) روم کی فتح ( بدر کےدن ستر مشرکوں کی گرفتاری ) سخت گرفت اور چاند ( کادو ٹکڑے ہونا ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7069

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters. وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7070

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ قَالَ مَصَائِبُ الدُّنْيَا وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوْ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاكُّ فِي الْبَطْشَةِ أَوْ الدُّخَانِ
Ubayy b. Ka'b reported that the words of Allah, the Exalted and Glorious: We will, surely, make them taste the lesser punishment before the severer punishment (that haply they may return) (xxxii. 21) imply the torments of the world. (victory of) Rome, seizing (of the Meccans), or smoke. And Shalba was in doubt about seizing or smoke. محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے عزرۃ سے انھوں نے حسن عرفی سے ، انھوں نے یحییٰ بن جزار سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نے حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ عزوجل کے فرمان : " اور بڑے عذاب سے پہلے ہم انھیں قریب کا ( چھوٹا ) عذاب چکھائیں گے ۔ " ( کی تفسیر ) کے بارے میں روایت کی ، انھوں نے کہا ( اسی ) دنیا میں پیش آنے والے مصائب ، روم کی فتح ، گرفت ( جنگ بدر ) یا دھواں ( مراد ) ہیں ۔ گرفت اور دھوئیں کے بارے میں شک کرنے والے شعبہ ہیں ۔ ( ان سے اوپر کے راویوں نے یقین سے بتایا ۔ شعبہ نے کہا : انھیں شک ہوا ہے )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7071

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِقَّتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا
Abu Ma'mar reported on the authority of Abdullah that the moon was split up during lifetime by Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in two parts and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Bear testimony to this. مجاہد نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہوکر دوٹکڑے ہوگیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ( لوگو! اس کو دیکھ لو اور ) گواہ بن جاؤ ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7072

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى إِذَا انْفَلَقَ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ فَكَانَتْ فِلْقَةٌ وَرَاءَ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ دُونَهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا
This hadith has been transmitted on the authority of Abdullah b. Mas'ud (who said): We were along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) at Mina, that moon was split up into two. One of its parts was behind the mountain and the other one was on this side of the mountain. Allah's Messenger (may peace be upbn him) said to us: Bear witness to this. ابو معاویہ ، حفص بن غیاث اور ( علی ) ابن مسہر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم ( نخعی ) سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں موجودتھے کہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ، ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے ( نظر آتا ) تھا اوردوسرا ٹکڑا اس سے آگے ( دوسری طرف نظر آتا ) تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " ( اس کے ) گواہ بن جاؤ ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7073

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلْقَتَيْنِ فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً وَكَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
Abdullah b. Mas'ud reported that the moon was split up in two parts during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The mountain covered one of its parts and one part of it was above the mountain and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Bear witness to this. شعبہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہوکردوٹکڑے ہوگیا ، ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانپ لیا ( اس پہاڑ کے پیچھے نظر آتا تھا ) اورایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ ! تو گواہ رہ ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7074

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ
Another chain of transmitters reported the like of this hadith. معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مجاہد سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7075

و حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فَقَالَ اشْهَدُوا اشْهَدُوا
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording. محمد بن جعفر اور ابن عدی دونوں نے شعبہ سے ، شعبہ سے ابن معاذ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث نے مانند روایت کی ، مکر ابن ابی عدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس کے ) گواہ بن جاؤ ، گواہ بن جاؤ ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7076

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ
Anas reported that the people of Mecca demanded from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he should show them (some) signs (miracles) and he showed twice the splitting of the moon. ۔ شیبان نےکہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کہ آپ انھیں ( اپنی نبوت کی سچائی کی ) کوئی نشانی دکھائیں تو آپ نے انھیں چاند کے دو ٹکڑے ہونا دکھایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7077

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ
This hadlth has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters. معمر نے ہمیں قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شیبان کی حدیث سے ہم معنی روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7078

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Anas reported that the moon was split up in two parts and in the hadith recorded in Abu Dawud, the words are: The moon was split up into two parts during the life of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). یحییٰ بن سعید ، محمد بن جعفر اور ابو داود سب نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا ۔ اور ابو داود ( طیالسی ) کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند پھٹ گیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7079

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Ibn 'Abbas reported that the moon was split up during the lifetime of Allah's Messenger (may peace he upon him). حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7080

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ
Abu Musa reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is none to show more patience at listening to the most irksome things than Allah, the Exalted and Glorious. 'Partnership is associated to Him (polytheism), and (fatherhood) of a child is attributed to Him, but in spite of this He protects them (people) and provides them sustenance.' ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو معاویہ اور ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے ابو عبدالرحمان سلمی سے اور انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تکلیف دل باتیں سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ، ا س کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے پھر بھی وہ انھیں عافیت میں رکھتا ہے اور انھیں رزق عطا کرتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7081

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa with a slight variation of wording. وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے ابو عبدالرحمان سلمی سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے : " اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے " انھوں نے اس ( قول ) کو بیان نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7082

و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ
Abdullah b. Qais reported from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that none is more forbearing in listening to the most irksome things than Allah, the Exalted. They associate rivals with him, attribute sonhood to Him, but in spite of this He provides them sustenance, grants them safety, confers upon them so many things. عبیداللہ بن سعید نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے ابو عبدالرحمان سلمی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن قیس ( ابو موسیٰ اشعری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نہیں جو تکلیف دہ باتوں پر جنھیں وہ سنتا ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا ہو ، لوگ ( دوسروں کو ) اس کاشریک ٹھہراتے ہیں ، اس کی اولاد بناتے ہیں اور وہ اس ( سب کچھ ) ک باوجود انھیں رزق دیتا ہے ، عافیت بخشتا ہے اور ( جو مانگتے ہیں ) عطا کرتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7083

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ أَحْسِبُهُ قَالَ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ
Anas b. Malik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Allah, the Exalted and High, would say to one who shall have to undergo the least torture (on the Day of Resurrection): Would you like to go as ransom if you had all worldly riches; he would say: Yes. Allah would say to him: When you were in the loins of Adam, I demanded from you something easier than this that you should not associate anything with Me. (The narrator says): I think He also said: I would not cause you to enter Hell-Fire but you defied and attributed Divinity (to others besides Me). معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عوان جونی سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ تبارک وتعالیٰ اس شخص سے ، جسے اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ہوگا ، فرمائے گا : اگر پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ۔ تمہارے پاس ہوتو ( عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے ) اسے بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو وہ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا : میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے ، اس کی نسبت بہت کم کا مطالبہ کیا تھا کہ تم شرک نہ کرنا ۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آگے یہ ) فرمایا ۔ ۔ ۔ اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا ، مگر تم نے شرک ( کرنے ) کے سوا ہر چیز سے انکارکردیا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7084

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters, but with a slight variation of wording (and the words are): I shall cause him to enter Hell. (The words subsequent to these) have not been mentioned. محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عمران سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کررہے تھے ، اسی کے مانند ، سوائے ( اللہ تعالیٰ کے ) اس قول کے : " اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا " انھوں نے اسے بیان نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7085

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be u n him) said: It would be said to the non-believers on the Day of Resurrection: If you were to possess gold, filling the whole earth, would you like to secure your freedom by paying that? He would say: Yes. Thereupon it would be said to him: Something easier (than this) was demanded from you (but you paid no heed to it). ہشام ( دستوائی ) نے قتادہ سےروایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر تمہارے پاس زمین ( کی مقدار ) بھر سونا موجود ہوتو کیا تم ( جہنم کے عذاب سے بچنے کے لئے ) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو اس سے کہا جائے گا : تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیاگیا تھا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7086

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ح و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ كَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ
Anas reported this hadlth through another chain of transmitters and the words are: It would be said to him: You have told a lie; what had been demanded from you was quite easier than this (the belief in the Oneness of Allah). سعید بن ابی عرو بہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے ( اس طرح ) کہا؛ " تو اس سے کہاجائے گا : تم جھوٹ بولتے ہو ، تم سے تو اس سے بہت آسان ( بات کا ) مطالبہ کیاگیا تھا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7087

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا
Anas b. Malik reported that a person said: Allah's Messenger, how the non-believers be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord. شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7088

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that one amongst the denizens of Hell who had led a life of ease and plenty amongst the people of the world would be made to dip in Fire only once on the Day of Resurrection and then it would be said to him: O, son of Adam, did you find any comfort, did you happen to get any material blessing? He would say: By Allah, no, my Lord. And then that person from amongst the persons of the world be brought who had led the most miserable life (in the world) from amongst the inmates of Paradise. and he would be made to dip once in Paradise and it would be said to him. 0, son of Adam, did you face, any hardship? Or had any distress fallen to your lot? And he would say: By Allah, no,0 my Lord, never did I face any hardship or experience any distress. سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اہل دوزخ میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ تر اور خوشحال تھا ، پس دوزخ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے دنیا میں کبھی آرام دیکھا تھا؟ کیا تجھ پر کبھی چین بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! اے میرے رب! کبھی نہیں اور اہل جنت میں سے ایک ایسا شخص لایا جائے گا جو دنیا میں سب لوگوں سے سخت تر تکلیف میں رہا تھا ، جنت میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! تو نے کبھی تکلیف بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر شدت اور رنج بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! مجھ پر تو کبھی تکلیف نہیں گزری اور میں نے تو کبھی شدت اور سختی نہیں دیکھی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7089

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily, Allah does not treat a believer unjustly in regard to his virtues. He would confer upon him (His blessing) in this world and would give him reward in the Hereafter. And as regards a non-believer, he would be made to taste the reward (of virtue in this world) what he has done for himself so much that when it would be the Hereafter, he would find no virtue for which he should be rewarded. ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا ۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے ۔ رہا کافر ، اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لئے کی ہوتی ہیں ، اسی دنیا میں کھلا ( پلا ) دیا جاتاہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7090

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنْ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) thus told him: When a non-believer does good he is made to taste Its reward in this world. And so far as the believer is concerned, Allah stores (the reward) of his virtues for the Hereafter and provides him sustenance in accordance with his obedience to Him. معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی : " بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کر تا ہے ۔ تو اس کے بدلے اسے دنیاکے کھانوں ( نعمتوں ) میں سے ایک لقمہ ( نعمت کی صورت میں ) کھلادیتاہے اور مومن اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت میں کرتا جاتا ہے ۔ اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں ( بھی ) اسے رزق عطا فرماتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7091

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters. سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں ( ہمام اور سلیمان ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7092

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The Similitude of a believer is that of (a standing) crop which the air continues to toss from one side to another; in the same way a believer always (receives the strokes) of misfortune. The similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which does not move until it is uprooted. ۔ عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے ۔ ہوا مسلسل اس کو ( ایک یا دوسری طرف ) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں ، اور منافق کی مثال ودیوار درخت کی طرح ہے ( جس کا تناؤ ہوا میں بھی تن کرکھڑا رہتا ہے ) ۔ بلتا نہیں حتیٰ کہ ( ایک ہی بار ) اسے کاٹ کر گرادیاجاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7093

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَكَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording. عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی مگر عبدالرزاق کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : " اسے جھکاتی رہتی ہے " کے بجائے " اسے موڑتی رہتی ہے " کے الفاظ ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7094

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى حَتَّى تَهِيجَ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُفِيئُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً
Ka'b reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that the similitude of a believer is that of a standing crop in a field which is shaken by wind and then it comes to its original position but it stands at its roots. The similitude of a non-believer is that of a cypress tree which stands on its roots and nothing shakes it but it is uprooted (with) one (violent stroke). زکریا بن ابی زائدہ نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کے باریک تیلی جیسے تنے کی ہے ۔ ہوا اسے موڑ دیتی ، ایک مرتبہ زمین پر لٹادیتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے سیدھا کریتی ہے ، یہاں تک کہ وہ پیلا ہوکر خشک ہوجاتا ہے اور کافر کی مثال ویودار درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر تن کر کھڑا ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز موڑ نہیں سکتی ، یہاں تک کہ اس کا اکھڑ کاگرنا ایک ہی بار ہوتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7095

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً
Ka'b b. Malik reported on the authority of his father that the similitude of a believer is that of a standing crop. The wind sometimes shakes it and sometimes raises it up and then it comes to its destined end. And the similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which is not affected by anything but is uprooted once for all. زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بشر بن سری اور عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے سعد بن ابراہیم سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " مومن کی مثال کھیتی کے تیلی نمانرم تنے کی سی ہے جس کو ہوا موڑتی رہتی ہے ، کبھی اس کو لٹا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کردیتی ہے ، حتیٰ کہ اس ( کے پک کرکٹنے ) کا وقت آجاتا ہے ، اور منافق کی مثال ویودار کے مضبوط جڑوں والے درخت کی طرح ہے ، اس پر ( ایسی ) کوئی مشکل نہیں آتی ، حتیٰ کہ ایک ہی دفعہ وہ جڑوں سے اکھڑ ( کرگر ) جاتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7096

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً
Same as Hadees 7095 محمد بن حاتم اور محمود بن غیلان نے مجھے یہی حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں بشر بن سری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے ا پنے والد سے ، اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، مگر محمود نے بشر سے اپنی روایت میں کہا : " کافر کی مثال ویودار کے درخت کی طرح ہے ۔ " اور ابن حاتم نے " منافق کی مثال " کہا ، جس طرح زہیر نے کہا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7097

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ مَحْمُودًا قَالَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ بِشْرٍ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ وَأَمَّا ابْنُ حَاتِمٍ فَقَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَا قَالَ زُهَيْرٌ و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ابْنُ هَاشِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَا جَمِيعًا فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ يَحْيَى وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ
This hadith has been narrated through a couple of other chains of transmitters, one which says the similitude of the disbeliever instead and another which agrees with the wording of the previous hadith. محمد بن بشار اور عبداللہ بن ہاشم نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ۔ ابن ہاشم نے کہا : عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی اور ابن بشار نے کہا : ابن کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے انھوں نے اپنے والد سے ۔ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جیسے ان سب کی حدیث ہے ۔ اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں کہا : یحییٰ سے روایت ہے : " اورکافر کی مثال ویودار کے درخت جیسی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7098

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ هِيَ النَّخْلَةُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ قَالَ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ هِيَ النَّخْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا
Abdullah b. Umar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allah's Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to 'Umar, whereupon he said: Had you said that it meant the date-palin tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things. عبداللہ بن دینار نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے ۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سادرخت ہے؟ "" تو لوگوں کا دھیان جنگل کے مختلف درختوں کی طرف کیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ لیکن میں جھجک گیا پھر وہ ( لوگ ) کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ بتائیے کہ وہ کون سا ( درخت ) ہے؟ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" وہ کھجور کا درخت ہے ۔ "" ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میں نے یہ ( بات اپنے والد ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبتائی تو انھوں نے کہا : اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو میرے نزدیک یہ ( جواب ) فلاں فلاں ( سرخ اونٹوں ) سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7099

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَلَمَّا سَكَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ
Ibn Umar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day said to his Companions: Tell me about a tree which has resemblance with a believer. The people began to mention (different) trees of the forest. Ibn 'Umar said: It was instilled in my mind or in my heart and it stuck therein that it implied the date- palm tree. I made up my mind to make a mention of that but could not do that because of the presence of the elderly people there. When there was a hush amongst them (after they had expressed their views), Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It Is the date-palm tree. ابوخلیل الضبعی نے مجاہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے صحابہ سے فرمایا؛ "" مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہے ۔ "" تو لوگ جنگلوں کے درختوں میں سے کوئی ( نہ کوئی ) درخت بتانے لگے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اور میرے دل میں یا ( کہا : ) میرے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا د رخت ہے میں ارادہ کرنے لگا کہ بتادوں ، لیکن ( وہاں ) قوم کے معمر لوگ موجود تھے تو میں ان کی ہیبت سے متاثر ہوکر بولنے سے رک گیا ۔ جب وہ سب خاموش ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" وہ کھجور کا درخت ہے ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7100

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا
Mujahid said: (I have had the privilege) of accompanying Ibn 'Umar up to Medina but I did not hear him narrate anything from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) except one hadith. And he said: We were in the presence of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that there was brought to him the kernel of a date. The rest of the hadith is the same. ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا ، میں نے انھیں ایک حدیث کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ کے پاس کھجور کے تنے کانرم گودا لایا گیا ۔ پھر ان دونوں ( ابوخلیل ضبعی اورعبداللہ بن دینار ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7101

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
Mujahid reported: I heard Ibn 'Umar as saying: There was brought to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the kernel. The rest of the hadith is tile same. سیف نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے مجاہد کو سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س کھجور کے تنے کا نرم گودا لایا کیا ، پھر ان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7102

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَعَلَّ مُسْلِمًا قَالَ وَتُؤْتِي أُكُلَهَا وَكَذَا وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا وَلَا تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا
Ibn Umar reported: We were'in the company of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he said: Tell me of a tree which has resemblance to a Muslim and the leaves of which do not wither. Ibrahim said that perhaps Imam Muslim had stated like this: It constantly bears fruit but I have, however, seen [It does not bear fruit constantly]. Ibn Umar said: It crossed my mind that it could be the date-palm tree, but as I saw Aba Bakr and Umar observe silence, I did not deem it fit that I should speak or I should say something. 'Umar said: Had you said so, it would have been dearer to me than such and such thing. نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، آپ نے فرمایا : "" مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو ایک مسلمان آدمی سے مشابہ یا ( فرمایا : ) کی طرح ہے ، اس کے پتے نہیں جھڑتے ۔ "" ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کےشاگرد ) ابراہیم ( بن سفیان ) نے کہا : غالباً ( ہمارے شیخ ) امام مسلم نے "" اور وہ ( درخت ) اپنا پھل دیتاہے "" کہا ہوگا ( لیکن میرے پاس "" نہیں دیتا "" لکھا ہے ) اور میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہاں بھی ( ان کے نسخوں میں ) یہی پایا ہے : اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ مگر میں نے حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھاکہ وہ نہیں بول رہے تھے تو میں نے یہ بات ناپسندی کہ میں بولوں اور کچھ کہوں ، چنانچہ ( میری بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر تم یہ بات کہہ دیتے تو مجھے یہ فلاں فلاں ( سرخ اونٹوں ) سے زیادہ پسندہوتا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7103

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ
Jabir reported: I heard Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily, the Satan has lost all hopes that the worshippers would ever worship (him) in the peninsula of Arabia, but he (is hopeful) that he would sow the seed of dissension amongst them. جریر نےاعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " شیطان اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ جزیر ہ عرب میں نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں گے لیکن وہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کرانے سے ( مایوس نہیں ہوا ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7104

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters. وکیع اور ابو معاویہ دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7105

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً
Jabir reported: I heard Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying: The throne of Iblis is upon the ocean and he sends detachments (to different parts) inorder to put people to trial and the most important figure in his eyes is one who is most notorious in sowing the seed of dissension. جریر اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " ابلیس کا تخت سمندرپر ہے ۔ وہ اپنے لشکر روانہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ فتنے برپا کریں ۔ اس کے نزدیک ( شیطنت کے ) درجے میں سب سے بڑا وہ ہے جو زیادہ بڑا فتنہ برپا کرے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7106

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ الْأَعْمَشُ أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ
Jabir reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Iblis places his throne upon water; he then sends detachments (for creating dissension) ; the nearer to him in rank are those who are most notorious in creating dissension. One of them comes and says: I did so and so. And he says: You have done nothing. Then one amongst them comes and says: I did not spare so and so until I sowed the seed of discord between a husband and a wife. The Satan goes near him and says: You have done well. A'mash said: He then embraces him. ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر وہ اپنے لشکر روانہ کرتا ہے اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالتا ہے ان میں سے ایک آکر کہتا ہے میں نے فلاں فلاں کا م کیا ہے ، وہ کہتا ہے ۔ تم نے کچھ نہیں کیا ، پھر ان میں سے ایک آکر کہتا ہے : میں نے اس شخص کو ( جس کے ساتھ میں تھا ) اس وقت تک نہیں چھوڑا ، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی کہا : کہا : وہ اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے تم سب سے بہتر ہو ۔ "" اعمش نے کہا میراخیال ہے اس ( ابو سفیان طلحہ بن نافع ) نے کہا : "" پھر وہ اسے اپنے ساتھ لگالیتا ہے ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7107

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً
Jabir reported that Allah's Apostle (may peace be upqn him) said: The Satan sends detachments of his own in order to put people to trial and the highest in rank, in his eyes, is one who is most notorious in sowing the seed of dissension. ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " شیطان اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے اور وہ لوگوں کو فتنوں میں ڈالتے ہیں اس کے نزدیک ان میں سے بڑے مرتبے والا وہ ہو تا ہے جو زیادہ بڑا فتنہ ڈالتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7108

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ قَالُوا وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ
Abdullah b. Mas'ud reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is none amongst you with whom is not an attache from amongst the jinn (devil). They (the Companions) said: Allah's Messenger, with you too? Thereupon he said: Yes, but Allah helps me against him and so I am safe from his hand and he does not command me but for good. عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نےاپنے والد سے اور انھوں نےحضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کو ئی شخص بھی نہیں مگر اللہ نے اس کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ایک ساتھی مقرر کردیا ہے ( جو اسے برائی کی طرف مائل رہتا ہے ۔ ) " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے ساتھ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ، اس لیے ( اب ) وہ مجھے خیر کے سواکوئی بات نہیں کہتا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7109

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ
This hadith has been narrated on the authority of Mansiir with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording. سفیان اور عمار بن رزیق دونوں نے منصور سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر سفیان کی حدیث میں ہے : " ہر شخص کے لیے ایک ساتھی جنوں میں سے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر کر دیاہے ۔ ( جن اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے اور فرشتہ نیکی کی طرف ۔ فیصلہ خود اسی کو کرنا ہوتا ہے ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7110

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ فَقُلْتُ وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ
A'isha the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported that one day Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out of her (apartment) during the night and she felt jealous. Then he came and he saw me (in what agitated state of mind) I was. He said: A'isha, what has happened to you? Do you feel jealous? Thereupon she said: How can it be (that a woman like me) should not feel jealous in regard to a husband like you. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It was your devil who had come to you, and she said: Allah's Messenger, is there along with me a devil? He said: Yes. I said: Is a devil attached to everyone? He said: Yes. I (Aisha) again said: Allah's Messenger, is it with you also? He said: Yes, but my Lord has helped me against him and as such I am absolutely safe from his mischief. عروہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل گئے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : مجھے آپ کے معاملے میں شدید غیرت محسوس ہوئی ، پھر آپ واپس آئے اور دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں ( شدید غصے کے عالم میں ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !تمھیں کیاہوا ہے کیا تم غیرت میں مبتلا ہو گئی ہو؟ " میں نے کہا : مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو ( جس کی کئی سو کنیں ہوں ) آپ جیسے مرد پر ( جو ایک کو ایک سے بڑھ کر محبوب ہو ) غیرت نہ آئے " تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آیا تھا ( اور اس نے تمھیں شک میں مبتلا کیا؟ ) " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میرے ساتھ شیطان بھی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " میں نے کہا : ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " میں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کے ساتھ بھی ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں لیکن میرے رب نے اس پر ( قابو پانے میں ) میری مددفرمائی اور وہ اسلام لے آیا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7111

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ قَالَ رَجُلٌ وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَلَكِنْ سَدِّدُوا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: None amongst you would attain salvation purely because of his deeds. A person said: Allah's Messenger, even you? Thereupon he said: Yes, not even I except that Allah wraps me in Mercy, but you should act with moderation. لیث نے بکیر سے انھوں نے بسربن سعید سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو محض اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا ۔ " ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مجھے اپنی رحمت سے چھپالے ، لیکن تم سیدھے راستے پر چلو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7112

و حَدَّثَنِيهِ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَكِنْ سَدِّدُوا
This hadith has been transmitted on the authority of Bukair b. al-Ashajj with a slight variation of wording. عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی مگر ( اس میں ) کہا : " اپنی رحمت اور فضل سے " اور انھوں نے : " اور لیکن تم سیدھے راستے پر چلو ۔ " بیان نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7113

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ فَقِيلَ وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is none whose deeds alone would entitle him to get into Paradise. It was said to him: And, Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that my Lord wraps me in Mercy. ایوب نے محمد ( بن سیرین ) اسے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت میں چھپالے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7114

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ عَلَى رَأْسِهِ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is none amongst you whose deeds alone would attain salvation for him. They (the Companions) said: Allah's Messenger, not even you? He (the Holy Prophet) said: Not even I, but that Allah wraps me in Mercy and He grants me pardon. Ibn 'Aun pointed towards his head with his hand saying: Not even I, but that Allah wraps me in His Forgiveness and Mercy. ابن عون نے محمد ( بن سیرین ) سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور مغفرت میں چھپالے ۔ " اور ابن عون نے اس طرح اپنے ہاتھ سے بتایا اور اپنے سرکی طرف ( رحمت سے ڈھانپ لینےکا ) اشارہ کیا ( فرمایا ) " اور مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے ( اس طرح ) اپنی رحمت اور مغفرت سے ڈھانپ لے ۔ "