MUSNAD AHMED

Search Results(1)

102)

102) شفعہ کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6232

۔ (۶۲۳۲)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ اَبِیْہِ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ضَالَّۃِ رَاعِی الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((ھِیَ لَکَ أَوْ لِلذِّئْبِ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا تَقُوْلُ فِیْ ضَالَّۃِ رَاعِی الْإِبِلِ؟ قَالَ: ((وَمَا لَکَ وَلَھَا، مَعَہَا سِقَاؤُھَا وَحِذَاؤُھَا وَتَأْکُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَا تَقُوْلُ فِی الوَّرِقِ اِذَا وَجَدْتُہَا؟ قَالَ: ((اعْلَمْ وِعَائَ ھَا وَوِکَائَ ھَا وَعَدَدَھَا ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً، فَاِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَاِلَّا فَہِیَ لَکَ أَوِ اسْتَمْتِعْ بِہَا أَوْ نَحْوَ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۶۳)
۔ سیدنا زید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے یا کسی آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے، یا پھر بھیڑیے کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گم شدہ اونٹ کے بارے میںآپ کیا فرمائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے تیرا کیا تعلق ہے، اس کا پینا اور جوتا اس کے پاس ہے اور وہ درختوں سے چرتا رہے گا (یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا)۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے گم شدہ چاندی مل جائے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی، بندھن اور اس کی تعداد کی معلوم کر لے اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو گی،یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ وگرنہ تو اس سے فائدہ اٹھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6233

۔ (۶۲۳۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلُقْطَۃٍ، فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا سَنَۃً۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۸۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک دیہاتی گری پڑی ایک چیز لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6234

۔ (۶۲۳۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ضَالَّۃِ الْإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ وَقَالَ: ((مَالَکَ وَلَھَا، مَعَہَا الْحِذَائُ وَالسِّقَائُ، تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتّٰییَجِیْئَ رَبُّہَا۔)) وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّۃِ الْغَنَمِ فَقَالَ: ((خُذْھَا فَإِنَّمَا ھِیَ لَکَ أَوْ لِأَخِیْکَ أَوْ لِلذِّئْبِ۔)) وَسُئِلَ عَنِ اللُّقْطَۃِ، فَقَالَ: ((اِعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ھَا، ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَاِلَّا فَخَالِطْہَا بِمَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۷۶)
۔ (تیسری سند) سیدنا زید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں آ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رخسار سرخ ہوگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا جوتا اور پینا موجود ہے، وہ پانی پر وارد ہوتا رہے گا اور درختوں سے چرتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ صرف تیرے لیے ہو گی،یا تیرے بھائی کے لیے،یا بھیڑیئے کے لیے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کسی دوسری گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لے، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر مالک کا پتہ چل جائے تو ٹھیک، وگرنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6235

۔ (۶۲۳۵)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَیْنَۃَیَسْأَلُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جِئْتُ أَسْأَلُکَ عَنِ الضَّالَّۃِ مِنَ الْاِبِلِ؟ قَالَ: ((مَعَہَا حِذَاؤُھَا وَسِقَاؤُھَا تَأْکُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَائَ فَدَعْہَا حَتّٰییَأْتِیَہَا بَاغِیْہَا۔)) قَالَ: الضَّالَۃُ مِنَ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((لَکَ أَوْ لِأَخِیْکِ أَوْ لِلذِّئْبِ، تَجْمَعُہَا حَتّٰییَأْتِیَہَا بَاغِیْہَا۔)) قَالَ: الْحَرِیْسَۃُ الَّتِیْ تُوْجَدُ فِیْ مَرَاتِعِہَا؟ قَالَ: بِہَا ثَمَنُہَا مَرَّتَیْنِ وَضَرْبُ نَکَالٍ، وَمَا اُخِذَ مِنْ عَطَنِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالثِّمَارُ وَمَا أُخِذَ مِنْہَا فِیْ أَکْمَامِہَا؟ قَالَ: ((مَنْ أَخَذَ بِفَمِہِ وَلَمْ یَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ وَمَنِ احْتَمَلَ، عَلَیْہِ ثَمَنُہُ مَرَّتَیْنِ وَضَرْبًا وَنَکَالًا، وَمَا اَخَذَ مِنْ اَجْرَانِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ مَا یُؤْخَذُ مِنْ ذٰلِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللُّقْطَۃُ نَجِدُھَا فِیْ سَبِیْلِ الْعَامِرَۃِ؟ قَالَ: ((عَرِّفْہَا حَوْلًا فَإِنْ وَجَدَ بَاغِیْہَا فَأَدِّھَا إِلَیْہِ وَاِلَّا فَہِیَ لَکَ۔)) قَالَ: مَا یُوْخَذُ فِی الْخَرِبِ الْعَادِیِّ؟ قَالَ: ((فِیْہِ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ اونٹ کا حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چونکہ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے پاس موجود ہے، پس وہ درختوں سے چرتا رہے گا اور پانی پیتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا، اس لیے تو اس کو چھوڑ دے۔ اس نے کہا: گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے ہے یا پھر بھیڑیئے کے لیے، اس لیے اس کو اپنے پاس رکھ لے، یہاں تک کہ اس کا تلاش کرنے والا آ جائے۔ اس نے کہا: اس بکری کا کیا حکم ہے، جس کو چراگاہ سے چرا لیا گیا ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنا قیمت لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ سزا بھی دی جائے گی اور جو چیز اونٹوں کے باڑے سے چرا لی جائے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھل کے متعلق کیا حکم ہے، نیز جو پھل شگوفوں سے ہی کھا لیا جائے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے وہیں (باغ میں) کھا لیا اور کپڑے میں اٹھا کر نہ لے گیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، لیکن جو آدمی پھل اٹھا کر لے گیا، اس نے اس کی دو گنا قیمت ادا کرنا ہو گی اور اس کو سزا بھی دی جائے گی، لیکن جو چیز (کھلیانوں جیسے) محفوظ مقامات سے اٹھا لی جائے گی اور وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو گی تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شارع عام میں گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر اس کو تلاش کرنے والا مالک مل جائے تو اس کو دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو جائے گی۔ اس نے کہا:جو چیز ویران ہو جانے والے قدیم مقام سے ملے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6236

۔ (۶۲۳۶)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَیْدَ بْنَ غَفْلَۃَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ زَیْدِ بْنِ صُوْحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِیْعَۃَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَاَخَذْتُہُ فَقَالَا لِیْ: اطْرَحْہُ، فقُلْتُ: لَا وَلٰکِنْ اُعَرِّفُہُ فَإِنْ وَجَدْتُّ مَنْیَعْرِفُہُ وَاِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِہٖفَأَبَیَا عَلَیَّ وَأَبَیْتُ عَلَیْہِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا حَجَجْتُ فَأَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَذَکَرْتُ لَہُ قَوْلَھُمَا وَقَوْلِیْ لَھُمَا، فَقَالَ: وَجَدْتُّ صُرَّۃً فِیْہَا مِائَۃُ دِیْنَارٍ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ لَہُ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا حَوْلًا۔)) فَلَمْ اَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا حَوْلًا۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ وَلَا أَدْرِیْ قَالَ لَہُ ذٰلِکَ فِیْ سَنَۃٍ أَوْ فِیْ ثَلَاثِ سِنِیْنَ، فَقَالَ لَہُ فِیْ الرَّابِعَۃِ: ((اِعْرِفْ عَدَدَھَا وَوِکَائَھَا فَاِنْ وَجَدْتَّ مَنْ یَعْرِفُہَا وَاِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِہَا۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِیَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فِیْ حَدِیْثِہِ قَالَ: فَلَقِیْتُہُ بَعْدَ ذٰلِکَ بِمَکَّۃَ فَقَالَ: لَا أَدْرِیْ ثَلَاثَۃَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۸۶)
۔ سویدین بن غفلہ کہتے ہیں: میں نے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کی معیت میں غزوہ کیا، میں نے راستے میں ایک کوڑا پایا اور اس کو اٹھا لیا، لیکن انہوں نے مجھے کہا: یہ کوڑا پھینک دے، میں نے کہا: میں اسے نہیں پھینکوں گا، بلکہ اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کو پہچان لینے والے مالک کو پا لیا تو اسے دے دوں گا،وگرنہ خود استعمال کر لوں گا، ان دونوں نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے بھی ان سے اتفاق نہ کیا، جب ہم غزوہ سے واپس آئے اورمیں حج کے لئے گیا تو میں مدینہ منورہ گیا اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا اور ان کو اُن دونوں کی اور اپنی بات بتلائی، انھوں نے آگے سے کہا: عہد ِ نبوی کی بات ہے، مجھے سو دیناروں پر مشتمل ایک تھیلی ملی تھی، جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور اس کے بارے میں ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا، لیکن ایسا کوئی شخص نہ ملا جو اس تھیلی کو پہچانتا ہو، اس لیے میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ کوئی ایسا نہیں ملا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ تین دفعہ ایسے ہی ہوا، راوی کہتا ہے: میں نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک سال میں (اعلان کرنے کا) کہا تھا یا تین برسوں میں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوتھی مرتبہ مجھے فرمایا: ان دیناروں کی تعداد اور اس تھیلی کے تسمے کو ذہن نشین کرلے اور اگر اس بعد اس کو پہچاننے والے کو پا لے تو اسے دے دینا، وگرنہ اس سے خود فائدہ اٹھا لینا۔ یہ الفاظ یحییٰ بن سعید کی حدیث کے ہیں، محمد بن جعفر نے اپنی بیان کردہ حدیث میں کہاہے کہ سیدنا شعبہ کہتے ہیں میں اس کے بعد سلمہ بن کہیل کو مکہ میں ملا اوران سے پوچھا تو انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تین سال مراد ہیںیا ایک سال میں تین دفعہ اعلان کرنا مراد ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6237

۔ (۶۲۳۷)۔ (وَفِیْ لَفْظٍ آخَرَ) مِنْ طَرِیْقِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ: ((فَعَرِّفْہَا عَامَیْنِ أَوْثلَاثَۃً۔)) قَالَ: ((اعْرِفْ عَدَدَھَا وَوِعَائَھَا وَوِکَائَھَا وَاسْتَمْتِعْ بِہَا، فَاِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَعَرَفَ عِدَّتَہَا وَوِکَائَ ھَا فَأَعْطِہَا اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۸۹)
۔ (دوسری سند) حماد بن سلمہ سے مروی ہے کہ سلمہ بن کہیل نے اپنی روایت کو اس طرح بیان کیا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’دو یا تین سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر فرمایا: وگرنہ اس چیز کی تعداد،تھیلی اور تسمے کو ذہن نشین کر لو اور اس سے فائدہ اٹھائو، اگر بعد میں اس کامالک آگیا اور اس کی تعداد اورتسمے کو پہنچان لیا تو اس کو دے دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6238

۔ (۶۲۳۸)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: اِلْتَقَطْتُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِائَۃَ دِیْنَارٍ فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا سَنَۃً۔)) فَعَرَّفْتُہَا سَنَۃً، ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَقُلْتُ: قَدْ عَرَّفْتُہَا سَنَۃً، فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا سَنَۃً اُخْرٰی۔)) فَعَرَّفْتُہَا سَنَۃً اُخْرٰی ثُمَّ أَتَیْتُہُ فِیْ الثَّالِثَۃِ فَقَالَ: ((أَحْصِ عَدَدَھَا وَوِکَائَھَا وَاسْتَمْتِعْ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۸۸)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں میں نے سو دینار اٹھا لیے (جوکہ کسی کے گم ہوئے تھے) اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر عرض کی کہ میں نے ایک سال اس کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ پس میں نے مزید ایک سال اعلان کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میں نے مزید ایک سال تک اعلان کر دیا ہے، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم ان کی تعداد شمار کر لو اور اس کا تسمہ پہچان لو اور ان سے فائدہ حاصل کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6239

۔ (۶۲۳۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ آوٰی ضَالَّۃً فَہُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ یُعَرِّفْہَا)) (مسند احمد: ۱۷۱۸۱)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص گم شدہ چیز اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے اور اس کا اعلان نہیں کرتا، وہ گمراہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6240

۔ (۶۲۴۰)۔ عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ اَبِی جَرِیْرٍ بِالْبَوَازِیْجِ فِی السَّوَادِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فرَأَی بقَرَۃً اَنْکَرَھَا فَقَالَ: مَاھٰذِہِ الْبَقَرَۃُ؟ قَالَ: بَقَرَۃٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ فَأَمَرَ بِہَا فَطُرِدَتْ حَتّٰی تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَأْوِی الضَّالَّۃَ اِلَّا ضَالٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۲)
۔ عبد اللہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بوازیج مقام پر اپنے باپ سیدنا ابو جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھا، اتنے میں ایک گائے چراگاہ کی طرف نکل آئی، جب انھوں نے یہ گائے دیکھی اور اس کی شناخت نہ کی تو کہا: یہ گائے کہاں سے آ گئی ہے؟ میں نے کہا: یہ ہماری گائیوں کے ساتھ مل گئی ہے، لیکن انھوں نے حکم دیا کہ اس کو دھتکار دیا جائے، پس ایسے ہی کیا گیا،یہاں تک کہ وہ چھپ گئی ، پھر انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی آدمی گم شدہ جانور کو اپنے گھر میں جگہ دیتا ہے، جو گمراہ ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6241

۔ (۶۲۴۱)۔ عَنِ الْجَارُوْدِ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ اَسْفَارِہِ وَفِی الظَّہْرِ قِلَّۃٌ اِذْ تَذَاکَرَ الْقَوْمُ الظَّہْرَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ عَلِمْتُ مَایَکْفِیْنَا مِنَ الظَّہْرِ، فَقَالَ: ((وَمَا یَکْفِیْنَا؟)) قُلْتُ: ذَوْدٌ نَاْتِیْ عَلَیْہِنَّ فِیْ جُرُفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُہُوْرِھِنَّ، قَالَ: ((لَا، ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَـلَا تَقْرَبَنَّہَا، ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَـلَا تَقْرَبَنَّہَا، ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَـلَا تَقْرَبَنَّہَا۔)) وَقَالَ فِی اللُّقَطَۃِ: ((الضَّالَّۃُ تَجِدُھَا فَانْشُدَنَّہَا وَلَا تَکْتُمُ وَلَا تُغَیِّبُ فَاِنْ عُرِفَتْ فَأَدِّھَا وَ اِلَّا فَمَالُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۳۴)
۔ سیدنا جارود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، سواریوں کی قلت تھی، لوگ سواریوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کر رہے تھے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہے کہ ہمیں سواریاں میسر آسکتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: (مدینہ منورہ کی) پانی کی بہاؤ والی جگہ میں اونٹ موجود ہیں، ہم ان پر سواری کرنے کا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ،مسلمان کا گم شدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گری پڑی چیز کے بارے میں ارشاد فرمایا: جب تو گم شدہ چیز پائے تو ضرور ضرور اس کا اعلان کر اور چھپا کے نہ رکھ اور نہ اس کو غائب کر، اگر وہ پہچان لیا جائے تو متعلقہ بندے کو ادا کر دے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6242

۔ (۶۲۴۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ: ((ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۳۸)
۔ سیدناجارود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس انداز سے بھی روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ جانوروں کے متعلق دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6243

۔ (۶۲۴۳)۔ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَوَامُّ الْاِبِلِ نُصِیْبُہَا؟ قَالَ: ((ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۲۳)
۔ مطرف انپے باپ سیدنا عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!: ہم گم شدہ اونٹوں کو پا لیتے ہیں، ان کا کیا حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کا گم شدہ جانور آگ کا شعلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6244

۔ (۶۲۴۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ لِلْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رُمْحٌ فَکُنَّا اِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزَاۃٍ خَرَجَ بِہٖمَعَہَفَیَرْکُزُہُ فَیَمُرُّ النَّاسُ عَلَیْہِ فَیَحْمِلُوْنَہُ، فَقُلْتُ: لَئِنْ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَأُخْبِرَنَّہُ، فَقَالَ: ((اِنَّکَ اِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک نیزہ تھا،جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جاتے تو سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسے ساتھ لے جاتے اور اسے گاڑھ دیتے اور قصداً چھوڑآتے، لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور اسے اٹھا لاتے۔ میں نے کہا: میں اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو میں اس کاروائی کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے (قصداً) ایسا کرنا شروع کر دیا تو گم شدہ چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6245

۔ (۶۲۴۵)۔ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ لُقَطَۃً فَلْیُشْہِدْ ذَوَیْ عَدْلٍ وَلْیَحْفَظْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ھَا، فَاِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَلَایَکْتُمْ وَھُوَ أَحَقُّ بِہَا، وَاِنْ لَمْ یَجِیئْ صَاحِبُہَا فَاِنَّہُ مَالُ اللّٰہِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۲۰)
۔ سیدنا عیاض بن حمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص گری پڑی چیز پاتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ انصاف والے دو آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور تسمے کی شناخت کر لے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس سے نہ چھپائے، کیونکہیہ اسی کا حق ہے اور اگر مالک نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، ادا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6246

۔ (۶۲۴۶)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ الْتَقَطَ لُقْطَۃًیَسِیْرَۃً دِرْھَمًا أَوْ حَبْلًا أَوْ شِبْہَ ذٰلِکَ فَلْیُعَرِّفْہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَاِنْ کَانَ فَوْقَ ذٰلِکَ فَلْیُعَرِّفْہُ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۰۹)
۔ سیدنایعلی بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو معمولی سی چیز گری پا لے، مثلا درہم، رسییا اس طرح کی کوئی اور چیز، تو وہ تین دنوں تک اس کا اعلان کرے، اور اگر اس سے قیمتی چیز پا لے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6247

۔ (۶۲۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا فِیْ فَضْلِ مَکَّۃَیَوْمَ فَتْحِہَا: ((لَا یُعْضَدُ شَجَرُھَا وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُھَا وَلَا تَحِلُّ لُقُطَتُہَا اِلَّا لِمُنْشِدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۲۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن مکہ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے، مگر اعلان کرنے والے کے لیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6248

۔ (۶۲۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ فَضْلِ مَکَّۃَ: ((إِنَّ ھٰذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ: ((وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہُ وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہُ اِلَّا لِمُعَرِّفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فضائل مکہ کے موضوع پر روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے۔ پھر راوی نے ساری حدیث بیان کی ہے، اس میںیہ الفاظ بھی تھے: اس کے شکار کو بے قرار نہ کیا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے، البتہ اعلان کرنے والے کے لیے جائز ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6249

۔ (۶۲۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّیْمِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ لُقْطَۃِ الْحَاجِّ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۷)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان تیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حاجیوں کی گری ہوئی چیز اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔

آیت نمبر