MUSNAD AHMED

Search Results(1)

104)

104) ہبہ اور ہدیہ کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6312

۔ (۶۳۱۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُہُ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ، اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ، أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖأَوْوَلَدٍصَالِحٍیَدْعُوْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم فوت ہو جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے تمام اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، ایک صدقہ جاریہ، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھائے جائے اور تیسرا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6313

۔ (۶۳۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَصَابَ أَرْضًا مِنْ یَہُوْدِ بَنِیْ حَارِثَۃَیُقَالُ لَھَا: ثَمْغٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ أَصَبْتُ مَالًا نَفِیْسًا اُرِیْدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِہٖ،قَالَ: فَجَعَلَہَاصَدَقَۃً لَا تُبَاعُ وَلَا تُوْھَبُ وَلَا تُوْرَثُ، یَلِیْہَا ذَوُوْ الرَّأْیِ مِنْ آلِ عُمَرَ، فَمَا عَفَا مِنْ ثَمَرَتِہَا جَعَلَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَابْنِ السَّبِیْلِ وَفِی الرِّقَابِ وَالْفُقَرَائِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالضَّیْفِ، وَلَیْسَ عَلٰی مَنْ وَلِیَہَا جُنَاحٌ اَنْ یَاْکُلَ بِالْمَعْرُوْفِ أَوْ یُؤْکِلَ صَدِیْقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْہُ، قَالَ حَمَّادٌ: فَزَعَمَ عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُہْدِیْ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ مِنْہُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَتْ حَفْصَۃُ بِأَرْضٍ لَھَا عَلٰی ذٰلِکَ وَتَصَدَّقَ ابْنُ عُمَرَ بِأَرْضٍ لَہُ عَلٰی ذٰلِکَ وَوَلِیَتْہَا حَفْصَۃُ۔ (مسند احمد: ۶۰۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بنی حارثہ کے یہودیوں سے ثمغ نامی جو زمین حاصل کی تھی، اس کے بارے میں انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میںیہ گزارش کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑا نفیس اور عمدہ مال ملا ہے، میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق انھوں نے اس کو اس طرح صدقہ کیا کہ نہ اس کو بیچا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ یہ کسی کے ورثے میں آئے گی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آل کے سمجھ دار لوگ اس کی سرپرستی کریں گے، جو مال اس کے خرچ سے زائد ہوگا، اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ، مسافروں، غلاموں کو آزاد کرنے، فقرائ، رشتہ داروں اور مہمانوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کا نگران اچھے طریقے سے اس سے خود بھی کھا لے اور مہمان کو بھی کھلا لے، لیکن اس سے مال بنانے کی کوشش نہ کرے۔ حماد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اسی زمین سے تحفہ بھیجا کرتے تھے۔ سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اپنے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرح اپنی اپنی زمین صدقہ کر دی تھیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زمین کی نگران خود سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6314

۔ (۶۳۱۴)۔ وَ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَوَّلُ صَدَقَۃٍ کَانَتْ فِیْ الْاِسْلَامِ صَدَقَۃُ عُمَرَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((احْبِسْ اُصُوْلَھَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَہَا۔)) (مسند احمد: ۶۴۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اسلا م میں سب سے پہلا صدقہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کیا ہوا تھا، ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کھجوروں کی اصل کو روک لواور ان کے پھلوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خیرات کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6315

۔ (۶۳۱۵)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ لِلْخَیْلِ، قَالَ حَمَّادٌ: فَقُلْتُ لَہُ: لِخَیْلِہِ؟ قَالَ: لَا، لِخَیْلِ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (مسند احمد: ۶۴۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع کی چراگاہ کو گھوڑوں کے لئے خاص کر دیا تھا۔ حماد کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی، انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6316

۔ (۶۳۱۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ اَبُوْطَلْحَۃَ أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِہِ إِلَیْہِ بَیْرُحَائُ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُہَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْہَا طَیِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} قَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِیْ إِلَیَّ بَیْرُحَائُ وَاِنَّہَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ، أَرْجُوْ بِہَا بِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، فَضَعْہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ أَرَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ، بَخٍ ذَاکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَاکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ، وَأَنَا أَرٰی أَنْ تَجْعَلَہَا فِی الْاَقْرَبِیْنَ۔)) فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: اَفْعَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَسَمَہَا اَبُوْ طَلْحَۃَ فِیْ أَقَارِبِہِ وَبَنِیْ عَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۶۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ مال والے تھے اورانہیں بیرحاء والا مال سب سے زیادہ پسند تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں جاتے اور اس کا شیریں پانی پیتے رہتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے، جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ نہیں کرو گے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور بیرحاء کا مال مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، لہٰذا میں اسے رضائے الٰہی کے لئے صدقہ کر تا ہوں اورمجھے اس کی نیکی اور اللہ تعالی کے ہاں ذخیرۂ آخرت بننے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! جہاں آپ اللہ تعالی کی توفیق سے مناسب سمجھتے ہیں، اس کو خرچ کر دیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، یہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میں نے اس کے بارے میں سن لیا تھا، اب میرا خیالیہ ہے کہ تو اس کو قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ یہسن کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ایسے ہی کروں گا، پھر اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچوں کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6317

۔ (۶۳۱۷)۔ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ حَزْنِ نِ الْقُشَیْرِیِّ قَالَ: شَھِدْتُّ الدَّارَ یَوْمَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَطَلَعَ عَلَیْہِمْ اِطْلَاعَۃً فَقَالَ: ادْعُوْا لِیْ صَاحِبَیْکُمُ اللَّذَیْنِ اَلَّبَاکُمْ عَلَیَّّ فَدُعِیَا لَہُ، فقَالَ: نَشَدْتُّکُمَا اللّٰہَ أَتَعْلَمَانِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَھْلِہِ فَقَالَ: ((مَنْ یَشْتَرِیْ ھٰذِہِ الْبُقْعَۃَ مِنْ خَالِصِ مَالِہِ فَیَکُوْنُ فِیْہَا کَالْمُسْلِمِیْنَ وَلَہُ خَیْرٌ مِنْہَا فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) فَاشْتَرَیْتُہَا مِنْ خَالِصِ مَالِیْ فَجَعَلْتُہَا بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنِ وَأَنْتُمْ تَمْنَعُوْنِیْ أَنْ أُصَلِّیَ فِیْہَا رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُکُمُ اللّٰہَ أَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ لَمْ یَکُنْ فِیْہَا بِئْرٌ یُسْتَعْذَبُ مِنْہُ اِلَّا رُوْمَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَشْتَرِیْہَا مِنْ خَالِصِ مَالِہِ فَیَکُوْنُ دَلْوُہُ فِیْہَا کَدُلِیِّ الْمُسْلِمِیْنَ وَلَہُ خَیْرٌ مِنْہَا فِیْ الْجَنَّۃِ؟)) فَاشْتَرَیْتُہَا مِنْ خَالِصِ مَالِیْ فَأَنْتُمْ تَمْنَعُوْنِیْ اَنْ أَشْرَبَ مِنْہَا، ثُمَّ قَالَ: ھَلْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّیْ صَاحِبُ جَیْشِ الْعُسْرَۃِ؟ قَالُوْا: اَللّٰہُمَّ نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۵۵۵)
۔ ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں: جس دن سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا، میں اس دن موجود تھا، وہ محاصرہ کرنے والوں پر جھانکے اور کہا: میرے پاس ان دو آدمیوں کو بلا کر لائو، جنہوں نے تمہیں میرے خلاف ابھارا ہے، (ان کی مراد محمد بن ابی بکر اور محمد بن ابی حذیفہ تھی،) چنانچہ انہیں بلایا گیا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تومسجد میں نمازیوں کی گنجائش نہ رہی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اپنے خالص مال میں سے یہ زمین خریدے گا اور پھر وہ عام مسلمانوں کی طرح رہے گا، تو اس کے لیے اس کے عوض لیکن اس سے بہتر گھر جنت میں ہو گا۔ پس میں نے وہ جگہ اپنے خالص مال سے خریدی اور اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا، لیکن آج تم مجھے اس میں دورکعت نمازپڑھنے سے روک رہے ہو۔پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس میں بئر رومہ کے سوا میٹھے پانی والا کوئی کنواں نہیں تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے خالص مال سے یہ کنواں خریدے گا اور پھر اس میں دوسروں مسلمانوں کے ڈولوں کی طرح ڈول ڈالے گا، تو اس کے لیے اس سے بہتر چیز جنت میں ہوگی۔ پھر کہا: کیا تم جانتے ہو تنگی والے لشکر یعنی غزوئہ تبوک کو تیار کرنے والا میں ہی تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

آیت نمبر