Musnad Ahmad

Search Results(1)

11)

11) مسواک کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 550

۔ (۵۵۰)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلسِّوَاکُ مَطْہَرَۃٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاۃٌ لِلرَّبِّ)) (مسند أحمد:۶۲)
سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسواک کرنا منہ کو پاک کرنے والا اور ربّ تعالیٰ کو راضی کرنے والا عمل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 551

۔ (۵۵۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۳۸)
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 552

۔ (۵۵۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: عَلَیْکُمْ بِالسِّوَاکِ، فَاِنَّہٗ مَطْیَبَۃٌ لِلْفَمِ وَمَرْضَاۃٌ لِلرَّبِّ۔ (مسند أحمد: ۵۸۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم مسواک کا لازمی طور پر اہتمام کرو، کیونکہ یہ منہ کو پاک کرنے والا اور ربّ کو راضی کرنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 553

۔ (۵۵۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَیَنْزِلُ فِیْہِ قُرْآنٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۲۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیاگیا کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب اس کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 554

۔ (۵۵۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا ؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ السِّوَاکَ حَتَّی ظَنَنَّا أَوْ رَأَیْنَا أَنَّہُ سَیَنْزِلُ عَلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۷۳)
سیدنا ابن عباسؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس قدر زیادہ مسواک کرتے تھے، کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ اس کے بارے میں عنقریب قرآن نازل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 555

۔ (۵۵۵)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتّٰی خَشِیْتُ أَنْ یُکْتَبَ عَلَیَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۰۳)
سیدنا واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ میں ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو فرض کر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 556

۔ (۵۵۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَکْثَرْتُ عَلَیْکُمْ فِی السِّوَاکِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۸۶)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں نے تم کو مسواک کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 557

۔ (۵۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا جَائَ نِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَطُّ اِلَّا أَمَرَنِیْ بِالسِّوَاکِ، لَقَدْ خَشِیْتُ أَنْ أُحْفِیَ مُقَدَّمَ فِیَّ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۲۵)
سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبریلؑ جب بھی میرے پاس تشریف لائے، تو انھوں نے مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا، میں تو اس بات سے ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منہ کا سامنے والا حصہ ہی اکھاڑ دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 558

۔ (۵۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَسْتَنُّ فَأَعْطٰی أَکْبَرَ الْقَوْمِ وَقَالَ: ((اِنَّ جِبْرِیْلَ أَمَرَنِیْ أَنْ أُکَبِّرَ۔)) (مسند أحمد: ۶۲۲۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسواک کر رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ مسواک لوگوں کے بڑے آدمی کو دے دی اور فرمایا: بیشک جبریلؑ نے مجھے بڑے آدمی کو مسواک دینے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 559

۔ (۵۵۹)۔ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أُتِیَ، فَقَالَ: ((مَالِیْ أَرَاکُمْ تَأْتُوْنِیْ قُلْحًا، اسْتَاکُوْا، لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَفَرَضْتُ عَلَیْہِمُ السِّوَاکَ کَمَا فَرَضْتُ عَلَیْہِمُ الْوُضُوْئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۳۵)
سیدنا تَمّام بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب لوگ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم میرے پاس اس حال میں آئے ہو کہ تمہارے دانتوں پر میل کچیل اور زردی نظر آ رہی ہے، مسواک کیا کرو، اگر امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں نے مسواک کو وضو کی طرح فرض کر دینا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 560

۔ (۵۶۰)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَائَ الْآخِرَۃَ اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الْأَوَّلِ، فِاِنَّہُ اِذَا مَضٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ ہَبَطَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَلَمْ یَزَلْ ہُنَاکَ حَتَّی یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَیَقُوْلَ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ یُعْطٰی، أَلَا دَاعٍ یُجَابُ، أَلَا سَقِیْمٌ یَسْتَشْفِیْ، فَیُشْفٰی، اَلَا مُذْنِبٌ یَسْتَغْفِرُ فَیُغْفَرَلَہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۶۷)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نمازِ عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی حصے تک مؤخر کر دیتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رات کا پہلا ایک تہائی گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک یہیں رہتے ہیں، اس دورانیے میں ایک کہنے والا یہ کہتا رہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اس کو دیا جائے، کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کو جواب دیا جائے، کیا شفا طلب کرنے والا کوئی مریض ہے کہ اس کو شفا دے دی جائے اور بخشش طلب کرنے والا کوئی گنہگار ہے کہ اس کو بخش دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 561

۔ (۵۶۱)۔ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ۔)) قَالَ: فَکَانَ زَیْدٌ یَرُوْحُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَسِوَاکُہُ عَلَی أُذُنِہِ بِمَوْضِعِ قَلَمِ الْکَاتِبِ، مَا تُقَامُ صَلَاۃٌ اِلَّا اسْتَاکَ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۲۶)
سیدنا زیدبن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔ سیدنا زیدؓجب مسجد کی طرف آتے تھے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کے کان پر مسواک ہوتی تھی، جب بھی نماز کھڑی کی جاتی تھی تو وہ نماز سے پہلے مسواک کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 562

۔ (۵۶۲)۔عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۶۰۷)
سیدنا علی ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 563

۔ (۵۶۳)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((فَضْلُ الصَّلوٰۃِ بِالسِّوَاکِ عَلَی الصَّلوٰۃِ بِغَیْرِ السِّوَاکِ سَبْعِیْنَ ضِعْفًا۔)) (مسند أحمد: ۲۶۸۷۱)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسواک والی نماز کی فضیلت اس نماز پر ستر گنا زیادہ ہے، جس کے ساتھ مسواک نہ کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 564

۔ (۵۶۴)۔عَنْ أُمِّ حَبِیْبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْلَا أَنَّ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ کَمَا یَتَوَضَّؤُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۹۶۰)
زوجہ ٔ رسول سیدہ ام حبیبہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ اس طرح مسواک کرنے کا حکم دے دیتا، جیسے وہ وضو کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 565

۔ (۵۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ مَعَ الْوُضُوْئِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَأَمَرْتُہُمْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ بِوُضُوْئٍ وَمَعَ کُلِّ وُضُوْئٍ سِوَاکٌ) وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَائَ اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّیْلِ)) (مسند أحمد:۷۴۰۶)
سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا اور نمازِ عشا کو ایک تہائی رات یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔ ایک روایت میں ہے: میں ان کو ہر نماز کے ساتھ وضو کا اور ہر وضو کے ساتھ نماز کا حکم دے دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 566

۔ (۵۶۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ أَبُوْہُرَیْرَۃَ لقَدْ کُنْت أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَبَعْدَ مَا أَسْتَیْقِظُ وَقَبْلَ مَاآکُلُ وبَعْدَ مَاآکُلُ حِیْنَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ مَا قَالَ۔ (مسند أحمد:۹۱۸۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے بھی یہ اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی یہ حدیث سننے کے بعد سونے سے پہلے، جاگنے کے بعد، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد مسواک کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 567

۔ (۵۶۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ثَنَا غَیْلَانُ بْنُ جَرِیْرٍ عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَسْتَاکُ وَھُوَ وَاضِعٌ طَرْفَ السِّوَاکِ عَلَی لِسَانِہِ یَسْتَنُّ اِلَی فَوْقَ، فَوَصَفَ حَمَّادٌ کَأَنَّہُ یَرْفَعُ سِوَاکَہُ، قَالَ حَمَّادٌ: وَوَصَفَہُ لَنَا غَیْلَانُ قَالَ: کَانَ یَسْتَنُّ طُوْلًا۔ (مسند أحمد: ۱۹۹۷۵)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر داخل ہوا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا کنارہ زبان پر تھا اور اوپر کو مسواک کر رہے تھے۔ حماد نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا کہ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے مسواک کو اٹھا رہے تھے، پھر حماد نے کہا کہ غیلان نے ہمیں یہ کیفیت بیان کی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ طول میں مسواک کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 568

۔ (۵۶۸)۔ عَنْ أَبِیْ مَطَرٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوْسٌ مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیٍّ فِی الْمَسْجِدِعَلَی بَابِ الرَّحْبَۃِ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِیْ وُضُوْئَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِیْ بِکُوْزٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصْابِعِہِ فِیْ فِیْہِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا۔ (اَلْحَدِیْثَ سَیَأْتِیْ بِطُوْلِہِ فِیْ بَابِ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی) (مسند أحمد: ۱۳۵۶)
ابو مطر کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو دکھاؤ، یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن میرے پاس لاؤ، پس انھوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث بَابُ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ میں آئے گی۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 569

۔ (۵۶۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَا یَنَامُ اِلَّا وَالسِّوَاکُ عِنْدَہُ، فَاِذَا اسْتَیْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاکِ۔ (مسند أحمد: ۵۹۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بھی سوتے تھے، مسواک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ہوتی تھی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیدار ہوتے تو مسواک سے شروع کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 570

۔ (۵۷۰)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَا یَرْقُدُ لَیْلًا وَلَا نَہَارًا فَیَسْتَیْقِظُ اِلَّا تَسَوَّکَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۱۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات اور دن کو جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 571

۔ (۵۷۱)۔عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِذَا قَامَ مِنَ التَّہَجُّدِ) یَشُوْصُ فَاہُ بِالسِّوَاکِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۱)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب رات کو اٹھتے تھے، ایک روایت میں ہے: جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 572

۔ (۵۷۲)۔عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَأَی الْمَطْرَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔)) قَالَ: وَسَأَلْتُ عَائِشَۃَ بِأَیِّ شَیْئٍ کَانَ یَبْدَأُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلماِذَا دَخَلَ بَیْتَہُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاکِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۴۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جب بارش کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا… اے اللہ! نفع مند بارش نازل فرما۔ شریح کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب گھر میں داخل ہوتے تو کسی چیز سے ابتدا کرتے تھے، انھوں نے کہا: مسواک سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 573

۔ (۵۷۳)۔عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِیْ یَسْتَاکُ وَھُوَ صَائِمٌ۔ (مسند أحمد:۱۵۷۶۶)
سیدنا عامر بن ربیعہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اَن گنت اور بے شمار دفعہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 574

۔ (۵۷۴)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا حَسَنٌ ثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ قَابُوْسٍ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: جَائَ نَبِیَّ اللّٰہِ رَجُلَانِ حَاجَتُہُمَا وَاحِدَۃٌ، فَتَکَلَّمَ أَحَدُہُمَا فَوَجَدَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فِیْہِ اِخْلَافًا فقَالَ لَہُ: ((أَلَا تَسْتَاکُ؟)) فَقَالَ: اِنِّیْ لَأَفْعَلُ وَلَـکِنِّیْ لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِہِ رَجُلًا فَآوَاہُ وَقَضَی لَہُ حَاجَتَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے، دونوں کی ایک قسم کی ضرورت تھی، جب ان میں سے ایک آدمی نے گفتگو کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے منہ سے بدبو محسوس کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے پوچھا: کیا تم مسواک نہیں کرتے؟ اس نے کہا: جی میں ضرور کرتا ہوں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک آدمی کو حکم، پس اس نے اس کو جگہ دی اور اس کی ضرورت پوری کی۔

آیت نمبر