MUSNAD AHMED

Search Results(1)

142)

142) آداب کی کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8248

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک ایمان نہیں لائو گے اور تم اس وقت تک ایمان نہیں لا سکتے، جب تک آپس میں محبت نہیں کرو گے، اب کیا میں تمہیں وہ چیز بتا دوں کہ جب تم اس پر عمل کروگے تو تم آپس میں محبت کرنے لگ جائو گے پس تم آپس میں سلام کو عام کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8249

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلائو، اور اس طرح بھائی بھائی بن جائو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8250

۔
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام عام کرو، تم سلامت رہو گے،صرف بعض لوگوں کو (ملاقات اور سلام کے لیے) ترجیح دینا بدترین بات ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8251

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تولوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب ٹوٹ پڑے، میں بھی ان میں تھا، جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کو بغور دیکھا تو میں جان گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، پھر پہلی چیز جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، وہ یہ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام پھیلائو، کھانا کھلائو، صلہ رحمی کرو اور جب لوگ سوئے ہوں تو تم نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8252

۔
۔ سیدنا زبیر بن غوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اندر تم سے پہلی والی امتوں کی بیماری سرایت کر جائے گی اور وہ بیماری حسد اور بغض ہے، یہ دین کو ٹنڈ منڈ کر دینے والی ہے، یہ بالوں کو مونڈنے والی نہیں ہے (یہ تو دین کا ستیاناس کر دیتی ہے)، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم آپس میں محبت نہیں کرو گے اور کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں کہ جب تم اس پر عمل کرو گے تو باہمی محبت کرنے والے بن جاؤ گے، پس سلام کو آپس میں عام کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8253

۔
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تم ایمان نہیں لائو گے اور اس وقت تک ایمان نہیں لا سکتے، جب تک تم آپس میں محبت نہیں کرو گے، …۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8254

۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام کہنا اہل جنت کا تحفہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8255

۔
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو سلام کرنے میںپہل کرے گا، وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کے قریب تر ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8256

۔
۔ سیدنا اسود بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد میں نماز کھڑی ہوچکی تھی اور ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے آرہے تھے، جب لوگوں نے رکوع کیا تو سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی رکوع کیا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا، جبکہ ہم چل بھی رہے تھے، اتنے میں ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! السلام علیکم، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رکوع کی حالت میں ہی کہا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ (اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے سچ کہا ہے)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا: جب آپ پر ایک آدمی نے سلام کہا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ معرفت کی بنا پر سلام ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8257

۔
۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب کہتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور کہا: اقامت کہی جا چکی ہے، وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جب ہم مسجد میں داخل ہو ئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (صف تک پہنچنے سے پہلے ہی) رکوع کیا، ہم نے بھی رکوع کیا، پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے(اور صف میں کھڑے ہو گئے) اورجیسے انھوں نے کیا ہم کرتے رہے۔ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا: ابو عبد الرحمن! السلام علیکم۔ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے: آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انھوں نے اُس آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے (اس کا پیغام) پہنچا دیا؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے؟ طارق نے کہا: میں سوال کروں گا۔ جب وہ باہر آئے تو انھوں نے سوال کیا۔ جوابًا انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ، حتی کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی، نیز قطع رحمی، جھوٹی گواہی، سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی (بھی عام ہو جائے گی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8258

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو سلام اس کی معرفت کی بنا پر ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8259

۔
۔ سیدنا ابو تمیمہ ہجیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتا ہے: میں مدینہ کے ایک راستہ پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا، آپ پر کاٹن کا تہبند تھا، جس کا کنارہ پھیلا ہوا تھا، میں نے کہا: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (آپ پر سلام ہو، اے اللہ کے رسول!) لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ کہا کرو، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔ یہ الفاظ بھی دو تین بار دوہرائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8260

۔
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا جواب دیا اور فرمایا: دس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا جواب دیا، وہ بھی بیٹھ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بیس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا بھی جواب دیا اور وہ بھی بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تیس نیکیاں حاصل کی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8261

۔
۔ بنو نمیر کا ایک آدمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ابا جان آپ کو سلام کہتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ وَعَلٰی اَبِیْکَ السَّلَامُ (تم پر اور تیرے باپ پر بھی سلام ہو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8262

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد قباء میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر انصاری لوگوں میں سے کچھ آدمی داخل ہوئے اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، میں نے سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ نماز میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جب سلام کہا جاتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے، سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے کہا: زید سے پوچھو کہ کیا تم نے عبداللہ بن وہب سے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں ان سے سوال کرتا ہوں، انھوںنے کہا: ا ے ابو اسامہ ! کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انہیں دیکھا ہے اور ان سے کلام کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8263

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابی ٔ رسول سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کر کے مجھے جواب دیا، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انھوں نے انگلی سے اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8264

۔
۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8265

۔
۔ سیدنا ابن جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیدل چل دیئے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں مسجد میں داخل ہو ا اور غمگین ہو کر بیٹھ رہا، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طہارت حاصل کر لی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تینوں سلاموں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ، َعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ ! میں تمہیں قرآن پاک کی بہترین سورت بتائوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بتائیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھو، یہاں تک کہ اس کو ختم کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8266

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس تک پہنچے تو وہ سلام کہے، اگر اس کا ارادہ بیٹھنے کا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر جانے کے لئے کھڑا ہواور لوگ ابھی بیٹھے ہوں توپھر جاتے ہوئے سلام کہے، پہلی دفعہ کا سلام اس دوسری دفعہ کے سلام سے زیادہ اہم نہیں ہے (یعنی آتے وقت بھی سلام کہنا چاہیے اور جاتے وقت بھی، دونوں کی اہمیت برابر برابر ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8267

۔
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مجلس میں آئے، اس پر حق ہے کہ وہ سلام کہے اور جو مجلس سے کھڑا ہو تو اس پر بھی حق ہے کہ وہ جاتے وقت سلام کہے۔ اتنے میں ایک آدمی جانے کے لئے کھڑا ہوا، چونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک گفتگو میں مصروف تھے، اس لیے وہ سلام کہے بغیر چلا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے بات کو بہت جلدی بھلا دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8268

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوار پیدل پر، پیدل چلنے والا بیٹھنے والے پر، تھوڑی تعداد والے زیادہ تعداد والوں پر اور چھوٹا بڑے پر سلام کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8269

۔
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8270

۔
۔ یسار بیان کرتے ہیں: میں ثابت بنانی کے ساتھ چل رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے اور ان پر سلام کہا اور بیان کیا کہ: میں سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے، انھوں نے ان پر سلام کہا اور بیان کیا کہ: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8271

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بچوں کے پاس آئے، جبکہ وہ کھیل رہے تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر سلام کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8272

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہمارے پاس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ہوا جبکہ ہم کھیل رہے تھے تو آپ نے فرمایا: بچو! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8273

۔
۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور ان کو سلام کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8274

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم راستے میں مشرکوں سے ملو تو تم سلام میں پہل نہ کرو اور ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے سہیل سے کہا: کیا ان سے مراد یہود و نصاری ہیں؟ انھوں نے کہا: مشرک ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8275

۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہودو نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم ان کو راستے میں ملو تو ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8276

۔
۔ سیدنا ابو عبدالرحمن جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سوار ہو کرکل یہودیوں کے پاس جانے والا ہوں، تم نے انہیں سلام کہنے میں پہل نہیں کرنی اور جب وہ تمہیں سلام کہیں تو صرف یہ کہنا ہے کہ وَعَلَیْکُمْ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8277

۔
۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8278

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب یہودی لوگ تم پر سلام کرتے ہیں تو وہ (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے) اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں، اس لیے تم بھی جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8279

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کہیں تو تم جواب میں وَعَلَیْکُمْ کہا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8280

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے اور اس نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ۔ لوگوں نے اس کا جواب دیا، لیکن اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے ایسے ایسے کہا ہیں نا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب میں سے کوئی تم پر سلام کہے تو تم صرف عَلَیْکَ کہا کرو۔ یعنی جو کچھ تونے کہا، تجھ پر بھی وہی کچھ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8281

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں سلام کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بس جب یہ لوگ تم کو سلام کہیں تو تم یہ کہہ کر ان کا جواب دیا کرو: وَعَلَیْکُمْ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8282

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی جواباً یہی الفاظ دوہراتے ہوئے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم پر موت اور ہلاکت واقع ہو، اور تم پر اللہ تعالی کی لعنت اور غضب برسے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! رک جائو۔ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے کہا ہے، کیا وہ آپ نے سنا نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے ان کو جو جواب دیا ہے، کیا تم نے وہ نہیں سنا، نرمی جس چیز میں بھی پیدا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے، تو یہ (نرمی کا نہ ہونا) اسے عیب دار بنا دیتا ہے۔ ایک روایت میںہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8283

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ (تم پر بھی ہو)۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تم پر ہو اللہ کی لعنت، بلکہ سب لعنت کرنے والوں کی لعنت تم پر ہو۔ انہوں نے کہا: اے عائشہ! تمہارے باپ تو اتنے سخت گو نہ تھے، جب وہ چلے گئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا: جو تو نے سخت الفاظ کہے ہیں، تجھے کس چیز نے ان پر آمادہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ان یہودیوں نے کیا کہا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے دیکھا نہیں کہ میں نے بھی جوابا عَلَیْکُمْ کہا تھا، میں ان پر جو بد دعا کروں گا، وہ ان تک پہنچے گی، لیکن مجھ پر جو وہ بد دعا کریں گے، وہ مجھ تک نہیں پہنچے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8284

۔
۔ حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کی بجائے) کہا:اے محمد! اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ناپسندکرنے کی وجہ سے (خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اللہ تعالی نے جس انداز میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (یہودیوں) نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا اور ہم نے بھی (بد گوئی سے بچتے ہوئے صرف وَعَلَیْکَ کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8285

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہنے کے بہانے کہا: اے ابو القاسم ! اَلسَّامُ عَلَیْکَ،آپ نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُمْ۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا، جبکہ وہ غصے میں تھیں: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے سنا ہے کہ انھوں نے کیا کہا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، میں نے سنا ہے اور میں نے ان کا جواب بھی دے دیا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ہماری بددعائیں تو قبول ہو جاتی ہیں، لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8286

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب لوگوں کے گھر آتے تو اس کی دیوار کے نزدیک کھڑے ہوتے اور اس کے دروازے کے سامنے نہ آتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8287

۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اجازت طلب کرنے کے لیے کسی کے گھر کے دروازے پر آتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیوار کے ساتھ چلتے، یہاں تک کہ اجازت طلب کر لیتے یا پھر واپس چلے جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8288

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں ہوں، میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں، میں … یہ کیا ہوتا ہے۔ محمد راوی کہتے ہیں: گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لفظ میں کو ناپسند کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8289

۔
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی پردہ کھولے اور اجازت سے پہلے کسی کے گھر میں نظر ڈالے، اس نے حد جتنا جرم کیا، اس کے لئے ایسا کرنا حلال نہیں تھا، اور اگر کوئی آدمی اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، تو اس کی آنکھ رائیگاں اور ہدر ہو جائے ہے، اگر کوئی آدمی اس دروازے پر سے گزرتا ہے، جس پر پردہ نہیں اور وہ اس گھر کی پردہ والی چیز دیکھ لیتا ہے تو اس پر غلطی کا الزام نہیں لگایا جائے گا، بلکہ ایسی صورت میں غلطی گھر والوں کی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8290

۔
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجرہ پر لٹکے ہوئے پردے سے دیکھا، آپ کے ہاتھ میں کنگھی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ یہ مجھے دیکھ رہا ہے تو میں اس کے قریب آ کر اس کی آنکھ میں یہ کنگھی مار دیتا، نظر کی وجہ سے ہی اجازت لینے کو مشروع قرار دیا گیاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8291

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے گا، ان کو اجازت ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8292

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت پر مامور تھا، سو میں آپ کے پاس اجازت کے بغیر آ جاتا تھا، میں ایک دن (روٹین کے مطابق) داخل ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیارے بیٹے! ایک نیا حکم نافذ ہو گیا ہے، پس تو اجازت کے بغیرمیرے پاس نہ آنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8293

۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا گھر تیرے لیے حرم کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے جو آدمی تیرے حرم میں (بغیر اجازت کے) داخل ہو جائے، اس کو قتل کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8294

۔
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے غلام کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جانب بھیجا تاکہ یہ ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس کے پاس آنے کی عمرو کے لئے اجازت طلب کرے، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے ضرورت کے مطابق بات کی، جب وہ باہر نکلے تو غلام نے اس کی وجہ پوچھی کہ عمرو بغیر اجازت کے سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس داخل کیوں نہیں ہوئے، سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کی بیوی سے بات کرنے کے لیے اس سے اجازت لینے سے منع فرمایا، الا یہ کہ پہلے ان کے خاوندوں سے اجازت لی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8295

۔
۔ ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت تو دے دی، لیکن سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اِدھر علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی وہ نہیں ہیں،پس سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس چلے گئے، اور پھر دوبارہ اجازت طلب کی اور پوچھا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود ہیں؟ کسی نے کہا: جی ہیں، پھر وہ آئے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا: جب میں نہیں تھا تو آپ کیوں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے، جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8296

۔
۔ کلدہ بن حنبل کہتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مکہ فتح کے وقت دودھ، ہرنی کے بچے کا گوشت اور چھوٹی ککڑیاں دے کر مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھیجا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کی بلند وادی کی جانب تھے،میں سلام کہے اور اجازت لیے بغیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس داخل ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واپس جائو، السلام علیکم کہو اور پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں۔ عمرو نے بتایا کہ یہ واقعہ مجھے امیہ بن صفوان نے بتایا تھا، میں نے کلدہ سے نہیں سنا تھا، ضحاک اور ابن حارث نے کہا: یہ صفوان کے اسلام لانے کے بعد کی بات ہے، ضحاک اور عبداللہ بن حارث نے دودھ اور ہرنی کے گوشت بھیجنے کا کہا ہے، ککڑی کا ذکرنہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8297

۔
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بھیجا، میں نے ان سے کہا: کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا: اے بیٹے! جب کسی قوم کے پاس آئو تو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہو، اگر وہ جواب دیں تو پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں، پھر انھوں نے اپنے بیٹے واقد کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹ رہا تھا، پس انھوں نے کہا: اپنا تہبند اوپر اٹھا لے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی تکبر سے اپنا لباس گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8298

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے،جبکہ آپ ایک بالا خانے میں تشریف فرما تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ،اے اللہ کے رسول! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ،کیا عمر اندر آ سکتا ہے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8299

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن موسیٰ کہتے ہیں: مجھے مدرک نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس بھیجا، تاکہ میں کچھ اشیاء کے بارے میں ان سے پوچھوں، جب میں ان کے پاس آیا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں بیٹھ گیا تا کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں، انہوں نے کہا: بہت دیر کر دی ہے،پس میں نے اجازت دینے والے سے کہا: میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں، اس نے کہا: تم اس طرح کہو:اے نبی آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور برکت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر،سلامتی ہو امہات المؤمنین یا ازواجِ رسول پر، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، پھر میں سیدہ کے پاس چلا گیا۔ مکمل حدیث فتاوی عائشہ میں آ رہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8300

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں انصار کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہواتھا کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آئے اور وہ کچھ ڈرے ڈرے سے لگ رہے تھے، دراصل سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو اپنے پاس بلایا تھا، پس میں ان کے پاس آیا اور تین بار اجازت طلب کی، لیکن جب مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس پلٹ گیا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ کسی سے اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔ جب میں نے یہ حدیث سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتلائی تو انھوں نے کہا: اس بات کی دلیل لائو، وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، پس میں گواہی طلب کرنے کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس پر ہم میں جو سب سے چھوٹا ہے، وہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا، سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ہی سب سے چھوٹا تھا، پس میں کھڑا ہوا اور یہ گواہی دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8301

۔
۔ عبید بن عمبیر بیان کرتے ہیں سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر جا کر تین مرتبہ اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن جب اجازت نہ ملی تو وہ واپس ہو لئے، سیدنا عمر نے کہا: کیا میں ابھی ابو موسی عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سن رہا تھا، گھر والوں نے کہا: کیوں نہیں، یہ وہی تھے، انھوں نے کہا: اسے بلائو، پس بلایا گیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا:جو کچھ تم نے کیا ہے، کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ سے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت طلب کی ہے، مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں واپس جا رہا تھا، ہمیں یہی حکم ملا ہے، سیدنا عمر نے کہا: اس پر دلیل لائو وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، سیدنا ابو موسیٰ مسجد میں آئے یا انصار کی مجلس میں گئے اور گواہ کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا: ہمارا سب سے چھوٹا بندہ ہی تیرے حق میں گواہی دے گا، پس سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور ان کے حق میں گواہی دی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ سنت مجھ سے مخفی رہ گئی ہے، بازاروں کی تجارت نے ہمیں غافل کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8302

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ ، انھوں نے جوابا وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ تو کہا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں سنایا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ سلام کہا اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی تین بار ہی جواب دیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں سنایا،بالآخر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹ آئے اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیچھے ہو لئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب بھی آپ نے سلام کہا، میں نے جواب دیا، مگر آپ کو سنایا نہیں تھا، دراصل میں زیادہ سے زیادہ آپ کا سلام اور برکت حاصل کرنا چاہتا تھا، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھر میں لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے منقّی پیش کیا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھایا اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: أَکَلَ طَعَامَکُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَأَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُونَ (نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، فرشتے تمہارے حق میں رحمت کی دعا کریں اور روزے دار تمہارے ہاں افطاری کریں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8303

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کے باغ میں جائے اور وہ وہاں سے سے کھانا چاہے تو یوں آواز دے: اے باغ کے مالک! تین مرتبہ آواز دے، اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ہے، وگرنہ وہ باغ سے کھا لے اور جب تم میں سے کوئی اونٹوں کے قریب سے گزرے اور ان اونٹنیوں کا دودھ پینا چاہے تو آواز دے: اے اونٹوں کے مالک! یا اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ جواب دے تو درست ہے، وگرنہ وہ دودھ (دوہ کر) پی لے، مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے،اس سے زیادہ مہمان پر صدقہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8304

۔
۔ سیدنا انس سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کلام کرتے تو اس کلام کو تین بار دوہراتے، اسی طرح جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو سلام کہتے تو ان کو تین دفعہ سلام کہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8305

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب کوئی آدمی اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا اسے اس کے لیے جھکنا چاہئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے پھر پوچھا: کیا اس سے معانقہ کرے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا اس سے مصافحہ کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر چاہے تو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8306

۔
۔ بنو عنز قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے، میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ آیا، جب وہ واپس ہوئے تو لوگ ان سے علیحدہ ہوئے اور میں نے کہا: ا ابوذر! میں آپ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض امور کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔انہوں نے کہا: لیکن اگر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا راز ہوا تو میں تمہیں نہیں بتائوں گا، میں نے کہا: رازدارانہ معاملہ نہیں ہے،بات یہ ہے جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملتا ہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی مجھے ملے ہیں، ہمیشہ میرا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کیا ہے، البتہ ایک بار مصافحہ نہیں کیا تھا، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں ہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی چارپائی پر تھے، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، میں نے آپ کو لیٹا ہوا پایا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھکا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور مجھے ساتھ لگا لیا، یہ انداز تو مصافحہ سے کس قدر بہتر اور عمدہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8307

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مسلمان جب آپس میں ملتے ہیں اور ایک ان میں سے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ ان کی دعا میں شریک ہو (یعنی قبول کرے) اور ان کے ہاتھوں کو اس وقت تک جدا نہ کرے،، جب تک ان کو بخش نہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8308

۔
۔ ابو دائود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا، انہوں نے مجھے سلام کہا، میرا ہاتھ پکڑا،مسکرائے اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: معلوم تو نہیں ہے! لیکن میرا یقین ہے تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں خیر ہی ہو گی، پھر انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا، جس طرح میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ سے اسی طرح پوچھا تھا، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی پر سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، لیکن یہ عمل صرف اللہ تعالی کے لیے ہو، تو وہ ابھی تک جدا نہیں ہوتے، کہ اللہ تعالی ان کو بخش دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8309

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک حدیث اس آدمی سے پہنچی، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی،پس میں نے سواری خریدی، پھر میں نے اس پر کجا وہ باندھ کر ایک ماہ کا سفر کیا، یہاں تک کہ میں اس کے پاس شام پہنچ گیا، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے دربان سے کہا: عبداللہ سے کہو کہ جابر ملاقات کے لئے دروازے پر حاضر ہے، انھوں نے پوچھا: عبداللہ کا بیٹا جابر،میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنا کپڑا روندتے ہوئے باہر آئے اور وہ مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور میں ان سے بغلگیر ہو گیا، پھر میں نے کہا: جی مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی ہے (وہ براہِ راست سننے کے لیے آیا ہوں)، پھر ایک طویل حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8310

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کل تمہارے پاس وہ لوگ آنے والے ہیں، جن کے دل اسلام کے لئے تم سے بھی زیادہ رقت آمیز ہیں۔ پس اشعری قبیلہ کے لوگ آئے، ان میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو وہ یہ رجز پڑھنے لگے: غَدًا نَلْقَی الْأَحِبَّہْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہْ …(کل ہم اپنے پیاروں کو ملیں گے، یعنی محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گروہ)، پس جب وہ آئے تو انہوں نے مصافحہ کیا، یہ سب سے پہلے لوگ تھے، جنہوں نے مصافحہ کا طریقہ ایجاد کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8311

۔
۔ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عورتوں کے ساتھ مل کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئی، ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے قرآن پاک میں بیان کئے گئے اصولوں پر بیعت لی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں گی، (آیت آخر تک)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان شقوں پر تم اتنا عمل کرنا ہے، جتنی تم میں طاقت اور قوت ہو گی۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تو ہمارے ساتھ ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والے ہیں، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ مصافحہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اجنبی عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو خواتین سے عہد لینا ، ایسے ہی ہے جیسے ایک عورت سے عہد لیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8312

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیعت کرتے وقت عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8313

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں سے صرف زبانی بیعت لیا کرتے تھے اور اس آیت پر بیعت لیتے تھے کہ خواتین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کریں گی … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا تھا، ما سوائے اس عورت کے کہ جس کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مالک ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8314

۔
۔ عبدالرحمن کہتے ہیں:میرے باپ اور ان کے ساتھی ربذہ مقام میں اترے،وہ حج کے ارادے سے جا رہے تھے، انہیں بتلایا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی یہاں ہیں، پس ہم ان کے پاس آئے ہم نے انہیں سلام کہا، پھر ان سے کچھ سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے اپنی پر گوشت ہتھیلی ہماے سامنے ظاہر کی، پس ہم ان کی طرف اٹھے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8315

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا میں سے ایک سریّہ کی بات ہے، میں خود بھی اس میں تھا، لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور میں بھی فرار اختیار کرنے والوں میں سے تھا، پھر ہم نے کہا: اب ہم کیا کریں، ہم تو لڑائی سے بھاگے ہیں اور غضب ِ الہی کے ساتھ لوٹے ہیں، پھر ہم نے کہا: اب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر رات گزاریں، لیکن پھر ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کرتے ہیں، اگر توبہ کا حق ہوا تو ٹھیک، وگرنہ ہم چلے جائیں گے، پس ہم نمازِ فجر سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا: کون لوگ ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہم ہیں، لڑائی سے بھاگ کر آ جانے والے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ تم تو قتال کی طرف پلٹ جانے والے ہو اور میں تمہارا مدد گار ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ان کا مددگار ہوں۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بوسہ لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8316

۔
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دے رہا ہوں، میں نے حاضر ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کو ان پر پیش کیا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8317

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ کے یہودی سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلہ پر متفق ہو گئے،(یعنی وہ جو فیصلہ کریں گے، ان کو منظور ہو گا)، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا، پس وہ گدھے پر سوار ہو کر آ گئے اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ نے فرمایا: اے سعد! یہ بنو قریظہ کے یہودی تمہارے فیصلہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں (اور بیویوں) کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد تم نے تو وہ فیصلہ کیا ہے، جو اللہ بادشاہ کا فیصلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8317

۔
۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نمودار ہوئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو اور انہیں نیچے اتارو۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارا سید اور سردار تو اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو۔ پس انھوں نے ان کو اتارا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد! ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8318

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کوئی شخص زیادہ پیارا نہ تھا، لیکن جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتے تھے تو وہ کھڑے نہ ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کو پسند نہیں کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8319

۔
۔ ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے، اس میں ابن عامر او ابن زبیر بھی موجود تھے، ابن عامر تو کھڑے ہو گئے، لیکن ابن زبیر بیٹھے رہے، ان سے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا تم بھی بیٹھ جائو، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کی یہ خواہش ہو کہ بندے اس کے لئے کھڑے ہوں تو وہ اپنا گھر دوزخ میں تیار کر لے۔

آیت نمبر