Musnad Ahmad

Search Results(1)

101)

101) غصب کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6220

۔ (۶۲۲۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّکُمْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَـلَا یَبِیْعُہَا حَتّٰییَعْرِضَہَا عَلٰی شَرِیْکِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۴۳)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمینیا کھجوریں ہوں، تو وہ ان کو اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک کہ اپنے شریک پر پیش نہ کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6221

۔ (۶۲۲۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیْہِ مُزَارَعَۃٌ فَأَرَادَ أَنْ یَبِیْعَہَا فَلْیَعْرِضْہَا عَلٰی صَاحِبِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا بِالثَّمَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۶۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی اور اس کے بھائی کے مابین مزارعت میں شراکت ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہو تو وہ پہلے اسے اپنے شریک پر پیش کرے کیونکہ وہ اس کو قیمت کے ساتھ لینے کا زیادہ حق دار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6222

۔ (۶۲۲۲)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ شَرِیْکًا فِیْ رَبْعَۃٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَیْسَ لَہُ أَنْ یَبِیْعَ حَتّٰییُؤْذِنَ شَرِیْکَہَ فَاِنْ رَضِیَ أَخَذَ وَاِنْ کَرِہَ تَرَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۹۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی کے گھر میںیا کھجور میں شریک ہو تو اس کے لئےیہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریک کو بتلائے بغیر اپنے حصے کو فروخت کر دے، (اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنے شریک کو بتائے)، اگر وہ پسند کرے تو لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6223

۔ (۶۲۲۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشُّفْعَۃُ فِیْ کُلِّ شِرْکٍ رَبْعَۃٍ أَوْ حَائِطٍ، لَا یَصْلُحُ لَہُ أَنْ یَبِیْعَ حَتّٰییُؤْذِنَ شَرِیْکَہُ، فَاِنْ بَاعَ فَہُوَ اَحَقُّ بِہٖحَتّٰییُؤْذِنَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ساجھی چیز میں شفعہ ہے، وہ گھر ہو یا باغ، ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو فروخت کر دے، یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اس سے آگاہ کرے، اگر وہ شریک کو بتلائے بغیر فروخت کر دیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس کو خبر دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6224

۔ (۶۲۲۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالشُّفْعَۃِ بَیْنَ الشُّرَکَائِ فِی الْأَرْضِیْنَ وَالدُّوْرِ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمینوں اور گھروں میں شرکاء کے درمیان حق شفعہ کا فیصلہ دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6225

۔ (۶۲۲۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۴۸)
۔ سیدنا سمرہ بن جناب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھر کا ہمسایہ دوسروں کی بہ نسبت گھر خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6226

۔ (۶۲۲۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَارُ اَحَقُّ بِشُفْعَۃِ جَارِہِ یُنْتَظَرُ بِہَا وَإِنْ کَانَ غَائِبًا، إِنْ کَانَ طَرِیْقُہُمَا وَاحِداً۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۰۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمسایہ اپنے ہمسائے کے شفعہ (فروخت کیے جانے والے حصہ) کازیادہ حقدار ہے، اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا، لیکنیہ زیادہ حق اس وقت ہو گا، جب ان کا راستہ ایک ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6227

۔ (۶۲۲۷)۔ عَنِ الشُّرَیْدِ بْنِ سُوَیْدِ نِ الثَّقَفِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۸۸)
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی دوسروں کے بہ نسبت اس گھر کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6228

۔ (۶۲۲۸)۔ عَنِ الْحَکَمِ عَمَّنْ سَمِعَ عَلِیًّا وَابْنَ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلَانِ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْجِوَارِ۔ (مسند احمد: ۹۲۳)
۔ سیدنا علی اور عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑوس کے حق کی بنا پر فیصلہ کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6229

۔ (۶۲۲۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ عَنْ اَبِیْہِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضٌ لَیْسَ لِأَحَدٍ فِیْہَا شِرْکٌ وَلَا قَسْمٌ اِلَّا الْجِوَارَ، قَالَ: ((الْجَارُ اَحَقُّ بِسَقَبِہِ مَاکَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۰۶)
۔ سیدنا شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ایک زمین ہے، اس میں نہ تو کسی کی شراکت ہے اور نہ کسی کا کوئی حصہ ہے، البتہ صرف ہمسائی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے، وہ چیز جو بھی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6230

۔ (۶۲۲۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ عَنْ اَبِیْہِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضٌ لَیْسَ لِأَحَدٍ فِیْہَا شِرْکٌ وَلَا قَسْمٌ اِلَّا الْجِوَارَ، قَالَ: ((الْجَارُ اَحَقُّ بِسَقَبِہِ مَاکَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۰۶)
۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے چیز خریدنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6231

۔ (۶۲۳۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ مَا لَمْ یُقْسَمْ فَاِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَـلَا شُفْعَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۶۳)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز میں شفعہ کے حق کا فیصلہ دیا ہے جس کو تقسیم نہ کیا گیا ہو، جب کسی چیز کی حد بندی ہو جاتی ہے اور راستے الگ الگ کر لیے جاتے ہیں تو شفعہ کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔

آیت نمبر