MUSNAD AHMED

Search Results(1)

107)

107) فرائض کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6386

۔ (۶۳۸۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ اَبِیْہِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: جَائَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَصْمَانِ یَخْتَصِمَانِ فَقَالَ لِعَمْرٍو: ((اقْصِ بَیْنَہُمَایَا عَمْرُو!)) فَقَالَ: أَنْتَ أَوْلٰی بِذٰلِکَ مِنِّیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((وَاِنْ کَانَ)) قَالَ: فَاِذَا قَضَیْتُ بَیْنَھُمَا فَمَا لِیْ؟ قَالَ: ((اِذَا أَنْتَ قَضَیْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَائَ فَلَکَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَاِنْ أَنْتَ اجْتَہَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَکَ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۷۸)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی آپس کا ایک جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے عمرو!ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس امر کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ میں ہوں۔ میں نے کہا: اگر میں ان کے ما بین فیصلہ کروں تومجھے کیا ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے فیصلہ کیا اور درست صورت تک پہنچ گئے تو دس نیکیاں ملیں گی اوراگر اجتہاد میں خطا اور غلطی ہو گئی تو ایک نیکی ملے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6387

۔ (۶۳۸۷)۔ وَعَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ: ((فَاِنِ اجْتَہَدْتَ فَاَصَبْتَ الْقَضَائَ فَلَکَ عَشَرَۃُ أُجُوْرٍ وَاِنِ اجْتَہَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَکَ اَجْرٌ وَاحِدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۷۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اجتہاد کیا اور فیصلہ درست کر لیا تو دس اجر ملیں گے اور اگر تم نے اجتہاد کیا اور خطا ہو گئی تو ایک اجر ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6388

۔ (۶۳۸۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اِنَّ خَصْمَیْنِ اخْتَصَمَا اِلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَضٰی بَیْنَھُمَا، فَسَخِطَ الْمَقْضِیُّ عَلَیْہِ فَأَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا قَضَی الْقَاضِی فَاجْتَہَدَ فَأَصَابَ فَلَہُ عَشَرَۃُ اُجُوْرٍ وَاِذَا اجْتَہَدَ فَأَخْطَأَ کَانَ لَہُ أَجْرٌ أَوْ أَجْرَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، انھوں نے ان کے درمیان فیصلہ کیا اور جس کے خلاف فیصلہ ہوا، وہ ناراض ہو گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: جب قاضی فیصلہ کرتا ہے اور پوری جد وجہد کرتا ہے اور درست فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے دس اجر ملتے ہیں اور اگر پوری محنت کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو اس کو ایکیا دو اجر پھر بھی ملتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6389

۔ (۶۳۸۹)۔ عَنِ ابْنِ قَیْسٍ مَوْلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَہَدَ فَاصَابَ فَلَہُ اَجْرَانِ وَاِذَا حَکَمَ فَاجْتَہَدَ فَاَخْطَأَ فَلَہُ أَجْرٌ)) قَالَ: فَحَدَثَّتُ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: ھٰکَذَا حَدَّثَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ۔ (مسند احمد:۱۷۹۲۶)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب حاکم پوری محنت کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور درستی کو پہنچ جاتا ہے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جب پوری محنت کے باوجود اس سے خطا ہو جاتی ہے تو اس کو ایک اجر ملتا ہے۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6390

۔ (۶۳۹۰)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ بَعَثَہُ اِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ: ((کَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ عَرَضَ لَکَ قَضَائٌ؟)) قَالَ: أَقْضِیْ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، قَالَ: ((فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّـہِ؟)) قَالَ: فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟)) قَالَ: اَجْتَہِدُ رَأْیِیْ، لَا آلُوْ، قَالَ: فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدْرِیْ ثُمَّ قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِمَا یُرْضِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۵۷)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو عامل بنا کر یمن کی طرف بھیجا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: جب کوئی مقدمہ پیش ہو تو تو کس طرح فیصلہ کرے گا؟ انھوں نے کہا: جی میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ا ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ مسئلہ اللہ تعالی کی کتاب میں نہ ہو تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر اللہ کے رسول کی سنت کی روشنی میں کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر رسول اللہ کی سنت میں بھی نہ ملے تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر میں اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سینے پر تھپکی دی اور فرمایا: اس اللہ کے لئے تعریف ہے، جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق بخشی کہ جس کو اس کا رسول پسند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6391

۔ (۶۳۹۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْیَمَنِ (یَعْنِیْ قَاضِیًا) وَأَنَا حَدِیْثُ السِّنِ، قَالَ: قُلْتُ: تَبْعَثُنِی اِلٰی قَوْمٍ یَکُوْنُ بَیْنَہُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمٌ لِیْ بِالْقَضَائِ، قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ سَیَہْدِیْ لِسَانَکَ وَیُثَبِّتُ قَلْبَکَ۔)) قَالَ: فَمَا شَکَکْتُ فِیْ قَضَائٍ بَیْنَ اثْنَیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۳۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کا قاضی مقرر کر کے بھیجا، جبکہ میں ابھی نو عمر تھا، اس لیے میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی قوم کے ہاں بھیج رہے ہیں، جن کے درمیان نت نئے معاملات جنم لیتے ہیں اور مجھے تو قضا کا علم ہی نہیں ہے ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری زبان کی رہنمائی کرے گا اور تیرے دل میں مضبوطی پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرتے مجھے کبھی کوئی شک و شبہ نہیں ہوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6392

۔ (۶۳۹۲)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ مَوْھَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِاِبْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَیْنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَہُ: لَا أَقْضِیْ بَیْنَ اثْنَیْنِ وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَیْنِ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ عَاذَ بِاللّٰہِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ۔)) قَالَ عُثْمَانُ: بَلٰی، قَالَ: فَاِنِّیْ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ تَسْتَعْمِلَنِیْ، فَأَعْفَاہُ وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِہٰذَا أَحَدًا۔ (مسند احمد: ۴۷۵)
۔ یزید بن موہب سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: لوگوں کے ما بین فیصلہ کرو، انھوں نے کہا: میں دوآدمیوں کے مابین قاضی بنوں گا نہ دو آدمیوں کا امام بنوں گا، اے عثمان! کیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جس نے اللہ تعالی کے ساتھ پناہ مانگی، اس نے بہت بڑی پناہ مانگی۔ ؟ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی، کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس بات سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے عامل بنائیں، پس سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو معاف کر دیا، لیکن کہا: کسی اور کو یہ حدیث بیان نہ کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6393

۔ (۶۳۹۳)۔ عَنْ بِلَالِ بْنِ اَبِیْ مُوْسٰی عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ یَجْعَلَ ابْنَہُ عَلٰی قَضَائِ الْبَصَرَۃِ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ طَلَبَ الْقَضَائَ وَاسْتَعَانَ عَلَیْہِ وُکِّلَ اِلَیْہِ، وَمَنْ لَمْ یَطْلُبْہُ وَلَمْ یَسْتَعِنْ عَلَیْہِ اَنْزَلَ اللّٰہُ مَلَکًا یَسُدِّدُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کہ حجاج نے ان کے بیٹے کو بصرہ پر قاضی مقرر کرنا چاہا تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا طلب کیا اور دوسرے کے تعاون سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے اس عہدے کے سپرد کر دیا جائے گا اور جو آدمی نہ اس کو طلب کرتا ہے اور نہ اس کے حصول کے لئے دوسروں کا تعاون لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرشتہ نازل کرے گا، جو درستی کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6394

۔ (۶۳۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ اَنَسٍ) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَأَلَ الْقَضَائَ وُکِّلَ اِلَیْہِ، وَمَنْ اُجْبِرَ عَلَیْہِ نَزَلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ فََیُسَدِّدُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۰۸)
۔ (دوسری سند)سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا خود طلب کیا وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور جسے زبردستی دیا گیا، اس پر ایک فرشتہ نازل ہو گا، جو بہتری کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6395

۔ (۶۳۹۵)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَذَاکَرْتُہَا حَتّٰی ذَکَرْنَا الْقَاضِیَ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَأْتِیَنَّ عَلَی الْقَاضِی الْعَدْلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَاعَۃٌیَتَمَنّٰی أَنَّہُ لَمْ یَقْضِ بَیْنَ اثْنَیْنِ فِیْ تَمْرَۃٍ قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۶۸)
۔ عمران بن حطان کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرنے لگا، یہاں تک کہ قاضی کے عہدے کا ذکر ہونے لگا، اس موقع پر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قاضی پر قیامت کے روز ایک گھڑی ایسی آئے گی کہ وہ یہ آروز کرے گا کہ کاش کہ اس نے دوآدمیوں کے درمیان ایک کھجور کا بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6396

۔ (۶۳۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ جُعِلَ قَاضِیًا بَیْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَیْرِ سِکِّیْنٍ۔)) (مسند احمد: ۸۷۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے لوگوں پر قاضی مقرر کیا گیا، اسے گویا چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6397

۔ (۶۳۹۷)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ حَکَمٍیَحْکُمُ بَیْنَ النَّاسِ اِلَّا حُبِسَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَلَکٌ آخِذٌ بِقَفَاہُ حَتّٰییَقِفَہُ عَلٰی جَہَنَّمَ ثُمَّ یَرْفَعُ رَأْسَہُ اِلَی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فَاِنْ قَالَ: اَلْقِہِ، اَلْقَاہُ فِیْ جَہَنَّمَ یَہْوِیْ أَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) (مسند احمد: ۴۰۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایکیا دو مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو حاکم اور فیصل لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، قیامت والے دن اسے روک لیا جائے گا اور فرشتہ اسے گردن سے پکڑ کر دوزخ کے بالکل قریب لا کر کھڑا کر دے گا، پھر وہ فرشتہ سر اٹھا کر اللہ تعالی کی جانب دیکھے گا، اگر اللہ تعالییہ کہہ دے گا کہ اس کو پھینک دے تو وہ فرشتہ اسے دوزخ میں پھینک دے گا اوروہ چالیس سال تک گرتا رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6398

۔ (۶۳۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ أَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَدُ اللّٰہِ مَعَ الْقَاضِی حِیْنَیَقْضِیْ، وَیَدُ اللّٰہِ مَعَ الْقَاسِمِ حِیْنَیَقْسِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۰۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی طرح جب کوئی آدمی مال تقسیم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ (یعنی جب تک وہ انصاف کرتے رہتے ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6399

۔ (۶۳۹۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَ تَدْرُوْنَ مَنِ السَّابِقُوْنَ اِلٰی ظِلِّ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ، قَالَ: ((الَّذِیْنَ اِذَا أُعْطُوْا الْحَقَّ قَبِلُوْہُ وَاِذَا سُئِلُوْہُ بَذَلُوْہُ وَحَکَمُوْا لِلنَّاسِ کَحُکْمِہِمْ لِأَنْفُسِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۸۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون لوگ ہیں جو روزِ قیامت اللہ تعالی کے سائے کی طرف سبقت لے جانے والے ہوں گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں حق ملے تو اسے قبول کرتے ہیںاور جب ان سے حق کا سوال کیا جائے تو وہ اس کو خرچ کرتے ہیں اور جب لوگوں کے لئے فیصلہ کرتے ہیں تو ایسے فیصلہ کرتے ہیں، جیسے وہ اپنے نفسوں کے لیے کر رہے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6400

۔ (۶۴۰۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمُقْسِطِیْنَ فِی الدُّنْیَا عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْنَیَدَیِ الرَّحْمٰنِ بِمَا أَقْسَطُوْا فِی الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا میں انصاف کرنے والے روز قیامت اللہ تعالی کے سامنے موتیوں کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا میںانصاف کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6401

۔ (۶۴۰۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُقْسِطُوْنَ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ عَلٰییَمِیْنِ الرَّحْمٰنِ وَکِلْتَا یَدَیْہِیَمِیْنٌ، الَّذِیْنَیَعْدِلُوْنَ فِیْ حُکْمِہِمْ وَأَھْلِیْہِمْ وَمَا وَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۶۴۹۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصاف کرنے والے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، جبکہ اللہ تعالی کے دونوں ہاتھ دائیں ہی ہیں،یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال کے حق میں اور اپنے ما تحت امور اور افراد کے حق میں انصاف کرتے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6402

۔ (۶۴۰۲)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَّارٍ الْمُزَنِیِّ قَالَ: أَمَرَنِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَقْضِیَ بَیْنَ قَوْمٍ، فَقُلْتُ: مَا أُحْسِنَ أَنْ أَقْضِیَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَللّٰہُ مَعَ الْقَاضِیْ مَا لَمْ یَحِفْ عَمَدًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۷۱)
۔ سیدنا معقل بن یسار مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے لوگوں کے ما بین کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اچھے انداز میںفیصلہ نہیں کر سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6403

۔ (۶۴۰۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَنَ اللّٰہُ الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۱۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لعنت کرے رشوت دینے والے پر اور لینے والے پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6404

۔ (۶۴۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے رشوت دینے والے پر اور لینے والے پر لعنت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6405

۔ (۶۴۰۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ۔)) (مسند احمد: ۶۹۸۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رشوت دینے والے پر اور لینے والے پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6406

۔ (۶۴۰۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ قَوْمٍ یَظْہَرُ فِیہِمُ الرِّبَا اِلَّا أُخِذُوْا بِالسَّنَۃِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ یَظْہَرُ فِیْہِمُ الرُّشَا اِلَّا أُخِذُوْا بِالرُّعْبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۷۶)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس قوم میں سود پھیل جائے، ان پر قحط سالی مسلط کر دی جاتی ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہو جائے، وہ خوف اور رعب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6407

۔ (۶۴۰۷)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ، وَالرَّائِشَ یَعْنِی الَّذِیْیَمْشِیْ بَیْنَہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۲۷۶۲)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور ان دونوں کے درمیان دلالی کرنے والے، تینوں پر لعنت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6408

۔ (۶۴۰۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْیَمَنِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَاضِیًا) فَقُلْتُ: تَبْعَثُنِیْ اِلٰی قَوْمٍ أَسَنَّ مِنِّیْ وَاَنَا حَدَثٌ لَا اُبْصِرُ الْقَضَائَ؟ قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ عَلٰی صَدْرِیْ وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَہُ وَاھْدِ قَلْبَہُ؛ یَا عَلِیُّ! اِذَا جَلَسَ اِلَیْکَ الْخَصْمَانِ فَـلَا تَقْضِ بَیْنَہُمَا حَتّٰی تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ کَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ، فَاِنَّکَ اِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ تَبَیَّنَ لَکَ الْقَضَائُ۔)) قَالَ: فَمَا اخْتَلَفَ عَلَیَّ قَضَائٌ بَعْدُ أَوْ مَا اَشْکَلَ عَلَیَّ قَضَائٌ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۸۸۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کی طرف بطورِ قاضی بھیجا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک جہاندیدہ قوم کی جانب بھیج رہے ہیں، جبکہ میں ابھی نوخیزجوان ہوں اور قضا کا تجربہ بھی نہیں ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینہ پر رکھا اورفرمایا: اے میرے اللہ! اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ اور اس کے دل کو راہ ہدایت دے۔ اے علی! جب جھگڑے والے دو آدمی تیرے پاس آئیں تو پہلے کی طرح دوسرے کی بات سنے بغیر فیصلہ نہ کر، اگر تو اس طرح دونوں کی بات سنے گا تو تیرے لیے فیصلہ کرنا واضح ہو جائے گا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد فیصلہ کرتے وقت میں کبھی بھی کسی اختلاف اور اشکال میں نہیں پڑا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6409

۔ (۶۴۰۹)۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ أَنَّ اَبَاہُ أَمَرَہُ أَنْ یَکْتُبَ اِلَی ابْنٍ لَہُ وَکَانَ قَاضِیًا بِسِجَسْتَانَ أَمَّا بَعْدُ: فَـلَا تَحْکُمَنَّ بَیْنَ اثْنَیْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَحْکُمْ اَحَدٌ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَا یَقْضِی الْحَاکِمُ) بَیْنَ اثْنَیْنِ وَھُوَ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۴۱)
۔ ابن ابی بکرہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک بیٹے، جو کہ سبجستان کے علاقے میں قاضی تھا، کو یہ خط لکھا: اما بعد! جب تو غصہ کی حالت میں ہو تو دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمییا کوئی حاکم غصے کی حالت میں دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6410

۔ (۶۴۱۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ جَدِّیْ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ تَسَلَّطَ الشَّیْطَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۴۷)
۔ سیدنا عطیہ سعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب سلطان انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو اس وقت شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6411

۔ (۶۴۱۱)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیْہِ عَمْرِو بْنِ الزُّبَیْرِ خُصُوْمَۃٌ فَدَخَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَلٰی سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ وَ عَمْرُو ابْنُ الزُّبَیْرِ مَعَہُ عَلٰی السَّرِیْرِ، فَقَالَ سَعِیْدٌ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ: ھَاھُنَا، فَقَالَ: لَا، قَضَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ سُنَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اِنَّ الْخَصْمَیْنِیَقْعُدَانِ بَیْنَیَدَیِ الْحَکَمِ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۳)
۔ سیدنا مصعب بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے بھائی سیدنا عمرو بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان کوئی جھگڑا ہو گیا، سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے، جبکہ سیدنا عمرو بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چارپائی پر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبداللہ بن زبیر سے کہا: یہاں تشریف لے آؤ، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قضا کا طریقہیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کو اپنائیں گے اور وہ یہ ہے کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بیٹھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6412

۔ (۶۴۱۲)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ اِلَیَّ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ) لَعَلَّ بَعْضَکُمْ اَلْحَنُ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ وَاِنَّمَا أَقْضِیْ لَہُ بِمَا یَقُوْلُ،فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِشَیْئٍ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ بِقَوْلِہِ، فَاِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ، فَـلَا یَاْخُذْھَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۱۸۹)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایک بشر ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، اس لیے ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسروں کی بہ نسبت دلائل کے نشیب و فراز سے زیادہ واقف ہے اور میں تو اس کے بیان کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، لہذ ا اگر میں کسی کے حق میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس کو نہ لے، کیونکہ ایسی صورت میں میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6413

۔ (۶۴۱۳)۔ وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۸۳۷۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اس قسم کی ایک حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6414

۔ (۶۴۱۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ خَاصَمَ فِیْ بَاطِلٍ وَ ھُوَ یَعْلَمُہُ لَمْ یَزَلْ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ حَتّٰییَنْزِعَ۔)) (مسند احمد: ۵۳۸۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو علم ہونے کے باوجود ناحق جھگڑا کرے تو وہ اس سے دستبردارہونے تک اللہ تعالی کی ناراضگی میں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6415

۔ (۶۴۱۵)۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ ابْنُ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوْا بِدَعْوَاھُمْ، اِدَّعَی نَاسٌ مِنَ النَّاسِ دِمَائَ نَاسٍ وَأَمْوَالَھِمْ وَلٰکِنَّ الْیَمِیْنَ عَلٰی الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۸۸)
۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مجھے یہ تحریر بھیجی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعووں کے مطابق دیا جائے تو وہ لوگوں کے خونوں اور مالوں کا دعوی کر دیں، لیکن قسم مُدَّعٰی علیہ پر ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6416

۔ (۶۴۱۶)۔ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَاہُ رَجُلَانِ یَخْتَصِمَانِ فِیْ أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُھُمَا: إِنَّ ھٰذَا اِنْتَزٰی عَلٰی أَرْضِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ (وَھُوَ امْرُؤُ الْقَیْسِ بْنُ عَابِسٍ الْکِنْدِیُّ وَخَصَمُہُ رَبِیْعَۃُ بْنُ عَبْدَانَ) فَقَالَ لَہُ: ((بَیِّنَتُکَ۔)) قَالَ: لَیْسَ لِیْ بَیِّنَۃٌ، قَالَ: ((یَمِیْنُہُ۔)) قَالَ: اِذًا یَذْھَبُ، قَالَ: ((لَیْسَ لَکَ اِلَّا ذٰلِکَ۔)) فَلَمَّا قَامَ لِیَحْلِفَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۶۹)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان کا زمین کا جھگڑا تھا، ایک امرء القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا مقابل ربیعہ بن عبدان تھا، اول الذکر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے جاہلیت میں میری زمین زبردستی چھین لی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کندی سے فرمایا: دلیل پیش کرو۔ وہ کہنے لگا: دلیل تو کوئی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مُدّعا علیہ قسم اٹھائے گا۔ اس نے کہا: وہ تو پھر میرا مال ہتھیا لے گا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تیرے حق میں کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لے گا تو وہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6417

۔ (۶۴۱۷)۔ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: خَاصَمْتُ ابْنَ عَمٍّ لِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بِئْرٍ کَانَتْ لِیْ فِیْیَدِہِ، فَجَحَدَنِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیِّنَتُکَ أَنَّھَا بِئْرُکَ وَاِلَّا فَیَمِیْنُہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَا لِیْ بَیِّنَۃٌ، اِنْ تَجْعَلْھَا بِیَمِیْنِہِ تَذْھَبْ بِئْرِیْ، اِنَّ خَصْمِیْ امْرَؤٌ فَاجِرٌ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِؤٍ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) وَقَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ} (آل عمران: ۷۷) الآیۃ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۹۱)
۔ سیدنا اشعث بن قیس کہتے ہیں: میرا ایک کنویں تھا اور اس کے معاملے میں میرا اپنے چچا زاد بھائی سے جھگڑا تھا، اس نے یہ کنواں مجھے واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا، میںیہ مقدمہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: دلیل لاؤ کہ یہ کنواں تمہارا ہے، وگرنہ وہ قسم اٹھا لے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس دلیل تو نہیں ہے اور میرا مقابل فاجر اور فاسق آدمی ہے،اس لیے اگرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تو وہ میرا کنواں ہتھیا لے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال نا حق ہتھیائے گا وہ اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِیْ الآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔}… بے شک جو لوگ اللہ تعالی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اللہ تعالی نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6418

۔ (۶۴۱۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِیَمِیْنٍ وَشَاھِدٍ، قَالَ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَاَلْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشَّاھِدِ ھَلْ یَجُوْزُ فِی الطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ، فَقَالَ: لَا، اِنَّمَا ھٰذِہِ فِی الشَّرَائِ وَالْبَیْعِ وَأَشْبَاھِہِ۔ (مسند احمد: ۲۹۶۷)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کیا۔ زید بن حباب کہتے ہیں: میں نے سیدنا مالک بن انس سے قسم اور گواہ کے متعلق پوچھا کیایہ طلاق اور غلام کی آزادی میں بھی کافی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،یہ تو صرف خرید و فروخت جیسے معاملات میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6419

۔ (۶۴۱۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاھِدِ، قَالَ عَمْرٌو: وَاِنَّمَا ذَاکَ فِی الْأَمْوَالِ۔ (مسند احمد: ۶۹۲۹)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، عمرو نے کہا: یہ مالوں کے معاملات کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6420

۔ (۶۴۲۰)۔ عَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاھِدِ قَالَ جَعْفَرٌ: قَالَ اَبِیْ: وَقَضٰی بِہٖعَلِیٌّ بِالْعِرَاقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۲۹)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کیا، جعفر کہتے ہیں: میرے والد صاحب نے کہا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عراق میں اسی طرح فیصلہ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6421

۔ (۶۴۲۱)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہُمْ وَجَدُوْا فِیْ کُتُبِ اَوْ کِتَابِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاھِدِ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۲۷)
۔ عمرو بن قیس کہتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تحریروں میںیہ چیز بھی لکھی ہوئی پائی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6422

۔ (۶۴۲۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلَیْنِ تَدَارَئَ ا فِیْ دَابَّۃٍ لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا بَیِّنَۃٌ، فَأَمَرَھُمَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَسْتَہِمَا عَلٰی الْیَمِیْنِ، اَحَبَّا أَوْ کَرِھَا۔ (مسند احمد: ۱۰۳۵۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ دوآدمی ایک جانور کے بارے میں جھگڑ پڑے، جبکہ کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں قسم اٹھانے پر قرعہ ڈالنے کا حکم دیا،یہ حکم ان کو پسند ہو یا نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6423

۔ (۶۴۲۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍی) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اُکْرِہَ الْاِثْنَانِ عَلٰی الْیَمِیْنِ وَاسْتَحَبَّاھَا فَلْیَسْتَہِمَا عَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۸۱۹۴)
۔ ( دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مدّعِی اور مُدَّعا علیہ دونوں قسم پر مجبور کئے جائیں اور وہ اس کو پسند بھی کریں تو ان میں قسم پر قرعہ ڈالا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6424

۔ (۶۴۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ رَجُلَیْنِ اِخْتَصَمَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ دَابَّۃٍ لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا بَیِّنَۃٌ فَجَعَلَہُ بَیْنَہُمَا نِصْفَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۳۲)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک چوپائے کا مقدمہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی دلیل نہ تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سواری کو ان کے درمیان نصف تقسیم کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6425

۔ (۶۴۲۵)۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْأِمَامِ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ثَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ یَحْیَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَۃَ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائُ جَرْحُہَا جُبَارٌ، وَالْعَجْمَائُ: اَلْبَہِیْمَۃُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَیْرِھَا، وَالْجُبَارُ: ھُوَ الْھَدْرُ وَالَّذِیْ لَا یُغَرَّمُ، (وَقَضٰی) فِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ، (وَقَضٰی) اَنَّ تَمْرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَھَا اِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ، (وَقَضٰی) اَنَّ مَالَ الْمَمْلُوْکِ لِمَنْ بَاعَہُ اِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ، (وَقَضٰی) أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ، (وَقَضٰی بِِالشُّفْعَۃِ بَیْنَ الشُّرَکَائِ فِی الْاَرْضِیْنَ وَالدُّوْرِ، (وَقَضٰی) لِحَمَلِ (بِفَتْحِ الْحَائِ وَالْمِیْمِ) بْنِ مَالِکٍ الْھُذَلِیِّ بِمِیْرَاثِہِ عَنْ اِمْرَأَتِہِ الَّتِیْ قَتَلَتْہَا الْأُخْرٰی، (وَقَضٰی) فِی الْجَنِیْنِ الْمَقْتُوْلِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، قَالَ: فَوَرِثَہَا بَعْلُہَا وَبَنُوْھَا، قَالَ: وَکَانَ لَہُ مِنْ إِمرَأَتَیْہِ کِلْتَیْہِمَا وَلَدٌ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ الْقَاتِلَۃِ الْمَقْضِیُّ عَلَیْہِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ اَغْرَمُ مَنْ لَاصَاحَ وَلا اسْتَہَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا اَکَلَ فَمِثْلُ ذٰلِکَ یُطَلُّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا مِنَ الْکُہَّانِ۔))، قَالَ: (وَقَضٰی) فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہِمَا فَقَضٰی اَنَّ یُتْرَکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَۃُ اَذْرُعٍ وَقَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ سُمِّیَ الْمِیْتَائُ، (وَقَضٰی) فِی النَّخْلَۃِ أَوِ النَّخْلَتَیْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَیَخْتَلِفُوْنَ فِیْ حُقُوْقِ ذٰلِکَ فَقَضٰی أَنَّ لِکُلِّ نَخْلَۃٍ مِنْ اُوْلٰئِکَ مَبْلَغُ جَرِیْدَتِہَا حَیِّزٌ لَھَا، (وَقَضٰی) فِیْ شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّیْلِ أَنَّ الْأَعْلٰییُشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَیُتْرَکُ الْمَائُ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ یُرْسَلُ الْمَائُ اِلَی الْأَسْفَلِ الَّذِیْیَلِیْہِ وَکَذٰلِکَ تَنْقَضِی الْحَوَائِطُ أَوْ یَفْنَی الْمَائُ، (وَقَضٰی) أَنَّ الْمَرْأَۃَ لَا تُعْطِی مِنْ مَالِھَا شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا، (وَقَضٰی) لِلْجَدَّتَیْنِ مِنِ الْمِیْرَاثِ بِالسُّدُسِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوَائِ، (وَقَضٰی) أَنَّ مَنْ اَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِیْ مَمْلُوْکٍ فَعَلَیْہِ جَوَازُ عِتْقِہِ إِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ، (وَقَضٰی) أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، (وَقَضٰی) أَنَّہُ لَیْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ، (وَقَضٰی) بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ فِی النَّخْلِ لَا یُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ، (وَقَضٰی) بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ أَنَّہُ لَا یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ فَضْلُ الْکَلَائِ، (وَقَضٰی) فِیْ دِیَۃِ الْکُبْرَی الْمُغَلَّظَۃِ ثَلَاثِیْنَ ابْنَۃَ لَبُوْنٍٍ وَ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَاَرْبَعِیْنَ خَلِفَۃً، (وَقَضٰی) فِیْ دِیَۃِ الصُّغْرٰی ثَلَاثِیْنَ ابْنَۃَ لَبُوْنٍ وَثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَعِشْرِیْنَ ابْنَۃَ مَخَاضٍ وَعِشْرِیْنَ بَنِیْ مَخَاضٍ ذُکُوْرًا، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِبِلَ الْمَدِیْنَۃِ سِتَّۃَ آلافِ دِرْھَمٍ حِسَابَ اَوْ قِیَۃٍ وَنِصْفٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ وَھَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَلْفَیْنِ حِسَابَ أُوْقِیَتَیْنِ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْأِبِلُ وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَأَتَمَّھَا عُمَرُ اثْنَیْ عَشَرَ اَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، قَالَ: فَزَادَ ثُلُثُ الدِّیَۃِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثٌ آخَرُ فِی الْبَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ: فَتَمَّتْ دِیَۃُ الْحَرَمَیْنِ عِشْرِیْنَ اَلْفًا، قَالَ: فَکَانَ یُقَالُ: یُؤْخَذُ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ مِنْ مَاشِیَتِہِمْ لَا یُکَلَّفُوْنَ الْوَرَقَ وَلَا الذَّھَبَ، وَیُؤْخَذُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ مَالَھُمْ قِیْمَۃُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَائ سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔ رکاز میں پانچویں حصے کافیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس کاہے جس نے اس کو پیوند لگایا ہے، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت لینے کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ فروخت ہونے والے غلام کا مال بیچنے والے کی ملکیت ہوگا، الا یہ کہ خریدار سودا کرتے وقت اس کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ اولاد اس کی ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو، اور زانی کیلئے پتھر ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین اور گھروں میں حصہ داروں کیلئے شفعہ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ سیدنا حمل بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کی بیوی کی میراث سے حصہ دیا جائے گا، جس کو اس کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیٹ کے مقتول بچے کی دیت کا فیصلہ دیا کہ ایک لونڈییا غلام دیا جائے اور فرمایا کہ قتل ہونے والی عورت کا خاوند اور اسکے بیٹے وارث ہوں گے اور حمل بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قتل کرنے والی کے باپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کیسے بھروں، جس نے نہ توآواز نکالی، نہ چیخا، نہ پیا اور نہ کھایا۔اس قسم کا معاملہ تو باطل اور ہدر ہو جانا چاہیے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کی قافیہ بندی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چبوترے کے بارے میں فیصلہ کیا جو راستے میں تھا اور اس کے مالکوں نے عمارت تعمیر کر نے کا ارادہ کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ سات سات ہاتھ راستہ چھوڑ کر عمارت بنائی جائے۔ اور وہ چلنے کا عام راستہ ہو گا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جب لوگ ایکیا دو یا تین کھجوروں کے درختوں میں اختلاف کریں تو ہر درخت کی ٹہنیوں کی مقدار تک کی جگہ مالک کی ملکیت قرار پائے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک کہ باغات ختم ہو جائیںیا پانی ختم ہو جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کہ عورت اپنا مال بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں دے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ دو جدّات کومیراث سے چھٹا حصہ ملے گا، وہ دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگراس کے پاس مال ہواتو اسے سارا غلام آزاد کرنا ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ والوں کے درمیان کھجوروں کے بارے میںیہ فیصلہ کیا کہ کنوئیں کا زائد پانی نہ روکا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیہات والوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ زائد گھاس سے لوگوں کو روک دیا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا دیت ِ کبری میں تیس اونٹنیاں دو دو سالوں کی، تیس تین تین سالوں کی اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیت ِ صغری میں فیصلہ کیا کہ تیس دو دو سال کی اونٹنیاں، تیس تین تین سال کی ، بیس ایک ایک سال کی اونٹنیاں اور بیس ایک ایک سال کے اونٹ ہونے چاہئیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہوگئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیت کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ایک اونٹ کی ایک اوقیہ کے برابر قیمت لگائی، بعد میں پھر جب اونٹ مہنگے ہوئے اور درہم گر گئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہر اونٹ کے دو دو اوقیے قیمت لگا کر دو ہزار درہم کی قیمت بڑھا دی، پھر جب تیسری مرتبہ اونٹ مہنگے ہو گئے اور درہم گر گئے تو ہر اونٹ کی تین اوقیے قیمت لگا کر بارہ ہزار درہم کر دی۔ دیت کے ایک تہائی حصے کا اضافہ حرمت والے مہینے میںکیا اور مزید ایک تہائی کا حرمت والے شہر میںکیا، ان دو حرمتوں کی دیت بیس ہزار درہم ہو گئی۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا تھا کہ دیہاتیوں سے ان کے مویشیوں میں سے دیت لی جائے، انہیں سونے اور چاندی کا پابند نہ بنایا جائے، ہر قوم کے مال سے اندازہ لگا کر وہی چیز دیت میں لی جائے، جو ان کے پاس ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6426

۔ (۶۴۲۶)۔ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُوْدٍ ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ثَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَۃَ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ اَبِیْ کَامِلٍ بِطُوْلِہِ غَیْرَ أَنَّہُمَا اخْتَلَفَا فِی الْاِسْنَادِ، فَقَالَ اَبُوْ کَامِلٍ فِیْ حَدِیْثِہِ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ یَحْیٰی بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ أَنَّ عُبَادَۃَ قَالَ: مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ الصَّلْتُ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ: إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۶۰)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ V نے فیصلہ فرمایا کہ کان رائیگاں ہے، … پھر ابو کامل والی سابقہ روایت مکمل طور پر ذکر کی، البتہ دو راویوں کا اختلاف ذکر کیا، ایک نے مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِV کہا اور ایک نے اِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِV کہا اور پھر ساری حدیث بیان کی۔

آیت نمبر