Musnad Ahmad

Search Results(1)

138)

138) طاعون اور وبا کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7809

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور دیکھا کہ لوگ سیدنا ابوکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے صف باندھے نماز ادا کررہے ہیں، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں، جن کو مسلمان دیکھتا ہے یا جو اس کے لیے کسی کو دکھائے جاتے ہیں،خبردار! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے روک دیا گیا ہے، رکوع میں اپنے رب کی تعظیم بیان کیا کرو اور سجدہ میں دعائیں کرنے میں کوشش کیا کرو، کیونکہ بہت زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7810

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، ما سوائے خوشخبریوں کے۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ خوشخبریاں کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان سے مراد اچھے خواب ہیں، جو آدمی دیکھتا ہے یا اس کے لیے کسی کو دکھائے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7811

۔
۔ سیدہ ام کرزکعبیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (آئندہ) نبوت تو ختم ہو گئی ہے، البتہ خوشخبریاں باقی رہ گئی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7812

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز فجر سے فارغ ہوتے تو فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے رات کو کوئی خواب دیکھا ہے، میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا، صرف اچھے خواب ہی رہ جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7813

۔
۔ سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد نبوت میں سے سوائے مبشرات کے اور کچھ باقی نہ رہے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خوشخبریاں کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھے خواب۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7814

۔
۔ سیدنا ابورزین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خواب پرندے کے پائوں کے ساتھ لٹکا دیا گیا ہے، یہ اس وقت تک ہے کہ جب تک اس کی تعبیر نہ کر دی جائے، جب اس کی تعبیر کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہوجاتا ہے اور اس کا ذکر صرف عالم سے یا خیر خواہ سے یا عقلمند سے کیا کرو اور نیک خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7815

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن آدمی کا خواب نبوت کا حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7816

۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7817

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسوں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7818

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7819

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے فرمان {لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا}… (ان کے لیے دنیوی زندگی میں خوشخبری ہے) اس خوشخبری سے مراد اچھا خواب ہے، جس میں مومن کو خوشخبری دی جاتی ہے، یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے، جو ایسا خواب دیکھے، وہ دوسرے کو بتائے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور قسم کا خواب ہو، (جو اچھا نہ ہو) تو وہ شیطان کی طرف سے ہے، جو اسے پریشان کرتا ہے، وہ کسی کو اس کی خبر نہ دے اور تین مرتبہ بائیں طرف تھوکے اور خاموش ہو جائے اور کسی کو نہ بتلائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7820

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا خواب نبوت کا سترھواں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7821

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا خواب نبوت کا سترواں حصہ ہے، جو خواب میں بھلائی دیکھے تو وہ اس پر اللہ تعالی کی تعریف کرے اور اس خواب کو بیان کرے اور جو آدمی بھلائی والے خواب کے علاوہ کوئی اور خواب دیکھے تو وہ اپنے خواب کے شرّ سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے اور کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے، پس یہ اسے نقصان نہیں دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7822

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں مؤمن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا اور تم میں سب سے زیادہ سچا اس کا خواب ہے، جو زیادہ سچ بولنے والا ہوگا۔خواب کی تین اقسام ہیں: اچھا خواب، یہ اللہ تعالی کی طرف سے خوشخبری ہے، وہ خواب جو آدمی کے دلی خیالات ہوتے ہیں، غمگین کرنے والا خواب، یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، جب تم میں سے کوئی ایک ایسے خواب کو دیکھے جو ناپسند کرتا ہے، تو وہ کسی سے بیان نہ کرے اور کھڑا ہو اور نماز پڑھے۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے خواب میں بیڑی دیکھنا پسند ہے اور طوق دیکھنا ناپسند ہے، کیونکہ بیڑی دین میں مضبوطی کی علامت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7823

۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے، اگر وہ پسندیدہ ہو تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، وہ اس پر اس کی تعریف کرے اور اسے بیان بھی کرسکتا ہے اور جب اس کے علاوہ کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہے تو یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے اور اسے کسی کے سامنے بیان نہ کرے، یہ اسے کوئی نقصان نہیں دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7824

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وہ خواب دیکھے، جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے (یعنی اَعُوْذُ بّاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھے) اور جس پہلو کے بل لیٹا ہوا ہو، وہ پہلو بدل لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7825

۔
۔ سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایسے خواب دیکھا کرتا تھا کہ جن کے ڈر سے مجھے بخار ہوجاتا تھا اور میں چادر تک نہیں اوڑھ سکتا تھا، (ایک روایت میں ہے: میں ایسے خواب دیکھتا، جو مجھے بیمار کر دیتے تھے) ایک دن میں سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا اور ان سے اس چیز کا ذکر کیا، انہو ں نے مجھے یہ حدیث بیان کی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا خواب اللہ تعالی کی جانب سے ہے اور گندے خواب شیطان کی طرف سے ہیں، جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس کی کسی کو خبر نہ دے اور بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور اس کے شرّ سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے، (اس کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ) یہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں دے گا۔ سفیان راوی نے ایک بار اس طرح روایت بیان کی: وہ کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں دیکھے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب تم میں سے کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو وہ صرف اس کے سامنے بیان کرے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7826

۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ سچا خواب وہ ہے، جو سحریوں کے وقت آتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7827

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو نیند میں وہ کچھ دکھائے، جو انہوں نے دیکھا نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7828

۔
۔ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنی آنکھوں پر جھوٹ بولتا ہے، روز قیامت اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ جو کے دانے کے دو کناروں میں گرہ لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7828

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک دوسری روایت میں مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹا خواب بتایا، اسے روز قیامت یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ جو کے دانے میں گرہ لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7829

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خواب میں جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7830

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک خواب دیکھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائباں ہے،اس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ اُس سے چُلو بھر رہے ہیں، کوئی زیادہ لے رہا ہے اور کوئی کم۔ادھر ایک رسی ہے، جو زمین سے آسمان تک پہنچ رہی ہے۔ میں نے آپ کودیکھا کہ آپ نے اس کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے، پھر ایک دوسرے آدمی نے اس کو پکڑا اور وہ بھی چڑھ گیا، پھرایک تیسرے آدمی نے پکڑا، اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر ایک آدمی نے اس کو پکڑا لیکن وہ رسی ٹوٹ گئی،پھر اسے جوڑاگیا۔ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے اجازت دیں میںاس کی تعبیر بیان کرتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) تم اس کی تعبیر بیان کرو۔ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سائبان اسلام ہے اور اس سے ٹپکنے والے شہد اور گھی سے مراد قرآن کی مٹھاس ہے۔ پس کوئی قرآن کا زیادہ حصہ سیکھنے والا ہے اور کوئی کم اور جو آسمان سے زمین تک پہنچنے والی رسی ہے، وہ حق ہے، جس پر آپ قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے ذریعے سربلند فرمائے گا۔ پھر اس کو ایک آدمی پکڑے گا، وہ بھی اس کے ساتھ بلندی پر فائزہوگا، پھر اس کو ایک دوسرا آدمی پکڑے گا وہ اس کے ساتھ بلند ہوگا،پھر اس کو تیسرا آدمی پکڑے گا، پس وہ ٹوٹ جائے گی۔ پھر اس کو جوڑا جائے گا، پھر وہ اس کے ساتھ بلند ہوگا۔ اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں، مجھے بتلائیے میری یہ بیان کردہ تعبیر صحیح ہے یا غلط؟نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض حصہ درست بیان کیا اور بعض میںغلطی کی۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ ضرور میری غلطی کو بیان کریں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوبکر! قسم نہ اٹھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7831

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ریشم کا ٹکڑا ہے، جنت میں جس جگہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں، وہ مجھے اڑا کر لے جاتا ہے، جب سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے یہ خواب بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اس خواب کی تعبیر یہ ہوئی کہ) تمہارا بھائی عبداللہ نیک آدمی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7832

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات مبارکہ میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو وہ آتا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر وہ خواب بیان کرتا، میری بھی آرزو تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بیان کروں، میں غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا ہے اور مجھے آگ کی جانب لے جارہے ہیں، وہاں ایک منڈیر تھی، جس طرح کنوئیں کی منڈیر ہوتی ہے اور اس کے دو ستون تھے، اس میں کچھ لوگ تھے، جنہیں میں پہچانتا تھا میں نے یہ دیکھ کر کہنا شروع کردیا: میں آگ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں، ان دو فرشتوں کو ایک اور فرشتہ ملا، اس نے مجھ سے کہا: عبداللہ آپ ہر گز نہ ڈریں، میں نے یہ خواب اپنی بہن سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بیان کیا، انہوں نے اس کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، بس ایک بات ہے کہ اگر وہ رات کو قیام کرنا شروع کر دے (تو بہت اچھا ہو گا)۔ سالم کہتے ہیں: (یہ تعبیر سننے کے بعد) سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے (یعنی رات کا زیادہ حصہ عبادت میں مصروف رہتے تھے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7833

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا، جیسے سونے والا دیکھتا ہے گویا کہ میری دو انگلیوں میں سے ایک پر گھی لگا ہے اور دوسری پر شہد اور میں دونوں انگلیوں کو چاٹ رہا ہوں، جب صبح ہوئی تو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تعبیر بتائی کہ تم دو کتابیں تو رات اور قرآن مجید پڑھو گے۔ پس وہ یہ دونوں کتابیں پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7834

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ میں سورۂ ص لکھ رہا ہوں، جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا ہوں تو میں نے دیکھا کہ دوات، قلم اور میرے ارد گرد موجود ہر چیز نے سجدہ کیا، جب میں نے یہ خواب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیشہ اس سورت میں سجدۂ تلاوت کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7835

۔
۔ عمارہ بن خزیمہ، یہ سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہ تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن کی شہادت کو دو افراد کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا، تو عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا، جو صحابی تھے، سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا خزیمہ بن ثائب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نیند میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا، جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹ گئے اور سیدنا خزیمہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7836

۔
۔ (دوسری سند) سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی مبارک پر سجدہ کررہے ہیں، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی اطلاع دی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹ گئے اور ان سے فرمایا: اپنا خواب سچا کر لو۔ پس انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7837

۔
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر سجدہ کررہا ہوں، جب میں نے یہ خواب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک روح روح کومل ہی جاتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اوپر اٹھایا یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ نے اپنی پیشانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر رکھ دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7838

۔
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بوسہ لے رہے ہیں، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس چیز کی خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو پکڑا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7839

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھے خواب بہت بھلے لگتے تھے، بعض اوقات آپ خود سوال کرتے تھے کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اور جب کسی آدمی نے دیکھا ہوتا وہ اس کے متعلق خود پوچھ لیتا تھا، اگر کوئی نقصان دہ نہ ہوتا تو وہ اس خواب کی وجہ سے آپ کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو جاتا ایک عورت آئی اور کہا اے اللہ کے رسول! گویا کہ میں جنت میں داخل ہوئی ہوں اور وہاں میں نے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنی ہے، جس سے جنت لرز اٹھی ہے میں نے دیکھا تو اچانک فلاں کا بیٹا فلاں کا اور فلاں کا بیٹا فلاں، یہاں تک کہ اس نے بارہ آدمی شمار کئے، اس سے پہلے حقیقی طور پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دستہ بھیجا تھا، عورت خواب بتاتی ہے کہ انہیں لایا گیا ان پر میلے کچیلے کپڑے دئیے گئے تھے، ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا، ان کے متعلق کہا گیا کہ انہیں نہر بیدخ یا نہر بیدج میں لے جائو، انہوں نے اس میں غوطہ لگایا وہ اس سے باہر آئے ان کے چہرے اس طرح چمک رہے ہیں، جیسا کہ چودہویں کا چاند ہے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں، وہ ان پر بیٹھ گئے اور ایک پیالہ لایا گیا، جس میں ڈوکا کھجوریں تھیں، انہوں نے اس میں سے کھایا، وہ کسی بھی پہلو میں اسے پلتے ہیں تو پھل ہی پھل کھاتے تھے، میں بھی ان کے ساتھ کھاتی ہوں، اتنی دیر میں حقیقی طور پر اس دستہ کے متعلق اطلاع دینے والا آیا اس نے ساری تفصیلات بیان کیں اور بتایا کہ فلاں، فلاں، فلاں حتیٰ کہ بارہ آدمی شمار کئے، وہ سب شہید ہو گئے ہیں، یہ اتنی ہی تعداد تھی جتنی اس عورت نے بیان کی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس عورت کو میرے پاس لے آئو۔ آپ نے اس سے فرمایا: اسے اپنا خواب سنائو ۔ اس عورت نے اسی طرح بیان کیا جس طرح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے بیان کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7840

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی ہے اور میرا سر گر پڑا، میں اس کے پیچھے جاتا ہوں، اسے پکڑ کر پھر اس کی جگہ پر لگادیتا ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے ساتھ شیطان کھیل کرے تو ہر گز لوگوں کو نہ بتائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7841

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر مار دیا گیا ہے، پھر میں نے اس کو دیکھا کہ وہ لڑھکتا گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور پھر فرمایا: تم میں سے ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے ہولناکی میں مبتلا کر دیتا ہے اور پھر وہ صبح کو لوگوں کو بتا رہا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7842

۔
۔ ابو اسرائیل جشمی اپنے قبیلے کے جعدہ نامی بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو خواب میں دیکھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ خواب اس کے سامنے بیان کیا، وہ آدمی بڑے پیٹ والا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی انگلی اس کے پیٹ میں لگا کر فرمانے لگے: اگر یہ اس پیٹ کی جگہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں بڑا ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7843

۔
۔ مولائے ابو اسرائیل سیدنا جعدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، جبکہ ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر خواب بیان کررہا تھا، اس نے اپنے موٹاپے اور بڑے پیٹ کا ذکر کیا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اگر تیرا یہ بڑا ہونا دوسرے اعضاء (یا صلاحیت) میں ہوتا تو بہتر تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7844

۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے پیٹ کی جانب اشارہ کیا اورفرمایا: اگر یہ بڑا پن کسی دوسرے (عضو یا عقلی صلاحیت وغیرہ) میں ہوتا تو بہتر تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7845

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں دو کنگن سونے کے رکھ دئیے گئے ہیں، میں ان کی وجہ سے گھبرا گیا اور میں نے انہیں ناپسند کیا، مجھے اجازت ملی کہ میں ان پر پھونک ماروں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے ، میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ یہ نمودار ہونے والے دو جھوٹے نبی ہوں گے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: ایک ان میں سے اسود عنسی ہے، جسے فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7846

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے، جو مجھ پہ بڑے گراں گزرے اور انہوں نے مجھے بہت غمگین کیا، میری طرف وحی کی گئی کہ آپ ان پر پھونک مار دیں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے، میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد وہ دو کذاب ہیں کہ میں جن کے درمیان ہوں، ایک صنعاء والا یعنی اسود عنسی ہے اور دوسرا صاحب ِ یمامہ یعنی مسیلمہ کذاب۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7847

۔
۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7848

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک خواب دیکھا کہ دو فرشتے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پاؤں کی جانب اور دوسرا سر کی جانب بیٹھ گیا، جو پائنتی کی جانب بیٹھا تھا، اس نے اس فرشتہ سے کہا جو سرہانے بیٹھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی مثال بیان کرو، اس نے کہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی مثال اس قوم کی مانند ہے، جو ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے، اس کے پاس نہ تو توشہ سفر ہے کہ اس جنگل کو طے کر سکے اور نہ ہی واپس لوٹنے کی گنجائش ہے، یہ قوم اسی حالت میں تھی کہ اس کے پاس ایک آدمی آتا ہے، جو دھاری دار جوڑ ا زیب تن کئے ہے اور وہ کہتا ہے: کیا میں تمہیں سر سبز و شاداب باغیچے میں لے چلوں، جس کا منظر نہایت ہی دلربا ہے، کیا تم میرے پیچھے چلو گے؟ وہ قوم کہتی ہے: جی ہاں چلیں گے، وہ انہیں لے کر چلتا ہے اور انہیں سرسبز و شاداب باغیوں اور حسین منظر حوضوں میں وارد کرتا ہے، وہ ان میں کھاتے پیتے ہیں اور موٹے تازے صحت مند ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں یاد دہانی کراتا ہے، جب میری تم سے ملاقات ہوئی تھی تو تم کس حال میں تھے، پھر تم نے مجھ پر اعتماد کیا، میں نے تم سے عہد کیا تھاکہ میں تمہیں سرسبز وشاداب باغیچوں اور حسین منظر حوضوں میں وارد کروں گا، اگر تم میرے پیچھے چلو گے تو میں نے وارد کیا ہے، وہ قوم کہتی ہے: کیوں نہیں، ایسا ہی ہوا ہے، وہ کہتا ہے تو اب میں پھر کہتا ہوں: ان باغوں سے بھی زیادہ سرسبز باغ اور حسین منظر حوض اس سے آگے ہیں، میرے پیچھے چلو تو ایک گروہ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے، ہم پیچھے جائیں گے، دوسرا گروہ کہتا ہے اتنا ہی ہمیں کافی ہے، ہم اسی پر مقیم رہنا پسند کرتے ہیں، ساتھ نہیں جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7849

۔
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا، یہاں تک کہ دودھ میرے ناخنوں سے پھوٹنا شروع ہو گیا، پھر جو بچ گیا، وہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے دیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد علم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7850

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے متعلقہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں اور ابوبکر کھڑے ہوئے ایک یا دو ڈول کنوئیں سے پانی کے کھینچتے ہیں، ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ تعالی انہیں معاف فرمائے، پھر عمر نے ڈول کھینچا ہے، پس وہ بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا، میں نے لوگوں میں سے اتنا قوی کسی کو نہیں دیکھا، (انھوں نے اس قدر ڈول کھینچے کہ) لوگوں نے اپنے اونٹ بٹھا لیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7851

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو ایک خواب دیکھا کہ ایک نیک آدمی ہے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے ساتھ وابستہ ہوگئے ، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے وابستہ ہوگئے ہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وابستہ ہوگئے ہیں۔سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ہم یہ بات سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے کھڑے ہوئے تو ہم نے کہا: نیک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، ان کے ساتھ وابستہ یکے بعد دیگرے وابستہ ہونے والوں سے مراد اس دین کے والی اور خلیفے ہیں، جس دین کے ساتھ اللہ تعالی نے اپنی نبی کو مبعوث فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7852

۔
۔ اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، یہ آدمی سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے بغیر وفات نہیں پائیں گے، ہم نے اس سے کہا: تمہیں کیسے علم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے رات کو خواب دیکھا کہ میرے تین صحابہ کا وزن کیا گیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا تو یہ وزن میں بڑھ گئے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وزن کئے گئے تو یہ بھی وزن میں بھاری ہوئے، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا وزن کچھ کم نکلا، بہرحال وہ نیک اور صالح ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7853

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور انعام دی، یہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احد کے دن خواب دیکھا تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک شگاف اور رخنہ دیکھا ہے، اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہارے اندر رخنہ پڑے گا (یعنی شکست ہوگی)، میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے، میں نے تاویل کی ہے کہ دشمن لشکر کا بہادر شہید ہوگا، میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ محفوظ رہے گا اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے، اللہ بھلائی والا ہے اور اللہ بھلائی والا ہے ۔ وہی ہوا جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7854

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا، جیسا کہ سونے والا خواب دیکھتا ہے کہ میں نے ایک مینڈھا اپنے پیچھے بٹھایا ہوا ہے اور میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے، میں نے اس کی تعبیر یہ نکالی ہے کہ دشمن لشکر کا آدمی قتل ہوگا اور میرے گھر والوں میں سے ایک آدمی شہید ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7855

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ کھجوروں کا ایک ٹوکرا ہے، میں نے اس میں سے کچھ کھجوریں جمع کی ہیں اور منہ میں ڈال لی ہیں، میں نے ان میں ایسی گٹھلی پائی کہ جس سے مجھے تکلیف ہوئی، میں نے وہ کھجوریں منہ سے پھینک دی ہیں، پھر میں نے اور لے لیں اور انہیں جمع کیا ہے، ان میں گٹھلی موجود تھی، انہیں بھی میں نے پھینک دیا ہے، پھر اور لے لیں اور جمع کرکے منہ میں ڈالی ہیں ،ان میں بھی میں نے گٹھلی پائی اور انہیں پھینک دیا۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اس کی تعبیر کی اجازت دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر کرو۔ ‘ انہوں نے کہا: اس سے مراد آپ کا وہ لشکر ہے جو آپ نے بھیجا ہے وہ صحیح سلامت آئے گا اور مال غنیمت لے کر آئے گا، وہ ایک آدمی سے ملیں گے، وہ انہیں آپ کے ذمہ کا واسطہ دے گا، وہ اسے چھوڑ دیں گے، پھر وہ ایک اور آدمی سے ملیں گے، وہ بھی آپ کے ذمہ کا واسطہ دے گا، وہ اسے بھی چھوڑدیں گے، پھر وہ ایک اور آدمی سے ملیں گے، وہ بھی آپ کے ذمہ کا حوالہ دے گا، وہ اسے بھی چھوڑ دیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے نے مجھے یہی تعبیر بتلائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7856

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں، ہمارے پاس ابن طاب کھجوریں لائی گئیں،میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ہمیں دنیا میں رفعت ملے گی اور آخرت میں حسن انجام ملے گا اور ہمارا دین نہایت عمدگی اختیار کر چکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7857

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ایک سیاہ فام عورت کو دیکھا ہے، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، وہ مدینہ سے نکل کر مہیعہ یعنی جحفہ مقام میں ٹھہر گئی، میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ مدینہ کی وبا وہاں منتقل ہو گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7858

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں کعبہ کے پاس ہوں، میں نے ایک گندمی رنگ کا بہت زیادہ حسین، جو ایک آدمی ہوسکتا ہے، دیکھا، اس کے بال کانوں تک تھے، کنگھی کی ہوئی تھی اور اس کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا اور اس کے بال لہردار تھے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں، پھر میں نے ایک اور آدمی دیکھا، اس کے بال سخت گھنگھریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی مانند تھی، یوں سمجھیں کہ لوگوں میں اس کی مشابہت ابن قطن سے پڑتی تھی، یہ بھی دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اور بیت اللہ کا طواف کررہا تھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح دجال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7859

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا پروردگار انتہائی خوبصورت شکل میں میرے خواب میں میرے پاس آیا، میرا خیال ہے کہ یہ نیند کا واقعہ ہے، اور اللہ تعالی نے فرمایا: اے محمد! آپ جانتے ہیں یہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، پھر اللہ تعالی نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میری کمر پر رکھایہاں تک کہ میں نے اپنی چھاتی میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی، مجھے زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا علم ہو گیا، پھر اللہ تعالی نے فرمایا: اے محمد ! کیا آپ جانتے ہیں مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی وہ کفاروں اور درجات میں کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: کفارے اور درجات کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا: کفارات یہ ہیں: مساجد میں ٹھہرنا، جماعتوں کے لیے قدموں پر چل کر جانا، تنگی کے باوجود وضو پورا کرنا، جس نے یہ اعمال کیے، وہ زندہ بھی خیر سے رہا اور اس کی موت بھی خیر پر آئی اور وہ اپنی خطائوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہے۔پھر اللہ تعالی نے فرمایا: اور اے محمد ! جب آپ نماز ادا کرلیں تو یہ دعا پڑھا کرو: اللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً أَنْ تَقْبِضَنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ (اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کو کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں سے فتنہ کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔) اوردرجات یہ ہیں: کھانا کھلانا، سلام کہنا اور رات جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7860

۔
۔ یزید فارسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ابھی تک زندہ تھے اور یزید مصحف لکھا کرتے تھے، میں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ میری صورت اختیار کرسکے، جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: کیا ایسا ممکن ہے کہ تم اس آدمی کا حلیہ بیان کرسکو جو تم نے دیکھا ہے؟ یزید کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، میں نے درمیانے قد کا آدمی دیکھا ہے، اس کا گوشت اور چمڑا سفیدی مائل گندمی رنگ ہے، حسین انداز میں مسکراتے ہیں، آنکھیں سرمگین ہیں، آپ کا چہرہ اور دھاریاں نہایت حسین و جمیل گولائی والا ہے اور داڑھی سینے کو بھرے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حالت بیداری میں دیکھ لیتے تو اس سے بہتر بیان نہ کرسکتے،( یعنی بالکل حلیہ ٹھیک بتایا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7861

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، تحقیق اس نے حق دیکھا، کیونکہ شیطان میری تمثیل اختیار نہیں کر سکتا، ایک روایت میںہے: وہ میری مشابہت اختیار نہیں کرسکتا، ایک روایت میں ہے: وہ میری یکسانیت اختیار کر کے میری صورت ذہن میں نہیں ڈال سکتا، پس بیشک مؤمن بندے کا نیک اور سچا خواب نبوت کا سترھواں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7862

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ عاصم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتایا کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے کہا: پھر تم نے واقعی آپ کو ہی دیکھا ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے، پھر میں نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شکل کا ذکر کیا کہ (وہ ہستی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شکل کی لگ رہی تھی)، اللہ کی قسم! میں نے ان کا ذکر کیا اور ان کے چلنے کا انداز بیان کیا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:یہ صورت تو واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مشابہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7863

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس قسم کی مرفوع حدیث مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7864

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا، یا فرمایا:گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا ہے، شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے ہی دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7865

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، شیطان کے لائق نہیں کہ وہ میری صورت اختیار کرسکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7866

۔
۔ ابومالک اشجعی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7867

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا ہے، پس بیشک شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7868

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا ہے، شیطان میری صورت اور میری مشابہت اختیار نہیں کرسکتا اور جس نے میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانا تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7869

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا ہے، کیونکہ شیطان میری شکل نہیں اختیار کرسکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7870

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کم ہی کوئی رات ایسی گزرتی ہے، جس میں نے اپنے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں نہ دیکھا ہو، (یعنی تقریباً ہر رات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھتا ہوں)، جب سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ کہہ رہے تھے تو ان کی آنکھیں اشک بار تھیں۔

آیت نمبر