MUSNAD AHMED

Search Results(1)

118)

118) جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6828

۔ (۶۸۲۸)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِتْیَۃٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ فَقَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْیَتَزَوَّجْ فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۴۱۱)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نوجوان مہاجروں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کرلے، کیونکہیہ نگاہ کو سب سے زیادہ پست کرنے والی اور شرمگاہ کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور جس میں اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6829

۔ (۶۸۲۹)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَمْشِی مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ بِمِنًی فَلَقِیَہ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَہ، یُحَدِّثُہُ فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! اَلَّا نُزَوِّجُکَ جَارِیَۃً شَابَّۃً لَعَلَّہَا أَنْ تُذَکِّرَکَ مَا مَضٰی مِنْ زَمَانِکَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاکَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابَ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَاِنَّہُ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۳۵۹۲)
۔ علقمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، ان کی سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کر دیں، ممکن ہے کہ وہ تمہارا بیتا ہوا زمانہ تازہ کر دے؟ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر آپ شادی کے بارے میںیہ بات کہہ رہے ہیں، تو یقینا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ اے نوجوانو ںکی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کر لے، بیشکیہ نگاہ کو پست کرنے والی اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے والی ہے اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6830

۔ (۶۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَعِنْدَہُ عَلْقَمَۃُ وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ حَدِیْثًا لَا أَرَاہُ حَدَّثَہُ اِلَّا مِنْ أَجْلِی کُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَبَابٌ لَا نَجِدُ شَیْئًا فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ!…۔)) فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۴۰۳۵)
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس حاضر ہوئے، جبکہ علقمہ اور اسود ان کے پاس پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ایک حدیث سنائی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں ہی ان میں زیادہ نو عمر تھا، انھوں نے کہا کہ ہم نوجوان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! …۔ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6831

۔ (۶۸۳۱)۔ ) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: لَقِیَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: تَزَوَّجتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، ثُمَّ لَقِیَنِی بَعْدَ ذَالِکَ فَقَالَ: تَزَوَّجَتَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، فَاِنَّ خَیْرَ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ کَانَ أَکْثَرَھَا نِسَائً۔ (مسند احمد: ۲۰۴۸)
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا:شادی کرو، پھر بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ کیا تم نے شادی کی ہے، میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: شادی کر لو، کیونکہ اس امت کی بہترین ہستی (یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6832

۔ (۶۸۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ: تَزَوَّجْ، فَاِنَّ خَیْرَنَا کَانَ أَکْثَرَنَا نِسَائً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔(مسند احمد: ۳۵۰۷)
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا : شادی کرو کیونکہ جو ہستی ہم میں بہتر تھی، اس کی بیویاں سب سے زیادہ تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6833

۔ (۶۸۳۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُبِّبَ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۱۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6834

۔ (۶۸۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: عَکَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِیْمِیُّ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَکَّافُ! ھَلْ لَکَ مِنْ زَوْجَۃٍ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((وَلَا جَارِیَۃٌ؟)) قَالَ: وَلَا جَارِیَۃٌ، قَالَ: ((وَاَنْتَ مُوْسِرٌ بِخَیْرٍ؟)) قَالَ: وَاَنَا مُوْسِرٌ بِخَیْرٍ، قَالَ: ((اَنْتَ اِذًا مِنْ اِخْوَانِ الشَّیَاطِیْنَ، لَوْکُنْتَ فِی النَّصَارٰی کُنْتَ مِنْ رُھَبَانِہِمْ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّکَاحُ، شِرَارُکُمْ عُزَّابُکُمْ وَاَرَاذِلُ مَوْتَاکُمْ عُزَّابُکُمْ، أَبِالشَّیْطَانِ تَمَرَّسُوْنَ، مَالِلشَّیْطَانِ مِنْ سَلَاحٍ اَبْلَغُ فِی الصَّالِحِیْنَ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا الْمتَزَوِّجَوْنُ، اُوْلٰئِکَ الْمُطَہَّرُوْنَ مِنَ الْخَنَا، وَیْحَکَیَا عَکَّافُ! اِنَّہُنَّ صَوَاحِبُ اَیُّوْبَ وَدَاوُدَ وَیُوْسُفَ وَکُرْسُفَ۔)) فَقَالَ لَہُ بِشْرُ بْنُ عَطِیَّۃَ: وَمَنْ کُرْسُفُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَجُلٌ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِائَۃِ عَامٍ یَصُوْمُ النَّہَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ، ثُمَّ اِنَّہُ کَفَّرَ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ فِی سَبَبِ امْرَأَۃٍ عَشِقَہَا، وَتَرَکَ مَا کَانَ مِنْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ اسْتَدْرَکَ اللّٰہُ بِبَعْضِ مَا کَانَ مِنْہُ فَتَابَ عَلَیْہِ، وَیْحَکَیَا عَکَّافُ! تَزَوَّجْ وَاِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِیْنَ۔)) قَالَ: زَوِّجْنِییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((قَدْ زَوَّجْتُکَ کَرِیْمَۃَ بِنْتَ کُلْثُوْمٍ الْحِمْیَرِیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۸۱)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عکاف بن بشیر تمیمی نامی ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اے عکاف! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لونڈی بھی نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مالدار نہیں ہو؟ اس نے کہا : جی میں مالدار ہوں۔ پھر تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے تم راہب ہوتے، ہماری سنت تو نکاح ہے، تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں اور تمہارے مُردوں میں سے سب سے زیادہ رذیل وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں، کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو، نیک لوگوں کو جال میں پھنسانے کے لئے شیطان کے پاس سب سے زیادہ موثر ہتھیار عورت ہے،ما سوائے شادی شدہ افراد کے، کہ وہ اس ہتھیار سے محفوظ رہتے ہیں،وہ لوگ فحش باتوں سے پاکیزہ ہیں، اے عکاف! یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔ بشر بن عطیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کرسف کون تھے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک آدمی تھے، اس نے سمندر کے ساحل پر تین سو سال عبادت کی،دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا، پھر اس نے ایک عورت کے عشق میں پڑ کر اللہ تعالی کے ساتھ کفر کر دیا اور عبادت کو ترک کر دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض اعمال کی وجہ سے کمی پوری کر دی اور اس پر رجوع کیا، اے عکاف! افسوس ہے تجھ پر، شادی کر، وگرنہ متردد اور مذبذب رہے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ میری شادی کر لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تیری شادی کر دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6835

۔ (۶۸۳۵)۔ عَنْ اَبِی أَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ سُنُنِ الْمُرْسَلِیْنَ، التَّعَطُّرُ وَالنِّکَاحُ وَالسِّوَاکُ وَالْحَیَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار چیزیں انبیائے کرام کی سنت ہیں، عطر لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیاء سے زندگی گزارنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6836

۔ (۶۸۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا نَغْزُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ لَنَا نِسَائٌ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلاَ نَسْتَخْصِیْ؟ فَنَہَانَا عَنْہُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِی أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ إِلٰی أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔} (مسند احمد: ۳۹۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیںیہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6837

۔ (۶۸۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَائَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ائْذَنْ لِیْ أَنْ أَخْتَصِیَ، فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خِصَائُ أُمَّتِی الصِّیَامُ وَالْقِیَامُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۱۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے خصی ہونے کی صورت روزے رکھنا اور رات کا قیام کرنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6838

۔ (۶۸۳۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ شَابٌّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ A فَقَالَ: أَ تَأْذَنُ لِی فِی الْخِصَائِ؟ فَقَالَ: ((صُمْ وَ سَلِ اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۰۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6839

۔ (۶۸۳۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ أَنْ یَّتَبَتَّلَ، فَنَہَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوْ أَجَازَ ذَالِکَ لَاخْتَصَیْنَا۔ (مسند احمد: ۱۵۱۴)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تبتّل کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کر دیا، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6840

۔ (۶۸۴۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ التَّبَتُّلِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۵۵)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تبتّل سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6841

۔ (۶۸۴۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ ھِشَامٍ أَنَّہ، قَالَ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : إِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَیْنَ فِیْہِ؟ قَالَتْ: فَـلَا تَفْعَلْ، أَمَا سَمِعْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ أَزْوَاجًا وَ ذُرِّیَّۃ} فَـلَا تَبَتَّلَ، قَالَ: فَخَرَجَ وَقَدْ فَقِہَ وَقَدِمَ الْبَصْرَۃَ فَلَمْ یَلْبَثْ اِلَّا یَسِیْرًا حَتّٰی خَرَجَ إِلٰی أَرْضِ مَکْرَانَ فَقُتِلَ ھُنَاکَ عَلٰی أَفْضَلِ عَمَلِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۵۱۶۵)
۔ سعد بن ہشام سے مروی ہے کہ انھوں نے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: میں آپ سے تبتّل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا:ایسا نہ کرو، کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیویاںاور اولاد بنائی۔ اس لئے تبتّل سے بچ، پھر وہ باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ فہم و فقہ حاصل کر چکے تھے، پھر وہ بصرہ چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ ہی رہے تھے کہ مکران کی سرزمین کی طرف چلے گئے، پھر وہاں افضل ترین عمل سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6842

۔ (۶۸۴۲)۔ (وَعَنْھَا فِی رِوَایَۃٍ أُخْرٰی) قَالَتْ: لَا تَفْعَلْ، أَمَا تَقْرَأُ! {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ A وَقَدْ وُلِدَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۰۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تبتّل سے بچ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی، اللہ تعالی نے فرمایا: البتہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شادیاں بھی کی ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اولاد بھی ہوئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6843

۔ (۶۸۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، کَانَ یَقُوْلُ: ((لَا صَرُوْرَۃَ فِی الْاِسْلَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۴۴)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں صرورت نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6844

۔ (۶۸۴۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، قَالَ: ((اِنَّ الدُّنْیَا کُلَّہَا مَتَاعٌ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیاساری کی ساری متاع ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6845

۔ (۶۸۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُنْکَحُ النِّسَائُ لِأَرْبَعٍ، لِمَالِھَا وَجَمَالِھَا وَحَسَبِہَا وَدِیْنِہَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ، تَرِبَتْ یَدَاکَ۔)) (مسند احمد: ۹۵۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار وجوہات کی بنا پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے، مال، جمال، حسب اور دین، تو دین والی کے ساتھ کامیاب ہو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6846

۔ (۶۸۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی اِحْدٰی خِصَالٍ ثَلَاثَۃٍ، تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی مَالِھَا، وَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی جَمَالِھَا، وَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی دِیْنِہَا، فَخُذْ ذَاتَ الدِّیْنِ وَالْخُلُقِ، تَرِبَتْ یَمِیْنُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عورت سے تین خصلتوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، عورت سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ایک عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے اور ایک عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے تو دین اور اخلاق والی خاتون کو منتخب کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6847

۔ (۶۸۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۰۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6848

۔ (۶۸۴۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَرْأَۃَ تُنْکَحُ لِدِیْنِہَا وَمَالِھَا وَجَمَالِھَا، فَعَلَیْکَ بِذَاتِ الدِّیْنِ، تَرِبَتْ یَدَاکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۸۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین والی کو لازم پکڑ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6849

۔ (۶۸۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَنْکِحُوْا اُمَّہَاتِ الْأَوْلَادِ، فَاِنِّی أُبَاھِی بِہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ بچے جنم دینی والی خواتین سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت کی وجہ سے فخرکروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6850

۔ (۶۸۵۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُ بِالْبَائَۃِ وَیَنْہٰی عَنِ التَّبَتُّلِ نَہْیًا شَدِیْدًا، وَیَقُوْلُ: ((تَزَوَّجُوْا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاَنْبِیَائَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے اور تبتّل سے سختی کے ساتھ منع کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیار کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت ِ تعداد کی وجہ سے دیگر انبیائے کرام پر فخر کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6851

۔ (۶۸۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ النِّسَائِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((الَّتِیْ تَسُرُّہُ، اِذَا نَظَرَ، وَتُطِیْعُہ اِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُہُ فِیْمَایَکْرَہُ فِی نَفْسِہَا وَمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہے کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ فرمانبرداری کرے اور خاوند اس کے نفس اور اپنے مال کے بارے میں جس چیز کو ناپسند کرتا ہے، وہ اس کی مخالفت نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6852

۔ (۶۸۵۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ یُمْنِ الْمَرْأَۃِ تَیْسِیْرُ خِطْبَتِہَا وَ تَیْسِیْرُ صَدَاقِہَا وَتَیْسِیْرُ رَحِمِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۸۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت کی برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسانی سے ہوئی ہو، مہر آسان ہو اور جلدی حاملہ ہونے والی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6853

۔ (۶۸۵۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْسَلَ أُمَّ سُلَیْمٍ تَنْظُرُ اِلٰی جَارِیَۃٍ، فَقَالَ: ((شُمِّی عَوَارِضَہَا وَانْظُرِیْ اِلٰی عُرْقُوْبِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۵۷)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ایک لڑکی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا: اس لڑکی کے سائیڈوں والے دانت سونگھنا اور اس کی ایڑھی کے اوپر کا پٹھا دیکھنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6854

۔ (۶۸۵۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا جَابِرُ! أَ لَکَ امْرَأَۃٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَ ثَیِّبًا نَکَحْتَ اَمْ بِکْرًا؟)) قَالَ: قُلْتُ لَہُ: تَزَوَّجْتُہَا وَھِیَ ثَیِّبٌ، قَالَ: فَقَالَ لِیْ: ((فَہَلَّا تَزَوَّجَتَہَا جُوَیْرِیَۃً؟)) قَالَ: قُلْتُ لَہُ: قُتِلَ اَبِی مَعَکَ یَوْمَ کَذَا وَکَذَا وَتَرَکَ جَوَارِیَ، فَکَرِھْتُ أَنْ أَضُمَّ اِلَیْہِنَّ جَارِیَۃً کَاِحْدَاھُنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَیِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَۃَ اِحْدَاھُنَّ، وَتَخِیْطُ دِرْعَ اِحْدَاھُنَّ اِذَا تَخَرَّقَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّکَ نِعْمَ مَارَأَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۲۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا بیوہ تھییا کنواری؟ میں نے کہا: جی جب میں نے اس سے شادی کی تھی تووہ بیوہ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی؟ میں نے کہا: میرے والد آپ کے ساتھ فلاں غزوے میں شہید ہوگئے تھے اور ان کی بیٹیاں پیچھے رہ گئی تھیں، میں نے پسند نہیں کیا کہ ان جیسی نو عمر لڑکی ان میں ملا دوں، بلکہ اس بیوی سے شادی کر لی تاکہ میری بہنوں کی جوئیں صاف کر دیا کرے، اگر ان کی قمیض پھٹ جائے تو سلائی کر دیا کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو بہت اچھا فیصلہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6855

۔ (۶۸۵۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلْ نَکَحْتَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَ بِکْرًا أَمْ ثَیِّبًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: ثَیِّبًا، قال: ((فَہَلَّا بِکْرًا تُـلَاعِبُہَا وَتُلاعِبُکَ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُتِلَ اَبِیْیَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ سَبْعَ بَنَاتٍ وَکَرِھْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَیْہِنَّ خَرْقَائَ مِثْلَہُنَّ وَلٰکِنِ امْرَأَۃٌ تَمْشُطُہُنَّ وَتُقِیْمُ عَلَیْہِنَّ، قَالَ: ((أَصَبْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۹۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواری خاتون تھییا بیوہ؟ میں نے کہا: جی بیوہ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی، وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے باپ احد کے دن شہید ہوگئے تھے اور سات بیٹیاں پس ماندگان میں چھوڑ گئے تھے،اب میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان جیسی ایک ناتجربہ کار کا اور اضافہ کر دوں، میں نے ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے کہ جو ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگرانی کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے درست کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6856

۔ (۶۸۵۶)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ) قَالَ: ((لَکُمْ أَنْمَاطٌ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأنیّٰ، فَقَالَ: ((خِفْ أَمَا سَتَکُوْنُ لَکُمْ أَنْمَاطٌ۔)) فَأَنَا الْیَوْمَ أَقُوْلُ لِاِمْرَأَتِیْ: نَحِّی عَنِّی أَنْمَاطَکِ، فَتَقُوْلُ: نَعَمْ، أَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّہَا سَتَکُوْنُ لَکُمْ أَنْمَاطٌ، فَأَتْرُکُہَا؟ (مسند احمد: ۱۴۱۷۸)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس بیڈ شیٹس ہیں؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بیڈ شیٹیں کہاں سے لائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اب تو فقیر اور قلیل المال ہو ، لیکن خبردار! عنقریب چادریں ہوں گی۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آج جب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ اپنی چادریں مجھ سے دور کر لے، تو وہ کہتی ہے: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا نہیں تھا کہ عنقریب تمہارے لیے بیڈ شیٹیں ہوں گی۔ سو میں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6857

۔ (۶۸۵۷)۔ عَنْ ثَابِتِ نِ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَطَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی جُلَیْبِیْبٍ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلٰی أَبِیْہَا، فَقَالَ: حَتّٰی اسْتَأْمِرَ أُمَّہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَنَعَمْ إِذًا۔))، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَی امْرَأَتِہِ فَذَکَرَ ذَالِکَ لَھَا فَقَالَتْ: لَا، ھَا اللّٰہِ! إِذَا مَا وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا جُلَیْبِیْبًا وَقَدْ مَنَعقنَاھَا مِنْ فُلَانٍ وَفُلانٍ، قَالَ: وَالْجَارِیَۃُ فِی سِتْرِھَا تَسْتَمِعُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ یُرِیْدُ أَنْیُخْبِرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذٰلِکَ، فَقَالَتِ الْجَارِیَۃُ: أَ تُرِیْدُوْنَ أَنْ تَرُدُّوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْرَہُ؟ إِنْ کَانَ قَدْ رَضِیَہُ لَکُمْ فَأَنْکِحُوْہُ، فَکَأَنَّہَا جَلَّتْ عَنْ أَبَوَیْہَا وَقَالَا: صَدَقْتِ، فَذَھَبَ أَبُوْھَا إِلَی النَّبِیّف ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنْ کُنْتَ قَدْ رَضِیْتَہُ فَقَدْ رَضِیْنَا، قَالَ: ((فَإِنِّی قَدْ رَضِیْتُہُ۔)) فَزَوَّجَہَا، ثُمَّ فَزِعَ أَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ فَرَکِبَ جُلَیْبِیْبُ فَوَجَدُوْہُ قَدْ قُتِلَ وَحَوْلَہُ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَدْ قَتَلَہُمْ، قَالَ اَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَیْتُہَا وَإِنَّہَا لَمِنْ اَنْفَقِ بَیْتٍ فِی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۲۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیلئے ایک انصاری عورت کے باپ کو منگنی کا پیغام بھیجا، اس کے باپ نے کہا: میں اس کی ماں سے مشورہ کرلوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے اس بات کا ذکر کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! یہ نہیں ہوسکتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہمارے لئے صرف جلیبیب ہی ملا ہے، ہم نے تو فلاں فلاںسے بھی رشتہ نہیں کیا،یہ بات لڑکی پردے کے پیچھے سن رہی تھی، وہ آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دینے کیلئے چل پڑا، لڑکی نے کہا:کیا تم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کو ردّ کر رہے ہو، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پسند کرلیا ہے تو پھر نکاح کر دو، یہ کہہ کر لڑکی نے گویا اپنے ماں باپ پر مخفی معاملہ کھول دیا، انہوں نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، اس کے والد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اگر آپ راضی ہیں تو اس رشتہ میں ہم بھی راضی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں راضی ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جلیبیب کی اس لڑکی سے شادی کر دی۔ بعد ازاں ایک دفعہ اہل مدینہ خوفزدہ ہوگئے، سیدنا جلیبیب اس کو دور کرنے کیلئے سوار ہوئے لیکن جب مسلمان وہاں پہنچے تو انھوں نے جلیبیب کو اس حال میں پایا کہ وہ قتل ہو چکے تھے اور ان کے ارد گرد کچھ مشرک بھی قتل ہوئے پڑے تھے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا کہ اس کا گھر مدینہ کے گھروں میں سے سب سے زیادہ بارونق تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6858

۔ (۶۸۵۸)۔ وَعَنْ اَبِی بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ، مُطَوِّلًا، وَفِی آخِرِہِ قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا کَانَ فِی الْاَنْصَارِ اَیِّمٌ اَنْفَقُ مِنْہَا، وَحَدَّثَ اِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ ثَابِتًا، قَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ مَا دَعَا لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صُبَّ عَلَیْہَا الْخَیْرَ صَبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَیْشَہَا کَدًّا کَدًّا۔)) قَالَ: فَمَا کَانَ فِی الْأَنْصَارِ اَیِّمٌ اَنْفَقَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۰۲۲)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، مذکورہ بالا روایت کی طرح، البتہ اس کے آخر میں ہے: سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: انصار میں سے خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو۔اسحق بن عبد اللہ نے سیدناثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بیان کیا اور کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کیلئے کیا دعاء فرمائی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی تھی: اے اللہ! اس پر بکثرت بھلائی ڈال دے اور اس کی زندگی کو محنت و مشقت والا نہ بنا۔ انصاریوں میں خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ مشہور اور خیر وبرکت والا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6859

۔ (۶۸۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تَأَیَّمَتْ حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَیْسِ بْنِ حُذَافَۃَ أَوْ حُذَیْفَۃَ شَکَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّیَ بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: فَلَقِیْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِ حَفْصَۃَ فَقُلْتُ: اِنْ شِئْتَ اَنْکَحْتُکَ حَفْصَۃَ، قَالَ: سَأَنْظُرُ فِیْ ذَالِکَ، فَلَبِثْتُ لَیَالِی فَلَقِیَنِی فَقَالَ: مَا اُرِیْدُ اَنْ أَتَزَوَّجَ یَوْمِی ھٰذَا، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِیْتُ أَبَا بَکْرٍ فَقُلْتُ: اِنْ شِئْتَ أَنْکَحْتُکَ حَفْصَۃَ ابْنَۃَ عُمَرَ، فَلَمْ یَرْجِعْ اِلَیَّ شَیْئًا، فَکُنْتُ أَوْجَدَ عَلَیْہِ مِنِّی عَلٰی عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَیَالِی فَخَطَبَہَا اِلَیَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَنْکَحْتُہَا اِیَّاہ،، فَلَقِیَنِی أَبُوْبَکْرٍ فَقَالَ: لَعَلَّکَ وَجَدْتَ عَلَیَّ حِیْنَ عَرَضْتَ عَلَیَّ حَفْصَۃَ فَلَمْ أَرْجِعْ اِلَیْکَ شَیْئًا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرْجِعَ اِلَیْکَ شَیْئًا حِیْنَ عَرَضْتَہَا عَلَیَّ اِلَّا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُھَا وَلَمْ أَکُنْ لِاُفْشِیَ سِرَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوْ تَرَکَہَا لَنَکَحْتُہَا۔ (مسند احمد: ۷۴)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری بیٹی سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سیدنا خنیس بن حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد بیوہ ہوگئی،یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور غزوئہ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور انھوں نے مدینہ میں وفات پائی تھی، میں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان پر حفصہ کو پیش کیا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں حفصہ سے تمہارا نکاح کر دیتا ہوں؟ انہوں نے کہا: میں اس بارے میں غور کروں گا، میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا، پھر وہ مجھے ملے اور کہا: میں ان دنوں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا تم سے نکاح کر دیتا ہوں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، اس وجہ سے ان پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ افسوس ہوا، بہرحال میں چند دن ٹھہرا رہا ، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب سے میری بیٹی کے نکاح کا پیغام آگیا اور میں نے اس کا نکاح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کر دیا، بعد میں جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے تو انہوں نے کہا: جب تم نے مجھ پر حفصہ کو پیش کیا تھا اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تو تم مجھ سے ناراض ہوئے ہو گے؟ میں نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: مجھے آپ کی پیشکش کا جواب دینے میں صرف ایک چیز رکاوٹ تھی کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، یہ ایک راز تھا اور میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا راز افشا نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ رشتہ نہ کرتے تو میں حفصہ سے نکاح کر لیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6860

۔ (۶۸۶۰)۔ عَنْ ثَابِتِ نِ الْبُنَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ جَالِسًا وَعِنْدَہُ ابْنَۃٌ لَہُ، فَقَالَ اَنَسٌ: جَائَ تِ امْرَأَۃٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ھَلْ لَکَ فِیَّ حَاجَۃٌ؟ فَقَالَتِ ابْنَتُہُ: مَا کَانَ أَقَلَّ حَیَائَ ھَا، فَقَالَ: ھِیَ خَیْرٌ مِنْکِ، رَغِبَتْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَضَتْ عَلَیْہِ نَفْسَہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۸۷۱)
۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا : ایک عورت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میرے ساتھ شادی کرنے کی رغبت رکھتے ہیں؟ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیٹی کہنے لگی کہ اس عورت میں کس قدر حیا کی کمی تھی۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے بیٹی! وہ تجھ سے بہتر تھی، کیونکہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں رغبت کا اظہار کیا تھا اور اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6861

۔ (۶۸۶۱)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ کَہَاتَیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَائُ فِی الْجَنَّۃِ کَہَاتَیْنِ۔)) وَجَمَعَ بَیْنَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی) امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ آمَتْ مِنْ زَوْجِہَا حَبَسَتْ نَفْسَہَا عَلٰی اَیْتَامِہَا حَتّٰی بَانُوْا أَوْمَاتُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۰۷)
۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور سیاہی مائل رخسار والی عورت روز قیامت جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند قریب قریب ہوں گے، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو جمع کر کے اشارہ کیا، وہ خاتون جو منصب اور جمال والی ہو، لیکن بیوہ ہو جانے کے بعد اپنے نفس کو اپنے یتیموں کی خاطر پابند کیے رکھے،یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو کر (اپنے پاؤں پر کھڑے) ہو جائیںیا فوت ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6862

۔ (۶۸۶۲)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ اَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبُرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ نِسَائُ قُرَیْشٍ، اَحْنَاہُ عَلٰی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ وَاَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیْرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی عورتیں ہیں، وہ اپنے چھوٹے بچوں پر بے حد شفقت کرتی ہیں اور خاوند کی ملکیت کی بے حد حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6863

۔ (۶۸۶۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ امْرَأَۃً مِنْ قَوْمِہِ یُقَالُ لَھَا: سَوْدَۃُ وَکَانَتْ مُصْبِیَۃً، کَانَ لَھَا خَمْسَۃُ صِبْیَۃٍ أَوْسِتَّۃٌ ِمنْ بَعْلٍ لَھَا مَاتَ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُکِ مِنِّیْ؟)) قَالَتْ: وَاللّٰہِ! یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا یَمْنَعُنِی مِنْکَ اِلَّا أَنْ لَا تَکُوْنَ اَحَبَّ الْبَرِیَّۃِ اِلَیَّ، وَلٰکِنِّی اُکْرِمُکَ اَنْ یَضْغُوَ ھٰؤُلَائِ الصِّبْیَۃُ عِنْدَ رَأْسِکَ بُکْرَۃً وَعَشِیَّۃً، قَالَ: ((فَہَلْ مَنَعَکِ مِنِّیْ شَیْئٌ غَیْرُ ذٰلِکِ؟)) قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! قَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْحَمُکِ اللّٰہُ، اِنَّ خَیْرَ نِسَائٍ رَکِبْنَ اَعْجَازَ الْإِبِلِ، صَالِحُ نِسَائِ قُرَیْشٍ اَحْنَاہُ عَلٰی وَلَدٍ فِیْ صِغَرٍ وَأَرْعَاہُ عَلٰی بَعْلٍ بِذَاتِ یَدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۹۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قوم کی سودہ نامی ایک خاتون کو منگنی کا پیغام بھیجا، وہ صاحب اولاد تھی، اس کے فوت ہونے والے خاوند سے اس کے پانچ یا چھ بچے تھے، اس لیے اس نے انکار کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ شادی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آپ مجھے روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب ہیں، لیکن میں آپ کو اس سے برتر اور اعلی سمجھتی ہوں کہ صبح و شام یہ بچے آپ کے سرہانے رونا دھونا کرتے رہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تو کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، بہترین وہ عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، قریش کی صالح عورتیں ہیں، جو چھوٹے بچوں سے انتہائی شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6864

۔ (۶۸۶۴)۔ عَنْ کَرِیْمِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِہِ سَلْمٰی بِنْتِ جَابِرٍ اَنَّ زَوْجَہَا اسْتُشْہِدَ فَاَتَتْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ فَقَالَتْ: اِنِّی امْرَأَۃٌ قَدْ خَطَبَنِی الرِّجَالُ فَأَبَیْتُ اَنْ أَتَزَوَّجَ حَتّٰی اَلْقَاہُ فَتَرْجُوْ لِیْ اَنِ اجْتَمَعْتُ اَنَا وَھُوَ أَنْ أَکُوْنَ مِنْ أَزْوَاجِہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فقَالَ لَہُ رَجُلٌ: مَارَأَیْنَاکَ فَعَلْتَ ھٰذَا مُذْ قَاعَدْنَاکَ، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِیْ بِیْ لُحُوْقًا فِی الْجَنَّۃ امْرَأَۃٌ مِنْ أَحْمَسَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۲۲)
۔ سیدنا سلمی بنت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند شہید ہو گیا، میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی او رکہا: میرے پاس آدمیوں کے منگنیوں کے پیغام آرہے ہیں، جبکہ میں نے شادی سے انکار کر دیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے خاوند سے اسی حال میں ملوں، کیا آپ امید دلاتے ہیں کہ اگر میں اور میرا خاوند جمع ہو گئے تو میں اس کی بیویوں میں سے ہوں گی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر ایک بندے نے ان سے کہا: جب سے ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت میں سے جو خاتون سب سے جلدی مجھے جنت میں ملے گی، وہ احمس سے ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6865

۔ (۶۸۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ حَتّٰییَدَعَہَا الَّذِیْ خَطَبَہَا أَوَّلَ مَرَّۃٍ اَوْ یَأْذَنَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۶۰۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایاہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے، الّا یہ کہ پہلے منگنی کا پیغام بھیجنے والا اس خاتون کو چھوڑ دے یا دوسرے کو بھی اجازت دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6866

۔ (۶۸۶۶)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَحِلُّ لِاِمْرِیئٍ مُسْلِمٍ یَخْطُبُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ حَتَّییَتْرُکَ، وَلَا یَبِعْ عَلٰی بَیْعِ اَخِیْہِ حَتّٰییَتْرُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۶۱)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، اسی طرح کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، الّا یہ کہ وہ اسے چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6867

۔ (۶۸۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ، وَلَا یَسُوْمُ عَلٰی سَوْمِ أَخِیْہِ، وَلَا تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا، وَلَاتَسْأَلُ طَلَاقَ اُخْتِہَا لِتَکْفِیئَ مَا فِیْ صَحْفَتِہَا وَلِتَنْکِحْ، فَاِنَّمَا لَھَا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۱۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پرمنگنی کا پیغام نہ بھیجے، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے،کسی عورت سے اس کی پھوپھییا خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ وہ اس کے پیالے کی چیز کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ بھی نکاح کر لے، بے شک اسے وہ مل کر رہے گا، جو اللہ تعالی نے اس کے لیے لکھا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6868

۔ (۶۸۶۸)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ یَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ اَخِیْہِ اَوْ یَبْتَاعَ عَلٰی بَیْعِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۷۶)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجےیا اس کے سودے پر سودا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6869

۔ (۶۸۶۹)۔ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِیْ زَوْجِیْ ثَلَاثًا فَأَمَرَنِیْ رَُسوْلُ اللّٰـہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَعْتَدَّ فِیْ بَیْتِ ابْنِ اُمِّ مَکْتُوْمٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۸۸)
۔ سیدنا فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر عدت گزاروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6870

۔ (۶۸۷۰)۔ ) عَنْ سُفْیَانَ سَمِعَہُ مِنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِی الْجَہْمِ، سَمِعْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ قَالَتْ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا اَحْلَلْتِ فَآذِنِیْنِیْ۔)) فَآذَنْتُہُ فَخَطَبَہَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ اَبِیْ سُفْیَانَ وَأَبُو الْجَہْمِ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَامَالَ لَہُ، وَأَمَّا اَبُو الْجَہْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَائِ وَلٰکِنْ اُسَامَۃَ۔))، قَالَ: فَقَالَتْ بَیَدِھَا ھٰکَذَا اُسَامَۃُ تَقُوْلُ لَمْ تُرِدْہُ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((طَاعَۃُ اللّٰہِ وَطَاعَۃُ رَسُوْلِہِ خَیْرٌ لَکِ۔)) فتَزَوَّجَتْہُ فَاغْتَبَطَتْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۶۷)
۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔ پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی اور بتلایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، سیدنا ابو جہم اور سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے منگنی کے پیغامات بھیجے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاویہ تو فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، البتہ اسامہ، وہ ٹھیک ہے۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ نہیں، میں اس کو نہیں چاہتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تیرےلیے بہتر ہے۔ پس میں نے اسامہ سے شادی کر لی اور مجھ پر رشک کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6871

۔ (۶۸۷۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا خَطَبَ اَحَدُکُمُ الْمَرْأَۃَ فَاِنِ اسْتَطَاعَ اَنْ یَنْظُرَ مِنْہَا مَا یَدْعُوْہُ اِلٰی نِکَاحِہَا فَلْیَفْعَلْ۔)) قَالَ: فَخَطَبْتُ جَارِیَۃً مِنْ بَنِیْ سَلِمَۃَ، فَکُنْتُ اَخْتَبِیْئُ لَھَا تَحْتَ الْکَرَبِ حَتّٰی رَاَیْتُ مِنْہَا بَعْضَ مَا دَعَانِیْ اِلٰی نِکَاحِہَا فَتَزَوَّجْتُہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۶۴۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو منگنی کا پیغام دے تو اگر اس کو طاقت ہو تو وہ اس سے اس چیز کو دیکھ لے، جس کی وجہ سے وہ شادی کر رہا ہے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے بنو سلمہ کی ایک لڑکی کو منگنی کا پیغام بھیجا تھا اور میں اسے دیکھنے کے لئے کھجور کے پتوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اس کی وہ چیز دیکھ لی، جو اس کے ساتھ نکاح کا سبب بنی تھی، پھر میں نے اس سے شادی کر لی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6872

۔ (۶۸۷۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ: رَاَیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَیُطَارِدُ امْرَأَۃً بِبَصَرِہِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یُرِیْدُ اَنْ یَنْظُرَ اِلَیْہَا) فَقُلْتُ: تَنْظُرُ اِلَیْہَا وَاَنْتَ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا أَلْقَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ قَلْبِ امْرِیئٍ خِطْبَۃً لِاِمْرَأَۃٍ فَـلَا بَأْسَ اَنْ یَنْظُرَ اِلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۲۴)
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا ، وہ بصرہ میں ایک خاتون کو دیکھنے کے لیے اس کے تعاقب میں رہتے تھے، پس میں نے ان سے کہا: تم اس خاتون کو دیکھتے ہو، جبکہ تم محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے ہو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ تعالی کسی کے دل میں کسی عورت کو منگنی کا پیغام بھیجنے کا خیال ڈال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اس کو دیکھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6873

۔ (۶۸۷۳)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَاَیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَیُطَارِدُ بُثَیْنَۃَ ابْنَۃَ الضَّحَّاکِ اُخْتَ اَبِیْ جَبِیْرَۃَ الضَّحَّاکِ وَھِیَ عَلٰی إِجَّارٍ لَھُمْ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۳۹)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ ابو جبیرہ کی بہن بثینہ بنت ضحاک کو دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ وہ ان کی اس چھت پر تھی، جس پر کوئی آڑ نہیں تھی، … الحدیث۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6874

۔ (۶۸۷۴)۔ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ لَہُ امْرَأَۃً اَخْطُبُہَا، فَقَالَ: ((اذْھَبْ فَانْظُرْ اِلَیْہَا فَاِنَّہُ أَجْدَرُ اَنْ یُؤْدَمَ بَیْنَکُمَا۔))، قَالَ: فَأَتَیْتُ امْرَأَۃً مِنَ الْاَنْصَارِ فَخَطَبْتُہَا اِلٰی أَبْوَیْہَا وَاَخْبَرْتُہُمَا بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَاَنَّہُمَا کَرِھَا ذٰلِکَ، قَالَ: فَسَمِعَتْ ذَالِکَ الْمَرْأَۃُ وَھِیَ فِیْ خِدْرِھَا، فَقَالَتْ: إِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَکَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ وَاِلَّا فَاِنِّیْ أَنْشُدُکَ، کَاَنَّہَا اَعْظَمَتْ ذَالِکَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ اِلَیْہَا فَتَزَوَّجْتُہَا فَذُکِرَ مِنْ مُوَافَقَتِہَا۔(مسند احمد: ۱۸۳۱۷)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک عورت کا ذکر کیا کہ میں اس کو منگنی کا پیغام بھیجنا چاہتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جائو، پہلے اسے دیکھ کر آئو،پس زیادہ لائق ہو گا کہ یہ چیز تمہارے درمیان محبت اور اتفاق کا باعث ہو۔ میں اس انصاری خاتون کے پاس گیا اور اس کے والدین کو منگنی کا پیغام دیا اور انہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان بھی سنا دیا۔ ایسے لگا کہ وہ اس چیز کو پسند نہیں کر رہے کہ میں اس کو دیکھو، لیکن اس عورت نے پسِ پردہ آواز سن لی اور اس نے کہا: اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لے، وگرنہ میں تجھے قسم دیتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، پس میں نے اس کو دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پس اس میاں بیوی کی موافقت کی باتیں کی گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6875

۔ (۶۸۷۵)۔ عَنْ اَبِی حُمَیْدِ نِ السَّاعِدِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا خَطَبَ أَحَدُکُمُ امْرَأَۃً فلَاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَنْظُرَ اِلَیْہَا اِذَا کَانَ اِنَّمَا یَنْظُرُ اِلَیْہَا لِخِطْبَتِہِ وَاِنْ کَانَتْ لَا تَعْلَمُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۰۰)
۔ سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کو منگنی کا پیغام بھیجے تو اس کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ صرف منگنی کی وجہ سے دیکھ رہا ہو، اگرچہ اس عورت کو اس کا علم نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6876

۔ (۶۸۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَۃً، فَقَالَ یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْظُرْ اِلَیْہَا فَإِنَّ فِیْ أَعْیُنِ الْأَنْصَارِ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۷۹۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو منگنی کا پیغام بھیجا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو اس عورت دیکھ لے، کیونکہ عموماً انصار کی آنکھوں میں کوئی نقص ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6877

۔ (۶۸۷۷)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوْسٰی عَنِ الْزُھْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نَکَحَتِ الْمَرَأَۃُ بِغَیْرِ أَمْرِ مَوْلَاھَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ، فَاِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا مَہْرُھَا بِمَا أَصَابَ مِنْہَا، فَاِنِ اشْتَجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ۔)) قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ: فَلَقِیْتُ الزُّھْرِیَّ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ فَلَمْ یَعْرِفْہُ قَالَ: وَکَانَ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوْسٰی وَکَانَ فَأَثْنٰی عَلَیْہِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ اَبِیْ: السُّلْطَانُ الْقَاضِیْ لِأَنَّ إِلَیْہِ أَمْرَ الْفُرُوْجِ وَالْأَحْکَامِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۰۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا،اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر اس آدمی نے اس عورت سے جماع کر لیا،تو اس کو اس جماع کی وجہ سے اسے مہر دینا ہو گا، اگر وہ اختلاف میں پڑ جائیں تو جس کا کوئی ولی نہیں ہو گا، سلطان اس کا ولی ہو گا۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں امام زہری سے ملا اور اس حدیث کے بارے میںپوچھا، لیکن وہ اس حدیث کو نہ پہنچان سکے،انھوں نے کہا: اور سلیمان بن موسی، پھر انھوں نے اس کی تعریف کی، عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ امام احمد نے کہا: سلطان سے مراد قاضی ہے، کیونکہ عصمتوں سے متعلقہ معاملات اور احکام قاضی کی عدالت میں ہی پیش کیے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6878

۔ (۶۸۷۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّّ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، سلطان اس کا ولی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6879

۔ (۶۸۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۷)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی نکاح نہیں ہے، مگر ولی کے ساتھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6880

۔ (۶۸۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ، فَجَعَلَتْ أَمْرَھَا إِلَی الْعَبَّاسِ فَزَوَّجَہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو منگنی کا پیغام بھیجا، انہوں نے اپنے نکاح کا معاملہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سپرد کر دیا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان کا نکاح کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6881

۔ (۶۸۸۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَنْکَحَ الْوَلِیَّانِ فَہُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْہُمَا، وَاِذَا بَاعَ مِنْ رَجُلَیْنِ فَہُوْ لِلْأَوَّلِ مِنْہُمَا)) قَالَ اَبِیْ: وَقَالَ یُوْنُسُ: ((وَإِذَا بَاعَ الرَّجُلُ بَیْعًا ِمنْ رَجُلَیْنِ)) (مسند احمد: ۱۷۴۸۲)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ایک عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو پہلے ولی کا نکاح معتبر ہو گا، اسی طرح جب کوئی آدمی ایک چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے، تو وہ پہلے کی ہو گی۔ یونس راوی کے الفاظ یہ ہیں: جب آدمی دو بندوں سے بیع کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6882

۔ (۶۸۸۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَیُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیْہِ أَوْ أَھْلِہِ فَہُوَ عَاھِرٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۶۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جو غلام بھی اپنے مالک یا گھر والوں کی اجازت کے بغیر شادی کرے گا، وہ زانی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6883

۔ (۶۸۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ لِلْوَلِیِّ مَعَ الثَّیِّبِ أَمْرٌ، وَالْیَتِیْمَۃُ تُسْتَأْمَرُ فَصَمَتُہَا إِقْرَارُھَا۔)) (مسند احمد: ۳۰۸۷)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ کی شادی کے معاملے میں ولی کو اختیار نہیں ہے اور کنواری بچی سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6884

۔ (۶۸۸۴)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْمَرُ فِیْ نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۸)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری بچی سے اس کے نفس کے بارے میں اس سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت خاموشی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6885

۔ (۶۸۸۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلثَّیِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا، وَالْبِکْرُ یَسْتَأْمِرُھَا أَبُوْھَا فِیْ نَفْسِہَا وَاِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری کا باپ اس سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لے گا اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6886

۔ (۶۸۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبِکْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَالثَّیِّبُ تُشَاوَرُ۔))، قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰـہِ! اِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْ، قَالَ: ((سُکُوْتُھَا رَضَاھَا۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور بیوہ سے مشورہ کیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرماتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی رضا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6887

۔ (۶۸۸۷)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلثَّیِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِیْ نَفْسِہَا، وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ۔))، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ إِذْنُہَا؟ قَالَ: ((أَنْ تَسْکُتَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۷)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ سے اس کے بارے میں مشورہ لیا جائے اور کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کی کیفیت کیا ہوگی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6888

۔ (۶۸۸۸)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَدِیِّ نِ الْکِنْدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِیْ أَنْفُسِہِنَّ۔))، فَقَالُوْا: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِہَا بِلِسَانِہَا وَالْبِکْرُ رَضَاھَا صَمْتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۷۶)
۔ سیدنا عدی بن عدی کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے میں ان سے مشورہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرما جاتی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ بول کر اپنے نفس کے بارے میں وضاحت کرے گی اور کنواری کی رضامندی خاموشی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6889

۔ (۶۸۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَأْمِرُوْا النِّسَائَ فِیْ إِبْضَاعِہِنَّ۔)) قِیْلَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْ أَنْ تَکَلَّمَ، قَالَ: ((سُکُوْتُہَا إِذْنُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۱۹۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے وجود کی شادی میں مشورہ کیا کرو۔ کسی نے کہا: کنواری بچی تو بات کرنے سے ہی شرماتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6890

۔ (۶۸۹۰)۔ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ عُتْبَۃَ عَنْ یَحْیٰی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یُزَوِّجَ شَیْئًا مِنْ بَنَاتِہِ جَلَسَ إِلٰی خِدْرِہَا فَقَالَ إِنَّ فُلَانًایَذْکُرُ فُلَانَۃًیُسَمِّیہَا وَیُسَمِّی الرَّجُلَ الَّذِییَذْکُرُہَا فَإِنْ ہِیَ سَکَتَتْ زَوَّجَہَا وَإِنْ کَرِہَتْ نَقَرَتْ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْہُ لَمْ یُزَوِّجْہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی کسی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تو گھر کے کونے میں اس کے پاس لٹکے ہوئے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے: فلاں آدمی فلاں خاتون کا ذکر کر رہا تھا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس مرد اور اس بیٹی کا نام ذکر کرتے، اگر وہ خاموش رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا نکاح کر دیتے اور اگر وہ ناپسند کرتی تو اپنا ہاتھ پردے پر مارتی، پس اگر وہ اپنا ہاتھ پردے پر مار دیتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا نکاح نہ کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6891

۔ (۶۸۹۱)۔ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلٰی عَائِشَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جَارِیَۃٍیُنْکِحُہَا أَھْلُہَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُسْتَأْمَرُ))، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ لَہُ: فَاِنَّہَا تَسْتَحْیِیْ فَتَسْکُتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَذَالِکَ إِذْنُہَا إِذَا ھِیَ سَکَتَتْ)) (مسند احمد: ۲۵۸۳۸)
۔ مولائے عائشہ ذکوان سے مروی ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ ایک لڑکی کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں، کیا اس لڑکی سے مشورہ کیا جائے گا یا نہیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالکل مشورہ طلب کیا جائے گا۔ میں نے کہا : وہ شرم کے مارے خاموش ہو جاتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6892

۔ (۶۸۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا ابْنَۃُ سِتِّ سِنِیْنَ(وَفِیْ لَفْظٍ: سَبْعِ سِنِیْنَ) بِمَکَّۃَ مُتَوَفّٰی خَدِیْحَۃَ وَدَخَلَ بِیْ وَأَنَا ابْنَۃُ تِسْعِ سِنِیْنَ بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی، ایک روایت میں سات برس کا ذکر ہے، یہ نکاح مکہ میں اور سیدنا خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وفات کے موقع پر ہوا تھا، اور جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو برس تھی، رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6893

۔ (۶۸۹۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: تُوُفِّیَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ وَتَرَکَ ابْنَۃً لَہُ مِنْ خُوَیْلَۃَ بِنْتِ حَکِیْمِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ الْاَوْقَصِ، قَالَ: وَأَوْصٰی إِلٰی أَخِیْہِ قُدَامَۃَ بْنِ مَظْعُوْنٍ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَھُمَا خَالَایَ، قَالَ: فَخَطَبْتُ إِلٰی قُدَامَۃَ بْنِ مَظْعُوْنٍ ابْنَۃَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ فَزَوَّجَنِیْہَا، وَدَخَلَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَیَعْنِیْ إِلٰی أُمِّہَا فَأَرْغَبَہَا فِی الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَیْہِ وَحَطَّتِ الْجَارِیَۃُ إِلٰی ھَوٰی أُمِّہَا فَأَبَیَا، حَتَّی ارْتَفَعَ أَمْرُھُمَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ قُدَامَۃُ بْنُ مَظْعُوْنٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! ابْنَۃُ أَخِیْ، أَوْصٰی بِہَا اِلَیَّ فَزَوَّجْتُہَا ابْنَ عَمَّتِہَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَلَمْ اُقَصِّرْ بِہَا فِی الصَّلَاحِ وَلَا فِی الْکَفَائَۃِ وَلٰکِنَّہَا امْرَأَۃٌ وَاِنَّمَا حَطَّتْ اِلٰی ھَوٰی اُمِّہَا، قَالَ: فقَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھِیَیَتِیْمَۃٌ وَلَا تُنْکَحُ اِلَّا بِإِذْنِہَا۔)) قَالَ: فَانْتُزِعَتْ وَاللّٰہِ! مِنِّیْ بَعْدَ أَنْ مَلَکْتُہَا، فَزَوَّجُوْھَا الْمُغِیْرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہو گئے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے، وہ سیدہ خویلہ بنت حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بطن سے پیدا ہوئی تھی، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو وصیت کی کہ وہ اس کی پرورش کرے، یہ دونوں قدامہ اور عثمان میرے ماموں تھے، میں نے سیدنا قدامہ کے ہاں ماموں عثمان کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، انہوں نے اس کی مجھ سے شادی کردی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس لڑکی کی ماں کے پاس آئے اور انہیں مال کی رغبت دلائی، پس وہ مال کی طرف مائل ہو گئی اور اس کی بیٹی کا میلان ماں کی طرف ہو گیا، پس ان دونوں نے انکار کر دیا،یہاں تک کہ ان کا معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سیدنا قدامہ بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری بھتیجی ہے، میرے بھائی نے وصیت کے ذریعہ میرے سپرد کی ہے۔ میں نے اس کی پھوپھی کے بیٹے عبد اللہ بن عمر سے اس کی شادی کر دی ہے اور میں نے اس کی بہتر ی کے لیے کوئی کمی نہیں کی، لیکنیہ عورت ذات ہے، اس کی ماں مال کی طرف مائل ہو گئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بچی سن تمیز والی ہے، اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ بچی میری ملکیت و زوجیت میں آنے کے بعد مجھ سے چھن گئی۔ انہوں نے اس کی رضا کے مطابق سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس کی شادی کردی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6894

۔ (۶۸۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیْمَۃُ فِیْ نَفْسِہَا فَاِنْ سَکَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِنْ أَبَتْ لَمْ تُکْرَہْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۵)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ لیا جائے، اگر وہ خاموش رہے تو یہی اس کی اجازت ہو گی اور اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6895

۔ (۶۸۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنْ رَضِیَتْ فَلَھَا رَضَاھَا وَاِنْ کَرِھَتْ فَـلَا جَوَازَ عَلَیْہَا۔))، یَعْنِی الْیَتِیْمَۃَ۔ (مسند احمد: ۸۹۷۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کنواری لڑکی رضا مند ہو جائے تو ٹھیک ہے، اسے راضی ہونے کا حق ہے اور اگر وہ ناپسند کرے تو ولی کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6896

۔ (۶۸۹۶)۔ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا لَیْثٌ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ صَالِحٍ وَاِسْمُہُ الَّذِیْیُعْرَفُ بِہِ نُعِیْمُ بْنُ النَّحَّامِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمَّاہُ صَالِحًا، أَخْبَرَہُ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: اخْطُبْ عَلَی ابْنَۃِ صَالِحٍ، فَقَالَ: اِنَّ لَہُ یَتَامٰی، وَلَمْ یَکْنُ لِیُؤْثِرَنَا عَلَیْہِمْ، قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللّٰہِ إِلٰی عَمِّہِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِیَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَیِدٌ إِلٰی صَالِحٍ فَقَالَ: اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِیْ إِلَیْکَیَخْطُبُ اِبْنَتَکَ، فَقَالَ: لِیْیَتَامٰی وَلَمْ أَکُنْ لِأَتْرِبَ لَحْمِیْ وَأَرْفَعَ لَحْمَکُمْ، أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَنْکَحْتُہَا فُلَانًا وَکَانَ ھَوٰی أُمِّہَا اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! خَطَبَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِیْ فَأَنْکَحَہَا أَبُوْھَا یَتِیْمًا فِیْ حَجْرِہِ وَلَمْ یُؤَامِرْھَا، فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی صَالِحٍ فَقَالَ: ((أَ نَکَحْتَ ابْنَتَکَ وَلَمْ تُؤَامِرْھَا؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((اَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِیْ أَنْفُسِہِنَّ)) وَھِیَ بِکْرٌ۔ فَقَالَ صَالِحٌ: فَاِنَّمَا فَعَلْتُ ھٰذَا لِمَا یُصْدِقُہَا ابْنُ عُمَرَ، فَاِنَّ لَہُ فِیْ مَالِیْ مِثْلَ مَا أَعْطَاھَا۔ (مسند احمد: ۵۷۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا، صالح کی بیٹی کو منگنی کا پیغام بھیجیں۔ صالح، نُعیم بن نحام کے نام سے معروف تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا نام صالح رکھا تھا، انہوں نے کہا: صالح کے ہاں یتیمبچے زیر پرورش ہیں، وہ انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرے گا، نکاح کے لئے انہیں ترجیح دے گا۔ یہ بات سن کر سیدنا عبد اللہ اپنے چچا زید بن خطاب کے پاس گئے تاکہ وہ منگنی کا پیغام دیں۔ چنانچہ زید، صالح کے پاس گئے اور کہا: عبد اللہ بن عمرنے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا: میرے زیر پرورش یتیم بچے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اپنی توہین کر دوں اور تمہیں عزت دوں، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے فلاں سے فلاں کا نکاح کر دیا ہے، مگر اس عورت کی ماں کا میلان سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جانب تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! عبد اللہ بن عمر نے میری بیٹی کیلئے پیغام نکاح بھیجا تھا، لیکن صالح نے زیر پرورش ایکیتیم سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صالح کو پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے اور بیوی سے مشوہ ہی نہیں کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے مشورہ کیا کرو۔ جبکہ بچی کنواری ہو۔ صالح نے کہا: میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ ابن عمر نے اس کے مہر کی جو مقدار رکھی، اتنی مقدار تو میرے مال سے یتیم کا حصہ بنتی تھی، اس لیے میں نے پھر اسی کو ترجیح دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6897

۔ (۶۸۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہ، خَطَبَ اِلٰی نَسِیْبٍ لَہُ ابْنَتَہُ قَالَ: فَکَانَ ھَوٰی أُمِّ الْمَرْأَۃِ فِی ابْنِ عُمَرَ، وَکَانَ ھَوٰی أَبِیْہَا فِیْیَتِیْمٍ لَہُ، قَالَ: فَزَوَّجَہَا الْأَبُ یَتِیْمَہُ ذَالِکَ، فَجَائَ تْ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذَالِکَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمِرُوْا النِّسَائَ فِیْ بَنَاتِہِنَّ۔)) (مسند احمد: ۴۹۰۵)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نسب میں اپنے قریبی کو اس کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، اس لڑکی کی والدہ کا میلان ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف ہی تھا، لیکن باپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنے زیر تربیتیتیم سے اس کا نکاح کر دے، تو اس نے اس یتیم سے اس کی شادی کر دی، اس کی ماں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس چیز کا آپ سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی بیویوں سے بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں مشورہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6898

۔ (۶۸۹۸)۔ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ اَبِیْ لُبَابَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذرِ الْاَنْصَارِیِّ أَنَّ جَدَّتَہُ أُمَّ السَّائِبِ خُنَاسَ بِنْتَ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ کَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ قَبْلَ اَبِیْ لُبَابَۃَ تَأَیَّمَتْ مِنْہُ فَزَوَّجَہَا أَبُوْھَا خِذَامُ بْنُ خَالِدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَأَبَتْ اِلَّا أَنْ تَحُطَّ اِلٰی اَبِیْ لُبَابَۃَ وَأَبٰی أَبُوْھَا اِلَّا أَنْ یَلْزِمَہَا الْعَوْفِیَّ حَتَّی اِرْتَفَعَ أَمْرُھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھِیَ أَوْلٰی بِأَمْرِھَا فَأَلْحِقْہَا بِہَوَاھَا۔))، قَالَ: فَانْتُزِعَتْ مِنَ الْعَوْفِیِّ وَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَۃَ فَوَلَدَتْ لَہُ أَبَا السَّائِبِ بْنَ اَبِیْ لُبَابَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۲۶)
۔ حجاج بن سائب سے مروی ہے کہ اس کی جدہ (دادییا نانی) ام سائب خناس بنت خذام ،ابو لبابہ کے زیر نکاح آنے سے پہلے ایک اور آدمی کی بیوی تھی، وہ آدمی فوت ہو گیا اور وہ بیوہ بن گئی، پھر اس کے باپ خذام نے بنو عمرو بن عوف بن خزرج کے ایک آدمی سے اس کی شادی کر دی، لیکن اس نے اس کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اوراس کییہی رٹ تھی کہ اس نے ابو لبابہ سے شادی کرنی ہے، مگر اس کا باپ اس چیز پر بضد تھا کہ یہ جائے گی تو صرف عوف قبیلہ کے آدمی کے گھر ہی جائے گی،یہاں تک کہ ان کا یہ معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خاتون اپنے اس معاملے کی زیادہ حقدار ہے، اس لیے تو اس کی مرضی کے مطابق اس کی شادی کر دے۔ پس اس کو عوفی سے علیحدہ کر لیا گیا اور اس نے ابو لبابہ سے شادی کرلی، ان سے سائب بن ابی لبابہ پیدا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6899

۔ (۶۸۹۹)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ وَمُجَمِّعٍ اِبْنَیْیَزِیْدَ بْنِ جَارِیَۃَ عَنْ خَنْسَائَ بِنْتِ خِذَامٍ أَنَّ أَبَاھَا زَوَّجَہَا وَھِیَ کَارِھَۃٌ وَکَانَتْ ثَیِّبًا فَرَدَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِکَاحَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۲۲)
۔ سیدنا خنساء بنت خذام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے جس سے اس کی شادی کی، وہ اس کو ناپسند کرتی تھی، جبکہ وہ پہلے بیوہ بھی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا نکاح ردّ کروادیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6900

۔ (۶۹۰۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِیْعَۃَ أَنْکَحَ ابْنَتَہُ رَجُلًا، فَأَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاشْتَکَتْ اِلَیْہِ أَنَّہَا أُنْکِحَتْ وَھِیَ کَارِھَۃٌ، فَانْتَزَعَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ زَوْجِہَا وَقَالَ: ((لَا تُکْرِھُوْھُنَّ)) قَالَ: فَنَکَحَتْ بَعْدَ ذَالِکَ أَبَا لُبَابَۃَ الْأَنْصَارِیَّ وَکَانَتْ ثَیِّبًا۔ (مسند احمد:۳۴۴۰)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ابو ودیعہ خذام نے ایک آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا، لیکن وہ بچی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہ شکایت کی کہ اس کا نکاح کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ ناپسند کر رہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس خاوند سے علیحدہ کروا دیا اور فرمایا: عورتوں کو مجبور نہ کیا کرو۔ پھر اس نے ابو لبابہ انصاری سے شادی کر لی تھی، جبکہ وہ خاتون پہلے سے بیوہ تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6901

۔ (۶۹۰۱)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا اَنَّ جَارِیَۃَ بِکْرًا اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ أَنَّ أَبَاھَا زَوَّجَہَا وَھِیَ کَارِھَۃٌ فَخَیَّرَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے با پ نے ایسے آدمی سے اس کی شادی کر دی ہے، جس کو وہ ناپسند کرتی ہے، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6902

۔ (۶۹۰۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ أُمَّ سَلَمَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہ، لَیْسَ مِنْ أَوْلِیَائِیْ تَعْنِیْ شَاھِدًا، فَقَالَ: ((اِنَّہ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِیَائِکِ شَاھِدٌ وَلَا غَائِبٌ یَکْرَہُ ذَالِکَ۔)) فَقَالَتْ: یَا عُمَرُ! زَوِّجْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَتَزَوَّجَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۶۴)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اولیاء موجود نہیں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی بھی ولی ایسا نہیں ہے، جو اس شادی کو ناپسند کرے، وہ حاضر ہو یا غائب۔ یہ سن کر سیدہ نے اپنے بیٹےسے کہا: اے عمر! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شادی کر دے، پس انہوں نے ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6903

۔ (۶۹۰۳)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌیَاعَلِیُّ! لَا تُؤَخِّرُھُنَّ، الصَّلَاۃُ إِذَا آذَنَتْ، وَالْجَنَازَۃُ اِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَیَّمُ اِذَا وَجَدْتَ کُفُوًا)) (مسند احمد:۸۲۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: : اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا:(۱)نماز کو ،جب اس کو وقت ہو جائے، (۲) جنازہ کو جب وہ حاضر ہو جائے اور (۳) عورت کی شادی کو، جب اس کا کفو اور ہمسر مل جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6904

۔ (۶۹۰۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ تْ فَتَاۃٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اَبِیْ زَوَّجَنِیْ ابْنَ أَخِیْہِیَرْفَعُ بِیْ خَسِیْسَتَہُ، فَجَعَلَ الْأَمْرَ اِلَیْہَا، فَقَالَتْ: فَاِنِّی قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ اَبِیْ وَلٰکِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَائُ أَنَّ لَیْسَ لِلْآبَائِ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۵۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان خاتون نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ نے اپنے بھتیجے سے میری شادی کر دی ہے، وہ میرے ساتھ شادی کو اس کے لیے سربلندی کا باعث بنانا چاہتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس معاملے میں مجھے اختیار دے دیا، میں نے کہا: جو کچھ میرے باپ نے کیا ہے، میں اسی کو اختیار کرتی ہوں، لیکن میرا ارادہ یہ تھا کہ عورتوں کو علم ہو جانا چاہیے کہ ان کے اس معاملے میں ان کے آباء کا کوئی حق نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6905

۔ (۶۹۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اَحْسَابَ أَھْلِ الدُّنْیَا الَّذِیْنَیَذْھَبُوْنَ اِلَیْہِ ھٰذَا الْمَالُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۷۸)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا والے جس حسب کو اختیار کرتے ہیں، وہ مال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6906

۔ (۶۹۰۶)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَسَبُ: الْمَالُ، وَالْکَرَمُ: التَّقْوٰی)) (مسند احمد: ۲۰۳۶۲)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقویٰ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6907

۔ (۶۹۰۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَتْ بَرِیْرَۃُ عِنْدَ عَبْدٍ فَعُتِقَتْ فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْرَھَا بِیَدِھَا (وَفِیْ لَفْظٍ) فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُیِّرَتْ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۷۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ایک غلام کے زیر نکاح تھی، جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا، ایک روایت میں ہے: جب اس کو آزاد کیا گیا تو اس کو اختیار دے دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6908

۔ (۶۹۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: عَلَّمَنَا خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَسْتَعِیْنُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا، مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّیَقْرَأُ ثَلَاثَ آیَاتٍ: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْلَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} ثُمَّ تَذْکُرُ حَاجَتَکَ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبۂ حاجت کی تعلیم دی، اور وہ خطبہ یہ تھا: تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، ہم اس سے بخشش مانگتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اپنی جانوں کے شرور سے، اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور وہ جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان تین آیات کی تلاوت کرتے تھے: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} ایماندارو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے، مگر اسلام کی حالت میں۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جان سے اور پیدا کیا اس سے اس کی بیوی کو اور پھیلا دیئے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں۔ تم ڈرو اس اللہ سے جس کے ساتھ تم آپس میں سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کو توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہیں۔ (سورۂ نسائ: ۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کہو بات سیدھی وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ بڑی کامیابی کو پا لیتا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۷۰)پھر تم اپنی حاجت و ضرورت کا ذکر کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6909

۔ (۶۹۰۹)۔ (ومِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَیْنِ خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ وَخُطْبَۃَ الصَّلَاۃِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَسْتَعِیْنُہُ، فَذَکَرَ مَعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دو قسم کے خطبات سکھائے، ایک خطبۂ حاجت اور دوسرا خطبۂ نماز،خطبۂ حاجت یہ ہیں: بیشک ساری تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، … …۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6910

۔ (۶۹۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلَّمَ رَجُلًا فِیْ شِیْئٍ فَقَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ، وَنَسْتَعِیْنُہُ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔)) (مسند احمد: ۳۲۷۵)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ، وَنَسْتَعِیْنُہُ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ پھر اپنی بات پیش کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6911

۔ (۶۹۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْخُطْبَۃُ الَّتِیْ (وَفِیْ لَفْظٍ: کُلُّ خُطْبَۃٍ) لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۹۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں شہادت نہ ہو، وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6912

۔ (۶۹۱۲)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب کسی کی شادی ہوتی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ان الفاظ کے ساتھ مبارک دیتے: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ (اللہ تعالی تیرے لیے اور تجھ پر برکت نازل کرے اور تم دونوں کو خیر و بھلائی میں اکٹھا کر دے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6913

۔ (۶۹۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَّمَدِ بْنِ عَقَیْلٍ قَالَ: تَزَوَّجَ عَقِیْلُ بْنُ اَبِی طَالِبٍ فَخَرَجَ عَلَیْنَا فَقُلْنَا بِالرِّفَائِ وَالْبَنِیْنِ، فَقَالَ: مَہْ لَا تَقُوْلُوْا ذٰلِکَ، فَاِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہَانَا عَنْ ذٰلِکَ، وَقَالَ: ((قُوْلُوْا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ وَبَارَکَ لَکَ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۳۲)
۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقیل بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شادی کی، جب وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، انھوں نے کہا: رک جاؤ، اس طرح نہ کہو، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: اس طرح کہا کرو بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ وَبَارَکَ لَکَ فِیْہَا (اللہ تعالی تجھ میں برکت کرے اور تیرے لیے اس خاتون میں برکت کرے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6914

۔ (۶۹۱۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِیْلَ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ جُشَمٍ فَدَخَلَ عَلَیْہِ الْقَوْمُ فَقَالُوْا: بِالرِّفَائِ وَالْبَنِیْنَ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوْا ذٰلِکَ، قَالُوْا: فَمَا نَقُوْلُ یَا أَبَایَزِیْدَ؟ قَالَ: قُوْلُوْا بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ عَلَیْکُمْ، إِنَّا کَذَالِکَ کُنَّا نُؤْمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا عقیل بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بنو جشم قبیلے کی ایک خاتون سے شادی کی، جب لوگ ان کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، لیکن انھوں نے کہا: اس طرح نہ کہو، لوگوں نے کہا: اے ابو یزید! تو پھر ہم کیا کہیں؟ انھوںنے کہا: تم اس طرح کہو بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے، اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے اور اللہ تعالی تم پر برکت کرے۔) ہمیںیہ دعائیہ کلمات کہنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6915

۔ (۶۹۱۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوْطِ أَنْ یُوَفّٰی بِہِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوْجَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۱۱)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شرطیں، جو پورا ہو نے کا سب سے زیادہ حق رکھتی ہیں، وہ وہ ہیں، جن کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6916

۔ (۶۹۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَشْتَرِطُ امْرَأَۃٌ طَلَاقَ أُخْتِہَا۔))
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6917

۔ (۶۹۱۷)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَحِلُّ اَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ بِطَلَاقِ أُخْرٰی)) (مسند احمد: ۶۶۴۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حلال نہیں ہے کہ ایک عورت کو طلاق دے کر دوسری عورت سے شادی کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6918

۔ (۶۹۱۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ شَرْطٍ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَہُوَ مَرْدُوْدٌ وَاِنِ اشْتَرَطُوْا مِائَۃَ مَرَّۃٍ)) (مسند احمد: ۲۶۰۱۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر شرط جو کتاب اللہ میں نہیں ہے، وہ مردود ہے، اگرچہ لوگ ایسی سو شرطیںلگا لیں۔

آیت نمبر