Musnad Ahmad

Search Results(1)

14)

14) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 682

۔ (۶۸۲)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیٰی عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍؓ وَقَدْوَصَفَ لَہُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا کَانَ وُضُوئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ حَتَّی أَنْقَاہُمَا)۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۵۹)
سیدنا عبد اللہ بن عاصمؓ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر انھوں نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اس طرح ہوتا تھا ۔ ایک روایت میں ہے: پھر اپنے پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 683

۔ (۶۸۳)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ وَأَبِی الْأَزْہَرِ، أَنَّ مُعَاوِیَۃَ ؓ أَرَاہُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وََٖغَسَلَ رِجْلَیْہِ بِغَیْرِ عَدَدٍ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۸۰)
یزید بن ابی مالک اور ابو ازہر کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ؓ نے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھایا، پھر انھوں نے اعضا کو تین تین مرتبہ ، البتہ پاؤں کو دھوتے وقت تعداد کا خیال نہ رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 684

۔ (۶۸۴)۔عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَۃَؓ اِلٰی مَکَّۃَ، قَالَ: وَکَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِیْ یَحْییٰ التَّیْمِیِّ یُصَلِّیْ بِہَا فَأَدْرَکْنَا عَبْدَالرَّحْمَانِ بْنَ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ فَأَسَائَ عَبْدُالرَّحْمَانِ الْوُضُوْئَ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا عَبْدَالرَّحْمَانِ! أَسْبِـغِ الْوُضُوئَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۷۴۴)
سالم سبلان کہتے ہیں: ہم سیدہ عائشہؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف سفر کرتے تھے۔ سیدہ، ابو یحییٰ تیمی کے ساتھ جایا کرتی تھیں اور وہ ان کو نماز پڑھاتے تھے، ایک دن ہم نے عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق کو پا لیا، انھوں نے ناقص وضو کیا، سیدہ عائشہؓ نے ان سے کہا: اے عبد الرحمن! وضو مکمل کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 685

۔ (۶۸۵)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ آخَرَ)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ قَالَ: تَوَضَّأَ عَبْدُالرَّحْمَانِ عِنْدَ عَائِشَۃَؓ فَقَالَتْ: یَا عَبْدَالرَّحْمَانِ! أَسْبِـغِ الْوُضُوئَ فَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلعَرَاقِیْبِ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۶۲۴)
۔ (دوسری سند) ابو سلمہ کہتے ہیں: جب سیدنا عبد الرحمن ؓ نے سیدہ عائشہؓکی موجودگی میں وضو کیا، تو انھوں نے ان سے کہا: اے عبد الرحمن! وضو مکمل طور پر کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایڑیوں کے اوپر والے حصوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 686

۔ (۶۸۶)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: رَاٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَوْمًا یَتَوَضَّؤُوْنَ فَلَمْ یَمَسَّ أَعْقَابَہُمُ الْمَائُ، فَقَالَ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: لِلْعَرَاقِیْبِ) مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۴۴۵)
سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 687

۔ (۶۸۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ: رَاٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَوْمًا یَتَوَضَّؤُونَ وَأَعْقَابُہُمْ تَلُوْحُ فَقَالَ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوْئَ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۰۹)
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا ، لیکن ان کی ایڑیوں کی خشکی واضح طور پر نظر آ رہی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے، پوری طرح وضو کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 688

۔ (۶۸۸)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند أحمد: ۷۱۲۲)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 689

۔ (۶۸۹)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ وَبُطُوْنِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۶۲)
سیدنا عبد اللہ بن حارثؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایڑیوں کے لیے اور پاؤں کے تلووں کے لیے آگے سے ہلاکت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 690

۔ (۶۹۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ خُثَیْمٍ الْہِلَالِیِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ رِبْعِیَّۃُ بِنْتُ عَیَاضٍ الْکِلَابِیَّۃُ عَنْ جَدِّہَا عُبَیْدَۃَ بْنِ عَمْرٍو الْکِلَابِیِّ ؓ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَأَسْبَغَ الطُّہُوْرَ، وَکَانَتْ ہِیَ اِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتِ الطُّہُوْرَ حَتّٰی تَرْفَعَ الْخِمَارَ فَتَمْسَحَ رَأْسَہَا۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۴۱)
سیدنا عبیدہ بن عمرو کلابیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مکمل طور پر وضو کرتے تھے۔ اسی بنا پر جب ربعیہ وضو کرتیں تو وہ ہر عضو کو اچھی طرح دھو دھو کر وضو کرتی تھیں، یہاں تک کہ دوپٹہ اٹھا کر سر کا مسح کرتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 691

۔ (۶۹۱)۔ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ؓ صَاحِبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَیْہِ بِخِنْصَرِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۷۳)
صحابیِ رسول سیدنا مستورد بن شدادؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب وضو کرتے تو چھنگلی انگلی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 692

۔ (۶۹۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیئٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَوۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: خَلِّلْ أَصَابِعَ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ یَعْنِی اسْبَاغَ الْوُضُوئِ، وَکَانَ فِیمَا قَالَ لَہُ: اِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ عَلٰی رُکْبَتِیْکَ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ (وَفِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی تَطْمَئِنَّا) وَاِذَا سَجَدتَّ فَأَمْکِنْ جَبْہَتَکَ مِنَ الْأَرْضِ حَتّٰی تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۴)
سیدناعبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں:ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سے نماز کے بارے میں کوئی سوال کیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو۔ آپ کی مراد یہ تھی کہ وضو مکمل طور پر کیا جائے۔ مزید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر (رکوع کی حالت میں) مطمئن ہو جا اور جب تو سجدہ کرے تو اپنی پیشانی کو اچھی طرح زمین پر رکھ، حتی کہ تو زمین کی ضخامت پائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 693

۔ (۶۹۳)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَکَ عَلٰی قَدَمِہِ مَوْضِعَ الظُّفْرِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۱۵)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، لیکن اس کے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے فرمایا: لوٹ جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 694

۔ (۶۹۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ أَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِؓ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَکَ مَوْضِعَ ظُفْرٍ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ، فَأَبْصَرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: (( اِرْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۱۳۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ وضو کر کے آیا تھا، لیکن اس کے قدم کی پشت پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو دیکھ کر فرمایا: واپس چلا جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔ پس اس نے واپس جا کر دوبارہ وضو کیا اور پھر آ کر نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 695

۔ (۶۹۵)۔عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا یُصَلِّیْ وَفِیْ ظَہْرِ قَدَمِہِ لُمْعَۃٌ قَدْرُ الدِّرْہَمِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُعِیْدَ الْوُضُوئَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۷۶)
خالد بن معدان ایک صحابیِ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جبکہ اس کے قدم کی پشت پر درہم کے بقدر جگہ خشک رہ گئی تھی، اس کو پانی نہیں پہنچا تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے حکم دیا کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 696

۔ (۶۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ رَوْحِ نِ الْکَلَاعِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّوْمِ فَتَرَدَّدَ فِیْ آیَۃٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّہُ یُلَبَّسُ عَلَیْنَا الْقُرآنُ، اِنَّ أَقْوَامًا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا لَا یُحْسِنُوْنَ الْوُضُوئَ، فَمَنْ شَہِدَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا فَلْیُحْسِنِ الْوُضُوئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۶۹)
سیدنا ابو روح کلاعی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سورۂ روم کی تلاوت شروع کی، لیکن ایک آیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تردّد ہونے لگا، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: قرآن ہم پر خلط ملط کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے بعض لوگ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، لہٰذا جس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی ہو، وہ اچھی طرح وضو کر کے آیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 697

۔ (۶۹۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔وَفِیْہِ: ((اِنَّمَا لَبَّسَ عَلَیْنَا الشَّیْطَانُ الْقِرَائَ ۃَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ یَأتُونَ الصَّلٰوۃَ بِغَیْرِ وُضُوئٍ، فَاِذَا أَتَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۶۷)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: شیطان اس وجہ سے ہم پر قراء ت کو خلط ملط کر دیتا ہے کہ بعض لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے آ جاتے ہیں، پس جب تم نماز کے لیے آؤ تو اچھی طرح وضو کر کے آیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 698

۔ (۶۹۸)۔عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّہُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ کُلَّ عُضْوٍ مِنْہُ غَسْلَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُ۔ (مسند أحمد: ۳۱۱۳)
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے وضو کیا اور ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور پھر کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسے ہی کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 699

۔ (۶۹۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ مَرَّۃً مَرَّۃً۔ (مسند أحمد: ۳۰۷۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 700

۔ (۷۰۰)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹)
سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایک اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 701

۔ (۷۰۱)۔ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا، یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَتَوَضَّأُ مَرَّۃً یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۳۵۲۶)
مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے اور اس عمل کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب کرتے تھے اور سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ اعضاء کو ایک ایک دفعہ وضو کرتے اور اس عمل کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 702

۔ (۷۰۲)۔عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَیْفٍ حَدَّثَنِی الْقَیْسِیُّ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَبَالَ فَأُتِیَ بِمَائٍ فَہَالَ عَلٰی یَدِہِ مِنَ الْاِنَائِ فَغَسَلَہَا مَرَّۃً وَعَلٰی وَجْہِہِ مَرَّۃً وَعَلٰی ذِرَاعَیْہِ مَرَّۃً وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّۃً بِیَدَیْہِ کِلْتَیْہِمَا، وَقَالَ فِی حَدِیْثِہِ: اِلْتَفَّ اِصْبَعَہُ الْاِبْہَام۔ (مسند أحمد: ۲۳۵۰۶)
سیدنا قیسی ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پانی لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کوایک دفعہ دھویا، چہرے کو ایک مرتبہ دھویا، بازوؤں کو ایک مرتبہ دھویا اور دونوں پاؤں کو دونوں ہاتھوں سے ایک ایک بار دھویا۔ انھوں نے اپنی حدیث میں کہا: انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ لپیٹا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 703

۔ (۷۰۳)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۷۸)
سیدنا عبد اللہ بن زید انصاری مازنیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اعضائے مبارک کو دو دو دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 704

۔ (۷۰۴)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۷۸۶۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 705

۔ (۷۰۵)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد:۴۰۳)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 706

۔ (۷۰۶)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۷۰)
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین تین بار ہاتھ دھوئے، تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سارا وضو تین تین دفعہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 707

۔ (۷۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَۃً فَتِلْکَ وَظِیْفَۃُ الْوُضُوئِ الَّتِی لَا بُدَّ مِنْہَا، وَمَن تَوَضَّأَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُ کِفْلَانِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَالِکَ وُضُوئِیْ وَوُضُوئُ الْأَنْبِیَائِ قَبْلِیْ۔)) (مسند أحمد: ۵۷۳۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا، تو وضو کی کم از کم مقدار ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس نے اعضا کو دو دو دفعہ دھویا، اس کے لیے دو حصے اجر ہو گا اور جس نے تین تین بار دھویا تو ایسا وضو میرا ہے اور مجھ سے پہلے والے انبیاء کا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 708

۔ (۷۰۸)۔عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ عُثْمَانَ ؓ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَعِنْدَہُ رِجَالٌ مِن أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَلَیْسَ ہٰکَذَا رَأَیْتُمْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ؟ قَالُوا: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۴۰۴)
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے مقاعد میں تین تین دفعہ وضو کیا، آپ کے پاس صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ تشریف فرما تھے، آپ نے ان سے پوچھا: تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 709

۔ (۷۰۹)۔عَنْ عَبْدِخَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: ھٰذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۹۱۹)
عبد ِ خیر سے روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 710

۔ (۷۱۰)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُہُ عَنِ الْوُضُوئِ فَأَرَاہُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: ((ھٰذَا الْوُضُوئُ، فَمَنْ زَادَ عَلٰی ھٰذَا فَقَدْ أَسَائَ وَتَعَدَّی وَظَلَمَ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، وہ وضو کے بارے میں سوال کر رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے تین تین دفعہ وضو کر کے دکھایا اور فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 711

۔ (۷۱۱)۔عَنْ عُمَرَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ رَفَعَ نَظْرَہُ اِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ، فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَائَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱)
سیدنا عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا پڑھی: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے، جس میں سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 712

۔ (۷۱۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ، فُتِحَتْ لَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ ثَلَاثَۃُ أَبْوَابٍ مِن أَیِّہَا شَائَ دَخَلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۲۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر یہ دعا پڑھی: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ تو اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے تین دروازے کھول دیئے جائیں گے، وہ جس میں سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 713

۔ (۷۱۳)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، أَنَّ جِبْرِیْلَؑ أَتَاہُ فِیْ أَوَّلِ مَا أُوحِیَ اِلَیْہِ فَعَلَّمَہُ الْوُضُوئَ وَالصَّلاۃَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوئِ أَخَذَ غُرْفَۃً مِن مَّائٍ فَنَضَحَ بِہَا فَرْجَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۱۹)
سیدنا زید بن حارثہؓ سے مروی ہے کہ ابتدائے وحی والے زمانے میں جبریلؑ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو وضو اور نماز کی تعلیم دی، جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا ایک چلّو لیا اور اپنی شرمگاہ پر چھڑک دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 714

۔ (۷۱۴)۔عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ جِبْرِیْلَؑ لَمَّا نَزَلَ عَلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَّمَہُ الْوُضُوئَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِہِ أَخَذَ حَفْنَۃً مِن مَائٍ فَرَشَّ بِہَا نَحْوَ الْفَرْجِ، قَالَ: فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرُشُّ بَعْدَ وُضُوئِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۱۴)
سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ جبریلؑ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر اترے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو وضو کی تعلیم دی اور جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلّو پانی کا لے کر اس کو شرمگاہ پر چھڑک دیا۔ پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی وضو کے بعد اس طرح پانی چھڑکا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 715

۔ (۷۱۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ مَازِنِ بَنِی النَّجَّارِ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَرَأَیْتَ وُضُوئَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ عَمَّ ہُوَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْہُ أَسْمَائُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ عَامِرِ بْنِ الْغَسِیْلِ حَدَّثَہَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوئِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَالِکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوئُ الَّا مِنْ حَدَثٍ، قَالَ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ یَرٰی أَنَّ بِہِ قُوَّۃً عَلٰی ذَالِکَ کَانَ یَفْعَلُہُ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۶)
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا کہ اس بارے میں تیرا خیال ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ باوضو ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، ایسے کیوں ہے؟ اس نے کہا: سیدہ اسماءؓ نے ان کو بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باوضو ہوتے یا بے وضو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ حکم گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کی رخصت دے دی گئی، الا یہ کہ بے وضو ہوں۔ تو سیدنا عبد اللہؓ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں ہر نماز کے وضو کرنے کی طاقت ہے، اس لیے وہ اسی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 716

۔ (۷۱۶)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَأَنْتُمْ کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ۔ (مسند أحمد:۱۲۳۷۱)
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ میں (عمرو بن عامر) نے کہا: اور تم صحابہ لوگ کیسے کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جب تک ہم بے وضو نہ ہوجاتے تھے، اس وقت تک ایک ہی وضو سے نمازیں پڑھتے رہتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 717

۔ (۷۱۷)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ یَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: اِنَّکَ صَنَعْتَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ؟ قَالَ: ((عَمَدًا صَنَعْتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۵۴)
سیدنا بریدہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فتح مکہ والے دن ایک ہی وضو سے ایک سے زائد نمازیں ادا کیں، سیدنا عمر ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کہا: آج آپ نے ایسا عمل کیا ہے جو پہلے نہیں کیا کرتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 718

۔ (۷۱۸)۔عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَؓأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَہُ بِکُوْزٍ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا یَا عُمَرُ؟)) قَالَ: مَائٌ تَوَضَّأْ بِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((مَا أُمِرْتُ کُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَالِکَ کَانَتْ سُنَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۵۰)
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کر رہے تھے، سیدنا عمرؓ برتن لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: عمر! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی ہے، آپ اس کے ساتھ وضو کریں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم تو نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اور اگر میں نے ایسا کیا تو یہ قابلِ پیروی طریقہ بن جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 719

۔ (۷۱۹)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا فِیْ رِوَایَۃٍ أُخْرٰی، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ تَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۷۶)
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء سے نکلتے تو وضو کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 720

۔ (۷۲۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِی لَأَمَرْتُہُمْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ بِوُضُوئٍ وَمَعَ کُلِّ وُضُوئٍ بِسِوَاکٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَائَ الآخِرَۃَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۰۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے، ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے اور نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے کا حکم دے دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 721

۔ (۷۲۱)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: حَفِظْتُ لَکَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۴۷۷)
ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تیرے لیے یہ بات یاد رکھی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسجد میں وضو کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 722

۔ (۷۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَؓقَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: زِیَادَۃُ وَہُوَ جُنُبٌ) تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلٰوۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۱۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سونے کا ارادہ کرتے ، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جنابت سے ہوتے، تو نماز والا وضو کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 723

۔ (۷۲۳)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ آخَرَ)۔أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْقُدَ تَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ یَرْقُدُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۱۴)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے اور پھر سوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 724

۔ (۷۲۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَوَیْتَ اِلٰی فِرَاشِکَ فَتَوَضَّأْ وَنَمْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ وَقُلْ: اللَّہُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ اِلَیْکَ،…۔)) الحدیث۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۸۸)
سیدنا براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر آؤتو وضو کرو، اپنے دائیں پہلو پر سوؤ اور یہ دعا پڑھو: اللَّہُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ اِلَیْکَ…۔

آیت نمبر