Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

1)

1) کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ

۔ (۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ یَعْنِی ابْنَ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ کُلْثُوْمٍ ابْنِ جَبْرٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیْثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہِ کُلَّ ذُرِّیِّۃٍ ذَرَأَہَا، فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ کَالذَّرِّ، ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قُبُلاً،قَالَ: {أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَآ أَنْ تَقُولُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ}۔)) (مسند أحمد: ۲۴۵۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نعمان یعنی عرفہ کے مقام پر حضرت آدمؑ کی پشت (یعنی ان کی اولاد)سے مضبوط عہد لیا، اس کا طریق کار یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پیٹھ سے وہ ساری اولاد نکالی، جو اس نے پید اکرنی تھی اور ان کو آپؑ کے سامنے چیونٹیوںکی طرح بکھیر دیا اور پھر ان سے آمنے سامنے کلام کرتے ہوئے کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔
۔ (۲)۔ عَنْ رُفَیْعٍ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ؓ فِی قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَ اِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّاتِہِمْ وَ أَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ …}الآیَۃَ، قَالَ: جَمَعَہُمْ فَجَعَلَہُمْ أَرْوَاحًا، ثُمَّ صَوَّرَہُمْ فَاسْتَنْطَقَہُمْ فَتَکَلَّمُوْا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَیْہِمُ الْعَہْدَ وَالْمِیْثَاقَ وَ أَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ،أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ قَالَ: فَاِنِّی أُشْہِدُ عَلَیْکُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرْضِیْنَ السَّبْعَ،وَ أُشْہِدُ عَلَیْکُمْ أَبَاکُمْ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَمْ نَعْلَمْ بِذَلِکَ، اعْلَمُوْا أَنَّہُ لَا اِلٰہَ غَیْرِی وَلَا رَبَّ غَیْرِیْ فَلَا تُشْرِکُوْا بِیْ شَیْئًا،اِنِّی سَأُرْسِلُ اِلَیْکُمْ رُسُلِیْ یُذَکِّرُوْنَکُمْ عَہْدِیْ وَ مِیْثَاقِیْ وَ أُنْزِلُ عَلَیْکُمْ کُتُبِیْ، قَالُوْا: شَہِدْنَا بِأَنَّکَ رَبُّنَا وَاِلٰہُنَا لَا رَبَّ غَیْرُکَ، فَأَقَرُّوْا بِذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۵۵۲)
سیدنا ابی بن کعبؓ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَ اِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّاتِہِمْ وَ أَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ …}کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ان کو روحوں کی شکل میں جمع کیا، پھر ان کی تصویریں بنا کر ان کو بلوایا، پس یہ بولے، پھر ان سے ایک مضبوط عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا اور کہا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، میں سات آسمانوں اور سات زمینوں کو تم پر گواہ بناتا ہوں اور میں تمہارے باپ آدمؑ کو بھی تم پر گواہ بناتا ہوں، تاکہ تم قیامت والے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہمیں تو اس چیز کا علم ہی نہیں تھا۔ جان لو کہ میرے علاوہ نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی ربّ، پس تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، عنقریب میں تمہاری طرف اپنے پیغمبروں کو بھیجوں گا، وہ تمہیں میرے وعدے اور میثاق کو یاد کرائیں گے اور میں تم پر کتابیں بھی نازل کروں گا۔ ان سب نے جواباً کہا: ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب اور معبود ہے، تیرے علاوہ ہمارا کوئی ربّ نہیں ہے، پس انھوں نے اس چیز کا اقرار کیا۔
۔ (۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : ((یُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ أَ کُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہِ ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: قَدْ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ذَالِکَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَیْکَ فِی ظَہْرِ آدَمَ أَنْ لَّا تُشْرِکَ بِیْ شَیْئًا فَأَبَیْتَ اِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن جہنمی آدمی سے کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ زمین پر جو چیزیں بھی ہیں، کیا تو (اس عذاب سے بچنے کے لیے) وہ فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا، جبکہ تو آدم ؑ کی پیٹھ میں تھا، کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے انکار کر دیا تھا اور (اسی چیز پر ڈٹ گیا کہ) تو نے میرے ساتھ شرک ہی کرنا ہے۔
۔ (۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ وَہُوَ الَّذِی بَعَثَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ اِلَی الشَّامِ یُفَقِّہُ النَّاسَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ؓ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ رَکِبَ یَوْمًا عَلَی حِمَارٍلَہُ یُقَالُ لَہُ یَعْفُورٌ، رَسَنُہُ مِنْ لِیْفٍ، ثُمَّ قَالَ: ((ارْکَبْ یَا مُعَاذُ!))، فَقُلْتُ: سِرْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِرْکَبْ))، فَرَدِفْتُہُ فَصُرِ عَ الْحِمَارُ بِنَا فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ وَ قُمْتُ أَذْکُرُ مِنْ نَفْسِیْ أَسَفًا، ثُمَّ فَعَلَ ذَالِکَ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ وَسَارَ بِنَا فَأَخْلَفَ یَدَہُ فَضَرَبَ ظَہْرِی بِسَوْطٍ مَعَہُ أَوْ عَصًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَا مُعَاذُ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) فَقُلْتُ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ یَعْبُدُوْہُ وَلَا یُشْرِکُوْ بِہِ شَیْئًا۔))، قَالَ: ثُمَّ سَارَ مَا شَائَ اللّٰہُ، ثُمَّ أَخْلَفَ یَدَہُ فَضَرَبَ ظَہْرِی فَقَالَ: ((یَا مُعَاذُ! یَا ابْنَ أُمِّ مُعَاذٍ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا ہُمْ فَعَلُوْا ذَالِکَ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا فَعَلُوْا ذَالِکَ أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۳)
عبد الرحمن بن غنم، جن کو سیدنا عمرؓ نے لوگوں کو فقہ کی تعلیم دینے کے لیے شام بھیجا تھا، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک روز اپنے یعفور نامی گدھے پر سوار ہوئے، اس کی رسی کھجور کے پتوں کی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: معاذ! تم بھی سوار ہو جاؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ چلیں (میں پیدل ہی ٹھیک ہوں)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: تم سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار ہو گیا، ہوا یوں کہ گدھا گر پڑا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہو کر مسکرانے لگے اور میں دل ہی دل میں افسوس کرنے لگا، پھر دوسری اور تیسری بار بھی ایسے ہی ہوا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا ہاتھ مبارک پیچھے کیا اور کوڑے یا چھڑی کے ساتھ میری کمر پر مارا اور فرمایا: معاذ! کیا تو جانتا ہے کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آگے کو چلے، اور پھر اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور میری کمر پر مارا اور فرمایا: اے معاذ! اے معاذ کی ماں کے بیٹے! کیا تم یہ جانتے ہو کہ اگر بندے ایسے ہی کریں تو اللہ تعالیٰ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس بیشک جب بندے ایسے ہی کریں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر حق یہ ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کر دے۔
۔ (۵،۶)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: أَتَیْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ رِدْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ،قَالَ: فَقَالَ: ((یَا مُعَاذَ بْنُ جَبَلٍ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: (( ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ،فَذَکَرَ مِثْلَہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((أَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ)) بَدْلَ قَوْلِہِ ((أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ))زَادَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!! أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴۳، ۲۲۳۷۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے پاس آئے اور کہا: ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی کوئی عجیب سی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ بات یہ ہے کہ میں گدھے پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے معاذبن جبل! میں نے کہا: میں حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، … پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث ذکر کی…، البتہ اس میں جنت میں داخل کرنے کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ وہ ان کو عذاب نہیں دے گا اور ایک روایت میں یہ زیادتی بھی ہے: آخر میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ حدیث بیان کر کے خوشخبری نہ سنا دوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ مزید عمل کرتے رہیں۔
۔ (۵،۶)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: أَتَیْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ رِدْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ،قَالَ: فَقَالَ: ((یَا مُعَاذَ بْنُ جَبَلٍ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: (( ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ،فَذَکَرَ مِثْلَہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((أَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ)) بَدْلَ قَوْلِہِ ((أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ))زَادَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!! أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴۳، ۲۲۳۷۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے پاس آئے اور کہا: ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی کوئی عجیب سی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ بات یہ ہے کہ میں گدھے پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے معاذبن جبل! میں نے کہا: میں حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، … پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث ذکر کی…، البتہ اس میں جنت میں داخل کرنے کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ وہ ان کو عذاب نہیں دے گا اور ایک روایت میں یہ زیادتی بھی ہے: آخر میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ حدیث بیان کر کے خوشخبری نہ سنا دوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ مزید عمل کرتے رہیں۔
۔ (۵،۶)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: أَتَیْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ رِدْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ،قَالَ: فَقَالَ: ((یَا مُعَاذَ بْنُ جَبَلٍ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: (( ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ،فَذَکَرَ مِثْلَہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((أَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ)) بَدْلَ قَوْلِہِ ((أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ))زَادَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!! أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴۳، ۲۲۳۷۸)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا تم جانتے ہوں کہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ پر ان کا حق یہ ہو گا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔
۔ (۸)۔عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ طُفَیْلِ بْنِ سَخْبَرَۃَ أَخِی عَائِشَۃَ لِأُمِّہَا أَنَّہُ رَاٰی فِیْمَا یَرَی النَّائِمُ، کَأَنَّہُ مَرَّ بِرَہْطِ مِنَ الْیَہُودِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْیَہُوْدُ، قَالَ: اِنَّکُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَولَا أَنَّکُمْ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ عُزَیْرًا ابْنُ اللّٰہِ، فَقَالَ الْیَہُوْدُ: وَ أَنْتُمُ الْقَوُمُ لَولَا أَنَّکُمْ تَقُوْلُونَ مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شَائَ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ مَرَّ بِرَہْطِ مِنَ النَّصَارٰی فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالُوا: نَحْنُ النَّصَارٰی، فَقَالَ: اِنَّکُمْ أَنْتُمُ الْقَوْمُ لَولَا أَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ، قَالُوْا: وَ اِنَّکُمْ أَنْتُمُ الْقَوْمُ لَولَا أَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ مَا شَائَ اللّٰہُ وَ مَا شَائَ مُحَمَّدٌ،فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرَ بِہَا مَنْ أَخْبَرَ، ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَقَالَ:((ہَلْ أَخْبَرْتَ بِہَا أَحَدًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا صَلَّوْا خَطَبَہُمْ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ أَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ طُفَیْلاً رَاٰی رُؤْیًا فَأَخْبَرَ بِہَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْکُمْ وَ اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ کَلِمَۃً کَانَ یَمْنَعُنِی الْحَیَائُ مِنْکُمْ أَنْ أَنْہَاکُمْ عَنْہَا۔)) قَالَ: ((لَا تَقُولُوا مَا شَائَ اللّٰہُ وَمَا شَائَ مُحَمَّدٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۹۷۰)
سیدنا طفیل بن سخبرہؓ، جو کہ سیدہ عائشہؓکا اخیافی بھائی ہے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے یہ خواب دیکھا کہ میں یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا اور ان سے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ہم یہودی ہیں۔ میں نے کہا: اگر تم عزیر کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ کہتے تو تم بہترین قوم تھے، انھوں نے کہا: تم مسلمان بھی بہترین قوم ہوتے، اگر صرف یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے جو) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے۔ پھر میں عیسائیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا اور ان سے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ہم عیسائی ہیں، میں نے کہا: اگر تم حضرت مسیح ؑکو اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ کہتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: اگر تم بھی یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے) جوا للہ تعالیٰ چاہتا ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے تو تم بھی بہترین قوم ہوتے۔ جب صبح ہوئی تو بعض لوگوں کو یہ خواب بیان کرنے کے بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گیا اور آپ کو ساری بات بتلا دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے کسی کو یہ خواب بتلایا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر جب لوگوں نے نماز ادا کر لی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے خطاب کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: طفیل نے ایک خواب دیکھا ہے اور تم میں سے بعض لوگوں کو بتلا بھی دیا ہے، بات یہ ہے کہ تم لوگ ایک کلمہ کہتے تھے، (میں اسے ناپسند تو کرتا تھا) لیکن تم کو منع کرنے سے شرم و حیا مانع تھی، (اب بات کھل گئی ہے لہٰذا) تم یہ نہ کہا کرو کہ (وہی کچھ ہوتا ہے) جو اللہ چاہتا ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے۔
۔ (۹)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ؓ قَالَ: أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنِّی رَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ أَنِّی لَقِیْتُ بَعْضَ أَہْلِ الْکِتَابِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْ لَا أَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شَائَ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ کُنْتُ أَکْرَ ہُہَا مِنْکُمْ، فَقُوْلُوْا مَا شَائَ اللّٰہُ ثُمَّ شَائَ مُحَمَّدٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۲۸)
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں بعض اہل کِتَابُ کو ملا ہوں اور انھوں نے مجھے کہا: تم (مسلمان) بڑے اچھے لوگ ہو، کاش تم یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے) جو اللہ چاہتا ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں بھی تمہاری اس بات کو ناپسند کرتا تھا، آئندہ اس طرح کہا کرو کہ جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور پھر محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10

۔ (۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شِئْتَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ جَعَلْتَنِیْ وَ اللّّٰہَ عِدْلاً، بَل مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۳۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا: جو کچھ اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے فرمایا: کیا تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کر دیا ہے، صرف (وہ ہوتا ہے) جو یکتا و یگانہ اللہ چاہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11

۔ (۱۱)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْبَعٍ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَنَامَ،یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ یَرْفَعُہُ،یُرْفَعُ إِلَیْہِ عَمَلُ اللَّیْلِ بِالنَّہَارِ وَ عَمَلُ النَّہَارِ بِاللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۵۹)
سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چار چیزیں بتلانے کے لیے ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور سونا اسے زیب بھی نہیں دیتا، وہ ترازو کوپست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، رات کے عمل دن کو اور دن کے عمل رات کو اس کی طرف بلند کر دیئے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12

۔ (۱۲) (وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہُ أَنْ یَنَامَ، یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ یَرْفَعُہُ، حِجَابُہُ النَّارُ، لَوْ کَشَفَہَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْہِہِ کُلَّ شَیْئٍ أَدْرَکَہُ بَصَرُہُ۔)) ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: {فَلَمَّا جَائَ ہَا نُوْدِیَ أَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۱۶)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور اس کے شایان شان بھی نہیں ہے کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو پست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، اس کا پردہ آگ ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی انوار و تجلیات ان تمام چیزوں کو جلا دیں، جن کو اس کی نظر پاتی ہے، اللہ کی نظر تمام مخلوق پر ہے۔ اس لیے مفہوم یہ ہے کہ پردہ دور ہونے سے تمام مخلوق جل کر راکھ ہو جائے۔ پھر ابو عبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی: جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13

۔ (۱۳)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْأٰی،لَا یَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ سَحَّائُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔)) وَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّہُ لَمْ یَغِضْ مَا فِی یَمِیْنِہِ۔)) قَالَ: ((وَعَرْشُہُ عَلَی الْمَائِ، بِیَدِہِ الْأُخْرَی الْمِیْزَانُ یَخْفِضُ وَ یَرْفَعُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۰۷)
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات کا متواتر خرچ اس میں کمی نہیں کر سکتا، کیا تم نے غور کیا ہے کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے لے کر (آج تک) کیا کچھ خرچ کیا ہے، لیکن یہ خرچ بھی اس چیز میں کوئی کمی نہ کر سکا، جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، کسی کے حق میں اس کو پست کر دیتا ہے اور کسی کے حق میں بلند کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 14

۔ (۱۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْبِضُ اللّٰہُ الْأَرْضَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ یَطْوِی السَّمَائَ بِیَمِیْنِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ: أَنَا الْمَلِکُ،أَیْنَ مُلُوْکُ الْأَرْضِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت والے دن زمین و آسمان دائیں ہاتھ میں پکڑ کر اور لپیٹ کر کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین والے بادشاہ؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 15

۔ (۱۵)۔عَنْ أَبِی ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((إِنِّیْ أَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ وَ أَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ،أَطَّتِ السَّمَائُ وَ حَقَّ لَہَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِیْہَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَیْہِ مَلَکٌ سَاجِدٌ،لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلاً وَ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَائِ عَلَی الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ عَلَی أَعْلَی الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُوْنَ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ: وَاللّٰہِ لَوَدِدْتُّ أَنِّیْ شَجَرَۃٌ تُعْضَدُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۸۴۸)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں وہ چیزیں دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھ سکتے اور میں وہ چیزیں سنتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے، آسمان چرچراتا ہے اور اسے یہی زیب دیتا ہے کہ وہ آواز نکالے، کیونکہ اس میں ہر چار انگشت کے بقدر جگہ پر فرشتہ سجدہ کیے ہوئے ہے، اگر تم کو ان امور کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ اور تم بستروں پر اپنی بیویوں سے لذتیں حاصل کرنا ترک کر دو، بلکہ تم (ویران) راستوں (اور صحراؤں) کی طرف نکل جاؤ، تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف گڑگڑا سکو۔ سیدنا ابو ذرؓ نے یہ حدیث سنا کر کہا (ظاہر ہے کہ ابو ذر کے شاگرد ان کے بارے یہ بیان کر رہے ہیں): للہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 16

۔ (۱۶)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَیْتُ فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ أَغْفِرْلَکُمْ، وَمَنْ عَلِمَ أَنِّی أَقْدِرُ عَلَی الْمَغْفِرَۃِ فَاسْتَغْفَرَنِیْ بِقُدْرَتِیْ غَفَرْتُ لَہُ وَلَا أُبَالِیْ، وَکُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ، فَاسْتَہْدُوْنِی أَہْدِکُمْ،وَکُلُّکُمْ فَقِیْرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَیْتُ، فَاسْأَلُوْنِیْ أُغْنِکُمْ،وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ۔ وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ وَ صَغِیْرَکُمْ وَ کَبِیْرَکُمْ وَ ذَکَرَکُمْ وَ أُنْثَاکُمْ) وَ حَیَّکُمْ وَ مَیِّتَکُمْ وَ رَطْبَکُمْ وَ یَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا عَلٰی أَشْقٰی قَلْبٍ مِنْ قُلُوْبِ عِبَادِیْ مَا نَقَصَ فِی مُلْکِیْ مِنْ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ، وَ لَوِ اجْتَمَعُوْا عَلَی أَتْقٰی قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِیْ مَا زَادَ فِی مُلْکِیْ مِنْ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ،وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ وَ صَغِیْرَکُمْ وَ کَبِیْرَکُمْ وَ ذَکَرَکُمْ وَ أُنْثَاکُمْ) وَ حَیَّکُمْ وَ مَیِّتَکُمْ وَ رَطْبَکُمْ وَ یَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا فَسَأَلَنِیْ کُلُّ سَائِلٍ مِنْہُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِیَّتُہُ فَأَعْطَیْتُ کُلَّ سَائِلٍ مِنْہُمْ مَا سَأَلَ مَا نَقَصَنِیْ، کَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ مَرَّ بِشَفَۃِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِیْہَا إِبْرَۃً ثُمَّ انْتَزَعَہَا کَذَالِکَ لَا یَنْقُصُ مِنْ مُلْکِیْ، ذَالِکَ بِأَنِّیْ جَوَّادٌ مَاجِدٌ صَمَدٌ،عَطَائِی کَلَامٌ وَ عَذَابِی کَلَامٌ (وَ فِی رِوَایَۃٍ: عَطَائِی کَلَامِیْ وَ عَذَابِی کَلَامِیْ)، إِذَا أَرَدْتُّ شَیْئًا فَإِنَّمَا أَقُوْلُ لَہُ: کُنْ! فَیَکُوْنُ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۹۴)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندو! تم سارے گنہگار ہو، مگر جس کو میں عافیت دے دو، لہٰذا مجھ سے بخشش طلب کیا کرو، میں تمہیں معاف کر دیا کروں گا، اور جس نے یہ جان لیا کہ میں (اللہ) بخشنے کی قدرت رکھتا ہوں، پھر اس نے مجھ سے میری قدرت کی وجہ سے بخشش طلب کی تو میں اسے بخش دوں گا اور اس سلسلے میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔ تم سارے گمراہ ہو، مگر جس کو میں ہدایت دے دوں، پس مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم سارے کے سارے فقیر ہو، مگر جس کو میں غنی کر دوں، پس مجھ سے سوال کیا کرو، میں تم کو غنی کر دوں گا، یا درکھو کہ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، انسان اور جن، چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مؤنث، زندہ اور مردہ اور تر اور خشک میرے بندوں میں سے بدبخت ترین بندے کے دل کی مانند ہو جائیں، تو میری بادشاہت میں سے تو مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آ ئے گی، اور اگر یہی مخلوق میرے بندوں میں سب سے بڑے متقی کے دل کی مانند نیک ہو جائیں تو میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر اضافہ بھی نہیں ہو گا، اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، انسان اور جن، چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مؤنث، زندہ اور مردہ اور تر اور خشک جمع ہو جائیں اور ہر سائل مجھ سے سوال کرے، جہاں تک اس کی خواہش کا تقاضا ہو اور میں سائل کو اس کے مطالبے کے مطابق دے دوں تو اس سے مجھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، (اس مثال سے سمجھ لیں کہ) ایک آدمی سمندر کے کنارے سے گزرے اور اس میں سوئی ڈبو کر واپس لائے اور (دیکھے کہ اس میں کتنا پانی لگا ہوا ہے اور اس سے سمندر میں کیا کمی ہے)، اسی طرح میری بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہ ہے میں انتہائی سخی ہوں، بزرگی والا ہوں، بے نیاز ہوں، میرا دینا کلام ہے، میرا عذاب کلام ہے، ایک روایت میں ہے میری عطا میرا کلام ہے، میری سزا میرا کلام ہے، جب میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو اسے صرف اتنا کہتا ہوں کہ ہو جا ، پس ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 17

۔ (۱۷) (وَعَنْہُ فِی أُخْرٰی)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ: ((إِنِّی حَرَّمْتُ عَلٰی نَفْسِیَ الظُّلْمَ وَ عَلٰی عِبَادِیْ، أَ لَا فَـلَا تَظَالَمُوْا، کُلُّ بَنِیْ آ دَمَ یُخْطِیئُ بِاللَّیْلِ وَ النَّہَارِ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرُ لَہُ فَـلَا أُبَالِیْ، وَقَالَ: یَا بَنِیْ آدَمَ! کُلُّکُمْ کَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ عَارِیًا إِلَّا مَنْ کَسَوْتُ،وَکُلُّکُمْ کَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَیْتُ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ أَہْدِکُمْ، وَاسْتَکْسُوْنِیْ أَکْسُکُمْ، وَاسْتَطْعِمُوْنِیْ أُطْعِمْکُمْ، وَاسْتَسْقُوْنِیْ أَسْقِکُمْ،یَا عِبَادِی! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ( فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَ فِیْہِ۔ لَمْ یَنْقُصُوْا مِن مُلْکِی شَیْئًا إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْیَطِ مِنَ الْبَحْرِ)۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۵۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ظلم کو اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، خبردار! پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، ساری اولادِ آدم دن رات غلطیاں کر تی ہے، پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور کوئی پروا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: اے بنو آدم! تم سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دی، تم سارے ننگے تھے، مگر جس کو میں نے لباس دیا، تم سارے بھوکے تھے، مگر جس کو میں نے کھانا کھلایا، تم سارے پیاسے تھے، مگر جس کو میں نے پانی پلایا، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تم کو لباس دوں گا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اورپچھلے… سابقہ حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ہے تو وہ میری بادشاہت میں کوئی کمی نہ کر سکیں گے، مگر اتنی جیسے سوئی کا نکہ سمندر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 18

۔ (۱۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ یَقُوْلُ: ((أَللّٰہُمََّ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ،أَنْتَ الْحَقُّ، وَ قَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَ لِقَاؤُکَ حَقٌّ، وَ الْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَ النَّارُ حَقٌّ، وَ السَّاعَۃُ حَقٌّ، أَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَ بِکَ آمَنْتُ، وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَ إِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَ بِکَ خَاصَمْتُ، وَ إِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ أَخَّرْتُ وَ أَسْرَرْتُ وَ أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلٰہِیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: أَللّٰہُمََّ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ،أَنْتَ الْحَقُّ، وَ قَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَ لِقَاؤُکَ حَقٌّ، وَ الْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَ النَّارُ حَقٌّ، وَ السَّاعَۃُ حَقٌّ، أَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَ بِکَ آمَنْتُ، وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَ إِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَ بِکَ خَاصَمْتُ، وَ إِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ أَخَّرْتُ وَ أَسْرَرْتُ وَ أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلٰہِیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ (اے اللہ! تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا نور ہے، اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان میں موجود کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا ربّ ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو حق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرے لیے مسلمان ہوا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ساتھ جھگڑا کیا اور تیری طرف فیصلہ لے کر آیا، پس تو میرے لیے میرے وہ وہ گناہ بخش دے، جو پہلے کیے،، جو بعد میں کیے، جو مخفی طور پر کیے اور جو اعلانیہ طور پر کیے، تو میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 19

۔ (۱۹)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: یَا مُحَمَّدُ! اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔} (مسند أحمد: ۲۱۵۳۸)
سیدنا ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مشرک لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا کہ اے محمد! ہمارے لیے اپنے ربّ کا نسب بیان کرو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی: آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔ (سورۂ اخلاص) اَلصَّمَد کا پورا معنی یہ ہے: اَلْمَصْمُوْدُ اِلَیْہِ فِیْ الْحَوَائِجِ، اَلْغَنِیُّ عَنْ کُلِّ اَحَدٍ۔ (وہ ہے کہ حاجتوں میں جس کا قصد کیا جائے، جبکہ وہ ہر ایک سے غنی اور لاپروا ہو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 20

۔ (۱۹)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: یَا مُحَمَّدُ! اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔} (مسند أحمد: ۲۱۵۳۸)
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بعض بندے مجھے جھٹلا دیتے ہیں، حالانکہ یہ ان کو زیب نہیں دیتا، اسی طرح بعض مجھے گالیاں دیتے ہیں اور یہ بھی ان کے شایانِ شان بات نہیں ہے۔ مجھ (اللہ) کو جھٹلانے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: جس طرح اللہ نے ہمیں پہلی دفعہ پیدا کیا، وہ اس طرح ہمیں دوبارہ پیدا نہیں کرے گا اور مجھے گالی دینے کی صورت یہ ہے کہ بندے کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں تو ایسا بے نیاز ہوں کہ میں نے نہ کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 21

۔ (۲۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یُؤْذِیْنِیْ ابْنُ آدَمَ، یَسُبُّ الدَّہْرَ وَ أَنَا الدَّہْرُ، بِیَدِی الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۴۴)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ زمانے کو برابھلا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 22

۔ (۲۲)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْتِیْ أَحَدَکُمْ فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ فَیَقُوْلُ: اَللّّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَیَقُوْلُ: اَللّٰہُ، فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ اللّٰہَ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ہَذَا، فَلْیَقُلْ: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ۔)) (مسند أحمد:۸۳۵۸)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ اتنے میں وہ یہ سوال کر دیتا ہے: اچھا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی اس سوال کو محسوس کرے تو وہ کہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ (میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 23

۔ (۲۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: شَکَوْا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا یَجِدُوْنَ مِنَ الْوَسْوَسَۃِ وَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا لَنَجِدُ شَیْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ کَانَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَتَکَلَّمَ بِہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَحْضُ الْإِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۲۵۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 24

۔ (۲۴)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ وَ أَنَّ عِیْسٰی عَبْدُاللّٰہِ وَ رَسُوْلُہُ وَ کَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِنْہُ وَ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْجَنَّۃَ عَلَی مَا کَانَ مِنَ عَمَلٍ، (وَفِی رِوَایَۃٍ:) أَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْجَنَّۃَ مِنْ أَبْوَابِہَا الثَّمَانِیَۃِ مِنْ أَیِّہَا شَائَ دَخَلَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۵۱)
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیؑ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو اس شخص کا عمل جیسا مرضی ہو، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، ایک روایت میں ہے: وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی دروازے سے داخل کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 25

۔ (۲۵)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ حُرِّمَ عَلَی النَّارِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) حَرَّمَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْہِ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۸۷)
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے رسول ہیں، تووہ آگ پر حرام کر دیا جائے گا، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 26

۔ (۲۶)۔عَنْ یُوْسُفَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِیْہِ(ؓ) قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَہُمْ یَقُوْلُوْنَ: أَیُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ وَ جِہَادٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) ثُمَّ سُمِعَ نِدَائٌ فِی الْوَادِی یَقُوْلُ: أَشْہَدُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَ أَنَا أَشْہَدُ وَ أَشْہَدُ أَنْ لَا یَشْہَدَ بِہَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِیَٔ مِنَ الشِّرْکِ۔))، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَ سَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہٰرُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۹۱)
سیدنا عبد اللہ بن سلامؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا، اللہ کے راستے میںجہاد کرنا اور حج مبرور۔ پھر وادی سے یہ آواز سنی گئی، کوئی کہہ رہا تھا: أَشْہَدُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور میں بھی یہی گواہی دیتا ہوں اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ جو آدمی بھی یہ گواہی دے گا، وہ شرک سے بری ہو جائے گا۔ امام احمد i کے بیٹے عبد اللہ بن احمد نے کہا: میں نے یہ حدیث ہارون راوی سے براہِ راست سنی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 27

۔ (۲۷)۔عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَا تَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۵۶)
سیدناابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 28

۔ (۲۸)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۵۹)
سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 29

۔ (۲۹،۳۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ الْبَیْضَائِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا رَدِیْفُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَظَنُّوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحَبَسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ وَ أَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) أَوْجَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِہَا الْجَنَّۃَ وَ أَعْتَقَہُ بِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۰، ۱۵۹۳۳)
سیدنا سہیل بن بیضاءؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو یا تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا: اے سہیل بن بیضاء! آگے سے سیدنا سہیل ؓجواب بھی دے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اوراس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 30

۔ (۲۹،۳۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ الْبَیْضَائِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا رَدِیْفُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَظَنُّوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحَبَسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ وَ أَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) أَوْجَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِہَا الْجَنَّۃَ وَ أَعْتَقَہُ بِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۰، ۱۵۹۳۳)
سیدنا سہیل بن بیضاءؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو یا تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا: اے سہیل بن بیضاء! آگے سے سیدنا سہیل ؓجواب بھی دے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اوراس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 31

۔ (۳۱)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ مَعِیَ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِیْ، فَقَالَ:((أَبْشِرُوْا وَ بَشِّرُوْا مَنْ وَرَائَ کُمْ أَنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ صَادِقًا بِہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُبَشِّرُ النَّاسَ،فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ(ؓ) فَرَجَعَ بِنَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذًا یَتَّکِلُ النَّاسُ، فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۲۶)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، جبکہ میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خود بھی خوش ہو جاؤ اور اپنے پچھلوں کو بھی یہ خوشخبری سنا دو کہ جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ سن کر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس سے نکل پڑے، تاکہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں، لیکن جب ہمیں آگے سے سیدنا عمرؓ ملے توانھوں نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کویہ مشورہ دیا کہ (اس طرح کی باتیں عام لوگوںکو نہ بتائی جائیں وگرنہ) وہ توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ خاموش ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 32

۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 33

۔ (۳۳)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍؓ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَفَاتِیْحُ الْجَنَّۃِ شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۵۳)
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: جنت کی چابیاں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دینا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 34

۔ (۳۴)۔عَنْ رِفَاعَۃَ الْجُہَنِیِّ ؓ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِالْکَدِیْدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَیْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُوْنَ إِلَی أَہْلِیْہِمْ فَیَأْذَنُ لَہُمْ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ أَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ یَکُوْنُ شِقُّ الشَّجَرَۃِ الَّتِی تَلِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبْغَضَ إِلَیْہِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ۔))،فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذٰلِکَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاکِیًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِی یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہٰذَا لَسَفِیْہٌ،فَحَمِدَ اللّٰہَ وَقَالَ حِیْنَئِذٍ: ((أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُ عَبْدٌ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِہِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔))، قَالَ: ((وَقَدْ وَعَدَنِیْ رَبِّی أَنْ یُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعِیْنَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ، وَ إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَدْخُلُوْہَا حَتَّی تَبَوَّؤُا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِکُمْ وَ أَزْوَاجِکُمْ وَ ذُرِّیَّاتِکُمْ مَسَاکِنَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۱۶)
سیدنا رفاعہ جہنیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف) سفرمیں تھے، جب ہم کَدِیْد یا قُدَید مقام پر پہنچے تو لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف جانے کے لیے اجازت لینا شروع کر دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو اجازت دیتے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہو گا کہ درخت کی جو طرف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ملی ہوئی ہے، وہ ان کو دوسری طرف کی بہ نسبت زیادہ ناپسند ہے۔ ہم نے دیکھا کہ یہ الفاظ سن کر سارے لوگ رونے لگ گئے، ایک آدمی (یعنی سیدنا ابو بکرؓ) نے کہا: اس کے بعد جو آدمی آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ بیوقوف ہو گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے گا تو میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بارے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ وہ جنت کی طرف چلا جائے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی ایسے جنت میں داخل کرے گا کہ ان کا کو ئی حساب اور عذاب نہیں ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ تم اور تمہارے نیک آباء، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر بنا چکے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 35

۔ (۳۵) (وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ)۔ قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَسْتَأْذِنُوْنَہُ،فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ قَالَ: قَالَ أَبُوبَکْرٍ(ؓ): إِنَّ الَّذِی یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہَذِہِ لَسَفِیْہٌ فِی نَفْسِی، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمِدَ اللّٰہَ وَ قَالَ خَیْرًا، ثُمَّ قَالَ: ((أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ۔)) وَکَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! مَا مِنْ عَبْدٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔))،فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۷)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آ رہے تھے کہ لوگوں نے اجازتیں لینا شروع کر دیں، … پھر اوپر والی حدیث بیان کی…۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا: جو آدمی اس کے بعد آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ میرے نزدیک تو بیوقوف ہی ہو گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قسم اٹھاتے تھے تو یوں فرماتے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 36

۔ (۳۶)(وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ:)قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکََدِیْدِ أَوْ قَالَ بِعَرَفَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۸)
۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم کدید یا عرفہ مقام پر تھے، پھر وہی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 37

۔ (۳۷)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ یَعْلَمُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد:۴۶۴)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے تووہ جنت میں داخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 38

۔ (۳۸)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنِّی لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَایَقُوْلُہَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِہِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَی النَّارِ۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ: أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا ہِیَ، ہِیَ کَلِمَۃُ الْإِخْلَاصِ الَّتِی أَعَزَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہَا مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَصْحَابَہُ، وَ ہِیَ کَلِمَۃُ التَّقْوَی الَّتِی أَلاَصَ عَلَیْہَا نَبِیُّ اللّٰہِ عَمَّہُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ۔ (مسند أحمد: ۴۴۷)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی دل کی سچائی کے ساتھ اس کو کہے گا، وہ آگ کے حق میں حرام ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدناعمرؓ نے کہا: میں بتلاتا ہوں کہ وہ کلمہ کون سا ہے، وہ تو وہ کلمہ اخلاص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ذریعے حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ کو عزت بخشی، وہ کلمۂ تقوی ہے جو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے چچا ابو طالب کی موت کے وقت اس پر پیش کیا تھا اور وہ ہے لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ کی شہادت دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 39

۔ (۳۹)۔عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ الدُّئَلِیِّ عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ عَلَیْہِ ثَوْبٌ أَبْیَضُ فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ أُحَدِّثُہُ فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ وَ قَدِ اسْتَیْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))،قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔))،قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔)) ثَلَاثًا،ثُمَّ قَالَ فِی الرَّابِعَۃِ: ((عَلَی رَغْمِ أَبِی ذَرٍّ۔)) قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ یَجُرُّ إِزَارَہُ وَہُوَ یَقُوْلُ: وَ إِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِی ذَرٍّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۷۹۸)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سفید کپڑا اوڑھ کر سوئے ہوئے تھے، پھر دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے باتیں کرنے کے لیے آیا، لیکن ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آرام فرما رہے تھے، اس کے بعد جب میں آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیدار ہو چکے تھے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آ کر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ کہے گا اور پھر اسی پر مر جائے گا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ میں دوسری بار پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ تین دفعہ تو ایسے ہی ہوا اور چوتھی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے کے ساتھ ساتھ۔ یہ سن کر سیدنا ابو ذر ؓوہاں سے ازار کو گھسیٹتے اور یہ کہتے ہوئے نکل پڑے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 40

۔ (۴۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَا ذَا رَدَّ إِلَیْکَ رَبُّکَ فِی الشَّفَاعَۃِ؟ فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَوَّلُ مَنْ یَسْأَلُنِیْ عَنْ ذٰلِکَ مِنْ أُمَّتِیْ لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْعِلْمِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! مَا یَہُمُّنِیْ مِنَ انْقِصَافِہِمْ عَلَی أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ أَہَمُّ عِنْدِیْ مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِیْ، وَ شَفَاعَتِیْ لِمَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا یُصَدِّقُ قَلْبُہُ لِسَانَہُ وَ لِسَانُہُ قَلْبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۶)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: آپ کے ربّ نے سفارش کے بارے میں آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! میرا یہ خیال تھا کہ اس کے بارے میں سوال کرنے والا میری امت میں سے تو ہی پہلا فرد ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تیرے اندر علم کی حرص پائی جاتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! مجھے جنت کے دروازوں پر اپنی امت کے لوگوں کے ہجوم کے بارے میں جو فکر ہے، وہ میرے نزدیک میری سفارش کی تکمیل سے زیادہ اہم ہے، اور میری سفارش ہر اس آدمی کے لیے ہے جو اخلاص کے ساتھ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت اس طرح دے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی اور اس کی زبان، اس کے دل کی تصدیق کر رہی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 41

۔ (۴۱)۔عَنْ أَبِیْ عَمْرَۃَ الْأَنْصَارِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، لَا یَلْقَی اللّٰہَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِہِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۲۸)
سیدنا ابو عمرہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو آدمی بھی ان دو شہادتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ملے گا، تو قیامت کے دن اس سے آگ کو دور کر دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 42

۔ (۴۲)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ (ؓ): خَصْلَتَانِ یَعْنِی إِحْدَاہُمَا سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ الْأُخْرٰی مِنْ نَفْسِیْ، ((مَنْ مَاتَ وَہُوَ یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ۔)) وَ أَنَا أَقُوْلُ: مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ لَا یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا وَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۳۵۵۲)
ابووائل سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں: دو باتیں ہیں، ایک بات تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہے اور دوسری بات میری اپنی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ اس حال میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ اور میں خود کہتا ہوں: اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ نہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بناتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 43

۔ (۴۳)۔عَنْ أَبِیْ نُعَیْمٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ أَوْ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ فَنَزَلَ عَلَی مَسْرُوْقٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو(بْنِ الْعَاصِ ؓ) یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، لَمْ تَضُرَّہُ مَعَہُ خَطِیْئَۃٌ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ لَمْ تَنْفَعْہُ مَعَہُ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۸۶)
ابو نعیم کہتے ہیں: ایک آدمی یا ایک بوڑھا، جس کا تعلق اہل مدینہ سے تھا، آیا اور مسروق کے پاس ٹھہرا، اس نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی، لیکن جو بندہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی نیکی اس کو فائدہ نہیں دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 44

۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 45

۔ (۴۵)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمُعَاذٍ: ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: لَا یُشْرِکُ بِہِ) دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: (( لَا، إِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یَتَّکِلُوْاعَلَیْہَا۔)) أَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۳۳)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سیدنا معاذ ؓ سے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو ا س حال میں ملے کہ وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دیتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں یہ خوشخبری سنا نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں، مجھے یہ ڈر ہے کہ اس پر توکّل کر لیں گے (اور عمل ترک کر دیں گے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 46

۔ (۴۶)۔عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ ؓ قَالَ: وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَ إِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۷۳)
سیدنا سلمہ بن نعیمؓ، جو کہ صحابۂ کرام میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا بھی کیا ہو اور چوری بھی کی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 47

۔ (۴۷)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ حَدَّثَنَا ہِصَّانُ الْکَاہِنُ الْعَدِوِیُّ قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِیْہِ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ (ؓ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَلَی الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوْتُ لَا تُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا،تَشْہَدُ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ یَرْجِعُ ذَاکُمْ إِلَی قَلْبٍ مُوْقِنٍ إِلَّا غُفِرَ لَہُ۔))، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ مُعَاذٍ؟ قَالَ الْقَوْمُ: فَعَنَّفَنِیْ، فَقَالَ: دَعُوْہُ فَإِنَّہُ لَمْ یُسِیئِ الْقَوْلَ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُہُ مِنْ مُعَاذٍ زَعَمَ أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۵۰)
ہصان کاہن عدوی کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس میں سیدنا عبد الرحمن بن سمرہؓبھی تشریف فرما تھے، ہمیں سیدنا معاذ بن جبلؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقینِ دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: کیا تو نے یہ حدیث سیدنا معاذؓ سے سنی ہے؟ اس بات پر لوگوں نے میری سرزنش کی اور کہا: اس کو چھوڑ دو، اس نے کوئی بری بات تو نہیں کہی ہے، بہرحال میں (عبد الرحمن) نے سیدنا معاذؓ سے یہ بات سنی ہے اور ان کا خیال تھا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث سنی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 48

۔ (۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ثَنَا یُوْنُسُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَۃِ فَجَلَسْتُ إِلٰی شَیْخٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوْہُ وَلَا تُؤَنِّبُوْہُ دَعُوْہُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاکَ مِنْ مُعَاذٍ یَذْکُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ إِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: یَأْثُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِہِمْ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ہٰذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۸)
ہصان بن کاہل کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: …، پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے: انھوں نے کہا: اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو ہاں میں نے سیدنا معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نقل کر رہے تھے میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ؓہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 49

۔ (۴۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلٰی عَنْ یُوْنُسَ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ وَکَانَ أَبُوْہُ کَاہِنًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِی إِمَارَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِذَا شَیْخٌ أَبْیَضُ الرَّأْسِ وَ اللِّحْیَۃِ یُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۹)
ہصان بن کاہل، ان کے باپ دورِ جاہلیت میں کہانت کرتے تھے، کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفانؓکی خلافت کے زمانے میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ سیدنا معاذؓ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، …۔ پھر اوپر والی حدیث بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 50

۔ (۵۰)۔عَنْ أَبِی ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: یَا ابْنَ آدَمَ لَوْ عَمِلْتَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطَایَا وَلَمْ تُشْرِکْ بِی شَیْئًا جَعَلْتُ لَکَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَۃً۔)) زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَ قُرَابُ الْأَرْضِ مِلْئُ الْأَرْضِ۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۳۶)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو زمین کے بھراؤ کے برابر گناہ کرے، لیکن میرے ساتھ شرک نہ کرے تو میں تجھے زمین کے بھرنے کے برابر ہی بخشش عطا کر دوں گا۔ ایک روایت میں ہے: قُرَابُ الْأَرْضِ سے مراد زمین کا بھراؤ ہے۔

آیت نمبر