Musnad Ahmad

Search Results(1)

134)

134) مشروبات کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7578

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں، مجھے ان کے شکار کے بارے میں تفصیل بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس شکاری کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے روکیں، وہ کھانا جائزہے۔ انہوںنے کہا: اللہ کے رسول ! ذبح ہو سکے یا نہ سکے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ذبح کر سکو یا نہ کر سکو، دونوں صورتوں میں جائز ہو گا۔ انھوں نے کہا: اگرچہ کتے نے اس سے کھا بھی لیا ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ کتے نے اس سے کھا بھی لیا ہو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کمان سے شکار کئے ہوئے جانور کے بارے میں بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم کمان کے ذریعے شکار کر لو، اس کو کھا لو۔ انہوں نے کہا: خواہ ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، ذبح کر سکو یا ذبح نہ کر سکو۔ انہوں نے کہا: اگروہ شکار نظروں سے اوجھل ہو جائے تو پھر بھی جائز ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگروہ غائب ہوجائے تو اس وقت تک جائز ہے، جب تک اس میں تغیر سے بدبو پیدا نہ ہوئی ہو یا اس میں تمہارے لگے ہوئے تیر کے علاوہ کسی اور تیر کا نشان نہ ہو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم مجبور ہوں تو مجوسیوں کے برتن میں کھانے کے متعلق فتویٰ جاری فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم ان کے برتنوں میں کھانے پر مجبور ہو تو انہیں پانی سے دھو لو اور پھر ان میں کھانا پکا لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7579

۔
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا! اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں اورہم ایسی سر زمین میں ہیں، جو شکار کے لیے سازگار ہے، میں اپنے کمان یا سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ شکار کرتاہوں اور اپنے اس کتے کے ذریعہ بھی شکار کرتا ہوں جو سدھایا ہوا نہیں، اب آپ ان کے بارے میں فرمائیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ ہم اہل کتاب کی سر زمین میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھانے کا کیا حکم ہے، تو اس بارے میں فتویٰ یہ ے کہ اگر تم ان کے برتنوں کے علاوہ برتن پائو تو پھر ان میں نہ کھائو، اگر تم ان کے برتنوں کے علاوہ برتن نہیں پاتے ہو تو ان کو دھو لو اور ان میںکھا لو۔جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار والی زمین میں ہو، اگر تم نے اپنے تیر کمان سے شکار کرتے وقت بسم اللہ پڑھی تھی تو پھر وہ شکار کھا لو اور جب تم نے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑنے سے پہلے بسم اللہ پڑھی تھی تو وہ شکار بھی کھا لو اور جو تم نے نہ سدھائے ہوئے کتے سے شکار کیا ہے، اگر اسے ذبح کر لو تو اس کو بھی کھا لو اور اگر وہ ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو پھر نہ کھانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7580

۔
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے اسلام کی تعلیم دی اور وضاحت کی کہ میں نے کیسے ہر نماز اس کے وقت پر پڑھنی ہے۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا: اے ابن حاتم! تیری اس وقت کیا حالت ہو گی جب تو یمن کے قلعوں پر چڑھے گا، تجھے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا حتی کہ تو حیرہ کے قلعوں میں اترے گا وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا طی قبیلہ کے شہسوار اور پیادہ (جرائم پیشہ) لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے طی اور دیگر لوگوں سے کافی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ کتوں اور بازوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں، ہمارے لیے ان کے شکار میں سے کیا حلال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شکاری کتے تم نے سدھائے ہیں، اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے، ان کے روکے ہوئے شکار کو کھا سکتے ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا ہو اور جو کتایا باز تم نے چھوڑا ہے اور اللہ کا نام ذکر کیا ہے، تو وہ جو شکار روک کر رکھیں، وہ کھا لو۔ میںنے کہا: اگرچہ یہ شکار کو مار بھی دیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ یہ مار بھی دیں، لیکن شکار سے خود نہ کھایا ہو تو انہوں نے شکار تمہارے لیے روکا ہے۔ میں نے کہا: اب یہ فرمائیں کہ چھوڑتے وقت اگر ہمارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے مل جل جاتے ہیں تو پھر کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک شکار نہ کھاؤ جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ یہ شکار تمہارے کتے نے ہی کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تیر کے درمیانی موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شکار تیر کے اس حصے سے مر جائے، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ خود ذبح کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7581

۔
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا بھیجو اور بسم اللہ پڑھو تو اس کتے نے جو شکار پکڑا ہے، اگر تم اسے اس حالت میں پاتے ہیں کہ ابھی وہ زندہ ہے تو اسے ذبح کرو، اور اگر اس نے شکار مار بھی دیا ہے پھر بھی کھا لو ، لیکن اگر کتے نے شکار میں سے خود کھا لیا ہے تو پھر نہ کھاؤ، کیونکہ اس کھانے کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنے لیے روکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7582

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑتے ہو اور وہ اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے تو پھر وہ شکار نہ کھانا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنے لیے روکا ہے اور جب تم اپناکتا چھوڑتے ہو اور وہ اس میں سے کچھ نہیں کھاتا تو پھر اس کو کھا لو، کیونکہ اس نے شکار مالک کے لیے روکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7583

۔
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم شکاری لوگ ہیں، اس بارے میں آپ ہمیں ہدایات دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شکار پر اپنا تیر پھینکے تو وہ بسم اللہ پڑھ لے، اگر وہ تیر شکار کو مار بھی دے، پھر بھی کھا لو، لیکن اگر وہ شکار زخمی ہو کر پانی میں گر جائے اور وہیں مر جائے تو پھر نہیں کھانا، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ پانی میں ڈوب کر مرا ہو، اور اگرشکار میں تیر لگا ہو اور وہ ایک دو دن بعد میں ملا ہو اور اس میں سوائے تمہارے تیر کے کسی اور کے تیر کا نشان نہ ہو تو اگر مرضی ہوتو کھا سکتے ہو اور جب شکار پر کتا چھوڑا ہو تو چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لو، اگر وہ شکار اس حالت میں مر بھی گیا ہو تو اس کو کھا لو اور اگر کتا شکار میں سے کچھ کھا لے، تو پھر نہ کھانا، کیونکہ یہ کتے نے اپنے لیے روکا ہے، شکاری کے لیے نہیں روکا، اگر کتا شکار کے لیے چھوڑا ہے اور اس کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل جل گئے ہوں، جن کو چھوڑتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو تو پھر اس کو نہیںکھانا، کیونکہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کس نے شکار ماراہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7584

۔
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو دھار کی جانب سے تیر شکار کو لگے وہ کھا لو اور جو اس موٹے حصے کی جانب سے لگے، وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، اسے کھانا جائز نہیں۔ میں نے کتے کے شکار کے متعلق سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا ہو، اگر وہ کتا شکار روکتا ہے تو کھا لو، لیکن اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاتے ہو اور یہ خدشہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُس کتے نے مارا ہو تو پھر شکار نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے کتے پر تو نہیں پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7585

۔
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کوئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی، میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میں تیر پھینکتا ہوں اب شکار ذبح کرنے کے لیے میرے پاس صرف پتھر یا لاٹھی ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھو اور شکار سے خون جاری کردو (یعنی خون جاری کر دینے والا کوئی آلہ استعمال کر لو)۔ میں نے کہا: بعض کھانے ایسے ہوتے ہیں کہ میں ان کو صرف گناہ میںواقع ہونے کے خوف سے چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کھانے کو چھوڑنے میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہوتی ہو وہ کھانا نہ چھوڑنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7586

۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر اور سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری کمان جس چیز کو شکار کر لے، تو اس کو کھا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7587

۔
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم تیر شکار پر پھینکتے ہیں اور وہ تین دن تک تم سے غائب ہو جاتا ہے اور پھر اسے پا لیتے ہو تو اس کو کھایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ وہ بدبودار نہ ہوا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7588

۔
۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری سر زمین شکارکے لیے بہت موزوں ہے، ہم میں سے اگر کوئی شکارکو تیر مارتا ہے اوروہ شکار ایک یا د ودن غائب رہتاہے اور پھر وہ پایا جاتا ہے اور اس میں وہی تیر موجود ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر پاتے ہو اور اس میں کسی اور تیرکے اثرات نہ ہوں اور تم جانتے ہو کہ اسے تمہارے تیر نے ہی مارا ہے تو تم اسے کھا لو۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر لگا ہوا دیکھتے ہیں اور اس سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو پھر تم وہ شکار کھا سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7589

۔
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شکار پر تم نے تیر چلایا ہو، لیکن (تیر لگنے کے بعد) وہ پانی میں گر کر مر گیا ہو تو اس کو نہیں کھانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7590

۔
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شکار کو تیر کی دھار لگے اور وہ اس میںگھس جائے اس کو کھا لو اور جب تیر کا درمیانی حصہ لگے اور شکار کو قتل کر دے تو وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، پس اسے نہیں کھانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7591

۔
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ بھی کہو ، لیکن اگر یہ کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل جائے تو وہ شکار نہیں کھانا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس کتے نے اس شکار کو مارا ہے (جبکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے)، اسی طرح جب تم تیر پھینکو اور بسم اللہ کہی ہو اور وہ تیر شکار میں پیوست ہو گیا ہو تو اس کو کھا لو، اگر وہ پیوست نہ ہو اور تیر کے درمیانی موٹے حصے کی ضرب سے مرے ہوئے شکار کو نہ کھاؤ اور بندق کے کیے گئے شکار کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7592

۔
۔ سیدنا عدی ہی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، کیا وہ ہمارے لیے حلال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرو، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو خود ذبح کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7593

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے منع کیا ہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے نہ تو دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے شکار ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7594

۔
۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکری پھینکی، انہوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس سے نہ تو شکارہو گا اور نہ دشمن کا نقصان ہو گا، البتہ یہ چیز دانت کو توڑ سکتی ہے اور کسی کی آنکھ پھوڑ سکتی ہے۔ اس آدمی نے دوبارہ کنکری پھینکی، اس بار انھوں نے کہا: میں نے تجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث سنائی ہے تو پھر وہی کام کر رہا ہے، جس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع کیا ہے، میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7595

۔
۔ سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے منع کیا ہے، ان کے ایک بھتیجے نے کنکری لی اور کہا اس سے اور اسے پھینکا، سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ میں نے تجھے بتایا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور تو کنکریاں پھینک رہا ہے، میں پختہ عزم سے کہتا ہوں کہ جب تک میری زندگی باقی ہے، میں تجھ سے کلام نہیں کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7596

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پتھر پھینکنے سے منع کیا ہے، یعنی اس صورت سے منع فرمایا کہ جانور کو پتھر یا کند چیز ماری جائے اور پھر اس کو کھا لیا جائے، بلکہ اس کو پہلے ذبح کیا جائے، پھر اس کے بعد جو چیز مرضی ہو وہ مار لیں، اگرچہ وہ کند ہی کیوں نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7597

۔
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندق سے مارا ہوا شکار نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7598

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ ملعون ہے، جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ ملعون ہے اور جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے، وہ بھی ملعون ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7599

۔
۔ ابو طفیل کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ہمیں وہ چیز بتائو، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم لوگوں کو راز داری سے بتائی ہو، انہوں نے کہا: ہمارے لے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی چیز بطور راز داری کے بیان نہیں کی کہ جسے لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالی نے اس پر لعنت کی، جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اللہ تعالی اس شخص پر لعنت کی، جوبدعتی کوجگہ دے گا، اللہ تعالی نے اس آدمی پر لعنت کی ، جو اپنے والدین پر لعنت کرے گا اور اللہ تعالی نے اس شخص پر لعنت کی، جو زمین کی علامات تبدیل کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7600

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، زید بن عمرو بن نفیل کو بلدح وادی کی نچلی جانب ملے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، زید کے سامنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دستر خوان پیش کیا، اس پر گوشت بھی رکھا گیا، لیکن زید نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا: میں وہ چیز نہیں کھاتا، جو تم لوگ اپنے بتوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہی کھاتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ حدیث رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7601

۔
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکار کے بارے میں سوال کیا، جس کو میں شکار کرتا ہوں (لیکن میرے پاس ایسا کوئی آلہ نہیں ہوتا، جس سے میں اس کو ذبح کروں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ تم چاہو، اس کا خون بہادو اور اس پر اللہ کا نام لو اور اس کو کھالو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7602

۔
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو چیزیں میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یاد کی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے، پس جب تم کسی کو ضرورت کے تحت قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح کا اچھا انداز اختیار کرو، اپنی چھری تیز رکھو اور اپنے ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام پہنچائو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7603

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری تیز کرنے کا اور اس کو جانورں سے اوجھل رکھنے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جانور ذبح کرے تو جلدی جلدی ذبح کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7604

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا کو بغیر حق کے ذبح کیا اس سے روز قیامت اللہ تعالیٰ پوچھیں گے۔ کسی نے پوچھا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کیا جائے اور اس کی گردن اس طرح نہ پکڑی جائے کہ وہ مکمل کٹ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7605

۔
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بکری ذبح کرتاہوں اور مجھے اس پر ترس آتا ہے کہ میں اسے ذبح کر رہا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری پر رحم کرتا ہے تو اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7606

۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے ایک بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے آواز نکالی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی آواز سن لی اور فرمایا: اے جابر! دودھ اور نسل والی بکری ذبح نہ کرنا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بکری چھوٹی ہے، میں نے اسے کچی اورترکھجوریں چارہ ڈال کر موٹا تازہ کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7607

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کعب بن مالک کی آل کی بکریاں سلع پہاڑ کے دامن میں چرا رہی تھی، اسے اندیشہ ہوا کہ ایک بکری مرنے کے قریب ہے، پس اس نے اس کو پتھر کے ساتھ ذبح کر دیا، جب اس کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7608

۔
۔ سیدنا کعب بن مالک کا بیٹا بیان کرتا ہے کہ سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی لونڈی سلع پہاڑ کے دامن میں ان کی بکریاں چرا رہی تھی، ایک بکری پر بھیڑیا حملہ آور ہوا، لیکن جب اس چرواہی نے اس بکری کو زندہ پایا تو اس نے ایک پتھر کے ذریعے اس کو ذبح کر دیا، جب سیدنا کعب بن مالک نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانے کی اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7609

۔
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا کل دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے، اگر جانور ذبح کرنے کے لیے ہمارے پاس چھری نہ ہو توہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو، اس کو کھا لو، البتہ وہ دانت اور ناخن نہ ہو،میں تم بتاتا ہوں کہ دانت اور ناخن کی وجہ کیا ہے، دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ مال غنیمت ملا، اس میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگو ں نے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ روکنے کی طاقت نہ رکھ سکے، ایک آدمی نے اس پر تیر پھینکا، تو وہ رک گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض اونٹ وحشیوں کی طرح بدک جاتے ہیں، اگر کوئی ایسا جانور تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔ اس دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے ایک اونٹ کے عوض دس بکریاں شمار کی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7610

۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ میں سے ایک نوجوان، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ایک خرگوش دیکھا، جسے میں نے کنکر مارا، پھر میرے پاس چھری نہ تھی، جس کے ساتھ میں اسے ذبح کرتا تو میں نے اس کو پتھر سے ذبح کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کھا لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7611

۔
۔ سیدنا محمد بن صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خرگوش شکار کئے، چھری وغیرہ موجود نہ تھی کہ انہیں ذبح کیا جا سکے، سو میں نے ان کو پتھر کے ساتھ ذبح کر دیا، پھر جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کھا لینے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7612

۔
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بکری میں ایک بھیڑیئے نے دانت چبھو دیئے، لیکن پھر لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کر دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کھا لینے کی رخصت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7613

۔
۔ سیدنا سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کا ایک تیز دھار لکڑی کے ذریعہ خون بہا دیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کھانے کی اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7614

۔
۔ عطاء بن یسار، بنو حارثہ کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کے گلے کے گڑھے میں ایک میخ مار دی اور اسے اندیشہ ہوا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ویسے ہی مر جائے، اس لیے اس نے میخ سے ذبح کر دی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کھانے کی اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7615

۔
۔ ابو عشراء کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جانور کو صرف گرد ن کے گڑھے میں ذبح کیا جاتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اس کی ران میں بھی نیزہ مارے گا تو کفایت کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7616

۔
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ مال غنیمت ملا، اس میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگو ں نے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ روکنے کی طاقت نہ رکھ سکے، ایک آدمی نے اس پر تیر پھینکا، تو وہ رک گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض اونٹ وحشیوں کی طرح بدک جاتے ہیں، اگر کوئی ایسا جانور تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7617

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ جو اونٹنی گائے یا بکری کے پیٹ میں بچہ ہے، جوذبح کرنے کے بعد پیٹ سے نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کو ذبح کر نا ہی اس کو ذبح کرنا ہے، اگر مرضی ہو تو کھا لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7618

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیٹ کے بچے کے لیے اس کی ماں کا ذبح کرنا ہی کافی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7619

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شریطہ نہ کھاؤ، کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7620

۔
۔ سیدنا ابوواقد لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ تھے، جو بکریوں کے سرین اور اونٹوں کی کوہانیں کاٹ کر (کھا لیتے)،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو زندہ جانور سے گوشت کاٹ لیا جائے، وہ گوشت مردار ہے۔

آیت نمبر