MUSNAD AHMED

Search Results(1)

117)

117) شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6803

۔ (۶۸۰۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَحَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَہُوْدِیٌّ مِنْ یَہُوْدِ بَنِی زُرَیْقٍیُقَالُ لَہُ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، حَتّٰی کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُخَیَّلُ إِلَیْہِ أَنَّہ یَفْعَلُ الشَّیْئَ وَمَا یَفْعَلُہُ، قَالَتْ: حَتّٰی إذا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! شَعَرْتُ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِی فِیْمَا اِسْتَفْتَیْتُہُ فِیْہِ، جَائَ نِی رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِی وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیَّ، فَقَالَ الَّذِیْ عِنْدَ رَأْسِیْ لِلَّذِیْ عِنْدَ رِجْلَیَّ أَوِ الَّذِیْ عِنْدَ رِجْلَیَّ لِلَّذِیْ عِنْدَ رَأْسِی: مَاوَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّہُ؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِیْ أَیِّ شَیْئٍ؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: وَاَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ بِئْرِ أَرْوَانَ۔)) قَالَتْ: فَأَتَاھَا فِی نَاسٍ مِنْ اَصْحَابِہٖ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَذَھَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَیْہَا وَعَلَیْہَا نَخْلٌ) ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! کَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَلَکَأَنَّ نَخْلَہَا رُؤُوْسُ الشَّیَاطِیْنَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَہَلَّا أَحْرَقْتَہ؟ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَحْرِقْہُ) قَالَ: ((لَا، أَمَّا اَنَا فَقَدْ عَافَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) قَالَتْ: فَأَمَرَ بِہَا فَدُفِنَتْ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: بنوزریق کے لَبِید بن اعصم نامی ایکیہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا،یہاں تک کہ اس کا اتنا اثر ہو گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خیال آتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی کام کیا ہے ، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی فرمایا: عائشہ! مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس، سر کے پاس بیٹھنے والے نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے یا پاؤں والے نے سر والے سے کہا: اس بندے کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو ہوا ہوا ہے، اس نے کہا: کس نے اس پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے، اس نے کہا: کس چیز میں؟ اس نے کہا: کنگھی میں، کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اس نے کہا: یہ عمل اب کہاں ہے؟ اس نے کہا: یہ اروان کے کنویں میں ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: لوگ اس کنویں کی طرف گئے، ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس کنویں کی طرف تشریف لے گئے، اس کے پاس لگی ہوئی کھجوریں تھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپس آ کر فرمایا: اے عائشہ! اس کا پانی ایسے لگ رہا تھا، جیسے اس میں مہندی بھگوئی گئی ہے، اور اس کی کھجوریں شیطانوں کے سروں کی مانند نظر آ رہی تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس (جادو والے عمل کو نکال کر) جلا کیوں نہیں دیا؟ ایک روایت میں ہے: آپ اس کو جلا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالی نے مجھے عافیت دے دی ہے اور اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں میں اس شرّ کو خواہ مخواہ پھیلائوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس عمل کو دفن کر دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6804

۔ (۶۸۰۴)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: لَبِثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتَّۃَ أَشْہُرٍ یَرٰی أَنَّہ، یَأْتِی وَلَا یَأْتِی، فَأَتَاہُ مَلَکَانِ فَجَلَسَ أَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِہِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیْہِ، فَقَالَ أَحَدُھُمَا لِلْآخَرَ: مَا بَالُہُ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّہ،؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِیْمَ؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ فِیْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ فِی بِئْرِ ذَرْوَانَ تَحْتَ راَعُوْفَۃٍ، فَاسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ نَوْمِہِ فَقَالَ: ((أَیْ عَائِشَۃُ! اَلَمْ تَرٰی أَنَّ اللّٰہَ أَفْتَانِی فِیْمَا اسْتَفْتَیْتُہُ۔)) فَأَتَی الْبِئْرَ فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ فَقَالَ: ((ھٰذِہِ الْبِئْرُ الَّتِیْ أُرِیْتُہَا وَاللّٰہِ! کَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَکَأَنَّ رُؤُوْسَ نَخْلِہَا رُؤُوْسُ الشَّیَاطِیْنِ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَوْ أَنَّکَ کَأَنَّہَا تَعْنِی أَنْ یَتَنَشَّرَ، قَالَ: ((أَمَا وَاللّٰہِ! قَدْ عَافَانِی اللّٰہُ وَأَنَا أَکْرَہُ أَنْ أُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھ ماہ تک اسی حالت میں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیکھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کام کیا ہے، لیکن کیا نہیں ہوتا تھا، پس دو فرشتے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: آپ سحر زدہ ہیں، اس نے کہا: کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ اس نے کہا: کس چیز میں کیا ہے؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں کیا ہے اور یہ عمل ذروان کنویں میں پتھر کے نیچے نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیند سے بیدار ہو گئے اور فرمایا: اے عائشہ!کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، پھر آپ کنوئیں کے پاس آئے اور حکم دیا، پس اس عمل کو نکالا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ،اللہ کی قسم! اس کا پانی اس طرح لگ رہا تھا، جیسا کہ اس میں مہندی بھگوئی ہوئی ہو اور اس کے کھجور کے درختوں کے سرے شیطانوں کے سروں کی مانند تھے۔ سیدہ نے کہا: اگر آپ اس سے دم کروا لیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اور میں نہیں چاہتا یہ شرّ لوگوں پر پھیل جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6805

۔ (۶۸۰۵)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُبِّ أَوْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: فَأَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ ذِی أَرْوَانَ وَفِیْہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَأَخَرَجْتَہُ لِلنَّاسِ؟ فَقَالَ: ((اَمَّا اَنَا فَقَدْ شَفَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۲)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے،البتہ اس میں ہے: وہ عمل کنگھی اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نرکھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: ذی اروان میں ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس عمل کو لوگوں کے لیے نکالا کیوں نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے شفا دے دی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں شرّ کو بھڑکا دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6806

۔ (۶۸۰۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: سَحَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ، قَالَ: فَاشْتَکٰی لِذَالِکَ أَیَّامًا، قَالَ: فَجَائَ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ سَحَرَکَ عَقَدَ لَکَ عُقَدًا عُقَدًا فِیْ بِئْرٍ کَذَا وَکَذَا، فَأَرْسِلْ إِلَیْہَا مَنْ یَجِیْئُ بِہَا، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاسْتَخْرَجَہَا فَجَائَ بِہَا فَحَلَّلَہَا، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَکَرَ لِذَالِکَ الْیَہُوْدِیِّ وَلَا رَآہ فِیْ وَجْہِہِ قَطُّ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۲)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وجہ سے کئی دن بیمار رہے، بالآخر جناب جبریل علیہ السلام نے آ کر کہا : یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جادو کی گرہیں لگائی ہیں، جادوں کایہ عمل فلاں کنویں میں پڑا ہے، آپ کسی آدمی کو بھیجیں جو اس عمل کو نکال کر لے آئے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجا، وہ اس کو نکال کر لے آئے اور ان گرہوںکو کھول دیا،یوں لگا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رسی سے کھول دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا نہ اس یہودی سے ذکر کیااور نہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6807

۔ (۶۸۰۷)۔ عَنْ عَمْرَۃَ قَالَ: اِشْتَکَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَطَالَ شَکَوْاھَا، فَقَدِمَ اِنْسَانٌ الْمَدِیْنَۃَیَتَطَبَّبُ فَذَھَبَ بَنُو أَخِیْہَایَسْأَلُوْنَہُ عَنْ وَجَعِہَا فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّکُمْ تَنْعَتُوْنَ نَعْتَ امْرَأَۃٍ مَطْبُوْبَۃٍ، قَالَ: ھٰذِہِ امْرَأَۃٌ مَسْحُوْرَۃٌ سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَھَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوْتِی فَأُعْتَقَ، قَالَتْ: وَکَانَتْ مُدَبَّرَۃً، قَالَتْ: بِیْعُوْھَا فِی أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَکَۃً وَاجْعَلُوْا ثَمَنَہَا فِیْ مِثْلِہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۲۷)
۔ عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری طول پکڑ گئی، ایک آدمی مدینہ منورہ میں آیا، وہ طب اور حکمت کا کام کرتا تھا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بھتیجے اس حکیم کے پاس آئے اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تکلیف کے متعلق دریافت کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگ جو کچھ بتارہے ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاتون پر جادو ہوا ہے اور اس کی لونڈی نے اس پر جادو کیا ہے، جب اس لونڈی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: ہاں! میں نے جادو کیا ہے، میں چاہتی تھی کہ تو جلدی مر جائے، تاکہ میں آزاد ہو جائوں، دراصل وہ لونڈی مدبرہ تھی، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا : اسے اس آدمی کے ہاں فروخت کرو جو عرب میں لونڈیوں کے معاملے میں سخت ترین ہو اور اس کی قیمت سے اس جیسی ایک اور لونڈی خرید لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6808

۔ (۶۸۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا کَاھِنٌ، وَلَا مَنَّانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ خصلتوں والا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا: شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، جادو کی تصدیق کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کہانت کرنے والااور احسان جتانے والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6809

۔ (۶۸۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاہُ اللّٰہُ مِنْ نَہْرِ الْغُوْطَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۸)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے:شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا،قطع رحمی کرنیوالااور جادو کی تصدیق کرنے والا اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ شراب نوشی پر ہمیشگی کرتا ہو اس کو تو اللہ تعالیٰ غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6810

۔ (۶۸۱۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کَانَ لِدَاوُدَ نَبِیِّ اللّٰہِ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌیُوْقِظُ فِیْہَا أَھْلَہُ فَیَقُوْلُ: یَا آلَ دَاوُدَ! قُوْمُوْا فَصَلُّوْا فَاِنَّ ھٰذِہٖسَاعَۃٌیَسْتَجِیْبُ اللّٰہُ فِیْہَا الدُّعَائَ اِلَّا لِسَاحِرٍ وَعَشَّارٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۹۰)
۔ سیدناعثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی دائود علیہ السلام نے رات کو ایک وقت کا تعین کر رکھا تھا، جس میں وہ اپنے اہل وعیال کو بیدا کرتے اور فرماتے :اے آل دائود! اٹھو اور نماز پڑھو، یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتے ہیں،ما سوائے جادو گر اور ٹیکس وصول کنندہ کی دعا کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6811

۔ (۶۸۱۱)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو سَمِعَ بَجَالَۃَیَقُوْلُ: کُنْتُ کَاتِبًا لِجَزْئِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ فَأَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِہِ بِسَنَۃٍ: أَنِ اقْتُلُوْا کُلَّ سَاحِرٍ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْیَانُ: وَسَاحِرَۃٍ، وَفَرِّقُوْا بَیْنَ کُلِّ ذِیْ مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوْسِ وَانْہَوْھُمْ عَنِ الْزَمْزَمَۃِ، فَقَتَلْنَا ثَلَاثَۃَ سَوَا حِرَ،وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ حَرِیْمَتِہِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَصَنَعَ جَزْئٌ طَعَامًا کَثِیْرًا وَعَرَضَ السَّیْفَ عَلٰی فَخِذِہِ وَدَعَا الْمَجُوْسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَیْنِ مِنْ وَرِقٍ فَأَکَلُوْا مِنْ غَیْرِ زَمْزَمَۃَ وَلَمْ یَکُنْ عُمَرُ أَخَذَ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْیَانُ: قَبِلَ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوْسِ حَتّٰی شَہِدَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَھَا مِنْ مَجُوْسِ ھَجَرَ، وَقَالَ اَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ: حَجَّ بَجَالَۃُ مَعَ مُصْعَبٍ سَنَۃَ سَبْعِیْنَ۔(مسند احمد: ۱۶۵۷)
۔ بجالہ کہتے ہیں: میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، وہ احنف بن قیس کے چچا تھے، ہمارے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خط آیا،یہ ان کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے، اس میںیہ بات تحریر کی گئی تھی کہ ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں ہر محرم کے درمیان تفریق ڈال دو اور انہیں زمزمہ سے روک دو، اس حکم کے بعد ہم نے تین جادو گر قتل کئے اور کتاب اللہ کے مطابق حرام رشتوں میں علیحدگی پیدا کر دی، جزء نے بہت سارا کھانا تیار کروایا اور مجوسیوں کو دعوت دی اور تلوار اپنی ران پر رکھ لی، انہوں نے زمزمہ کے بغیر کھانا کھایا اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچر کے بوجھ اٹھانے کے برابر چاندی بھی بطور جزیہ دی، مگر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ جزیہ ان سے نہ لیا ، کبھی سفیان راوی اس طرح بیان کرتے: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجوسیوں سے جزیہ لینے کے حق میں نہ تھے، حتیٰ کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شہادت دی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجر کے علاقہ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا، تب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ قبول کرنا شروع کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6812

۔ (۶۸۱۲)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ أَنْبَأَنَا الزُّھْرِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا فِیْ نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِہٖقَالَعَبْدُ الرَّزَّاقِ: مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرُمِیَ بِنَجْمٍ عَظَیِمٍ فَاسْتَنَارَ، قَالَ: ((مَاکُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ إِذَا کَانَ مِثْلُ ھٰذَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ؟)) قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ: یُوْلَدُ عَظِیْمٌ أَوْ یَمُوْتُ عَظِیْمٌ، قُلْتُ لِلزُّھْرِیِّ: أَکَانَیُرْمٰی بِہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلٰکِنْ غُلِّظَتْ حِیْنَ بُعِثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّہُ لَا یُرْمٰی بِہَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ وَلٰکِنَّ رَبَّنَا تَبَارَکَ اسْمُہُ اِذَا قَضٰی أَمْرًا سَبَّحَ (وَفِیْ لَفْظٍ: سَبَّحَہُ) حَمَلَۃُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَھْلُ السَّمَائِ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ حَتّٰی بَلَغَ التَّسْبِیْحُ ھٰذِہٖالسَّمَائَالدُّنْیَا، ثُمَّ یَسْتَخْبِرُ أَھْلُ السَّمَائِ الَّذِیْنَیَلُوْنَ حَمَلَۃَ الْعَرْشِ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ یَلُوْنَ حَمَلَۃَ الْعَرْشِ لِحَمَلَۃِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟ فَیُخْبِرُوْنَہُمْ، وَیُخْبِرُ أَھْلُ کُلِّ سَمَائٍ سَمَائً حَتّٰییَنْتَہِیَ الْخَبْرُ اِلٰی ھٰذِہِ السَّمَائِ وَیَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَیُرْمَوْنَ، فَمَا جَائُ وْا بِہِ عَلٰی وَجْہِہِ فَہُوَ حَقٌّ وَلٰکِنَّہُمْ یَقْذِفُوْنَ وَیَزِیْدُوْنَ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَیَنْقُصُوْنَ) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: (یَعْنِی ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) قَالَ اَبِیْ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَیَخْطِفُ الْجِنُّ وَیُرْمَوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کی جماعت میں جلوہ افروز تھے، عبد الرزاق نے کہا:یہ انصاری لوگ تھے، جن کے ساتھ آپ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک بہت بڑا ستارہ مارا گیا، اس سے روشنی پھیل گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا تو تم کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم کہا کرتے تھے کہ یا تو کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی عظیم انسان فوت ہوا ہے۔ میں نے زہری سے کہا: کیا جاہلیت میں بھی ستارے مارے جاتے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو ان میں شدت آگئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ستارے کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں مار جاتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہمارا ربّ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو حاملینِ عرش فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر ان کے نزدیک والے آسمان کے فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں،یہاں تک کہ یہ سبحان اللہ کیدلنواز صدا آسمان دنیا تک پھیل جاتی ہے، پھر آسمان والے فرشتے، اپنے قریب والے عرش بردار فرشتوں سے اطلاع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ عرش بردار فرشتوں کے قریب والے ان سے دریافت کرتے ہیں۔ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں خبر دیتے ہیں اور ہر ایک آسمان والے فرشتے نچلے آسمان والوں کو بتاتے ہیں،یہاں تک کہ وہ خبر آسمانِ دنیا والے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے،اُدھر جن چوری کرتے ہوئے اس بات میں سے کچھ حصہ اچک لیتے ہیں اور ان پر ستارے کو گرایا جاتا ہے ،جو وہ بچ بچا کر بات لے آتے ہیں، وہ تو حق ہوتی ہے، لیکن اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں اور ایک روایت کے مطابق اس میں کمی کرتے ہیں۔ عبد الرزاق نے کہا: جن وحی کی بات کو اچک لیتے ہیں، لیکن پھر ان پر ستارے کو گرا دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6813

۔ (۶۸۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ الْجِنُّ یَسْمَعُوْنَ الْوَحْیَ فَیَسْتَمِعُوْنَ الْکَلِمَۃَ فَیَزِیْدُوْنَ فِیْہَا عَشَرًا فَیَکُوْنَ مَاسَمِعُوْا حَقًّا وَمَا زَادُوْہُ بِاطِلًا وَکَانَتِ النُّجُوْمُ لَا یُرْمٰی بِہَا قَبْلَ ذَالِکَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَحَدُھُمْ لَا یَأْتِی مَقْعَدَہُ اِلَّا رُمِیَ بِشِہَابٍ یُحْرِقُ مَا أَصَابَ، فَشَکَوْا ذَالِکَ اِلٰی اِبْلِیْسَ فَقَالَ: مَا ھٰذَا اِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ، فَبَثَّ جُنُوْدَہُ، فاِذَا ھُمْ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بَیْنَ جَبَلَیْ نَخْلَۃَ، فَأَتَوْہُ، فَأَخْبَرُوْہُ فَقَالَ: ھٰذَا الْحَدَثُ الَّذِیْ حَدَثَ فِیْ الْاَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جن وحی سن لیا کرتے تھے اور ایک بات سن کر اس کے ساتھ دس باتوں کا ضافہ کرتے تھے، جو کچھ سنا ہوتا تھا وہ سچ ہوتا تھا اور جو اپنی طرف سے اضافہ کرتے تھے، وہ باطل ہوتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے شہاب ثاقب نہیں گرتے تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنوں میں سے جو بھی اپنے ٹھکانے پر آتا تھا،شہاب ثاقب جس کو لگتا اسے جلا دیتا تھا، انہوں نے ابلیس سے اس کی شکایت کی، اس نے کہا: ضرورکوئی نئی صورت پیدا ہو گئی ہے، تب ہی ایسے ہو رہا ہے، اس نے تحقیق کے لیے اپنے لشکر پھیلا دئیے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو پہاڑوں کے درمیان نخلہ وادی میں نماز ادا کر رہے ہیں، وہ ابلیس کے پاس آئے اور اسے اس کی اطلاع دی، اس نے کہا: یہی وہ واقعہ ہے جو زمین میں نیا رونما ہوا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6814

۔ (۶۸۱۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سَأَلَ اُنَاسٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْکُہَّانِ، فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسُوْا بِشَیْئٍ۔)) فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہُمْ یُحَدِّثُوْنَ أَحْیَانًا بِشَیْئٍیَکُوْنُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ الْکَلِمَۃُ مِنَ الْحَقِّ یَخْطِفُہَا الْجِنِّیُّ فَیُقِرُّھَا فِی أُذُنِ وَلِیِّہِ قَرَّ الدَّجَاجَۃِ فَیَخْلِطُوْنَ فِیْہَا مِائَۃَ کَذْبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۷۷)
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کبھی کبھییہ ایسی بات کہہ جاتے ہیں، جو سچ ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق بات ہوتی ہے، جس کو جن اچک لیتا ہے، پھر وہ اپنے دوست کے کان میں اس طرح کڑ کڑاتے ہیں، جیسے مرغی کرتی ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6815

۔ (۶۸۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی کَاھِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَہ، بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۹۵۳۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کاہن یا عَرَّاف کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا کفر کر دیا، جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل کی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6816

۔ (۶۸۱۶)۔ (عَنْ صَفِیَّۃَ) عَنْ بَعْضِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی عَرَّافًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ، لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃُ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۵۵)
۔ سیدنا صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کسی ایک زوجۂ رسول سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عَرّاف کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6817

۔ (۶۸۱۷)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ اَنَّہُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَرَأَیْتَ اَشْیَائً کُنَّا نَفْعَلُہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، کُنَّا نَتَطَیَّرُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَالِکَ شَیْئٌ تَجِدُہُ فِی نَفْسِکَ فَـلَا یَصُدَّنَّکَ)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نَأْتِی الْکُہَّانَ، قَالَ: ((فَـلَا تَأْتِ الْکُہَّانَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۴۸)
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہم دورِ جاہلیت میںکرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیتے تھے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تو اپنے دل میں محسوس تو کرے گا، لیکنیہ تجھے تیرے کام سے نہ روکنے پائے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کاہنوں کے پاس بھی جاتے تھے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہیں جانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6818

۔ (۶۸۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَمَہْرِ الْبَغِیِّ وَحُلْوَانِ الْکَاھِنِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۹۸)
۔ سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کے مہر اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6819

۔ (۶۸۱۹)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُمْ خَرَجُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَنَزَلُوْا رُفَقَائَ، رُفْقَۃٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَۃٌ مَعَ فُـلَان، فَنَزَلْتُ فِی رُفْقَۃِ اَبِیْ بَکْرٍ فَکَانَ مَعَنَا أَعْرَابِیٌّ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ، فَنَزَلْنَا بِأَھْلِ بَیْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ وَفِیْہِمُ امْرَأْۃُ حَامِلٌ، فَقَالَ لَھَا الْأَعْرَابِیُّ: أَ یَسُرُّکِ أَنْ تَلِدِی غُلَامًا، إِنْ أَعْطَیْتِنِیْ شَاۃً، فَوَلَدْتِ غُلَامًا، فَأَعْطَتْہُ شَاۃً وَسَجَعَ لَھَا أَسَاجِیْعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاۃَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ یَأْکُلُوْنَ، قَالَ رَجُلٌ: أَ تَدْرُوْنَ مَاھٰذِہِ الشَّاۃُ؟ فَاَخْبَرَھُمْ، قَالَ: فرَاَیْتُ أَبَا بَکْرٍ مُتَبَرِّئًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَیِّئًا۔ (مسند احمد: ۱۱۵۰۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہوئے، لوگ ٹولیوں کی صورت میں بٹ گئے اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ٹولی میں تھا، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی بھی تھا، ہم نے دیہاتیوں کے ایک گھر کے قریب پڑائو ڈالا، ان میں ایک عورت حاملہ تھی، دیہاتی نے اس عورت سے کہا: کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو لڑکا جنم دے، اگر تو مجھے ایک بکری دے گی تو تیرے گھر لڑکا پیدا ہو گا، پس اس عورت نے اسے بکری دے دی اور اس دیہاتی نے اس عورت کے لئے قافیہ بندی میں باتیں کی اور بکری ذبح کر دی، جب لوگ کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے تو ایک آدمی نے کہا: کیا تم جانتے ہو یہ بکری کیسی ہے ؟ پھر اس نے ان کو اس کی اصل حقیقت بتلائی، میں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کھانے سے بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے تکلف کے ساتھ قے کر رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6820

۔ (۶۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَیْشًا أَتَوْا کَاھِنَۃً فَقَالُوْا لَھَا: اَخْبِرِیْنَا بِأَقْرَبِنَا شََبہًا بِصَاحِبِ ھٰذَا الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: اِنْ اَنْتُمْ جَرَرْتُمْ کِسَائً عَلٰی ھٰذِہِ السَّہْلَۃِ ثُمَّ مَشَیْتُمْ عَلَیْہَا أَنْبَأْتُکُمْ فَجَرُّوْا ثُمَّ مَشَی النَّاسُ عَلَیْہَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَتْ: ھٰذَا أَقْرَبُکُمْ شَبَہًا بِہِ، فَمَکَثُوْا بَعْدَ ذَالِکَ عِشْرِیْنَ سَنَۃً اَوْ قَرِیْبًا مِنْ عِشْرِیْنَ سَنَۃً اَوْ مَاشَائَ اللّٰہُ ثُمَّ بُعِثَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قریشی ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہا: ہمیںیہ بتا دے کہ ہم میں سے اس مقام نبوت کے زیادہ لائق اور حقدار کون ہے؟ اس نے کہا: اگر تم اس نرم زمین پر چادرتان کر اس کے اوپر چلو گے تو میں تمہیں بتائوں گی، انہوں نے چادر تان لی، پھر لوگ اس پر چلے اوراس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آثار و نشانات دیکھے اور کہا:یہ تم میں سب سے زیادہ مقام نبوت کے لائق ہے،ابھی تک اس واقعہ کو بیس سال یا اس کے قریب قریب ہی گزرے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6821

۔ (۶۸۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ الظَّفَرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ مِنَ الْکَاھِنِیْنَ رَجُلٌ یَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَۃً لَایَدْرُسُہَا أَحَدٌ یََکُوْنُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۷۷)
۔ سیدنا ابو بردہ ظفری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں میں سے ایک آدمی ظاہر ہوگا، وہ قرآن مجید کو اس انداز میں پڑھے گا کہ اس کے بعد اس جیسا اور کوئی نہیں پڑھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6822

۔ (۶۸۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ نَبِیٌّ مِنَ الْأَنْبِیَائِیَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَہُ فَہُوَ عِلْمُہُ)) (مسند احمد: ۹۱۰۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگاتا تھا، پس جس شخص کا علم اس کے موافق ہو جائے، وہ علم درست ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6823

۔ (۶۸۲۳)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا عَوْفٌ عَنْ حَیَّانَ حَدَّثَنِیْ قَطَنُ بْنُ قَبِیْصَۃَ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّہ، سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ الْعِیَافَۃَ وَالطُّرُقَ وَالطِّیَرَۃَ مِنَ الْجِبْتِ۔)) قَالَ عَوْفٌ: اَلْعَیَافَۃُ: زَجْرُ الطَّیْرِ، وَالطُّرُقُ: اَلْخَطُّ یَخُطُّ فِیْ الأَرْضِ، وَالْجِبْتُ، قَالَ الْحَسَنُ: إِنَّہُ الشَّیْطَانُ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸۰)
۔ سیدنا قبیصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فال پکڑنے کے لئے پرندوں کو اڑانا،زمین پر لکیریں لگانا اور بدشگونی لینا شیطانی کام ہیں۔ عوف نے کہا: العیافۃ سے مراد پرندوں کو اڑانا، الطرق سے مراد زمین پر لکیریں لگانا اور الجبت سے مراد شیطان ہے، آخری معنی حسن نے بیان کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6824

۔ (۶۸۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا اقْتَبَسَ رَجُلٌ عِلْمًا مِنَ النُّجُوْمِ اِلَّا اقْتَبَسَ شُعْبَۃً مِنَ السِّحْرِ مَازَادَ زَادَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۰)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے علم نجوم سیکھا، اس نے جادو کی ایک قسم کی تعلیم حاصل کی،جتنا زیادہ علم نجوم سیکھتا جائے گا، اتنا زیادہ جادو کا علم آتا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6825

۔ (۶۸۲۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُوْمِِ، اقْتَبَسَ شُعْبَۃً مِنْ سِحْرٍ، مَازَادَ زَادَ، وَمَا زَادَ زَادَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۴۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے علم نجوم حاصل کیا، اس نے جادو کا ایک شعبہ حاصل کر لیا، وہ جتنا زیادہ علم نجوم حاصل کرے گا، اتنا زیادہ جادو کے علم کا اضافہ ہوتا جائے گا، جس قدر علم نجوم بڑھے گا، اس قدر جادو کا علم بڑھتا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6826

۔ (۶۸۲۶)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ أَمْسَکَ اللّٰہُ الْقَطْرَ عَنِ الْنَّاسِ سَبْعَ سِنِیْنَ ثُمَّ اَرْسَلَہُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَۃٌ بِہِ کَافِرِیْنَیَقُوْلُوْنَ: مُطِرْنَا بِنَوْئِ الْمِجْدَحِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۵۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ سات برسوں تک لوگوں سے بارش کو روکے رکھے اور پھر اسے نازل کرے تو پھر بھی لوگوں کا ایک گروہ اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرنے والا ہوگا، وہ یہی بات کریں گے کہ مِجْدَح ستارے کی وجہ سے ان پر بارش نازل کی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6827

۔ (۶۸۲۷)۔ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیُبَیِّتُ الْقَوْمُ بِالنِّعْمَۃِ ثُمَّ یُصْبِحُوْنَ وَأَکْثَرُھُمْ کَافِرُوْنَ یَقُوْلُوْنَ: مُطِرْنَا بِنَجْم کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ: وَنَحْنُ قَدْ سَمِعْنَا ذَالِکَ مِنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۰۸۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رات کو قوم پر بارش برسا کر نعمت عطا کرتا ہے، لیکن جب صبح ہوتی ہے تو زیادہ تر لوگ کفر کرتے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں: فلاں، فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: جب میں نے سعید بن مسیب کو یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے بھی کہا: یہ ہم نے خود سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے۔

آیت نمبر