Musnad Ahmad

Search Results(1)

100)

100) کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6186

۔ (۶۱۸۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بن السائب عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جدہ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَأْخُذَنَّ اَحَدُکُمْ مَتَاعَ صَاحِبِہِ جَادًّا وَلَا لَاعِبًا وَاِذَا وَجَدَ (وَفِیْ لَفْظٍ: واِذَا أَخَذَ) اَحَدُکُمْ عَصَا صَاحِبِہِ فَلْیَرْدُدْھَاعَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۰۶م)
۔ عبد اللہ بن سائب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہ حقیقت میں اپنے ساتھی کا سامان لے اور نہ مذاق کرتے ہوئے، اگر کوئی شخص اپنے بھائی کی چھڑی اٹھا لے تو وہ اسے واپس کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6187

۔ (۶۱۸۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَثْرِبِیِّ الضَّمْرِیِّ قَالَ: شَھِدْتُّ خُطْبَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی فَکَانَ فِیْمَا خَطَبَ بِہٖأَنْقَالَ: ((وَلَایَحِلُّ لِاِمْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِیْہِ اِلَّا مَا طَابَتْ بِہٖنَفْسُہُ۔)) قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ ذٰلِکَ قُلْتُ: یَارَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَرَأَیْتَ لَوْ لَقِیْتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّیْ فَأَخَذْتُ مِنْہَا شَاۃً فَاجْتَزَرْتُہَا ھَلْ عَلَیَّ فِیْ ذٰلِکَ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((اِنْ لَقِیْتَہَا نَعْجَۃً تَحْمِلُ شَفْرَۃً وَاَزْنَادًا فَـلَا تَمَسَّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۹۷)
۔ سیدنا عمرو بن یثربی ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں منیٰ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ میں موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو خطبہ دیا، اس میںیہ بھی فرمایا: کسی آدمی کے لئے اس کے بھائی کا مال حلال نہیں ہے، مگر وہ جو وہ خوشدلی سے دے دے۔ یہ سن کر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اس چیز کی وضاحت فرمادیں کہ میں اپنے بھتیجے کی بکریاں دیکھتا ہوں اور ان میں سے ایک پکڑ کر ذبح کر لیتا ہوں‘ کیایہ میرے لئے بوجھ ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو بھیڑ بکری کو اس حال میں پاتا ہے کہ وہ چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو، پھر بھی اسے ہاتھ تک نہ لگانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6188

۔ (۶۱۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِمِثْلِہِ وَفِیْہِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((إِنْ لَقِیْتَہَا نَعْجَۃً تَحْمِلُ شَفْرَۃً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِیْشِ فَـلَا تُہِجْہَا۔)) قَالَ: یَعْنِیْ بِخَبْتِ الْجَمِیْشِ أَرْضًا بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْجَارِ،اَرْضٌ لَیْسَ بِہَا أَنِیْسٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۹۷)
۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری کو اس حال میں پائے کہ وہ چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو اور ہو بھی خبت الجمیش علاقے میں (جو مکہ اور جار کے درمیان بے نبات اور پست و کشادہ زمین ہے اور وہاں کوئی مانوس چیز بھی نہیں ہے، پھر بھی تو اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6189

۔ (۶۱۸۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ اِمْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۳۹۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر حق کے مسلمان آدمی کے مال پر قبضہ کر لیا، وہ اللہ تعالی کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6190

۔ (۶۱۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ حُمَیْدِ نِ السَّاعَدِیِّ عَنْ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِاِمْرِئٍ أَنْ یَأْخُذَ مَالَ أَخِیْہِ بِغَیْرِ حَقِّہِ۔)) وَذٰلِکَ لِمَا حَرَّمَ اللّٰہُ مَالَ الْمُسْلِمِ علیَ الُمُسْلِمِ۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ اَبِیْ: وَقَالَ عُبَیْدُ بْنُ اَبِیْ قُرَّۃَ: ثَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنِیْ سُہَیْلٌ حَدَّثَنِیْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ اَبِی حُمَیْدِنِ السَّاعَدِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ یَأْخُذَ عَصَا أَخِیْہِ بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ۔)) وَ ذٰلِکَ لِشِدَّۃِ مَاحَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَالَ الْمُسْلِمِ عَلٰی الْمُسْلِمِ۔ (مسند احمد:۲۴۰۰۳)
۔ سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال ناحق طریقے سے لے۔ اس فرمان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دوسری روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی اس کی رضامندی کے بغیر لے۔ اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سختی سے ایک مسلمان کے مال کو دوسرے مسلمان پر حرام قرار دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6191

۔ (۶۱۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اَنْ یَحُلَّ صِرَارَ نَاقَۃٍ بِغَیْرِ إِذْنِ أَھْلِہَا فَاِنَّہُ خَاتِمُہُمْ عَلَیْہَا فَاِذَا کُنْْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَیْتُمُ الْوَطْبَ أَوِ الرَّاوِیَۃَ أَوِ السِّقَائَ مِنَ اللَّبَنِ فَنَادُوْا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا فَاِنْ سَقَاکُمْ فَاشْرَبُوْا وَاِلَّا فَلَا، وَإِنْ کُنْْتُمْ مُرْمَلِیْنَ وَلَمْ یَکُنْ مَعَکُمْ طَعَامٌ فَلْیُمْسِکْہُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ ثُمَّ اشْرَبُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۳۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی اونٹنی کا دودھ بند کھولے، کیونکہیہ اس جانور کے دودھ پر مہر کی حیثیت رکھتا ہے اور جب تم بے آباد جگہ میں ہو اور تم وہاں کوئی دودھ بھری مشک پائو تو وہاں اونٹ والوں کوتین مرتبہ آواز دو‘ اگر اس کا مالک تمہیں پینے کی اجازت دے تو پی لو، وگرنہ نہیں،اور اگر تم محتاج ہو اور تمہارے ساتھ کھانا نہ ہو تو تم میں سے دو آدمی اس کو پکڑ کر رکھیں اور پھر تم پی لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6192

۔ (۶۱۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا لا تُحْتَلَبَنَّ مَاشِیَۃُ اِمْرِئٍ اِلَّا بِاِذْنِہِ، أَیُحِبُّ اَحَدُ کُمْ أَنْ تُوْتٰی مَشْرُبَتُہُ فَیُکْسَرَ بَابُہَا ثُمَّ یُنْتَثَلَ مَافِیْہَا، فَاِنَّ مَا فِیْ ضُرُوْعِ مَوَاشِیْہِمْ طَعَامُ أَحَدِھِمْ، اَلَا فَـلَا تُحْلَبَنَّ مَاشِیَۃُ اِمْرِئٍ اِلَّا بِاِذْنِہِ (أَوْ قَالَ) بِأَمْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! کسی کے مویشی اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے جائیں، کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ کوئی تمہارے بالاخانے میں آئے اور اس کا دروازہ توڑ کر اس کے اندر والی چیزیں لے جائے، اسی طرح ہی مویشیوں کے تھنوں میں جوکچھ ہے، وہ ان کے مالکوں کا کھانا ہے، خبردار! کسی کے مویشی اس کی اجازت یا حکم کے بغیر نہ دوہے جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6193

۔ (۶۱۹۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کُنَّا فِیْ سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَرْمَلْنَا وَأَنْفَضْنَا فَأَتَیْنَا عَلٰی إِبِلٍ مَصْرُوْرَۃٍ بِلِحَائِ الشَّجَرِ وَابْتَدَرَھَا الْقَوْمُ لِیَحْلِبُوْھَا فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ھٰذِہٖعَسٰی أَنْ یَکُوْنَ فِیْہَا قُوْتُ أَھْلِ بَیْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، أَتُحِبُّّوْنَ لَوْ أَنَّہُمْ اَتَوْا عَلٰی مَا فِیْ أَزْوَادِکُمْ فَأَخَذُوْہُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنْ کُنْْتُمْ لَابُدَّ فَاعِلِیْنَ فَاشْرَبُوْا وَلَا تَحْمِلُوْا۔)) (مسند احمد: ۹۲۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے،ہوا یوں کہ ہمارا زادِ راہ ختم ہوگیا اور ہم محتاج ہو گئے، اتنے میں ہمارا گزر ایسی اونٹنیوں کے پاس سے ہواکہ جن کے تھن درخت کے چھلکوں سے بندھے ہوئے تھے، لوگ ان کو دوہنے کے لیے ان کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ یہ مسلمانوں میں سے کسی خاندان کی خوراک ہو، بھلا کیا تم یہ پسند کرو گے کہ یہ لوگ آ کر تمہارے زاد راہ لے جائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے لیے کوئی اور چارۂ کار نہیں ہے تو پھر یہیں پیلو اور اپنے ساتھ اٹھا کر نہ لے جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6194

۔ (۶۱۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکِ نِ الْاَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَعْظَمُ الْغُلُوْلِ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ذِرَاعٌ مِنْ أَرْضٍ یَکُوْنُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ أَوْ بَیْنَ الشَّرِیْکَیْنِ فَیَقْتَسِمَانِ فَیَسْرِقُ أَحَدُھُمَامِنْ صَاحِبِہِ ذِرَاعًا مِنْ أَرْضٍ فَیُطَوَّقُہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِذَا فَعَلَ ذٰلِکَ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۰۲)
۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : روز قیامت اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑی خیانتیہ ہو گی کہ دو آدمیوںیا شریکوں کے درمیان زمین ساجھی ہو، پھر جب وہ اسے تقسیم کرنا چاہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کی اس زمین سے ایک ہاتھ کے برابر چرا لے، ایسے شخص کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ ایسے کرے گا تو اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6195

۔ (۶۱۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکِ نِ الْاَشْجَعِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَعْظَمُ الْغُلُوْلِ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ تَجِدُوْنَ الرَّجُلَیْنِ جَارَیْنِ فِیْ الْأَرْضِ أَوْ فِیْ الدَّارِ فَیَقْتَطِعُ أَحَدُھُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِہِ ذِرَاعًا فَاِذَا اقْتَطَعَہُ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۸۳)
۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑی خیانت ایک ہاتھ زمین ہے اور وہ یوں کہ دو آدمی ایک زمینیا گھر میں شریک ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک ہاتھ کے بقدر ناحق اپنے قابو میںکر لیتا ہے، جب وہ اس پر قبضہ کرتا ہے تو اسے روز قیامت تک سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6196

۔ (۶۱۹۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَیُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: ((ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ یَنْتَقِصُہُ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ فَلَیْسَتْ حَصَاۃٌ مِنَ الْأَرْضِ أَخَذَھَا اِلَّا طُوِّقَہَا یَوْمَ الْقِیَامَہِ إِلٰی قَعْرِ الْأَرْضِ، وَلَا یَعْلَمُ قَعْرَھَا اِلَّا الَّذِیْ خَلَقَہَا۔)) (مسند احمد:۳۷۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم سب سے بڑا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جسے آدمی اپنے بھائی کے حق سے چھین لیتا ہے،جو آدمی اس طرح کی ایک کنکری کے بقدر زمین ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن اسے زمین کی گہرائی تک طوق پہنایا جائے گااور زمین کی گہرائی کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6197

۔ (۶۱۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَعَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَخَذَ شَیْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ إِلٰی سَبْعِ أَرْضِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۵۷۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے، اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6198

۔ (۶۱۹۸)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ الثَّقَفِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَیْرِ حَقِّہَا کُلِّفَ اَنْ یَحْمِلَ تُرَابَہَا اِلَی الْمَحْشِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۱۲)
۔ سیدنایعلیٰ بن مرہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کر لیا، اسے قیامت کے دن یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس جگہ کی مٹی کو اٹھا کر محشر میں لائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6199

۔ (۶۱۹۹)۔ ( وَعِنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْاَرْضِ کَلَّفَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَحْفِرَہُ حَتّٰییَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرْضِیْنَ ثُمَّ یُطَوَّقُہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۱۴)
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوشخص ظلم کرتے ہوئے کسی کی ایک بالشت زمین ہتھیا لے گا، اللہ تعالی اسے یہ تکلیف دے گا کہ وہ اس زمین کو سات زمینوں تک کھودے اور پھر اسے قیامت کے دن لوگوں کے مابین فیصلہ ہونے تک (اس مٹی) کا طوق پہنا دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6200

۔ (۶۲۰۰)۔ عَنِ الْاَشْعَتِ بْنِ قَیْسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ کِنْدَۃَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اِخْتَصَمَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ أَرْضٍ بِالْیَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضِیْ اِغْتَصَبَہَا ھٰذَا وَأَبُوْہُ، فَقَالَ الْکِنْدِیُّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضِیْ وَرِثْتُہَا مِنْ اَبِیْ، فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اسْتَحْلِفْہُ أَنَّہُ مَا یَعْلَمُ اَنَّھَا أَرْضِیْ وَأَرْضُ وَالِدِیْ وَالَّذِیْ اِغْتَصَبَہَا أَبُوْہُ، فَتَہَیَّأَ الْکِنْدِیُّ لِلْیَمِیْنِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ لَا یَقْتَطِعُ عَبْدٌ أَوْ رَجُلٌ بِیَمِیْنِہِ مَالًا اِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَھُوَ أَجْذَمُ۔)) فَقَالَ الْکِنْدِیُّ: ھِیَ أَرْضُہُ وَأَرْضُ وَالِدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۹۲)
۔ سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کندہ کے ایک شخص اور حضرموت کے ایک آدمی کے مابینیمن میں واقع ایک زمین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، اس نے اور اس کے باپ نے اس پر ناجائز قبضہ کر لیاہے، کندہ کے باشندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، مجھے اپنے باپ کے ورثے میںملیہے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ قسم لے لیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ میری اور میرے والد کی زمین ہے اور غصب کرنے والا اس کا باپ ہے۔اُدھر کندی قسم اٹھانے کے لئے تیارہو گیا، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کس کا مال ہتھیا لے گا تو روز قیامت جب اس کی ملاقات اللہ تعالیٰ سے ہوگی تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ یہ فرمان سن کر کندی نے کہا: یہ زمین اس کی اور اس کے باپ کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6201

۔ (۶۲۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ وَھُوَ یُخَاصِمُ فِیْ أَرْضٍ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا أَبَا سَلَمَۃَ! اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ اَرْضِیْنَ)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۷)
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن ، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور وہ زمین کے معاملے میں کسی سے جھگڑ رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین کے معاملے میں احتیاط برتنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایک بالشت کے بقدر نا حق زمین ہتھیا لیتا ہے، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6202

۔ (۶۲۰۲)۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: أَتَتْنِیْ أَرْوٰی بِنْتُ أُوَیْسٍ فِیْ نَفَرٍمنْ قُرَیْشٍ فِیْہِمْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَہْلٍ فَقَالَتْ: إِنَّ سَعِیْدَ بْنَ زَیْدٍ قَدِ انْتَقَصَ مِنْ اَرْضِیْ إِلٰی أَرْضِہِ مَا لَیْسَ لَہُ وَقَدْ اَحْبَبْتُ أَنْ تَأْتُوْہُ فَتُکَلِّمُوْہُ، قَالَ: فَرَکِبْنَا إِلَیْہِ وَھُوَ فِیْ أَرْضِہِ بِالْعَقِیْقِ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ الَّذِیْ جَائَ بِکُمْ، وَسَأُحَدِّثُکُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ مَا لَیْسَ لَہُ طُوِّقَہُ إِلَی السَّابِعَۃِ مِنَ الْأَرْضِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔)) وَفِیْ لفظ: ((وَمَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ۔)) وفِیْ لفظ: ((إِلٰی سَبْعِ اَرْضِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۲)
۔ طلحہ بن عبد اللہ بن عوف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: قریش کے ایک وفد کے ساتھ ارویٰ بنت اویس میرے پاس آئی، اس وفد میں عبد الرحمن بن سہل بھی تھا، وہ خاتون کہنے لگی: سیدنا سعیدبن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میری زمین کا کچھ حصہ اپنی زمین میں ملا لیا ہے، دراصل وہ اس کا نہیں تھا، اب میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کے پاس جائیں اور اس بارے میں اس سے بات کریں۔ طلحہ کہتے ہیں: ہم سوار ہو کر ا س کے پاس عقیق مقام پر گئے، اسی مقام پر ان کی زمین تھی،انہوں نے ہمیں دیکھ کر کہا: میں جانتا ہوں کہ تمہاری آمد کا مقصد کیاہے، میں تمہیں وہ حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جو کسی کی وہ زمین ہتھیا لے گا، جو اس کی نہیں ہو گی تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ساتوں زمینوں تک کا طوق ڈالے گا اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا وہ شہید ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6203

۔ (۶۲۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ قَالَ: قَالَ لَنَا مَرْوَانُ: انْطَلِقُوْا فَاصْلِحُوْا بَیْنَ ھٰذَیْنِ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ وَأَرْوٰی بِنْتِ اُوَیْسٍ، فَاَتَیْنَا سَعْیدَ بْنَ زَیْدٍ فَقَالَ: اَتَرَوْنَ اَنِّیْ قَدِ اسْتَنْقَصْتُ مِنْ حَقِّہَا شَیْئًا؟ اَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَخَذَ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَنْ سَرَقَ) شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَیْرٍ حَقِّہِ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ، وَمَنْ تَوَلَّی قَوْمًا بِغَیْرِ إِذْنِہِمْ فَعَلَیْہِ لَعْنْۃُ اللّٰہِ، وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِیْہِ بِیَمِیْنِہِ فَـلَا بَارَکَ اللّٰہُ لَہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹)
۔ ابو سلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مروان نے ہم سے کہا کہ جائیں اور سیدنا سعید بن زید اور ارویٰ بنت اویس کے درمیان صلح کروائیں۔ جب ہم سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے ارویٰ کی زمین کا حصہ مار لیا ہے؟ میں نے تو خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کوئی بغیر حق کے ایک بالشت کے بقدر کسی کی زمین ہتھیا لے گا یا چرا لے گا، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا اور جس نے اجازت کے بغیر کسی قوم کو اپنا والی بنایا، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور جس نے قسم کے ذریعے اپنے بھائی کا مال چھین لیا، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہیں کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6204

۔ (۶۲۰۴)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَہُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ جَنَازَۃٍ فَلَمَّا رَجَعْنَا لَقِیَنَا دَاعِیْ اِمْرَأَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ فُلَانَۃً تَدْعُوْکَ وَمَنْ مَعَکَ إِلٰی طَعَامٍ فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْنَا مَعَہُ فَجَلَسْنَا مَجَالِسَ الْغِلْمَانِ مِنْ آبَائِہِمْ بَیْنَ أَیْدِیْہِمْ ثُمَّ جِیْیئَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَوَضَعَ الْقَوْمُ اَیْدِیَہِمْ فَفَطِنَ لَہُ الْقَوْمُ وَھُوَ یَلُوْکُ لُقْمَۃً لَا یُجِیْزُھَا فَرَفَعُوْا أَیْدِیَہِمْ وَغَفَلُوْا عَنَّا ثُمَّ ذَکَرُوْا فَاَخَذُوْا بِاَیْدِیْنَا فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَضْرِبُ اللُّقْمَۃَ بِیَدِہِ حَتّٰی تَسْقُطَ ثُمَّ اَمْسَکُوْا بِأَیْدِیْنَایَنْظُرُوْنَ مَایَصْنَعُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَفَظَہَا فَأَلْقَاھَا فَقَالَ: ((أَجِدُ لَحْمَ شَاۃٍ أُخِذَتْ بِغَیْرِ إِذْنِ أَھْلِہَا۔)) فَقَامَتِ الْمَرْأَۃُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ کَانَ فِیْ نَفْسِیْ أَنْ أَجْمَعَکَ وَمَنْ مَعَکَ عَلٰی طَعَامٍ فَأَرْسَلَتُ إِلَی الْبَقِیْعِ فَلَمْ أَجِدْ شَاۃً تُبَاعُ وَکَانَ عَامِرُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصِ ابْتَاعَ شَاۃً أَمْسِ مِنَ الْبَقِیْعِ فَأَرْسَلَتُ إِلَیْہِ أَنِ ابْتُغِیَ لِیْ شَاۃٌ فِی الْبَقِیْعِ فَلَمْ تُوْجَدْ فَذُکِرَ لِیْ أَنَّکَ اشْتَرَیْتَ شَاۃً فَأَرْسِلْ بِہَا إِلیَّ فَلَمْ یَجِدْہُ الرَّسُوْلُ وَوَجَدَ أَھْلَہُ فَدَفَعُوْھَا إِلٰی رَسُوْلِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَطْعِمُوْھَا الْأُسَارٰی۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۷۶)
۔ ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنازہ کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلے، جب واپس پلٹے تو ایک قریشی عورت کا داعی ہمیں ملا اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) فلاں عورت آپ کو آپ کے ساتھیوں سمیت کھانے کے لیے بلا رہی ہے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہو لیے اور (گھر میں جا کر) اس طرح بیٹھ گئے، جیسے بچے اپنے باپوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، پھر کھانا لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے پر رکھا اور لوگوں نے بھی ایسے ہی کیا، لیکن لوگ سمجھ گئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک لقمے کو چبانا چاہتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے نہیں کر پا رہے، پس انھوں نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے،اور ہم سے غافل ہو گئے، پھر جب ان کو یاد آیا تو ہمارے ہاتھوں کو پکڑ لیا، پھر ہرآدمی نے اپنے لقمے پر ہاتھ مارا اور وہ زمین پر گر پڑا، پھر انھوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا اور دیکھنے لگ گئے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کرتے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس لقمے کو پھینک دیا اور فرمایا: مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایسی بکری کا گوشت ہے، جو مالک کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے۔ اب کی بار داعی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ یہ تھا کہ میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو کھانے پر جمع کروں، پس میں نے بقیع کی طرف آدمی کو بھیجا، لیکن وہاں فروخت کے لیے کوئی بکری نہ مل سکی، اُدھر عامر بن ابی وقاص کل بقیع سے ایک بکری خرید کر لائے تھے، میں نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے لیے بھی بقیع سے کوئی بکری خرید لی جائے، لیکن کوئی بکری نہ ملی، پھر میں نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ تو نے جو بکری خریدی ہے، وہی میری طرف بھیج دو، لیکن وہ میرے قاصد کو نہ مل سکے، لیکن اس کے گھر والوں نے وہ بکری میرے قاصد کو دے دی،یہ تفصیل سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6205

۔ (۶۲۰۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَصْحَابَہُ وَمَرُّوْا بِاِمْرَأَۃٍ فَذَبَحَتْ لَھُمْ شَاۃً وَاتَّخَذَتْ لَھُمْ طَعَامًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا اِتَّخَذْنَا لَکُمْ طَعَامًا فَادْخُلُوْا فَکُلُوْا، فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ وَکَانُوْا لَایَبْدَئُ وْنَ حَتّٰییَبْتَدِیئَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لُقْمَۃً فَلَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُسِیْغَہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذِہِ شَاۃٌ ذُبِحَتْ بِغَیْرِ اِذْنِ أَھْلِہَا۔)) فَقَالَتِ الْمَرَأَۃُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّا لَانَحْتَشِمُ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَلَایَحْتَشِمُوْنَ مِنَّا، نَأْخُذُمِنْہُمْ وَیَأْخُذُوْنَ مِنَّا۔ (مسند احمد: ۱۴۸۴۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ ایک عورت کے پاس سے گزرے، اس نے ان کے لئے بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹے تو اس عورت نے کہا: ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے کھانا تیار کیا ہے، لہٰذا آپ اندر تشریف لائیں اور کھانا کھائیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ اندر تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس وقت تک کھانا شروع نہ کرتے تھے، جب تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھانے کا آغاز نہ کرتے تھے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لقمہ لیا، مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو نگل نہ سکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بکری مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا! اے اللہ کے نبی!ہم اورآل بنی سعد ایک دوسرے سے بے تکلفانہ مراسم رکھتے ہیں (اور ایک دوسرے سے ناگواری محسوس نہیں کرتے) ، اس لیے ہم ان سے لیتے رہتے ہیں اور وہ ہم سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6206

۔ (۶۲۰۶)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَلٰی الْیَدِ مَا أَخَذَتْ حَتّٰی تُؤَدِّیَہُ۔)) ثُمَّ نَسِیَ الْحَسَنُ قَالَ: لا یَضْمَنُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۱۸)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ جوکچھ لیتا ہے، وہ اس وقت تک اس کے ذمہ رہتا ہے، جب تک اس کو ادا نہیں کر دیتا۔ پھر حسن بصری بھول گئے تھے کہنے لگے کہ وہ ضامن نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6207

۔ (۶۲۰۷)۔ عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَارَأَیْتُ صَانِعَۃَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِیَّۃَ، أَھْدَتْ اِلَی النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَائً فِیْہِ طَعَامٌ (وَھُوَ عِنْدِیْ) فَمَا مَلَکٰتُ نَفْسِیْ اَنْ کَسَرْتُہُ (قَالَتْ: فَنَظَرَ اِلیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِیْ وَجْہِہِ، فَقُلْتُ: اَعَوْذُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ اَنْ یَلْعَنَنِی الْیَوْمَ) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کَفَّارَتُہُ؟ فَقَالَ: ((إِنَائٌ بِاِنَائٍ وَطَعَامٌ بِطَعَامٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۷۰)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدنا صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی مانند کھانا تیار کرنے والا کوئی نہیں دیکھا، ایک دفعہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک برتن میں کھانا دے کر بھیجا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تھے، میں خود پر ضبط نہ رکھ سکی اور میں نے (غیرت میں آ کر) وہ برتن توڑ دیا، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے دیکھ رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غصب کے آثار نظر آنے لگے، میں نے کہا: میں اس بات سے پناہ مانگتی ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آج مجھے لعنت کریں۔ پھر میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاَ برتن کے عوض برتن اورکھانے کے عوض کھانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6208

۔ (۶۲۰۸)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ زَرَعَ فِیْ أَرْضِ قَوْمٍ بِغَیْرِ اِذْنِہِمْ فَلَیْسَ لَہُ مِنَ الزَّرْعِ شَیْئٌ وَتُرَدُّ عَلَیْہِ نَفَقَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۰۱)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی کھیتی میں اس کی اجازت کے بغیر کاشت کرتا ہے، تو اسے کھیتی کی پیداوار میں سے کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ اسے واپس کر دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6209

۔ (۶۲۰۹)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَنَّہُ لَیْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6210

۔ (۶۲۱۰)۔ عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلٰی آبِی اللَّحْمِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِیْ نُرِیْدُ الْہِجْرَۃَ حَتّٰی أَنْ دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ: فَدَخَلُوْا الْمَدِیْنَۃَ وَخَلَّفُوْنِیْ فِیْ ظَہْرِھِمْ، قَالَ: فَاَصَابَنِیْ مَجَاعَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، قَالَ: فَمَرَّ بِیْ بَعْضُ مَنْ یَخْرُجُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَقَالُوْا لِیْ: لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِیْنَۃَ فَأَصَبْتَ مِنْ ثَمَرِ حَوَائِطِہَا، فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْہُ قِنْوَیْنِ فَأَتَانِیْ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَتٰی بِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَخْبَرَہُ خَبَرِیْ وَعَلَیَّ ثَوْبَانِ فَقَالَ لِیْ: ((أَیُّہُمَا أَفْضَلُ؟)) فَأَشَرْتُ لَہُ اِلٰی أَحَدِھِمَا، فَقَالَ: ((خُذْہُ۔)) وَأَعْطٰی صَاحِبَ الْحَائِطِ الْأٰخَرَ وَخَلّٰی سَبِیْلِیْ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۸۸)
۔ سیدنا عمیر مولیٰ آبی اللحم کہتے ہیں: میں اپنے آقائو ں کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ رہا تھا، جب ہم لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو میرے آقا ئوں نے مجھے پیچھے چھوڑ دیا اورخود مدینہ میں داخل ہوگئے، اب مجھے بڑی سخت بھوک لگی، مدینہ کی طرف والے بعض لوگوں کا میرے پاس سے گزر ہوا، انھوں نے مجھے کہا: (تیری بھوک کا حل یہی ہے کہ) تو مدینہ میں داخل ہو جا اور کسی باغ کا پھل کھا لے، پس میں ایک باغ میں داخل ہوا اور دو گچھے کھجوروں کے توڑے ہی تھے کہ باغ کا مالک آ گیا اور مجھے پکڑ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو میرے ساری بات بتلا دی، اس وقت میں نے دو کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ان دو کپڑوں میں سے کون سا کپڑا زیادہ اچھا ہے؟ میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: یہ تو لے لے۔ اور دوسرا باغ کے مالک کو دے دیا اور مجھے جانے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6211

۔ (۶۲۱۱)۔ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ اَبِی الْحَکَمِ الْغِفَارِیَّیَقُوْلُ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ عَنْ عَمِّ اَبِیْ رَافِعِ بْن عَمْرِو نِ الْغِفَارِیِّ، قَالَ: کُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِی نَخْلًا لِلْاَنْصَارِ فَأُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیْلَ إِنَّ ھَاھُنَا غُلَامًا یَرْمِیْ نَخْلَنَا فَأُتِیَ بِیْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا غُلَامُ! لِمَ تَرْمِی النَّخْلَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: آکُلُ، قَالَ: ((فَـلَا تَرْمِی النَّخْلَ وَکُلْ مَاسَقَطَ فِیْ أَسَافِلِہَا۔)) ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِیْ وقَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَشْبِعْ بَطَنَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۰۹)
۔ سیدنا رافع بن عمرو غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک انصاری کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا، جبکہ میں ابھی تک ایک لڑکا تھا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی گئی کہ لڑکا کھجوروں پر پتھر مار رہا ہے، پھر مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے لڑکے! تو کھجوروں پر پتھر کیوں پھینک رہا تھا؟ میں نے کہا: جی میں کھانے کے لئے ایسا کر رہا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھجوروں کو پتھر نہ مارنا، البتہ جو کھجوریں نیچے گری پڑی ہوں، وہ کھا لیا کر۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6212

۔ (۶۲۱۲)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: اِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائَ وَجُرْحَہَا جُبَارٌ۔ وَالْعَجْمَائُ: الْبَہِیْمَۃُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَیْرِھَا، وَالْجُبَارُ: ھُوَ الْھَدْرُ الَّذِیْ لَایُغَرَّمُ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک فیصلہیہ بھی تھا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَائ سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6213

۔ (۶۲۱۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّہُ کَانَتْ لَہُ نَاقَۃٌ ضَارِیَۃٌ، فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِیْہِ، فَقَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّہَارِ عَلٰی أَھْلِہَا وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِیَۃِ بِاللَّیْلِ عَلٰی أَھْلِہَا وَأَنَّ مَا أَصَابَتِ الْمَاشِیَۃُ بِاللَّیْلِ فَہُوَ عَلٰی أَھْلِہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۰۷)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک اونٹنی لوگوں کی کھیتیوں میں چرنے کی عادی تھی، ایک دن وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اس کو خراب کیا، اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ دن میں باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی نگہداشت کرنا ان کے مالکوں کا کام ہے، اور جانوررات کو جو نقصان کریں گے، اس کے ذمہ داران کے مالک ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6214

۔ (۶۲۱۴)۔ عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَیِّصَۃَ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ نَاقَۃً لِلْبَرَائِ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فَقَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَھْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظُہَا بِالنَّہَارِ وَعَلٰی أَھْلِ الْمَوَاشِی حِفْظُہَا بِاللَّیْلِ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۹۷)
۔ حرام بن محیصہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اونٹنی ایک باغ میں داخل ہوئی اور اس کو خراب کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ دن کے وقت (باغ وغیرہ جیسے) مال کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کریں اور رات کے وقت مویشیوں کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6215

۔ (۶۲۱۵)۔ عَنْ قُہَیْدِ بْنِ مُطَرِّفِ نِ الْغِفَارِیِّ قَالَ: سَأَلَ سَائِلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنْ عَدَا عَلَیَّ عَادٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَکِّرْہُ (وَأَمَرَہُ بِتَذْکِیْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَمَرَہُ أَنْ یَنْہَاہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) فَاِنْ اَبٰی فَقَاتِلْہُ، فَاِنْ قَتَلَکَ فَاِنَّکَ فِیْ الْجَنَّۃِ وَإِنْ قَتَلْتَہُ فَاِنَّہُ فِی النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۵۵۶۸)
۔ سیدنا قہید بن مطرف غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی ظالم مجھ پر حملہ کرتا ہے (تو میں کیا کروں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نصیحت کر، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کو تین دفعہ منع کرے، اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کر، اس لڑائی میں اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو تو جنت میں جائے گا اور اگر تونے اسے قتل کر دیا تو وہ جہنم میں جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6216

۔ (۶۲۱۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ عُدِیَ عَلٰی مَالِیْ؟ قَالَ: ((فَانْشُدِ اللّٰہَ۔)) قَالَ: فَاِنْ أَبَوْا عَلَیَّ؟ قَالَ: ((اُنْشُدِ اللّٰہَ۔)) قَالَ: فَاِنْ أَبَوْا عَلَیَّ؟ قَالَ: ((فانْشُدِاللّٰہَ۔)) قَالَ: فَاِنْ أَبَوْا عَلَیَّ؟ قَالَ: ((فَقَاتِلْ فَاِنْ قُتِلْتَ فَفِی الْجَنَّۃِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۵۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی آدمی ظلم کرتے ہوئے میرا مال لینا چاہے تو میں کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ نہ مانے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ پھرنہ مانے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیسری بار اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب کی بار اس سے لڑائی کر، اور اگر اس لڑائی میں تو قتل ہو گیا تو جنت میں جائے گا اور اگر وہ مارا گیا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6217

۔ (۶۲۱۷)۔ عَنْ قَابُوْسَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اَتٰی رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنْ أَتَانِیْ رَجُلٌ یَأْخُذُ مَالِیْ؟ قَالَ: ((تُذَکِّرُہُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی۔)) قَالَ: أَرَأَیْتَ اِنْ ذَکَّرْتُہُ بِاللّٰہِ فَلَمْ یَنْتَہِ، قَالَ: ((تَسْتَعِیْنُ عَلَیْہِ بِالسُّلْطَانِ۔)) قَالَ: أَرَأَیْتَ اِنْ کَانَ السُّلْطَانُ مِنِّی نَائِیًا قَالَ: ((تَسْتَعِیْنُ عَلَیْہِ بِالْمُسْلِمِیْنَ)) قَالَ: أَرَأَیْتَ اِنْ لَمْ یَحْضُرْنِیْ أحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَجِلَ عَلَیَّّ؟ قَالَ: ((فَقَاتِلْ حَتّٰی تَحُوْزَ مَالَکَ أَوْ تُقْتَلَ فَتَکُوْنَ فِیْ شُہَدَائِ الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۸۱)
۔ سیدنا محازق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اس نے کہا: ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اورــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمیرا مال لینا چاہتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر میں اسے اللہ کا واسطہ دوں لیکن وہ باز نہ آئے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف حکمران سے مدد طلب کر۔ اس نے کہا: اگر حکمران دور ہو (اور اس تک رسائی ممکن نہ ہو)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف دوسرے مسلمانوں سے فریاد رسی کر۔ اس نے کہا: اگر وہاں کوئی مسلمان بھی نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھراس سے لڑ، یہاں تک کہ تو اپنے مال کی حفاظت کر لے یا آخرت کے شہداء میں سے ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6218

۔ (۶۲۱۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ)) (مسند احمد: ۵۹۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے، وہ شہید ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6219

۔ (۶۲۱۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَظْلِمَۃٍ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ظلم کے خلاف مارا جائے، وہ شہید ہے۔

آیت نمبر