Musnad Ahmad

Search Results(1)

106)

106) وصیتوں کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6337

۔ (۶۳۳۷)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَائَ اللّٰہُ؟ وَذٰلِکَ زَمَنَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِیْلٌ مِنْ مَنْزِلٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَایَرِثُ الْکَافِرُ الْمُؤْمِنَ وَلَا الْمُؤْمِنُ الْکَافِرَ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَلْمُسْلِمُ۔)) بَدْلَ الْمُؤْمِنِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۹۵)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اللہ تعالی نے چاہا تو آپ کل مکہ میں کہاں اتریں گے؟ یہ فتح مکہ کے زمانے کی بات تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ چھوڑی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر مؤمن کا اورمؤمن کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6338

۔ (۶۳۳۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعْیَبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَتَوَارَثُ أَھْلُ مِلَّتَیْنِ شَتّٰی۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مختلف دینوں والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیںگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6339

۔ (۶۳۳۹)۔ عَنْ اَبِی الْأَسْوَدِ الدِّیَلِیِّ قَالَ: کَانَ مُعَاذٌ بِالْیَمَنِ فَارْتَفَعُوْا إِلَیْہِ فِیْیَہُوْدِیٍّ مَاتَ وَتَرَکَ أَخَاہُ مُسْلِمًا فَقَالَ مُعَاذٌ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ الْإِسْلَامَ یَزِیْدُ وَلَا یَنْقُصُ۔)) فَوَرَّثَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۵۵)
۔ ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن میں تھے، لوگ ان کے پاس ایکیہودی کا مقدمہ لے کر آئے، وہ مر گیا تھا اور ایک مسلمان بھائی کو بطورِ وارث چھوڑا، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام اضافہ کرتا ہے، کمی نہیںکرتا۔ پھر انھوں نے اس مسلمان کو یہودی کا وارث بنایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6340

۔ (۶۳۴۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ اِبْنَہُ عَمَدًا فَرُفِعَ إِلٰی عُمَرَ بَنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَعَلَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثِیْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِیْنَ ثَنِیَّۃً، وَقَالَ: لَا یَرِثُ الْقَاتِلُ، وَلَوْلَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِہِ۔)) لَقَتَلْتُکَ۔ (مسند احمد: ۳۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کردیا، جب اس کا مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے بطورِ دیت اس قاتل پر تیس حِقّوں، تیس جذعوں اور چالیس دو دانتے اونٹوں کا تعین کیا اور کہا: قاتل وارث نہیں بنتا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ والد کو اولاد کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ تو میں نے تجھے قصاصاً قتل کر دینا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6341

۔ (۶۳۴۱)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لَوْلَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ لِلْقَاتِلِ شَیْئٌ۔)) لَوَرَّثْتُکَ، قَالَ: وَدَعَا اَخَا الْمَقْتُوْلِ فَأَعْطَاہُ الْإِبِلَ۔ (مسند احمد: ۳۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگرمیں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ قاتل کو وراثت سے کچھ نہیں ملتا۔ تو میں تجھے مقتول بیٹے کا وارث قرار دیتا، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایا اور اسے اونٹ دے دئیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6342

۔ (۶۳۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَخَذَ عُمَرُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثِیْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِیْنَ ثَنِیَّۃً إِلٰی بَازِلِ عَامِہَا کُلُّہَا خَلِفَۃٌ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُوْلِ فَأَعْطَا ھَا إِیَّاہُ دُوْنَ اَبِیْہِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ لِقَاتِلٍ شَیْئٌ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((مِیْرَاثٌ۔))۔ (مسند احمد: ۳۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس ایسی اونٹنیاں لیں جو دو دانتے سے نویں سال میں داخل ہونے تک تھیں اور وہ ساری کی ساری حاملہ تھیں، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایایہ سارے اونٹ اسے دے دیئے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میراث میں سے قاتل کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6343

۔ (۶۳۴۳)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا أَرَی الدِّیَۃَ اِلَّا لِلْعَصَبَۃِ لِأَنَّہُمْ یَعْقِلُوْنَ عَنْہُ، فَہَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا؟ فَقَامَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَلَابِیُّ وَکَانَ اسْتَعْمَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْأَعْرَابِ: کَتَبَ إِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ أَشْیَمَ الضِّبَّابِیِّ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا، فَأَخَذَ بِذٰلِکَ عُمْرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۳۷)
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ دیت صرف عصبہ کو دی جائے، کیونکہیہی لوگ دیت بھرتے ہیں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بدّو لوگوں کا عامل بنایا تھا، وہ کھڑے ہو ئے اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ تحریری حکم بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے وارث قرار دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6344

۔ (۶۳۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ عُمَرَ قَالَ: الدِّیَۃُ لِلْعَاقِلِۃِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَۃُ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا حَتّٰی أَخْبَرَہُ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَلَابِیُّ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ إِلَیَّ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ اَشْیَمَ الْضِبَّابِیِّ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا فَرَجَعَ عُمَرُ عَنْ قَوْلِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۳۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دیت مرد کے عصبہ میں تقسیم ہوگی اور بیوی اپنے خاوند کی دیت میں سے کسی حصے کی وارث نہیں ہوگی، لیکن جب سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تحریری فرمان بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کی دیت کا وارث بنائوں، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6345

۔ (۶۳۴۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی لِحَمْلِ بْنِ مَالِکٍ الْھُذَلِیِّ بِمِیْرَاثِہِ عَنِ امْرَأَتِہِ الَّتِیْ قَتَلَتْہَا الْأُخْرٰی وَقَضٰی فِی الْجَنِیْنِ الْمَقْتُوْلِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، قَالَ: فَوَرِثَہَا بَعْلُہَا وَبَنُوْھَا قَالَ: وَکَانَ لَہُ مِنْ اِمْرَأَتَیْہِ کِلْتَیْہِمَا وَلَدٌ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حمل بن مالک ہزلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی بیوی سے، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کیا تھا، اس مقتولہ بیوی کی دیت سے وارث بنایا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیٹ کا بچہ قتل کر دینے کی وجہ سے ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا، اس طرح اس مقتولہ کا خاوند اور اس کے بیٹے اس کے وارث بن گئے، سیدنا حمل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی۔ الحدیث۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6346

۔ (۶۳۴۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَنَّ الْعَقْلَ مِیْرَاثٌ بَیْنَ وَرَثَۃِ الْقَتِیْلِ عَلٰی فَرَائِضِہِمْ۔ (مسند احمد: ۷۰۹۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دیت، مقتول کے ورثاء کے حصوں کے بقدر ان کے درمیان تقسیم ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6347

۔ (۶۳۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْتُ بَعْدَ مُؤْنَۃِ عَامِلِیْ وَنَفَقَۃِ نِسَائِیْ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم جو انبیاء کی جماعت ہیں،ہمارا کوئی وارث نہیں بنتا، میں اپنے عاملوں اور بیویوں کے اخراجات کے بعد جو کچھ چھوڑوں، وہ صدقہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6348

۔ (۶۳۴۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقْتَسِمُ وَرَثَتِیْ دِیْنَارًا (وَفِیْ لَفْظٍ: وَلَادِرْھَمًا) مَا تَرَکْتُہُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِیْ وَمُؤْنَۃِ عَامِلِیْ (یَعْنِیْ عَامِلِ أَرْضِہِ) فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۸۷۹)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے وارث دینار و درہم کی صورت میں میری میراث سے حاصل نہیں کر سکتے، میں اپنی بیویوں اور زمین کے عاملوں کے خرچے کے بعد جو کچھ ترک کر کے جاؤں، وہ صدقہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6349

۔ (۶۳۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّ فَاطِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ لِاَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَنْ یَرِثُکَ اِذَا مِتَّ؟ قَالَ: وَلَدِیْ وَأَھْلِیْ، قَالَتْ: فَمَا لَنَا لَانَرِثُ االنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ النَّبِیَّ لَایُوْرَثُ۔)) وَلٰکِنِّیْ أَعُوْلُ مَنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُوْلُ وَأُنْفِقُ عَلٰی مَنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُنْفِقُ۔ (مسند احمد: ۶۰)
۔ سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: جب آپ فوت ہوں گے تو آپ کا وارث کون ہوگا؟ انہوں نے کہا: میری اولاد اور میری بیوی، سیدہ نے کہا: پھر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وارث کیوں نہیںبن سکتے؟ انہوں نے کہا:کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاکہ بیشک نبی کا وارث نہیں بنا جاتا۔ ہاں میں (ابو بکر) ان کی کفالت کروں گا کہ جن کی کفالت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کرتے تھے اور میں ہر اس شخص پر خرچ کروں گا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس پر خرچ کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6350

۔ (۶۳۵۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَدْنَ أَنْ یُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ یَسْأَلْنَہُ مِیْرَاثَہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَتْ لَھُنَّ عَائِشَۃُ: أَوَ لَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۹۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پاگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑکر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6351

۔ (۶۳۵۱)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَطَلْحَۃَ وَالزُّبِیْرِ وَسَعْدٍ: نَشَدْتُّکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِیْ تَقُوْمُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ بِہٖأَعَلِمْتُمْاَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّا لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۰)
۔ سیدنا مالک بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد سے مخاطب ہو کر کہا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے حکم کے آسرے پر آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ان سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے سنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6352

۔ (۶۳۵۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِہَا، فَمَا بَقِیَ فَہُوَ لِأَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ)) (مسند احمد: ۲۶۵۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مقررہ حصے ان کے حقداروں کو دو، پھر جو بچ جائے، وہ قریبی مذکر رشتہ دار کے لیے ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6353

۔ (۶۳۵۳)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْسِمُوْا الْمَالَ بَیْنَ أَھْلِ الْفَرَائِضِ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَمَا تَرَکَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلٰی ذَکَرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق مال کو اصحاب الفروض میں تقسیم کرو، مقررہ حصوں سے جو کچھ بچ جائے، وہ قریبی مذکر رشتہ دار کے لیے ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6354

۔ (۶۳۵۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ تِ امْرَأَۃُ سَعْدِ بْنِ الرَبِیْعِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنَتَیْہَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَبَیْعِ قُتِلَ أَبُوْھُمَا مَعَکَ فِیْ اُحُدٍ شَہِیْدًا وَاِنَّ عَمَّہُمَا أَخَذَ مَالَھُمَا فَلَمْ یَدَعْ لَھُمَا مَالًا وَلَا یُنْکَحَانِ اِلَّا وَلَھُمَا مَالٌ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَقْضِی اللّٰہُ فِیْ ذٰلِکَ۔)) فَنَزَلَتْ اٰیَۃُ الْمِیْرَاثِ، فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عَمِّہِمَا، فَقَالَ: ((أَعْطِ ابْنَتَیْ سَعْدِ الثُّلُثَیْنِ وَأُمَّہُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِیَ فَہُوَ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۵۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیاں لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! یہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دو بیٹیاں ہیں، ان کا باپ جنگ احد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ شہید ہو چکا ہے، اب ان کے چچا نے تمام مال سمیٹلیا ہے، ظاہر ہے اگر ان بیٹیوں کے پاس مال نہ ہوا تو کوئی آدمی ان سے نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو ئی فیصلہ فرمائے گا۔ پھر میراث والی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان بچیوں کے چچا کو بلایا اورفرمایا: سعد کی بیٹیوں کو دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصے دے، پھر جو کچھ بچ جائے وہ تیرا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6355

۔ (۶۳۵۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ زَوْجٍ وَأُخْتٍ لِأُمٍّ وَأَبٍ فَاَعْطَی الزَّوْجَ النِّصْفَ، وَالْاُخْتَ النِّصْفَ، فَکُلِّمَ فِیْ ذٰلِکَ فَقَالَ: سَیِّدُنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۷۸)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میت کے خاونداور حقیقی بہن کے بارے میں سوال کیا گیا، پس انھوں نے نصف خاوند کو اور نصف بہن کو دیا اور جب ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے کہا: ہمارے سردار رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی فیصلہ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6356

۔ (۶۳۵۶)۔ عَنْ ھُزَیْلِ بْنِ شُرَحْبِیْلٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُوْسَی الْأَشْعَرِیَّ عَنْ اِمْرَأَۃٍ تَرَکَتْ اِبْنَتَہَا وَاِبْنَتَ اِبْنِہَا وَأُخْتَہَا، فَقَالَ: النِّصْفُ لِلْاِبْنَۃِ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ وَقَالَ: ائْتِ ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَاِنَّہُ سَیُتَابِعُنِیْ، قَالَ: فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَأَخْبَرُوْہُ بِقَوْلِ اَبِیْ مُوْسٰی، فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ لَأَقْضِیَنَّ فِیْہَا بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (قَالَ شُعْبَۃُ: وَجَدْتُ ھٰذَا الْحَرْفَ مَکُتْوَبًا، لَأَقْضِیَنَّ فِیْہَا بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) لِلْاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلِاِبْنَۃِ الْاِبْنِ السُّدُسُ تَکْمِلَۃَ الثُّلُثَیْنِ وَمَا بَقِیَ فَلِلْأُخْتِ، فَأَتَوْا أَبَا مُوْسٰی فَأَخْبَرُوْہُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ اَبُوْ مُوْسٰی: لَاتَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ مَادَامَ ھٰذَا الْحِبْرُ بَیْنَ اَظْہُرِکُمْ۔ (مسند احمد: ۴۴۲۰)
۔ ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں ایک آدمی نے سیدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ ایک عورت فوت ہو گئی ہے اور اس نے اپنے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک بہن چھوڑی ہے، ان کو اس کی وراثت سے کتنا حصہ ملے گا؟ انھوں نے کہا: مال کا ایک نصف بیٹی کو اور ایک نصف بہن کو ملے گا اور پوتی محروم رہے گی، اور ساتھ ہی کہنے لگے کہ تم سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلے جاؤ، وہ بھی میرے ساتھ اتفاق کریں گے، پس وہ گیا اور جب سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا: اگر میں بھییہی فیصلہ کر دوں تو میں تو گمراہ ہو جاؤں گا اور راہ راست والا نہ رہوں گا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کروں گا اوروہ یہ ہے کہ بیٹی کو جائیداد کا نصف، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، تاکہ اولاد میں مال کا دو تہائی پورا ہو جائے اور جو مال باقی بچے گا، وہ بہن کو دیا جائے، پھر سائل نے آکر سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والے فتویٰ سے آگاہ کیا،یہ سند کر ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب تک یہ علم کا سمندر تمہارے اندر موجود ہے، مجھ سے کوئی سوال نہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6357

۔ (۶۳۵۷)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی اَبِیْ مُوْسٰی وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِیْعَۃَ فَسَأَلَھُمَا عَنِ ابْنۃٍ وَابْنَۃِ ابْنٍ وَاُخْتٍ لِأَبٍ فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَأْتِ ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَإِنَّہُ سَیُتَابِعُنَا، قَالَ: فَاَتَی ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَسَأَلَہُ وَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: لَقَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ، سَأَقْضِیْ بِمَا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لِلْاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلِاِبْنَۃِ الْاِبْنِ السُّدُسُ تَکْمِلَۃً لِلَّثُلُثَیْنِ وَمَا بَقِیَ فَلِلْأُخْتِ۔ (مسند احمد: ۴۱۹۵)
۔ ہزیل بن شرحبیل سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا سلمان بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اوران سے سوال کیا کہ وارثین میں ایک بیٹی،ایک پوتی اور ایک علاتی بہن ہے؟ انہوں نے کہا: نصف مال بیٹی کو اور نصف بہن کو ملے گا اور سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤ، وہ بھی ہمارے اس فتویٰ کی موافقت کریں گے۔ لیکن جب سائل سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور ان کو ان دونوں کے فتویٰ کی خبر دی تو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں بھی اسی طرح فیصلہ کروں تو میں راہ راست سے بھٹک جائوں گا، میں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ نصف بیٹی کو، چھٹا حصہ پوتی کو، تاکہ دو تہائی پورا ہو جائے اور جو مال بچے گا، وہ بہن کو ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6358

۔ (۶۳۵۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّکُمْ تَقْرَؤُونَ: {مِنْ بَعْدِ وَصِیِّۃِیُّوْصٰی بِہَا أَوْ دَیْنٍ} واَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَأَنَّ أَعْیَانَ بَنِی الْأُمِّ یَتَوَارَثُوْنَ دُوْنَ بَنِی الْعَلَّاتِ، یَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاہُ لِاَبِیْہِ وَأُمِّہِ دُوْنَ أَخِیْہِ لِاَبِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو کہ (ترکہ تقسیم کیا جائے گا)میت کی طرف سے کی گئی وصیتیا قرض کے بعد جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وصیت کو نافذ کرنے سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ فیصلہبھی کیا ہے کہ (جب عینی اور علاتی بہن بھائی جمع ہو جائیں تو) حقیقی بہن بھائی وارث ہوں گے، نہ کہ علاتی، آدمی اپنے عینی بھائی کا وارث بنے گا، نہ کہ علاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6359

۔ (۶۳۵۹)۔ عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ قَالَ: جَائَتِ الْجَدَّۃُ اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ فَسَأَلَتْہُ مِیْرَاثَہَا، فَقَالَ: مَا اَعْلَمُ لَکِ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ شَیْئًا وَلَا اَعْلَمُ لَکِ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ شَیْئٍ حَتّٰی أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ، فَقَالَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ لَھَا السُّدُسَ، فَقَالَ: مَنْ یَشْہَدُ مَعَکَ؟ أوْ مَنْ یَعْلَمُ مَعَکَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ، فَقَالَ: مِثْلَ ذٰلِکَ فَأَنْفَذَہُ لَھَا۔ (مسند احمد: ۱۸۱۴۳)
۔ سیدنا قبیصہ بن ذئویب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک جدہ ،سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی اور اپنی میراث کامطالبہ کیا، لیکن انہوں نے کہا: میں اللہ تعالی کی کتاب اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت میں تو کوئی ایسی دلیل نہیں جانتا تو تیرے حق میں ہو، البتہ میں اس بارے میں لوگوں سے دریافت کرتا ہوں، پھر آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہبن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جدہ کے لئے چھٹا حصہ مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس پر تیرے ساتھ کون گواہی دے گا، پس سیدنا محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات کی جو سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کی، پس سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے لیےیہ حصہ نافذ کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6360

۔ (۶۳۶۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَقَالَ: شَھِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْضِیْ لَھَا بِالسُّدُسِ فَأَعْطَاھَا أَبُوْبَکْرٍ السُّدُسَ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۴۱)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے : سیدنا محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جدّہ کے لیے چھٹے حصے کا فیصلہ کیا، پس سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے لیے چھٹا حصہ نافذ کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6361

۔ (۶۳۶۱)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی لِلْجَدَّتَیْنِ مِنَ الْمِیْرَاثِ بِالسُّدُسِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوَائِ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دادی اور نانی دونوں کو وراثت میں سے چھٹا حصہ برابر برابر تقسیم کر کے دینے کا فیصلہ فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6362

۔ (۶۳۶۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ ابْنَ اِبْنِیْ مَاتَ فَمَالِیْ مِنْ مِیْرَاثِہِ؟ قَالَ: ((لَکَ السُّدُسُ۔)) قَالَ: ((فَلَمَّا اَدْبَرَ دَعَاہُ۔)) قَالَ: ((لَکَ سُدُسٌ آخَرُ۔)) فَلَمَّا اَدْبَرَ دَعَاہُ قَالَ: ((اِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۵۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میرا پوتا فوت ہو چکا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے لئے چھٹا حصہ ہے۔ جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: تجھے چھٹا حصہ بھی ملے گا۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: یہ چھٹا حصہ تیرے لیے زائد ہے، (یہ حصہ کے طور پر نہیں دیا گیا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6363

۔ (۶۳۶۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: اَنْشُدُ اللّٰہَ رَجُلًا سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْجَدِّ شَیْئًا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: شَھِدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْطَاہُ الثُّلُثُ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ، قَالَ: لَا دَرَیْتَ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۳۶)
۔ سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے جدّ کی میراث کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہو؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: جی میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِس کو ایک تہائی حصہ دیا تھا، انھوں نے کہا: کن وارثوں کے ساتھ؟ اس نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا، آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر تونے سمجھا ہی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6364

۔ (۶۲۶۴) عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ شَھِدْتُّ عُمَرَ قَالَ: وَقَدْ کَانَ جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَیَاتِہِ وَصِحَّتِہِ فَنَاشَدَھُمُ اللّٰہَ مَنْ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ فِی الْجَدِّ شَیْئًا، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِفَرِیْضَۃٍ فِیْہَا جَدٌّ فَأَعْطَاہُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا، قَالَ: وَمَا الْفَرِیْضَۃُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: مَا مَنَعَکَ أَنْ تَدْرِیَ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۷۵)
۔ عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھے، آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی زندگی اور صحت کی حالت میں صحابہ کرام کو جمع کیا اور ان کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر پوچھا کہ آیا کسی نے جدّ کی میراث کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک مسئلہ لایا گیا اور اس میں دادا بھی تھا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دادے کو چھٹا یا تیسرا حصہ دیا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: وہ مسئلہ کیا تھا، یعنی اس مسئلے کے افراد کون تھے؟ انھوں نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا، آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تجھے یہ جاننے سے کس چیز نے منع کر دیا تھا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6365

۔ (۶۳۶۵)۔ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ عَنْ فَرِیْضَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَدِّ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ الْمُزَنِیُّ، فَقَالَ: قَضٰی فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: السُّدُسُ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ، قَالَ: لَا دَرَیْتَ فَمَا تُغْنِیْ إِذًا۔ (مسند احمد: ۲۰۵۷۶)
۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وراثت سے جدّ کے فرضی حصے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، سیدنا معقل بن یسار مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا: کیا؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کن افراد کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نے مسئلہ سمجھا ہی نہیں، تجھے یہ کیا کفایت کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6366

۔ (۶۳۶۶)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَکَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِ جَعَلَہُ عَلٰی الْقَضَائِ إِذْ جَائَ ہُ کِتَابُ ابْنِ الزُّبَیْرِ: سَلَامٌ عَلَیْکَ، أَمَّا بَعْدُ: فَاِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِیْ عَنِ الْجَدِّ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ خَلَیْلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ اَبِیْ قُحَافَۃَ وَلٰکِنَّہُ أَخِیْ فِی الدِّیْنِ وَصَاحِبِیْ فِی الْغَارِ۔)) جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا وَ أَحَقُّ مَا أَخَذْنَاہُ قَوْلُ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۶)
۔ سعید بن جبیرسے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قضاء کا عہدہ ان کے سپرد کیا ہوا تھا، ان کو سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ خط موصول ہوا: السلام علیکم، اما بعد! تم نے جدّ کی میراث معلوم کرنے کے لیے مجھے خط لکھا ہے، تو گزارش ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں نے اس امت سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابن ابی قحافہ کا انتخاب کرتا، لیکن وہ میرا دینی بھائی اور غار کا ساتھی ہے۔ اور سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جدّ کو باپ کے قائم مقام قرار دیا تھا اور سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قول اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ ہم اس پر عمل کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6367

۔ (۶۳۶۷)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: اِنَّ الَّذِیْ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلًا سِوَی اللّٰہِ حَتّٰی اَلْقَاہُ لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ۔)) جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۱۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک وہ شخصیت کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس کے بارے میں فرمایا تھا: اگر میں نے اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا۔ اس ذات نے جدّ کو باپ کے قائم مقام قرار دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6368

۔ (۶۳۶۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْضَیْعَۃً فَإِلَیَّ، وَأَنَا وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ، أَفُکُّ عَنْہُ وَأَرِثُ مَالَہُ، وَالْخَالُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ، یَفُکُّ عَنْہُ وَیَرِثُ مَالَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَاوَارِثَ لَہُ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَاوَارِثَ لَہُ أَرِثُہُ وَأَعْقِلُ عََنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۳۱)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ترکہ میں مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کا ہوگا اور جس نے قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے، تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا، جس کا کوئی سرپرست نہیں ہو گا، میں اس کا سرپرست ہوں،میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا اور اس کاوارث بنوں گا، اور جس کا کوئی وارث نہیں ہوگا، اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا اور وہی اس کی طرف سے ادائیگی کرے گا، اور اس کا وارث بنے گا۔ ایک روایت میں ہے: ماموں اس کا وارث ہو گا، جس کا کوئی وارث نہیں ہو گا اورجس کا بالکل کوئی وارث نہیں ہو گا، میں اس کا وارث بنوں گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6369

۔ (۶۳۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ اِلٰی اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوْا غِلْمَانَکُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَکُمُ الرَّمْیَ، فَکَانُوْا یَخْتَلِفُوْنَ اِلَی الْأَغْرَاضِ فَجَائَ سَہْمٌ غَرْبٌ اِلٰی غُلَامٍ فَقَتَلَہُ فَلَمْ یُوْجَدْ لَہُ أَصْلٌ وَکَانَ فِیْ حَجْرِ خَالٍ لَہُ فَکَتَبَ فِیْہِ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ اِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِلٰی مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَہُ؟ فَکَتَبَ اِلَیْہِ عُمَرُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ مَوْلٰی مَنْ لَا مَوْلٰی لَہُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۲۳)
۔ سیدنا ابو امامہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہ طرف یہ تحریری حکم بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور جنگجوؤں کو تیر اندازی کی تعلیم دو،پس وہ لوگ اپنے اہداف کو سامنے رکھ کر نشانہ بازی کرتے تھے، ایک دن ایک تیر ایک لڑکے کو لگا اور وہ فوت ہو گیا، کوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس کی نسل سے ہے، البتہ وہ اپنے ایک ماموں کی پرورش میں تھا، سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھا کہ اس لڑکے کی دیت کس کے سپرد کروں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، اللہ اور اس کا رسول اس کے سرپرست ہوں گے اور ماموں اس کا وارث بنے گا، جس کا کوئی وارث نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6370

۔ (۶۳۷۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَتْرُکْ وَارِثًا اِلَّا عَبْدًا ھُوَ اَعْتَقَہُ فَأَعْطَاہُ مِیْرَاثَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں ایک آدمی فوت ہو گیا اور کوئی وارث نہیں چھوڑا، البتہ اس کا ایک آزاد کیا ہوا غلام تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی میراث اس کو دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6371

۔ (۶۳۷۱)۔ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ فَلَمْ یَدَعْ وَارِثًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْتَمِسُوْا لَہُ وَارِثًا، اِلْتَمِسُوْا لَہُ ذَا رَحِمٍ۔)) قَالَ: فَلَمْ یُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِدْفَعُوْہُ اِلٰی أَکْبَرِ خُزَاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۳۲)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ از دقبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا کوئی وارث تلاش کرو، اس کا کوئی رشتہ دار تلاش کرو۔ لیکن کوئی قرابتدار نہ مل سکا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خزاعہ قبیلے کے سب سے بڑے کو یہ میراث دے دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6372

۔ (۶۳۷۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ مَوْلٰی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَعَ مِنْ نَخْلَۃٍ فَمَاتَ وَتَرَکَ شَیْئًا وَلَمْ یَدَعْ وَلَدًا وَ لَاحَمِیْمًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَعْطُوْا مِیْرَاثَہُ رَجُلًا مِنْ أَھْلِ قَرْیَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۶۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک غلام کھجور سے گر کر فوت ہو گیا، اس کا کچھ ترکہ تو تھا، لیکن اس کی اولاد تھی نہ رشتہ دار، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی میراث کے بارے میں فرمایا: اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6373

۔ (۶۳۷۳)۔ عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ قَالَتْ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا السُّنْۃُ فِی الرَّجُلِ مِنْ أَھْلِ الْکُفْرِ یُسْلِمُ عَلٰییَدِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: ((ھُوَ أَوْلَی النَّاسِ بِحَیَاتِہِ وَمَوْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۷۷)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ کافروں میں سے ایک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے، اس کے بارے میں کیا طریقہ ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مسلمان دوسروں کی بہ نسبت اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6374

۔ (۶۳۷۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَیْنِ أَنَّہُ یَرِثُ أُمَّہُ وَتَرِثُہُ، وَمَنْ قَفَاھَا بِہٖجُلِدَثَمَانِیْنَ، وَمَنْ دَعَاہُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۷۰۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ماں کی وارث بنے گی اور اس کی ماںاس اولاد کی، لیکن جس نے اس عورت پر زنا کی تہمت لگائی، اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور جس نے اس کی اولاد کو زنا کی اولاد کہا، اس کو بھی اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6375

۔ (۶۳۷۵)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ اللَّیْثِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْأَۃُ تَحُوْزُ ثَلَاثَ مَوَارِیْثَ، عَتِیْقَہَا وَلَقِیْطَہَا وَوَلَدَہُ الَّذِیْ تُلَاعِنُ عَلِیْہِ)) (مسند احمد: ۱۶۱۰۷)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت تین قسم کی میراثیں سمیٹتی ہے، اپنے آزاد کر دہ غلام کی، گرے پڑے بچے کی اور اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6376

۔ (۶۳۷۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَامُسَاعَاۃَ فِیْ الْاِسْلَامِ، مَنْ سَاعٰی فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَدْ اَلْحَقْتُہُ بِعَصَبَتِہِ وَمَنِ ادَّعٰی وَلَدَہُ مِنْ غَیْرِ رِشْدَۃٍ فَلَایَرِثُ وَ لَایُوْرَثُ۔)) (مسند احمد: ۳۴۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اسلام میں کوئی زنا نہیں ہے اور جس نے جاہلیت میں زنا کیا، میں نے (اس کے سبب پیدا ہونے والی اولاد کو) اس کے عصبہ کے ساتھ ملا دیا ہے اور جس نے بغیر نکاح کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو وہ آدمی نہ اس بچے کا وارث ہوگا اور نہ یہ بچہ اس کا وارث ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6377

۔ (۶۳۷۷)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ غَیْلَانَ بْنَ سَلَمَۃَ الثَّقَفِیَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَہُ عَشْرُ نِسْوَۃٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْتَرْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا۔)) فَلَمَّا کَانَ فِیْ عَہْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَائَہُ وَقَسَّمَ مَالَہُ بَیْنَ بَنِیْہِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ عُمَرَ، فقَالَ: اِنِّیْ لَأَظُنُّ الشَّیْطَانَ فِیْمَایَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِکَ فَقَذَفَہُ فِیْ نَفْسِکَ وَلَعَلَّکَ أَنْ لَاتَمْکُثَ اِلَّا قَلِیْلًا، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَتُرَاجِعَنَّ نِسَائَکَ وَلَتَرْجِعْنَ فِیْ مَالِکَ أَوْ لَاُوَرِّثُہُنَّ مِنْکَ، وَلَآمُرَنَّ بِقَبَرِکَ فَیُرْجَمُ کَمَا رُجِمَ قَبْرُ اَبِیْ رِغَالٍ۔ (مسند احمد: ۴۶۳۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب مسلمان ہوا تو ان کی دس بیویا ںتھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: تم ان میں سے کل چار بیویاں منتخب کر لو۔ عہد فاروقی میں سیدنا غیلان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تمام بیویوں کو طلاق دے دی اور سارا مال بیٹوں میں تقسیم کر دیا، جب یہ بات سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے ان کو بلایا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شیطان نے فرشتوں سے تیری موت کی خبر سن کر تیرے دل میں ڈال دی ہے، اب شاید تیری تھوڑی زندگی باقی رہ گئی ہو۔اللہ کی قسم ہے! یا تو تو اپنی بیویوں سے رجوع کرکے ان کو مال واپس کرے گا، یا میں خود ان بیویوں کو تیرا وارث بناؤں گا اور تیری قبر کے بارے میں حکم دوں گا کہ اس کو ایسے رجم کیا جائے، جیسے ابو رِغال کی قبر کو کیا گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6378

۔ (۶۳۷۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْوَلَائُ لِمَنْ اَعْتَقَ۔)) (مسند احمد: ۴۸۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولا ء ، آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6379

۔ (۶۳۷۹)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۵۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6380

۔ (۶۳۸۰)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَلْمٰی بِنْتِ حَمْزَۃَ اِنَّ مَوْلَاھَا مَاتَ وَتَرَکَ اِبْنَۃً، فَوَرَّثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِبْنَتَہُ النِّصْفَ وَوَرَّثَ یَعْلَی النِّصْفَ وَکَانَ ابْنَ سَلْمٰی۔ (مسند احمد: ۲۷۸۲۷)
۔ سیدہ سلمیٰ بنت حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ان کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا اور اس نے ایک بیٹی وارث چھوڑی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نصف مال کا اس کی بیٹی کو اور نصف مال کا یعلی کو وارث بنایا۔ یہیعلی ، سلمی کا بیٹا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6381

۔ (۶۳۸۱)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرِثُ الْمَالَ مَنْ یَرِثُ الْوَلَائَ)) (مسند احمد: ۱۴۷)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اولاد کے عوض والد سے قصاص نہ لیا جائے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ولاء کاوارث ہوگا، وہی مال کا وارث بنے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6382

۔ (۶۳۸۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرٌو جَائَ بَنُوْ مَعْمَرِ بْنِ حَبِیْبٍیُخَاصِمُوْنَہُ فِیْ وَلَائِ اُخْتِہِمْ اِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: أَقْضِیْ بَیْنَکُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ فَہُوَ لِعَصَبَتِہِ مَنْ کَانَ۔)) فَقَضٰی لَنَا بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (شام سے) واپس آئے تو معمر بن حبیب کے بیٹے ان کے پاس آکر اپنی بہن کی ولاء کے بارے میں جھگڑنے لگے، مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچا دیا گیا اور انہوں نے کہا: میں تمہارے درمیان رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اولاد یا والدین جس مال کا احاطہ کر لیں، وہ ان کے عصبہ کو ملے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی حدیث کی روشنی میں ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6383

۔ (۶۳۸۳)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْکَلَالَۃِ، فَقَالَ: ((تَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ۔)) فَقَالَ: لَأَنْ اَکُوْنَ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ یَکُوْنَ لِیْ حُمْرُ النَّعْمِ۔ (مسند احمد: ۲۶۲)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلالہ کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بارے میں موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت تجھے کفایت کرتی ہے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہیقینی بات ہے کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کر لیا ہوتا تو یہ چیز مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسند ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6384

۔ (۶۳۸۴)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: اِنِّیْ لَا أَدَعُ شَیْئًا أَھَمَّ اِلَیَّ مِنَ الْکَلَالَۃِ، وَمَا اَغْلَظَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ شَیْئٍ مُنْذُ صَاحَبْتُہُ مَا اَغْلَظَ لِیْ فِی الْکَلَالَۃِ، وَمَا رَاجَعْتُہُ فِیْ شَیْئٍ مَا رَجَعْتُہُ فِی الْکَلَالَۃِ حَتّٰی طَعَنَ بِاِصْبَعِہِ فِیْ صَدْرِیْ وَقَالَ: ((یَا عُمَرُ! اَلَا تَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِیْ فِیْ آخِرِ سُوْرَۃِ النِّسَائِ۔)) فَاِنْ أَعْشِ أَقْضِی فِیْہَا قَضِیَّۃًیَقْضِیْ بِہَا مِنَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا، جو میرے نزدیک کلالہ کی بہ نسبت زیادہ اہم ہو، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مسئلے کے بارے میں مجھ پر اتنی سختی کی کہ جب سے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ ملا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پر اتنی سختی نہیں کی تھی اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جتنا مراجعہ کلالہ کے بارے میں کیا، اتنا کسی اور مسئلے میں نہیں کیا،یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینے میں اپنی انگلی ماری اور فرمایا: اے عمر! کیا تجھے سورۂ نساء کے آخر والی آیت کافی نہیں ہے، جو موسم گرما میں نازل ہوئی تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اگر میری زندگی رہی تو میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ بیان کروں گا کہ ہر شخص اس کو سمجھ جائے گا، وہ قرآن پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6385

۔ (۶۳۸۵)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنِ الْکَلَالَۃِ، فَقَالَ: ((تَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۹۰)
۔ سیدنا براء بن عاز ب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسم گرما والی آیت تیرے لیے کافی ہے۔

آیت نمبر