MUSNAD AHMED

Search Results(1)

130)

130) نفقہ کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7276

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کی حفاظت گاہ رہا ہے اور میری گود نے اسے سمیٹ رکھا تھا اور میرا سینہ اسے سیراب کرتا رہا ہے، اب اس کے باپ کا خیال ہے کہ وہ اسے مجھ سے چھین نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک تو آگے نکاح نہیں کرتی تو ہی اس کی زیادہ حق دار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7277

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، اس کے خاوند نے اسے طلاق دے رکھی تھی اور وہ عورت اپنا بچہ لینا چاہتی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بچے کے بارے میں قرعہ اندازی کرو۔ لیکن اس آدمی نے کہا: میرے اور میرے بچے کے درمیان کون رکاوٹ بن سکتا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بچے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کو چاہتا ہے، منتخب کر سکتا ہے۔ اس نے اپنی ماں کا انتخاب کیا، پس وہ اسے لے کر چل دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7278

۔
۔ سیدنا رافع بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس کی بیوی نے مسلمان ہونے سے انکار کر دیا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یہ میری بیٹی ہے، اس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رافع سے فرمایا: تم ایک طرف ہو کر بیٹھ جائو اور اس کی بیوی سے فرمایا کہ تم دوسری طرف ہو کر بیٹھ جائو۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچی کو دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور فرمایا: دونوں اس کو بلائو، وہ بچی ماں کی جانب مائل ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی: اے میرے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے۔ پس وہ اپنے باپ کی جانب جھکی اور اس نے اسے پکڑ لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7279

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم مکہ سے نکلے، حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چل پڑی اور آواز دی: میرے چچا جان! میرے چچا جان! سو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حوالے کرتے ہوئے کہا: یہ تیرے چچا کی بیٹی ہے، اس کو اپنی نگہداشت میں رکھ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو اس کے بارے میں، زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تینوں جھگڑنے لگے۔ میں نے کہا: میں اس کو لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ زیدنے کہا: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا : یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (فیصلہ کرتے ہوئے) جعفر سے فرمایا: تو پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں میرے مشابہ ہے۔ زید سے فرمایا: تو ہمارا بھائی اور دوست ہے۔ اور مجھ (علی) کو فرمایا: تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ اس طرح کرو کہ یہ بچی اس کی خالہ کے حوالے کر دو، کیونکہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے شادی کیوں نہیں کرلیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7280

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیدنا حمزہ کی بیٹی کو بھی ساتھ لے گئے، پھر اس کے بارے میں سیدنا علی، سیدنا جعفر اور سیدنا زید کا آپس میں جھگڑا ہو گیا، پس جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ میری بھتیجی ہے اور میں اسے لے کر نکلا ہوں، سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ میری بھتیجی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے، سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ میری بھتیجی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ما بین بھائی چارہ قائم کیا تھا، (اس وجہ سے انھوں نے سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھائی کہا)، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم میرے اور اس بچی کے دوست ہو۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم میرے ساتھی اور بھائی ہو۔ اور سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں میرے مشابہ ہو، اب یہ بیٹی اپنی خالہ کے ہاں پرورش پائے گی۔

آیت نمبر