Musnad Ahmad

Search Results(1)

115)

115) تہمت کی حد کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6752

۔ (۶۷۵۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَنَ الْلّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ، وَیَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے، وہ خود چوری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، وہ رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6753

۔ (۶۷۵۳)۔ عَنْ یَحْیَ بْنَ یَحْیَ الْغَسَّانِیِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَھُوَ عَامِلٌ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: أُتِیْتُ بِسَارِقٍ فاَرْسَلَتْ اِلَیَّ خَالَتِی عَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنْ لَّا تَعْجَلْ فِی أَمْرِ ھٰذَا الرَّجُلِ حَتّٰی آتِیَکَ فَأُخْبِرَکَ مَاسَمِعْتُ مِنْ عَائِشَۃَ فِی أَمْرِ السَّارِقِ، قَالَ: فَأَتَتْنِی وَأَخْبَرَتْنِی أَنَّہَا سَمِعْتْ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْطَعُوْا فِی رُبُعِ الدِّیْنَارِ، وَلَا تَقْطَعُوْا فِیْمَا ھُوَ أَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ۔)) وَکَانَ رُبُعُ الدِّیْنَارِیَوْمَئِذٍ ثَلَاثَۃَ دَرَاھِمٍ فَالدِّیْنَارُ اِثْنَیْ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ: وَکَانَتْ سَرِقَتُہُ دُوْنَ رُبُعِ الدِّیْنَارِ فَلَمْ أَقْطَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۰)
۔ یحییٰ بن یحییٰ غسانی کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا اور مدینہ کے عامل ابوبکر بن محمد کو ملا، انھوں نے کہا: میرے پاس ایک چور لایا گیا اورمیری خالہ عمرہ بنت عبد الرحمن نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اس آدمی کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرنا، مجھے آلینے دو تاکہ میں تجھے وہ حدیث بتا سکوں جو میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے چور کے بارے میں سنی ہے، پس وہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے چور کے بارے میں سنا ، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصہ میں کاٹو، اس سے کم میں نہ کاٹو۔ ان دنوں میں دینار کا چوتھا حصہ تین درہم کے برابر ہوتا تھا، تو دینار بارہ درہم کا ہوا، اس چور کی چوری دینار کے چوتھے حصہ سے کم تھی ، لہذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6754

۔ (۶۷۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَاتُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ اِلَّا) فِیْ رُبُعِ دِیْنَارٍ فَصَاعِدًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۱۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، مگر دینار کے چوتھائی حصے میںیااس سے زیادہ میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6755

۔ (۶۷۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَطَعَ یَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّۃِ النِّسَائِ ثَمَنُہُ ثَلَاثَۃُ دَرَاھِمَ۔ (مسند احمد: ۶۳۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا، اس نے عورتوں کے چبوترے سے ڈھال چوری کی تھی، اس کی قیمت تین درہم تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6756

۔ (۶۷۵۶)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُقْطَعُ الْیَدُ فِی ثَمَنِ الْمِجَنِّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ڈھال کی قیمت کے برابر کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6757

۔ (۶۷۵۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ: اَنَّقِیْمَۃَ الْمِجَنِّ کَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَۃُ دَرَاھِمَ۔ (مسند احمد: ۶۶۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6758

۔ (۶۷۵۸)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا قَطْعَ فِیْمَا دُوْنَ عَشَرَۃِ دَرَاھِمَ)) (مسند احمد: ۶۹۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6759

۔ (۶۷۵۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْحَرِیْسَۃِ الَّتِیْ تُوْجَدُ فِی مَرَاتِعِہَا وَقَدْ سُئِلَ عَنْہَا، قَالَ: ((فِیْہَا ثَمَنُہَا مَرَّتَیْنِ وَضَرْبُ نَکَالٍ وَمَا أُخِذَ مِنْ عَطَنِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ مَایُؤْخَذُ مِنْ ذَالِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔)) قَالَ: (أَیْ السَّائِلُ) یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالثِّمَارُ وَمَا أُخِذَ مِنْہَا فِیْ أَکْمَامِہَا؟ قَالَ: ((مَنْ أَخَذَ بِفِیْہِ وَلَمْ یَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، وَمَنِ احْتَمَلَ فَعَلَیْہِ ثَمَنُہُ مَرَّتَیْنِ وَضَرْبًا وَنَکَالًا، وَمَا أُخِذَ مِنْ أَجْرَانِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ مَا یُؤْخَذُ مِنْ ذَالِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔))(مسند احمد: ۶۶۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس محفوظ جانور کے بارے میں جو کہ اپنی چراگاہ میں تھا سوال کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی چوری میں دگنی قیمت ہوگی اور چور کو سزا بھی دی جائے گی اور جو جانوروں کے باڑے سے چرا لیا جائے گا، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو۔ سائل نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان پھلوں کے متعلق کیا حکم ہے جو گابھے اور شگوفے سے چرا لیے جائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صرف کھا لیا اور کپڑے میں ڈال کر نہ لے گیا،اس پر کوئی پکڑ نہیں اور جو کپڑے میں اٹھا کر لے جائے گا تو اسے اس کی دو گناقیمت دینا پڑے گی اور مار اور سزا بھی ساتھ ہوگی اور جو کھجور کھلیان جیسے محفوظ مقام سے چرائی جائے گی، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6760

۔ (۶۷۶۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ عَلَی الْمُنْتَہِبِ قَطْعٌ، وَمَنِ انْتَہَبَ نُہْبَۃً مَشْہُوْرَۃً فَلَیْسَ مِنَّا۔)) وَقَالَ: ((لَیْسَ عَلَی الْخَائنِ قَطْعٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۳۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ڈاکو پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے اور جس نے واضح طور پر ڈاکہ مارا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے پر بھی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6761

۔ (۶۷۶۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَتْ مَخْزُوْمِیَّۃٌ تَسْتَعِیْرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُہُ فَاَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَطْعِہَا۔(مسند احمد: ۶۳۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مخزوم قبیلے کی ایک عورت سامان ادھار لیتی تھی اور پھر انکار کر دیتی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6762

۔ (۶۷۶۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ: سَرَقَ غُلَامٌ لِنُعْمَانَ الْأَنْصَارِیِّ نَخْلًا صِغَارًا فَرُفِعَ اِلٰی مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ یَقْطَعَہُ، فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُقْطَعُ فِی الثَّمَرِ وَلَا فِی الْکَثَرِ۔)) قَالَ: قُلْتُ لِیَحْیٰ: مَا الْکَثَرُ؟ قَالَ: الْجُمَّارُ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۰۷)
۔ محمد بن یحییٰ بن حبان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا نعمان انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک غلام نے چھوٹی چھوٹی کھجوریں چوری کر لیں،جب ااس کا معاملہ مروان کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھل اور کھجور کے درخت کے گوند کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ میں نے یحییٰ سے کہا: کَثَر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جُمَّار (کھجور کے درخت کا گوند)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6763

۔ (۶۷۶۳)۔ عَنْ اَبِی اُمَیَّۃَ الْمَخْزُوْمِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ وَلَمْ یُوْجَدْ مَعَہ مَتَاعٌ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا إِخَالُکَ سَرَقْتَ۔)) قَالَ: بَلْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْطَعُوْہُ ثُمَّ جِیْئُوْا بِہِ۔)) قَالَ: فَقَطَعُوْہُ ثُمَّ جَائُ وْا بِہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ۔)) قَالَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۷۵)
۔ سیدنا ابو امیہ مخزومی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے چوری کا اعتراف تو کیا، لیکن اس کے پاس سامان نہیں تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: میرا خیال ہے تو نے چوری نہیں کی۔ اس نے کہا: کیوں نہیں، میں نے چوری کی ہے،دو یا تین مرتبہ ایسے ہی کہا گیا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو کہہ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ (میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتاہوں)۔ اس نے کہا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کی توبہ قبول فرما۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6764

۔ (۶۷۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِعْہُ وَلَوْ بِنَشٍّ)) یَعْنِی بِنِصْفِ أُوْ قِیَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۸۴۳۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ نصف اوقیہ کے عوض بیچنا پڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6765

۔ (۶۷۶۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ (وقَالَ مَرَّۃً: إِذَا سَرَقَ) فَبِعْہُ وَلَوْ بِنَشٍّ۔)) وَالنَّشُّ: نِصْفُ الْأُوْقِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۹۰۱۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے، راوی نے ایک بار یہ الفاظ کہے: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دے، اگرچہ بیس درہم کے عوض فروخت کرنا پڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6766

۔ (۶۷۶۶)۔ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُقَدَّمِیُّ قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًا یَذْکُرُ عَنْ مَکْحُوْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَیْرِیْزٍ قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ: اَرَاَیْتَ تَعْلِیْقَیَدِ السَّارِقِ فِی الْعُنُقِ، أَمِنَ السُّنَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِہِ فَقُطِعَتْ یَدُہُ ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَعُلِّقَتْ فِی عُنُقِہِ، قَالَ حَجَّاجٌ: وَکَانَ فَضَالَۃُ مِمَّنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ، قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰن عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَحْمَدَ: قُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ مَعِیْنٍ: سَمِعْتَ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقَدَّمِیِّ شَیْئًا؟ قال: أَیُّ شَیْئٍ کَانَ عِنْدَہُ؟ قُلْتُ: حَدِیْثُ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ فِی تَعْلِیْقِ الْیَدِ، فَقَالَ: لا، حَدَّثَنَا عَفَّانُ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۴۴)
۔ عبد الرحمن بن محیریز سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے، اس بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پس اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ حجاج کہتے ہیں: سیدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر درخت کے نیچے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی۔ ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین سے کہا: کیا آپ نے عمر بن علی مقدمی سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا: ان کے پاس کیا تھا جو میں سنتا؟ میں نے کہا: سیدنا فضالہ بن عبید والی وہ حدیث، جس میں چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کا ذکر ہے، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ عفان نے ہمیں ان سے بیان کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6767

۔ (۶۷۶۷)۔ عَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِی اُمَیَّۃَ أَنَّہ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ بِرُوْدَسَ حِیْنَ جَلَدَ الرَّجُلَیْنِ اللَّذَیْنِ سَرَقَا غَنَائِمَ النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی مِنْ قَطْعِہِمَا اِلَّا أَنِّی سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاۃَ وَجَدَ رَجَلًا سَرَقَ فِی الْغَزْوِ یُقَالُ لَہُ مَصْدَرٌ فَجَلَدَہُ وَلَمْ یَقْطَعْیَدَہُ وَقَالَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْقَطْعِ فِی الْغَزْوِ۔(مسند احمد: ۱۷۷۷۶)
۔ جنادہ بن ابی امیہ نے روڈس جزیرہ میں ان دو آدمیوں پر حد لگائی، جنہوں نے مال غنیمت سے چوری کی تھی اور پھر منبر پر چڑھ کر کہا:میں نے ان کے ہاتھ اس لئے نہیں کاٹے، کیونکہ میں نے سیدنا بسر بن ارطاۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے مصدر نامی ایک آدمی کو اس حال میں پایا کہ اس نے غزوہ کے دوران چوری کی تھی، تو انہوں نے اسے کوڑے مارے ، ہاتھ نہیں کاٹا،نیز انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں غزوہ کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع کیاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6768

۔ (۶۷۶۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ بُسْرِ بْنِ اَرْطَاۃَ فَأُتِیَ بِمَصْدَرٍ قَدْ سَرَقَ بُخْتِیَّۃً، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہَانَا عَنِ الْقَطْعِ فِی الْغَزْوِ لَقَطَعْتُکَ فَجَلَدَ ثُمَّ خَلّٰی سَبِیْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۷۷)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بسر بن ارطاۃ کے پاس تھا، مصدرکو ان کے پاس لایا گیا، اس نے ایک بختی اونٹ کی چوری کی تھی، سیدنا بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غزوے میں ہاتھ کاٹنے سے منع کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں نے تیرا ہاتھ کاٹ دینا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6769

۔ (۶۷۶۹)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جَاھِدُوْا النَّاسَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی الْقَرِیْبَ وَالْبَعِیْدَ وَلَا تُبْالُوْا فِی اللّٰـہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَ أَقِیْمُوْا حُدُوْدَ اللّٰہِ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ))(مسند احمد: ۲۳۰۷۵)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی خاطرقریب اور دور والوں سے جہاد کرو اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت کی پرواہ نہ کرو اور حضر وسفر میں اللہ تعالیٰ کی حدیں قائم کرو۔

آیت نمبر