Musnad Ahmad

Search Results(1)

125)

125) خلع کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7184

۔ (۷۱۸۴)۔عَنْ عَائِشۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اَقْسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ لَّا یَدْخُلَ عَلٰی نِسَائِہِ شَہْرًا، قَالَتْ: فَلَبِثَ تِسْعًا وَ عِشْرِیْنَ، قَالَتْ: فَکُنْتُ اَوَّلَ مَنْ بَدَأَ بِہِ، فَقُلْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلَیْسَ کُنْتَ اَقْسَمْتَ شَھْرًا؟ فَعَدَتُّ الْاَیَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلشَّھْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ))۔ (مسند احمد: ۲۴۵۵۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتیس دن تک رکے رہے، پھر میں وہ پہلی بیوی تھی، جس کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے پہلے تشریف لائے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ نے ایک ماہ تک نہ آنے کی قسم نہیں اٹھائی تھی؟میں نے تو ابھی انتیس دن شمار کئے ہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشا د فرمایا: (یہ) مہینہ انتیس دن کا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7185

۔ (۷۱۸۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَۃً دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَدَأَ بِی فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَیْنَا شَہْرًا وَإِنَّکَ قَدْ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِینَ أَعُدُّہُنَّ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّہْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! إِنِّی ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَیْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِی فِیہِ حَتّٰی تَسْتَأْمِرِی أَبَوَیْکِ۔)) ثُمَّ قَرَأَ عَلَیَّ الْآیَۃَ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتّٰی بَلَغَ أَجْرًا عَظِیمًا۔} قَالَتْ عَائِشَۃُ: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَیَّ لَمْ یَکُونَا یَأْمُرَانِی بِفِرَاقِہِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَفِی ہٰذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَیَّ فَإِنِّی أُرِیدُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۱۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے (یہ بھی) روایت ہے کہ جب انتیس دن گزر گئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس داخل ہوئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس نہیں آئیں گے، میں دن شمارکرتی رہی ہوں، آپ تو ہمارے پاس انتیس دن کے بعد آ گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک (یہ) مہینہ انتیس دنوں کا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! میں ایک بات ذکر کرنے لگا ہوں، اس کا جواب دینے میں جلد بازی سے کام نہ لینا، پہلے اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتّٰی بَلَغَ أَجْرًا عَظِیمًا۔} سیدہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جانتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدائی کا کبھی نہیں کہہ سکتے۔ پس میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں اپنے ماں باپ سے مشورہ طلب کروں؟ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7186

۔ (۷۱۸۶)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ نِسَائَ ہُ شَھْرًا فَلَمَّا مَضٰی تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ اَتَاہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: قَدْ بَرَّتْ یَمِیْنُکَ وَقَدْ تَمَّ الشَّہْرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۳)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ تک قطع تعلقی کر لی، جب انتیس دن گزر گئے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: مہینہ پورا ہو چکا ہے لہٰذا آپ کی قسم بھی پوری گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7187

۔ (۷۱۸۷)۔عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ انْفَکَّتْ قَدَمُہُ فَقَعَدَ فِی مَشْرُبَۃٍ لَہُ دَرَجَتُہَا مِنْ جُذُوعٍ وَآلَی مِنْ نِسَائِہِ شَہْرًا فَأَتَاہُ أَصْحَابُہُ یَعُودُونَہُ فَصَلّٰی بِہِمْ قَاعِدًا وَہُمْ قِیَامٌ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ الْأُخْرٰی قَالَ لَہُمْ: ((ائْتَمُّوا بِإِمَامِکُمْ فَإِذَا صَلّٰی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا وَإِنْ صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوا مَعَہُ قُعُودًا۔)) قَالَ وَنَزَلَ فِی تِسْعٍ وَعِشْرِینَ قَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ آلَیْتَ شَہْرًا؟ قَالَ: ((الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۰۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم مبارک میں موچ آ گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ایک بالا خانے میں تشریف فرما ہوئے، جس کی سیڑھی درخت کے تنوں سے بنائی گئی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے قسم بھی اٹھا لی، صحابۂ کرام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمارداری کے لیے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں بیٹھ کر نمازپڑھائی اور وہ کھڑے تھے، جب دوسری نماز کا وقت آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے امام کی اقتداء کیا کرو، پس جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگروہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتیس تاریخ کو بالا خانے سے نیچے تشریف لے آئے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک ماہ کے لیے قسم اٹھا رکھی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ انتیس دنوں کا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7188

۔ (۷۱۸۸)۔عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَلَفَ اَنْ لَّا یَدْخُلَ عَلٰی بَعْضِ اَھْلِہِ شَھْرًا، فَلَمَّا مَضٰی تِسْعَۃٌ وَعِشْرُوْنَ یَوْمًا غَدَا عَلَیْھِمْ اَوْ رَاحَ، فَقِیْلَ لَہُ: حَلَفْتَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَا تَدْخُلُ عَلَیْھِنَّ شَھْرًا، فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّھْرَ تِسْعَۃٌ وَعِشْرُوْنَ یَوْمًا))۔ (مسند احمد: ۲۷۲۱۸)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ماہ تک اپنی بعض بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھا لی، جب انتیس دن گزر گئے تو صبح یا شام کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے۔کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی ! آپ نے تو ایک ماہ تک ان کے پاس داخل نہ ہونے کی قسم کھائی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: یہ بلا شبہ مہینہ انتیس دن کا تا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7189

۔ (۷۱۸۹)۔حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاہِیجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ ہَجَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَہُ قَالَ شُعْبَۃُ وَأَحْسَبُہُ قَالَ شَہْرًا فَأَتَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ فِی غُرْفَۃٍ عَلٰی حَصِیرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِیرُ بِظَہْرِہِ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کِسْرٰی یَشْرَبُونَ فِی الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَأَنْتَ ہٰکَذَا۔ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّہُمْ عُجِّلَتْ لَہُمْ طَیِّبَاتُہُمْ فِی حَیَاتِہِمْ الدُّنْیَا۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اَلشَّہْرُ تِسْعَۃٌ وَعِشْرُونَ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) وَکَسَرَ فِی الثَّالِثَۃِ الْإِبْہَامَ۔ (مسند احمد: ۷۹۵۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ تک چھوڑ دیا، آپ کے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالا خانے میں چٹائی پر تشریف فرما تھے، چٹائی کے نشانات آپ کی کمر مبارک پر نمایاں نظر آ رہے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایران کے بادشاہ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح فقر و فاقہ میں ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی چکوائی جا رہی ہیں۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ہے، اس طرح، اس طرح اور اس طرح۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7190

۔ (۷۱۹۰)۔حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًا یَقُولُ ہَجَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نِسَائَہُ شَہْرًا فَکَانَ یَکُونُ فِی الْعُلْوِ وَیَکُنَّ فِی السُّفْلِ فَنَزَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِنَّ فِی تِسْعٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ مَکَثْتَ تَسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّہْرَ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) بِأَصَابِعِ یَدِہِ مَرَّتَیْنِ وَقَبَضَ فِی الثَّالِثَۃِ إِبْہَامَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۸۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہ تک علیحدگی اختیار کر لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بالا خانے میں رہائش اختیار کر لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات نیچے تھیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتیس دنوں کے بعد بیویوں کے پاس اتر آئے تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ انتیس دن ٹھہرے ہیں (جبکہ قسم تو مہینے کی تھی)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ اس طرح ہے اور اس طرح ہے اور اس طرح ہے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا۔

آیت نمبر