Musnad Ahmad

Search Results(1)

114)

114) زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6747

۔ (۶۷۴۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَمْسٍ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ مِنْہُنَّ: ((وَمَنْ قََفٰی مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَۃً حَبَسَہُ اللّٰہُ فِیْ رَدْغَۃِ الْخَبَالِ، عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:کیا میں تمہیں وہ پانچ باتیں بتا نہ دوں جو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہیں؟ پھر انھوں نے ان کا ذکر کیا، ان میں ایک بات یہ تھی: جو کسی مؤمن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگاتا ہے، اللہ تعالی اس کو رَدْغَۃ الخَبَال یعنی جہنمیوں کے پیپ میں ٹھہرائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6748

۔ (۶۷۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ نَبِیَّ التَّوْبَۃِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوْکَہُ وَھُوَ بِرِیْئٌ مِمَّا قَالَ، اَقَامَ عَلَیْہِ الْحَدَّیَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۹۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی توبہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، جبکہ وہ اس تہمت سے بری ہو، تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، الّا یہ کہ وہ اسی طرح ہو، جیسے اس کے آقا نے اس کے بارے میں کہاہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6749

۔ (۶۷۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ زَنّٰی اَمَۃً لَمْ یَرَھَا تَزْنِیْ، جَلَدَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَسْوِطٍ مِنْ نَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۳)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی لونڈی کو زنا کارقرار دیا، جبکہ اس نے اس کو زنا کرتے ہوئے دیکھا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو آگ کے کوڑے سے حدّ لگائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6750

۔ (۶۷۵۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖقَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَیْنِ: ((أَنَّہُ یَرِثُ أُمَّہُ وَتَرِثُہُ أُمُّہُ، وَمَنْ قَفَاھَا بِہِ جُلِدَ ثَمَانِیْنَ، وَمَنْ دَعَاہُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۰۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: یہ اولاد اپنی ماں کی اور اس کی ماں ان کی وارث بنے گی اور جس نے اس خاتون پر تہمت لگائی، اس کو اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے اور جس نے ایسی اولاد کو زنا والی اولاد قرار دیا، اس کو بھی اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6751

۔ (۶۷۵۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمّا نَزَلَ عُذْرِیْ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ ذَالِکَ وَتَلَا الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَیْنِ وَامْرَأَۃٍ فَضُرِبُوْا حَدَّھُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۶۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب میرا عذر نازل ہوا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے، اس چیز کا ذکر کیا، پھر قرآن پاک کی متعلقہ آیات کی تلاوت کی، پھر جب منبر سے نیچے اترے تودو مردوں اور ایک عورت کو حد لگانے کا حکم دیا، پس ان پر حد لگا دی گئی۔

آیت نمبر