Musnad Ahmad

Search Results(1)

122)

122) ولیمہ کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7100

۔ (۷۱۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ حُرَّۃَ الرَّقَاشِیِّ عَنْ عَمِّہِ قَالَ: کُنْتُ آخِذًا بِزَمَامِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِیْ أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ (فَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا) وَفِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَاتْقُوْا اللّٰہَ فِیْ النِّسَائِ فَاِنَّہُنَّ عِنْدَکُمْ عَوَانٌ لَایَمْلِکْنَ لِاَنْفُسِہِنَّ شَیْئًا، وَإِنَّ لَھُنَّ عَلَیْکُمْ وَلَکُمْ عَلَیْہِنَّ حَقَّانِ، لَایُوْطِئْنَ فُرُشَکُمْ اَحَدًا غَیْرَکُمْ، وَلَا یَأْذَنَّ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لِأَحَدٍ تَکْرَھُوْنَہُ، فَاِنْ خِفْتُمْ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ (قَالَ حُمَیْدٌ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا الْمُبَرِّحُ؟ قَالَ: الْمُؤَثِّرُ) وَلَھُنَّ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَاِنَّمَا اَخَذْتُمُوْھُنَّ بِاَمَانَۃِ اللّٰہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۷۱)
۔ ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی ہوئی تھی،یہ ایام تشریق کے درمیان والے دن کی بات ہے، … پھر راوی نے طویل حدیث بیان کی، …۔ اس میں تھا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے، یہ اپنی جانوں پر بھی اختیار نہیں رکھتیں، ان عورتوں کے تمہارے اوپر اور تمہارے ان پر دو حق ہیں،تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی اور کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھروں میں اس شخص کو آنے کی اجازت نہ دیں، جس کو تم ناپسند کرتے ہو، اگر تم کو ان کیشرارت کا ڈر ہو تو انہیں نصیحت کرو اور ان سے بستر الگ کر لو،اور ان کو مارو، لیکن وہ مارنا واضح نہ ہو۔ حمید راوی کہتے ہیں: میں نے امام حسن سے کہا: مُبَرّح سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جسم میں نشان چھوڑنے والی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: تمہاری ذمہ دارییہ ہے کہ تم معروف طریقے سے ان کے رزق اور لباس کا بندوبست کرو، تم نے ان کو اللہ تعالی کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ تعالی کے کلمے کے ساتھ ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7101

۔ (۷۱۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَصُوْمُ الْمَرْأَۃُ وَبَعْلُہَا شَاھِدٌ اِلَّا بِاِذْنِہِ، وَلَا تَأْذَنُ فِیْ بَیْتِہِ وَھُوَ شَاھِدٌ اِلَّا بِأِذْنِہِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِہِ مِنْ غَیْرِ أَمْرِہِ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِہِ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب خاوند موجود ہو تو اس کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر گھر میں کسی کو آنے کی اجازت نہ دے اور عورت اپنے خاوند کی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرے گی ، اس کو آدھا اجر ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7102

۔ (۷۱۰۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہ اِلٰی فِرَاشِہِ فَأَبَتْ عَلَیْہِ فَبَاتَ وَھُوَ غَضْبَانُ (وَفِیْ لَفْظٍ: وھُوَ عَلَیْہَا سَاخِطٌ) لَعَنَتْہَا الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۳۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اوروہ اس پر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے ایسی خاتون پر لعنت کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7103

۔ (۷۱۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَۃُ ھَاجِرَۃً فِرَاشَ زَوْجِہَا، بَاتَتْ تَلْعَنُہَا الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تَرْجِعَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت اس حال میں رات گزارے کہ اس نے اپنے خاوند کا بستر چھوڑ رکھا ہو تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ اس کے بستر کی طرف لوٹ آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7104

۔ (۷۱۰۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِیْ نَفَرٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ فَجَائَ بَعِیْرٌ فَسَجَدَ لَہُ، فَقَالَ أَصَحَابُہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ((تَسْجُدُ لَکَ الْبَہَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ۔)) فَقَالَ: ((اعْبُدُوْا رَبّکُمْ وَأَکْرِمُوْا أَخَاکُمْ، وَلَوْ کُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا، وَلَوْ أَمَرَھَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ اِلٰی جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ اِلٰی جَبَلٍ أَبْیَضَ کَانَ یَنْبَغِیْ لَھَا أَنْ تَفْعَلَہ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۷۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ میں تشریف فرما تھے، ایک اونٹ آیا اور آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا،یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرامf نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائییعنی اپنے نبی کی عزت کرو، اگر میں نے کسی انسان کو دوسرے انسان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، خاوند کا بیوی پر اتنا حق ہے کہ اگر وہ حکم دے کہ اس کی بیوی زرد پہاڑ سے سیاہ پہاڑ کی طرف اور سیاہ پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف پتھروں کو منتقل کرے، تو اس کے شایان شان یہی بات ہو گی کہ وہ ایسا ہی کر گزرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7105

۔ (۷۱۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ ظِبْیَانَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّہ، لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْیَمَنِ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْتُ رِجَالًا بِالْیَمَنِیَسْجُدُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ أَفَـلَا نَسْجُدُ لَکَ؟ قَالَ: ((لَوْ کُنْتُ آمُرُ بَشَرًا یَسْجُدُ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا)) (مسند احمد: ۲۲۳۳۵)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میںیمن سے واپس آیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یمن میں دیکھا ہے کہ وہاں لوگ ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں، تو کیا ہم بھی آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے بشر کو بشر کے لئے سجدہ کی اجازت دینا ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ خاوند کو سجدہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7106

۔ (۷۱۰۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ اَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا مِنْ عِظَمِ حَقِّہِ عَلَیْہَا، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَوْ کَانَ مِنْ قَدَمِہِ اِلٰی مَفْرِقِ رَأْسِہِ قُرْحَۃً تَنْبَجِسُ بِالْقَیْحِ وَالصَّدِیْدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْہُ فَلَحَسَتْہُ مَا أَدَّتْ حَقَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لئے اجازت نہیں کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے، اگر ایک انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا مناسب ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ اس پر اس کے خاوند کا بہت بڑا حق ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر خاوند کو پائوں سے لے کر سر کی مانگ تک پھوڑا نکل آئے اور اس سے لہو اور پیپ بہنا شروع ہو جائے اور اس کی بیوی آ کر اس کو چاٹنا شروع کر دے تو پھر بھی وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کر سکے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7107

۔ (۷۱۰۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ أَوْفٰی قَالَ: قَدِمَ مُعَاذٌ الْیَمَنَ اَوْ قَالَ: الشَّامَ، فَرَأَی النَّصَارٰی تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِہَا وَأَسَاقِفَتِہَا فَرَوَّأَ (أَیْ فَکَّرَ) فِیْ نَفْسِہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَقُّ أَنْ یُعَظَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْتُ النَّصَارٰی تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِہَا وَاَسَاقِفَتِہَا فَرَوَّأْتُ فِیْ نَفْسِیْ أَنَّکَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ، فَقَالَ: ((لَوْ کُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا، وَلَا تُؤَدِّی الْمَرْأَۃُ حَقَّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا کُلَّہُ حَتّٰی تُؤَدِّیَ حَقَّ زَوْجِہَا عَلَیْہَا کُلَّہُ، حَتّٰی لَوْسَأَلَھَا نَفْسَہَا وَھِیَ عَلٰی ظَہْرِ قَتَبٍ لَاَعْطَتْہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۲۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنامعاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمنیا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے پادریوں اور لیڈروں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالی کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ (کسی سواری کے) پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7108

۔ (۷۱۰۸)۔ عَنْ عَائِذِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ عَلَی الْیَمَنِ فَلَقِیَتْہُ امْرَأَۃٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَہَا بَنُوْنَ لَھَا اِثْنَا عَشَرَ فَتَرَکَتْ أَبَاھُمْ فِیْ بَیْتِہَا، أَصْغَرُھُمُ الَّذِیْ قَدِ اجْتَمَعَتْ لِحْیَتُہُ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلٰی مُعَاذٍ وَرُجَلانِ مِنْ بَنِیْہَایُمْسِکَانِ بِضَبْعَیْہَا فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلْکَ أَیُّہَا الرَّجُلُ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: أَرْسَلَنِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتِ الْمَرْأَۃُ: أَرْسَلَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْتَ رَسُوْلُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ أَفَـلَا تُخْبِرُنِیْیَا رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِِ a؟ فَقَالَ لَھَا مُعَاذٌ: سَلِیْنِیْ عَمَّا شِئْتِ، قَالَتْ: حَدِّثْنِیْ مَا حَقُّ الْمَرْئِ عَلٰی زَوْجَتِہِ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: تَتَّقِی اللّٰہَ ماَ اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِیْعُ، قَالَتْ: أَقْسَمْتُ بِاللّٰہِ عَلَیْکَ لَتُحَدِّثَنِّیْ مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلٰی زَوْجَتِہِ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: اَوَمَا رَضِیْتِ أَنْ تَسْمَعِیْ وَتُطِیْعِیْ وَتَتَّقِی اللّٰہَ؟ قَالَتْ: بَلیٰ وَلٰکِنْ حَدِّثْنِیْ مَا حَقُّ الْمَرْئِ عَلٰی زَوْجَتِہِ، فَاِنِّیْ تَرَکْتُ أَبَا ھٰؤُلَائِ شَیْخًا کَبِیْرًا فِی الْبَیْتِ، فَقَالَ لَھَا مُعَاذٌ: والَّذِیْ نَفْسُ مُعَاذٍ فِیْیَدَیْہِ! لَوْ أَنَّکِ تَرْجِعِیْنَ اِذَا رَجَعْتِ اِلَیْہِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَہُ وَخَرَقَ مَنْخِرَیْہِ، فَوَجَدْتِ مَنْخِرَیْہِیَسِیْلَانِ قَیْحًا وَدَمًا ثُمَّ أَلْقَمْتِیْہِمَا فَاکِ لِکَیْ مَا تَبْلُغِیْ حَقَّہُ مَا بَلَغْتِ ذَالِکَ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲۸)
۔ عائذ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن میں آئے، انہیں خولان قبیلہ کی ایک عورت ملی، اس کے ساتھ اس کے بارہ بیٹے بھی تھے، وہ ان کے باپ کو گھر میں چھوڑآئی تھی، ان میں سے جو سب سے چھوٹا بیٹا تھا، وہ مکمل باریش تھا، وہ کھڑی ہوئی اوراس کے دو بیٹوں نے اسے تھام رکھا تھا، اس نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سلام کہا اور کہا: اے آدمی! تجھے کس نے یہاں بھیجا ہے؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔اس نے کہا: کیا واقعی آپ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھیجا ہے،اچھا اگر آپ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قاصد ہیں مجھے کچھ بتاتے کیوں نہیں؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو ضرورت ہے پوچھو، اس نے کہا: مجھے بتائو کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے اسے بتایا کہ تم اللہ تعالیٰ سے مقدور بھر ڈرتی رہو اور سنو اور اطاعت کرو، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتی ہوں، مجھے بتائو آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے کہا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہوئی کہ تم خاوند کی بات سنو اور اس کی اطاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو؟ اس نے کہا: جی ضرور راضی ہوں، لیکن پھر بھی آپ مجھے بتائیں کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ کیونکہ میں ان کے باپ کو گھر میں چھوڑ آئی ہوں، وہ بہت زیادہ بوڑھا ہو چکا ہے؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے دونوں ہاتھوں میں معاذ کی جان ہے! فرض کرو جب تم اس کے پاس لوٹ کر جاؤ اور اس کو اس حال میں پاؤ کہ کوڑھ نے اس کا گوشت چھلنی کردیا ہو اور اس کے دونوں نتھنے پھٹ چکے ہوں اور اس کے نتھنوں سے پیپ اور خون بہہ رہا ہوں اور تم اس کے دونوں نتھنوں کو منہ میں ڈال لو، تاکہ تم اس کا حق ادا کر دو، تو پھر بھی تم اس کا حق ادا نہیں کر سکو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7109

۔ (۷۱۰۹)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَہَا وَصَامَتْ شَہْرَھَا وَحَفِظَتْ فَرْجَہَا وَاَطَاعَتْ زَوْجَہَا، قِیْلَ لَھَا: ادْخُلِیْ الْجَنَّۃَ مِنْ أَیِّ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شِئْتِ)) (مسند احمد: ۱۶۶۱)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھتی ہو، ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہو، تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7110

۔ (۷۱۱۰)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُؤْذِی امْرَأَۃٌ زَوْجَہَا فِی الدُّنْیَا اِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُہُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ: لَا تُؤْذِیْہِ، قَاتَلَکِ اللّٰہُ فَاِنَّمَا ھُوَ عِنْدَکِ دَخِیْلٌیُوْشِکُ أَنْ یُفَارِقَکِاِلَیْنَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۵۲)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دنیا والی کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف دیتی ہے تو جنت کی سفید سرخ رنگ والی موٹی موٹی آنکھوں والی عورتوں میں سے اس کی بیوی اس کو مخاطب ہو کر کہتی ہے: اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے، یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے، قریب ہے کہ یہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7111

۔ (۷۱۱۱)۔ عَنِ الْحُصَیْنِ بْنِ مِحْصَنٍ أَنَّ عَمَّۃً لَہُ أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَاجَۃٍ فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِہَا، فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ ذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((کَیْفَ اَنْتِ لَہُ؟)) قَالَتْ: مَا آلُوْہُ اِلَّا مَاعَجَزْتُ عَنْہُ، قَالَ: ((انْظُرِیْ اَیْنَ اَنْتِ مِنْہُ فَاِنَّمَا ھُوَ جَنَّتُکِ وَنَارُکِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۱۲)
۔ سیدنا حصین بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی کسی کام کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خاوند کے لئے کیسی ثابت ہو رہی ہو؟ اس نے کہا: میں اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کرتی، مگر وہ کام جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذرا غور کرلینا کہ تو اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتی ہے، وہی تیری جنت ہے اور وہی تیری جہنم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7112

۔ (۷۱۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٍیَقُوْلُ: ((اَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَزَعَتْ ثِیَابَہَا فِیْ غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا ھَتَکَتْ سِتْرَ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ رَبِّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۴۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنا لباس اتار ا، اس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان والا پردہ چاک کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7113

۔ (۷۱۱۳)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ إِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ قَالَتْ: مَرَّ بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ فِیْ نِسْوَۃٍ، فَسَلَّمَ عَلَیْنَا وَقَالَ: ((اِیَّاکُنَّ وَکُفْرَ الْمُنَعَّمِیْنَ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا کُفْرُ الْمُنَعَّمِیْنَ؟ قَالَ: ((لَعَلَّ اِحْدَا کُنَّ أَنْ تَطُوْلَ أَیْمَتُہَا بَیْنَ أَبَوَیْہَا وَتَعْنُسَ فَیَرْزُقَہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ زَوْجَہَا وَیَرْزُقَہَا مِنْہُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَۃَ فَتَقُوْلُ: مَا رَاَیْتُ مِنْہُ یَوْمًا خَیْرًا قَطُّ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((مَا رَاَیْتُ مِنْہُ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۱۳)
۔ سیدہ اسما بنت یزید انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہم کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سلام کہا اور پھر فرمایا: خوشحال لوگوں کی طرح ناشکر ی کرنے سے بچنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوشحال لوگوں کی ناشکری کیا ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ تم عرصہ دراز تک اپنے والدین کے پاس بے شوہر کی زندگی گزارتی رہو، پھر اللہ تعالیٰ تمھیں خاوند عطا کرے اور (اس کے ذریعے) اولاد کی نعمت بھی دے، لیکن تم کسی دن غصے میں آکر (خاوند کو) یہ کہہ دو کہ میں نے تو تیرے پاس کوئی خیر و بھلائیدیکھی ہی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7114

۔ (۷۱۱۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖاَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ: ((لَا یَجُوْزُ لِمَرْأَۃٍ عَطِیَّۃٌ اِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: کسی عورت کے لئے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا حلال نہیںہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7115

۔ (۷۱۱۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَجُوْزُ لِلْمَرْأَۃِ أَمْرٌ فِیْ مَالِھَا اِذَا مَلَکَ زَوْجُہَا عِصْمَتَہَا۔)) (مسند احمد: ۷۰۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت کی عصمت کا مالک اس کا خاوند بن جائے،تو عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں رہتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7116

۔ (۷۱۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَۃُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ زَوْجِیْ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ یَضْرِبُنِیْ اِذَا صَلَّیْتُ، وَیُفَطِّرُنِیْ اِذَا صُمْتُ، وَلَا یُصَلِّیْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَہُ قَالَ: فَسَأَلَہُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَمَّا قَوْلُھَا یَضْرِبُنِیْ اِذَا صَلَّیْتُ، فَاِنَّہَا تَقْرَأُ بِسُوْرَتَیْنِ فَقَدْ نَہَیْتُہَا عَنْہُمَا، قَالَ: فَقَالَ: ((لَوْ کَانَتْ سُوْرَۃٌ وَاحِدَۃٌ لَکَفَتِ النَّاسَ۔))، وَأَمَّا قَوْلُہَا: یُفَطِّرُنِیْ، فَاِنَّہَا تَصُوْمُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَـلَا أَصْبِرُ، قَالَ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ: ((لَا تَصُوْمَنَّ امْرَأَۃٌ اِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا۔)) قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُہَا بِأَنِّی لَا أُصَلِّیْ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَھْلُ بَیْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَاَ ذَاکَ لَا نَکَادُ نَسْتَیْقِظُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: ((فاِذَا اسْتَیْقَظْتَ فَصَلِّ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَأَمَّا قَوْلُہَا اِنِّیْ لَا أُصَلِّیْ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَاِنِّیْ ثَقِیْلُ الرَّأْسِ وَأَنَا مِنْ أَھْلِ بَیْتٍیُعْرَفُوْنَ بِذَاکَ بِثِقَلِ الرُّؤُوْسِ، قَالَ: ((فَاِذَا قُمْتَ فَصَلِّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن معطل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے شوہر سیدنا صفوان بن معطل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صورتحال یہ ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو میرا روزہ افطار کروا دیتا ہے اور وہ طلوع آفتاب کے بعد نمازِ فجر ادا کرتا ہے، اس وقت سیدنا صفوان بھی وہاں موجود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے ان کی بیوی کے اعتراضات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا یہ کہنا کہ جب وہ نماز پڑھتی ہے تو میں اس کو مارتا ہوں، تو باتیہ ہے کہ یہ دو طویل سورتیں پڑھتی ہے، جبکہ میں نے اس کو ان سے منع کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ایک سورت بھی پڑھ لی جائے تو وہ لوگوں کے لئے کافی ہے۔ اس نے پھر کہا: اس کا یہ کہنا کہ جب وہ روزہ رکھتی ہے تو میں اس کو افطار کروا دیتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نوجوان آدمی ہوں اور میں خود پر قابو نہیں رکھ سکتا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن فرمایا تھا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر ہر گز (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ ا ور اس کا یہ کہنا کہ میں نماز فجر طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہوں، تو گزارش یہ ہے کہ ہم اس قبیلے کے لوگ ہیں کہ ہم سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار ہی نہیں ہو سکتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس بیشک میرا سر بوجھل رہتا ہے اور ہمارا سارا کنبہ ہی ایسا ہے کہ ہمارے بارے میں یہ معروف ہے کہ ہمارے سر بوجھل رہتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو تو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7117

۔ (۷۱۱۷)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ اَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِیْ مِنْہَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ((حَرْثُکَ ائْتِ حَرْثَکَ أَنّٰی شِئْتَ غَیْرَ أَنْ لَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَہْجُرْ اِلاَّ فِی الْبَیْتِ وَأَطْعِمْ اِذَا طَعِمْتَ وَاکْسُ اِذَا اکْتَسَیْتَ، کَیْفَ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ اِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۳)
۔ بہزبن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہماری بیویاں ہیں، ان کے ساتھ ہمارا کون معاملہ کرنا درست ہے اور کونسا درست نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آئو ، البتہ نہ اس کو چہرے پر مارو، نہ اس سے مکروہ باتیں کرو ، (ناراضگی کی وجہ سے) اس کو صرف گھر میں چھوڑنا ہے، جب خود کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب خود پہنو تو اس کو بھی پہناؤ، اب تم یہ حقوق کیسے ادا نہیں کرو گے، جبکہ تم ایک دوسرے سے جماع کر چکے ہو، الا یہ کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے، جس میں بیوی کو سزا دی جا سکتی ہو (یا اس کے حق میں کمی کی جا سکتی ہو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7118

۔ (۷۱۱۸)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: سَأَلَہُ رَجُلٌ مَا حَقُّ الْمَرْأَۃِ عَلَی الزَّوْجِِ؟ قَالَ: ((تُطْعِمُہَا اِذَا طَعِمْتَ وَتَکْسُوْھَا اِذَا اکْتَسَیْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَہْجُرْ اِلَّا فِی الْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۶۲)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اس کو چہرے پر نہ مار، اس سے مکروہ بات نہ کر، اور (ناراضگی کی صورت میں) اس کو نہ چھوڑ مگر اپنے گھر میں ہی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7119

۔ (۷۱۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ النِّسَائَ فَوَعَظَ فِیْہِنَّ وَقَالَ: ((عَلامَ یَضْرِبُ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَجْلِدُ) أَحَدُکُمُ امْرَأَتَہُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ضَرْبَ الْعَبْدِ) وَلَعَلَّہُ أَنْ یُضَاجِعَہَا مِنْ آخِرِ النَّہَارِ أَوْ آخِرِ اللَّیْلِ)) (مسند احمد: ۱۶۳۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا آپ عورتوں کے حقوق کے بارے مردوں کو نصیحت کر رہے تھے، بیچ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے، جیسے غلام کو مارا جاتا ہے، پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میںیا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7120

۔ (۷۱۲۰)۔ عَنْ لَقِیْطِ بْنِ صَبِرَۃَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِی امْرَأَۃً، فَذَکَرَ مِنْ طُوْلِ لِسَانِہَا وَاِیَذَائِہَا، فَقَالَ: ((طَلِّقْہَا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہَا ذَاتُ صُحْبَۃٍ وَوَلَدٍ، قَالَ: ((فَأَمْسِکْہَا وَأْمُرْھَا فَاِنْ یَکُ فِیْہَا خَیْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِیْنَتَکَ ضَرْبَکَ اَمَتَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۷)
۔ سیدنا لقیط بن صبرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، وہ بڑی زبان دراز ہے اور مجھے اذیت دیتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دے دو اس نے کہا: میرا اس کے ساتھ پرانا ساتھ ہے اور اس سے میری اولادبھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اسے روک لو اور اسے بھلائی کی تلقین کرتے رہو، اگر اس میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت ہوئی تو وہ قبول کر لے گی، بہرحال تونے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا، جیسے لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7121

۔ (۷۱۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَفْرَکُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَۃً اِنْ کَرِہَ مِنْہَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْہَا آخَرَ)) (مسند احمد:۸۳۴۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ایماندار خاوند اپنی ایمانداری بیوی سے بغض وعداوت نہیں رکھتا، کیونکہ اگر وہ اپنی بیوی کی ایک عادت ناپسند کرتا ہے تو کسی دوسری صفت کی وجہ سے راضی اور خوش ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7122

۔ (۷۱۲۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِیْفَیْنِ الْیَتِیْمِ وَالْمَرْأَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۶۴)
۔ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں دو کمزوروں یعنی عورت اور یتیم کے حق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7123

۔ (۷۱۲۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ أَنَّہ، قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَھْلَہُ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۳)
۔ سیدناسعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسافر آدمی کو نمازِ عشاء کے بعداپنے اہل کے پاس آنے سے منع کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7124

۔ (۷۱۲۴)۔ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَیَّ خُوَیْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِیَّۃُ وَکَانَتْ تَحْتَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ قَالَتْ: فَرَأٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَذَاذَۃَ ھَیْئَتِہَا، فَقَالَ لِیْ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا أَبَذَّ ھَیْئَۃَ خُوَیْلَۃَ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! امْرَأَۃٌ لَا زَوْجَ لَھَا، یَصُوْمُ النَّہَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ فَہِیَ کَمَنْ لَا زَوْجَ لَہَا فَتَرَکَتْ نَفْسَہَا وَأَضَاعَتْہَا، قَالَتْ: فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ فَجَائَ فَقَالَ: ((یَا عُثْمَانُ! اَ رَغْبَۃٌ عَنْ سُنَّتِیْ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلٰکِنْ سُنَّتَکَ أَطْلُبُ، وَقَالَ: ((فَاِنِّیْ أَنَامُ وَأُصَلِّیْ وَأَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَأُنْکِحُ النِّسَائَ، فَاتَّقِ اللّٰہَ یَا عُثْمَانُ! فَاِنَّ لِأَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ لِضَیْفِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ خویلہ بنت حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرے پاس آئی،یہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھی، جب رسول اللہ نے اس کی حالت کی پراگندگی دیکھی تو مجھ سے فرمایا: عائشہ! خویلہ کی حالت تو بڑی پراگندہ ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بس یوں سمجھیں کہ اس خاتون کا خاوند کوئی نہیں ہے، کیونکہ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، اس لیے خویلہ اس خاتون کی طرح ہے کہ جس کا خاوند نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور اس کو ضائع کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا بھیجا، پس وہ آگئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے عثمان! کیا میری سنت سے بے رغبتی کررہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کی سنت کو طلب کرنے والا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ ہے تو میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نے عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے، اے عثمان! اللہ سے ڈرو، تم پر تیری بیوی کا حق ہے، تم پر تیرے مہمان کا حق ہے اور تجھ پر تیرے نفس کا حق ہے، اس لیے روزے بھی رکھا کر اور ان کو ترک بھی کیا کر اور نماز بھی پڑھا کر اور سویا بھی کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7125

۔ (۷۱۲۵)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا سَقٰی امْرَأَتَہُ مِنَ الْمَائِ أُجِرَ۔))، قَالَ: فَأَتَیْتُہَا فَسَقَیْتُہَا، وَحَدَّثْتُہَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۸۷)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک آدمی کے لیے اپنی بیوی کو پانی پلانے میں اجر ہے۔ تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو پانی پلایا اور پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی حدیث اس کو بیانکی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7126

۔ (۷۱۲۶)۔ عَنْ اَبِی ذَرٍّ فِیْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَلَکَ فِی جِمَاعِ زَوْجَتِکَ أَجْرٌ۔))، فَقَالَ أَبُوْ ذَرٍّ: وَکَیْفَیَکُوْن لِیْ أَجْرٌ فِیْ شَہْوَتِیْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرَاَیْتَ لَوْکَانَ لَکَ وَلَدٌ فَأَدْرَکَ وَرَجَوْتَ خَیْرَہُ فَمَاتَ أَ کُنْتَ تَحْتَسِبُ بِہِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاَنْتَ خَلَقْتَہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ خَلَقَہُ، قَالَ: ((فَأَنْتَ ھَدَیْتَہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ ھَدَاہ‘، قَالَ: ((فَأَنْتَ تَرْزُقُہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ کَانَ یَرْزُقُہُ، قَالَ: ((کَذَالِکَ فَضَعْہُ فِیْ حَلَالِہِ وَجَنِّبْہُ حَرَامَہُ، فَاِنْ شَائَ اللّٰہُ أَحْیَاہُ وَاِنْ شَائَ أَمَاتَہُ وَلَکَ أَجْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۱۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تمہارے لیے اپنی بیوی سے جماع کرنے میں اجر ہے۔ انھوں نے کہا: میں نے اپنی شہوت پوری کی، اس میں اجر کیسے ہو گا؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مجھے بتاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، پھر وہ بالغ ہوجائے اور تم کو اس سے خیر کی امید بھی ہو، اتنے میں وہ فوت ہو جائے تو کیا تم ثواب کی نیت کے ساتھ صبر کرو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تم نے اس کو پیدا کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس کو ہدایت دی تھی؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو ہدایت دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کو رزق دیا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو رزق دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح جماع کے ذریعے حلال کو تلاش کر اور حرام سے اجتناب کر، پس اگر اللہ تعالی نے چاہا تو اس کو زندہ رکھے گا اور چاہا تو اس کو فوت کر دے گا اور اس میں تیرے لیے اجر ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7127

۔ (۷۱۲۷)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: جَائَ أَبُوْبَکْرٍ یَسْتَأْذِنُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعَ عَائِشَۃَ وَھِیَ رَافِعَۃٌ صَوْتَہَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَذِنَ لَہُ فَدَخَل، فَقَالَ: یَا ابْنَۃَ أُمِّ رُوْمَانَ وَتَنَاوَلَھَا أَتَرْفَعِیْنَ صَوْتَکِ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَحَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ أَبُوْبَکْرٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لَھَا یَتَرَضَّاھَا: ((أَنْ تَرَیْنَ أَنِّیْ قَدْ حُلْتُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَکِ۔)) قَالَ: ثُمَّ جَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَیْہِ فَوَجَدَہ، یُضَاحِکُھَا، قَالَ: فَأَذِنَ لَہُ فَدَخَلَ فَقَالَ لَہُ أَبُوْبَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَشْرِکَانِیْ فِیْ سِلْمِکُمَا کَمَا اَشْرَکْتُمَانِیْ فِیْ حَرْبِکُمَا۔ (مسند احمد: ۱۸۵۸۴)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر آنے کی اجازت طلب کی، ساتھ ہی انھوں نے سنا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بلند آواز میں بول رہی تھیں، پس انھوں نے اپنی بیٹی سے کہا: ام رومان کی بیٹی! کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اپنی آواز کو بلند کر رہی ہے؟پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے درمیان حائل ہو گئے، جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ باہر تشریف لے گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ کو راضی کرنے کے لیے فرمانے لگے: کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ میں تجھے بچانے کے لیے تیرے اور تیرے باپ کے درمیان حائل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ ہنس رہے تھے، پس انھوں نے اجازت طلب کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے صلح والے ماحول میں بھی داخل کرو، جیسا کہ آپ نے مجھے لڑائی کے ماحول میں داخل کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7128

۔ (۷۱۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((الْمَرْأَۃُ کَالْضِلَعِ فَاِنْ تَحْرِصْ عَلٰی اِقَامَتِہِ تَکْسِرْہُ وَاِنْ تَتْرُکْہُ تَسْتَمْتِعْ بِہِ وَفِیْہِ عِوَجٌ۔)) (مسند احمد: ۹۵۲۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی آرزو کرو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر تم س کو چھوڑدو تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7129

۔ (۷۱۲۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْتَقِیْمُ لَکَ الْمَرْأَۃُ عَلٰی خَلِیْقَۃٍ وَاحِدَۃٍ، اِنَّمَا ھِیَ کَالضِّلَعِ، إِنْ تُقِمْہَا تَکْسِرْھَا وَاِنْ تَتْرُکْہَا تَسْتَمْتِعْ بِہَا وَفِیْہَا عِوَجٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۶۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت تمہارے لیے ایک ہی عادت اور خصلت پر سیدھا نہیں رہ سکتی،یہ پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تواس کو توڑ دو گے اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7130

۔ (۷۱۳۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ، وَاِنَّکَ اِنْ تُرِدْ اِقَامَۃَ الضِّلْعِ تَکْسِرْھَا فَدَارِھَا تَعِشْ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۵۳)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ ڈالو گے، اس لیے اس کے ساتھ لطف و نرمی والا سلوک کرو، تاکہ تم اس کے ساتھ زندگی گزارتے رہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7131

۔ (۷۱۳۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْمَرْأَۃُ کَالضِّلَعِِ اِنْ أَقَمْتَہَا کَسَرْتَہَا وَھِیَیُسْتَمْتَعُ بِہَا عَلٰی عِوَجٍ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۱۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو بالکل سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے، اس سے اس ٹیڑھ پن کے باوجود فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7132

۔ (۷۱۳۲)۔ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ قَعْنَبِ نِ الرِّیَاحِیِّ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَاذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْہُ وَرَاَیْتُ الْمَرْأَۃَ فَسَأَلْتُہَا فَقَالَتْ: ھُوَ ذَاکَ فِیْ ضَیْعَۃٍ لَہُ فَجَائَ یَقُوْدُ أَوْ یَسُوْقُ بَعِیْرَیْنِ قَاطِرًا أَحَدَھُمَا فِیْ عَجُزِ صَاحِبِہِ، فِیْ عُنُقِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا قِرْبَۃٌ فَوَضَعَ الْقِرْبَتَیْنِ، قُلْتُ: یَا أَبَاذَرٍّ! مَا کَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ اِلٰی أَنْ اَلْقَاہُ مِنْکَ، وَلَا أَبْغَضَ أَنْ اَلْقَاہُ مِنْکَ، قَالَ: لِلّٰہِ أَبُوْکَ وَمَا یَجْمَعُ ھٰذَا؟ قَالَ: قُلْتُ: اِنِّیْ کُنْتُ وَأَدْتُّ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکُنْتُ أَرْجُوْ فِیْ لِقَائِکَ أَنْ تُخْبِرَنِیْ اَنَّ لِیْ تَوْبَۃً وَمَخْرَجًا وَکُنْتُ أَخْشٰی فِیْ لِقَائِکَ اَنْ تُخْبِرَنِیْ اِنَّہُ لَا تَوْبَۃَ لِیْ، فَقَالَ: أَفِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ، ثُمَّ عَاجَ بِرَأْسِہِ اِلَی الْمَرْأَۃِ، فَأَمَرَ لِیْ بِطَعَامٍ، فَالْتَوَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ أَمَرَھَا فَالْتَوَتْ عَلَیْہِ حَتَّی ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا قَالَ: إِیْہَا دَعِیْنَا عَنْکِ فَاِنَّکُنَّ لَنْ تَعْدُوْنَ مَا قَالَ: لَنَا فِیْکُنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: وَمَا قَالَ لَکُمْ فِیْہِّنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ((الْمَرْأَۃُ ضِلَعٌ فَاِنْ تَذْھَبْ تُقَوِّمُہَا تَکْسِرْھَا، وَاِنْ تَدَعْہَا فَفِیْہَا أَوَدٌ وَبُلْغَۃٌ۔)) فَوَلَّتْ فَجَائَتْ بِثَرِیْدَۃٍ کَاَنَّہَا قَطَاۃٌ، فَقَالَ: کُلْ وَلَا أَھُولَنَّکَ اِنِّیْ صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَیُصَلِّیْ، فَجَعَلَ یُہَذِّبُ الرُّکُوْعَ وَیُخَفِّفُہُ وَرَأَیْتُہُیَتْحَرّٰی أَنْ أَشْبَعَ أَوْ أُقَارِبَ، ثُمَّ جَائَ فَوَضَعَ یَدَہُ مَعِیَ فَقُلْتُ: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، فَقَالَ: مَا لَکَ؟ فَقُلْتُ: مَنْ کُنْتُ أَخْشٰی مِنَ النَّاسِ أَنْ یَکْذِبَنِیْ فَمَا کُنْتُ أَخْشٰی اَنْ تَکْذِبَنِیْ، قَالَ: لِلّٰہِ أَبُوْکَ، إِنْ کَذَبْتُکَ کِذْبَۃً مُنْذُ لَقِیْتَنِیْ، فَقَالَ: اَلَمْ تُخْبِرْنِیْ أَنَّکَ صَائِمٌ ثُمَّ أَرَاکَ تَأْکُلُ؟ قَالَ: بَلٰی اِنِّیْ صُمْتُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ مِنْ ھٰذَا الشَّہْرِ فَوَجَبَ أَجْرُہُ وَحَلَّ لِیَ الطَّعَامُ مَعَکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۶۵)
۔ نعیم بن قعنب ریاحی کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، لیکن میں نے ان کو نہ پایا اور ان کی بیوی سے پوچھا، اس نے کہا: وہ اُدھر اپنی جائداد میں ہیں، اتنے میں وہ آگئے دو اونٹوں کو ہانک کر لا رہے تھے، ان میں سے ایک کو دوسرے کے پچھلے حصہ میں باندھ رکھا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن پر ایک مشک تھی، پس انھوں مشکوں کو نیچے اتار ا اور میں نے کہا: اے ابو ذر! مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ آپ سے ملاقات کرنے کی چاہت تھی اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ بھی آپ کی ملاقات ہی تھی، انہوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ تیرے باپ کی عمر دراز ہو۔اس نے کہا : جاہلیت میں میں نے بچیاں زندہ درگور کی ہیں، مجھے آپ سے ملاقات کی تمنا اس امید پر تھی کہ آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے کوئی توبہ یا نکلنے کی راہ ہے یا نہیں ہے، اور آپ سے ملاقات میں مجھے ڈر یہ تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ ہی نہیں۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ زندہ درگو ر دفن کرنا جاہلیت میں تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جو پہلے گزر چکا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا، پھر انھوں نے اپنی بیوی کی طرف سر سے اشارہ کیا کہ وہ میرے لئے کھانا لائے، لیکن اس نے توجہ نہ کی، پھر انھوں نے اس کو حکم دیا، لیکن اس نے پھر توجہ نہ کی،یہاں تک کہ ان کے جھگڑنے کی آوازیں بلند ہونے لگیں،انھوں نے بیوی سے کہا: خاموش ہو جائو اور یہاں سے چلی جائو، تم اس بات سے قطعاً تجاوز نہیں کر سکتیں، جو تمہارے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمادیا ہے، نعیم کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان عورتوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت ایک پسلی کی مانند ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اس کے ٹیڑھا پن کو اس کی حالت پر چھوڑ دو گے تو فائدہ حاصل کرتے رہو گے۔ پھر سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی چلی گئی اور کچھ دیر کے بعد ثرید لے آئی، اس کی لذت ایسی تھی جیسا کہ قطاۃ (کبوتر یا بٹیر کے برابر ایک پرندہ) کے گوشت کی ہوتی ہے، سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کھائو اور اپنے ساتھ میرے نہ کھانے سے پریشان نہ ہونا، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، پھر وہ خود کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے اور رکوع وغیرہ بہت ہلکے کئے، میرے خیال میں جب انہوں نے اندازہ لگالیا کہ میں سیر ہونے کے قریب ہوں تو وہ آئے اور میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا شروع کر دیا، میں نے اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر افسوس کا اظہار کیا، سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا اگر کوئی عام آدمی جھوٹ کہتا تو مجھے افسوس نہ ہوتا، مگر آپ سے جھوٹ کا سرزد ہونا تو میرے وہم و گمان میں نہ تھا، انھوں نے کہا: تو نے کیا خوب بات کی ہے، جب سے تیری اور میری ملاقات ہوئی ہے میں نے کوئی جھوٹ بولا ہو؟ میں نے کہا: ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے کہا تھا کہ آپ روزہ سے ہوں اور اب میں دیکھتا ہوں آپ نے کھانا شروع کر دیا ہے، اس نے کہا: ضرور ضرور، وجہ یہ ہے کہ میں نے اس ماہ کے تین روزے رکھ لئے ہیں، ایک نیکی دس گنا ہے، لہٰذا ایک ماہ کا اجر ثابت ہوچکا ہے اور تیرے ساتھ کھانا میرے لئے جائز تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7133

۔ (۷۱۳۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَکْمَلِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا أَحْسَنَہُمْ خُلُقًا وَخِیَارُھُمْ لِنَسائِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمانداروں میں سے سب سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے، جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں اور ان میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بہترین ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7134

۔ (۷۱۳۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَکْمَلِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا أَحْسَنَہُمْ خُلُقًا وَاَلْطَفَہُمْ بِاَھْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کامل ترین ایمان والے وہ ہیں جو بہترین اخلاق والے اور اپنی بیویوں پر لطف و کرم کرنے والے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7135

۔ (۷۱۳۵)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا قَالَتْ: لَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی بَابِ حُجْرَتِیْ وَالْحَبَشَۃُیَلْعَبُوْنَ بِحِرَابِہِمْ یَسْتُرُنِیْ بِرِدَائِہِ لِکَیْ أَنْظُرَ اِلٰی لَعِبِہِمْ ثَمَّ یَقُوْمُ حَتّٰی أَکُوْنَ اَنَا الَّتِیْ أَنْصَرِفُ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود پھرتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7136

۔ (۷۱۳۶)۔ وَعَنْھَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنْتُ اَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَیَجِیْئُ صَوَاحِبِیْ فَیَلْعَبْنَ مَعِیَ فاِذَا رَأَیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْقَمَعْنَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُدْخِلُہُنَّ عَلَیَّ فَیَلْعَبْنَ مَعِیَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7137

۔ (۷۱۳۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖعَنِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِکْرَ أَقَامَ عِنْدَھَا ثَلٰثَۃ أَیَّامٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7138

۔ (۷۱۳۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا اتَّخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَفِیَّۃَ أَقَامَ عِنْدَھَا ثَلَاثًا وَکَانَتْ ثَیِّبًا۔ (مسند احمد: ۱۱۹۷۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن ٹھہرے تھے، کیونکہ وہ بیوہ تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7139

۔ (۷۱۳۹)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا تَزَوَّجَہَا أَقَامَ عِنْدَھَا ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ بِکِ عَلَی أَھْلِکِ ھَوَانٌ وَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ، وَاِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِیْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ، قَالَ: ((اِنَّ بِکِ عَلٰی أَھْلِکِ کَرَامَۃً۔))، قَالَ الرَّاوِیُّ: فَاَقَامَ عِنْدَھَا اِلَی الْعَشِیِّ ثُمَّ قَالَ: ((اِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ وَاِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِیْ، وَاِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَکِ۔)) قَالَتْ: لَا، بَلِ اقْسِمْ لِیْ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۵۷)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میرے پاس تین دن تک ٹھہرے اور فرمایا: بیشک اس میں نہ تیرے اہل کی توہین ہے اور نہ تیری حق تلفی ہے،اگر تمہاری مرضی ہے تو میں سات دن پورے کر دیتا ہوں، لیکن پھرمیں اپنی دیگر بیویوں کے ہاں بھی سات سات دن رہوں گا۔ ایک روایت میں ہے: تیری وجہ سے تیرے اہل کی کرامت اور عزت ہے۔ ایک راوی نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شام تک ان کے پاس ٹھہرے اور فرمایا: اگر تم چاہتی ہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں، لیکن پھر اپنی دیگر بیویوں کے لئے بھی سات دن مقرر کروں گا اور اگر تم چاہتی ہو تو میں تیرے لیے تقسیم کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے لیے تقسیم کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7140

۔ (۷۱۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ یَمِیْلُ لِاِحْدَاھُمَا عَلَی الْأُخْرٰی جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَحَدُ شِقَّیْۃِ سَاقِطٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۰۹۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو فالج زدہ ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7141

۔ (۷۱۴۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ بَیْنَ نِسَائِہِ فَیَعْدِلُ وَیَقُوْلُ: ((ھٰذِہٖقِسْمَتِیْ، (ثُمَّ یَقُوْلُ) اَللّٰھُمَّ ھٰذَا فِعلِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَـلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۲۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7142

۔ (۷۱۴۲)۔ عَنْ عَطَائٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَۃَ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَرِفَ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ھٰذِہٖمَیْمُوْنَۃُ اِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَہَا فَـلَا تُزَعْزِعُوْھَا وَلَا تُزَلْزِلُوْھَا فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عِنْدَہُ تِسْعُ نِسْوَۃٍ وَکَانَ یَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَۃٌ لَمْ یَکُنْ لِیَقْسِمَ لَھَا، قَالَ عَطَائٌ: الَّتِیْ لَمْ یَکُنْیَقْسِمُ لَھَا صَفِیَّۃُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴)
۔ سیدہ عائشہ، سیدہ سودہ، سیدہ حفصہ، سیدہ ام سلمہ، سیدہ زینب بنت حجش، سیدہ صفیہ، سیدہ جویریہ، سیدہ ام حبیبہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس حرم پاک کی باری مقرر نہیں کرتے تھے، وہ سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا نام ذکر کرنا راوی کا وہم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7143

۔ (۷۱۴۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسَوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا مِنْ یَوْمٍ اِلَّا وَ ھُوَ یَطُوْفُ عَلَیْنَا جَمِیْعًا امْرَأَۃً امْرَأَۃً فَیَدْنُوْا وَیَلْمِسُ مِنْ غَیْرِ مَسِیْسٍ حَتّٰییُفْضِیَ اِلَی الَّتِیْ ھُوَ یَوْمُہَا فَیَبِیْتُ عِنْدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲۷۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7144

۔ (۷۱۴۴)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدُوْرُ عَلٰی نِسَائِہِ فِی السَّاعَۃِ الْوَاحِدَۃِ مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَھُنَّ اِحْدٰی عَشَرَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: وَھَلْ کَانَ یُطِیْقُ ذَالِکَ قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہُ، أُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۵۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات اور دن میں ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں سے جماع کر لیتے تھے، ان کی تعداد گیارہ تھی، قتادہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ میں اتنی قوت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ کو تیس آدمیوں کی قوت دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7145

۔ (۷۱۴۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاشْتَدَّ وَجْعُہُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَہُ أَنْ یُمَرَّضَ فِیْ بَیْتِیْ فَأَذِنَّ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں، پس انھوں نے اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7146

۔ (۷۱۴۶)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہِ فَأَیَّتُہُنَّ خَرَجَ سَہْمُہَا خَرَجَ بِہَا مَعَہُ، وَکَانَ یَقْسِمُ لِکِلِّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ یَوْمَہَا وَلَیْلَتَہَا غَیْرَ أَنَّ سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ کَانَتْ وَھَبَتْ یَوْمَہَا وَلَیْلَتَہَا لِعَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَبْتَغِیْ بِذَالِکَ رِضَا النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ر وایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کا قرعہ نکلتا، اسے ساتھ لے کر جاتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ہر بیوی کے لئے اس کی رات اور اس کا دن تقسیم کیا کرتے تھے، لیکن سیدنا سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس سے مستثنیٰ تھیں، کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ہبہ کر دیا تھا، سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا مقصد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضا تلاش کرنا تھا۔

آیت نمبر