MUSNAD AHMED

Search Results(1)

143)

143) سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8321

۔ (۸۳۲۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّ اُمَّتَکَ مُخْتَلِفَۃٌ بَعْدَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَاَیْنَ الْمَخْرَجُ یَا جِبْرِیْلُ؟ قَالَ: فَقَالَ: کِتَابُ اللّٰہِ تَعَالٰی، بِہٖیَقْصِمُ اللّٰہُ کُلَّ جَبَّارٍ، مَنِ اعْتَصَمَ بِہٖنَجَا،وَمَنْتَرَکَہٗھَلَکَ،مَرَّتَیْنِ، قَوْلٌ فَصْلٌ وَلَیْسَ بِالْھَزْلِ، لَا تَخْتَلِقُہُ الْاَلْسُنُ، وَ لَا تَفْنٰی اَعَاجِیْبُہُ، فِیْہٖ نَبَاُمَا کَانَ قَبْلَکُمْ، وَفَصْلُ مَا بَیْنَکَمُ،وَخَبْرُ مَا ہُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ کے بعد آپ کی امت اختلاف کا شکار ہو گی، میں نے کہا: اے جبریل! اس اختلاف سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کی شان توڑتا ہے، جو اس کو تھامے گا، وہ نجات پائے گا، جو اسے چھوڑ دے گا، وہ ہلاک ہوگا، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا،یہ فیصلہ کن کلام ہے اور یہ مذاق نہیں (حقیقت پہ مبنی سچا کلام ہے) زبانیں اس جیسا کلام پیش نہیں کر سکتیں، اس کے عجائبات اور اسرار ختم نہیں ہوتے، اس میں تم سے پہلوں کی خبریں ہیں،تمہارے مابین ہونے والے فیصلے ہیں اور تمہارے بعد ہونے والی اخبار کا بیان ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8322

۔ (۸۳۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُولُ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا کَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ: ((أَ نَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْأُمِّیُّ، قَالَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلَا نَبِیَّ بَعْدِی، أُوتِیتُ فَوَاتِحَ الْکَلِمِ، وَخَوَاتِمَہُ، وَجَوَامِعَہُ، وَعَلِمْتُ کَمْ خَزَنَۃُ النَّارِ وَحَمَلَۃُ الْعَرْشِ، وَتُجُوِّزَ بِی وَعُوفِیتُ وَعُوفِیَتْ أُمَّتِی، فَاسْمَعُوْا وَأَ طِیعُوا مَا دُمْتُ فِیکُمْ، فَإِذَا ذُہِبَ بِی فَعَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ، أَ حِلُّوا حَلَالَہُ وَحَرِّمُوا حَرَامَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۰۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں الوداع کہہ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں محمد نبی اُمّی ہوں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، مجھے کلمات کی ابتدائی، انتہائی اور جامع صورتیں عطا کی گئی ہیں، مجھے یہ بھی علم ہے کہ دوزخ کے نگران کتنے فرشتے ہیں اور اللہ تعالی کے عرش کو اٹھانے والے کتنے فرشتے ہیں، میری امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت ساری تکالیف سے درگزر کیا گیاہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت دی گئی ہے،جب تک میں تم میں موجود ہوں، میری بات سنو اور اطاعت کرو اور جب میں دنیا سے رخصت ہو جائوں توکتاب اللہ پرعمل لازم پکڑنا، اس کی حلال کردہ اشیا کو حلال سمجھنا اور اس کے حرام کردہ امور کو حرام سمجھنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8323

۔ (۸۳۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنَ الْاَنْبِیَائِ نَبِیٌّ اِلَّا وَقَدْ اُعْطِیَ مِنَ الْآیَاتِ مَا مِثْلُہٗآمَنَعَلَیْہِ الْبَشَرُ، وَاِنَّمَا کَانَ الَّذِیْ اُوْتِیْتُ وَحْیًا اَوْحَاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیَّ، وَاَرْجُوْ اَنْ اَکُوْنَ اَکْثَرَھُمْ تَبَعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو اتنے معجزات اور نشانیاں عطا کی گئی ہیں کہ لوگ اس پر ایمان لاتے رہے، جو چیز مجھے عطا کی گئی ہے، وہ وحی ہے، اللہ تعالی نے میری طرف وحی کی ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے فرمانبرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8324

۔ (۸۳۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الصِّیَامُ وَالْقُرْآنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یَقُولُ الصِّیَامُ: أَ یْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّہَوَاتِ بِالنَّہَارِ فَشَفِّعْنِی فِیہِ، وَیَقُولُالْقُرْآنُ: مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِی فِیہِ۔)) قَالَ: ((فَیُشَفَّعَانِ)) (مسند احمد: ۶۶۲۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاـ روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے پینے اور دوسری خواہشات سے سے روکے رکھا، پس تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اُدھر قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کو نہ سونے دیا، پس تو اس کے حق میری سفارش قبول فرما۔ سو ان کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8325

۔ (۸۳۲۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ الْقُرْآنَ جُعِلَ فِیْ اِھَابٍ، ثُمَّ اُلْقِیَ فِی النَّارِ مَا احْتَرَقَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۹۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اگر قرآن پاک کو چمڑے میں رکھ دیا جائے پھر آگ میں ڈال دیا جائے تو جلے گا نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8326

۔ (۸۳۲۶)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖآخَرِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۳۲)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بعض قوموں کو رفعتیں عطا کرتے ہیں اور بعض کو ذلیل کر دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8327

۔ (۸۳۲۶)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖآخَرِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۳۲)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے بستر پر آتا ہے اور کتاب اللہ میں سے ایک سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالی ایک فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے، جو اس کی تکلیف دہ چیزوں سے حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، جب بھی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8328

۔ (۸۳۲۶)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖآخَرِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۳۲)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے افضل اور بہتر وہ شخص ہے، جو قرآن پاک سیکھتا ہے اور سکھاتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8329

۔ (۸۳۲۹)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۴۱۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پاک پڑھا، سیکھا اور اسے حفظ کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے اور اس کے گھر والوں میں سے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول کریں گے، جن کے حق میں دوزخ واجب ہو چکی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8330

۔ (۸۳۳۰)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَنْ قَرَاَ الْقُرْآنَ) فَاسْتَظْہَرَہٗوَحَفِظَہٗ،اَدْخَلَہُاللّٰہُالْجَنَّۃَ، وَشَفَّعَہٗفِیْ عَشْرَۃٍ مِنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ کُلِّہَمْ قَدْ وَجَبَتْ لَھُمُ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پیٹ میں قرآن مجید کا کوئی حصہ نہ ہو، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8331

۔ (۸۳۳۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الرَّجُلَ الَّذِیْ لَیْسَ فِیْ جَوْفِہٖشَیْئٌ مِنَ الْقُرْآنِ کَالْبَیْتِ الْخَرِبِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۷)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کا بھلائی کے ساتھ ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے دیکھا نہیں کہ وہ قرآن سیکھتا ہے، (سو بہتر کیوں نہ ہو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8332

۔ (۸۳۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: ذُکِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِخَیْرٍ، فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوَلَمْ تَرَوْہُ یَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا:پڑھتا جا اور چڑھتا جا، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا، وہاں تیری منزل ہو گی۔امام اعمش کو راویٔ حدیث کے نام میں شک ہوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8333

۔ (۸۳۳۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَوْ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، شَکَّ الْاَعْمَشُ قَالَ: یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اِقْرَہْ وَارْقَہْ! فَاِنَّ مَنْزِلَتَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃِ تَقْرَؤُھَا۔ (مسند احمد: ۱۰۰۸۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا کہ تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس بیشک تیری منزل وہ ہو گی، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8334

۔ (۸۳۳۴)۔ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْقَ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃٍ تَقْرَؤُہَا)) (مسند احمد: ۶۷۹۹)
۔ امام مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں کہ امام خطابی نے کہا: بعض آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ جنت کے درجات کی تعداد قرآن مجید کی آیتوں کے برابر ہے۔ قاری سے کہا جائے گاکہ جتنا قرآن آپ پڑھتے تھے، اتنے درجات چڑھ جاؤ۔ جو مکمل قرآن مجید کا قاری ہو گا وہ جنت کے منتہی درجے تک پہنچ جائے گا۔ (تحفۃ الاحوذی) اللہ تعالی ہمیں قرآن مجید کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8335

۔ (۸۳۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِذَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ: اِقْرَاْ وَاصْعَدْ، فَیَقْرَاُ وَیَصْعَدُ بِکُلِّ آیَۃٍ دَرَجَۃً حَتّٰییَقْرَاُ آخِرَشَیْئٍ مَعَہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۸۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا روز قیامت صاحب قرآن سے کہاجائے گا جب وہ جنت میں داخل ہوگا پڑھتاجا اور اوپر چڑھتا جا۔ وہ پڑھتا جائے گا اور ہر آیت پر درجہ بدرجہ چڑھتا جائے گا۔ یہاں تک کہ آخر تک پہنچ جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8336

۔ (۸۳۳۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَخَذَ السَّبْعَ الْاُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَھُوْ حِبْرٌ)) (مسند احمد: ۲۴۹۴۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا جو قرآن پاک سے پہلی سات سورتیںیاد کرے وہ ایک بڑا عالم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8337

۔ (۸۳۳۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ لِلّٰہِ اَھْلَیْنِ مِنَ النَّاسِ۔)) فَقِیْلَ: مَنْ اَھْلُ اللّٰہِ مِنْہُمْ؟ قَالَ: ((اَھْلُ الْقُرْآنِ ھُمْ اَھْلٌ لِلّٰہِ وَخَاصَّتُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۲۳۰۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اہل اللہ بھی موجود ہیں۔ کسی نے کہا:اہل اللہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن والے اللہ کااہل اور اس کے بندگان خاص ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8338

۔ (۸۳۳۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعَلَّمُوا کِتَابَ اللّٰہِ وَتَعَاھَدُوْا وَتَغَنَّوْا بِہٖ،فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَھُوَ اَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِی الْعُقُلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۵۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتاب اللہ کو سیکھو اور پھر اس کی نگہداشت کرو اور گا کر یعنی خوبصورت آواز میں اس کو پڑھو، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت (سینوں سے) جلدی نکل جانے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8339

۔ (۸۳۳۹)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا وَ نَحْنُ فِی الصُّفَّۃِ، فَقَالَ: ((اَیُّکُمْیُحِبُّ أَ نْ یَغْدُوَ إِلَی بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِیقِ فَیَأْتِیَ کُلَّ یَوْمٍ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَاوَیْنِزَہْرَاوَیْنِ، فَیَأْخُذَہُمَا فِی غَیْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟)) قَالَ: قُلْنَا: کُلُّنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یُحِبُّ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَلَأَ نْ یَغْدُوَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَیَتَعَلَّمَ آیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ نَاقَتَیْنِ، وَثَلَاثٌ خَیْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَ رْبَعٌ خَیْرٌ مِنْ أَ رْبَعٍ، وَمِنْ أَ عْدَادِہِنَّ مِنْ الْإِبِلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۳)
۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک دن صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم میں سے کون ہے، جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ روزانہ صبح صبح وادیٔ بطحان یا وادیٔ عقیق میں جایا کرے اور کسی گناہ اور قطع رحمی کے بغیر وہاں سے خوبصورت اور بڑی کوہان والی دو اونٹنیاں لے آیا کرے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں ہر ایکیہ چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مسجد میں صبح جائے، کتاب اللہ سے دو آیتیں سیکھ لے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین آیتیں، تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، چار چاور سے بہتر ہیں، غرضیکہ جتنی آیات، اتنی اونٹنیاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8340

۔ (۸۳۴۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۰۰۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں اور نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس سے ملتی جلتی حدیث بیان کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8341

۔ (۸۳۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مُعَاذًا وَاَبَا مُوْسٰی اِلَی الْیَمَنِ، وَاَمَرَھُمَا اَنْ یُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۷۳)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8342

۔ (۸۳۴۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فِیکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، یَتَعَلَّمُہُ الْأَ سْوَدُ وَالْأَ حْمَرُ وَالْأَ بْیَضُ، تَعَلَّمُوہُ قَبْلَ أَ نْ یَأْتِیَ زَمَانٌ یَتَعَلَّمُہُ نَاسٌ، وَلَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ، وَیُقَوِّمُونَہُ کَمَا یُقَوَّمُ السَّہْمُ، فَیَتَعَجَّلُونَ أَ جْرَہُ وَلَا یَتَأَ جَّلُونَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۵۳)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے، سیاہ، سفید اور سرخ رنگ والا، ہر کوئی اس کو سیکھتا ہے،اس کو اس وقت سے پہلے پہلے سیکھ لو، جب لوگ اسے سیکھیں گے، لیکنیہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا اور اس کے الفاظ اس طرح سیدھے کریں گے، جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ دنیا میں ہی اس کی اجرت طلب کریں گے، آخرت تک تاخیر نہیں کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8343

۔ (۸۳۴۳)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشْغَلُ، فَإِذَا قَدِمَ رَجُلٌ مُہَاجِرٌ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَہُ إِلَی رَجُلٍ مِنَّا یُعَلِّمُہُ الْقُرْآنَ، فَدَفَعَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا، وَکَانَ مَعِی فِی الْبَیْتِ أُعَشِّیہِ عَشَائَ أَ ہْلِ الْبَیْتِ فَکُنْتُ أُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ، فَانْصَرَفَ انْصِرَافَۃً إِلَی أَ ہْلِہِ، فَرَأٰ ی أَ نَّ عَلَیْہِ حَقًّا، فَأَ ہْدٰی إِلَیَّ قَوْسًا لَمْ أَ رَ أَ جْوَدَ مِنْہَا عُودًا، وَلَا أَحْسَنَ مِنْہَا عِطْفًا، فَأَ تَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: مَا تَرٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ فِیہَا؟ قَالَ: ((جَمْرَۃٌ بَیْنَ کَتِفَیْکَ تَقَلَّدْتَّہَا أَ وْ تَعَلَّقْتَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۶)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مسلمانوں کی مصلحتوں میں) مصروف رہتے تھے، جب بھی کوئی ہجرت کر کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ہم میں سے کسی آدمی کے ساتھ ملا دیتے تاکہ وہ اسے قرآن پاک کی تعلیم دے۔ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی میرے حوالے کیا،وہ میرے گھر میں ہی رہتا تھا، میں اسے وہی کھانا دیتا، جو میرے گھر والے کھاتے تھے، میں اسے قرآن پاک پڑھاتا تھا،جب وہ اپنے گھرچلا گیا اور اس نے خیال کیا کہ میرا اس پر حق ہے تو اس نے مجھے کمان بطورِ تحفہ دی، میں نے اس جیسی بہترینلکڑی اور اس جیسی بنی ہوئی کمان نہیں دیکھی تھی، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیرے کندھوں کے درمیان آگ کا انگارا ہے، جو تو نے لٹکا لیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8344

۔ (۸۳۴۴)۔ عَنْ أَ بِی عَبْدِالرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ کَانَ یُقْرِئُنَا مِنْ أَ صْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہُمْ کَانُوْا یَقْتَرِئُ وْنَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشْرَ آیَاتٍ، فَلَا یَأْخُذُونَ فِی الْعَشْرِ الْأُخْرٰی حَتّٰییَعْلَمُوْا مَا فِی ہٰذِہِ مِنْ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ، قَالُوا: فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۷۸)
۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: جن صحابہ نے ہمیں قرآن مجید پڑھایا، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دس آیات پڑھ لیتے تھے تو اگلی دس آیات اس وقت تک نہ پڑھتے تھے، جب تک وہ ان آیات پر عمل نہیں کر لیتے تھے، انھوں نے کہا: ہم نے علم اور عمل دونوں چیزوں کی تعلیم ایک ساتھ حاصل کی۔

آیت نمبر