MUSNAD AHMED

Search Results(1)

111)

111) حدود کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6644

۔ (۶۶۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَیَزْنِی وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَایَسْرِقُ حِیْنَیَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَایَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَیَشْرَ بُہَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوَبَۃُ مَعْرُوْضَۃٌبَعْدُ)) (مسند احمد: ۱۰۲۲۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زانی جس وقت زنا کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا، چورجب چوری کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور شرابی جس وقت شراب پیتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور (ان جرائم کے بعد بھی) توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6645

۔ (۶۶۴۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ یَعْنِی إِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اَلْإِمَامُ الْکَذَّابُ، وَالشَّیْخُ الزَّانِی، وَالْعَائِلُ الْمَزْھُوُّ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی رو زِ قیامت تین قسم کے افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: جھوٹا امام، بوڑھا زانی اورمتکبر فقیر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6646

۔ (۶۶۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَکْثَرِ مَا یَلِجُ النَّاسُ بِہِ النَّارَ، قَالَ: ((الْأَجْوَفَانِ، اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ۔)) وَسُئِلَ عَنْ أَکْثَرِ مَا یَلِجُ بِہِ النَّاسُ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُسْنُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیٹ سے متعلقہ دو چیزیںیعنی منہ اور شرمگاہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جنت میں جائیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حسن اخلاق ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6647

۔ (۶۶۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَفِظَ مَا بَیْنَ فُقْمَیْہِ وَفَرْجَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۸۸)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6648

۔ (۶۶۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ: اِنَّ فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ائْذَنْ لِیْ بِالزِّنَا، فَأَقْبَلَ الَقَوْمُ عَلَیْہِ فَزَجَرُوْہُ وَقَالُوْا: مَہْ مَہْ، فَقَالَ: ((ادْنُہُ۔)) فَدَنَا مِنْہُ قَرِیْبًا قَالَ: فَجَلَسَ، قَالَ: ((أَتُحِبُّہُ لِأُمِّکَ۔)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِأُمَّہَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِاِبْنَتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِبَنَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِأُخْتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِأَخَوَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِعَمَّتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِعَمَّاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِخَالَتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِخَالَاتِہِمْ۔)) قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہِ، وَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَہُ وَطَہِّرْ قَلْبَہُ وَحَصِّنْ فَرْجَہُ۔)) فَلَمْ یَکُنْ بَعْدَ ذَالِکَ الْفَتٰییَلْتَفِتُ إِلٰی شَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۶۴)
۔ سیدنا ابو امامہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے زنا کی اجازت دیں، لوگ اس پر پل پڑے اور کہا: خاموش ہو جا، خاموش ہو جا تو،لیکن آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نوجوان سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوکر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اپنی ماں کیلئے اس چیز کو پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح لوگ بھی اپنی مائوں کیلئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو اپنی بیٹی کے لئے اس چیز کو پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو زنا کو اپنی بہن کے لئے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، میں اپنی بہن کے لیے اس کو کبھی بھی پسند نہیں کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کو اپنی پھوپھی کے لئے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تو اس برائی کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی خالائوں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور اس کے حق میںیہ دعا فرمائی: اے میرے اللہ! اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ کر دے۔ اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6649

۔ (۶۶۴۹)۔ ) عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَزَالُ أُمَّتِیْ بِخَیْرٍ مَالَمْ یَفْشُ فِیْہِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَاِذَا فَشَا فِیْہِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَیُوْشِکُ اَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعِقَابٍ)) (مسند احمد: ۲۷۳۶۷)
۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی، جب تک ان میں زنا کی اولاد کی کثرت نہ ہوگی، جب ان میں ولد الزنا کی کثرت ہو جائے گی تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6650

۔ (۶۶۵۰)۔ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَدِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((مَا تَقُوْلُوْنَ فِی الزِّنَا؟)) قَالُوْا: حَرَّمَہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فَہُوَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، قال: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَصْحَابِہِ: ((لَأَنْ یَزْنِیَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَۃٍ أَیْسَرُ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَزْنِیَ بِاِمْرَأَۃِِ جَارِہِ۔)) قَالَ: ((فَمَا تَقُوْلُوْنَ فِی السَّرِقَۃِ؟)) قَالُوْا: حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فَہِیَ حَرَامٌ، قَالَ: ((لَاَنْ یَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرَۃِ أَبْیَاتٍ أَیْسَرُ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَسْرِقَ مِنْ جَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۵۵)
۔ سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : تم لوگ زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت کے دن تک حرام ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا، اس کا جرم ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنے کے جرم سے کم ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم لوگ چوری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے، پس یہ حرام ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا، اس کا جرم پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے کے جرم سے کم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6651

۔ (۶۶۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَعَدَ عَلٰی فِرَاشِ مُغِیْبَۃٍ قَیَّضَ اللّٰہُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُعْبَانًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۲۴)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس عورت کے بستر پر بیٹھا، جس کا خاوند گھر سے غائب ہو، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس پر ایک سانپ مقرر کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6652

۔ (۶۶۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلِجُوْا عَلَی الْمُغِیْبَاتِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنْ أَحَدِکُمْ مَجْرَی الدَّمِ۔)) قُلْنَا: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمِنِّیْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ أَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: جن عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں، ان پر داخل نہ ہوا کرو، کیونکہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے شیطان کا تعلق آپ سے بھی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی، پس وہ میرا مطیع ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6653

۔ (۶۶۵۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَۃِ)) (مسند احمد:۸۰۸۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زنا کی اولاد تین افراد میں سے زیادہ برا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6654

۔ (۶۶۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُوَ أَشَرُّ الثَّلَاثَۃِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَیْہِ۔)) یَعْنِی وَلَدَ الزِّنَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲۹۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زنا کی اولاد اس وقت تینوں میں سے سب سے بدتر ہوتی ہے، جب وہ اپنے ماں باپ جیسا کام کرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6655

۔ (۶۶۵۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللُّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا وَلَدُ زِنْیَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۸۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین کا نافرمان اور ہمیشہ کا شرابی اور احسان جتانے والا اورولد الزنا جنت میں داخل نہ ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6656

۔ (۶۶۵۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُتْبِعِ النَّظْرَ النَّظْرَ، فَاِنَّ الْأُوْلٰی لَکَ وَلَیْسَ لَکَ الْأَخِیْرَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۶۹)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: نظر کے پیچھے نظر نہ لگانا، پہلی نظر تو معاف ہے، جبکہ دوسری کی تجھے اجازت نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6657

۔ (۶۶۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا عَلِیُّ! اِنَّ لَکَ کَنْزًا مِنَ الْجَنَّۃِ وَاِنَّکَ ذُوْ قَرْنَیْہَا فَـلَا تُتْبِعِ النَّظْرَۃَ النَّظْرَۃَ فَاِنَّمَا لَکَ الْأُوْلٰی وَلَیْسَ لَکَ الْآخِرَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۳)
۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے علی! آپ کے لئے جنت میں ایک خزانہ ہے، تم جنت کے دونوں کناروں میں رہو گے، لہذا نظر کے پیچھے نظر نہ ڈالنا، بے شک تجھے پہلی نظر کی اجازت ہے، دوسری کی اجازت نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6658

۔ (۶۶۵۸)۔ عَنْ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِعَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((لَا تُتْبِعِ النَّظْرَۃَ النَّظْرَۃَ فَإِنَّ لَکَ الْأُوْلٰی وَلَیْسَتْ لَکَ الْآخِرَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۷۹)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: نظر کے پیچھے نظر نہ لگانا، پہلی نظر تو معاف ہے، جبکہ دوسری کی تجھے اجازت نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6659

۔ (۶۶۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُتِبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ نَصِیْبُہُ مِنَ الزِّنَا اَدْرَکَ لَا مَحَالَۃَ، فَالْعَیْنُ زِنْیَتُہَا النَّظْرُ وَیُصَدِّقُہَا الْاَعْرَاضُ وَاللِّسَانُ زِنْیَتُہُ النُّطْقُ وَالْقَلْبُ الْمُتَمَنِّیْ وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ مَا ثَمَّ وَیُکَذِّبُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم کے بیٹے پر اللہ تعالیٰ نے اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اس کو لا محالہ طور پر پائے گا، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، پھر مختلف (روحانی) بیماریاں اس کی تصدیق کرتی ہیں، زبان کا زنا بولنا ہے، دل تمنا کرنے والا ہوتا ہے اور شرمگاہ ان سب امور کی تصدیق کرتی ہے یا پھر تکذیب۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6660

۔ (۶۶۶۰)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ، وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِیَانِ، وَالْفَرْجُ یَزْنِی۔)) (مسند احمد: ۳۹۱۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دونوں آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، دونوں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں، دونوں پائوں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ بھی زنا کرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6661

۔ (۶۶۶۱)۔ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ ابْنِ آدَمَ لَہُ حَظُّہُ مِنَ الزِّنَا، فَزِنَا الْعَیْنَیْنِ النَّظْرُ، وَزِنَا الْیَدَیْنِ الْبَطْشُ، وَزِنَا الرِّجْلَیْنِ الْمَشْیُ، وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ وَالْقَلْبُ یَہْوِیْ وَیَتَمَنَّی وَیُصَدِّقُ ذَالِکَ أَوْ یُکَذِّبُہُ الْفَرْجُ۔)) وَحَلَّقَ عَشْرَۃً ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَہُ السَّبَابَۃَ فِیْہَا،یَشْہَدُ عَلٰی ذَالِکَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ، لَحْمُہُ وَدَمُہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۳۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کا زنا میں حصہ ہے، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پائوں کا زنا چلنا ہے،منہ کا زنا بوسہ لینا ہے اور دل اس کی خواہش اور تمنا کرتا ہے اور پھر شرمگاہ ان امور کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دس کے عدد کا حلقہ بنایا اور دوسرے ہاتھ کی انگشت ِ شہادت کو اس میں داخل کیا اور کہا:ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس پر گواہی دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6662

۔ (۶۶۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ عَیْنٍ زَانِیَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۸۶)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر آنکھ سے زنا سرزد ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6663

۔ (۶۶۶۳)۔ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ نَظْرَۃِ الْفَجْأَۃِ فَأَمَرَنِیْ أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِیْ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۷۳)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں نظر پھیر لیا کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6664

۔ (۶۶۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَنْظُرُ إِلٰی مَحَاسِنِ امْرَأَۃٍ أَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ یَغُضُّ بَصَرَہُ اِلَّا أَحْدَثَ اللّٰہُ لَہُ عِبَادَۃًیَجِدُ حَلَاوَتَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۳۴)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی پہلی مرتبہ کسی عورت کے محاسن پر نظر پڑتی ہے، لیکن پھر وہ اپنی نظر کو پست کر لیتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسی عبادت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6665

۔ (۶۶۶۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَنْصَارِیِّ أَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأَی امْرَأَۃً فَأَعْجَبَتْہُ فَاَتٰی زَیْنَبَ وَھِیَ تَمْعَسُ مَنِیْئَۃً فَقَضٰی مِنْہَا حَاجَتَہُ، وَقَالَ: ((إِنَّ الْمَرْأَۃَ تُقْبِلُ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍ فَاِذَا رَأَی أَحَدُکُمُ امْرَأَۃً فَأَعْجَبَتْہُ فَلْیَأْتِ أَھْلَہُ فَاِنَّ ذَاکَ یَرُدُّ مَا فِیْ نَفْسِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۹۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھی لگی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی حرم پاک سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جبکہ وہ چمڑا مل رہی تھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا: بے شک عورت شیطان کی صورت میں متوجہ ہوتی ہے اور شیطان کی صورت میں ہی پیٹھ پھیر کر جاتی ہے، اس لیے جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور (اپنی حاجت پوری کر لے)، یہ چیز اس کے نفس کے برے خیال کو ختم کر دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6666

۔ (۶۶۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْمَارِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ جَالِسًا فِی اَصْحَابِہِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ کَانَ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((أَجَلْ قَدْ مَرَّتْ بِیْ فُلَانَۃُ فَوَقَعَ فِیْ قَلْبِیْ شَہْوَۃُ النِّسَائِ فَأَتَیْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِیْ فَأَصَبْتُہَا فَکذَالِکَ فَافْعَلُوْا، فَاِنَّہُ مِنْ أَمَاثِلِ أَفْعَالِکُمْ إِتْیَانُ الْحَلَالِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۱)
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ گھر داخل ہوئے اور پھر باہر تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل بھی کیا ہوا تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کچھ ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، فلاں عورت میرے پاس سے گزری، اس سے میرے دل میں عورتوں کی خواہش بیدار ہوئی، اس لیے میںاپنی بیوی کے پاس گیا اور حق زوجیت ادا کیا، تم بھی اسی طرح کیا کرو، حلال کو اختیار کرنا تمہارے افضل اعمال میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6667

۔ (۶۶۶۷)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَیْمُوْنَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْہِ وَذَالِکَ بَعْدَ أَنْ أَمَرَنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِحْتَجِبَا مِنْہُ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ألَیْسَ أَعْمٰی لَا یُبْصِرُنَا وَلَا یَعْرِفُنَا؟ قَالَ: ((أَفَعَمْیَاوَانِ أَنْتُمَا؟ أَ لَسْتُمَا تُبْصِرَانِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۷۲)
۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دونوں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس داخل ہوئے، یہ پردہ کے حکم کے نازل ہونے کے بعد کی بات ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: اس سے پردہ کرو۔ ‘ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو نابینا آدمی ہیں، نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو، کیا تم اس کو دیکھ نہیں رہی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6668

۔ (۶۶۶۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَـلَا یَخْلُوَنَّ بِامْرَأَۃٍ لَیْسَ مَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ مِنْہَا فَاِنَّ ثَالِثَہُمَا الشَّیْطَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۰۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اس عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے، جس کا محرم موجود نہ ہو، کیونکہ ان دو کا تیسرا شیطان ہو گا۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6669

۔ (۶۶۶۹)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ لَا تَحِلُّ لَہُ فَاِنَّ ثَالِثَہُمَا الشَّیْطَانُ اِلَّا مَحْرَمٌ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَھُوَ مِنَ الْاِثْنَیْنِ أَبْعَدُ، مَنْ سَائَتْہُ سَیِّئَتُہُ وَسَرَّتْہُ حَسَنَتُہُ فَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۸۵)
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! ہرگز کوئی آدمی بھی کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے،جو اس کے لئے حلال نہ ہو، کیونکہ تیسرا شیطان آجاتا ہے، ما سوائے محرم کے، شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو سے زیادہ دور ہو جاتا ہے اور جس شخص کو اس کی برائی بری لگے اور اس کو اس کی اچھائی اچھی لگے، تو وہ مؤمن ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6670

۔ (۶۶۷۰)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَخْلُوَنَّ أَحَدُکُمْ بِامْرَأَۃٍ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ ثَالِثُہَا وَمَنْ سَرَّتْہُ حَسَنَتُہُ وَسَائَتْہُ سَیِّئَتُہُ فَہُوَمُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہرگز کوئی آدمی بھی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے، کیونکہ ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے، اور جس شخص کو اس کی اچھائی اچھی لگے اوراس کی برائی بری لگے تو وہ مؤمن ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6671

۔ (۶۶۷۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِیَّاکُمْ وَالدُّخُوْلَ عَلَی النِّسَائِ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَرَاَیْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ: ((الْحَمْوُ الْمَوْتُ)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۱)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عورتوں پر داخل ہونے سے خصوصی طور پر بچو۔ ایک انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا دیور کے متعلق کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیور تو موت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6672

۔ (۶۶۷۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۹۷)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ہی کپڑے میں مرد، مرد کے ساتھ اپنا جسم نہ ملائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6673

۔ (۶۶۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ اِلَّا الْوَلَدَ وَالْوَالِدَ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((أَلَا لَا یُفْضِیْنَّ رَجُلٌ إِلٰی رَجُلٍ وَلَا اِمْرَأَۃٌ إِلَی امْرَأَۃٍ اِلَّا إِلٰی وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۷۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں مباشرت نہ کرے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ نہ لیٹے، ما سوائے اولاد اور والدین کے۔ ایک روایت میں ہے: ہر گز کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ نہ لیٹے، ما سوائے اولاد اور والدین کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6674

۔ (۶۶۷۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُباشِرُ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ حَتّٰی تَصِفَہَا لَزَوْجِہَا کَأَنَّمَا یَنْظُرُ إِلَیْہَا۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِلَّا أَنْ یََکُوْنَ بَیْنَہُمَا ثَوْبٌ۔)) (مسند احمد: ۳۶۰۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت، عورت کے ساتھ مل کر نہ سوئے حتیٰ کہ وہ اپنے خاوند کے لیے اس خاتون کا حلیہ بیان کرے گی گویا کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ایک روایت میںیہ الفاظ زائد ہیں: الا یہ کہ ان دونوں کے درمیان کپڑا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6675

۔ (۶۶۷۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۷۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا آدمی، آدمی کے ساتھ اور عورت، عورت کے ساتھ آپس میں مل کر نہ سوئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6676

۔ (۶۶۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ شَہْمٍ قَالَ: کُنْت رَجُلًا بَطَّالًا، قَالَ: فَمَرَّتْ بِیْ جَارِیَۃٌ فِیْ بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ إِذَ ھَوَیْتُ إِلٰی کَشْحِہَا (وَفِیْ لَفْظٍ: أَخَذْتُ بِکَشْحِہَا) فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ قَالَ: فَأَتَی النَّاسُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَایِعُوْنَہُ فَأَتَیْتُہُ فَبَسَطْتُ یَدِیْ لِأُبَایِعَہُ فَقَبَضَ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ قَالَ: فَأَتَی النَّاسُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَایِعُوْنَہُ فَاَتَیْتُہُ فَبَسَطْتُ یَدِیْ لِأُبَایِعَہُ فَقَبَضَ یَدَہُ وَقَالَ: ((أُحِبُّکَ صَاحِبَ الْجُبَیْذَۃِ۔)) یَعْنِیْ اَمَا إِنَّکَ صَاحِبُ الْجُبَیْذَۃِ أَمْسِ؟ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! بَایِعْنِیْ فَوَ اللّٰہِ! لَا أَعُوْدُ أَبَدًا قَالَ: ((فَنَعَمْ إِذًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۷۹)
۔ ابو شہم سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں ایک بے کار سا آدمی تھا، ایک دن مدینہ منورہ کے کسی راستہ پر ایک لونڈی میرے پاس سے گزری، میں اس کے پہلو کی طرف جھکا، ایک روایت میں ہے : میں نے اس کا پہلو پکڑ لیا، اگلے دن جب لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کرنے کے لیے آئے تو میں بھی آیا اور بیعت کے لئے اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، اگلے دن پھر ایسے ہی ہوا کہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کر رہے تھے، میں بھی آیا اور اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، لیکن اس بار فرمایا: میں تجھے جبیذہ والا ساتھی گمان کر رہا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ سوال تھا کہ کیا کل تو جبیذہ والا ساتھی نہیں تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے بیعت لے لیں، اللہ کی قسم! میں کبھی بھییہ جرم نہیں کروں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ٹھیک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6677

۔ (۶۶۷۷)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَھَا مُخَنِّثٌ وَعِنْدَھَا أَخُوْھَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ أُمَیَّۃِ وَالْمُخَنِّثُ یَقُوْلُ لِعَبْدِ اللّٰہِ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ أُمَیَّۃَ إِنْ فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَیْکَ بِاِبْنَۃِ غَیْلَانَ فَاِنَّہَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، قَالَتْ: فَسَمِعَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَۃَ: ((لَا یَدْخُلَنَّ ھٰذَا عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۲۳)
۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا ہوا تھا، لیکن میرا بھائی سیدنا عبد اللہ بن ابی امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، اس ہیجڑے نے عبد اللہ سے کہا: اے عبد اللہ بن زمعہ! اگر کل اللہ تعالی نے تمہارے لیے طائف کو فتح کر لیا تو غیلان کی بیٹی کو تو نے لازمی طور پر پکڑ لینا ہے، کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے یہ الفاظ سنے تو سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: آئندہ یہ ہیجڑا ہر گز تجھ پر داخل نہ ہونے پائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6678

۔ (۶۶۷۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَجُلٌ یَدْخُلُ عَلٰی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنِّثٌ وَکَانُوْا یَعُدُّوْنَہُ مِنْ غَیْرِ أُوْلِی الْإِرْبَۃِ، فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا وَھُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِہِ وَھُوَ یَنْعَتُ امْرَأَۃً فَقَالَ: إِنَّہَا اِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَاِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا أَرٰی ھٰذَا یَعْلَمُ مَا ھَاھُنَا، لَا یَدْخُلُ عَلَیْکُنَّ ھٰذَا۔)) فَحَجَبُوْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۰۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک ہیجڑا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس آتا رہتا تھا، لوگ سمجھتے تھے کہ وہ شہوانی خواہشات سے عاری ہے، ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشریف لائے تو وہ ہیجڑا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی اہلیہ کے پاس موجود تھا، وہ ایک عورت کا حسن یوں بیان کرنے لگا کہ وہ جب آتی ہے تو چار بَلْ کے ساتھ آتی ہے اور جب وہ جاتی ہے تو آٹھ بل کے ساتھ جاتی ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنا کچھ جانتا ہے، یہ آئندہ تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ پس لوگوں نے اس کو منع کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6679

۔ (۶۶۷۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُخَنِّثِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ وَقَالَ: ((اَخْرِجُوْھُمْ مِنْ بُیُوْتِکُمْ۔)) فَأَخْرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا۔ (مسند احمد: ۱۹۸۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو ہیجڑا پن اپناتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو مردانہ پن اپناتی ہیں اور فرمایا: ہیجڑوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فلاں کو اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فلاں کو گھر سے نکال دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6680

۔ (۶۶۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنِّثِی الرِّجَالِ الَّذِیْنَیَتَشَبَّہُوْنَ بِالنِّسَائِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ الْمُتَشَبِّہَاتِ بِالرِّجَالِ، وَرَاکِبَ الْفَلَاۃِ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۴۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مردوں کے ان ہیجڑوں پر لعنت کی ہے، جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوںپر بھی لعنت کی، جو مردوں کا سا انداز اپناتی ہیں اور ان کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور اس پر بھی لعنت کی ہے جو جنگل میں تنہا سفر کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6681

۔ (۶۶۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَعَنَ الْمُخَنِّثِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۵۳۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مردوں میں سے بہ تکلف ہیجڑا پن اختیار کرنے والوں پر لعنت کی ہے اور عورتوں میں سے جو مردوں کا سا پن اپناتی ہیں، ان پر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعنت کی ہے۔

آیت نمبر