MUSNAD AHMED

Search Result (41)

12)

12) وضو کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 575

۔ (۵۷۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ الصَّلَاۃُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّہُوْرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۱۷)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی وضو ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 576

۔ (۵۷۶)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ نَاسًا دَخَلُوْا عَلَی ابْنِ عَامِرٍ فِیْ مَرَضٍ فَجَعَلُوْا یُثْنُوْنَ عَلَیْہِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَا اِنِّیْ لَسْتُ بِأَغَشِّہِمْ لَکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَا یَقْبَلُ صَدَقَۃً مِنْ غُلُوْلٍ وَلَا صَلَاۃً بِغَیْرِ طُہُوْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۰۰)
سیدنا مصعب بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ابن عامر کی بیماری کے دوران کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ نے کہا: میں تجھے دھوکہ دینے والوں میں سے نہیں ہوں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کے مال سے صدقہ اور وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 577

۔ (۵۷۷)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْوُضُوْئِ، قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَقْرَبُ وَضُوْئَہُ ثُمَّ یَتَمَضْمَضُ وَیَسْتَنْشِقُ وَیَنْتَثِرُ اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ فَمِہِ وَ خَیَاشِیْمِہِ مَعَ الْمَائِ حِیْنَ یَنْتَثِرُ، ثُمَّ یَغْسِلُ وَجْہَہُ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ تَعَالَی اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا وَجْہِہِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہِ مَعَ الْمَائِ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا یَدَیْہِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِہِ ثُمَّ یَمْسَحُ رَأْسَہُ اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا رَأْسِہِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِہِ مَعَ الْمَائِ، ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا قَدَمَیْہِ مِنْ أَطْرَافِ أَصْابِعِہِ مَعَ الْمَائِ، ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیُثْنِیْ عَلَیْہِ بِالَّذِیْ ہُوَ لَہُ أَھْلٌ ثُمَّ یَرْکعُ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا خَرَجَ مِنْ ذَنْبِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) قَالَ أَبُوْ أُمَامَۃَ: یا عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ! اُنْظُرْ مَا تَقُوْلُ، أَسَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ أَیُعْطَی الرَجُلُ ھٰذَا کُلَّہُ فِیْ مَقَامِہِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو بْنُ عَبَسَۃَ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّیْ وَرَقَّ عَظَمِیْ وَاقْتَرَبَ أَجَلِیْ وَمَا بِیْ مِنْ حَاجَۃٍ أَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَی رَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَوْ لَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، لَقَدْ سَمِعْتُہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۴۴)
سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کے بارے میں مجھے بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں جو آدمی بھی وضو کا پانی قریب کرتا ہے، پھر کلی کرتا ہے، ناک میںپانی چڑھاتا ہے اور ناک کوجھاڑتا ہے، مگر جب وہ ناک کو جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور نتھنوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھوتا ہے تو انگلیوں کے پوروں سے بازوؤں کی غلطیاں نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ اس کے سر کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٹخنوں تک پاؤں دھوتا ہے تو اس کی انگلیوں کے کناروں سے اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا بیان کرتا ہے، جو اس کے شایانِ شان ہوتی ہے اور پھر دو رکعتیں ادا کرتا ہے تو وہ گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ ابو امامہ نے کہا: اے عمرو بن عبسہ!ذرا اپنی کہی ہوئی بات پر غور کرو، کیا تم نے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہیں؟ کیا بندے کو یہ سب کچھ ایک مقام پر ہی عطا کر دیا جاتا ہے؟ سیدنا عمرو بن عبسہؓ نے کہا: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں، میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ پر اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اگر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ایک یا دو یا تین دفعہ سنا ہوتا (تو میں یہ حدیث بیان نہ کرتا) تو میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سات یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 578

۔ (۵۷۸)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیُّمَا رَجُلٍ قَامَ اِلَی وَضُوْئِہِ یُرِیْدُ الصَّلَاۃَ ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ کَفَّیْہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ لِسَانِہِ وَ شَفَتَیْہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ سَمْعِہِ وَبَصَرِہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ وَرِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ سَلِمَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ ہُوَ لَہُ وَمِنْ کُلِّ خَطِیْئَتِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ، قَالَ: فَاِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ رَفَعَ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَتَہُ وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۲۳)
سیدناابوامامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی نماز کے ارادے سے وضو کے پانی کی طرف کھڑا ہوتا ہے اور اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی ہتھیلیوں سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، جب وہ کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھاتا ہے اور ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی زبان اور ہونٹوں سے گناہ گر جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کے کانوں اور آنکھوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب وہ کہنیوں سمیت اپنے بازو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوتا ہے تو وہ اپنے ہر قسم کے گناہ اور ہر قسم کی خطا سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اگر بیٹھ جاتا ہے یعنی نماز نہیں پڑھتا تو گناہوں سے سالم ہو کر بیٹھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 579

۔ (۵۷۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ خَرَجَتْ ذُنُوْبُہُ مِنْ سَمْعِہِ وَبَصَرِہِ وَیَدَیْہِ وَرِجْلَیْہِ،فَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُوْرًا لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۵۹)
سیدنا ابو امامہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مسلمان بندہ وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پس اس کے بعد اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو بخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 580

۔ (۵۸۰)۔عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ قَالَ: أَتَیْنَاہُ فَاِذَا ہُوَ جَالِسٌ یَتَفَلّی فِیْ جَوْفِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ ذَہَبَ الْاِثْمُ من سَمْعِہِ وَبَصَرِہِ وَیَدَیْہِ وَرِجْلَیْہِ۔)) قَالَ: فَجَائَ أَبُوْ ظَبْیَۃَ وَھُوَ یُحَدِّثُنَا فَقَالَ: مَا حَدَّثَکُمْ؟ فَذَکَرْنَا لَہُ الَّذِیْ حَدَّثَنَا،قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَۃَ ذَکَرَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَزَادَ فِیْہِ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَبِیْتُ عَلَی طُہْرٍ ثُمَّ یَتَعَارُّ مِنَ اللَّیْلِ فَیَذْکُرُ وَیَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا مِنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ اِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِیَّاہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۶)
شہر بن حوشب کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو امامہ ؓ کے پاس گئے، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھ کر جوئیں صاف کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ گر جاتے ہیں۔ اتنے میں ابو ظبیہ آ گئے، جبکہ وہ ہمیں بیان کر رہے تھے، پھر انھوں نے پوچھا کہ وہ کیا بیان کر رہے تھے؟ پس ہم نے ان کو وہ چیز بتائی جو وہ بیان کر رہے تھے، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ کو بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا، بلکہ اس میں یہ الفاظ زائد بھی تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی باوضو رات گزارتا ہے، یعنی وضو کر کے سوتا ہے، پھر جب وہ رات کو اٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو وہ اس کو عطا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 581

۔ (۵۸۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ الصُّنَابِحِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ فِیْہِ، فَاِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ أَنْفِہِ، فَاِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ وَجْہِہِ، حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَیْنَیْہِ، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ یَدَیْہِ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ یَدَیْہِ، فَاِذَا مَسَحَ رَأْسَہَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَأُذُنَیْہِ) خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رَأْسِہِ حَتّٰی تخَرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَیْہِ، ثُمَّ کَانَ مَشْیُہُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُہُ نَافِلَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۸)
سیدنا عبد اللہ صنابحی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے غلطیاں نکل جاتی ہیں، جب وہ ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک سے خطائیں گر جاتی ہیں، جب وہ چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کی جڑوں سے بھی گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اس کے بازوؤں سے خطائیں نکل جاتی ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گر جاتی ہیں، جب وہ سر اور کانوںکا مسح کرتا ہے تو اس کے سر سے، (اور پاؤں کے دھونے سے) پاؤں کے ناخنوںکے نیچے سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر مسجد کی طرف اس کا چل کر جانا اور نماز ادا کرنا زائد ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 582

۔ (۵۸۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُوْسَعَیْدٍ مَوْلَی بَنِیْ ہَاشِمٍ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُوْ غَسَّانَ ثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ الصُّنَابِحِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ فِیْہِ وَأَنْفِہِ، وَمَنْ غَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ أَشْفَارِ عَیْنَیْہِ، وَمَنْ غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ أَظْفَارِہِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِہِ، وَمَنْ مَسَحَ رَأْسَہُ وَأُذُنَیْہِ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ رَأْسِہِ أَوْ شَعْرِ أُذُنَیْہِ، وَمَنْ غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ أَظْفَارِہِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِہِ، ثُمَّ کَانَتْ خُطَاہُ اِلَی الْمَسْجِدِ نَافِلَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو عبد اللہ صنابحی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس کے منہ اور ناک سے گناہ نکل جائیں گے، جس نے چہرہ دھویا، اس کی آنکھ کی پلکوں کی جڑوں سے گناہ خارج ہو جائیں گے، جس نے بازو دھوئے، اس کے ناخنوں سے یا ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جائیں گے، جس نے سر اور کانوں کا مسح کیا، اس کے سر سے یا دونوں کانوں کے بالوں سے گناہ ساقط ہو جائیں گے اور جس نے پاؤں دھوئے، اس کے ناخنوں سے یا ناخنوں کے نیچے سے غلطیاں نکل جائیں گی، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا زائد ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 583

۔ (۵۸۳)۔ (ومِنْ طَرِیْقٍ ثالث)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ ْبنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ الصُّنَابِحِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ أَنْفِہِ۔)) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۷۵)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو عبد اللہ صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے کلی کی اور ناک کو جھاڑا، اس کے ناک سے گناہ نکل جائیں گے۔ پھر اس کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 584

۔ (۵۸۴)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ جَسَدِہِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِہِ)) (مسند أحمد:۴۷۶)
سیدنا عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جائیں گے، یہاں تک کہ ناخنوںکے نیچے سے بھی نکل جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 585

۔ (۵۸۵)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ قَالَ: لَاأَقُوْلُ الْیَوْمَ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَمْ یَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ بَیْتًا مِنْ جَہَنَّمَ۔)) وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِیْ یَقُوْمُ أَحَدُہُمَا مِنَ اللَّیْلِ فَیُعَالِجُ نَفْسَہُ اِلَی الطَّہُوْرِ وَعَلَیْہِ عُقَدٌ فَیَتَوَضَّأُ، فَاِذَا وَضَّأَ یَدَیْہِ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، وَاِذَا وَضَّأَ وَجْہَہُ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ وَاِذَا مَسَحَ رَأْسَہُ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، وَاِذَا وَضَّأَ رِجْلَیْہِ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِیْنَ وَرَائَ الْحِجَابِ: انْظُرُوْا اِلَی عَبْدِیْ ھٰذَا یُعَالِجُ نَفْسَہُ، مَاسَأَلَنِیْ عَبْدِیْ ھٰذَا فَہُوَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۹۷)
سیدنا عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں آج رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف وہ بات منسوب نہیں کروں گا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ارشاد نہیں فرمائی، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مجھ پر وہ بات کہی، جو میں نے نہیں کہی، وہ جہنم سے گھر تیار کر لے۔ نیز میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت کے دو آدمی، ان میں سے ایک وہ ہے جو رات کو کھڑا ہوتا ہے، پس وہ اپنے نفس کو وضو کے پانی کی طرف آمادہ کرتا ہے، جبکہ اس پر کئی گرہیں ہوتی ہیں، پس جب وہ وضو کرتا ہے اور اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ پردوںکے پیچھے والی مخلوق یعنی فرشتوں سے کہتا ہے: تم میرے اس بندے کی طرف دیکھو، یہ اپنے نفس کو آمادہ کرتا ہے، یہ مجھ سے جس چیز کا سوال کرے گا، وہ اس کی ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 586

۔ (۵۸۶)۔عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ، أَنَّہُ دَعَا بِمَائٍ فتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَظَہْرِ قَدَمَیْہِ ثُمَّ ضَحِکَ فَقَالَ لِأَصْحَابِہِ: أَلَا تَسْأَلُوْنِّیْ عَمَّا أَضْحَکَنِیْ؟ فَقَالُوْا: مِمَّ ضَحِکْتَ یَا أَمِیْرَ الْمُؤُمِنِیْنَ؟ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا بِمَائٍ قَرِیْبًا مِنْ ہٰذِہِ الْبُقْعَۃِ فَتَوَضَّأَ کَمَا تَوَضَّأْتُ ثُمَّ ضَحِکَ، فَقَالَ: ((أَلَا تَسْأَلُوْنِّیْ مَا أَضْحَکَنِیْ؟)) فَقَالُوْا: مَا أَضْحَکَکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِنَّ الْعِبْدَ اِذَا دَعَا بِوَضُوْئٍ فَغَسَلَ وَجْہَہُ حَطَّ اللّٰہُ عَنْہُ کُلَّ خَطِیْئَۃٍ أَصَابَہَا بِوَجْہٍ، فَاِذَا غَسَلَ ذِرَاعَیْہِ کَانَ کَذٰلِکَ، وَاِنْ مَسَحَ بِرَأْسِہِ کَانَ کذٰلِکَ، وَاِذَا طَہَّرَ قَدَمَیْہِ کَانَ کَذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۴۱۵)
سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا، کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، تین دفعہ بازو دھوئے اور پھر اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے کو مسح کیا اور پھر ہنس پڑھے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: کیا تم مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس نے مجھے ہنسایا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کود یکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسی جگہ کے قریب تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرے اس وضو کی طرف وضو کیا اور پھر مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم لوگ مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس کی وجہ سے میں مسکرایا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب بندہ وضو کا پانی منگوا کر چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے ہر اس گناہ کو مٹا دیتا ہے، جس کا چہرے نے ارتکاب کیا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ مسح کرتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 587

۔ (۵۸۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْہِہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ نَظَرَ اِلَیْہَا بِعَیْنِہِ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَۃِ الْمَائِ أَوْ نَحْوَ ہٰذَا، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتْ مِنْ یَدِہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ بَطَشَ بِہَا مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَۃِ الْمَائِ حَتَّی یَخْرُجَ نَقِیًّا مِنَ الذَّنُوْبِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۰۷)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے کا ہر وہ گناہ زائل ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھ سے ہر وہ گناہ ساقط ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے ہاتھ پھیلایا ہوتا ہے، (باقی اعضا کا بھی یہی سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 588

۔ (۵۸۸)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَتَوَضَّأُ أَحَدٌ فَیُحْسِنُ وُضُوْئَہُ وَیُسْبِغُہُ ثُمَّ یَأْتِی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلوٰۃَ فِیْہِ اِلَّا تَبَشْبَشَ اللّٰہُ بِہِ کَمَا یَتَبَشْبَشُ أَھْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۱)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا اور مکمل وضو کرتا ہے اور پھر وہ صرف نماز کے ارادے سے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتا ہے، جیسے لوگ اس آدمی کے ظہور کے وقت خوش ہوتے ہیں، جو پہلے غائب ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 589

۔ (۵۸۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یُکَفِّرُاللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَزِیْدُ بِہِ فِیْ الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ عَلَی الْمَکَارِہِ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلَی الْمَسَاجِدِ وَاِنْتَظَارُ الصَّلٰوۃِ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۰۷)
سیدنا ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں ایسے اعمال پر تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتاہے؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ناپسندیوں کے باوجود وضو مکمل کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 590

۔ (۵۹۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَزَادَ: ((فَذٰلِکَ الرِّبَاطُ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۱۵)
سیدنا ابوہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی طرح کی ایک حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ زیادتی ہے: یہی رِباط ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 591

۔ (۵۹۱)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ فَأَتَی الْمَسْجِدَ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْہَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، فَاِذَا صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَعَدَ فِیْہِ کَانَ کَالصَّائِمِ الْقَانِتِ حَتَّی یَرْجِعَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۹۵)
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ وضو کر کے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں، پھر جب وہ مسجد میں نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے تووہ روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی طرح ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 592

۔ (۵۹۲)۔عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوْئَہُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا اِلَی الصَّلوٰۃِ فَلَا یُشَبِّکْ بَیْنَ یَدَیْہِ فَاِنَّہُ فِی الصَّلوٰۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۸۲)
سیدنا کعب بن عجرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے اور پھر نماز کے قصد سے نکل پڑتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں میں تشبیک نہ ڈالا کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 593

۔ (۵۹۳)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ مَشٰی اِلٰی صَلوٰۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ فَصَلّٰاہَا غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ)) (مسند أحمد: ۵۱۶)
سیدنا عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور مکمل وضو کیا، پھر فرضی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف گیا اور وہ نماز ادا کی تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 594

۔ (۵۹۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ ھٰذَا الْمَجْلِسِ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوْئِیْ ھٰذَا ثُمَّ اََتَی الْمَسْجِدَ فَرَکَعَ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) وَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَغْتَرُّوْا۔)) (مسند أحمد: ۴۵۹)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس مجلس میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا اور پھر فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر مسجد میں آیا اور دو رکعتیں ادا کیں، اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس دھوکہ نہ کھا جانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 595

۔ (۵۹۵)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا تَوَضَّأَ فَأَتَمَّ وُضُوْئَہُ ثُمَّ دَخَلَ فِیْ صَلَاتِہِ فَأَتَّمَ صَلَاتَہُ خَرَجَ مِنْ صَلَاتِہِ کَمَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّہِ مِنَ الذُّنُوْبِ)) (مسند أحمد:۴۳۰)
سیدنا عثمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب بندہ وضو کرتا ہے اور مکمل وضو کرتا ہے، پھر نماز شروع کر دیتا ہے اور مکمل نماز ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے باہر آیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 596

۔ (۵۹۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ دَخَلَ فَصَلّٰی غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَ بَیْنَ الصَّلوٰۃِ الْأُخْرٰی حَتّٰی یُصَلِّیَہَا)) (مسند أحمد:۴۰۰)
سیدنا عثمانؓ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر نماز شروع کی اور اس کو ادا کیا، تو اس کے اور اس کی پڑھی جانے والی اگلی نماز کے درمیان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 597

۔ (۵۹۷)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوْئَہُ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ لَا یَسْہُوْ فِیْہِمَا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۸۰)
سیدنا زید بن خالد جہنی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیااور پھر بغیر بھولے دو رکعتیں ادا کیں تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 598

۔ (۵۹۸)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۵۸۵)
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 599

۔ (۵۹۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا نَخْدُمُ أَنْفُسَنَا وَکُنَّا نَتَدَاوَلُ رَعَیَّۃَ الْاِبِلِ بَیْنَنَا فَأَصَابَنِیْ رَعِیَّۃُ الْاِبِلِ فَرَوَّحْتُہَا بِعَشِیِّ فَأَدْرَکْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ قَائِمٌ یُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَکْتُ مِنْ حَدِیْثِہِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَتَوَضَّأُ فَیُسْبِغُ الْوُضُوْئَ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ یُقْبِلُ عَلَیْہِمَا بِقَلْبِہِ وَوَجْہِہِ اِلَّا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ وَغُفِرَ لَہُ۔)) قَالَ: فقُلْتُ لَہُ: مَا أَجْوَدَ ہٰذَا! قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ بَیْنَ یَدَیَّ: الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا یَا عُقْبَۃُ أَجْوَدُ مِنْہَا، فَنَظَرْتُ فَاِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا ہِیَ یَا أَبَا حَفْصٍ؟ قَالَ: اِنَّہُ قَالَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَتَوَضَّأُ فَیُسْبِغُ الْوُضُوْئَ ثُمَّ یَقُوْلُ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرُسُوْلُہُ اِلَّا فُتِحَتْ لَہُ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَّۃُ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَائَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۴۷)
سیدناعقبہ بن عامر ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنے آپ کی خدمت خود کرتے تھے اور اونٹ چرانے کے لیے آپس میں باریاں مقرر کر تے تھے، ایک دن میری باری تھے، جب میں شام کو اونٹوں کو واپس لے کر آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس حال میں پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہو کر لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا یہ فرمان سنا: تم میں سے جو آدمی وضو کرتا ہے اور پورا وضو کرتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور دو رکعتیں اس طرح ادا کرتا ہے کہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے، ایسے شخص کیلئے جنت واجب ہو جاتی اور اس کو بخش دیا جاتا ہے۔ یہ سن کر میں نے کہا: کتنی عمدہ بات ہے یہ، لیکن میرے سامنے سے ایک کہنے والے نے کہا: عقبہ! جو بات اس سے پہلے ارشاد فرمائی گئی تھی، وہ اِس سے بھی عمدہ تھی، جب میں نے اس آدمی کو دیکھا تو وہ تو سیدنا عمر بن خطابؓ تھے، میں نے کہا: ابو حفص! وہ بات کون سی تھی؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تیرے آنے سے پہلے یہ ارشاد فرمایا: تم میں سے جو آدمی وضو کرتا ہے اور مکمل وضو کرتا ہے، پھر یہ دعا پڑھتا ہے: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرُسُوْلُہُ… (میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں) ۔ ایسے آدمی کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 600

۔ (۶۰۰)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَیُّمَا رَجُلٍ قَامَ اِلٰی وَضُوئٍ یُرِیْدُ الصَّلوٰۃَ فَأَحْصَی الْوَضُوْئَ اِلَی أَمَاکِنِہِ سَلِمَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ أَوْ خَطِیْئَۃٍ لَہُ، فَاِنْ قَامَ اِلَی الصَّلوٰۃِ رَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہَا دَرَجَۃً وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۶۷)
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو نمازکے ارادے سے وضو کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور وضو کے پانی کو اس کے مقامات تک پہنچاتا ہے تو وہ اپنے گناہوں یا غلطیوں سے پاک ہو جاتا ہے، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو گناہوں سے پاک ہو کر بیٹھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 601

۔ (۶۰۱)۔عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْحِمْصِیِّ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْوُضُوْئُ یُکَفِّرُ مَا قَبْلَہُ ثُمَّ تَصِیْرُ الصَّـلَاۃُ نَافِلَۃً۔))، فَقِیْلَ لَہُ: أَسَمِعْتَہَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ قَالَ: نَعَمْ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ وَلَا ثَلَاثٍ وَلَا أَرْبَعٍ وَلَا خَمْسٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۱۵)
صحابی ٔ رسول سیدنا ابو امامہ حمصی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، پھر نماز زائد ہوتی ہے۔ کسی نے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں ایک، دو، تین، چار اور پانچ بار نہیں (بلکہ اس سے زیادہ دفعہ)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 602

۔ (۶۰۲)۔ عَنْ أَبِیْ غَالِبٍ الرَاسِبِیِّ أَنَّہُ لَقِیَ أَبَا أُمَامَۃَ بِحِمْصَ فَسَأَلَہُ عَنْ أَشْیَائَ حَدَّثَہُمْ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلموَھُوَ یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاۃٍ فَقَامَ اِلٰی وُضُوْئِہِ اِلَّا غُفِرَ لَہُ بِأَوَّلِ قَطْرَۃٍ تُصِیْبُ کَفَّہُ مِنْ ذٰلِکَ الْمَائِ فَبِعَدَدِ ذٰلِکَ الْقَطْرِ حَتَّی یَفْرُغَ مِنَ وُضُوْئِہِ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوْبِہِ وَقَامَ اِلٰی صَلَاتِہِ وَہِیَ نَافِلَۃٌ۔)) قَالَ أَبُوْ غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِیْ أُمَامَۃَ: أَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: اِیْ وَالَّذِیْ بَعَثَہُ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَنَذِیْرًا غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ وَلَا ثَـلَاثٍ وَلَا أَرْبَعٍ وَلَا خَمْسٍ وَلَا سِتٍّ وَلَا سَبْعٍ وَلَا ثَمَانٍ وَلَا تِسْعٍ وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِیَدَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۴۱)
ابو غالب راسبی کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ حمصی ؓ کو ملا اور ان سے کچھ چیزوںکے بارے میں سوال کیے، انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی کسی نماز کی اذان سن کر وضو کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی ہتھیلی کو لگنے والے پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کو بخش دیا جاتا ہے، اِن قطروں کی تعداد کے برابر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کیے جا چکے ہوتے ہیں اور اس کی پڑھی جانے والی نماز زائد ہوتی ہے۔ ابو غالب کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو امامہؓ سے کہا: تو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا! ایک دفعہ نہیں، دو،تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس اور دس بار نہیں، پھر انھوں نے اس تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے تالی بجائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 603

۔ (۶۰۳)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُوْلُ: اِذَا وَضَعْتَ الطَّہُوْرَ مَوَاضِعَہُ قَعَدْتَّ مَغْفُوْرًا لَکَ، فَاِنْ قَامَ یُصَلِّی کَانَتْ لَہُ فَضِیْلَۃً وَأَجْرًا، وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُوْرًا لَہُ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! أرَأَیْتَ اِنْ قَامَ فَصَلّٰی تَکُوْنُ لَہُ نَافِلَۃً؟ قَالَ: لَا، اِنَّمَا النَّافِلَۃُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ تَکُوْنُ لَہُ نَافِلَۃً وَھُوَ یَسْعٰی فِی الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایَا، تَکُوْنُ لَہُ فَضِیْلَۃً وَأَجْرًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۴۹)
سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب تو وضو کے پانی کو اس کے مقام پر استعمال کرے گا تو بخشا بخشایا بیٹھ جائے گا، پھر اگر کوئی آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس میں اس کے لیے فضیلت اور اجر و ثواب ہوتا ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: اے ابو امامہ: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ایسا آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے، تو اس کی نماز زائد ہو گی؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ زائد ہونا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے تھا۔ عام بندے کے لیے یہ نماز فضیلت اور اجر کا باعث ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 604

۔ (۶۰۴)۔ عَنْ أَبِیْ مُسْلِمٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أَبِیْ أُمَامَۃَ وَھُوَ یَتَفَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ وَیَدْفَنُ الْقَمْلَ فِی الْحَصٰی، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبا أُمَامَۃَ! اِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِیْ عَنْکَ أَنَّکَ قُلْتَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَوَجْہَہُ وَمَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ الْمَفْرُوْضَۃِ غُفِرَ لَہُ فِی ذٰلِکَ الْیَوْمِ مَا مَشَتْ اِلَیْہِ رِجْلُہُ وَقَضَتْ عَلَیْہِ یَدَاہُ وَسَمِعْتْ اِلَیْہِ أُذُنَاہُ وَنَظَرَتْ اِلَیْہِ عَیْنَاہُ وَحَدَّثَ بِہِ نَفْسُہُ مِنْ سُوْئٍ)) قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَا أُحْصِیْہِ۔ (مسند أحمد:۲۲۶۲۸)
ابو مسلم کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ ؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھے جوئیں تلاش کر رہے تھے اور ان کو کنکریوں میں دبا رہے تھے، میں نے کہا: اے ابو امامہ! بیشک ایک آدمی نے تمہارے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پس ہاتھ دھوئے، چہرہ دھویا، سر اور کانوں کومسح کیا اور پھر فرضی نماز کے لیے کھڑا ہوا، تو اس کے اس دن کے وہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے کہ جن کی طرف اس کا پاؤں چل کر گیا، جن کے بارے میں ہاتھوں نے فیصلہ کیا، جن کو کانوںنے سنا ، آنکھوں نے دیکھا اور ان کے بارے میں نفس نے بری گفتگو کی۔ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے یہ حدیث بے شمار دفعہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 605

۔ (۶۰۵)۔ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَانِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْیَانَ الثَّقَفِیِّ أَنَّہُمْ غَزَوْا غَزْوَۃَ السَّـلَاسِلِ فَفَاتَہُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوْا ثُمَّ رَجَعُوْا اِلَی مُعَاوِیَۃَ وَعِنْدَہُ أَبُوْ أَیُوْبَ وَعُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍؓ فَقَالَ عَاصِمٌ: یَا أَبَا أَیُوْبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّ مَنْ صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَۃِ) غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِیْ! أَدُلُّکَ عَلَی أَیْسَرَ مِن ذٰلِکَ؟ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ کَمَا أُمِرَ وَصَلّٰی کَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ)) أَ کَذَاکَ یَا عُقْبَۃُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۹۳)
عاصم بن سفیان ثقفی کہتے ہیں: ہم لوگ غزوۂ سلاسل کیلئے گئے، لیکن یہ غزوہ رہ گیا، پس انھوںنے سرحد پر پہرہ دیا اور پھر سیدنا معاویہؓ کی طرف لوٹ آئے جبکہ ان کے پاس سیدناابوایوب اور سیدنا عقبہ بن عامر ؓبھی بیٹھے تھے، عاصم نے کہا: اے ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ہے، جبکہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوںمیں نماز پڑھے گا، اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا: بھتیجے! کیا میں تجھے اس سے آسان عمل نہ بتا دوں؟ بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے: جس نے اس طرح وضو کیا، جس طرح اس کو حکم دیا گیا اور اس طرح نماز پڑھی، جیسے اس کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ عقبہ! اسی طرح حدیث ہے نا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 606

۔ (۶۰۶)۔ عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: یَا أَیُّہَاالنَّاسُ! اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ أَتَمَّہُمَا أَعْطَاہُ اللّٰہُ مَا سَأَلَ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخِّرًا)) (مسند أحمد:۲۸۰۴۵)
سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگو! بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے وضو کیا اور پورا وضو کیا، پھر مکمل طور پر دو رکعت نماز پڑھی، وہ اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرے گا، وہ اسے جلدی یا بدیر عطا کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 607

۔ (۶۰۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِکِ حَدَّثَنِیْ سَھْلُ بْنُ أَبِیْ صَدَقَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ کَثِیْرٌ أَبُوْالْفَضْلِ الطُّفَاوِیُّ حَدَّثَنِیْ یُوْسُفُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فِیْ مَرْضِہِ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ فقَالَ لِیْ: یَا ابْنَ أَخِیْ! مَا أَعْمَدَکَ اِلٰی ھٰذَا الْبَلَدِ وَمَا جَائَ بِکَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، اِلَّا صِلَۃُ مَا کَانَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ وَالِدِیْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ، فَقَالَ أَبُوْ الدَّرْدَائِ: لَبِئْسَ سَاعَۃُ الْکَذِبِ ہٰذِہِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ أَوْ أَرْبَعًا (شَکَّ سَھْلٌ) یُحْسِنُ فِیْہِمَا الذِّکْرَ وَالْخَشُوْعَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غُفِرَ لَہُ)) (مسند أحمد: ۲۸۰۹۶)
یوسف بن عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں: میں سیدنا ابو درداء ؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انھوں نے مجھ سے پوچھا: بھتیجے! کس چیز نے تجھ سے اس شہر کا ارادہ کروایا؟ کون سی چیز لے آئی تجھے؟ میں نے کہا: جی کوئی چیز نہیں ہے، بس آپ اور میرے والد کے درمیان جو تعلق تھا، اس کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابو درداء ؓ نے کہا: یہ جھوٹ بولنے کا برا وقت ہے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر کھڑا ہوا اور دو یا چار رکعت نماز پڑھی اور اس میں اچھے انداز میں ذکر اور خشوع اختیار کیا، پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی، اس کو بخش دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 608

۔ (۶۰۸)۔عَنْ أُبیٍّ بْنِ کَعْبٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْوُضُوئِ شَیْطَانٌ یُقَالُ لَہُ الْوَلَہَانُ، فَاتَّقُوہُ، أَو قَالَ: فَاحْذَرُوہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۵۵۸)
سیدنا ابی بن کعبؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کا ایک شیطان ہے، اس کو وَلَہَان کہتے ہیں، پس اس سے بچ کر رہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 609

۔ (۶۰۹)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِسَعْدٍ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا السَّرَفُ یَا سَعْدُ؟)) قَالَ: أَفِی الْوُضُوئِ سَرَفٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاِنْ کُنْتَ عَلٰی نَہْرٍ جَارٍ)) (مسند أحمد:۷۰۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سیدنا سعدؓ کے پاس سے گزرے اور وہ وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سعد! یہ کیا اسراف کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اور اگرچہ تو جاری نہر پر ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 610

۔ (۶۱۰)۔عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی یَزِیْدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کَمْ یَکْفِیْنِی مِنَ الْوُضُوئِ؟ قَالَ: مُدٌّ، قَالَ: کَمْ یَکْفِینِیْ لِلْغُسْلِ؟ قَالَ: صَاعٌ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا یَکْفِینِیْ، قَالَ: لَا أُمَّ لَکَ، قَدْ کَفٰی مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۶۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: وضو کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک مُدّ۔ اس نے کہا: اور غَسَلَ کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک صاع۔ اس آدمی نے کہا: یہ پانی مجھے تو کفایت نہیں کرتا، انھوں نے کہا: تیری ماں نہ رہے۔ یہ مقدار اس ہستی کے لیے تو کافی تھی، جو تجھ سے بہتر تھی، ان کی مرادرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 611

۔ (۶۱۱)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُجْزِیئُ فِی الْوُضُوئِ رِطْلَانِ مِنْ مَّائٍ)) (مسند أحمد: ۱۲۸۷۰)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کے لیے دو رطل پانی کفایت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 612

۔ (۶۱۲)۔وَعَنہُ أَیْضًا ؓ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ بِاِنَائٍ یَکُونُ رِطْلَیْنِ وَیَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۸۷۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک ایسے برتن سے وضو کر لیتے تھے، جس میں دو رطل پانی آتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک صاع پانی سے غسل کر لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 613

۔ (۶۱۳)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((یَکْفِیْ أَحَدَکُمْ مُدٌّ فِی الْوُضُوئِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۲۴)
سیدنا انسؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کے لیے تم کو ایک مُدّ پانی کافی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 614

۔ (۶۱۴)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ اَنَّھَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّ التَّیَمُّنَ فِیْ شَاْنِہٖ کُلِّہٖ، مَا اسْتَطَاعَ فِیْ طُھُوْرِہٖ وَتَرَجُّلِہٖ وَتَنَعُّلِہٖ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۳۴)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تمام امور میں حسب ِ استطاعت دائیں طرف کو پسند کرتے، مثلا: وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 615

۔ (۶۱۵) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا لَبِسْتُمْ وَاِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَئُ وْا بِأَیَامِنِکُمْ، وَقَالَ أَحْمَدُ: بِمَیَامِنِکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۳۷)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو تو دائیں طرف سے شروع کیا کرو۔

آیت نمبر