MUSNAD AHMED

Search Results(1)

103)

103) گری پڑی چیز کی کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6250

۔ (۶۲۵۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَھَادَوْا فَاِنَّ الْھَدِیَّۃَ تُذْھِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ)) (مسند احمد: ۹۲۳۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو ہدیے دیا کرو، کیونکہ ہدیہ سینے کے کینے کو ختم کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6251

۔ (۶۲۵۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّھَا سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنَّ لِیْ جَارَیْنِ فَاِلٰی اَیِّھِمَا اُھْدِیْ؟ قَالَ: ((اَقْرَبِھِمَا مِنْکِ بَابًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۳۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے دو پڑوسی ہیں، میں کس کو ہدیہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6252

۔ (۶۲۵۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ آتَاہُ اللّٰہُ مِنْ ھٰذَا الْمَالِ شَیْئًا مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّسْاَلَہٗ، فَلْیَقْبَلْہُ فَاِنَّمَا ھُوَ رِزْقٌ سَاقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کو اس مال میں سے کچھ دے دے، جب کہ اس نے کسی سے سوال نہ کیا ہو تو وہ قبول کر لے، کیونکہ وہ ایسارزق ہے، جو اللہ تعالی نے اس کو عطا کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6253

۔ (۶۲۵۳)۔ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَرَضَ لَہُ شَیْء ٌ مِنْ ہٰذَا الرِّزْقِ مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْیُوَسِّعْ بِہِ فِی رِزْقِہِ فَإِنْ کَانَ عَنْہُ غَنِیًّا فَلْیُوَجِّہْہُ إِلٰی مَنْ ہُوَ أَحْوَجُ إِلَیْہِ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۲۴)
۔ سیدنا عائذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو سوال اور حرص کے بغیریہ رزق مل جائے تو وہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں وسعت پیدا کرے، پھر اگر وہ غنی ہو تو یہ مال ایسے شخص کو دے دے، جو اس سے زیادہ محتاج ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6254

۔ (۶۲۵۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ آتَاہُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رِزْقًا مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ فَلْیَقْبَلْہُ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَأَلْتُ أَبِی مَا الْإِشْرَافُ؟ قَالَ: تَقُولُ فِی نَفْسِکَ سَیَبْعَثُ اِلَیَّ فُلَانٌ، سَیَصِلُنِیْ فُلَانٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کو بن مانگے رزق عطا کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اس کو قبول کر لے۔ عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ امام احمد سے سوال کیا: اشراف سے کیا مراد ہے؟ انھو ں نے کہا: تیرا اپنے دل میںیہ کہنا کہ فلاں آدمی میری طرف کوئی چیز بھیجے گا، فلاں آدمی (مجھے کوئی چیز دے کر) میرے ساتھ صلہ رحمی کا ثبوت دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6255

۔ (۶۲۵۵)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِیٍّ الْجُہَنِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ بَلَغَہُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِیہِ مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْیَقْبَلْہُ وَلَا یَرُدَّہُ فَإِنَّمَا ہُوَ رِزْقٌ سَاقَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۰۱)
۔ سیدنا خالد بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو سوال اور حرص کے بغیر اپنے بھائی کی طرف سے کوئی مال مل جائے، تو وہ اس کو قبول کر لے اور اس کو ردّ نہ کرے، کیونکہ وہ ایسا رزق ہے، جو اللہ تعالی نے اس کو عطا کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6256

۔ (۶۲۵۶)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ مَنَحَ مَنِیحَۃً وَرِقًا أَوْ ذَہَبًا أَوْ سَقٰی لَبَنًا أَوْ أَہْدٰی زُقَاقًا فَہُوَ کَعَدْلِ رَقَبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۹۳)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چاندییا سونے کا عطیہ دیا،یا دودھ پلایا،یا کسی (اندھے اور راہ بھولے ہوئے) کی رہنمائی کر دی تو وہ ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6257

۔ (۶۲۵۷)۔ عَنِ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَمَنْ مَنَحَ مَنِیحَۃَ لَبَنٍ أَوْ مَنِیحَۃَ وَرِقٍ أَوْ ہَدَی زُقَاقًا فَہُوَ کَعِتْقِ رَقَبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۶۸)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دودھ کا عطیہ دیا، چاندی کا عطیہ دیا،یا (نابینے اور راہ بھولے وغیرہ کو) راستہ کی رہنمانی کر دی تو وہ ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6258

۔ (۶۲۵۸)۔ عَنْ أَبیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اُھْدِیَتْ اِلَیَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِیْتُ اِلٰی کُرَاعٍ لَاَجَبْتُ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ: ((لَوْ أُھْدِیَتْ اِلَیَّ ذِرَاعٌ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مجھے گوشت کی دستی (پنڈلی سے اوپر والا حصہ) تحفہ میں دیا جائے تو میں اس کو قبول کروں گا، اور اگر مجھے پنڈلی کے پتلے حصے کی طرف دعوت دی جائے تو میں اس کو قبول کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6259

۔ (۶۲۵۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: ثَارَتْ اَرْنَبٌ فَتَبِعَھَا النَّاسُ، فَکُنْتُ فِیْ اَوَّلِ مَنْ سَبَقَ اِلَیْھَا فَاَخَذْتُھَا فَاَتَیْتُ بِھَا اَبَا طَلْحَۃَ، قَالَ: فَاَمَرَ بِھَا فَذُبِحَتْ ثُمَّ شَوَیْتُ، قَالَ: ثُمَّ اَخَذَ عَجُزَھَا، فَقَالَ: اِئْتِ بِہٖرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،قَالَ: فَاَتَیْتُہٗ بِہٖ،قَالَ: قُلْتُ: اِنَّاَبَاطَلْحَۃَ اَرْسَلَ اِلَیْکَ بِِعَجُزِ ھٰذِہِ الْاَرْنَبِ، قَالَ: فَقَبِلَہٗمِنِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۶۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خرگوش بھاگا اور لوگ اس کے پیچھے دوڑے، میں اس کی طرف پہلا سبقت لے جانے والا آدمی تھا، پس میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، انھوں نے حکم دیا، پس اس کو ذبح کیا گیا، پھر میں نے اس کو بھونا، پھر انھوں نے اس کا نصف پچھلا حصہ پکڑا اور کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جاؤ، پس میں وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آیا اور کہا: بیشک سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خرگوش کا یہ پچھلا حصہ آپ کی طرف بھیجا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے قبول کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6260

۔ (۶۲۶۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنْفَجْنَا اَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّھْرَانِ، قَالَ: فَسَعٰی عَلَیْھَا الْغِلْمَانُ حَتّٰی لَغِبُوْ، قَالَ: فَاَدْرَکْتُھَا فَاَتَیْتُ بِھَا اَبَا طَلْحَۃَ فَذَبحَھَا، ثُمَّ بَعَثَ مَعِیَ بِوَرِکِھَا اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَبِلَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۰۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس کہتے ہیں: ہم نے مر الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو بھگایا، لڑکے اس کو پکڑنے کے لیے دوڑے، لیکن وہ تھک گئے اور میں نے اس کو پکڑ لیا اور سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لے کر آیا، انھوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا سرین مجھے دے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو قبول کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6261

۔ (۶۲۶۱)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ اُخْتِیْ تَبْعَثُنِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْھَدِیَّۃِ فَیَقْبَلُھَا۔ (مسند احمد: ۱۷۸۳۹)
۔ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن مجھے ہدیہ دے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھیجتی تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو قبول کر لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6262

۔ (۶۲۶۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗکَانَیَقْبَلُ الْھَدِیَّۃَ، وَلَا یَقْبَلُ الصَّدَقَۃَ۔ (مسند احمد: ۸۶۹۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہدیہ قبول کرلیتے تھے اور صدقہ قبول نہیں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6263

۔ (۶۲۶۳)۔ عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۲۴۱۰۴)
۔ سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6264

۔ (۶۲۶۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۷۸۴۰)
۔ سیدنا عبدا للہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6265

۔ (۶۲۶۵)۔ عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِلَحْمٍ فَقِیْلَ لَہٗ: اِنَّہٗقَدْتُصُدِّقَبِہٖعَلٰی بَرِیْرَۃَ، فَقَالَ: ((ھُوَ لَھَا صَدَقَۃٌ وَھُوَ لَنَا ھَدِیَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۳۹۶۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا گیا کہ یہ تو بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6266

۔ (۶۲۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ: اَنَّ اِمْرَاۃً اَھْدَتْ لَھَا رِجْلَ شَاۃٍ تُصُدِّقَتْ عَلَیْھَا بِھَا، فَاَمَرَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَن تَقْبَلَھَا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۶۳)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے بکری کی ایک ٹانگ ان کو تحفے میں دی،یہ ٹانگ اس خاتون پر صدقہ کی گئی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس کو قبول کر لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6267

۔ (۶۲۶۷)۔ عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ: بَعَثَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَاۃٍ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَبَعَثْتُ اِلٰی عَائِشَۃَ بِشَیْئٍ مِنْھَا فَلَمَّا جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی عَائِشَۃَ قَالَ: ((ھَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالَتْ: لَا، اِلَّا اَنَّ نُسَبَیْبَۃَ بَعَثَتْ اِلَیْنَا مِنَ الشَّاۃِ الَّتِیْ بَعَثْتُمْ بِھَا اِلَیْھَا، فَقَالَ: ((اِنَّھَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّھَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۴۴)
۔ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ کی ایک بکری ان کی طرف بھیجی اور انھوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف بھیج دیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو انھوں نے کہا: جی نہیں، البتہ نسیبہ (یعنی ام عطیہ) نے اس بکری کا ایک حصہ بھیجا ہے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک وہ اپنے محل تک پہنچ چکی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6268

۔ (۶۲۶۸)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا اُتِیَ بِطَعَامٍ مِنْ غَیْرِ اَھْلِہٖسَأَلَہٗعَنْہُ،فَاِنْقِیْلَ: ھَدِیَّۃٌ، اَکَلَ، وَاِنْ قِیْلَ: صَدَقَۃٌ، قَالَ: ((کُلُوْا۔)) وَلَمْ یَأْکُلْ۔ (مسند احمد: ۹۲۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا لایا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بارے میں سوال کرتے، پس اگر کہا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھا لیتے، اور اگر کہا جاتا ہے کہ صدقہ ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: تم لوگ کھا لو۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود نہ کھاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6269

۔ (۶۲۶۹)۔ عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖعَنِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۲۰۳۱۳)
۔ بہز بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادے سے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6270

۔ (۶۲۷۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: أَہْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَۃَ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَبَنًا، فَلَمْ تَجِدْہُ، فَقَالَتْ لَہَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہٰی أَنْ یُؤْکَلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ فَقَالَ: ((مَا ہَذَا مَعَکِ یَا أُمَّ سُنْبُلَۃَ۔)) قَالَتْ: لَبَنًا أَہْدَیْتُ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ! قَالَ: ((اُسْکُبِی أُمَّ سُنْبُلَۃَ!)) فَسَکَبَتْ فَقَالَ: ((نَاوِلِی أَبَا بَکْرٍ۔)) فَفَعَلَتْ، فَقَالَ: ((اُسْکُبِی أُمَّ سُنْبُلَۃَ!)) فَسَکَبَتْ فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَرِبَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ وَرَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ وَأَبْرَدَہَا عَلَی الْکَبِدِ یَا رَسُولَ اللَّہِ! کُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّکَ قَدْ نَہَیْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ؟ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! إِنَّہُمْ لَیْسُوا بِالْأَعْرَابِ، ہُمْ أَہْلُ بَادِیَتِنَا وَنَحْنُ أَہْلُ حَاضِرَتِہِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَیْسُوا بِالْأَعْرَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۲۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سنبلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے دودھ کا تحفہ لے کر آئیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھر پر نہ پایا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو ہمیں بدّو لوگوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! یہ تیرے پاس کیا ہے ؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ ہے، آپ کے لیے بطورِ تحفہ لائی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اس کو پیالے میں ڈالو۔ انھوں نے اس کو پیالے میں ڈالا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو پکڑاؤ۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اور ڈالو۔ انھوں نے اور ڈالا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرمایا، جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دودھ پی رہے ہیں اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کلیجے کو کتنا ہی ٹھنڈا کر رہا ہے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے تو یہ بات بیان کی گئی تھی کہ آپ نے بدوؤں کے کھانے سے منع فرمایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ لوگ بدّو نہیںہیں،یہ ہمارے شہر کے متصل بیرونی علاقے سے ہیں اور ہم ان کے شہر سے ہیں، جب ان لوگوں کو (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مسلمانوں کے امور کے لیے) بلایا جاتا ہے تو یہ جواب دیتے ہیں ، یہ بدّو نہیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6271

۔ (۶۲۷۱)۔ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ، فَقَالَ: ((ہَلْ مِنْ طَعَامٍ؟)) قُلْتُ؟ لَا إِلَّا عَظْمًا أُعْطِیَتْہُ مَوْلَاۃٌ لَنَا مِنْ الصَّدَقَۃِ، قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَقَرِّبِیہِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۶۵)
۔ سیدہ جویریہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اورفرمایا: کیا کوئی کھانا ہے؟ میں نے کہا: جی کچھ نہیں ہے، البتہ (گوشت والی) وہ ہڈی ہے، جو ہماری لونڈی پر صدقہ کی گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لاؤ، میرے قریب کرو، صدقہ اپنے محل تک پہنچ چکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6272

۔ (۶۲۷۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْبَلُ الْھَدِیَّۃَ وَیُثِیْبُ عَلَیْھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۰۹۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہدیہ قبول کرتے اور پھر اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6273

۔ (۶۲۷۳)۔ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاء َ قَالَتْ: أَہْدَیْتُ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِنَاعًا مِنْ رُطَبٍ وَأَجْرٍ زُغْبٍ، قَالَتْ: فَأَعْطَانِی مِلْء َ کَفَّیْہِ حُلِیًّا أَوْ قَالَ ذَہَبًا فَقَالَ تَحَلَّیْ بِہٰذَا۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((وَاکْتَسِیْ بِھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۳)
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھجوروں اور چھوٹے کھیروں کی ایک طشتری دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زیوریا سونے کے دو چلو بھر کر مجھے دیئے اور فرمایا: اس سے زینت حاصل کر۔ ایک روایت میں ہے: اس کو پہن۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6274

۔ (۶۲۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِیًّا وَہَبَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہِبَۃً فَأَثَابَہُ عَلَیْہَا قَالَ: ((رَضِیتَ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ فَزَادَہُ، قَالَ: ((رَضِیتَ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: فَزَادَہُ قَالَ: ((رَضِیتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّہِبَ ہِبَۃً إِلَّا مِنْ قُرَشِیٍّ أَوْ أَنْصَارِیٍّ أَوْ ثَقَفِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۷)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی چیز ہبہ کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس کا بدلہ دیا اورفرمایا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو زیادہ دیا اور پھر پوچھا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو مزید کوئی چیز دی اور فرمایا: اب راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ہبہ قبول نہ کروں، مگر قریشی سے یا انصاری سے یا ثقفی سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6275

۔ (۶۲۷۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ مَلِکَ ذِیْ یَزَنَ اَھْدٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُلَّۃً قَدْ اَخَذَھَا بِثَلَاثَۃٍ وَّ ثَلَاثِیْنَ بَعِیْرًا اَوْ ثَلَاثٍ وَّ ثَلَاثِیْنَ نَاقَۃً اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۴۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اُعْطِیَ عَطَائً فَوَجَدَ فَلْیَجْزِ بِہٖ،فَاِنْلَّمْیَجِدْ فَلْیُثْنِ بِہٖ،فَمَنْاَثْنٰی بِہٖفَقَدْشَکَرَہٗوَمَنْکَتَمَہٗفَقَدْکَفَرَہٗ۔)) جسکوکوئی چیز دی جائے اور وہ بدلہ دینے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ بدلہ دے، اگر اسے اتنی طاقت نہ ہو تو وہ اس کی تعریف کر دے، جس نے تعریف کی، اس نے شکر ادا کیا اور جس نے اس کو چھپایا، اس نے ناشکری کی۔ (ابوداود: ۴۸۱۳، ترمذی: ۲۰۳۴)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6276

۔ (۶۲۷۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ مَلِکَ الرُّومِ أَہْدٰی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْتَقَۃً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَہَا وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰییَدَیْہَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِہِمَا فَجَعَلَ الْقَوْمُ یَقُولُونَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أُنْزِلَتْ عَلَیْکَ ہٰذِہِ مِنَ السَّمَائِ؟ فَقَالَ: ((وَمَا یُعْجِبُکُمْ مِنْہَا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! إِنَّ مَنْدِیلًا مِنْ مَنَادِیلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنْہَا۔)) ثُمَّ بَعَثَ بِہَا إِلَی جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ فَلَبِسَہَا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَمْ أُعْطِکَہَا لِتَلْبَسَہَا۔)) قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ بِہَا؟ قَالَ: ((أَرْسِلْ بِہَا إِلَی أَخِیکَ النَّجَاشِیِّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ذو یزن بادشاہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفے میں ایک ایسی پوشاک پیش کی، جو اس نے تینتیس (۳۳) اونٹوں (یا اونٹوں) کے عوض لی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6277

۔ (۶۲۷۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَھْدٰی کِسْرٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَبِلَ مِنْہُ وَاَھْدٰی لَہٗقَیْصَرُ فَقَبِلَ مِنْہُ، وَاَھْدَتْ لَہُ الْمُلُوْکُ فَقَبِلَ مِنْھُمْ۔ (مسند احمد: ۷۴۷)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کہ کسری نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہدیہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے قبول کیا، قیصر نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے قبول کیا اور دوسرے بادشاہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفے دیئے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبول فرمائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6278

۔ (۶۲۷۸)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَدِمَتْ قُتَیْلَۃُ ابْنَۃُ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حَسَلٍ عَلَی ابْنَتِہَا أَسْمَاء َ ابْنَۃِ أَبِی بَکْرٍ بِہَدَایَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ وَہِیَ مُشْرِکَۃٌ فَأَبَتْ أَسْمَائُ أَنْ تَقْبَلَ ہَدِیَّتَہَا وَتُدْخِلَہَا بَیْتَہَا فَسَأَلَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ} إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ فَأَمَرَہَا أَنْ تَقْبَلَ ہَدِیَّتَہَا وَأَنْ تُدْخِلَہَا بَیْتَہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۱۰)
۔ عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں: قتیلہ بنت عبد العزی ضب، پنیر اور گھی کے ہدیے لے کر اپنی بیٹی سیدہ اسماء بنت ِ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئی ، جبکہ وہ مشرک خاتون تھی، سو سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کے تحائف قبول کرنے سے اور اس کو اپنے گھر داخل کرنے سے انکار کر دیا، جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔}… جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ اچھا برتاؤ کرنے سے اللہ تعالی تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ ممتحنۃ: ۸) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ اسماء کو حکم دیا کہ وہ اپنی ماں کے تحفے قبول کرے اور اس کو اپنے گھر میں داخل کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6279

۔ (۶۲۷۹)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّـہِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ حَکِیْمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ: کَانَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَبَّ رَجُلٍ فِیْ النَّاس إِلیَّ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ شَہِدَ حَکِیْمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ وَھُوَ کَافِرٌ فَوَجَدَ حُلَّۃً لِذِیْیَزَنَ تُبَاعُ فَاشْتَرَاھَا بِخَمْسِیْنَ دِیْنَارًا لِیُہْدِیَہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فقَدِمَ بِہَا عَلَیْہِ الْمَدِیْنَۃَ فَأَرَادَہُ عَلٰی قَبْضِہَا ھَدِیَّۃً فَاَبٰی، قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ: حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّا لَانَقْبَلُ شَیْئًا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَلَکِنْ اِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاھَا بِالثَّمَنِ۔)) فَأَعْطَیْتُہُ حِیْنَ اَبٰی عَلَیَّ الْھَدِیَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۹۷)
۔ سیدنا عراک بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دورِ جاہلیت میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمام لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو حکیم بن حزام حج میں شریک ہوئے تھے، لیکن ابھی تک وہ کافر تھے، انھوں نے دیکھا کہ ذییزن کا حلہ فروخت کیا جا رہا تھا، حکیم نے اس مقصد کے لیے وہ خرید لیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا جائے، پس وہ یہ لے کر مدینہ منورہ آئے اور ان کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطور ہدیہ پیش کریں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ لینے سے انکار کر دیا۔ عبید اللہ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم مشرکوں کا تحفہ قبول نہیں کرتے، ہاں اگر تو چاہتا ہے تو ہم اس کو قیمت کے عوض خرید لیتے ہیں۔ پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطورِ ہدیہ قبول کرنے سے انکار کیا تو میں نے قیمت کے عوض دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6280

۔ (۶۲۸۰)۔ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشَعِیِّ وَکَانَتْ بَیْنَہُ وَ بَیْنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعْرِفَۃٌ قَبْلَ أَنْ یُبْعَثَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَھْدٰی لَہُ ھَدِیَّۃً، قَالَ: أَحْسِبُہَا إِبِلًا فَاَبٰی أَنْ یَقْبَلَہَا وَقَالَ: ((إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِکِیْنَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: مَا زَبْدُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ قال: رِفْدُھُمْ، ھَدِیَّتُہُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۲۱)
۔ حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ عیاض بن حماد مجاشعی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان بعثت سے پہلے جان پہچان تھی، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نبوت ملی تو عیاض نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک تحفہ دیا، میرا خیال ہے کہ وہ اونٹ کی صورت میں تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اورفرمایا: ہم مشرکوں کاہدیہ قبول نہیں کرتے۔ میں ابن عون نے کہا: مشرکوں کے زَبْد سے کیا مراد ہے؟ حسن بصری نے کہا: ان کے تحفے اور عطیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6281

۔ (۶۲۸۱)۔ عَنْ ذِی الْجَوْشَنِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَھْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِیْیُقَالُ لَھَا: الْقَرْحَائُ، فَقُلْتُ: یَا مُحَمَّدُ! إِنِّیْ قَدْ جِئْتُکَ بِاِبْنِ الْعَرْجَائِ لِتَتَّخِذَہُ قَالَ: ((لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ، وَلٰکِنْ إِنْ شِئْتَ أَنْ أَقِیْضَکَ بِہِ الْمُخْتَارَۃَ مِنْ دُرُوْعِ بَدْرٍ، فَعَلْتُ۔)) فَقُلْتُ: مَاکُنْتُ لِأَقِیْضَکَ الْیَوْمَ بِغُرَّۃٍ، قَالَ: ((فَلا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا ذَا الْجَوْشَنِ! اَلَا تُسْلِمُ فَتَکُوْنَ مِنْ أَوَّلِ ھٰذَا الْأَمْرِ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((لِمَ؟)) قُلْتُ: إِنِّیْ رَأَیْتُ قَوْمَکَ قَدْ وَلَعُوْا بِکَ، قَالَ: ((فَکَیْفَ بَلَغَکَ عَنْ مَصَارِعِہِمْ بِبَدْرٍ؟)) قَالَ: قُلْتُ: بَلَغَنِیْ اَنْ تَغْلِبْ عَلٰی مَکَّۃَ وَتَقْطُنْہَا، قَالَ: ((لَعَلَّکَ اِنْ عِشْتَ أَنْ تَرٰی ذٰلِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ((یَا بِلَالُ! خُذْ حَقِیْبَۃَ الرَّجُلِ فَزَوِّدْہُ مِنَ الْعَجْوَۃِ۔)) فَلَمَّا أَنْ أَدْبَرْتُ قَالَ: ((أَمَا إِنَّہُ مِنْ خَیْرِ بَنِیْ عَامِرٍ۔)) قَالَ: فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ بِأَھْلِیْ بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاکِبٌ فَقُلْتُ: مِنْ أَیْنَ؟ قَالَ: مِنْ مَکَّۃَ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ النَّاسُ؟ قَالَ: قَدْ غَلَبَ عَلَیْہَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: قُلْتُ: ھَبَلَتْنِیْ أُمِّیْ فَوَاللّٰہِ! لَوْ أُسْلِمُ یَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْئَلُہُ الْحِیْرَۃَ لِأَقْطَعَنِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۷۵۰)
۔ سیدنا ذوالجوشن کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنگ بدر سے فارغ ہوئے تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے اس گھوڑی کا بچہ لایا ہوں، جس کے چہرے پر تھوڑی سی سفیدی ہوتی ہے، تاکہ آپ اس کو بطور تحفہ قبول فرمائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں،لیکن اگر تو چاہتا ہے کہ میں تجھے اس کے بدلے میں بدر کی عمدہ زرہیں دے دوں، تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہا: جی نہیں،میں تو آج اس کے عوض لونڈی بھی نہیں لوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ذوالجوشن! کیا تو اسلام قبول نہیں کر لیتا، تاکہ اس دین کے پہلے والے لوگوں میں سے ہو جائے؟ اس نے کہا: جی نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی تک آپ کی قوم (قریش) آپ سے لڑ رہی ہے، (معلوم نہیں کہ کس کے حق میں نتیجہ نکلتا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میدان بدر میں ہونے والی ان کی ہلاکتوں کی اطلاع تجھے نہیں ملی؟ اس نے کہا: جییہ بات تو مجھے پتہ چلی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم تیرے لیے وضاحت کریں گے۔ اس نے کہا: اگر آپ کعبہ پر غالب آ کر اس کو اپنا مسکن بنا لیں تو پھر بات بنے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو زندہ رہا تو اپنی آنکھوں سے اس چیز کو بھی دیکھ لے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بلال! اس آدمی کا توشہ دان لو اور اس میں عجوہ کھجوریں ڈال کر دو۔ سیدنا ذوالجوشن کہتے ہیں: جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے واپس لوٹا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ بنو عامر کا سب سے بہترین گھوڑ سوار ہے۔ سیدنا ذو الجوشن کہتے ہیں: (ایک عرصہ گزر جانے کے بعد) میں نے دیکھا کہ ایک سوار میری طرف آ رہا تھا، جبکہ میں اس وقت اپنے اہل کے ساتھ (یمن کی) ایک پست جگہ میں تھا، میں نے کہا: کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: مکہ سے، میں نے کہا: کیا بنا لوگوں کا؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ پر غالب آ گئے ہیں۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، اگر میں اسی دن مسلمان ہو چکا ہوتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حیرہ کا سوال کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دے دینا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6282

۔ (۶۲۸۲)۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ قَالَ: اُھْدِیَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبِیَۃٌ مُزَرَّرَۃٌ بِالذَّھَبِ فَقَسَمَہَا فِیْ أَصْحَابِہِ، فَقَالَ مَخْرَمَۃُ: یَا مِسْوَرُ! اذْھَبْ بِنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِنَّہُ قَدْ ذُکِرَ لِیْ أَنَّہُ قَسَمَ أَقْبِیَۃً، فَانْطَلَقْنَا فَقَالَ: ادْخُلْ فَادْعُہُ لِیْ، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَدَعَوْتُہُ اِلَیْہِ فَخَرَجَ اِلَیَّ وَعَلَیْہِ قَبَائٌ مِنْہَا، قَالَ: ((خَبَأْتُ لَکَ ھٰذَا یَامَخْرَمَۃُ!)) قَالَ: فَنَظَرَ اِلَیْہِ، فَقَالَ: ((رَضِیَ؟)) فَأَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۳۵)
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ چوغے بطور ہدیہ پیش کیے گئے، ان کے بٹن سونے کے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چوغے اپنے صحابہ کے درمیان تقسیم کر دیے، سیدنا مخرمہ نے کہا: اے مسور !ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے چلو، میں نے سنا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چوغے تقسیم کر رہے ہیں، پس ہم چلے گئے، جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا: اندر جائو اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلاؤ، پس میں گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلا لایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اورایک چوغہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے مخرمہ! یہ میں نے تیرے لیے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کو دیکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مخرمہ راضی ہو گیا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو وہ دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6283

۔ (۶۲۸۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: أَھْدَی الْأُکَیْدَرُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَرَّۃً مِنْ مَنٍّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الصَّلَاۃِ مَرَّ عَلٰی الْقَوْمِ فَجَعَلَ یُعْطِیْ کُلَّ رَجُلٍ مِنْہُمْ قِطْعَۃً، فَأَعْطٰی جَابِرًا قِطْعَۃً ثُمَّ اِنَّہُ رَجَعَ اِلَیْہِ فَأَعْطَاہُ قِطْعَۃً أُخْرٰی فَقَالَ: اِنَّکَ قَدْ أَعْطَیْتَنِیْ مَرَّۃً، قَالَ: ((ھٰذَا لِبَنَاتِ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۴۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ (روم کے بادشاہ) اکیدر نے جمی ہوئی بوندی کا ایک گھڑا بھر کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے تحفہ بھیجا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہو ئے اور لوگوں کے پاس سے گزرے تو ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دیتے گئے، ان میں سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوبھی ایک ٹکڑا دیاتھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ لوٹے اور ان کو ایک اور ٹکڑا دیا تو انھوں نے کہا: آپ مجھے ایک دفعہ تو دے چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: یہ عبد اللہ کی بیٹیوں کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6284

۔ (۶۲۸۴)۔ عَنْ أُمِّ کُلْثُوْمٍ بِنْْتِ اَبِیْ سَلَمَۃَ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمَّ سَلَمَۃَ قَالَ لَھَا: ((إِنِّیْ قَدْ أَھْدَیْتُ إِلیَ النَّجاشِیِّ حُلَّۃً وَ اَوَاقِیَّ مِنْ مِسْکٍ وَلَا أَرَی النَّجَاشِیَّ اِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أُرٰی ھَدِیَّتِیْ اِلَّا مَرْدُوْدَۃً عَلَیَّ فَاِنْ رُدَّتْ عَلَیَّ فَہِیَ لَکِ۔)) قَالَتْ: وَکَانَ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرُدَّتْ عَلَیْہِ ھَدِیَّتُہُ فَأَعْطٰی کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ أُوْقِیَّۃَ مِسْکٍ وَأَعْطٰی أُمَّ سَلَمَۃَ بَقِیَّۃَ الْمِسْکِ وَالْحُلَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱۹)
۔ سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے نجاشی کی جانب ایک جوڑا اور کچھ اوقیے کستوری بطور تحفہ بھیجی تھی، چونکہ نجاشی اب فوت ہو چکا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ میرایہ تحفہ واپس کر دیا جائے گا، بہرحال اگر وہ واپس آیا تو وہ تمہارے لئے ہوگا۔ وہی کچھ ہوا، جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہدیہ واپس کر دیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر بیوی کو کستوری کا ایک ایک اوقیہ دیا اور سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بچ جانے والی کستوری اور جوڑا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6285

۔ (۶۲۸۵)۔ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ أَنَا سَیَّارٌ وَأَخْبَرَنَا مُغِیْرَۃُ أَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَاِسْمَاعِیْلَ بْنِ سَالِمٍ وَمُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْن بَشِیْرٍ قَالَ: نَحَلَنِیْ اَبِیْ نُحْلًا، قَالَ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَیْنِ الْقَوْمِ: نَحَلَہُ غُلَامًا، قَالَ: فَقَالَتْ لَہُ أُمِّیْ عَمْرَۃُ بِنْتُ رَوَاحَۃَ: اِئْتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَشْہِدْہُ، قَالَ: فَأَتٰی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: اِنِّیْ نَحَلْتُ اِبْنِی النُّعْمَانَ نَحْلًا وَاِنَّ عَمْرَۃَ سَأَلَتْنِیْ اَنْ أُشْہِدَکَ عَلٰی ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((أَلَکَ وَلَدٌ سِوَاہُ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَکُلَّہُمْ أَعْطَیْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَیْتَ النُّعْمَانَ؟)) فقَالَ: لَا، فَقَالَ بَعْضُ ھٰؤُلَا الْمُحَدِّثِیْنَ: ((ھٰذَا جَوْرٌ۔)) وَقَالَ بَعْضُہُمْ: ((ھٰذَا تَلْجِئَۃٌ، فَأَشْہِدْ عَلٰی ھٰذَا غَیْرِیْ۔)) وَقَالَ مُغِیْرَۃُ فِیْ حَدِیْثِہِ: ((أَلَیْسَیَسُرُّکَ أَنْ یَکُوْنُوْا لَکَ فِی الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَائً؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأَشْہِدْ عَلٰی ھٰذَا غَیْرِیْ۔)) وَذَکَرَ مُجَالِدٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: ((إِنَّ لَھُمْ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَیْنَہُمْ کَمَا أَنَّ لَکَ عَلَیْہِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ یَبَرُّوْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۶۸)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے ہبہ دیا، ایک راوی کے بیان کے مطابق وہ غلام تھا۔میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے میرے والد سے کہا:تم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اوراس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گواہ بناؤ، پس وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی اورکہا: میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گواہ بنایا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہاری اولاد ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان سب کو وہ چیز دی ہے، جو نعمان کو دی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو ظلم ہے، جو تیری بیوی کے دبائو کی وجہ سے کیا جا رہا ہے، جائو اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنائو۔ مغیرہ نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ تیری ساری اولاد نیکی اور مہربانی میں تیرے ساتھ برابر برابر پیش آئیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور کسی اور کو گواہ بنا لو، بیشک ان کا تجھ پر یہ حق ہے کہ تو ان کے مابین انصاف اور برابری کرے، جیسا کہ ان پر تیرایہ حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6286

۔ (۶۲۸۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النُّعْمَانِ بْن بَشِیْرٍ أَیْضًا قَالَ: سَاَلَتْ اُمِّیْ اَبِیْ بَعْضَ الْمَوْھِبَۃِ لِیْ فَوَہَبَھَا لِیْ فَقَالَتْ: لَا أَرْضٰی حَتّٰی تُشْہِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَخَذَنِیْ اَبِیْ بِیَدِیْ وَأَنَا غُلَامٌ وَأَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ أُمَّ ھٰذَا اِبْنَۃَ رَوَاحَۃَ زَاوَلَتْنِیْ عَلٰی بَعْضِ الْمَوْھِبَۃِ لَہُ وَاِنِّیْ قَدْ وَھَبْتُہَا لَہُ وَقَدْ أَعْجَبَہَا أَنْ أُشْہِدَکَ، قَالَ: ((یَا بَشِیْرُ! أَ لَکَ ابْنٌ غَیْرُ ھٰذَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَوَھَبْتَ لَہُ مِثْلَ الَّذِیْ وَھَبْتَ لِھٰذَا؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَـلَا تُشْہِدْنِیْ اِذًا، فَاِنِّیْ لَاأَشْہَدُ عَلٰی جَوْرٍ۔)) وَفِیْ روایۃ: فَقَالَ: ((أَ کُلَّ وَلَدِکَ قَدْ نَحَلْتَ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَارْدُدْہُ۔))(وَفِیْ لَفْظٍ: قَالَ: ((فَارْجِعْہَا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ آخَرَ: قَالَ: ((فَسَوِّّ بَیْنَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں نے میرے باپ سے میرے لئے کچھ ہبہ کرنے کا مطالبہ کیا اور انہوں نے مجھے ایک چیز ہبہ کر دی، ماں نے کہا: میں چاہتی ہوں کہ اس پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گواہ بنائو، پس میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا،جبکہ میں ایک لڑکا تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی ماں بنت رواحہ نے مجھے اس کو ہبہ دینے پر آمادہ کیا اور میں نے اسے ہبہ کر دیا، اب اس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بشیر! اس کے علاوہ بھی تیرے بیٹے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو بھی تونے اس قسم کی چیز ہبہ کی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو نے سب بچوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس سے بھی واپس کر لے۔ ایک روایت کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کے درمیان برابری کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6287

۔ (۶۲۸۷)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِعْدِلُوْا بَیْنَ أَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ أَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ أَبْنَائِکُمْ (وَفِیْ لَفْظٍ) قَارِبُوْا بَیْنَ أَبْنَائِکُمْ۔)) یَعْنِیْ سَوُّوْا بَیْنَہُمْ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۴۳)
۔ سیدنا نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے درمیان برابری کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6288

۔ (۶۲۸۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَۃُ بَشِیْرٍ: اِنْحَلْ اِبْنِیْ غُلَامَکَ وَأَشْہِدْ لِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ ابْنَۃَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِیْ أَنْ أَنْحَلَ ابْنَہَا غُلَامِیْ وَقَالَتْ: وَأَشْہِدْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَلَہُ إِخْوَۃٌ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَکُلَّہُمْ أَعْطَیْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَیْتَہُ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فلَیْسَیَصْلُحُ ھٰذَا وَاِنِّیْ لَا أَشْہَدُ اِلَّا عَلٰی حَقٍّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۴۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بشیر کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو غلام کا عطیہ دو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس پر گواہ بنائو۔ پس سیدنا بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: میری بیوہ عمرہ بنت رواحہ کامطالبہ ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنے غلام کا عطیہ دوں، نیز وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس پر گواہ بنائوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس کے اور بھائی بھی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے سب کو اسی طرح کا عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو جائز نہیں ہے اور میں صرف حق پر گواہ بنتاہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6289

۔ (۶۲۸۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْئِ، الْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے لئے بری مثال نہیں ہے، اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6290

۔ (۶۲۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابنِ عَبَّاسٍ رَفَعَاہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یُعْطِیَ الْعَطِیَّۃَ فَیَرْجِعَ فِیْہَا اِلَّا الْوَالِدُ فِیْمَایُعْطِیْ وَلَدَہُ وَمَثَلُ الَّذِیْیُعْطِی الْعَطِیَّۃَ ثُمَّ یَرْجِعُ فِیْہَا کَمَثَلِ الْکَلْبِ أَکَلَ حَتّٰی اِذَا شَبِعَ قَائَ ثُمَّ رَجَعَ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۸۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمراور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ عطیہ دے کر اس کو واپس لے لے، ما سوائے والد کے کہ جو وہ اپنے بچے کو بطورِ عطیہ دیتا ہے، اس آدمی کی مثال جو عطیہ دیتا ہے اور پھر اس کو واپس کر لیتا ہے، کتے کی طرح ہے کہ جو کوئی چیز کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6291

۔ (۶۲۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّمَا مَثَلُ الَّذِیْیَتَصَدَّقُ ثُمَّ یَعُوْدُ فِیْ صَدَقَتِہِ کَالَّذِیْیَقِیْئُ ثُمَّ یَاْکُلُ قَیْئَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو صدقہ کرتا ہے اور پھر اپنے صدقے کو واپس لے لیتا ہے اس شخص کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اسے چاٹنا شروع کر دیتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6292

۔ (۶۲۹۲)۔ وعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْعَائِدِ فِیْ قَیْئِہِ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: وَلَا أَعْلَمُ الْقَیْئَ اِلَّا حَرَامًا۔ (مسند احمد: ۲۶۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز کو لوٹانے والا اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ امام قتادہ نے کہا: میرا تو یہی خیال ہے کہ قے حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6293

۔ (۶۲۹۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَرْجِعُ فِیْ ھِبَتِہِ اِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِہِ وَالْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْعَائِدِ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنی ہبہ کی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتا، البتہ والد اپنی اولاد سے واپس لے سکتاہے۔ ہبہ کوواپس لینے والے کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو قے کرنے کے بعد اس کو چاٹ لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6294

۔ (۶۲۹۴)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الَّذِیْیَعُوْدُ فِیْ صَدَقَتِہِ کَمَثِلِ الَّذِیْیَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا صدقہ واپس لے لیتا ہے، اس کی مثال اس کی مانند ہے جو اپنی قے کو چاٹ لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6295

۔ (۶۲۹۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ وَنَحْنُ صِبْیَانٌ: اَلْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَقِیْئُ ثُمَّ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ وَلَمْ نَعْلَمْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَرَبَ فِیْ ذٰلِکَ مَثَلًا حَتّٰی حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَقِیْئُ ثُمَّ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۷)
۔ امام طائوس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم بچے ہوتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے کہ اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے، اور ہمیںیہ معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بارے میں کوئی مثال بیان کی ہے، یہاںتک کہ ایک دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمارے سامنے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6296

۔ (۶۲۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْیَعُوْدُ فِیْ عَطِیَّتِہِ کَمَثَلِ الْکَلْبِ یَاْکُلُ حَتّٰی اِذَا شَبِعَ قَائَ ثُمَّ عَادَ فِیْ قَیْئِہِ فَأَکَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۵۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو اپنا عطیہ لوٹا لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6297

۔ (۶۲۹۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْیَسْتَرِدُّ مَا وَھَبَ کَمَثَلِ الْکَلْبِ یَقِیْئُ فَیَاْکُلُ مِنْہُ وَاِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاھِبُ فَلْیُوْقِفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ثُمَّ لِیَرُدَّ عَلَیْہِ مَا وَھَبَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹتا ہے، ہبہ کرنے والا جب واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کو کھڑا کر کے اس سے واپسی کی وجہ پوچھی جائے اور پھر اس کووہ چیز واپس کر دی جائے، جو اس نے ہبہ کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6298

۔ (۶۲۹۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَعْمَرَ عُمْرٰی فَہِیَ لِمَنْ أَعْمَرَھَا جَائِزَۃٌ، وَمَنْ اَرْقَبَ رُقْبٰی فَھِیَ لِمَنْ أَرْقَبَہَا جَائِزَۃٌ، وَمَنْ وَھَبَ ھِبَۃً ثُمَّ عَادَ فِیْہَا فَہُوَ کَالْعَائِدِ فِیْ قَیْئِہِ)) (مسند احمد: ۲۲۵۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عمری دیا، پس وہ اسی کے لیے نافذ ہو جائے گا، جس کو دیا جائے گا، اسی طرح جس نے رقبی دیا، وہ بھی اسی کے لیے نافذ ہو جائے گا، جس کو دیا جائے گا، اور جس نے کوئی چیز ہبہ کی اور پھر اس کو واپس لے لے، وہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنی قے کوچاٹ لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6299

۔ (۶۲۹۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْعُمْرٰی مِیْرَاثٌ لِأَھْلِہَا أَوْجَائِزَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۵۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو عمریٰ دیا گیا، وہ اسی کے اہل کی میراث بن جائے گا یا اسی کے لیے نافذ ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6300

۔ (۶۳۰۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہَِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْعُمْرٰی جَائِزَۃٌ لِأَھْلِہَا وَالرُّقْبٰی جَائِزَۃٌ لِأَھْلِہَا)) (مسند احمد: ۱۴۳۰۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمریٰ اور رقبیٰ ان کے لیے نافذ ہو جانے والا ہے، جن کو دیا جاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6301

۔ (۶۳۰۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ أَعْطَیْتُ أُمِّیْ حَدِیْقَۃً حَیَاتَہَا وَأُمُّہَا مَاتَتْ فَلَمْ تَتْرُکْ وَارِثًا غَیْرِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَجَبَتْ صَدَقَتُکَ وَ رَجَعَتْ اِلَیْکَ حَدِیْقَتُکَ۔)) (مسند احمد: ۶۷۳۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی ماں کو ان کی زندگی بھر کے لئے باغ دے دیا تھا، اب وہ فوت ہو گئی ہیں اور اس نے میرے سوا کوئی وارث بھی نہیں چھوڑا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا صدقہ بھی ثابت ہو گیا ہے اور تیرا باغ بھی تجھے وراثت میں واپس مل گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6302

۔ (۶۳۰۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الرُّقْبٰی وَقَالَ: ((مَنْ أُرْقِبَ فَہُوَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۴۸۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رقبی سے منع کیا اور فرمایا: جو چیز جس کو بطور رقبیٰ دی جائے گی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6303

۔ (۶۳۰۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا عُمْرٰی، فَمَنْ أُعْمِرَ شَیْئًا فَہُوَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۷۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عمریٰ نہیں ہے اور جس کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی گئی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6304

۔ (۶۳۰۴)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ وَعَبْدُالرَّزَّاقِ قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِیْ عَطَائٌ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا عُمْرٰی وَلَا رُقْبٰی فَمَنْ أُعْمِرَ شَیْئًا أَوْ أُرْقِبَہُ فَہُوَ لَہُ حَیَاتَہُ وَمَمَاتَہُ۔)) قَالَ ابْنُ بَکْرٍ فِیْ حَدِیْثِہِ: قَالَ عَطَائٌ: وَالرُّقْبٰی ھِیَ أَیْضًا لِلْآخِرِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: مِنِّیْ وَمِنْکَ۔ (مسند احمد: ۵۴۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عمریٰ اور رقبیٰ نہیں ہے،اور جس کو کوئی چیز بطورِ عمریٰیا رقبیٰ دی گئی تو وہ اس کی موت و حیات میں اسی کی ہو جائے گی۔ ابن بکر نے اپنی حدیث میں کہا: عطاء نے کہا کہ رقبیٰ بھی اسی کا ہو جائے گا، عبد الرزاق نے کہا: میری طرف سے اور تیری طرف سے (یعنی اگر میں تجھ سے پہلے مرجائوں تو یہ چیز تیری ہے اور اگر تومجھ سے پہلے مرجائے تو یہ میری ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6305

۔ (۶۳۰۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمْسِکُوْا عَلَیْکَمْ أَمْوَالَکُمْ وَلَا تُعْطُوْھَا أَحَدًا، فَمَنْ أُعْمِرَ شَیْئًا فَہُوَ لَہُ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَـلَا تُفْسِدُوْھَا فَإِنَّہُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرٰی فَہِیَ لِلَّذِیْ أَعْمَرَھَا حَیًّا وَ مَیِّتًا وَلِعَقِبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۴۳)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے مال روک کر رکھو اور کسی کو نہ دو، جس کو کوئی چیز بطور عمریٰ دی گئی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔ ایک روایت میں ہے: اپنے مالوں کو خراب نہ کرو، جس نے کسی کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی تو وہ اسی کی اور اس کی نسل کی ہو جائے گی، وہ زندہ رہے یا مر جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6306

۔ (۶۳۰۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَعْمَرَ عُمْرٰی فَہِیَ لِمُعْمَرِہِ مَحْیَاہُ وَمَمَاتَہُ، لَاتُرْقِبُوْا فَمَنْ أَرْقَبَ شَیْئًا فَہُوَ سَبِیْلُ الْمِیْرَاثِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۹۰)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی تو وہ موت و حیات میں اسی کی ہو جائے گی، جس کو دی گئی، تم کوئی چیز بطور رقبیٰ نہ دو، جس نے کوئی چیز بطور رقبیٰ دے دی تو میراث کی روٹین میں آ جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6307

۔ (۶۳۰۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنَّمَا الْعُمْرٰی الَّتِیْ اَجَازَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَقُوْلَ: ھِیَ لَکَ وَلِعَقِبِکَ، فَأَمَّا اِذَا قَالَ: فَھِیَ لَکَ، فَاِنَّمَا تَرْجِعُ اِلٰی صَاحِبِھَا۔ (مسند احمد: ۱۴۱۷۷)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ عمریٰ جس کورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نافذ قرار دیا تھا، اس کی صورتیہ ہے کہ دینے والا آدمی کہے: یہ چیز تیرے لیے اور تیرے ورثاء کے لئے ہے۔ جب وہ صرف اتنا کہے کہ یہ چیز تیرے لئے ہے، تو وہ چیز اصل مالک کی طرف لوٹ آئے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6308

۔ (۶۳۰۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ اَعْطٰی اُمَّہَ حَدِیْقَۃً مِنْ نَخْلٍ حَیَاتَہَا، فَمَاتَتْ فَجَائَ اِخْوَتُہُ فَقَالُوْا: نَحْنُ فِیْہِ شَرْعٌ سَوَائٌ، فَأَبٰی فَاخْتَصَمُوْا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ مِیْرَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۴۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک انصاری نے اپنی ماں کو اس کی زندگی بھر کے لیے کھجوروں کا ایک باغ دیا، جب اس کی ماں کی وفات ہوئی تو اس انصاری کے دوسرے بھائی آکر کہنے لگے کہ ہم سب اس باغ میں برابر کے شریک ہیں، لیکن اس نے انکار کر دیا، پس وہ جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس باغ کو ان کے مابین بطورِ میراث تقسیم کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6309

۔ (۶۳۰۹)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَّارٍ أَنَّ أَمِیْرًا کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِیُقَالُ لَہُ: طَارِقٌ، قَضٰی بِالْعُمْرٰی لِلْوَارِثِ عَلٰی قَوْلِ جَابِرِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۴۳)
۔ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مدینہ کے طارق نامی ایک امیر نے عمریٰ میں دی گئی چیز کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا تھا، اس کا یہ فیصلہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کردہ حدیث کی روشنی میں تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6310

۔ (۶۳۱۰)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ الْعُمْرٰی (وَ فِیْ لَفْظٍ: قَضٰی بِالْعُمْرٰی) لِلْوَارِثِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۱۹)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمریٰ میں دی گئی چیز کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6311

۔ (۶۳۱۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَا: أَنْبَأَنَا جُرَیْجٌ، أَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ الزُّھَرِیُّ عَنْ حَدَیْثِ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَنْصَارِیِّ أَخْبَرَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَیُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرٰی لَہُ وَ لِعَقِبِہِ، فَقَالَ: قَدْ أَعْطَیْتُکَہَا وَعَقِبَکَ مَا بَقِیَ مِنْکُمْ أَحَدٌ فَاِنَّمَا ھِیَ، قَالَ ابْنُ بَکْرٍ: لِمَنْ أُعْطَاھَا، وَقَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: لِمَنْ أُعْطِیَہَا، وَ اَنَّھَا لَا تَرْجِعُ إِلٰی صَاحِبِہَا مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ أَعْطَاھَا عَطَائً وَقَعَتْ فِیْہِ الْمَوَارِیْثُ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۶۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمریٰ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص کوئی چیز بطورِ عمری کسی دوسرے شخص کو اور اس کی نسل کو دیتے ہوئے کہے: میں نے یہ چیز تجھے اور تیری نسل کو دے دی ہے، جب تک تم میں سے کوئی باقی ہو، تو یہ چیز اسی کی ہو جائے گی، جس کو دی جائے گی اور یہ پہلے مالک کی طرف اس لیے نہیں لوٹے گی کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے کہ جس میں میراث کے قوانین لاگو ہو چکے ہیں۔

آیت نمبر