MUSNAD AHMED

Search Results(1)

112)

112) زنا کی حد کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6682

۔ (۶۶۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعَثَ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْزَلَ عَلَیْہِ الْکِتَابَ، فَکَانَ فِیْمَا أَنْزَلَ عَلَیْہِ آیَۃُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَا بِہَا وَعَقَلْنَاھَا وَوَعَیْنَاھَا فَأَخْشٰی أَنْ یَطُوْلَ بِالنَّاسِ عَہْدٌ فَیَقُوْلُوْا: إِنَّا لَا نَجِدُ اٰیَۃَ الرَّجْمِ فَتُرِکَ فَرِیْضَۃٌ أَنْزَلَھَا اللّٰہُ تَعَالٰی وَأَنَّ الرَّجْمَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالیٰ حَقٌّ عَلٰی مَنْ زَنَا إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الْرِجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا قَامَتِ الْبَیِّنَۃُ أَوْ کَانَ الْحَبْلُ أَوِ الْاِعْتِرَافُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا اور اس اللہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جو کتاب نازل کی، اس میں رجم والی آیت بھی تھی، ہم نے اس کو پڑھا تھا، سمجھا تھا اور خوب یاد کیا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ ہم قرآن مجید میں رجم کی آیت نہیں پاتے،اس طرح اللہ تعالی کے نازل کردہ ایک فریضے کو چھوڑ دیا جائے گا، جبکہ رجم اللہ تعالی کی کتاب میں ثابت ہے، اس مرد اور عورت کو رجم کیا جائے گا، جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے، جب گواہی ہو، یا حمل ظاہر ہو جائے، یا مجرم اعتراف کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6683

۔ (۶۶۸۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (وَفِیْ لَفْظٍ: خَطَبَنَا) فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَاَثْنٰی عَلَیْہِ فَذَکَرَ الرَّجْمَ فَقَالَ: لَا نُخْدَعَنَّ عَنْہٗفَاِنَّہٗحَدٌّمِنْحُدُوْدِاللّٰہِتَعَالٰی، أَلَا اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَہُ وَلَوْلَا أَنْ یَقُوْلَ قَائِلُوْنَ: زَادَ عُمَرُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ مَا لَیْسَ مِنْہُ لَکَتَبْتُہُ فِیْ نَاحِیَۃٍ مِنَ الْمُصْحَفِ، شَہِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَفَلَانٌ وَفَلَانٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِہِ، أَلَا وَإِنَّہُ سَیَکُوْنُ مِنْ بَعْدِکُمْ قَوْمٌ یُکَذِّبُوْنَ بِالرَّجْمِ وَبِالدَّجَّالِ وَبِالشَّفَاعَۃِ وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ، وَبِقَوْمٍ یُخْرَجُوْنَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا امْتَحَشُوْا۔ (مسند احمد: ۱۵۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم سے خطاب کیا،اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور پھر رجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس معاملے میں ہمیں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، بیشکیہ حدودِ الٰہی میں سے ایک حد ہے، خبردار ! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجم کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اگر کسی کہنے والے کے اس کہنے کا ڈر نہ ہوتا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کتاب اللہ تعالی میں اضافہ کر دیا ہے، تو میں قرآن پاک کے کنارے پر رجم کی آیت تحریر کر دیتا، سیدنا عمربن خطاب، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور فلاں فلاں یہ گواہی دیتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجم کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ خبردار! تمہارے بعد کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے، جو رجم، دجال، شفاعت اور عذاب ِ قبر کو جھٹلائیں گے، اور حدیث کے مطابق کچھ لوگ جھلسنے کے بعد جہنم سے نکالے جائیں گے، یہ لوگ اس واقعہ کو بھی جھٹلا دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6684

۔ (۶۶۸۴)۔ ) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّۃٌ مِنْ سُنَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ کَانَتْ نَزَلَتْ آیَۃُ الرَّجْمِ فَہَلَکَ مَنْ کَانَ یَقْرَؤُھَا وَآیًا مِنَ الْقُرْآنِ بِالْیَمَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رجم کرنا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی، جو لوگ اس کی اور قرآن کی دوسری آیات کی تلاوت کرتے تھے، وہ یمامہ میں شہید ہو گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6685

۔ (۶۶۸۵)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ھُرَیْرَۃَ وَزَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ وَشَبْلًا قَالَ سُفْیَانُ: قَالَ بَعْضُ النَّاسِ: اِبْنَ مَعْبَدٍ وَالَّذِیْ حَفِظْتُ: شِبْلًا، قَالُوْا: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنْشُدُکَ اللّٰہَ اِلَّا قَضَیْتَ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ، فَقَامَ خَصْمُہُ وَکَانَ أَفْقَہَ مِنْہُ فَقَالَ: صَدَقَ، اِقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَائْذَنْ لِی فَأَتَکَلَّمَ، قَالَ: ((قُلْ۔)) قَالَ: إِنَّ ابْنِی کَانَ عَسِیْفًا عَلٰی ھٰذَا وَإِنَّہُ زَنٰی بِاِمْرَأَتِہِ فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِائَۃِ شَاۃٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَھْلِ الْعِلْمِ فَاَخْبَرُوْنِیْ أَنَّ عَلَی ابْنِی جَلْدَ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبَ عَامٍ وَعَلَی امْرَأَۃِ ھٰذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، الْمِائَۃُ شَاۃٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَیْکَ، وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبُ عَامٍ، وَاغْدُ یَا أُنَیْسُ! (رَجُلٌ مِنْ اَسْلَمَ) عَلَی امْرَأَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْہَا۔))، فَغَدَا عَلَیْہَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَہَا۔ (مسند احمد: ۱۷۱۶۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا شبل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں، اس کا مد مقابل بھی کھڑا ہوا جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا اور اس نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، آپ ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے گفتگو کرنے کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کرو بات۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا، اُس نے اِس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا، میں نے اس سے ایک سو بکریاں اور خادم فدیہ کے طور پر دیئے ہیں، پھر جب میں نے اہل علم سے دریافت کیا ہے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی ہو گی اور اس آدمی کی بیوی کو سنگسار کر دیا جائے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تجھ کو لوٹا دیئے جائیں گے اور تیرے بیٹے پر ایک سال کی جلاوطنی اور اس کو سو کوڑے بھی لگائیں جائیں گے، اور اے انیس! تو اس کی بیوی کے پاس جا،اگر وہ زنا کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دینا۔ جب سیدنا انیس اس عورت کے پاس گئے تو اس نے اعتراف کرلیا ، پس انھوں اسے رجم کر دیا۔ سیدنا انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بنواسلم قبیلہ کے آدمی تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6686

۔ (۶۶۸۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّہُ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَزَلَ الْوَحْیُ عَلَیْہِ کَرَبَ لِذَالِکَ وَتَرَبَّدَ، فَأَوْحٰی إِلَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَلَقِیَ کَذَالِکَ فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا، اَلثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ، الثَّیِّبُ جَلْدُ مِائَۃٍ ثُمَّ رُجِمَ بِالْحِجَارَۃِ، وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ ثُمَّ نَفْیُ سَنَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱۴)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرب و اذیت کا سامنا کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رنگت تبدیل ہو جاتی، ایک دن جب آپ پر وحی کا نزول ہواتو آپ پر یہی کیفیت طاری ہو گئی، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد اور کنواری عورت کے ساتھ کنوارا مرد زنا کرے گا تو شادی شدہ کو سو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے گا اور کنواروں کو سو کوڑے لگا کر ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6687

۔ (۶۶۸۷)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا عَنِّیْ خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلَا، الْبِکْرُ بِا لْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۰۵)
۔ سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کی جلا وطنی ہو گی اور جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد برائی کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگا کر سنگسار کر دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6688

۔ (۶۶۸۸)۔ عَنِ الْشَّعْبِیِّ قَالَ: أُتِیَ عَلَیٌّ بِزَانٍ مُحْصَنٍ فَجَلَدَہُ یَوْمَ الْخَمِیْسِ مِائَۃَ جَلَدَۃٍ ثُمَّ رَجَمَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقِیْلَ لَہُ: جَمَعْتَ عَلَیْہِ حَدَّیْنِ، فَقَالَ: جَلَدْتُہُ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَرَجَمْتُہُ بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۹۴۱)
۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک شادی شدہ زانی کو لایا گیا،انھوں نے اس کو جمعرات کے دن سو کوڑے لگائے اور پھر جمعہ کے دن اس کو رجم کر دیا، کسی نے ان سے کہا: آپ نے تو اس پر دو حدّیں جمع کر دیں ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے مارے ہیں اور سنت ِ رسول کی روشنی میں رجم کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6689

۔ (۶۶۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَضٰی فِیْمَنْ زَنٰی وَلَمْ یُحْصِنْ أَنْ یُّنْفٰی عَامًا مَعَ الْحَدِّ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۹۸۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کے بارے میںیہ فیصلہ کیا اسے حد کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لئے جلاوطن بھی کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6690

۔ (۶۶۹۰)۔ عَنْ مُسَاوِرِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا بَرْزَۃَ فَقُلْتُ: ھَلْ رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجُلًا مِنَّا یُقَالُ لَہُ: مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۳۵)
۔ مسادر بن عبیدکہتے ہیں: میں سیدنا ابوبرزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں،ہم میں سے ایک آدمی کو رجم کیا تھا، اس کا نام ماعز بن مالک تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6691

۔ (۶۶۹۱)۔ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا ھَلْ رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجَمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ وَامْرَأَۃً وقَالَ لِلْیَہُوْدِیِّ: ((نَحْکُمُ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۱۸)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کو رجم کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اسلم قبیلہ کے ایک آدمی کو، ایکیہودی کو اور ایک عورت کو رجم کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی سے فرمایاتھا: ہم آج تمہارا فیصلہ کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6692

۔ (۶۶۹۲)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ ثَنَا ھِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِییَزِیْدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ ھَزَّالٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فِیْ حِجْرِ اَبِیْ فَأَصَابَ جَارِیَۃً مِنَ الْحَیِّی فَقَالَ لَہُ اَبِیْ: إِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّہ یَسْتَغْفِرُ لَکَ، وَإِنَّمَا یُرِیْدُ بِذَالِکَ رَجَائَ أَنْ یَکُوْنَ لَہُ مَخْرَجٌ، فَأَتَاہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَأَعْرَضَ عنَہُ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکَ قَدْ قُلْتَہَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فِیْمَنْ؟)) قَالَ: بِفُلَانَۃٍ، قَالَ: ((ھَلْ ضَاجَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ بَاشَرْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ جَامَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ، قَالَ: ((فَأُخْرِجَ بِہِ إِلَی الْحَرَّۃِ۔)) فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزَعَ فَخَرَجَ یَشْتَدُّ فَلَقِیَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَہُ فَنَزَعَ لَہُ بِوَظِیْفِ بَعِیْرٍ فَرَمَاہُ بِہِ فَقَتَلَہُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ َذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ لَعَلَّہ یَتُوْبُ فَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ ھِشَامٌ: إِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّہ یَسْتَغْفِرُ لَکَ، وَإِنَّمَا یُرِیْدُ بِذَالِکَ رَجَائَ أَنْ یَکُوْنَ لَہُ مَخْرَجٌ، فَأَتَاہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَأَعْرَضَ عنَہُ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکَ قَدْ قُلْتَہَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فِیْمَنْ؟)) قَالَ: بِفُلَانَۃٍ، قَالَ: ((ھَلْ ضَاجَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ بَاشَرْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ جَامَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ، قَالَ: ((فَأُخْرِجَ بِہِ إِلَی الْحَرَّۃِ۔)) فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزَعَ فَخَرَجَ یَشْتَدُّ فَلَقِیَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَہُ فَنَزَعَ لَہُ بِوَظِیْفِ بَعِیْرٍ فَرَمَاہُ بِہِ فَقَتَلَہُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ َذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ لَعَلَّہ یَتُوْبُ فَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ ھِشَامٌ: فَحَدَّثَنِیْیَزِیْدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ ھَزّالٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِی حِیْنَ رَأٰہُ: ((وَاللّٰہِ یَاھَزَّالُ! لَوْکُنْتَ سَتَرْتَہُ بِثَوْبِکَ کَانَ خَیْرًا مِمَّا صَنَعْتَ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۵)
۔ نعیم بن ہزال کہتے ہیں: ماعز بن مالک میرے ابا جان کی زیر پرورش تھا، اس نے قبیلہ کی ایک لونڈی سے زنا کر لیا، میرے ابا جان نے اس سے کہا: تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چل اور آپ کو اپنے کیے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے لیے بخشش کی دعا کر دیں، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید بچائو کی کوئی صورت نکل آئے، چنانچہ ماعز آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض کر لیا، وہ دوسری جانب آ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں زنا کر بیٹھا ہوں، آپ مجھ پراللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رخ پھیر لیا)، وہ تیسری بار سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم نافذ کریں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اعراض کیا)، پھر چوتھی مرتبہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری کریں، اب کی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے چار مرتبہ اعتراف کر لیا ہے، اب مجھے بتا کہ تو نے کس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں عورت سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کے ساتھ لیٹا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’کیا تو نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا آپ نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ اس کو رجم کردیا جائے، پس اس کو حرّہ کی طرف لے جایا گیا، جب اسے پتھر زنی کی تکلیف ہوئی تو وہ بے سے ہو کر وہاں سے نکل کر بھاگا، آگے سے سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ملے، اُدھر اس کو رجم کرنے والے اب عاجز آ چکے تھے، چنانچہ سیدنا عبد اللہ نے اونٹ کی پنڈلی کی ایک ہڈی لی اور اس کو مار دی، پس وہ فوت ہو گیا، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بھاگ جانے کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا۔ نعیم بن ہزال نے اپنے ابا جان سے روایت کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: اے ہزال! اگر تم نے اس کی پردہ پوشی کی ہوتی تو بہتر ہوتا، بہ نسبت اس کے جو آپ نے اس کو مشورہ دے کر اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6693

۔ (۶۶۹۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ھَزَّالٍ أَنَّ ھَزَّالًا کَانَ اِسْتَأْجَرَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ وَکَانَتْ لَہُ جَارِیَۃٌ،یُقَالُ لَھَا: فَاطِمَۃُ، قَدْ أَمْلَکَتْ وَکَانَتْ تَرْعٰی غَنَمًا لَھُمْ وَأَنَّ مَاعِزًا وَقَعَ عَلَیْہَا فَأَخْبَرَ ھَزَّالًا فَخَدَعَہُ فَقَالَ: اِنْطَلِقْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ، عَسٰی أَنْ یَنْزِلَ فِیْکَ قُرْآنٌ، فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَ، فَلَمَّا عَضَّتْہُ مَسُّ الْحِجَارَۃِ انْطَلَقَ یَسْعٰی فَاسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ بِلَحْیِ جَزُوْرٍ أَوْ سَاقِ بَعِیْرٍ فَضَرَبَہُ بِہِ فَصَرَعَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْلَکَیَاھَزَّالُ! لَوْ کُنْتَ سَتَرْتَہُ بِثَوْبِکَ کَانَ خَیْرًا لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۶)
۔ (دوسری سند) نعیم بن ہزال سے روایت ہے کہ سیدنا ہزال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ماعز بن مالک کو کرائے پر رکھا اور ہزال کی فاطمہ نامی ایک لونڈی تھی،اس نے خاوند سے طلاق لے رکھی تھی اور وہ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ماعز نے اس سے برائی کر لی اور پھر سیدنا ہزال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی بتا دیا، انھوں نے اس کو دھوکہ دیا اور کہا:تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اورآپ کو اس وقوعے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ تیرے بارے میں قرآن مجید نازل ہو اور اس طرح کوئی بہتر سبیل نکل آئے، جب اس نے تفصیل بتائی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا،پس اس کو رجم کیا جانے لگا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگ پڑا، آگے سے ایک آدمی اونٹ کے جبڑے کییا پنڈلی کی ایک ہڈی لے کرآ رہا تھا، اس نے اس کو وہ ہڈی مار کر گرا دیا، بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے ہزال! تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر تو نے اپنے کپڑے سے اس پر پردہ کیا ہوتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6694

۔ (۶۶۹۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: أُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٍ قَصِیْرٍ فِیْ إِزَارِہِ، مَا عَلَیْہِ رِدَائٌ قَالَ: وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَّکِیئٌ عَلٰی وِسَادَۃٍ عَلٰییَسَارِہِ، فَکَلَّمَہُ وَمَا أَدْرِیْ مَایُکَلِّمُہُ وَأَنَا بَعِیْدٌ مِنْہُ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ قَوْمٌ، فَقَالَ: ((اذْھَبُوْا بِہِ۔))، ثُمَّ قَالَ: ((رُدُّوْہُ۔)) فَکَلَّمَہُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ: ((اذْھَبُوْا بِہِ فَارْجُمُوْہُ۔))، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا وَأَنَا أَسْمَعُہُ فَقَالَ: ((أَ کُلَّمَا نَفَرْنَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَلَفَ أَحَدُھُمْ لَہُ نَبِیْبٌ کَنَبِیْبِ التَّیْسِیَمْنَحُ إِحْدَاھُنَّ الْکُثْبَۃَ مِنَ اللَّبَنِ، وَاللّٰہِ! لَا اَقْدِرُ عَلٰی اَحَدِھِمْ اِلَّا نَکَّلْتُ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۸۴)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا،یہ ایک چھوٹے قد کا آدمی تھا اور اس نے صرف تہبندباندھا ہوا تھا، اس پر اوپر والی چادر نہیں تھی، اُدھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکیے پر اپنی بائیں جانب سے ٹیک لگائی ہوئی تھی، پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلام کیا، لیکن میں دور تھا اور میرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان لوگ بھی حائل تھے، اس لیے مجھے پتہ نہ چل سکا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: ’اس کو لے جائو۔ پھر فرمایا: اس کو واپس لائو۔ اس نے پھر بات کی اور میں سن رہا تھا، اب کی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور سنگسار کر دو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور فرمایا: جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں اور لوگوں میں سے ایک آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور معمولی سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! جب کسی ایسے شخص پر قدرت پا لوں گا تو اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6695

۔ (۶۶۹۵)۔ ) وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا، قَالَ: فَحَوَّلَ وَجْہَہُ، قَالَ: فَجَائَ فَاعْتَرَفَ مِرَارًا فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ فَرُجِمَ، ثُمَّ أُتِیَ فَأُخْبِرَ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ کُلَّمَا نَفَرْنَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وتَعَالٰی تَخَلَّفَ عِنْدَھُنَّ أَحَدُھُمْ، لَہُ نَبِیْبٌ کَنَبِیْبِ التَّیْسِیَمْنَحُ اِحْدَاھُنَّ الْکُثْبَۃَ، لَئِنْ أَمْکَنَنِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْہُمْ لَأَجْعَلَنَّہُمْ نَکَالًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۸۹)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ ماعز بن مالک ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، لیکن وہ اُس طرف سے آگیا اور پھر زنا کا اعتراف کیا اور پھر بار بار اعتراف کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ اس کو سنگسار کیا جا چکا ہے، پس آپ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اورپھر فرمایا: ان لوگوں کاکیا بنے گا کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں تو کوئی آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور تھوڑا سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے کسی ایسے شخص پر قدرت دی تو میں اس کو لوگوں کے لیے عبرت بناؤں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6696

۔ (۶۶۹۶)۔ ) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ قَالَ: أُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ قَصِیْرٍ أَشْعَثَ ذِیْ عَضَلَاتٍ، عَلَیْہِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنٰی فَرَدَّہُ مَرَّتَیْنِ قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ (فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ السَّابِقِ وَنَسِیَ آخِرَہُ) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْہِ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ فَقَالَ: إِنَّہُ رَدَّہُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۹۴)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک کوتاہ قد آدمی لایا گیا، اس کی حالت پراگندہ تھی، وہ مضبوط پٹھوں اور گٹے بدن والا تھا، اس نے تہبند پہنا ہوا تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ اس کو ردّ کر دیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا، … سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی…، سعید بن جبیر نے اپنی حدیث میںیہ الفاظ نقل کیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوچار مرتبہ ردّ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6697

۔ (۶۶۹۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ وَلَمْ یَذْکُرْ جَلْدًا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۵۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماعز بن مالک کو رجم کیا، راوی نے کوڑوں کا ذکر نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6698

۔ (۶۶۹۸)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْلَجْلَاجِ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی السُّوْقِ إِذْ مَرَّتِ امْرَأَۃٌ تَحْمِلُ صَبِیًّا فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ مَعَہُمْ، فَانْتَہَیْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ لَھَا: ((مَنْ اَبُوْ ھٰذَا؟)) فَسَکَتَتْ، فَقَالَ: ((مَنْ اَبُوْ ھٰذَا؟)) فَسَکَتَتْ،فَقَالَ شَابٌّ بِحِذَائِھَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہَا حَدِیْثَۃُ السِّنِّ، حَدِیْثَۃُ عَہْدٍ بِخَزْیَۃٍ، وَاِنَّہَا لَمْ تُخْبِرْکَ وَأَنَا أَبُوْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! فَالْتَفَتَ إِلٰی مَنْ عِنْدَہُ کَأَنَّہُ یَسْأَلُھُمْ عَنْہُ، فَقَالُوْا: مَا عَلِمْنَا اِلَّا خَیْرًا أَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ فَذَھَبْنَا فَحَفَرْنَا لَہُ حَتّٰی أَمْکَنَّا وَرَمَیْنَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتّٰی ھَدَأَ، ثُمَّ رَجَعْنَا اِلٰی مَجَالِسِنَا فَبَیْنَمَا نَحْنُ کَذَالِکَ اِذَا اَنَا بِشَیْخٍیَسْأَلُ عَنِ الْفَتٰی فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَأَخَذْنَا بِتَلَابِیْبِہِ فَجِئْنَا بِہِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ھٰذَا جَائَ یَسْأَلُ عَنِ الْخَبِیْثِ، فَقَالَ: ((مَہْ لَھُوَ أَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہ رِیْحًا مِنَ الْمِسْکِ۔)) قَالَ: فَذَھَبْنَا فَأَعَنَّاہُ عَلٰی غُسْلِہِ وَتَکْفِیْنِہِ وَحَفَرْنَا لَہُ، وَلَمْ أَدْرِ أَذَکَرَ الصَّلَاۃَ أَمْ لَا۔ (مسند احمد: ۱۶۰۳۰)
۔ لجلاج سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم بازار میں تھے، وہاںسے ایک عورت گزری، اس نے ایک بچہ اٹھائے ہوئے تھا، لوگ اس کی طرف کود پڑے اور میں بھی ان کے ساتھ کود پڑا، جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس خاتون سے پوچھ رہے تھے: اس بچے کا باپ کون ہے۔ وہ خاموش رہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: بتا اس کا باپ کون ہے؟ وہ پھر خاموش رہی، اتنے میں اس کے سامنے کھڑے ہوئے ایک نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خاتون نوعمر ہے اور اس کا رسوا کن معاملہ بھی ابھی ابھی پیش آیا ہے، اے اللہ کے رسول! میں اس بچے کا باپ ہوں، مجھ سے اس کے ساتھ برائی ہو گئی ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے، گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے اس کے متعلق مشورہ لے رہے تھے، لوگوں نے کہا: ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر و بھلائی کی بات ہی جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میں شادی شدہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا، پس ہم گئے، اس کے لئے گڑھا کھودا اور جب ہم نے اس پر قدرت پا لی تو اس پر پتھر بر سائے، یہاں تک کہ اس کا دم نکل گیا، پھر ہم واپس آ کر اپنی مجلس میں بیٹھ گئے، اس دوران میں نے ایک بوڑھا آدمی دیکھا، وہ اس نوجوان کے متعلق پوچھ رہا ہے، ہم نے اسے اس کے گریبان سے پکڑ لیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آئے اور ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ بوڑھا اس خبیث نوجوان کے بارے میں پوچھتا پھرتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسی باتوں سے باز آ جاؤ،وہ جوان تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ عمدہ مہک والا ہے۔ جونہی ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات سنی تو ہم گئے اور اس کے غسل اور کفن میں تعاون کیا، پھر اس کے لیے قبر تیار کی،یہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔

آیت نمبر