MUSNAD AHMED

Search Results(1)

141)

141) لباس اور زینت کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8177

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس چیزں فطرت سے ہیں، مونچھیں کٹوانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر اس کو جھاڑنا، ناخن تراشنا اور انگلیوں کے جوڑوں اور پوروں کو اچھی طرح دھونا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجاء کرنا۔ مصعب راوی کہتے ہیں: میں دسویں چیز بھول گیا ہوں، لگتا ہے کہ وہ کلی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8178

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور ختنہ کروانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8179

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیر ناف بال مونڈنا، ناخن تراشنا اور مونچھیں کاٹنافطرت سے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8180

۔
۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ امور فطرت سے ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈال کر اس کو جھاڑنا، مونچھیں کاٹنا، مسواک کرنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں اور پوروں کو دھونا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، ختنہ کروانا اور وضوء کے بعد شرمگاہ پر پانی چھڑکنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8181

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مونچھیں کٹانے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے چالیس دن کی مدت متعین کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8182

۔
۔ سیدنا ابو ملیح اپنے باپ اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ختنہ مردوں کے لئے تو سنت ہے اور عورتوں کے لئے عزت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8183

۔
۔ ابو کلیب جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا میں مسلمان ہو چکا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر کفر کے بال اتار پھینک۔ دوسرے راوی نے بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کفر کے بال منڈوا دے۔ مجھے ایک اور آدمی نے خبر دی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دوسرے بندے سے فرمایا: کفر کے بالوں کو اتار پھینک اور ختنہ کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8184

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام نے اسی (۸۰) برس کی عمر کے بعد ختنہ کیا اور تیشے کے ساتھ ختنہ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8185

۔
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنی مونچھیں نہیں کاٹتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8186

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی مونچھیں کاٹا کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے تمہارے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی مونچھیں کاٹا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8187

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مونچھیں اچھی طرح منڈوائو اور داڑھیاں بڑھائو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8188

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے بال کاٹا کرو اور اس کو چھوڑدو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ اوپر والے ہونٹ کے بال کاٹے جائیں اور نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان والے بال چھوڑ دیئے جائیں (کیونکہ وہ داڑھی کا حصہ ہوتے ہیں، ان بالوں کو داڑھی بچہ کہتے ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8189

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھائو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8190

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: داڑھیاں بڑھائو، مونچھیں کٹائو اور اپنے سفید بالوں کو تبدیل کرو اور اس طرح یہودو نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8191

۔
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کتاب اپنی داڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’تم اپنی مونچھیں کٹائو اور داڑھیاں بڑھائو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8192

۔
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بطور مہمان ٹھہرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بکری کے پہلو کے گوشت کے متعلق حکم دیا تو اسے بھونا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری لی اور میرے لئے اس گوشت سے کاٹنے لگ گئے، اتنے میں سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری وہیں رکھ دی اور فرمایا: بلال کے ہاتھ خاک آلود ہوں (ذرا اور ٹھہر جاتا تو کیا ہو جاتا) سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نیچے مسواک رکھ انہیں کاٹ دیا، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان کو مسواک پر کاٹتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8193

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑھاپے کے سفید بالوں کو مت اکھاڑو، کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے، جو بھی مسلمان اسلام میں بوڑھا ہو جاتا ہے، تو اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے یا اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8194

۔
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں آخری الفاظ یوںہیں: اور اس کے ذریعہ سے برائی مٹا دی جاتی ہے۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بزرگ کی تعظیم نہ کرے اور ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8195

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8196

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں بمشکل بیس بال سفید تھے۔ اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی اور کتم (ایک پودا جو سیاہ رنگ کے طور پر استعمال ہوتا ہے) ملا کر لگاتے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے صرف مہندی لگا کر بالوں کو رنگا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8197

۔
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالی کی راہ میں بوڑھا ہو جائے تو یہ بڑھاپے کی سفیدی روز قیامت اس کے لئے نور بن جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8198

۔
۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرو اور یہودیوں کی مشابہت اختیاور نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8199

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کو تبدیل کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8200

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رنگنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے سخت سیاہ رنگ سب سے زیادہ پسند ہے، امام زہری خود سیاہ رنگ لگاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8201

۔
۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہندی اور کتم (پودا) کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8202

۔
۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور میں نے کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو دیکھا، میرے ابا جان نے مجھ سے کہا:کیا تجھے معلوم ہے یہ کون آدمی ہے؟ یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، جب ہم آپ تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال کان تک تھے اور بالوں پر مہندی کے نشانات تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سبز رنگ کی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، میں نے دیکھا کہ آپ کے سفید بال مہندی کی وجہ سے سرخ نظر آ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8203

۔
۔ عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8204

۔
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز، جس سے تم ان سفید بالوں کو تبدیل کرتے ہو، وہ مہندی اور وسمہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8205

۔
۔ سیدنا حکم بن عمرو غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، میں نے بالوں کو مہندی کے ساتھ اورمیرے بھائی نے زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا۔ مجھ سے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ اسلامی رنگ ہے، اور میرے بھائی رافع سے کہا: یہ ایمانی رنگ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8206

۔
۔ حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بالوں کو رنگتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک کے شروع میں سترہ یا بیس سے زیادہ سفید بال نظر نہیں آتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑھاپے کے سفید بالوں کے عیب سے پاک رہے ہیں۔ کسی نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا بڑھاپے کے سفید بال عیب ہیں؟ انھوں نے کہا: بس تم اس کو پسند نہیں کرتے، البتہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی اور وسمہ سے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی سے بالوں کو رنگ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8207

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قربان گاہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، قریش کا ایک اور آدمی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربانی کے جانور تقسیم کر رہے تھے، نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کا جانور لیا اور نہ اس آدمی نے لیا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا اور بال ایک کپڑے میں جمع کیے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ساتھی کو وہ بال دئیے، اس نے انہیں کچھ آدمیوں میں تقسیم کردیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ناخن بھی ترشوا کر اپنے ساتھی کو دئیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وہ بال ابھی تک ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ میں رنگے ہوئے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8208

۔
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ہمارا خضاب ورس بوٹی اور زعفران ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8209

۔
۔ بنا نہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کبھی بالوں کو رنگ نہیں لگایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8210

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8211

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بالوں کو سیاہ رنگ سے رنگا کریں گے، جیسے کبوتروں کے سینے کے بال ہوتے ہیں، یہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8212

۔
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تو معمولی بال سفید ہوئے تھے، البتہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آپ کے بعد مہندی اور کتم ملا کر خضاب لگایا کرتے تھے۔سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے باپ سیدنا ابو قحافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آئے، یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں اٹھایا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم بزرگ کو ان کے گھر ہی ٹھہرنے دیتے تو ابو بکر کی عزت افزائی کے لیے ہم خود ہی ان کے پاس چلے جاتے۔ پھر ابو قحافہ نے اسلام قبول کیا، ان کی داڑھی اور سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے رنگ کو تبدیل کر دو، البتہ سیاہی سے بچو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8213

۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کا رنگ تبدیل کر دو، البتہ سیاہی اس کے قریب نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8214

۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ والے دن سیدنا ابو قحافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو ان کی کسی عورت کے پاس لے جائو، تاکہ وہ ان کے بالوں کو رنگ کر تبدیل کر دے، البتہ ان کو سیاہی سے بچاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8215

۔
۔ زنجی بیان کرتے ہیں میں نے امام زہری کو دیکھا، انہوں نے سر کے بالوں کو سیاہ رنگ کر رکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8216

۔
۔ ابو واصل کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ایوب انصاری سے ملا،انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور جب میرے لمبے ناخن دیکھے تو کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم باتیں تو آسمان کی پوچھتے ہو، لیکن ناخن پرندوں کے ناخنوں کی مانند لمبے لمبے رکھتے ہو، ان میں جنابت، خباثت اور میل کچیل جمع ہو جاتی ہے۔ وکیع نے ایک بار ابو ایوب کے نام کے ساتھ انصاری کا لفظ نہیں کہا اور دوسرے راویوں نے ابو ایوب عتکی کہا ہے، ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا: امام وکیع سے سبقت لسانی ہو گئی اور انھوں نے کہہ دیا کہ میں ابو ایوب انصاری کو ملا ہوں، جبکہ یہ تو ابو ایوب عتکی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8217

۔
۔ یزید بن عمرو معافری کہتے ہیں کہ بنو غفار کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو زیر ناف بال نہ مونڈے،ناخن نہ تراشے اور مونچھیں نہ کاٹے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8218

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کرنے میں جبریل علیہ السلام نے تاخیر کر دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ دیر کیوں نہ کریں، جبکہ تم میرے ارد گرد ہو، نہ تو تم مسواک کرتے ہو،نہ ناخن تراشتے ہو،نہ مونچھیں کاٹتے ہو اور نہ انگلیوں کی گرہوں کواچھی طرح دھوتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8219

۔
۔ سیدنا سوادہ بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اونٹ دینے کا حکم دیا اور فرمایا: جب تم اپنے گھر لوٹو تو انہیں حکم دینا کہ وہ موسم ربیع میں اونٹوں کے پیدا ہونے والے بچوں کی غذا اچھی دیں اور وہ اپنے ناخن بھی تراش کر رکھا کریں تا کہ جب وہ دودھ دوہیں تو ناخنوں سے مویشیوں کے تھن زخمی نہ کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8220

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال نصف کانوں تک آتے تھے، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8221

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8222

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال کندھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے تک ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8223

۔
۔ سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں آئے تو آپ کی چار مینڈھیاں تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8224

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مشرک اپنے بالوں کی مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بالوں کو بغیر مانگ کے چھوڑ دیتے تھے، جب تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نیا اور خاص حکم نہیں دیا جاتا تھا، اس وقت تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شروع میں بالوں کو پیشانی پر چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8225

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جب تک چاہا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بالوں کو سیدھا چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8226

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیان یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8227

۔
۔ ہبیرہ بن یریم کہتے ہیں: ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، انھوں نے اپنے بیٹے کو بلایا،اس کا نام عثمان تھا اور اس کے بالوں کی مینڈھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8228

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلاناغہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8229

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قزع سے منع فرمایاہے، میں نے کہا: قزع سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: قزع یہ ہے کہ بچے کے سر کا بعض حصہ منڈوایا جائے اور بعض حصہ رہنے دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8230

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بچہ دیکھا، اس کے سر کے کچھ بال منڈوائے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارا سر منڈوا دو یا سارا سر چھوڑ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8231

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے موقع پر) تین دن تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئے اور ہم سے فرمایا: آج یا کل کے بعد میرے بھائی جعفر پر نہ رونا، میرے بھتیجوں کو بلائو۔ پس ہمیں لایا گیا، ایسے لگ رہا تھا کہ ہم چوزے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’حجام کو بلائو۔ پس حجام کو لایا گیا، پھر اس نے ہمارے سرمونڈ دئیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8232

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو وہ حسب ِ استطاعت اس کو روکے، کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8233

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں جمائی لے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8234

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو آدمی چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے اور جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اسے مقدور بھر روکے اور آہ آہ کی آواز نہ نکالے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی منہ کھولتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔ حجاج کے روایت میں ہے : رہا مسئلہ جمائی کا، تو یہ شیطان کی طرف سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8235

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو اس کو مقدور بھر روکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8236

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھینکتے تو اپنا کپڑا یا اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ لیتے اور آواز کو پست کر لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8237

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینکا،ان میں سے ایک دوسرے کی بہ نسبت زیادہ شرف والا تھا، شرافت والے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اس کی چھینک کاجواب نہ دیا اور دوسرے نے چھینکا اوراس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اس کا جواب دیا، اس شرافت والے نے کہا: میں نے بھی آپ کے قریب چھینکا ہے، لیکن آپ نے میرا جواب نہیں دیا اور اس نے چھینکا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا جواب دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے چھینک کر اللہ تعالی کا ذکر کیا، پس میں نے بھی اس کا ذکر کیا اور تو اللہ تعالی کو بھول گیا، پس میں نے بھی تجھے بھلا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8238

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کسی کو چھینک آئے تو وہ ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8239

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے، تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8240

۔
۔ سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، وہ ام فضل کی بیٹی ام کلثوم کے گھر میں تھے (یہ ان کی بیوی تھی)، میں نے چھینکا تو والد صاحب نے میرا کوئی جواب نہ دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو انھوں نے ان کا جواب دیا، جب میں اپنی ماں کے پاس واپس آیا تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا، جب میرے والد میری ماں کے پاس آئے تو میری والدہ نے کہا: میرے بیٹے نے چھینکا تو تم نے جواب نہیں دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو تم نے جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا:جی ہاں، تمہارے بیٹے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہیں کہا، اس لئے میں نے بھی جواب نہیں دیا اور اس خاتون نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، تو میں نے بھی اس کا جواب دیا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو تم اس کا جواب دو اور اگر وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے تو پھر تم جواب نہ دو۔ انھوں نے کہا: پھر تو تم نے اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8241

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَکہے اور ارد گرد والے یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہیں اور پھر چھینکنے والا یہ کہے: یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے اور تمہاری حالت درست رکھے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8242

۔
۔ ذو الجناحین سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چھینکتے اور الحمد اللہ کہتے تو جواب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا جاتا: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالی تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کرے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8243

۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍکہے تو اس کو جواب دینے والا کہے: رَحِمَکَ اللّٰہُ اور اس کے جواب میں چھینکنے والا پھر کہے: (اللہ تعالی تم کو ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8244

۔
۔ ہلال بن یساف، خالد بن عرفطہ کی آل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا سالم بن عبید کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا، سالم بن عبید نے اسے یوں جواب دیا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو، پھر وہ چلے اور اس چھینکنے والے سے کہا: شاید تو ناراض ہوگیا ہو؟ اس نے کہا:میرا یہ ارادہ تو نہیں تھا کہ تم یہاں میری ماں کا ذکر کرو (یہ تم نے نامناسب کام کیا ہے)، انھوں نے کہا: لیکن یہ کہے بغیر تو کوئی چارۂ کار نہ تھا، کیونکہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ یا الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، سننے والا اس کو یوں جواب دے: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، اور وہ چھینکنے والا پھر کہے: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِی وَلَکُمْ (اللہ تعالی میری اور تمہاری بخشش فرمائے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8245

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چھینکا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلَّہِکہو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب ہم کیا کہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یَرْحَمُکَ اللّٰہُکہو۔ چھینکنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میں ان کے لئے کیا کہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو: یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8246

۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ شعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس امید میں چھینکتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے لئے یَرْحَمُکُمُ اللّٰہُ کہیں گے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کا جواب یوں دیتے: یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ ا(للہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8247

۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور (الحمد للہ کہا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا کہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ، اتنے میں وہ دوسری بار چھینکا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو زکام والا آدمی ہے۔

آیت نمبر