AL MUSLIM

Search Results(1)

52) The Book of Paradise , its Description , its Bouties and its Inhabitants

52) کتاب: جنت‘اس کی نعمتیں اور اہل جنت

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7130

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ
Anas b. Malik reported: The Paradise is surrounded by hardships and the Hell-Fire is surrounded by temptations. حضر ت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت گراں امور میں گھری ہوئی ہے اور دوزخ خواہشات نفسانی میں گھری ہوئی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7131

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7132

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ سَعِيدٌ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ مِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that: Allah the Exalted and Glorious, said: I have prepared for My pious servants which no eye has ever seen, and no ear has ever heard, and no human heart has ever perceived but it is testified by the Book of Allah. He then recited: No soul knows what comfort has been concealed from them, as a reward for what they did . (xxxii. 17) سفیان نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل نے ارشادفرمایا : میں نے اپنے نیک بندوں کےلیے وہ کچھ تیار کررکھا ہے جسے ن کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال تک گزرا ہے ۔ "" کتاب اللہ میں اس کا مصداق ( یہ آیت ) ہے : "" کسی کومعلوم نہیں کہ جو نیک کام کرتے رہے ان کی جزا کے طور پر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کےلیے کیا جو چھپا کررکھا گیا ہے ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7133

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمْ اللَّهُ عَلَيْهِ
Abu Huraira reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah, the Exalted and Glorious, said: I have prepared for My pious servants which no eye (has ever) seen, no ear has (ever) heard and no human heart has ever perceived those bounties leaving apart (those bounties) about which Allah has informed you. مالک نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کرکے جمع کررکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان ( کے تصور ) کا گزر ہوا ۔ ( یہ ) ان ( نعمتوں کے ) علاوہ ہے جن کے ) علاوہ ہے ۔ جن کے بارے میں تمھیں اللہ تعالیٰ نے مطلع کردیاہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7134

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمْ اللَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that Allah, the Exalted and Glorious, said: I have prepared for My pious servants which the eye has seen not, and the ear has heard not and no human heart has ever perceived such bounties leaving aside those about which Allah has informed you. He then recited: No soul knows what comfort has been hidden for thein . ابو صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیارکرکے جمع کی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ان کا کسی بشر کے دل میں خیال گزرا ، ان نعمتوں کے علاوہ جن پر اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کردیا ہے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی : "" کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا کچھ چھپا کررکھاگیاہے ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7135

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يَقُولُ شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
Sahl b. Sa'd as-Sa'idi reported: I was in the company of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he gave a description of Paradise and then Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) concluded with these words: There would be bounties which the eye has not seen and the ear has not heard and no human heart has ever perceived them. He then recited this verse: They forsake (their) beds, calling upon their Lord in fear and in hope, and spend out of what We have given them. So no soul knows what refreshment of the eyes is hidden for them: a reward for what they did (xxxii. 16-17) ابوحازم نے کہا : میں نے حضر ت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آ پ نے بات ختم کی ۔ پھر اپنی بات کے آخر میں فرمایا : " اس ( جنت ) میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ۔ " پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : " ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں وہ خوف کے عالم میں اور پوری امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر تے ہیں ۔ پس کوئی ذی حیات ( انسان ) نہیں جانتا کہ جو وہ کرتے ہیں اس کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا ( کچھ ) چھپا کررکھا گیاہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7136

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider can travel for a hundred years. ابو سعید مقبری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک اونٹ سوار سوسال تک چلتا رہے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7137

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ لَا يَقْطَعُهَا
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters with the addition of these words: He will not be able to cover this distance. اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کی اور مزید کہا : " وہ اس ( کے سائے ) کو طے نہیں کرسکے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7138

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا
Sahl b. Sa'd reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider can travel for a hundred years without covering (the distance) completely. ابوحازم نے حضر ت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جنت میں ایک درخت ہے ، ایک سوار اس کے سائے میں سوسال تک چلتا رہے تو بھی اس کو طے نہ کرسکے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7139

قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا
This hadith has also been transmitted on the authority of Abu Sa'id al-Khudri that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) is reported to have said: In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider of a fine and swift-footed horse would travel for a hundred years without covering the distance completely. There would be the pleasure of Allah for the inmates of Paradise and He would never be annoyed with them. ابو حازم نے کہا : میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش زرقی کو سنائی تو انھوں نے کہا : مجھے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں ایک درخت ہے ( جس کے سائے میں ) ایک تیز رفتار چھریرے کھوڑے پرسوار شخص سو سال چلے تو بھی اسے قطع نہ کرسکے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7140

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ فَيَقُولُ أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا
Abu Sa'id al-Khudri reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that Allah would say to the inmates of Paradise: O, Dwellers of Paradise, and they would say in response: At thy service and pleasure, our Lord, the good is in Thy Hand. He (the Lord) would say: Are you well pleased now? They would say: Why should we not be pleased, O Lord, when Thou hast given us what Thou hast not given to any of Thy creatures? He would, however, say: May I not give you (something) even more excellent than that? And they would say: O Lord, what thing can be more excellent than this? And He would say: I shall cause My pleasure to alight upon you and I shall never be afterwards annoyed with you. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل اہل جنت سے فرمائے گا : اے اہل جنت! وہ کہیں گے : لبیک ، اے ہمارے رب!زہے نصیب کہ تیرے سامنےحاضر ہیں اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے چنانچہ وہ فرمائے گا : کیا تم راضی ہوگئے ہو؟وہ سب کہیں گے : ہم راضی کیوں نہ ہوں؟اے ہمارے رب! جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کردیا ہے جو تونے اپنی ساری مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا ۔ وہ فرمائے گا : کیا میں تمھیں اس سے بھی بہتر عطا نہ کروں؟تو وہ کہیں گے : اے رب! ( جوتو نے عطا کردیا ہے ) اس سے افضل کیا ہے؟وہ فرمائے گا : میں تم پر اپنی رضا نازل کرتا ہوں ، اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7141

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ
Sahl b. Sa'd reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The inmates of Paradise will look to the upper apartment of Paradise as you see the planets in the sky. I narrated this hadith to Nu'man b. یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ہمیں ابوحازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جنت والے جنت کے بالا خانے کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم لوگ آسمان میں ستارے کو دیکھتے ہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7142

قَالَ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي الْأُفُقِ الشَّرْقِيِّ أَوْ الْغَرْبِيِّ
Abi 'Ayyash and he said: I heard Abu Sa'id al-Khudri as saying: As you see the shining planets in the eastern and western (sides of) horizon. ( ابوحازم نے ) کہا : میں نے یہ روایت نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا؛ " جس طرح تم آسمان کے مشرقی یامغربی افق میں چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7143

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hazim through another chain of transmitters. وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7144

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ مِنْ الْأُفُقِ مِنْ الْمَشْرِقِ أَوْ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ قَالَ بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allah's Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them. عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اہل جنت فضیلت میں باہمی فرق کی بنا پر اپنے اوپر بالا خانوں میں رہنے والوں کی اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں چمکتے ہوئے تنہا ستارے کو دیکھتے ہو ۔ " انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ انبیاء علیہ السلام کے رہنے کی جگہیں ہوں گی جن تک دوسرا کوئی نہیں پہنچ سکتا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیوں نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ ایسے مرد ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7145

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The people most loved by me from amongst my Ummah would be those who would come after me but everyone amongst them would have the keenest desire to catch a glimpse of me even at the cost of his family and wealth. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ ( بھی ) ہیں جو میرے بعد ہوں گے ، ان میں سے ( ہر ) ایک نہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل وعیال اور مال کی قربانی دے کرمجھے دیکھ لے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7146

حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدْ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُونَ وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: In Paradise there is a street to which they would come every Friday. The north wind will blow and would scatter fragrance on their faces and on their clothes and would add to their beauty and loveliness, and then they would go back to their family after having an added lustre to their beauty and loveliness, and their family would say to them: By Allah, you have been increased in beauty and loveliness after leaving us, and they would say: By Allah, you have also increased in beauty and loveliness after us. حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں ایک بازار ہے جس میں وہ ( اہل جنت ) ہر جمعہ کو آیا کریں گے تو ( اس روز ) شمال کی ایسی ہوا چلے گی جو ان سے چہروں پر اور ان کے کپڑوں پر پھیل جائےگی ، وہ حسن اورزینت میں اوربڑھ جائیں گے ، وہ اپنے گھروالوں کے پاس واپس آئیں گے تو وہ ( بھی ) حسن وجمال میں اور بڑھ گئے ہوں گے ، ان کےگھر والے ان سے کہیں گے : اللہ کی قسم! ہمارے ( ہاں سے جانے کے ) بعد تمہارا حسن وجمال اور بڑھ گیا ہے ۔ وہ کہیں گے اور تم بھی ، اللہ کی قسم! ہمارے پیچھے تم لوگ بھی اور زیادہ خوبصورت حسین ہوگئے ہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7147

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ
Muhammad reported that some (persons) stated with a sense of pride and some discussed whether there would be more men in Paradise or more women. It was upon this that Abu Huraira reported that Abu'l Qasim (the Holy Prophet) ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The (members) of the first group to get into Paradise would have their faces as bright as full moon during the night, and the next to this group would have their faces as bright as the shining stars in the sky, and every person would have two wives and the marrow of their shanks would glimmer beneath the flesh and there would be none without a wife in Paradise. اسماعیل بن علیہ نے کہا : ہمیں ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے خبر دی کہ ( حصول علم کے لیے جمع ہونے والے مردوں اور عورتوں نے ) باہمی اظہار ، تفاخر یا علمی مذاکرہ کرتے ہوئے ( اس موضوع پر ) بات کی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ تھا : " پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سےزیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہوگی ۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی ( ایسے شفاف اور منور جسم والیں کہ ) ان کی پنڈلیوں کا گوداگوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا ۔ ( پوری ) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہوگا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7148

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ فَسَأَلُوا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters. سفیان نے ایوب سے اور انھوں نے ( محمد ) ابن سیرین سے روایت کی ، کہا : مردوں اور عورتوں میں بحث ہوگئی کہ ان میں سے جنت میں زیادہ کون ہوگا؟پھر انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ( آگے ) ابن علیہ کی حدیث کے مانند ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7149

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمْ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The (members of the) first group which would get into Paradise will have their faces as bright as stars in the sky. They would neither pass water, nor void excrement, nor will they suffer from catarrh, nor will they spit, and their combs would be made of gold, and their sweat will be musk, the fuel of their brazier will be aloes, and their wives will be large-eyed maidens and their form would be alike as one single person after the form of their father (Adam) sixty cubits tall. قتیبہ سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ۔ " اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی ۔ الفاظ قتیبہ کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں جریر نے عمارہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہوں گے ۔ جو ان کے ( فوراً ) بعد جائیں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ روشن چمکتے ہوئے ستارے کی شکل میں ہوں گے ، انھیں پیشاب کی حاجت ہوگی نہ پاخانے کی ، نہ تھوکیں گے ، نہ ناک سنکیں گے ، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، پسینہ کستوری کا ہوگا ، ان کی انگیختوں میں معطر عود ( سلگتا ) ہوگا ، ان کی بیویاں غزال چشم حوریں ہوں گی ، ان سب کے اخلاق وعادات ایک ہی آدمی کے خلق کے مطابق ہوں گے ۔ اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل پر ، ( اقامت میں ) آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ساٹھ ہاتھ کے برابر ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7150

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ لَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ و قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ و قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The first group of my Ummah to get into Paradise would be like a full moon in the night. Then those who would be next to them; they would be like the most significantly glittering stars in regard to brightness, then after them (others) in ranks. They would neither void excrement, nor pass water, nor suffer from catarrh, nor would they spit. And their combs would be made of gold, and the fuel of their braziers would be aloes and their sweat would be musk and their form would be the form of one single person according to the length of their father sixty cubits tall. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Shaiba with a slight variation of wording. ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے اورانھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میری امت میں سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہوگا ، جو ان کے بعد ہوں گے وہ آسمان میں انتہائی چمکدار ستارے کی طرح ہوں گے ، پھر وہ تدریجاً اپنے اپنے مرتبے کے مطابق ہوں گے ، وہ پاخانہ کریں گے نہ پیشاب ، ناک سنکیں گے نہ تھوکیں گے ، ان کی کنگھیاں سونے کی ، انگیٹھیاں معطر عود کی اور پسینہ کستوری کا ہوگا ۔ ان سب کے اخلاق ایک ہی انسان کے ( خوبصورت ) اخلاق پر ( گئے ) ہوں گے ، اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کی قامت پر ساٹھ ہاتھ ( لمبے ) ہوں گے ۔ "" ابن ابی شیبہ نے کہا : ایک ہی آدمی کے اخلاق پر ، اور ابو کریب نے کہا : ایک ہی آدمی کی خلقت ( شکل وصورت قدوقامت ) پر ہوں گے ۔ اور ابن ابی شیبہ نے کہا : اپنے والد ( حضرت آدم علیہ السلام ) کی شکل پر ہوں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7151

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمْ مِنْ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَجَامِرُهُمْ مِنْ الْأَلُوَّةِ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنْ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا
Hammam b. Munabbih reported: These are some of the ahidith which Abu Huraira reported from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and one is this that he is reported to have said: The (members of the) first group that would be admitted to Paradise would have their faces as bright as full moon during the night. They would neither spit nor suffer catarrh, nor void excrement. They would have their utensils and their combs made of gold and silver and the fuel of their braziers would be aloes and their sweat would be musk and every one of them would have two spouses (so beautiful) that the marrow of their shanks would be visible through the flesh. There would be no dissension amongst them and no enmity in their hearts. Their hearts would be like one heart, glorifying Allah morning and evening. معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پہلا گروہ جوجنت کے اندر جائے گا ، ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی صورت پرہوں گی ۔ وہ اس ( جنت ) میں نہ تھوکیں گے ، نہ ناک سنکیں گے ، نہ پیشاب پاخانہ کریں گے ۔ ان کے برتن اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی ، ان کی انگیٹھیوں میں عود معطر سلگےگا ، ان کا پسینہ کستوری کا ہوگا ۔ ان میں سے ہر ایک دو ، دوبیویاں ہوں گی ، فرط حسن سے ان کی پنڈلیوں کا گوداگوشت سے پیچھے سے دکھائی دے گا ۔ ان کے درمیان نہ کسی قسم کا کوئی اختلاف ہو گا ۔ نہ باہمی بغض ہوگا ۔ ان سب کے دل ایک دل ( کی طرح ) ہوں گے ۔ وہ صبح و شام اپنے اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7152

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ قَالُوا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ قَالَ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ
Jabir reported: I heard Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that the inmates of Paradise would eat and drink but would neither spit, nor pass water, nor void excrement, nor suffer catarrah. It was said: Then, what would happen with food? Thereupon he said: They would belch and sweat (and it would be over with their food), and their sweat would be that of musk and they would glorify and praise Allah as easily as you breathe. جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، " اہل جنت وہاں کھائیں گے پئیں گے ۔ لیکن نہ اس میں تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے ، نہ رفع حاجت کریں گے اور نہ ناک سنکیں گے ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : پھر ان کے کھانے کا کیا بنے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک ذکاء ( آئےگی ) اور کستوری کے پسینے کی طرح پسینہ آئے گا ۔ ان کو تسبیح اور حمد ( کے نغمے ) اسی طرح ( فطرت کے اندر ) الہام کردیے جائیں گے ۔ جس طرح سانس کو الہام ( کر کے ان کی فطرت میں شامل ) کردیا جاتاہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7153

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ كَرَشْحِ الْمِسْكِ
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash with a slight variation of wording. ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : " کستوری کے پسینے کی طرح " تک روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7154

و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَكِنْ طَعَامُهُمْ ذَاكَ جُشَاءٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ قَالَ وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ طَعَامُهُمْ ذَلِكَ
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that the inmates of Paradise would eat therein and they would also drink, but they would neither void excrement, nor suffer catarrh, nor pass water, and their eating (would be digested) in the form of belching and their sweat would be musk aged they would glorify and praise Allah as easily ai you breathe. حسن بن علی حلوانی اور حجاج بن شاعر دونوں نے مجھے ابو عاصم سے روایت کی ۔ حسن نے کہا : ہمیں ابو عاصم نے حدیث بیان کی کہا : ابن جریج سے روایت ہے انھوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابرعبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ، " اہل جنت اس میں کھائیں اور پئیں گے ۔ ( لیکن ) وہ اس میں رفع حاجت کریں گے ۔ نہ ناک سنکیں گے ۔ نہ پیشاب کریں گے البتہ ان کا کھانا ذکاء ( کی شکل میں تحلیل ) ہوجائے گا ۔ جو مشک کی طرح خوشبودارہو گی ۔ انھیں ( خود بخود ) اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد کرنا الہام کیا جا ئے گا جس طرح انھیں ( خود بخود ) سانس لینا الہام کیا گیا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7155

و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّكْبِيرَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ
This hadith has been transmitted on the authority of Jabir with a slight variation of wording. یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حدیث ) روایت کی مگر انھوں نےکہا : " اور انھیں تسبیح و تکبیر اسی طرح الہام کی جائےگی جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7156

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who would get into Paradise (would be made to enjoy such an everlasting) bliss that he would neither become destitute, nor would his clothes wear out, nor his youth would decline. ابو رافع نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ ناز و نعم میں ہو گا کبھی تنگ حال نہ ہو گا ۔ اس کا لباس پرانا ہو گا نہ اس کی جوانی ڈھلے گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7157

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ قَالَ الثَّوْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ أَنَّ الْأَغَرَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُنَادِي مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمْ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
Abu Sa'id al-Khudri and Abu Huraira both reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There would be an announcer (in Paradise) who would make this announcement: Verily I there is in store for you (everlasting) health and that you should never fall ill and that you live (for ever) and do not die at all. And that you would remain young and never grow old. And that you would always live in affluent circumstances and never become destitute, as words of Allah, the Exalted and Glorious, are: And it would be announced to them: This is the Paradise. You have been made to inherit it for what you used to do . (VII; 43) ثوری نے کہا : مجھے ابو اسحٰق نے حدیث بیان کی ، ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اغر ( ابن عبد اللہ ) نے انھیں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک اعلان کرنے والااعلان کرے گا ۔ یقیناًتمھارے لیے یہ ( انعام بھی ) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے ، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے ۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے ۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے ۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے ۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان ( واضح کرتا ) ہے : " اور انھیں ندادے کرکہاجائے گاکہ یہی تمھاری جنت ہے جس کے تم ان اعمال کی وجہ سے سے جو تم کرتے رہے وارث بنا دیے گئے ہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7158

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي قُدَامَةَ وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا لِلْمُؤْمِنِ فِيهَا أَهْلُونَ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ الْمُؤْمِنُ فَلَا يَرَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا
Abu Bakr b. Abdullah b. Qais reported on the authority of his father that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that in Paradise there would be for a believer a tent of a single hollowed pearl the breadth of which would be sixty miles. It would be meant for a believer and the believers would go around it and none would be able to see the others. ابو قدامہ حارث بن عبید نے ابو عمران جونی سے ، انھوں نے ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس سے ، انھوں نے اپنے والد ( ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کے لیے جنت میں ایک خیمہ ہو گا ۔ جو ایک پولے چمکتے سفید موتی کا بناہوا ہوگا ۔ اس کی لمبائی ستر میل ہو گی ۔ اس ( خیمے ) میں مومن کے بہت سے گھروالے ہوں گے ۔ وہ ( باری باری ) ان کے ہاں چکرلگائےگا ۔ ( لیکن ) وہ ( اس قدر فاصلے پہ ہوں گےکہ ) ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے ہوں گے ۔ ( کسی کا بھی دل پریشانی یاحسد کا شکار نہ ہو گا ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7159

و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةٌ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ الْمُؤْمِنُ
Abu Bakr b. Abdullah b. Qais reported on the authority of his father that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that in Paradise there would be a tent made of a single hollowed pearl, the breadth of which would be sixty miles from all sides and there would live a family in each corner and the other would not be able to see the believer who goes around them. ابو عبد الصمد نے کہا : ہمیں ابو عمران جونی نے ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں تھوتھے چمکدار سفید موتی کا خیمہ ہو گا ۔ اس کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی ۔ اس کے ہر کونے میں گھر والے ہوں گےوہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے ہوں گے ۔ مومن ان کے ہاں چکرلگایا کرے گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7160

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ لِلْمُؤْمِنِ لَا يَرَاهُمْ الْآخَرُونَ
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr b. Abu Musa b. Qais who, on the authority of his father, reported the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to have said that there would be a tent made of a pearl whose height towards the sky would be sixty miles. In each corner, there would be a family of the believer, out of sight for the others. ہمام نے ابو عمران جونی سے خبر دی انھوں نے ابو بکر بن ابوموسیٰ بن قیس سے انھوں نے اپنے والد ( ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " خیمہ ایک موتی ( کا ) ہوگا اوپر کی طرف اس کی لمبائی ( بلندی ) ساٹھ میل ہوگی ۔ اس کے ہر کونے میں مومن کے گھروالے ہوں گے ، وہ دوسروں کو نہیں دیکھیں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7161

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Saihan, Jaihan, Euphrates and Nile are all among the rivers of Paradise. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سیحان ، جیحان ، فرات اور نیل سب جنت کی ( طرف سے آنے والی ) نہریں ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7162

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There would enter Paradise people whose hearts would be like those of the hearts of birds. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جنت میں ایسی قومیں ( امتیں جماعتیں ) داخل ہوں کی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7163

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنْ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ قَالَ فَذَهَبَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلْ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهُ حَتَّى الْآنَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, created Adam in His image with His length of sixty cubits, and as He created him He told him to greet that group, and that was a party of angels sitting there, and listen to the response that they give him, for it would form his greeting and that of his offspring. He then went away and said: Peace be upon you! They (the angels) said: May there be peace upon you and the Mercy of Allah, and they made an addition of Mercy of Allah . So he who would get into Paradise would get in the form of Adam, his length being sixty cubits, then the people who followed him continued to diminish in size up to this day. ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ان میں سے ( ایک ) یہ ہے کہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی ( پسندیدہ ) صورت پر پیدا فرمایا ، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا جب ان کو تخلیق فرمالیا تو فرمایا : جائیں اور اس ( سامنے والی ) جماعت کو سلام کہیں ۔ اور وہ فرشتوں کی جماعت ہے جو بیٹھے ہوئے ہیں اور جس طرح وہ آپ کو سلام کہیں اسے غور سے سنیں ، وہی آپ کا اور آپ کی اولاد کا سلام ہو گا ۔ فرمایا وہ گئے اور کہا : السلام عليك انھوں نے ( جواب میں ) کہا : السلام عليك ورحمة الله فرمایا : انھوں نےان ( آدم علیہ السلام ) کے لیے ورحمة الله کا اضافہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہو گا آدم علیہ السلام کی ( اسی ) صورت پر ہوگا اور ان کی قامت ( جنت میں ) ساٹھ ہاتھ تھی پھر ان کے بعد آج تک ( ان کی اولاد کی ) خلقت چھوٹی ہوتی رہی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7164

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ خَالِدٍ الْكَاهِلِيِّ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle. حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7165

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَارُكُمْ هَذِهِ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ قَالُوا وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهَا مِثْلُ حَرِّهَا
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The fire which sons of Adam burn is only one-seventieth part of the Fire of Hell. His Companions said: By Allah, even ordinary fire would have been enough (to burn people). Thereupon he said: It is sixty-nine parts in excess of (the heat of) fire in this world each of them being equivalent to their heat. ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہاری یہ آگ ۔ جس کو ابن آدم روشن کرتاہے ۔ جہنم کی گرمی کے سترحصوں میں سے ایک حصے ( کی حرارت ) کے برابر ہے ۔ " انھوں ( صحابہ ) نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم!یہ لوگ بھی تو کافی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے انہتر حصے زیادہ رکھا گیا ہے ، ہرحصہ اس ( دنیا کی آگ ) کے مانند گرم ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7166

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا
This hadith has been narrated on the authority of Abn Huraira through another chain of transmitters with a slight variation of wording. معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوزناد کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر انھوں ( معمر ) نے کہا : " وہ سب ک سب اس جیسی حرارت رکھتے ہیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7167

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا
Abu Huraira reported: We were in the company of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that we heard a terrible sound. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do you know what (sound) is this? We said: Allah and His Messenger know best. Thereupon he said: That is a stone which was thrown seventy years before in Hell and it has'been constantly slipping down and now it has reached its base. خلف بن خلیفہ نے کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے ابو حازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے کسی بہت وزنی چیز کے کرنے کی آواز سنی ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو یہ کیسی آواز تھی؟ " کہا : ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " یہ ایک پتھر تھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا کیا تھا ، یہ اب اس میں گر اہے ، یہاں تک کہ اس کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7168

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ هَذَا وَقَعَ فِي أَسْفَلِهَا فَسَمِعْتُمْ وَجْبَتَهَا
This hadith has been narrated on the authority of Abfi Huraira with the same chain of transmitters but with this change of wording that the Prophet (may. peace be upon him) said: It reached at its base and you heard its sound. مروان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوحازم سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " یہ ( اب ) اس کے نچلے حصے میں گرا ہے اور تم نے اس کے گرنے کی آوازسنی ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7169

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ قَتَادَةُ سَمِعْتَ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى عُنُقِهِ
Samura b. Jundub reported Allah's Apostle (may peace -be upon him) as saying: There will be some to whose ankels the fire will reach, some to whose knees, some to whose waist the fire will reach, and some to whose collar-bone the fire will reach. شیبان بن عبدالرحمان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : قتادہ نے کہا : میں نے ابونضرہ کو حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ان ( جہنمیوں ) میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی قمر تک لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی گردن تک لپٹی ہوگی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7170

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ
Samura b. Jundub reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There would be among them those to whom the fire will reach up to their ankels and to some of them the fire would reach their knees and to some it would reach their waists and to some it would reach up to their collar-bones. عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو نضرہ کو سنا ، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7171

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَجَعَلَ مَكَانَ حُجْزَتِهِ حِقْوَيْهِ
This hadith has been narrated on the authority of Sa'id with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording. روح نے کہا : ہمیں سعید نے اسی سند کے سا تھ حدیث بیان کی اور انھوں نے ( کمر پر ازار باندھنے کی جگہ کے لیے ) " حجرة " کے بجائے ۔ " حقوية " کا لفظ استعمال کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7172

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّتْ النَّارُ وَالْجَنَّةُ فَقَالَتْ هَذِهِ يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَقَالَتْ هَذِهِ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَرُبَّمَا قَالَ أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَقَالَ لِهَذِهِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as say- ing: There was a dispute between the Hell and the Paradise and it (the Hell) said: The haughty and the proud would find abode in me. And the Paradise said: The meek and the humble would find their abode in me. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, (addressing the Hell) said: You are (the means) of My punishment by which I punish those of My servants whom I wish. (And addressing the Paradise) He said: You are only My Mercy by means of which 1 shall show mercy to those whom I wish, but each one of you would be full. سفیان نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دوزخ اور جنت میں مباحثہ ہوا تو اس ( دوزخ ) نے کہا : میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے ۔ اور اس ( جنت ) نے کہا : میرے اندر ( اسباب دنیا ک اعتبار سے ) ضعیف اور مسکین لوگ داخل ہوں گے ۔ اللہ عزوجل نے اس ( دوزخ ) سے کہا : تم میرا عذاب ہو ، تمہارے ذریعے سے میں جنھیں چاہوں گا عذاب دوں گا ۔ یا شاید فرمایا : جنھیں چاہوں گا مبتلا کروں گا ۔ اور اس ( جنت ) سے کہا : تو میری رحمت ہے اور تمہارے ذریعے سے جس پرچاہوں گا رحم کروں گا اور تم دونوں کے لئے وہ مقدار ہوگی جو اس کو بھر دے گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7173

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّتْ النَّارُ وَالْجَنَّةُ فَقَالَتْ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَعَجَزُهُمْ فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمْ مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتَقُولُ قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as say- ing: The Hell and the Paradise fell into dispute and the Hell said: I have been dis- tinguished by the proud and the haughty. And the Paradise said: What is the matter with me that the meek and the humble amongst people and the downtrodden and the simple enter me? Thereupon Allah said to the Paradise: You are (the means) of My Mercy whereby I show mercy to those of My servants whom 1 wish, and He said to the Hell: You are (the means) of punishment whereby 1 punish those of My servants whoml wish. Both of you will be full. The Hell will riot be filled up until Allah puts down His foot in it. The Hell would say: Enough, enough, enough, and at that time it will be filled up, all its parts integrated together. ورقاء نے مجھے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دوزخ اور جنت نے باہم ( اپنی اپنی برتری کے ) دلائل دیے دوزخ نے کہا : مجھے جبر وتکبر کرنے و الوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : مجھے کیا ہواہے کہ میرے اندر کمزور ، خاک نشین ، اورعاجز ولاچار لوگ ہی داخل ہوں گے؟ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے میں اپنے بندوں میں سے جن پر چاہوں گا تیسرے ذریعے سے رحمت کروں گا اور دوزخ سے کہا : تو میرا عذاب ہے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گاتمہارے ذریعے دے عذاب دوں گااور تم دونوں کے لئے اتنی ( مخلوق ) ہے جس سے تم بھر جاؤ ۔ رہی آگ تو وہ پوری طرح سے نہیں بھرے گی چنانچہ وہ ( اللہ ) اس کے اوپر اپناقدم رکھے گا تو وہ کہے گی!بس بس! اس وقت وہ بھر جائے گی اور باہم سمٹ جائے گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7174

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same. ایوب نے ابن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جنت اور دوزخ نے ( اپنی اپنی برتری کے ) دلائل دیئے ۔ " پھر ابو زناد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7175

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَاجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتْ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِجْلَهُ تَقُولُ قَطْ قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا
Hammam b. Munabbih reported that Abu Huraira narrated to them some ahadith of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and one of them is this that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The Paradise and the Hell fell into dispute and the Hell said: 1 have been distinguished for accommodating (the haughty and proud in me), and the Paradise said: What is the matter that the meek and the humble and the downtrodden and simple would find an abode in me? Thereupon Allah said to Paradise: You are a (means) of My Mercy. 1 shall show mercy through you to one whom I will from amongst My servants. And lie said to the Hell: You are a (sign) of My chastisement and I shall chastise through you anyone whom I will from amongst My servants and both of you, would be full. And as regards the Hell it would not be full until Allah, the Exalted and Glorious, places His foot therein, and it would say: Enough, enough, enough, and it would be then full and the one part would draw very close to the other one and Allah would not treat unjustly anyone amongst His creation and He would create another creation for the Paradise (to accommodate it). معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اوردوزخ نے ( اپنے اپنے بارے میں ) ایک دوسرے کو دلائل دیئے ۔ دوزخ نے کہا : مجھے تکبر اور جبر کرنے والوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر لوگوں میں سے کمزور خاک نشین اور سیدھے سادے لوگ داخل ہوں گے؟تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو سراسر میری رحمت ہے ، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت سے نوازوں گا اور دوزخ سے کہا : تو صرف اور صرف میرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا عذاب میں ڈالوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لئے اتنے بندے ہیں جن سے وہ بھر جائے ، جہاں تک آگ کا تعلق ہے تو وہ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ۔ اپنا قدم ( اس پر ) رکھ دے گا تو وہ کہے گی ۔ بس ۔ بس ۔ بس اس وقت وہ بھر جائے گی ، اس کے بعض حصے بعض کے ساتھ سمٹ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ ( اس کے لیے ) ایک مخلوق تیار کردے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7176

و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى قَوْلِهِ وَلِكِلَيْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ الزِّيَادَةِ
Abu Sa'id al-Khudri reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same as transmitted by Abu Huraira up to the words'. It is essential for Me to fill up both of you. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اور دوزخ نے ایک دوسرے کے سامنے دلائل دیے ۔ " پھرانہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : " تم دونوں کو بھرنا میری ذمہ داری ہے " تک بیان کیا اور اس کے بعدکے مزید الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7177

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that the Hell would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and High, would place His foot therein and that would say: Enough, enough, by Your Honour, and some parts of it would draw close to the other. شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دوزخ مسلسل یہی کہتی رہے گی : کیا اور زیادہ ہے؟یہاں تک کہ رب العزت تبارک وتعالیٰ اس میں اپنا قدم ٹکائے گا تو وہ کہے گی بس بس تیری عزت کی قسم! ( میرامطالبہ ختم ہوگیا ۔ ) اور اس کاایک حصہ دوسرے حصے سے سمٹ جائے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7178

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters. ابان بن یزید عطار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شیبان کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7179

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلْ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ فَأَخْبَرَنَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ
Abd al-Wahhab b. Ata' reported in connection with the words of Allah, the Exalted and the Glorious: We would say to Hell on the Day of Ressurection: Have you been completely filled up? and it would say: Is there anything -more? And he stated on the authority of Anas b. Malik that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (The sinners) would be thrown therein and it would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and Glorious, would keep His foot there- in and some of its part would draw close to the other and it would say: Enough, enough, by Thy Honour and by Thy Dignity, and there would be enough space in Paradise until Allah would create a new creation and He would make them accommo- date that spare place in Paradise. عبدالوہاب بن عطا نے ہمیں اس ( اللہ ) عزوجل کے اس فرمان؛ " جس دن ہم جہنم سے کہیں کے کیا تو بھر گئی اور وہ کہے گی : کیا اور زیادہ ہے؟ " کے بارے میں حدیث بیان کی ، انھوں نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جہنم میں مسلسل ( لوگوں کو ) ڈالا جاتا رہے گا اور ہو کہتی رہے گی : کیا اور ہے؟یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پاؤں رکھ دے گا ، تو اس کا بعض بعض کی طرف سمٹ جائے گا اور وہ کہے گی : تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم! بس بس اور جنت میں مسلسل گنجائش رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک خلقت پیدا کردے گا اور انھیں جنت کی بچی ہوئی جگہ میں بسا دے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7180

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَبْقَى مِنْ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا خَلْقًا مِمَّا يَشَاءُ
Anas reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There would be left some space in Paradise as Allah would like that to be left. Then Allah would create another creation as He would like. ثابت نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں سے جس حصے کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ باقی بچ جائے وہ باقی بچ جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ، جہاں سے چاہے گا ، مخلوق پیدا کردے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7181

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَاتَّفَقَا فِي بَاقِي الْحَدِيثِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا
Abu Sa'id reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it would be said: 0 inmates of Paradise,, there is an everlasting life for you and no death. And then (addressing) to the inmates of the Hell-Fire, it would be said: 0 inmates of Hell-Fire, there is an everlasting living for you and no death. Allah's Messenger (may peace be [email protected] him) then recited this verse pointing with his hand to this (material) world: Warn them, this Day of dismay, and when their affairs would be decided and they would be un- mindful and they believe not (xix. 39). ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے ، ہاں ، یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے ذبح کردیا جائے گا ۔ فرمایا : پھر کہاجائے گا : اے جنت والو! ( اب ) دوام ہی دوام ہے موت نہیں ہےاور اے جہنم والو! ( اب ) دوام ہی دوام ہے ، موت نہیں ہے ۔ " کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی : " ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب معاملہ نپٹا دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے ۔ " اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7182

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَيْضًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا
Abu Sa'id reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When the inmates of Paradise would be admitted to Paradise and the inmates of Hell would be admitted to Hell, it would be said (to the inmates of Paradise): 0 inmates of Paradise. The rest of the hadith is the same but with this variation (that he only) said. That is the word of Allah, the Exalted. And he did not say: Then Allah's Mes- senger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited, and he did not make a mention of his having pointed with his hand towards the (material) world. ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو صالح سے ، اور انھوں نے ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل کردیے جائیں گے ۔ تو کہا جائے گا اے اہل جنت! " اس کے بعد ابو معاویہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ، مگر انھوں نے کہا : " یہی ( اسی کے مطابق ) ہے اس ( اللہ ) عزوجل کا فرمان ۔ " اورانھوں نے نہیں کہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی اور ( اسی طرح ) انھوں نے یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ آپ کے اپنے ہاتھ سے د نیا کی طرف اشارہ فرمایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7183

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ فَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ كُلٌّ خَالِدٌ فِيمَا هُوَ فِيهِ
Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah would admit the inmates of Paradise into Paradise and the inmates of Hell into Hell. Then the announcer would stand between them and say: 0 inmates of Paradise, there is no death for you,0 inmates of Hell, there is no death for you. You would live for ever therein. نافع نے ہمیں حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا ۔ پھر ان کےدرمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہوکر اعلان کرے گا : اے اہل جنت!اب موت نہیں ہے ، اور اے اہل دوزخ !اب موت نہیں ہے ہر شخص جہاں ہے وہیں ہمیشہ رہنے والا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7184

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ وَصَارَ أَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ثُمَّ يُذْبَحُ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ
`Umar b. Muhammad b. Zaid b. `Abdullah b. `Umar b. al-Khattab reported on the authority of his father `Abdullah b. `Umar that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the inmates of Paradise would go to Paradise and the inmates of Hell would go to Hell, death would be called and it would be placed between the Paradise and the Hell and then slaughtered and then the announcer would announce: O inmates of Paradise, no death. O inmates of Hell-Fire, no death. And it would increase the delight of the inmates of Paradise and it would increase the grief of the inmates of Hell-Fire. ابن وہب نے کہا : مجھے عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نےحدیث بیان کی کہ انھیں ان کے والد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ذبح کیا جائے گا اور اس کو جنت اوردوزخ کے درمیان کھڑا کیاجائے گا پھر اسے ذبح کردیا جائے گا ، پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : اے جنت والو! ( اب ) موت نہیں ہے ( اور ) اے جہنم والو! ( اب ) موت نہیں ہے ۔ اہل جنت کو اپنی خوشی پر مزید خوشی حاصل ہوجائے گی اور جہنم و الوں کو اپنے غم پر مزید غم لاحق ہوگا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7185

حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِرْسُ الْكَافِرِ أَوْ نَابُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ
It is transmitted on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The molar tooth of an unbeliever or the canine teeth of an unbeliever will be like Uhud and the thickness of his skin a three night's journey. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کافر کی داڑھ یا ( فرمایا : ) کافر کا کچلی دانت اُحد پہاڑ جتنا ہوجائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن چلنے کی مسافت کے برابر ہوگی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7186

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ مَا بَيْنَ مَنْكِبَيْ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ وَلَمْ يَذْكُرْ الْوَكِيعِيُّ فِي النَّارِ
Abu Huraira reported directly from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he said: The distance of the two shoulders of the non-believer in Hell will be a three-day journey for a swift rider. ابو کریب اور احمد بن عمر وکیعی نےہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابوحازم سے اور انھوں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے اسے مرفوع بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جہنم میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کےبرابر فاصلہ ہوگا ۔ "" وکیعی نے "" جہنم میں "" کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7187

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا بَلَى قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ قَالُوا بَلَى قَالَ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ
Haritha b. Wahb reported that he heard Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: May I not inform you about the inmates of Paradise? They said: Do this, of course. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Every humble person who is considered to be humble if he were to adjure In the name of Allah, He would fulfil it. He then said: May I not inform you about the denizens of Hell-Fire? They said: Yes. And he said: Every haughty, fat and proud (person). معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے معبد بن خالد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاتاہے ۔ ( مگر ایسا کہ ) اگر ( کسی معاملے میں ) اللہ پر قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم پوری کردے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! " کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ " لوگوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہراجذ ، مال اکھٹا کرنے والا اسے خرچ نہ کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7188

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording. محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر اس میں کہا : " کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7189

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيمٍ مُتَكَبِّرٍ
Haritha b. Wahb al-KhuzaIi reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: May I not inform you about the inmates of Paradise? (And then informing about them) said: Every meek person who is considered to be humble and if they were to adjure in the name of Allah, Allah would certainly fulfil it. May I not inform you about the inmates of Hell-Fire? They are all proud, mean and haughty. سفیان نے ہمیں معبد بن خالد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ہر کمزور جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے ۔ ( لیکن ایساکہ ) اگر اللہ پر ( اعتماد کرتے ہوئے ) قسم کھالے تو وہ اسے پوری کردے ۔ کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ہر مال سمیٹنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا ، بد اصل ، متکبر ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7190

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as say- ing: Many a people with dishevelled hair are driven away from the door (but they are so pious) that if they are to swear in the name of Allah, He would definitely fulfil that. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " بسا اوقات پراگندہ بالوں والا جسےدروازے پر سے لوٹا دیا جاتاہے ۔ ( ایسا ہوتا ہے ) کہ اللہ پر ( اعتماد کرتے ہوئے ) قسم کھالے تو وہ ( اللہ ) اسے پوری کردیتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7191

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ ثُمَّ قَالَ إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنْ الضَّرْطَةِ فَقَالَ إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ
Abdullah b. Zam'a reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) delivered an address and he made a mention of the dromedary and also made a mention of one (base person) who cut off Its hind legs, and he recited: When the basest of them broke forth with mischief (xei. 12). When A mischievous person, strong even because of the strength of a family like Abu Zam'a, broke forth. He then delivered instruction in regard to the women saying: There is amongst you who beats his woman, and in the narration on the authority of Abu Bakr, the words are: He flogs her like a slave-girl. And in the narration of Abu Kuraib (the words are): He flogs like a slave and then comforts his bed with the help of that at the end of the day, and he then advised in regard to laughing of people at the breaking of wind and said: One of you laughs at that which you yourself do. ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن نمیر کےنے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو ( حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے شخص کا ذکر فرمایا ، پھر آپ نے پڑھا : " جب اس ( قبیلے ) کابدبخت ترین شخص اٹھا " ( آپ نے فرمایا : قبیلہ ثمود کا ) سب سے طاقتور ، شر پھیلانے والا ، جس کو ا پنی قوم کا پورا تحفظ حاصل تھا ، جس طرح ابوزمعہ ( اسود بن مطلب ) ہے ، ( کونچیں کاٹنے کے لئے ) اٹھا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں عورتوں کا بھی ذکر کیا ، ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ) ان کے بارے میں وعظ ونصیحت فرمائی ، پھر فرمایا؛ " کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو ( اس طرح ) کوڑے سے مارتا ہے " ابو بکر کی روایت میں ہے : " جس طرح لونڈی کو مارتا ہے " اور ابو کریب کی روایت میں ہے؛ " جس طرح غلام کو مارتا ہے ۔ پھر شاید دن کے آخر میں اسی کےساتھ ہم بستری کرے گا ۔ " پھران ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو گوز پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی : " تم میں سے کوئی کب تک اس کام پر ہنستا رہے گا جسے وہ خود کرتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7192

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي كَعْبٍ هَؤُلَاءِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as say- ing: I saw 'Amr b. Luhayy b. Qam'a b. Khindif, brother of Bani Ka'b, dragging his Intestines in Fire. سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے عروہ بن لحی بن قمعہ بن خندف ، ان بنو کعب والوں کے جذ اعلیٰ کو دیکھا ، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7193

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ وَأَمَّا السَّائِبَةُ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السُّيُوبَ
Sa'id b. Musayyib explained al-bahira as that animal which is not milked but for the idols. and none amongst the people milks them, and as-sa'iba as that animal which is let loose for the deities. Nothing is loaded over it, and Ibn Musayyib narrated that Abu Huraira stated that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I saw 'Amr b. 'Amir al-Khuzili dragging his intestines in fire and he was the first who devoted animals to deity. ابن شہاب نے کہا : میں نے سعید بن مسیب سےسنا ، وہ کہتے ہیں : بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ جھوٹے خداؤں ( بتوں ) کے چڑھاوے کے لیے دوہنا بند کردیا جاتا ہے ، اس لئے کوئی شخص ان کو نہیں دوہتا تھا ، اورسائبہ وہ جانور ہے جسے جھوٹے خداؤں ( کی سواری کے لئے ) کھلا چھوڑ دیاجاتا ہے ۔ اس پر کوئی چیز تک نہیں لادی جاتی ۔ اور ابن مسیب نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا ، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا ، وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سےپہلے ( بتوں کے نام پر ) کھلاچھوڑا جانے والا جانور چھوڑاتھا ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7194

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Two are the types amongst the denizens of Hell, the one possessing whips like the tail of an ox and they flog people with their help. (The second one) the women who would be naked in spite of their being dressed, who are seduced (to wrong paths) and seduce others with their hair high like humps. These women would not get into Paradise and they would not perceive the odour of Paradise, although its frag- rance can be perceived from such and such distance (from great distance). سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اہل جہنم کے دو قسمیں ایسی ہیں جن کو ( دنیوی زندگی میں ) میں نے ( خود ) نہیں دیکھا ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پاس گایوں کی دموں کی طرح سے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کوماریں گے اور ( دوسرے گروہ میں ) وہ عورتیں ہیں جو لباس پہنے ہوئے ( بھی ) ننگی ہوں گی ، دوسروں کو ( گناہ پر ) مائل کرنے والی ، خود مائل ہونے والی ہوں گی ان کے سر ( علاقہ ) بخت کی اونٹنیوں کے ایک طرف جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے ۔ یہ عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اسکی خوشبو سونگھیں گی ۔ حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے ( لمبے ) فاصلے سےمحسوس ہوتی ہوگی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7195

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَى قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If you survive for a time you would certainly see people who would have whips in their hands like the tail of an ox. They would get up in the morning under the wrath of Allah and they would get into the evening with the anger of Allah. زید بن حباب نے کہا : ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےآزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " قریب ہے کہااگر تمھیں لمبی مدت مل گئی تو تم ایسے لوگوں کودیکھو گے جن کے ہاتھ میں گایوں کی دموں جیسے ( کوڑے ) ہوں گے ، وہ اللہ کےغضب میں صبح گزاریں گے اور اللہ کی سخت ناراضگی میں شام بسر کریں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7196

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If you live for a time, you would certainly see people get up (in the morning) in the wrath of Allah and getting into the evening under the curse of Allah, and there would be in their hands (whips) like the tail of an ox. ابو عامر عقدی نے کہا : ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " اگر تمھیں طویل مدت مل گئی تو قریب ہے کہ تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے جن کی صبح اللہ کی سخت ناراضی میں اور جن کی شام اللہ کی لعنت کے سائے میں ہوگی ۔ ان کے ہاتھوں میں گایوں کی دموں کی مانند ( کوڑے ) ہوں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7197

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ وَأَشَارَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا غَيْرَ يَحْيَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَخِي بَنِي فِهْرٍ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا قَالَ وَأَشَارَ إِسْمَعِيلُ بِالْإِبْهَامِ
This hadith has been narrated through five different chains of transmitters and all of them are narrated on the authority of Mustaurid, brother of Bani Fihr, that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: By Allah, this world (is so insigni- ficant in comparison) to the Hereafter that if one of you should dip his finger- (and wnile saying this Yahyg pointed with his forefinger) -in the ocean and then he should see as to what has stuck to it. This hadith has been narrated through another chain of transmitters also but with a slight variation of wording. عبد اللہ بن ادریس محمد بن نمیر محمد بن بشیر موسیٰ بن اعین اور ابواسامہ اور یحییٰ بن سعید سب نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں قیس نے حدیث سنائی : انھوں نے کہا : میں نے حضرت مستورد ( بن شدادقرشی ) فہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا : وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ کی قسم!آخرت ( کے مقابلے ) میں دنیا کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی ایک انگلی سمندر میں ڈالے ۔ یحییٰ نے اپنی انگشت شہادت کی طرف اشارہ کیا ۔ پھر دیکھے وہ ( انگلی ) اس میں سے کیا ( نکال کر ) لاتی ہے ۔ "" یحییٰ ( بن سعید قطان کی روایت ) کے علاوہ باقی سب کی حدیث میں ( صراحت سے ) یہ الفاظ ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔ اور حضرت مستورد بن شدادفہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابو اسامہ کی حدیث میں بھی ( یہی الفاظ ہیں ) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ ( ابو اسامہ نے ) اور اسماعیل ( بن ابی خالد ) نے انگوٹھے کے ساتھ اشارہ کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7198

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ
A'isha reported that she heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The people would be assembled on the Day of Resurrection barefooted, naked and uncircumcised. I said: Allah's Messenger, will the male and the female be together on the Day and would they be looking at one another? Upon this Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: 'A'isha, the matter would be too serious for them to look to one another. و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7199

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا
This hadith has been narrated on the authority of Hatim b. Abi Saghira with the same chain of transmitters and there is no mention of the word uncircum- cised. ابو خالد احمرنے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے اپنی روایت میں " بے ختنہ " ذکرنہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7200

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ
Ibn Abbas reported that he heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) deliver an address and he was saying that they would meet Allah barefooted, naked and uncircumcised. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7201

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ قَالَ فَيُقَالُ لِي إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَمُعَاذٍ فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
This hadith has been narrated through other chains of transmitters on the authority of Ibn Abbas, (and) the words are: While Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up to deliver a sermon, he said: 0 people, Allah would make you assemble barefooted, naked and uncircumcised (and then recited the words of the Qur'an): As We created you for the first time, We shall repeat it. (It is) a promise (binding) upon us. Lo! We are to perform it, and the first person who would be clothed on the Day of Resurrection would be (Hadrat) Ibrahim (peace be upon him) and, behold! some persons of my Ummah would be brought and taken to the left and I would say: My Lord, they are my companions, and it would be said: You do not know what they did after you, and I would say just as the pious servant (Hadrat 'Isa) said:, I was a witness regarding them as I remained among them and Thou art a witness over everything, so if Thou chastisest them, they are Thy servants and if Thou for- givest them, Thou art Mighty, Wise (v. 117-118). And it would be said to him: They constantly turned to their heels since you left them. This hadith has been transmitted on the authority of Waki' and Mu'adh (and the words are): What new things they fabricated. وکیع اور معاذ دونوں نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ کہا : ہمیں محمد بن جعفرنے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مغیرہ بن نعمان سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں بے لباس بے ختنہ اکٹھا کیا جا ئے گا ۔ ( قرآن مجید میں ہے ) : " جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لو ٹائیں گے ۔ یہ ہم پر ( پختہ ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں ۔ " یاد رکھو!مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنھیں لباس پہنایا جا ئے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ۔ اور یاد رکھو!میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے ، پھر انھیں پکڑکر بائیں ( جہنم کی ) طرف لے جایا جائے گا ۔ میں کہوں گا ۔ میرے رب! میرے ساتھی ہیں ۔ تو کہا جا ئےگا ۔ آپ کو معلوم نہیں انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیانئی باتیں نکالی تھیں ۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) کہیں گے : " میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تونے مجھے اٹھالیا تو ان پر تو نگہبان تھا ۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر توانھیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے ۔ " فرمایا : " تومجھ سے کہا جا ئے گا جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے ۔ یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے ۔ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے : " تو کہا جائے گا ۔ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں نکالی تھیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7202

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينً وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمْ النَّارُ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying, The people will be assembled in three categories. Those desirous (of Paradise), fearing (Hell), coming two upon the came], three upon the camel, four upon the camel, ten upon the camel and the rest will be assembled, Hell-Fire being with them when they are at midday where they would spend the night and where they would spend the morning and where they would spend the evening. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( قیامت کے دن ) لوگوں کو تین طریقوں سے ( اللہ کے سامنے ) اکٹھا کیا جائے گا ۔ ( کچھ لوگ ) خوف ورجا کے عالم میں ہوں گے اور ( وہ لوگ جنھیں حاضری کے وقت بھی عزت نصیب ہوگی ۔ حسب مراتب ) وہ ( افراد ) ایک اونٹ پر ( سوار ) ہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر ( سوارہوکر میدان حشر میں آئیں گے ) اور باقی سب لوگوں کو آگ ( اپنے گھیرے میں ) اکٹھا کر کے لائے گی ۔ جہاں ان پر رات آئے گی ، وہ ( آگ ) رات کو بھی ان کے ساتھ ہو گی ، جہاں انھیں دوپہر ہوگی وہ دوپہر کو بھی ان کو ساتھ رکے گی ، وہ جہاں صبح کریں گےوہ صبح کے وقت بھی ان کے ساتھ ہوگی ۔ اور جہاں وہ لوگ شام کریں گے وہ شام کو بھی ان کے ساتھ ہوگی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7203

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنُونَ ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ يَقُومُ النَّاسُ لَمْ يَذْكُرْ يَوْمَ
Ibn 'Umar reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When the people stand before Allah, the Lord of the worlds, each one of them would stand submerged into perspiration up to half of his ears, and there is no mention of the day in the hadith transmitted on the authority of Ibn Muthanni. زہیر بن حرب محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس آیت کی تفسیر ) روایت کی : " اس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اس طرح کھڑا ہو گا کہ اس کا پسینہ اس کے کانوں کے درمیان تک ہو گا ۔ " اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( " ان میں سے کوئی " کے بجائے ) فرمایا : " لوگ کھڑے ہوں گے ۔ انھوں نے ( ابن مثنیٰ ) نے ( آیت میں ) يوم ( اس دن ) کا ذکرنہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7204

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ح و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ كِلَاهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَصَالِحٍ حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Umar but with a slight variation of wording (and the words are): One of them would be completely submerged in perspiration up to half of his ears. موسیٰ بن عقبہ ابن عون امام مالک ایوب اور صالح سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی جو عبید اللہ نے نافع سے بیان کی ہے البتہ موسیٰ بن عقبہ اور صالح کی روایت ہے : " یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص آدھے کانوں تک اپنے پسینے میں ڈوبا ہو گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7205

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ أَوْ إِلَى آذَانِهِمْ يَشُكُّ ثَوْرٌ أَيَّهُمَا قَالَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as say- ing: The perspiration would spread on the Day of Resurrection upon the earth to the extent of seventy cubits and it would reach up to their mouths or up to their ears. Thaur is not sure (which words) he used (mouth or ears). عبد العزیز بن محمد نے ثور سے انھوں نے ابو الغیث سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقیناًپسینہ ۔ قیامت کے دن زمین میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤکے ستر گنا فاصلے تک چلا جائے گا اور لوگوں کے منہ یا ان کے کانوں تک پہنچاہو گا ۔ "" ثور کو شک ہے کہ انھوں ( ابو الغیث ) نے دونوں میں سے کون سے الفاظ کہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7206

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ أَمْ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ قَالَ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا قَالَ وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ
Miqdad b. Aswad reported: I heard Allah's Messenger (may peace he upon him) as saying: On the Day of Resurrection, the sun would draw so close to the people that there woum be left only a distance of one mile. Sulaim b. Amir said: By Allah, I do not know whether he meant by mile the mile of the (material) earth or dn instrument used for applying collyrium to the eye. (The Prophet is, however, reported to have said): The people would be submerged in perspiration according to their deeds, some up to their. knees, Some up to the waist and some would have the bridle of perspiration and, while saying this, Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) pointed his hand towards his mouth. عبد الرحمٰن بن جابر سے روایت ہے کہا مجھے نیلم بن عامر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت مقدادبن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" قیامت کے دن سورج مخلوقات کے بہت نزدیک آجائے گا حتی کہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا ۔ نیلم بن عامر نے کہا : اللہ کی قسم!مجھے معلوم نہیں کہ میل سے ان ( مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی مراد مسافت ہے یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالاجاتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ( ڈوبے ) ہوں گےان میں سے کوئی اپنے دونوں ٹخنوں تک کو ئی اپنے دونوں گھٹنوں تک کوئی اپنے دونوں کولہوں تک اور کوئی ایسا ہو گا جسے پسینے نے لگام ڈال رکی ہو گی ۔ "" ( مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کہا : اور ( ایسا فرماتےہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7207

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ وَابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمْ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً قَالَ اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ قَالَ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ قَالَ وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوْ الْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو غَسَّانَ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ
Iyad b. Him-ar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), while delivering a sermon one day, said: Behold, my Lord commanded me that I should teach you which you do not know and which He has taught me today. (He has instructed thus): The property which I have conferred upon them is lawful for them. I have created My servants as one having a natural inclination to the worship of Allah but it is Satan who turns them away from the right religion and he makes unlawful what has been declared lawful for them and he commands them to ascribe partnership with Re, although he has no justification for that. And verily, Allah looked towards the people of the world and He showed hatred for the Arabs and the non-Arabs, but with the exception of some remnants from the People of the Book. And He (further) said: I have sent thee (the Holy Prophet) in order to put you to test and put (those to test) through you. And I sent the Book to you which cannot be washed away by water, so that you may recite it while in the state of wakefulness or sleep. Verily, Allah commanded me to burn (kill) the Quraish. I said: My Lord, they would break my head (like the tearing) of bread, and Allah said: You turn them out as they turned you out, you fight against them and We shall help you in this, you should spend and you would be conferred upon. You send an army and I would send an army five times greater than that. Fight against those who disobey you along with those who obey you. The inmates of Paradise are three: One who wields authority and is just and fair, one who Is truthful and has been endowed with power to do good deeds. And the person who is merciful and kind hearted towards his relatives and to every pious Muslim, and one who does not stretch his hand in spite of having a large family to support. And He said: The inmates of Hell are five: the weak who lack power to (avoid evil), the (carefree) who pursue (everything irrespective of the fact that it is good or evil) and who do not have any care for their family or for their wealth. And those dishonest whose greed cannot be concealed even in the case of minor things. And the third. who betray you. morning and evening, in regard to your family and your property. He also made a mention of the miser and the liar and those who are in the habit of abusing people and using obscene and foul language. Abu Ghassan in his narration did not make mention of Spend and there would be spent for you. ابو غسان مسمعی محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار بن عثمان نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابو غسان اور ابن مثنیٰ کے ہیں دونوں نے کہا : معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیرسے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حمادمجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : " سنو!میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ) ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ( اس کی قسمت میں لکھا ) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ( حق کے لیے ) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا انھوں نے اسے ان کے لیے حرام کر دیا اور ان ( بندوں ) کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کے لیے میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی ۔ اور اللہ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے ( کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور ( مجھ سے ) فرمایا : میں نے آپ کو اس لیے مبعوث کیا کہ میں آپ کی اور آپ کے ذریعے سے دوسروں کی آزمائش کروں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی دھو ( کر مٹا ) نہیں سکتا ، آپ سوتے ہوئے بھی اس کی تلاوت کریں گے اور جاگتے ہوئے بھی اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو ( ان کے معبودوں اور ان آباء واجداد کے شرک اور گناہوں پر عار دلاتے ہوئے انھیں ) جلاؤں میں نے کہا : میرے رب وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کر دیں گے ۔ تو ( اللہ نے ) فرمایا : آپ انھیں باہر نکالیں جس طرح انھوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گےاور ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکربھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے سے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں ۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : اہل جنت تین ( طرح کے لوگ ) ہیں ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے ۔ اور ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور وہ عفت شعار ( برائیوں سے بچ کر چلنے والا ) جو عیال دارہے ، ( پھر بھی ) سوال سے بچتاہے ۔ فرمایا : " اور اہل جہنم پانچ ( طرح کے لوگ ) ہیں وہ کمزور جس کے پاس ( برائی سے ) روکنے والی ( عقل عفت ، حیا ، غیرت ) کوئی چیز نہیں جوتم میں سے ( برے کاموں میں دوسروں کے ) پیچھے لگنے والے لوگ ہیں ( حتیٰ کہ ) گھر والوں اور مال کے پیچھے بھی نہیں جاتے ( ان کی بھی پروا نہیں کرتے ) اور ایسا خائن جس کا کو ئی بھی مفاد چاہے بہت معمولی ہو ۔ ( دوسروں کی نظروں سے ) اوجھل ہوتا ہےتووہ اس میں ( ضرور ) خیانت کرتاہے ۔ اور ایسا شخص جو صبح شام تمھارے اہل وعیال اور مال کے بارے میں تمھیں دھوکادیتا ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا ۔ " اور بدطینت بد خلق ۔ " اور ابو غسان نے اپنی حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا : " آپ خرچ کریں تو عنقریب آپ پر خرچ کیا جا ئے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7208

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording. سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی حدیث میں یہ بیان نہیں کیا : " ہر مال جو میں نے بندے کو دیا ، حلال ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7209

حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ
This hadith has been transmitted on the authority of 'Iyad b. Himar that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave an address one day. The rest of the hadith is the same. ہمیں یحییٰ بن سعید نے دستوائی ( کپڑے بیچنے ) والے ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے مطرف سے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا پھر حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں کہا : یحییٰ نے کہا : شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے کہا : انھوں ( قتادہ ) نے کہا : میں نے اس حدیث میں ( جو بیان ہوا وہ خود ) مطرف سے سنا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7210

و حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ الْحُسَيْنِ عَنْ مَطَرٍ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَطِيبًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ وَزَادَ فِيهِ وَإِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَبْغِ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَهُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا فَقُلْتُ فَيَكُونُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَى عَلَى الْحَيِّ مَا بِهِ إِلَّا وَلِيدَتُهُمْ يَطَؤُهَا
Iyad. b. Himar reported tbat, while Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was delivering an address, he stated that Allah commanded me The rest of the hadith is the same, and there is an addition in it: Allah revealed to me that we should be humble amongst ourselves and none should show pride upon the others, And it does not behove one to do so, and He also said: There are among you people to follow not caring a bit for their family and property. Qatada said: Abu Abdullah, would this happen? Thereupon he said: Yes. By Allah, I found this in the days of ignorance that a person grazed the goat of a tribe and did not find anyone but their slave-girl (and he did not spare her) but committed adultery with her. مطر نے کہا : مجھے قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو قبیلہ مجاشع سے تھے ، روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ اس کے بعد قتادہ سے ہشام کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی اور اس میں مزید یہ کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو حتی کہ کو ئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے ۔ " انھوں نے اس حدیث میں کہا : وہ تم میں ( برائی کے کاموں میں دوسروں کے ) پیچھے لگنے والے ہیں والوں اور مال کے بھی متلاشی نہیں ( کہ کما کر دوسروں سے مستغنیٰ ہو جا ئیں ۔ ) تو میں ( قتادہ ) نے ( مطرف سے ) کہا : ابو عبد اللہ تو ( اب ) یہی ہوا کرے گا؟ انھوں نے کہا : ہاں ، اللہ !میں نے جاہلیت کے زمانے میں انھیں دیکھا ( ایسا ہوتا تھا ) کہ ایک شخص پورے قبیلے کی بکریاں چراتا تھا ۔ اسے ان کی ایک کنیز کے سوا کچھ نہیں ملتا تھا جس سے مجامعت کرتا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7211

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as say- ing: When any one of you dies, he is shown his seat (in the Hereafter) morning and evening; if he is amongst the inmates of Paradise (he is shown the seat) from amongst the inmates of Paradise and if he is one from amongst the denizens of Hell (he is shown the seat) from amongst the denizens of Hell, and it would be said to him: That is your seat until Allah raises you on the Day of Resurrection (and sends you to your proper seat). نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو ہر صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا اس کے سامنے لایا جاتاہے ۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت سے اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں سے ( اس کا ٹھکانا اسے دکھایاجاتاہےاور اس سے ) کہاجاتاہے ۔ تمھاراٹھکانا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے زندہ کر کے اس ( ٹھکانے ) تک لے جائے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7212

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
Ibn Umar reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When a person dies, he is shown his seat morning and evening. If he is one amongst the inmates of Paradise (he is shown his seat) in Paradise and if he is one amongst the denizens of Hell-Fire (he is shown his seat) in the Hell-Fire. Then it is said to him: That is your seat where you would be sent on the Day of Resurrection. سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکاناپیش کیا جاتا ہے ۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہوتوجنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہوتو دوزخ ( اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے ) " کہا : پھر کہا جاتا ہے یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھاکر لے جایا جائے گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7213

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ قَالَ كَذَا كَانَ يَقُولُ الْجُرَيْرِيُّ فَقَالَ مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ قَالَ مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
Abu Sa'id al-Khudri reported: I did not hear this hadith from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) directly but it was Zaid b. Thabit who narrated it from him. As Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was going along with us towards the dwellings of Bani an-Najjar, riding upon his pony, it shied and he was about to fall. He found four, five or six graves there. He said: Who amongst you knows about those lying in the graves? A person said: It is I. Thereupon he (the Holy Prophet) said: In what state did they die? He said: They died as polytheists. He said: These people are passing through the ordeal in the graves. If it were not the reason that you would stop burying (your dead) in the graves on listening to the torment in the grave which I am listening to, I would have certainly made you hear that. Then turning his face towards us, he said: Seek refuge with Allah from the torment of Hell. They said: We seek refuge with Allah from the torment of Hell. He said: Seek refuge with Allah from the torment of the grave. They said: We seek refuge with Allah from the torment of the grave. He said: Seek refuge with Allah from turmoil, its visible and invisible (aspects), and they said: We seek refuge with Allah from turmoil and its visible and invisible aspects and he said: Seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal, and they said We seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal. ابن علیہ نے کہا : ہمیں سعید جریری نے ابو نضرہ سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( ابو نضرہ نے ) کہا : حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہوکر نہیں سنی ، بلکہ مجھےحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی ، انھوں نے کہا : ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے ، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا ( دیکھا تو ) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں ( ابن علیہ نے ) کہا : جریری اسی طرح کہا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ان قبروں والوں کو کو ن جانتاہے؟ "" ایک آدمی نے کہا : میں ، آپ نے فرمایا : "" یہ لو گ کب مرے تھے؟اس نے کہا : شرک ( کے عالم ) میں مرے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ لو گ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( اپنے مردوں کو ) دفن نہ کرو گےتو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب ( کی آوازوں ) کومیں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنادے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا : "" آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" ( تمام ) فتنوں سے جوان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7214

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
Anas reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If you were not (to abandon) the burying of the dead (in the grave), I would have certainly supplicated Allah that He should make you listen the torment of the grave. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( مردوں کو ) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو عذاب قبر ( کی آوازیں ) سنوائے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7215

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْبَرَاءِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا
This hadith has been narrated on the authority of Abu Ayyub through some other chains of transmitters (and the words are): Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went out after the sun had set and he heard some sound and said: It is the Jews who are being tormented in their graves. حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لے گئے آپ نے ایک آواز سنی تو فرمایا : " یہودہیں انھیں قبر میں عذاب دیا جارہاہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7216

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ قَالَ يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ قَالَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنْ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنْ الْجَنَّةِ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا قَالَ قَتَادَةُ وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ
Anas b. Malik reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: When the servant is placed in his grave, his companions retrace their steps, and he hears the noise of their footsteps, two angels come to him and make him sit and say to him: What you have to say about this person (the Prophet)? If he is a believer, he would say: I bear testimony to the fact that he is a servant of Allah and His Messenger. Then it would be said to him: Look to your seat in the Hellfire, for Allah has substituted (the seat of yours) with a seat in Paradise. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He would be shown both the seats. Qatada said: It was mentioned to us that his grave (the grave of a believer) expands to seventy cubits and is full with verdure until the Day when they would be resurrected. شیبان بن عبد الرحمٰن نے قتادہ سے روایت کی کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اوراس کے ساتھی اسے چھوڑکرواپس جاتے ہیں تو وہ ( بندہ ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتاہے ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتےہیں ۔ تم اس آدمی کے متعلق ( دنیامیں ) کیاکہاکرتے تھے؟ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جہاں تک مومن ہے تووہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ "" فرمایا : "" تو اس سے کہاجائے گا ۔ تم دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمھیں جنت میں ایک ٹھکانا دے دیا ہے ۔ "" اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا ۔ قتادہ نے کہا : اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں ستر ہاتھ وسعت کردی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں ترو تازہ نعمتیں بھردی جاتی ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7217

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the dead body. is placed in the grave, he listens to the sound of the shoes (as his friends and relatives return after burying him). یزید بن زریع نے کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو لوگوں کے واپس جاتے وقت وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7218

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the servant is placed in his grave and his friends retrace their steps. The rest of the hadith is the same as transmitted by Qatada. عبدالوہاب بن عطاء نے سعید ( بن ابی عروبہ ) سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب بندے کو قبر میں رکھا جا تا ہے اور اس کے ساتھی رخ موڑ کر چل پڑتے ہیں ۔ " اس کے بعد قتادہ سے شیبان کی بیان کردہ روایت کے مانند بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7219

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ فَيُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ
Al-Bara' b. `Azib reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: This verse: Allah grants steadfastness to those who believe with firm word, was revealed in connection with the torment of the grave. It would be said to him: Who is your Lord? And he would say: Allah is my Lord and Muhammad is my Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and that is (what is implied) by the words of Allah, the Exalted: Allah keeps steadfast those who believe with firm word in this world and in the Hereafter. سعد بن عبیدہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو پختہ قول ( کلمہ طیبہ کی حقیقی شہادت ) کے ذریعے سے ( حق پر ) ثابت قدم رہتا ہے ۔ " فرمایا : " یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس ( مرنے والے ) سے کہا جا تاہے ۔ تمھارا رب کون ہے؟وہ ( مومن ) کہتا ہے ۔ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہی قول عزوجل ( يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ ) ( سے مراد ) ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7220

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ
Al-Bara' b. 'Azib reported that this verse: Allah keeps those who believe steadfast with firm word in this world and the Hereafter was revealed in connection with the torment of the grave. خیثمہ نے حضرت براءبن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( اس آیت کے بارے میں ) روایت کی : " اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت اور آخرت میں پختہ قول پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔ " کہا : یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7221

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ قَالَ وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَكَرَ لَعْنًا وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيُقَالُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى أَنْفِهِ هَكَذَا
Abu Huraira reported: When the soul of a believer would go out (of his body) it would be received bv two angels who would take it to the sky. Hammad (one of the narrators in the chain of transmitters) mentioned the swetness of its odour, (and further said) that the dwellers of the sky say: Here comes the pious soul from the side of the earth Let there be blessings of Allah upon the body in which it resides. And it is carried (by the angels) to its Lord, the Exalted and Glorious. He would say: Take it to its destined end. And if he is a nonbeliever and as it (the soul) leaves the body-Hammad made a mention of its foul smell and of its being cursed-the dwellers of the sky say: There comes a dirty soul from the side of the earth, and it would be said: Take it to its destined end. Abu Huraira reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) put a thin cloth which was with him upon his nose while making a mention (of the foul smell) of the soul of a non-believer. مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں بدیل نے عبد اللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : "" جب مومن کی روح نکل جاتی ہے تو وہ فرشتے اس ( روح ) کو لیتے ہیں اور اسے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں ۔ "" حماد نے کہا : انھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر کیا اور کستوری کی بات کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آسمان والے کہتے ہیں ۔ یہ ایک پاکیزہ روح ہے زمین والوں کی طرف سے آئی ہے ( اے روح مومن! ) تجھ پر اور اس جسم پر جسے تونے آباد کیے رکھا اللہ کی رحمت ہو ۔ چنانچہ اسے اس کے رب عزوجل کے پاس لے جایا جاتا ہے پھر وہ فرماتا ہے ۔ اسے مقررشدہ آخری مدت تک کے لیے ( عالی شان ٹھکانے پر ) لے جاؤ ۔ "" فرمایا : "" اور کافرجب اس کی روح نکلتی ہے ۔ حماد نے کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بدبو اور ( اس پر کی جانے والی ) لعنتوں کا ذکر کیا ۔ اور آسمان والے کہتے ہیں ۔ گندی روح ہے زمین کی طرف سے آئی ہے فرمایا : تو کہاجاتا ہے اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے ( برےٹھکانے ) پر لے جاؤ ۔ "" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر جو آپ کے جسم مبارک پر تھی اس طرح موڑ کر اپنی ناک پر رکھی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7222

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ كُنْتُ مَعَ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ أَمَا تَرَاهُ فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ قَالَ يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا
Anas b. Malik reported: We were along with Umar between Mecca and Medina that we began to look for the new moon. And I was a man with sharp eye- sight, so I could see it, but none except me saw it. I began to say to 'Umar: Don't you see it? But he would not see it. Thereupon Umar said: I would soon be able to see it (when it will shine more brightly). I lay upon bed. He then made a mention of the people of Badr to us and said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) showed us one day before (the actual battle) the place of death of the people (participating) in (the Battle) of Badr and he was saying: This would be the place of death of so and so tomorrow, if Allah wills. Umar said: By Him Who sent him with truth, they did not miss the places (of their death) which Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had pointed for them. Then they were all thrown in a well one after another. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then went to them and said: O, so and so, the son of so and so; O so and so, the son of so and so, have you found correct what Allah and His Messenger had promised you? I have, however, found absolutely true what Allah had promised with me. Umar said: Allah's Messenger, how are you talking with the bodies without soul in them. Thereupon he said: You cann