MUSNAD AHMED

Search Results(1)

120)

120) مہر کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6943

۔ (۶۹۴۳)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا حِیْنَمَا تَزَوَّجَہَا: ((اَمَا اِنِّیْ لَا أَنْقُصُکِ مِمَّا اَعْطَیْتُ اَخَوَاتِکِ رَحَیَیْنِ وَجَرَّۃً وَمِرْفَقَۃً مِنْ اَدَمِ حَشْوُھَا لِیْفٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۶۴)
۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے جو کچھ تیری بہنوں کو دیا ہے، تیرے لیے اس سے کمی نہیں کروں گا، دو چکیاں ہیں، ایک گھڑا ہے اور چمڑے کا ایک گدا ہے، جس میں پتے بھرے گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6944

۔ (۶۹۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْعَمَّۃِ وَالْخَالَۃِ وَبَیْنَ الْعَمَّتَیْنِ وَالْخَالَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6945

۔ (۶۹۴۵)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا أَوْ خَالَتِہَا۔(مسند احمد: ۳۵۳۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھییا خالہ کی موجودگی میں شادی کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6946

۔ (۶۹۴۶)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا وَالْعَمَّۃُ عَلٰی بِنْتِ أَخِیْہَا، وَالْمَرْأَۃُ عَلٰی خَالَتِہَا وَالْخَالَۃُ عَلٰی بِنْتِ اُخْتِہَا، لَا تُنْکَحُ الْکُبْرٰی عَلَی الصُّغْرٰی وَلَا الصُّغْرٰی عَلَی الْکُبْرٰی۔ (مسند احمد: ۹۴۹۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح کیا جائے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا کہ چھوٹی پر بڑی سے اور بڑی پر چھوٹی سے شادی کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6947

۔ (۶۹۴۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا۔)) (مسند احمد: ۵۷۷)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس عورت سے شادی نہ کی جائے، جس کی پھوپھی اور خالہ پہلے سے موجود ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6948

۔ (۶۹۴۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہ۔ (مسند احمد:۶۷۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6949

۔ (۶۹۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہٰی، فَذَکَرَ خِصَالًا نَہٰی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا مِنْہَا وَأَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَخَالَتِہَا وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَعَمَّتِہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۶۶۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ امور سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کو شمار کیا، ان میں سے ایک چیزیہ تھی: لڑکی اور اس کی خالہ اور لڑکی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنا۔ یعنییہ ان امور میں سے تھا، جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6950

۔ (۶۹۵۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا، وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا، وَلَا الْمَرْأَۃُ عَلَی ابْنَۃِ اَخِیْہَا وَلَا عَلَی ابْنَۃِ اُخْتِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۸۷)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6951

۔ (۶۹۵۱)۔ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ اَنَّہ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَجْمَعُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَبَیْنَ خَالَۃِ اَبِیْہَا وَالْمَرْأَۃِ وَخَالَۃِ أُمِّہَا وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَعَمَّۃِ اَبِیْہَا وَالْمَرْأَۃِ وَعَمَّۃِ اُمِّہَا، فَقَالَ: قَالَ قَبِیْصَۃُ بْنُ ذُؤَیْبٍ: سَمِعْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَخَالَتِہَا وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَعَمَّتِہا، فَنَرٰی خَالَۃَ أُمِّہَا بِتِلْکَ الْمَنْزِلَۃِ وَاِنْ کَانَ مِنَ الرِّضَاعِ یَکُوْن مِنْ ذَالِکَ بِتِلْکَ الْمَنْزِلَۃِ۔ (مسند احمد: ۹۸۳۳)
۔ عورت کی پھوپھی سے نکاح نہ کیا جائے اور نہ ہی اس کی خالہ سے نکاح کیا جائے اور نہ ہی عورت اور اس کی بھتیجی سے اور نہ ہی اس کی بھانجی سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6952

۔ (۶۹۵۲)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: جَائَ تْ اُمُّ حَبِیْبَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لَکَ فِیْ اُخْتِیْ؟ قَالَ: ((فَأَصْنَعُ بِہَا مَاذَا؟)) قَالَتْ: تَزَوَّجْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَتُحِبِّیْنَ ذٰلِکِ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِکَنِیْ فِیْ خَیْرٍ أُخْتِیْ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا لَاتَحِلُّ لِیْ)) قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ بَلَغَنِیْ أَنَّکَ تَخْطُبُ دُرَّۃَ ابْنَۃَ اُمِّ سَلَمَۃَ بِنْتَ اَبِیْ سَلَمَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَتْ تَحِلُّ لِیْ لَمَا تَزَوَّجْتُہَا، قَدْ اَرْضَعَتْنِیْ وَأَبَاھَا ثُوَیْبَۃُ مَوْلَاۃُ بَنِیْ ھَاشِمٍ فَـلَا تَعْرِضْنَ عَلَیَّ اَخَوَاتِکُنَّ وَ لا بَنَاتِکُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۲۶)
۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ یا اس کی ماں کی خالہ کو جمع کرتا ہے اور عورت اور اس کے باپ کی پھوپھییا اس کی ماں کی پھوپھی کو جمع کرتا ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: قبیصہ بن ذؤیب نے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک نکاح میں عورت اور اس کی خالہ کو اور عورت اور اس کی پھوپھی کوجمع کیا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ عورت کی ماں کی خالہ اس کی اپنی خالہ کے قائم مقام ہے اور اگر اس طرح کا رضاعی رشتہ ہو تو اس کا بھییہی حکم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6953

۔ (۶۹۵۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: لَقِیْتُ خَالِیْ وَمَعَہُ الرَّاْیَۃُ فَقُلْتُ: أَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ اَبِیْہِ مِنْ بَعْدِہِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ أَوْ أَقْتُلَہُ وَ آخُذَ مَالَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۶)
۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن کی رغبت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟انھوں نے کہا: آپ اس سے شادی کرلیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اورپہلے کون سی اکیلی ہوں، اور میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے کہ وہ اس خیر وبھلائی میں میرے ساتھ شریک ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ میرے لئے حلال نہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے درہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں اس سے شادی نہ کر سکتا، کیونکہ بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے مجھے اور اس کے باپ کو دودھ پلایا ہے، پس اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر پیش نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6954

۔ (۶۹۵۴)۔ وَعَنْ یَزِیْدَ بنِ الْبَرَائِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: لَقِیْتُ خَالِیْ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ الْمُتَقَدِّمَ وَفِیْ آخِرِہِ: قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: مَا حَدَّثَ اَبِیْ عَنْ اَبِیْ مَرْیَمَ عَبْدِ الْغَفَّارِ اِلَّا ھٰذَا الْحَدِیْثَ لِعِلَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۱۱)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے ماموں کو اس حال میں ملا کہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں: انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے، جس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس لئے بھیجا کہ میں اس کی گردن اڑا دو، یا اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال لوٹ لاؤں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6955

۔ (۶۹۵۵)۔ حَدَّثَنَا اَسْبَاطٌ قَالَ: ثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ اَبِی الْجَہْمِ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اِنِّی لَأَطُوْفُ عَلٰی اِبِلٍ ضَلَّتْ لِیْ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَنَا اَجُوْلُ فِیْ أَبْیَاتٍ فَاِذَا اَنَا بِرَکْبٍ وَفَوَارِسَ اِذْ جَاؤُوْا فَطَافُوْا بِفِنَائِیْ فَاسْتَخْرَجُوْا رَجُلًا فَمَا سَأَلُوْہُ وَلَاکَلَّمُوْہُ حَتّٰی ضَرَبُوْا عُنُقَہُ، فَلَمَّا ذَھَبُوْا سَأَلْتُ عَنْہُ فَقَالُوْا: عَرَّسَ بِاِمْرَأَۃِ أَبِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۰۹)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ماموں کو ملا،… پھر اوپر والی حدیث بیان کی،… البتہ اس کے آخر میںہے: ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے ابو مریم عبد الغفار سے صرف یہ حدیث بیان کی ہے، کیونکہ اس میں علت موجود ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6956

۔ (۶۹۵۶)۔ حَدَّثَنَا اَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ثَنَا أَبُوْبَکْرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: أَتَوْا قُبَّۃً فَاسْتَخْرَجُوْا مِنْہَا رَجُلًا فَقَتَلُوْہُ، قَالَ: قُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ قَالُوْا: ھٰذَا رَجُلٌ دَخَلَ بِاُمِّ امْرَأَتِہِ فَبَعَثَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَتَلُوْہُ۔(مسند احمد: ۱۸۸۱۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہدمبارک میں میرے اونٹ گم ہو گئے، پس میں مختلف گھروں میں چکر لگا رہا تھا، اچانک میں نے ایک قافلہ اور گھوڑ سوار دیکھے، وہ آگے بڑھے اور میرے صحن میں گھومے، انھوں نے ایک آدمی کو نکالنے کا مطالبہ کیا، پھر نہ انھوں نے اس سے کوئی سوال کیا اور نہ اس سے کوئی بات کی،یہاں تک کہ اس کی گردن اڑا دی، جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6957

۔ (۶۹۵۷)۔ عَنِ الْبْرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِنَا نَاسٌ مُنْطَلِقُوْنَ، فَقُلْنَا: اَیْنَ تَذْھَبُوْنَ؟ فَقَالُوْا: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی رَجُلٍ یَأْتِی امْرَأَۃَ اَبِیْہِ أَنْ نَقْتُلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۷۹)
۔ سیدنا مطرف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ لوگ ایک خیمہ میں آئے، انھوں نے وہاں سے ایک آدمی باہر نکالا اور اسے قتل کر دیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ آدمی ہے جس نے اپنی بیوی کی ماں سے شادی کی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کو اس کی طرف بھیجا ہے، اس لیے انھوں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6958

۔ (۶۹۵۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلاَ أَدُلُّکَ عَلٰی اَجْمَلِ فَتَاۃٍ فِیْ قُرَیْشٍ؟ قَالَ: ((وَ مَنْ ھِیَ؟)) قُلْتُ: ابْنَۃُ حَمْزَۃَ، قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ اَنَّہَا ابْنَۃُ اَخِیْ مِنَ الرَّضَاعِ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ لوگ ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے کہا: تم کہاں جارہے ہو: انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسے آدمی کی جانب بھیجا ہے، جو اپنے باپ کی بیوی سے زنا کرتا ہے، تاکہ ہم اس کو قتل کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6959

۔ (۶۹۵۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا لَکَ تَنَوَّقُ فِیْ قُرَیْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: ((وَھَلْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، ابْنَۃُ حَمْزَۃَ، قَالَ: ((اِنَّہَا لَا تَحِلُّ لِیْ، ھِیَ ابْنَۃُ اَخِیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو ایسی لڑکی کا نہ بتائوں، جو قریش میں سے سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: سیدنا حمزہ کی بیٹی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے نہیں ہو کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام کیے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6960

۔ (۶۹۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُرِیْدَ عَلَی ابْنَۃِ حَمْزَۃَ، فَقَالَ: ((إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَیَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ وَإِنَّہَا لَاتَحِلُّّ لِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۰۴۳)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! آپ قریش میں رشتے کو پسند کرتے ہیں اور ہمیںیعنی بنو ہاشم کو چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں، سیدنا حمزہ کی بیٹی (سلمیٰ) ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6961

۔ (۶۹۶۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ مِنْ خَالٍ أَوْعَمٍّ أَوِ ابْنِ أَخٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۱۹)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدنا حمزہ کی بیٹی سے رشتہ کرنے کا بتلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے وہ رشتہ حرام ہے، جو نسب سے حرام ہے، سو وہ میرے لئے حلال نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6962

۔ (۶۹۶۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا اَبِیْ قُعَیْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَہُ، فَلَمَّا أَنْ جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا اَبِیْ قُعَیْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَیَّ فَأَبَیْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ، فَقَالَ: ((ائْذَنِیْ لَہُ۔)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِی الْمَرْأَۃُ وَلَمْ یُرْضِعْنِی الرَّجُلُ، قَالَ: ((ائْذَنِیْ لَہُ فَاِنَّہُ عَمُّکِ تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رضاعت کی وجہ سے وہ رشتہ حرام ہوتا ہے، جو نسب کی وجہ سے حرام ہے، مثلا ماموں، چچا، بھتیجا وغیرہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6963

۔ (۶۹۶۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: جَائَ نِیْ عَمِّیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِیَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ بَعْدَ مَاضُرِبَ الْحِجَابُ فَذَکَرَ نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی،لیکن میں نے اجازت نہ دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مرد نے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو اس کو اجازت دے دیا کر، وہ تیرا رضاعی چچا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6964

۔ (۶۹۶۴)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: جَائَ نِیْ أَفْلَحُ بْنُ اَبِیْ الْقُعَیْسِیَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ، وَالَّذِیْ أُرْضِعَتْ عَائِشَۃُ مِنْ لَبَنِہِ ھُوَ أَخُوُہ،، فَجَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ فَأَبَیْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ، فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ A فَقَالَ: ((ائْذَنِیْ لَہُ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۰۳)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد میرے رضاعی چچا نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، … پھر وہی حدیث بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6965

۔ (۶۹۶۵)۔ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُوْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: امْرَأَۃُ اَبِیْ اَرْضَعَتْ جَارِیَۃً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَیَّ، أَ فَتَرٰی أَنِّی أَتَزَوَّجُہَا؟ فَقَالَ: لَا، أَبُوْکَ أَبُوْھَا قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ حَدِیْثَ اَبِیْ الْقُعَیْسِ فَقَالَ: اِنَّ أَبَا الْقُعَیْسِ أَتٰی عَائِشَۃَیَسْتَأْذِنُ عَلَیْہَا فَلَمْ تَأْذَنْ لَہُ، فَلَمَّا جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا قُعَیْسٍ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ فَلَمْ آذَنْ لَہ،، فَقَالَ: ((ھُوَ عَمُّکِ فَلْیَدْخُلْ عَلَیْکِ۔))، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِی الْمَرْأَۃُ وَلَمْ یُرْضِعْنِیْ الرَّجُلُ، فَقَالَ: ((ھُوَ عَمُّکِ فَلْیَدْخُلْ عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۴۳)
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: افلح بن ابی قعیس آیا اور میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، جس خاتون نے عائشہ کو دودھ پلایا تھا، یہ شخص اس کے خاوند کا بھائی تھا، پس اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دیا کر۔ … الحدیث۔ عباد بن منصور کہتے ہیں:میں نے قاسم بن محمد سے کہا: میرے باپ کی بیوی نے میرے بھائیوں کا دودھ عوام میں سے کسی لڑکی کو پلایا، اب کیا میں اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اب تیرا اور اس لڑکی کاباپ ایک ہے، پھر اس نے ابو قعیس کی حدیث بیانکی اور وہ اس طرح کہ ابو قعیس، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور ان سے اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن انہوں نے اس کو اجازت نہ دی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس آیا تھا، اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے اس کو اجازت نہیں دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو تمہارا چچا ہے، اس کو تمہارے پاس آ جانا چاہیے۔ میں نے کہا: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مردنے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں وہ آپ کا چچا ہے،وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6966

۔ (۶۹۶۶)۔ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ عَائِشَۃَ أَخْبَرَتْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عِنْدَھَا وَأَنَّہَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ یَسْتَأْذِنُ فِیْ بَیْتِ حَفْصَۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا رَجُلٌ یَسْتَأْذِنُ فِیْ بَیْتِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَاہُ فُلَاناً لِعَمٍّ لِحَفْصَۃَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔))، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْکَانَ فُلَانٌ حَیًّا لِعَمِّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ دَخَلَ عَلَیَّ؟ فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۶۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہاتھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی، آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ حفصہ کا فلاں رضاعی چچا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرا فلاں رضاعی چچا زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بیشک رضاعت ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جو نسب اور ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6967

۔ (۶۹۶۷)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ تَبَنّٰی سَالِمًا وَھُوَ مَوْلٰی لِِاِمْرَأَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْدًا، وَکَانَ مَنْ تَبَنّٰی رُجْلًا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ دَعَاہُ النَّاسُ ابْنَہُ وَ وَرِثَ مِنْ مِیْرَاثِہِ حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ ھُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ، فَاِنْ لَمْ تَعْلَمُوْا آبَائَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} فَرُدُّوْا إِلٰی آبَائِہِمْ، فَمَنْ لَمْ یُعْلَمْ لَہُ أَبٌ فَمَوْلًی وَأَخٌ فِیْ الدِّیْنِ، فَجَائَتْ سَہْلَۃُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نَرٰیسَالِمًا وَلَدًا یَأْوِیْ مَعِیَ وَمَعَ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ وَیَرَانِیْ فُضُلًا (وَفِیْ لَفْظٍ: وَقَدْ بَلَغَ مَا یَبْلُغُ الرِّجَالُ) وَقَدْ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ: ((اَرْضِعِیْہِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَرْضِعِیْہِ تَحْرُمِیْ عَلَیْہِ۔)) فَکَانَ بِمِنْزِلَۃِ وَلَدِھَا مِنَ الرَّضَاعِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) فَاَرْضَعْتُہُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَکَانَ بِمَنْزِلَۃِ وَلَدِھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَبِذَالِکَ کَانَتْ عَائِشَۃُ تَأْمُرُ أَخَوَاتِہَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِہَا أَنْیُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَۃُ أَنْ یَرَاھَا وَیَدْخُلَ عَلَیْہَا وَاِنْ کَانَ کَبِیْرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ یَدْخُلُ عَلَیْہَا، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتّٰییَرْضَعَ فِی الْمَہْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ: وَاللّٰہِ! مَانَدْرِیْ لَعَلَّہَا کَانَتْ رُخْصَۃً مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسَالِمٍ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، سالم انصار کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے اس کو آزاد کر دیا تھا اورسیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو متبنی بیٹا بنا لیا تھا، دورِجاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے، پھر جو منہ بولا بیٹا بناتا تھا اس کو بیٹا کہہ کر ہی آواز دیتا تھا اور وہ وراثت کا حقدار بننا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے یہ حکم اتار دیا: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ……فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، اللہ تعالیٰ کے نزدیکیہ بات زیادہ انصا ف والی ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ (سورۂ احزاب:۵)اس آیت کے بعد منہ بولے بیٹے اصلی باپ کے نام کی جانب پھیر دئیے گئے، جن کے باپوں کے نام معلوم نہ تھے، ان کو دوست یا بھائی کہہ کر پکارا جاتا، سیدنا ابو حذیفہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو سالم کو بیٹا بنا رکھا تھا، وہ میرے اور ابو حذیفہ کے پاس آتا تھا اور کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا، اب وہ بڑا ہو چکا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میںیہ حکم بھی اتار دیا ہے کہ منہ بولا بیٹا، حقیقی نہیں ہوتا، انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دے، اس وجہ سے تو اس پر حرام ہو جائے گی اور وہ رضاعی بیٹا بن جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: پس سہلہ نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا اور یہ ان کے رضاعی بیٹا بن گیا۔ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جن افراد کو دیکھنا چاہتی تھیں، اپنی بہنوں کو اور بھانجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ ان کو دودھ پلا دیں، اگرچہ وہ بڑی عمر کے ہوتے، جب وہ اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیتیں تو وہ داخل ہو سکتا تھا، مگر سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور نبیکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دوسری ازواج مطہرات کسی کو اس رضاعت کی وجہ سے داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھیں، وہ اس رضاعت کو معتبر سمجھتی تھیں، جو دودھ کی عمر میں ہوتی تھی، اور وہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہتی تھیں کہ ممکن ہے یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے نہ ہو، بلکہ صرف سیدنا سالم کے لئے ہو کہ انہوں نے بڑی عمر میں بھی دودھ پی لیا تو رضاعت ثابت ہوگئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6968

۔ (۶۹۶۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اَتَتْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ سَالِمًا کَانَ مِنَّا حَیْثُ قَدْ عَلِمْتَ، اَنَّا کُنَّا نَعُدُّہُ وَلَدًا، فَکَانَ یَدْخُلُ عَلَیَّ کَیْفَ شَائَ وَلَا نَحْتَشِمُ مِنْہُ، فَلَمَّا أَنْزَلَ فِیْہِ وَفِیْ اَشْبَاھِہِ مَا أَنْزَلَ، أَنْکَرْتُ وَجْہَ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ اِذَا رَآہُ، یَدْخُلُ عَلَیَّ، قَالَ: ((فَأَرْضِعِیْہِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ لِیَدْخُلْ عِلَیْکِ کَیْفَ شَائَ فَاِنَّمَا ھُوَ ابْنُکِ۔))، فَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَرَاہُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِیْنَ، وَکَانَ مَنْ سِوَاھَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرٰی اَنَّہَا کَانَتْ خَاصَّۃً لِسَالِمٍ مَوْلٰی اَبِیْ حُذَیْفَۃَ الَّذِیْ ذَکَرَتْ سَہْلَۃُ مِنْ شأَنْہِ رُخْصَۃً لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۴۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلۃ بنت سہیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ سالم کا ہمارے ہاں کیا مقام تھا، بس ہم اس کو بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس جیسے چاہتا، آجاتا تھا، ہم اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے، اب اس کے بارے میں اور اس قسم کے لے پالک لڑکوں کے بارے میں نیا حکم نازل ہو چکا ہے، اب جب سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو دیکھتے ہیں تو ان کا چہرہ متغیرہو جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے دس مرتبہ دودھ پلادے، پھر وہ جیسے چاہے، تیرے پاس آ جائے، وہ تیرا بیٹا بن جائے گا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس حکم کو عام سمجھتی تھیں، لیکن دوسری ازواج مطہرات کا خیال تھا کہ یہ حکم مولائے ابی حذیفہ سالم کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ سیدہ سہلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کی ایک خاص صورت ذکر کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6969

۔ (۶۹۶۹)۔ عَنْ سَہْلَۃَ امْرَأَۃِ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ سَالِمًا مَوْلٰی اَبِیْ حُذَیْفَۃَیَدْخُلُ عَلَیَّ وَھُوَ ذُوْلِحْیَۃٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ A: ((أَرْضِعِیْہِ۔)) فقَالَتْ: کَیْفَ اُرْضِعُہُ وَھُوَ ذُوْلِحْیَۃٍ، فَاَرْضَعَتْہُ فَکَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۵۴۵)
۔ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوحذیفہ کا آزاد شدہ غلام میرے پاس آتا ہے، جبکہ اب تو وہ داڑھی والا جوان ہو چکا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اسے کیسے دودھ پلا ؤں وہ تو داڑھی والا ہے؟ پھر انھوں نے اس کو دودھ پلا دیا تھا اور وہ ان کے پاس آتا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6970

۔ (۶۹۷۰)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَتْ تَقُوْلُ: أَبٰی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ اَحَدًا بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ: وَاللّٰہِ! مَانَرٰی ھٰذَا اِلَّا رُخْصَۃً أَرْخَصَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسَالِمٍ خَاصَّۃً، فَمَا ھُوَ بِدَاخِلٍ عَلَیْنَا أَحَدٌ بِہٰذِہِ الرَّضَاعَۃِ وَلَا رَائِیْنَا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۹۶)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی تھیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہرات نے اس سے انکار کر دیا تھا کہ سالم جیسی رضاعت کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، اور انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: ہماری تو صرف یہ رائے ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دی ہوئییہ رخصت سالم کے ساتھ خاص ہے، لہذا ایسی رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہم پر داخل ہو اور نہ ہمیں دیکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6971

۔ (۶۹۷۱)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: قَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ لِعَائِشَۃَ: إِنَّہ یَدْخُلُ عَلَیْکِ الْغُلَامُ الْأَیْفَعُ الَّذِیْ مَا أُحِبُّ اَنْ یَدْخُلَ عَلَیَّ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: أَ مَا لَکِ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ؟ قَالَتْ: اِنَّ امْرَأَۃَ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ سَالِمًا یَدْخُلُ عَلَیَّ وَھُوَ رَجُلٌ، وَفِیْ نَفْسِ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ مِنْہُ شَیْئٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْضِعِیْہِ حَتّٰییَدْخُلَ عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۲۹)
۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: عائشہ! آپ کے پاس بلوغت کے قریب ایک لڑکا آتا ہے، میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا : کیا آپ کے لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ ابو حذیفہ کی بیوی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سالم میرے پاس آتا ہے اور اب وہ مرد بن چکا ہے اور ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے تاکہ وہ تیرے پاس آ سکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6972

۔ (۶۹۷۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جَائَتْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ أَرٰی فِیْ وَجْہِ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ شَیْئًا مِنْ دُخُوْلِ سَالِمٍ عَلَیَّ، فَقَالَ: ((أَرْضِعِیْہِ۔))، فَقَالَتْ: کَیْفَ اُرْضِعُہُ وَھُوَ رَجُلٌ کَبِیْرٌ، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((أَ لَسْتُ اَعْلَمُ أَنَّہُ، رَجُلٌ کَبِیْرٌ؟)) ثُمَّ جَائَتْ فَقَالَتْ: مَا رَاَیْتُ فِیْ وَجْہِ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ شَیْئًا اَکْرَھُہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۰۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب سالم میرے پاس داخل ہوتا ہے تو مجھے اپنے خاوند سیدنا ابوحذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چہرے پر تبدیلی نظر آتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تواسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اس کو کیسے دودھ پلاؤں، وہ اتنا بڑا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسنے لگے اور فرمایا: کیا میں نہیں جانتا کہ وہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ آئی تو اس نے کہا:اب حذیفہ کے چہرے میں کوئی کراہت نظر نہیں آتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6973

۔ (۶۹۷۳)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَھَا رَجُلٌ قَالَ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَاَنَّہُ، شَقَّ عَلَیْہِ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْظُرْنَ مَا اِخْوَانُکُنَّ فَاِنَّمَا الرَّضَاعَۃُ مِنَ الْمَجَاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ کو یہ بات سخت ناگوار گزری، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا رضاعی بھائی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذرا غور کر لو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت تو بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6974

۔ (۶۹۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْھِلَالِیِّ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا کَانَ فِیْ سَفَرٍ فَوَلَدَتِ امْرَأَتُہُ فَاحْتُبِسَ لَبَنُہَا، فَجَعَلَ یَمُصُّہُ وَیَمُجُّہُ فَدَخَلَ حَلْقَہُ فَأَتٰی أَبَا مُوْسٰی فَقَالَ: حُرِّمَتْ عَلَیْکَ، فَأَتَی ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَسَأَلَہُ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ اِلَّا مَا اَنْبَتَ اللَّحْمَ وَاَنْشَرَ الْعَظْمَ۔)) (مسند احمد: ۴۱۱۴)
۔ ابو موسیٰ ہلالی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر میں تھا، اس کی بیوی نے بچہ جنا، لیکن اس کا دودھ رک گیا، اس لیے اس آدمی نے اس کا دودھ چوسنا اور پھر منہ سے باہر پھینکنا شروع کر دیا، (تاکہ دودھ رواں ہو جائے)، لیکن ہوا یوں کہ کچھ دودھ اس کے حلق میں اتر گیا، پس وہ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، انھوں نے کہا: تیری بیوی تو تجھ پر حرام ہو چکی ہے، پھر وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’رضاعت اس وقت تک حرام نہیں کرتی، جب تک وہ گوشت نہ اگائے اور ہڈیوں کو مضبوط نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6975

۔ (۶۹۷۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ الْمَصَّۃُ وَالْمَصَّتَانِ)) (مسند احمد: ۱۶۲۰۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ چوسنے یا دو دفعہ چوسنے سے رضاعت حرام نہیں کرتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6976

۔ (۶۹۷۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّۃُ وَلَا الْمَصَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۳۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ پینایا دو دفعہ پینا حرام نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6977

۔ (۶۹۷۷)۔ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِیْ فَجَائَ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَتْ لِی امْرَأَۃٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَیْہَا امْرَأَۃً اُخْرٰی فَزَعَمَتِ امْرَأَتِیْ الْأُوْلٰی اَنَّہَا ارْضَعَتْ امْرَأَتِی الْحُدْثٰی اِمْلَاجَۃً أَوْاِمْلَاجَتَیْنِ، وَقَالَ مَرَّۃً: رَضْعَۃً أَوْ رَضْعَتَیْنِ، فَقَالَ: ((لَا تُحَرِّمُ الْاِمْلَاجَۃُ وَلَا الْاِمْلَاجَتَانِ۔)) اَوْ قَالَ: ((الرَّضْعَۃُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۱۰)
۔ سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک دیہاتی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی تھی، میں نے اس پر ایک اور شادی کر لی ہے، اب میری پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایکیا دو دفعہ دودھ پلایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایکیا دو دفعہ دودھ پلانے سے رشتہ حرام نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6978

۔ (۶۹۷۸)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُحَرُِّمُ الْاِمْلَاجَۃُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۱۷)
۔ سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایکیا دودفعہ دودھ پلانے سے رشتہ حرام نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6979

۔ (۶۹۷۹)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّa (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ) أَ تُحَرِّمُ الْمَصَّۃُ؟ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۲۴)
۔ سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس طرح بھی بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کیا ایک دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، ثابت نہیں ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6980

۔ (۶۹۸۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُبَیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُہ، مِنْ عُقْبَۃَ وَلٰکِنِّیْ لِحَدِیْثِ عُبَیْدٍ أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ فَجَائَتْنَا امْرَأْۃٌ سَوْدَائُ فَقَالَتْ: اِنِّیْ قَدْ أَرْضَعْتُکُمَا، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنّیْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً فُلَانَۃَ ابْنَۃَ فُلَانٍ فَجَائَتْنَا امْرَأَۃٌ سَوْدَائُ فَقَالَتْ: إِنِّیْ اَرْضَعْتُکُمَا وَھِیَ کَافِرَۃٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّیْ فَأَتَیْتُہُ مِنْ قِبَلِ وَجْہِہِ فَقُلْتُ: اِنِّہَا کَاذِبَۃٌ، فَقَالَ لِیْ: ((کَیْفَ بِہَا وَقَدْ زَعَمَتْ اَنَّہَا قَدْ اَرْضَعَتْکُمَا دَعْہَا عَنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۴۸)
۔ سیدنا عقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے ایک عورت سے شادی کی، تو ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے کہا: میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے، میںیہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں نے فلاں کی بیٹی سے شادی کی ہے ، اب ہمارے پاس ایک سیاہ فام عورت آئی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، جبکہ وہ بات کرنے والی کافرہ ہے، یہ سن کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے رخ موڑ لیا، میں پھر آپ کے چہرۂ مبارک کے سامنے سے آ گیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹ بول رہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیسے جھوٹ بول رہی ہے، اب اس نے کہہ جو دیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اب تو اس بیوی کو چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6981

۔ (۶۹۸۱)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُقْبَۃُ بْنُ الْحَارِثِ اَوْ سَمِعْتُہ مِنْہُ أَنَّہ تَزَوَّجَ أُمَّ یَحْیَی ابْنَۃَ اَبِیْ إِھَابٍ فَجَائَ تِ امْرَأَۃٌ سَوْدَائُ فَقَالَتْ: قَدْ اَرْضَعْتُکُمَا، فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَعْرَضَ عَنِّیْ، فَتَنَحَّیْتُ فَذَکَرْتُہُ لَہُ، فَقَالَ: ((فَکَیْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ اَنْ قَدْ اَرْضَعَتْکُمَا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَکَیْفَ وَقَدْ قِیْلَ۔)) فَنَہَاہُ عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۵۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس نے ام یحیی بنتِ ابی اہاب سے شادی کی، لیکن ایک سیاہ فام عورت نے آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، پھر جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، میں بھی اس جانب ہو گیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب کیا کریں، جبکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اب کیا کریں،جبکہ دودھ پلانے کی بات کہی جا چکی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6982

۔ (۶۹۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا یَجُوْزُ فِی الرَّضَاعَۃِ مِنَ الشُّہُوْدِ؟ قَالَ: ((رَجُلٌ اَوِامْرَأَۃٌ۔)) وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ۔ (مسند احمد: ۵۸۷۷)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ رضاعت میں کتنے گواہ ہوسکتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: ایک آدمی اور ایک عورت۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6983

۔ (۶۹۸۳)۔ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا یُذْھِبُ عَنِّیْ مَذَمَّۃَ الرَّضَاعِ؟ قَالَ: ((غُرَّۃٌ، عَبْدٌ أَوْ أَمَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۲۵)
۔ سیدنا حجاج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کونسی چیز ہے، جو دودھ پلانے والی کے حق کو مجھ سے ادا کر سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا ایک لونڈی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6984

۔ (۶۹۸۴)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ لَنَا نِسَائٌ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَّا نَسْتَخْصِیْ؟ فَنَہَانَا عَنْہُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِیْ أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ اِلٰی أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللّٰہِ: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔} [سورۃ المائدۃ: ۸۷] (مسند احمد: ۳۹۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیںیہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۂ مائدہ: ۸۷)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6985

۔ (۶۹۸۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ وَسَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنَّا فِیْ غَزَاۃٍ فَجَائَنَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اسْتَمْتِعُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۱۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں تھے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے ہیں کہ تم لوگ (نکاحِ متعہ کی صورت میں) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6986

۔ (۶۹۸۶)۔ (وَعَنْہُمَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَا: خَرَجَ عَلَیْنَا مُنَادِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَادٰی: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَذِنَ لَکُمْ فَاسْتَمْتِعُوْا یَعْنِی مُتْعَۃَ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۴۹)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کامنادی ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ اعلان کیا: بے شک اللہ کے رسول نے تم کو اجازت دی ہے، پس تم فائدہ حاصل کر سکتے ہو، یعنی نکاح متعہ کی صورت میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6987

۔ (۶۹۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: کُنَّا نَسْتَمْتِعُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالثَّوْبِ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۸۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں کپڑے کے عوض نکاح متعہ کر لیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6988

۔ (۶۹۸۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ حَتّٰی نَہَانَا عُمَرُ اَخِیْرًایَعْنِی النِّسَائَ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۱۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں اور سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے زمانوں میں عورتوں سے نکاح متعہ کیا کرتے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آخر میں ہمیں منع کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6989

۔ (۶۹۸۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ أَنَّہ، سَمِعَ أَبَاہُ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ: وَبَلَغَہُ أَنَّہ رَخَّصَ فِیْ مُتْعَۃِ النِّسَائِ، فَقَالَ لَہُ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہٰی عَنْہَا یَوْمَ خَیْبَرَ وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَھْلِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴)
۔ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے حوالے سے اس بات کا علم ہوا کہ وہ متعہ کی رخصت دیتے ہیں تو انھوں نے ان کو کہا:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6990

۔ (۶۹۹۰)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ نُعَیْمِ الْأَعْرَجِیِّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ وَ اَنَا عِنْدَہُ عَنِ الْمُتْعَۃِ، مُتْعَۃِ النِّسَائِ فَغَضِبَ وَقَالَ: واللّٰہِ! مَاکُنَّا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زُنَاۃً وَلَا مُسَافِحِیْنَ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۸)
۔ عبد الرحمن بن نعیم اعرجی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے متعہ کے نکاح کے بارے میں سوال کیا، وہ غصے میں آگئے اور کہا: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں زنا کار اور بدکار نہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6991

۔ (۶۹۹۱)۔ عَنِ الرَّبِیْعِِ بْنِ سَبْرَۃَ الْجُہَنِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَۃَ مِنْ بَیْنِ لَیْلَۃٍ وَیَوْمٍ، قَالَ: فَاِذَنَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمُتْعَۃِ، قَالَ: وَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِیْ فِیْ اَسْفَلِ مَکَّۃَ أَوْ قَالَ: فِیْ أَعَلَا مَکَّۃَ فَلَقِیْنَا فَتَاۃٌ مِنْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ کَاَنَّہَا الْبَکْرَۃُ الْعَنَطْنَطَۃُ، قَالَ: وَأَنَا قَرِیْبٌ مِنَ الدَّمَامَۃِ وَعَلَیَّ بُرْدٌ جَدِیْدٌ غَضٌّ، وَعَلَی ابْنِ عَمِّیْ بُرْدٌ خَلَقٌ، قَالَ: فَقُلْنَا لَھَا: ھَلْ لَکَ أَنْ یَسْتَمْتِعَ مِنْکِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَھَلْ یَصْلُحُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ اِلَی ابْنِ عَمِّیْ، فَقُلْتُ لَھَا: اِنَّ بُرْدِیْ ھٰذَا جَدِیْدٌ غَضٌّ وَبُرْدُ ابْنِ عَمِّیْ ھٰذَا خَلَقٌ مَحٌّ، قَالَتْ: بُرْدُ ابْنِ عَمِّکَ ھٰذَا لَا بَأْسَ بِہِ، فَاسْتَمْتَعَ مِنْہَا فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَکَّۃَ حَتّٰی حَرَّمَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۲۰)
۔ سیدنا سبرہ جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ فتح مکہ والے دن نکلے، ہم پندرہ روز وہاں ٹھہرے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دے دی، میں اور میرا چچا زاد مکہ کے زیریںیا بالائی علاقے میں گئے، وہاں ہم بنی عامر بن صعصعہ کی ایک نوجوان لڑکی سے ملے، گویا کہ وہ لمبی گردن والی نوخیز اونٹنی تھی، میں خوش شکل نہ تھا، لیکن میری چادر بالکل نئی تھی اور میرے چچا کے بیٹے پر پرانی اور بوسیدہ چادر تھی، ہم نے اس سے کہا: کیا تو ہم میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس نے کہا: کیایہ کرنا درست ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، پھر اس نے دیکھنا شروع کر دیا، جب وہ میرے چچا زاد بھائی کی جانب دیکھتی تو میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کہتا: میرییہ چادر بالکل نئی ہے اور اس کی چادر پرانی اور بوسیدہ ہے۔ اس نے کہا: تیرے چچا زاد بھائی کی چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، پس اس نے میرے چچا زاد بھائی سے متعہ کر لیا، بعد میں ہم ابھی مکہ سے باہر نہیں آئے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6992

۔ (۶۹۹۲)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِعُسْفَانَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْعُمْرَۃَ قَدْ دَخَلَتْ فِی الْحَجِّ۔)) فَقَالَ لَہُ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکٍ أَوْ مَالِکُ بْنُ سُرَاقَۃَ شَکَّ عَبْدُ الْعَزِیْزِ: أَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ عَلِّمْنَا تَعْلِیْمَ قَوْمٍ کَأَنَّمَا وُلِدُوْا الْیَوْمَ، عُمْرَتُنَا ھٰذِہٖلِعَامِنَاھٰذَاأَمْلِلْاَبَدِ؟قَالَ: ((لَابَلْلِلْأَبَدِ۔)) فَلَمَّاقَدِمْنَامَکَّۃَ طُفْنَا الْبَیْتَ وَبَیْنَ الْصَفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَۃِ النِّسَائِ فَرَجَعْنَا اِلَیْہِ فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہُنَّ قَدْ أَبَیْنَ اِلَّا اِلٰی أَجَلٍ مُسَمّٰی، قَالَ: ((فَافْعَلُوْا)) قَالَ: فَخَرَجْتُ اَنَا وَصَاحِبٌ لِیْ،عَلَیَّ بُرْدٌ وَعَلَیْہِ بُرْدٌ فَدَخَلْنَا عَلَی امْرَأَۃٍ فَعَرَضْنَا عَلَیْہَا أَنْفُسَنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ اِلٰی بُرْدِ صَاحِبِیْ، فَتَرَاہُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِیْ وَتَنْظُرُ اِلَیَّ فَتَرَانِیْ أَشَبَّ مِنْہُ فَقَالَتْ: بُرْدٌ مَکَانَ بُرْدٍ، وَاخْتَارَتْنِیْ فَتَزَوَّجْتُہَا عَشْرًا بِبُرْدِیْ فَبِتُّ مَعَہَا تِلْکَ اللَّیْلَۃَ فَلَمَّا اَصْبَحْتُ غَدَوْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یخَطُبَیَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً اِلٰی أَجَلٍ فَلْیُعْطِہَا مَاسَمّٰی لَھَا وَلَا یَسْتَرْجِعْ مِمَّا اَعْطَاھَا شَیْئًا وَلْیُفَارِقْہَا، فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ حَرَّمَہَا عَلَیْکُمْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۱۹)
۔ سیدنا سبرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے، جب ہم عسفان میں تھے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمرہ حج میںداخل ہو چکا ہے۔ سراقہ بن مالک یا مالک بن سراقہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس طرح تعلیم دیں، جس طرح اس قوم کو تعلیم دی جاتی ہے جو آج پیدا ہوئی ہو، سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ عمرہ اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ جب ہم مکہ میں پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اجازت دے دی۔ ہم آپ کی طرف واپس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورتوں نے انکار کر دیا ہے، البتہ وہ مقررہ وقت تک ماننے کے لیے تیار ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسے ہی کرلو۔ میں نکلا ، میرے ساتھ ایک ساتھی بھی تھا، ایک چادر میرے اوپر تھی، ایک چادر اس کے اوپر تھی۔ ہم ایک عورت کے پاس گئے، ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا، جب وہ عورت میرے ساتھی کی چادر کی جانب دیکھتی تواسے میری چادر سے عمدہ پاتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے اس سے زیادہ جوان پاتی، بالآخر اس نے کہا: چادر تو چادر ہی ہے، آدمی کا بدل تو نہیں ہوتا، پس اس نے مجھے پسند کر لیا، میں نے اس سے دس دن کے لئے چادر کے عوض شادی کر لی، میں نے اس کے ساتھ ابھی تک ایک رات گزاری تھی کہ جب میں صبح کے وقت مسجد میں گیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر پایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ تم میں سے جس نے بھی کسی عورت سے وقت مقررہ تک شادی کی ہے، جو عوض مقرر کیا ہے ،وہ اسے دے دے اور جو دے رکھا ہے، وہ واپس نہ لے اور اسے جدا کر دے، اللہ تعالی نے اس متعہ والے نکاح کو تم پر قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6993

۔ (۶۹۹۳)۔ وعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ مُتْعَۃِ النِّسَائِ یَوْمَ الْفَتْحِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۱۲)
۔ سیدنا سبرہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6994

۔ (۶۹۹۴)۔ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ: تَذَاکَرْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ الْمُتْعَۃَ مُتْعَۃَ النِّسَائِ، فقَالَ رَبِیْعُ بْنُ سَبْرَۃَ: سَمِعْتُ اَبِیْیَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَنْہٰی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۱۳)
۔ امام زہری کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبد العزیز کے پاس متعہ کا ذکرکیا، ربیع بن سبرہ نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر متعہ کا نکاح حرام قرار دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6995

۔ (۶۹۹۵)۔ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ اَبَیْہِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتْعَۃَ النِّسَائِ عَامَ أَوْطَاسٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۶۷)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اوطاس والے سال متعہ کی رخصت دی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6996

۔ (۶۹۹۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۴۲۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جا رہا ہو، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6997

۔ (۶۹۹۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَاحِبَ الرِّبَا وَآکِلَہُ وَشَاھِدَیْہِ وَالْمُحَلِّلَ وََالْمُحَلَّلَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۷۲۱)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان افراد پر لعنت کی ہے: سود والا (یعنی دینے والا)، سود کھانے والا، اس کے دو گواہ،حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6998

۔ (۶۹۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُحَلِّلَ وَالُمَحَلَّلَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۸۲۷۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے کیا جائے دونوں پر لعنت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6999

۔ (۶۹۹۹)۔ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْمُحْرِمُ لَا یَنْکِحُ وَلَا یُنْکِحُ وَلَا یَخْطُبُ۔)) (مسند احمد: ۴۰۱)
۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احرام والا نہ خود نکاح کرے،نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے اور نہ منگنی کا پیغام بھیجے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7000

۔ (۷۰۰۰)۔ حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ نِکَاحِ الشِّغَارِ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَا الشِّغَارُ؟ قَالَ: یُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَہ، وَیَتَزَوَّجُ ابْنَتَہ،، وَیُزَوِّجُ الرَّجُلُ أُخْتَہ، وَیَتَزَوَّجُ اُخْتَہ، بِغَیْرِ صَدَاقٍ۔ (مسند احمد: ۴۶۹۲)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار سے منع فرمایاہے، راوی کہتے ہیں: میں نے نافع سے کہا: شغار کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا اور خود اس کی بیٹی سے نکاح کر لینا، اسی طرح ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بہن کا نکاح کرنا اور خود اس کی بہن سے نکاح کر لینا، جبکہ بیچ میں مہر نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7001

۔ (۷۰۰۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الشِّغَارِ، قَالَ مَالِکٌ: وَالشِّغَارُ اَنْ یَقُوْلَ: أَنْکِحْنِی ابْنَتَکَ وَأُنْکِحُکَ ابْنَتِیْ۔ (مسند احمد: ۵۲۸۹)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایا، امام مالک کہتے ہیں:شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کر دے اور میں اپنی بیٹی کا تجھ سے نکاح کر دیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7002

۔ (۷۰۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الشِّغَارِ، قَالَ: وَالشِّغَارُ، اَنْ یَقُوْلَ الرَّجُلُ زَوِّجْنِی ابْنَتَکَ وَاُزَوِّجُکَ ابْنَتِیْ أَوْ زَوِّجْنِیْ اُخْتَکَ وَاُزَوِّجُکَ اُخْتِیْ، قَالَ: وَنَہٰی عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ وَ عَنِ الْحَصَاۃِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۴۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتا ہے: شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے اور میں اپنی بیٹی کی تجھ سے شادی کر دیتا ہوں، یا تو مجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دے اور میں تجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دیتا ہوں نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دھوکا کی تجارت اور کنکری کی بیع سے بھی منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7003

۔ (۷۰۰۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْأَعْرَجِ اَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ اَنْکَحَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْحَکَمِ اِبْنَتَہ، وَاَنْکَحَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنَتَہُ وَقَدْ کَانَا جَعَلَا صَدَاقًا فَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ اَبِیْ سُفْیَانَ وَھُوَ خَلِیْفَۃٌ اِلٰی مَرْوَانَ یَأْمُرُہُ بِالتَّفْرِیْقِ بَیْنَہُمَا، وَقَالَ فِیْ کِتَابِہِ: ھٰذَا الشِّغَارُ الَّذِیْ نَہٰی عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۱)
۔ عبد الرحمن بن ہرمزا عرج سے روایت ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمن بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور عبد الرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا، انہوں نے بیچ میں حق مہر کا تعین بھی کیا، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو خلیفہ تھے، نے مروان کیطرف خط لکھا اور اس کو حکم دیا کہ ان کے درمیان تفریق کرا دو، انہوں نے اپنے خط میںیہ وضاحت کی کہ یہ وہی شغارہے، جس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7004

۔ (۷۰۰۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الشِّغَارِ۔ (مسند احمد:۱۴۷۰۲)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7005

۔ (۷۰۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا شِغَارَ فِی الْْاِسْلَام)) (مسند احمد: ۴۹۱۸)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں کوئی شغار نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7006

۔ (۷۰۰۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاشِغَارَ فِی الْاِسْلَام۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۱۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار کا کوئی تصور نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7007

۔ (۷۰۰۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا شِغَارَ فِی الْاِسْلَام۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۰۴)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7008

۔ (۷۰۰۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الزَّانِیْ الْمَجْلُوْدُ لَا یَنْکِحُ اِلَّا مِثْلَہ۔)) (مسند احمد: ۸۲۸۳)
۔ سعید بن ابی سعید مقبری سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حد زدہ زانی نکاح نہیں کرتا، مگر اپنے جیسے سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7009

۔ (۷۰۰۹)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِسْتَأْذَنَ نَبِیَّ اللّٰہِ a فِیْ اِمْرَأَۃٍیُقَالَ لَھَا: اُمُّ مَہْزُوْلٍ، کَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَہُ اَنْ تُنْفِقَ عَلَیْہِ وَأَنَّہُ اسْتَاْذَنَ فِیْہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ ذَکَرَ لَہُ اَمْرَھَا فَقَرَأَ النَّبِیُّa {اَلزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُھَا اِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ} [النور: ۳]۔ (مسند احمد: ۶۴۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ام مہزول نامی ایک عورت سے نکاح کے بارے میں اجازت طلب کی،یہ خاتون بدکاری کرتی تھی اور اس نے یہ شرط بھی لگائی تھی کہ وہ اس پر خرچ کرے گی، بہرحال اس مسلمان نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کییا اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا معاملہ ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: زانیہ خاتون سے نکاح نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔ (سورۂ نور: ۲)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7010

۔ (۷۰۱۰)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ قَالَ: اَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ عَمَّتِیْ سَارَۃُ بِنْتُ مِقْسَمٍ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ قَالَتْ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ وَھُوَ عَلٰی نَاقَتِہِ وَأَنَا مَعَ اَبِیْ وَبِیَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دِرَّۃٌ کَدِرَّۃِ الْکُتَّابِ فَسَمِعْتُ الْاَعْرَابَ وَالنَّاسَ یَقُوْلُوْنَ: الْطَبْطَبِیَّۃَ ، فَدَنَا مِنْہُ اَبِیْ فَأَخَذَ بِقَدَمِہِ فَأَقَرَّلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَمَا نَسِیْتُ فِیْمَا نَسِیْتُ طُوْلَ إِصْبَعِ قَدَمِہِ السَّبَّابَۃِ عَلٰی سَائِرِ أَصَابِعِہِ، قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ اَبِیْ: إِنِّیْ شَہِدْتُ جَیْشَ عِثْرَانَ قَالَتْ: فَعَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَالِکَ الْجَیْشَ، فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ یُعْطِیْنِیْ رُمْحًا بَثَوَابِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا ثَوَابُہُ؟ قَالَ: أُزَوِّجُہُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَکُوْنُ لِیْ، قَالَ: فَأَعْطَیْتُہُ رُمْحِیْ ثُمَّ تَرَکْتُہُ حَتّٰی وُلِدَتْ لَہُ اِبْنَۃٌ وَبَلَغَتْ، فَأَتَیْتُہ،، فَقُلْتُ لَہُ: جَھِّزْ لِیْ أَھْلِیْ، فَقَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! لَا أُجَہِّزُھَا حَتّٰی تُحْدِثَ صَدَاقًا غَیْرَ ذَالِکَ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَّا أَفْعَلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِقَدْرِ أَیِّ النِّسَائِ ھِیَ؟)) قُلْتُ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِیْرَ، قَالَ: فقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْہَا عَنْکَ لَاخَیْرَ لَکَ فِیْہَا۔))، قَالَ: فَرَاعَنِیْ ذَالِکَ وَنَظَرْتُ إِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَأْثَمُ وَلَا یَأْثَمُ صَاحِبُکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۰۴)
۔ سیدنا میمونہ بنت کردم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ مکہ میں اونٹنی پر سوار تھے اور میں اپنے باپ کے ساتھ تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا، جیسے کتابت سکھانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے،میں نے دیہاتیوں اور دیگر لوگوں کوسنا وہ کہہ رہے تھے: کوڑے کی آواز طب طب سے بچو (یعنی کوڑے سے بچو)، میرے باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوئے اور آپ کے قدم مبارک کو پکڑ لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قدم برقرار رکھا،میں آپ کے پائوں کی سبابہ انگلی کی لمبائی دیگر انگلیوں کے مقابلہ میں کبھی نہیں بھولوں گی، میرے باپ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: میں عشران کے لشکر میں حاضر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس لشکر کو پہچان لیا، طارق بن مرقع نے کہا: کون ہے جو مجھے کپڑے کے عوض نیزہ دے گا، میں اسے اس کی جزا دوں گا۔ میں نے کہا:اس کی جزا کیا چیز ہو گی؟ اس نے کہا:میں اپنی پیدا ہونے والی سب سے پہلی بیٹی کی اس سے شادی کروں گا، میں نے اسے نیزہ دے دیا اور اس کے پاس ہی چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ اس کے ہاں بیٹی ہوئی اور پھر وہ بالغ بھی ہوگئی، میں اس کے پاس گیااور اس سے کہا: میری اہلیہ کو میرے لئے تیار کرو، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اسے تیار نہیں کروں گا تاوقتیکہ تو اس نیزے کے علاوہ بھی اس کا کوئی مہر بتائے، میں نے قسم اٹھائی کہ میں ایسا نہیں کروں گا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی عمر کتنی ہے؟ میں نے کہا: بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس میں خیر نہیں۔ اس بات نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، میں نے اس کی طرف دیکھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ تو قسم کی وجہ سے گنہگار ہوا اور نہ تیرا ساتھی ہوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7011

۔ (۷۰۱۱)۔ عَنْ جَمِیْلِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: صَحِبْتُ شَیْخًا مِنَ الْأَنْصَارِ ذَکَرَ أَنَّہ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌیُقَالُ لَہُ: کَعْبُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ زَیْدُ بْنُ کَعْبٍ فَحَدَّثَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ a تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہَا وَضَعَ ثَوْبَہ، وَقَعَدَ عَلَی الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِکَشْحِہَا بَیَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ ثُمَّ قَالَ: ((خُذِیْ عَلَیْکِ ثِیَابَکِ۔)) وَلَمْ یَأْخُذْ مِمَّا آتَاھَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۸)
۔ سیدنا کعب بن زیدیا زید بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحبت کا شرف بھی حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنی غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، جب اس کے پاس گئے،لباس اتارا اور بستر پر بیٹھے، تو اس کے پہلو میں سفیدی دیکھی، پس آپ بستر سے الگ ہو گئے اور اس سے فرمایا: تو اپنا لباس پہن لے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو جو کچھ دیا تھا، وہ اس سے واپس نہیں لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7012

۔ (۷۰۱۲)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ غَیْلَانَ بْنَ سَلَمَۃَ الثَّقَفِیَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَہُ عَشْرُ نِسْوَۃٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْتَرْمِنْہُنَ أَرْبَعًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۰۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے چار پسند کر لو (اور باقی چھوڑ دو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7013

۔ (۷۰۱۳)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدُرْوُ عَلٰی نِسَائِہِ فِی السَّاعَۃِ الْوَاحِدَۃِ مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَھُنَّ إِحْدٰی عَشَرَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: وَھَلْ کَانَ یُطِیْقُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہُ أُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۵۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7014

۔ (۷۰۱۴)۔ عَنْ مَطَرِ نِ الْوَرَّاقِ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ aیَطُوْفُ عَلٰی تِسْعِ نِسْوَۃٍ فِیْ ضَحْوَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۳۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن میں نو بیویوں پر چکر لگاتے (جماع کرتے) تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7015

۔ (۷۰۱۵)۔ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ فَیْرُوْزَ أَنَّ أَبَاہُ فَیْرُوْزَ أَدْرَکَہُ الْإِسْلَامُ وَتَحْتَہُ أُخْتَانِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((طَلِّقْ اَیَّتَہُمَا شِئْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۰۳)
۔ ضحاک کہتے ہیں: میرے باپ فیروز نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے جس ایک کوچاہتا ہے، چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7016

۔ (۷۰۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِیْ اِمْرَأَتَانِ أُخْتَانِ فَأَمَرَنِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاھُمَا۔ (مسند احمد: ۱۸۲۰۵)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: جب میں اسلام لایا تو میری دو بیویاں تھیں اور وہ دونوں بہنیں تھیں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ایک کو طلاق سے دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7017

۔ (۷۰۱۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَدَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْنَبَ ابَنَتَہُ عَلٰی زَوْجِہَا اَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیْعِ بِالنِّکَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ یُحْدِثْ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۸۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیٹی سیدنا زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کے سپرد کر دیا تھا اور کوئی نیا نکاح نہیں کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7018

۔ (۷۰۱۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَدَّ ابْنَتَہُ زَیْنَبَ عَلٰی اَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیْعِ وَکَانَ إِسْلَامُہَا قَبْلَ إِسْلَامِہِ بِسِتِّ سِنِیْنَ، عَلَی النِّکَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ یُحْدِثْ شَہَادَۃً وَلَا صَدَاقًا۔(مسند احمد: ۲۳۶۶)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کی طرف لوٹا دیا، حالانکہ سیدہ اپنے خاوند سے چھ سال پہلے مسلمان ہوئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ نئی گواہی پیش کی اور نہ نئے مہر کا مطالبہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7019

۔ (۷۰۱۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَدَّ ابْنَتَہُ إِلٰی اَبِی الْعَاصِ بِمَہْرٍ جَدِیْدٍ وَنِکَاحٍ جَدِیْدٍ۔ (مسند احمد: ۶۹۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ اپنی بیٹی کو سیدنا ابو العاص کی طرف لوٹایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7020

۔ (۷۰۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَۃٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَزَوَّجَتْ فجَائَ زَوْجُہَا الْأَوَّلُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِاِسْلَامِیْ فَنَزَعَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ زَوْجِہَا الْآخَرِ وَرَدَّھَا عَلٰی زَوْجِہَا الْأَوَّلِ۔ (مسند احمد: ۲۹۷۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں مسلمان ہوئی اور اس نے آگے شادی کرلی، لیکن اس کا پہلا خاوند نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی مشرف باسلام ہوا ہوں اور اس میری بیوی کو معلوم تھا کہ میں اسلام لا چکا ہوں، پھر بھی اس نے آگے شادی کر لی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خاتون کو دوسرے خاوند سے واپس لے کر اس کو اس کے پہلے خاوند کی طرف لوٹا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7021

۔ (۷۰۲۱)۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ اُمَیَّۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا یَتَحَدَّثُوْنَ عَنِ النَّبِیِّa قَالَ: ((إِذَا عُتِقَتِ الْأَمَۃُ فَہِیَ بِالْخِیَارِ مَالَمْ یَطَأْھَا إِنْ شَائَتْ فَارَقَتْہُ، وَإِنْ وَطِئَہَا فَـلَا خِیَارَلَھَا وَلَا تَسْتَطِیْعُ فِرَاقَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۹۵)
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزاد کر دیا جاتا ہے تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، جب تک اس کا خاوند اس سے جماع نہ کر لے، اگر وہ چاہے تو اس سے جدا ہو سکتی ہے اور اگر اس نے اس سے جماع کر لیا تو اس کا اختیار ختم ہو جائے گا اور اس کو اس سے جدا ہونے کی طاقت نہیں رہے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7022

۔ (۷۰۲۲)۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَحَدَّثُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أُعْتِقَتِ الْأَمَۃُ وَھِیَ تَحْتَ الْعَبْدِ فَأَمْرُھَا بِیَدِھَا فَاِنْ ھِیَ أَقَرَّتْ حَتّٰییَطَأَھَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ لَا تَسْتَطِیْعُ فِرَاقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۳۷)
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری کہتے ہیں: میں نے کچھ صحابہ کرام fسے سنا،انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزادی کر دیا جاتا ہے، جبکہ وہ پہلے کسی غلام کی بیوی ہو تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، اگر وہ اسی کے گھر برقرار رہی،یہاں تک کہ اس نے اس سے جماع کر لیا تو وہ اسی کی بیوی رہے گی اور اس سے جدا نہیں ہو سکے گی۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7023

۔ (۷۰۲۳)۔ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِشْتَرَیْتُ بَرِیْرَۃَ فَاشْتَرَطَ أَھْلُہَا وَلَائَ ھَا، فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اشْتَرِیْہَا فَأَعْتِقِیْہَا فَاِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْطَی الْوَرِقَ)) قَالَتْ: فَاشْتَرَیْتُہَا فَأَعْتَقْتُہَا، قَالَتْ: فَدَعَاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَیَّرَھَا مِنْ زَوْجِہَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا۔ وَکَانَ زَوْجُہَا حُرًّا۔ (مسند احمد: ۲۵۸۸۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے بریرہ کوآزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ ولاء ان کی رہے گی، جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو بیشک اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کی ہوتی ہے، جو چاندی (یعنی قیمت) خرچ کر تا ہے۔ پس میں نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور اس کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دے، اس نے یہ اختیار قبول کیا، اس کا خاوند آزاد تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7024

۔ (۷۰۲۴)۔ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا مِثْلُ حَدِیْثِ مَنْصُوْرٍ اِلَّا أَنَّہُ، قَالَ: کَانَ زَوْجُہَا عَبْدًا، وَلَوْ کَانَ حُرًّا لَمْ یُخَیِّرْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۸۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، … یہ حدیث منصور کی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے : اور اس کا خاوند غلام تھا، اگر وہ آزاد ہوتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو اختیار نہ دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7025

۔ (۷۰۲۵)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِیْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ عَنْ عَائِشَۃَ اَیْضًا قَالَتْ: وَکَانَتْ۔ أَیْ بَرِیْرَۃُ۔ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقْتُہَا، قَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اخْتَارِیْ، فَاِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْکُثِیْ تَحْتَ ھٰذَا الْعَبْدِ وَاِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۸۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، بیچ میں ایک بات یہ تھی: سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ایک غلام کی بیوی تھی، جب میں (عائشہ) نے اس کو آزاد کر دیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے اختیار مل گیا ہے، اگر تو چاہے تو اس غلام کے ماتحت رہ سکتی ہے اور چاہے تو علیحدہ ہو سکتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7026

۔ (۷۰۲۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ بَرِیْرَۃَ کَانَتْ مُکَاتَبَۃً وَکَانَ زَوْجُہَا مَمْلُوْکًا، فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُیِّرَتْ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۷۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے اس طرح بھی مروی ہے کہ سیدہ بریرہ نے مکاتبت کی ہوئی تھی اور ان کا خاوند غلام تھا، جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو اس کو اختیار دے دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7027

۔ (۷۰۲۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا خُیِّرَتْ بَرِیْرَۃُ رَاَیْتُ زَوْجَہَا یَتْبَعُہَا فِیْ سِکَکِ الْمَدِیْنَۃِ وَدُمُوْعُہُ تَسِیْلُ عَلٰی لِحْیَتِہِ، فَکُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِیُکَلِّمَ فِیْہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِبَرِیْرَۃَ: ((إِنَّہُ زَوْجُکِ۔))، فَقَالَتْ: تَأْمُرُنِیْ بِہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((إِنَّمَا اَنَا شَافِعٌ۔))، قَالَ: فَخَیَّرَھَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا، وَکَانَ عَبْدًا لِاٰلِ الْمُغِیْرَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب بریرہ کو اختیار ملا تو میں نے دیکھا کہ اس کا خاوند مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہتے تھے، کسی نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بات کی کہ بریرہ کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کرے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: بریرہ! یہ تیرا خاوند ہے۔ سیدہ بریرہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو سفارش کر رہا ہوں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اختیار دیا اور اس نے یہ اختیار قبول کر لیا، ان کا خاوند آل مغیرہ کا غلام تھا۔

آیت نمبر