Musnad Ahmad

Search Results(1)

145)

145) قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8401

۔ (۸۴۰۱)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَوْسٍ الثَّقَفِیِّ، عَنْ جَدِّہٖاَوْسِبْنِحُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنْتُ فِی الْوَفْدِ الَّذِیْنَ اَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْلَمُوا مِنْ ثَقِیفٍ مِنْ بَنِی مَالِکٍ، أَ نْزَلَنَا فِی قُبَّۃٍ لَہُ، فَکَانَ یَخْتَلِفُ إِلَیْنَا بَیْنَ بُیُوتِہِ وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ، فَإِذَا صَلَّی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ انْصَرَفَ إِلَیْنَا وَلَا نَبْرَحُ حَتّٰییُحَدِّثَنَا وَیَشْتَکِیَ قُرَیْشًا وَیَشْتَکِیَ أَ ہْلَ مَکَّۃَ ثُمَّ یَقُولُ: ((لَا سَوَائَ کُنَّا بِمَکَّۃَ مُسْتَذَلِّینَ وَمُسْتَضْعَفِینَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ کَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَیْنَا وَلَنَا۔)) فَمَکَثَ عَنَّا لَیْلَۃً لَمْ یَأْتِنَا حَتّٰی طَالَ ذَلِکَ عَلَیْنَا بَعْدَ الْعِشَائِ قَالَ: قُلْنَا: مَا أَ مْکَثَکَ عَنَّا یَا رَسُولَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((طَرَأَ عَلَیَّ حِزْبٌ مِنْ الْقُرْآنِ، فَأَ رَدْتُ أَ نْ لَا أَ خْرُجَ حَتّٰی أَقْضِیَہُ۔)) قَالَ: فَسَأَ لْنَا أَ صْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَصْبَحْنَا، قَالَ: قُلْنَا: کَیْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟ قَالُوْا: نُحَزِّبُہُ ثَلَاثَ سُوَرٍ، وَخَمْسَ سُوَرٍ، وَسَبْعَ سُوَرٍ، وَتِسْعَ سُوَرٍ، وَإِحْدٰی عَشْرَۃَ سُورَۃً، وَثَلَاثَ عَشْرَۃَ سُورَۃً، وَحِزْبَ الْمُفَصَّلِ مِنْ قَافْ حَتّٰییُخْتَمَ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۳۰)
۔ سیدنا اوس بن حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اس وفد میں موجود تھا، جو ثقیف میں سے بنو مالک قبیلہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اسلام قبول کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک خیمہ میں اتارا، جب آپ اپنے گھرسے مسجد کی طرف آتے جاتے تو ہمارے پاس سے گزرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء سے فارغ ہوتے تو ہمارے پاس تشریف لاتے اور کافی دیر تک ہم سے باتیں کرتے، قریش اور اہل مکہ کی شکایات کا ذکر کرتے اور فرماتے: اب برابری نہیں رہی، وقت تبدیل ہو گیا ہے، مکہ میں ہم رل گئے تھے اور ناتواں تھے اور جب ہمیں مکہ سے مدینہ منورہ کی جانب نکال دیا گیا تو جنگ کا ڈول ہماے خلاف بھیبھرا گیا اور ہارے حق میں بھی بھرا گیا (یعنی مقابلہ برابر رہا)۔ ایک رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف نہ لائے، عشاء کے بعد کافی دیر ہو گئی، پھر جب تشریف لائے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے لئے ہمارے پاس نہ آنے کی کیا وجہ تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا قرآن کا حزب (رہ گیا تھا)، بس وہ مجھ پر غالب آگیا اور میں نے بھی ارادہ کیا کہ اس کی تکمیل کے بغیر نہیں نکلوں گا۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ سے پوچھا: تم قرآن مجید کے کیسے حصے مقرر کرتے ہو اور اجزاء بناتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم اس طرح قرآن مجید کے حصے مقرر کرتے ہیں: تین سورتیں، پانچ سورتیں، سات سورتیں، نو سورتیں، گیارہ سورتیں، تیرہ سورتیں اور سورۂ قاف سے آخر تک کا مفصل حصہ، اس طرح قرآن مجید کی تکمیل ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8402

۔ (۸۴۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِیْ: ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) وَقَدَ بَلَغَ بِہٖاَبِیْ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ فَاتَہُ شَیْئٌ مِنْ وِرْدِہٖ (اَوْقَالَ: مِنْ جُزْئِہٖ) فَقَرَئَ ہُ مَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ اِلَی الظُّہْرِ فَکَاَنَّمَا قَرَأَہٗمِنْلَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۳۷۷)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’جس کا پابندی سے پڑھے جانے والا وظیفہ (رات کو) رہ جائے، لیکن اگر وہ اس کو نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان ادا کر لے تو وہ ایسے ہی ہو گا، جیسے رات کو پڑھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8403

۔ (۸۴۰۳)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: إِنِّی قَاعِدٌ إِلٰی جَنْبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا إِذْ أُوحِیَ إِلَیْہِ، قَالَ: وَغَشِیَتْہُ السَّکِینَۃُ وَوَقَعَ فَخِذُہُ عَلَی فَخِذِی حِینَ غَشِیَتْہُ السَّکِینَۃُ، قَالَ زَیْدٌ: فَلَا وَاللّٰہِ! مَا وَجَدْتُ شَیْئًا قَطُّ أَ ثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ: ((اکْتُبْ یَا زَیْدُ۔)) فَأَ خَذْتُ کَتِفًا فَقَالَ: ((اکْتُبْ {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ} الْآیَۃَ کُلَّہَا إِلَی قَوْلِہِ: {أَ جْرًا عَظِیمًا} فَکَتَبْتُ ذَلِکَ فِی کَتِفٍ، فَقَامَ حِینَ سَمِعَہَا ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلًا أَ عْمٰی فَقَامَ حِینَ سَمِعَ فَضِیلَۃَ الْمُجَاہِدِینَ، قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ لَا یَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ مِمَّنْ ہُوَ أَعْمٰی وَأَ شْبَاہِ ذَلِکَ؟ قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللّٰہِ! مَا مَضٰی کَلَامُہُ أَوْ مَاہُوَ إِلَّا أَنْ قَضٰی کَلَامَہُ، غَشِیَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السَّکِینَۃُ فَوَقَعَتْ فَخِذُہُ عَلٰی فَخِذِی، فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا کَمَا وَجَدْتُ فِی الْمَرَّۃِ الْأُولٰی، ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ: ((اِقْرَأْ۔)) فَقَرَأْتُ عَلَیْہِ {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ} فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} قَالَ زَیْدٌ: فَأَ لْحَقْتُہَا، فَوَاللّٰہِ! لَکَأَ نِّی أَ نْظُرُ إِلٰی مُلْحَقِہَا عِنْدَصَدْعٍ کَانَ فِی الْکَتِفِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۰۴)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھا تھا، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرسکون طاری ہو گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران، میری ران پر تھی، اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران سے زیادہ بھاری چیز میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی، پھر جب یہ کیفیت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دور ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زید! لکھو۔ میں نے شانے کی ہڈی لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آیت لکھو {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ … أَ جْرًا عَظِیمًا} جب سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت سنی جو کہ نابینا آدمی تھے اور انھوں نے سنا کہ اس آیت میں تو مجاہدوں کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا ہو گا، مثلا نابینا وغیرہ؟ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی تک سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے جو سکون چھا جاتا تھا، وہ چھا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران میری ران پرتھی، میں نے اس سے اتنا ہی بوجھ محسوس کیا، جس طرح میں نے اس سے پہلے وحی کی حالت میں محسوس کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آیت پڑھو۔ جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ لکھو: {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ}۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے یہ حصہ اس آیت کے ساتھ ملا دیا، گویا کہ اب بھی میں شانے میں اس آیت والی جگہ پر پھٹن کا نشان دیکھ رہا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8404

۔ (۸۴۰۴)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ اَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ شُمَاسَۃَ اَخْبَرَہٗ: اَنَّزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ اِذْ قَالَ: ((طُوْبٰی لِلشَّامِ)) قِیْلَ: وَلِمَ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((اِنَّ مَلَائِکَۃَ الرَّحْمَۃِ بَاسِطَۃٌ اَجْنِحَتَہَا عَلَیْہٖ)) (مسند احمد: ۲۱۹۴۳)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے کپڑے کے ٹکڑوں میں قرآن مجید کی تالیف کر رہے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کے علاقہ کے لئے خوشخبری ہو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے اس پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8405

۔ (۸۴۰۵)۔ عَنْ أَ نَسٍ أَ نَّ رَجُلًا کَانَ یَکْتُبُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَدْ کَانَ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِینَایَعْنِی عَظُمَ، فَکَانَ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُیُمْلِی عَلَیْہِ {غَفُورًا رَحِیمًا} فَیَکْتُبُ {عَلِیمًا حَکِیمًا} فَیَقُولُ لَہُ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ: ((اکْتُبْ کَذَا وَکَذَا اکْتُبْ کَیْفَ شِئْتَ۔)) وَیُمْلِی عَلَیْہِ {عَلِیمًا حَکِیمًا} فَیَقُولُ: أَ کْتُبُ {سَمِیعًا بَصِیرًا} فَیَقُولُ: ((اکْتُبْ کَیْفَ شِئْتَ۔)) فَارْتَدَّ ذَلِکَ الرَّجُلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ وَقَالَ: أَ نَا أَ عْلَمُکُمْ بِمُحَمَّدٍ إِنْ کُنْتُ لَأَ کْتُبُ مَا شِئْتُ، فَمَاتَ ذَلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْأَ رْضَ لَمْ تَقْبَلْہُ۔)) و قَالَ أَ نَسٌ: فَحَدَّثَنِی أَ بُو طَلْحَۃَ: أَ نَّہُ أَ تَی الْأَرْضَ الَّتِی مَاتَ فِیہَا ذَلِکَ الرَّجُلُ فَوَجَدَہُ مَنْبُوذًا، فَقَالَ أَ بُو طَلْحَۃَ: مَا شَأْنُ ہَذَاالرَّجُلِ؟ قَالُوْا: قَدْ دَفَنَّاہُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْہُ الْأَ رْضُ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۳۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے کتابت کرتا تھا، اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھی ہوئی تھی اور جو آدمی سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھ لیتا تھا،وہ ہم میں بڑی قدر و منزلت والا سمجھا جاتا تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو{غَفُورًا رَحِیمًا} تو وہ {عَلِیمًا حَکِیمًا} لکھتا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے فرماتے: ایسے ایسے لکھ، چلو جیسے تیری مرضی لکھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو {عَلِیمًا حَکِیمًا} لکھواتے، لیکن وہ کہتا: میں تو {سَمِیعًا بَصِیرًا} لکھوں گا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس طرح تو چاہتا ہے لکھ لے۔ پھر ہوا یوں کہ وہ آدمی اسلام سے مرتد ہوگیا اور مشرکوں کے ساتھ جا ملا اور ان کو کہنے لگا: میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ جاننے والا ہوں میں جو چاہتا تھا، لکھ لیتا تھا۔ پھر وہ مر گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین اس کو قبول نہیں کرے گی۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیانکیا کہ وہ اس علاقے میں گیا، جس میں وہ آدمی مرا تھا، انھوں نے اس کو اس حال میں دیکھا کہ اس کی میت باہر پھینکی ہوئی پڑی تھی، پس انھوں نے اس کے بارے میں پوچھا کہ اس آدمی کا کیا معاملہ ہے، لوگوں نے کہا:ہم تو اس کو کئی بار دفن کر چکے ہیں، لیکن زمین اس کو قبول نہیں کرتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8405

۔ (۸۴۰۵م)۔ (وَعَنْہُ مِْن طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ، قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَکَانَ یَکْتُبُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَانْطَلَقَ ہَارِبًا حَتّٰی لَحِقَ بِأَ ہْلِ الْکِتَابِ، قَالَ: فَرَفَعُوہُ، وَقَالُوْا: ہٰذَا کَانَ یَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأُعْجِبُوا بِہِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللّٰہُ عُنُقَہُ فِیہِمْ فَحَفَرُوْا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَ صْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَ رْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَ رْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، فَتَرَکُوہُ مَنْبُوذًا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۵۷)
۔ (دوسری سند)سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہمارے قبیلے بنو نجار کا ایک آدمی تھا، اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھی تھی اور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کاتب تھا، لیکن ہوا یوں کہ وہ (مرتدّ ہو کر) بھاگ گیا اور اہل کتاب سے جا ملا، انہوں نے اس کو بڑی شان دی اور کہاکہ یہ شخص تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کاتب تھا، سو انھیں بڑا تعجب ہوا (کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خلاف بڑی دلیل مل گئی ہے)، لیکن کچھ دنوں کے بعد ہی اللہ تعالی نے اس کا قصہ تمام کر دیا (اور وہ مر گیا)، انہوں نے اسے دفن کرنے کے لئے گڑھا کھودا اور اس میں دفن کر دیا، لیکن جب صبح ہوئی تو دیکھا گیا کہ زمین نے تو اس کو باہر پھینک دیاہے، انہوں نے دوبارہ گڑھا کھودا اور اس کو دفن کیا، لیکن جب صبح ہوئی تو پھر دیکھا گیا کہ زمین نے اس کو پھر پھینک دیا، انہوں نے پھر گڑھا کھودا اور اس کو دفن کیا، لیکن پھر وہی کچھ ہوا کہ زمین نے اس کو باہر پھینک دیا، پس انھوں نے اس کو ایسے ہی سطح زمین پر چھوڑ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8406

۔ (۸۴۰۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَ نَّ أَ بَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَ رْسَلَ إِلَیْہِ مَقْتَلَ أَ ہْلِ الْیَمَامَۃِ فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَہُ فَقَالَ أَ بُو بَکْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَ تَانِی فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ بِأَ ہْلِ الْیَمَامَۃِ مِنْ قُرَّائِ الْقُرْآنِ مِنْ الْمُسْلِمِینَ، وَأَ نَا أَخْشٰی أَ نْ یَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّائِ فِی الْمَوَاطِنِ، فَیَذْہَبَ قُرْآنٌ کَثِیرٌ لَا یُوعٰی، وَإِنِّی أَ رٰی أَ نْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَکَیْفَ أَ فْعَلُ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: ہُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ، فَلَمْ یَزَلْیُرَاجِعُنِی فِی ذٰلِکَ حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ بِذٰلِکَ صَدْرِی، وَرَأَ یْتُ فِیہِ الَّذِی رَأٰی عُمَرُ، قَالَ زَیْدٌ: وَعُمَرُ عِنْدَہُ جَالِسٌ لَا یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ أَ بُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّکَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّہِمُکَ، وَقَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاجْمَعْہُ، قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللّٰہِ، لَوْ کَلَّفُونِی نَقْلَ جَبَلٍ مِنْ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَیَّ مِمَّا أَ مَرَنِی بِہِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: کَیْفَ تَفْعَلُونَ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۶)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ یمامہ کی لڑائی میں حفاظ کی شہادت کے سانحہ کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بلایا، جب میں حاضر ہوا تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یمامہ میں حفاظِ قرآن کی شہادتیں کثرت سے ہوئی ہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر حفاظ قرآن کی شہادتوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو قرآن مجید کا بیشتر حصہ ضائع ہو جائے گا اور اس کو یاد نہیں رکھا جائے گا، اس لئے میری رائے یہ ہے کہ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دے دیں، لیکن میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ میں وہ کام کیسے کروں، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا، لیکن انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہے، پھر یہ اس بارے میں مجھ سے تکرار کرتے رہے ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا ہے اور میں نے بھی اس رائے کو پسند کر لیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خاموش بیٹھے رہے۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: اے زید! تم ایک عقلمند نوجوان اور قابل اعتماد آدمی ہو اور تم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وحی بھی لکھا کرتے تھے، لہٰذا یہ خدمت تم نے ہی سرانجام دینی ہے، سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگریہ مجھے کسی پہاڑ کو سر پر اٹھانے کی تکلیف دیتے تو اس کا میرے اوپر اتنا بوجھ نہ ہوتا جو انہوں نے قرآن مجید جمع کرنے کی مجھ پر ذمہ داری ڈالی تھی، پس میں نے کہا: آپ لوگ وہ کام کس طرح کرو گے، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا، تاہم ان کی تکرار کے بعد میں نے یہ ذمہ داریقبول کر لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8407

۔ (۸۴۰۷)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّہُمْ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فِیْ مَصَاحِفَ فِیْ خَلَافَۃِ أَ بِی بَـکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَکَانَ رِجَالٌ یَکْتُبُونَ وَیُمْلِی عَلَیْہِمْ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ، فَلَمَّا انْتَہَوْا إِلٰی ہٰذِہِ الْآیَۃِ مِنْ سُورَۃِ بَرَائَ ۃٌ {ثُمَّ انْصَرَفُوْا صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوبَہُمْ بِأَ نَّہُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَہُونَ} [۱۲۷] فَظَنُّوا أَ نَّ ہٰذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَہُمْ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ قْرَأَ نِی بَعْدَہَا آیَتَیْنِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَ نْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَئُ وْفٌ رَحِیمٌ} إِلٰی {وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ} [۱۲۸۔ ۱۲۹] ثُمَّ قَالَ: ہَذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَخُتِمَ بِمَا فُتِحَ بِہِ بِـ اللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَہُوَ قَوْلُ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: {وَمَا أَ رْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا یُوحَی إِلَیْہِ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَ نَا فَاعْبُدُونِ} [الانبیائ:۲۵]۔ (مسند احمد: ۲۱۵۴۶)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں صحابہ کرام نے قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کیا، لوگ لکھتے تھے اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انہیں لکھواتے تھے، جب سورۂ براء ہ کی اس آیت تک پہنچے {ثُمَّ انْصَرَفُوْا صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوبَہُمْ بِأَ نَّہُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَہُونَ}… پھر وہ واپس پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔ توانھوں نے گمان کیا کہ سورت کی آخری آیت ہے، لیکن سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کے بعد بھییہ دو آیتیں پڑھائی تھیں: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔} … بلاشہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ پھر انھوں نے کہا: قرآن کا یہ حصہ سب سے آخر میں نازل ہوا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: پس جس توحید کے ساتھ دین کو شروع کیا گیا تھا، اسی کے ساتھ اس کو ختم کیا گیا، ان کی مراد یہ اَللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ تھی، اور وہ ہے اللہ تعالی کا یہ فرمان: {وَمَا أَ رْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا یُوحَی إِلَیْہِ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَ نَا فَاعْبُدُونِ}… اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی گئی کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر میں ہی، پس تم میری عبادت کرو۔ (مذکورہ روایت کے مطابق قرآن مجید کی آیت میں لفظ یہ ہے یُوْحٰی اِلَیْہِ اس (ہر رسول) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ جبکہ ہمارے ہاں معروف قراء ت نُوْحِیْ اِلَیْہِ ہے۔ ہم اس کی طرف وحی کرتے تھے۔) (عبداللہ رفیق)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8408

۔ (۸۴۰۸)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَ وْ غَیْرِہِ أَ نَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: لَمَّا کُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آیَۃً کُنْتُ أَ سْمَعُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْتُہَا عِنْدَ خُزَیْمَۃَ الْأَ نْصَارِیِّ {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ} إِلٰی {تَبْدِیلًا} قَالَ: فَکَانَ خُزَیْمَۃُیُدْعَی ذَا الشَّہَادَتَیْنِ أَ جَازَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہَادَتَہُ بِشَہَادَۃِ رَجُلَیْنِ، قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَقُتِلَ یَوْمَ صِفِّیْنَ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۱)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مصاحف تحریر کیے گئے تو مجھے ایک آیت نہیں مل رہی تھی، جبکہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وہ سنا کرتا تھا، بالآخر میں نے وہ آیت سیدنا خزیمہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پائی، وہ آیتیہ تھی: {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ … تَبْدِیلًا}۔سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دو شہادتوں والا کہا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی شہادت کو دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا، امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صفین کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے، جبکہ وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے لڑ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8408

۔ (۸۴۰۸م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عن خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَ نَّہُ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ یَقُولُ: فُقِدَتْ آیَۃٌ مِنْ سُورَۃِ الْأَ حْزَابِ حِینَ نَسَخْنَا الْمَصَاحِفَ، قَدْ کُنْتُ أَ سْمَعُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بِہَا: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ} فَالْتَمَسْتُہَا فَوَجَدْتُہَا مَعَ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ فَأَ لْحَقْتُہَا فِی سُورَتِہَا فِی الْمُصْحَفِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۸۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم مصحف لکھ رہے تھے تو میں نے سورۂ احزاب کی ایک آیت نہ پائی، جب کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وہ سن رکھی تھی، وہ یہ آیت تھی: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ……}، جب میں نے وہ آیت تلاش کی تو اس کو سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پایا، پس میں اس کو مصحف میں اس کی سورت میں لکھ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8409

۔ (۸۴۰۹)۔ عَنْ خُمَیْرِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ أَ نْ تُغَیَّرَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَ نْ یَغُلَّ مُصْحَفَہُ فَلْیَغُلَّہُ، فَإِنَّ مَنْ غَلَّ شَیْئًا جَائَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: قَرَأْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعِینَ سُورَۃً أَ فَأَ تْرُکُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَرَأَ مِنْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعِیْنَ سُوْرَۃً وَاِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَہٗذُؤَابَۃٌ فِی الْکِتَابِ۔ (مسند احمد: ۳۹۲۹)
۔ خمیر بن مالک کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد میں مصاحف کو تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم میں سے جو آدمی اپنے مصحف کی خیانت کر سکتا ہے، وہ کر لے، کیونکہ جو آدمی جس چیز کی خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اس کو اپنے ساتھ لائے گا، پھر انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے ستر (۷۰) سورتیں سنی ہیں، کیا میں انہیں چھوڑ دوں۔ایک روایت میں ہے: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے اس وقت ستر (۷۰) سورتیں سن لی تھیں، جب زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لکھنے کے معاملے میں ابھی تک بچہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8410

۔ (۸۴۱۰)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ ہَمْدَانَ مِنْ أَ صْحَابِ عَبْدِاللّٰہِ وَمَا سَمَّاہُ لَنَا قَالَ: لَمَّا أَ رَادَ عَبْدُاللّٰہِ أَ نْ یَأْتِیَ الْمَدِینَۃَ جَمَعَ أَ صْحَابَہُ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ، إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ یَکُونَ قَدْ أَصْبَحَ الْیَوْمَ فِیکُمْ مِنْ أَ فْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِی أَجْنَادِ الْمُسْلِمِینَ مِنْ الدِّینِ وَالْفِقْہِ وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ، إِنَّ ہٰذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰی حُرُوفٍ، وَاللّٰہِ! إِنْ کَانَ الرَّجُلَانِ لَیَخْتَصِمَانِ أَ شَدَّ مَا اخْتَصَمَا فِی شَیْئٍ قَطُّ، فَإِذَا قَالَ الْقَاریِئُ: ہٰذَا أَ قْرَأَ نِی قَالَ: أَحْسَنْتَ، وَإِذَا قَالَ الْآخَرُ: قَالَ: کِلَاکُمَا مُحْسِنٌ، فَأَ قْرَأَ نَا إِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِی إِلَی الْبِرِّ وَالْبِرَّ یَہْدِی إِلَیالْجَنَّۃِ، وَالْکَذِبَ یَہْدِی إِلَی الْفُجُورِ، وَالْفُجُورَ یَہْدِی إِلَی النَّارِ، وَاعْتَبِرُوا ذَاکَ بِقَوْلِ أَ حَدِکُمْ لِصَاحِبِہِ کَذَبَ وَفَجَرَ وَبِقَوْلِہِ إِذَا صَدَّقَہُ صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ، إِنَّ ہٰذَا الْقُرْآنَ لَا یَخْتَلِفُ وَلَا یُسْتَشَنُّ وَلَا یَتْفَہُ لِکَثْرَۃِ الرَّدِّ، فَمَنْ قَرَأَ ہُ عَلَی حَرْفٍ فَلَا یَدَعْہُ رَغْبَۃً عَنْہُ، وَمَنْ قَرَأَ ہُ عَلَی شَیْئٍ مِنْ تِلْکَ الْحُرُوفِ الَّتِی عَلَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَا یَدَعْہُ رَغْبَۃً عَنْہُ، فَإِنَّہُ مَنْ یَجْحَدْ بِآیَۃٍ مِنْہُ یَجْحَدْ بِہِ کُلِّہِ، فَإِنَّمَا ہُوَ کَقَوْلِ أَ حَدِکُمْ لِصَاحِبِہِ: اِعْجَلْ، وَحَیَّ ہَلًا، وَاللّٰہِ! لَوْ أَ عْلَمُ رَجُلًا أَ عْلَمَ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَلَی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّی لَطَلَبْتُہُ حَتّٰی أَ زْدَادَ عِلْمَہُ إِلٰی عِلْمِی إِنَّہٗسَیَکُونُ قَوْمٌ یُمِیتُونَ الصَّلَاۃَ فَصَلُّوا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا، وَاجْعَلُوْا صَلَاتَکُمْ مَعَہُمْ تَطَوُّعًا، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُعَارَضُ بِالْقُرْآنِ فِی کُلِّ رَمَضَانَ، وَإِنِّی عَرَضْتُ فِی الْعَامِ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ مَرَّتَیْنِ، فَأَ نْبَأَ نِی أَ نِّی مُحْسِنٌ، وَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعِینَ سُورَۃً۔ (مسند احمد: ۳۸۴۵)
۔ عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں: ہمدان کے ایک آدمی نے ہمیںبتایا، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شاگرد تھے، ان کا نام نہیں لیا، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جب سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کوفہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہونا چاہا تو انھوں نے اپنے شاگردں کو جمع کیا اور کہا اللہ کی قسم! میں امید رکھتا ہوں کہ تم مسلمانوں کے لشکروں میں سے سب سے بہترین ہو، تم دین، فقہ، علم اور قرآن پڑھ رہے ہو، یہ قرآن سات قراء توں پر نازل ہوا،اللہ کی قسم! دو آدمی قرآن کے بارے میں سخت ترین جھگڑا کرتے ہیں، لیکن ایسا نہ کرنا، جب کوئی کہے کہ اس نے مجھے یوں پڑھایا ہے تو اسے کہو کہ وہ بہتر کہتا ہے، جب کوئی دوسرا کہے کہ مجھے فلاں نے اس طرح پڑھایا ہے تو تم دونوں کو بہتر کہو، کیونکہ دونوں نے علیحدہ علیحدہ قراء توں میں پڑھایا ہے، سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی جانب لے جاتی ہے، جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے، جب تم میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے کہ اس نے جھوٹ بولا یا فسق و فجور کیا اور جب کسی نے سچ کہا تو اس سے کہو تو نے سچ کہا اور نیکی کی،یقینایہ قرآن نہ اختلاف پیدا کرتا ہے، نہ یہ بوسیدہ ہوتا ہے اور نہ یہ حقیر چیز ہے، چاہے کس قدر اس کا تکرار کیا جائے، جو اسے ایک قراء ت پر پڑھے، اسے بے رغبتی کرتے ہوئے نہ چھوڑے اور جواسے ان قراء توں کے مطابق پڑھے، جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تعلیم دی ہے، تو وہ انہیں بھی بے رغبتی کی وجہ سے نہ چھوڑے جوایک آیت کا انکار کرے گا، گویا اس نے اس کی تمام آیتوں کا انکار کیا، اسی طرح ان قراء توں کا معاملہ ہے، قراء ت کا اختلاف اس طرح ہے کہ جس طرح کسی نے کہا: اِعْجَلْ، وَحَیَّ ہَلًا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے علم ہو کہ جو اللہ تعالیٰ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرنازل کیا ہے، کوئی مجھ سے زیادہ اس کا علم رکھتا ہے تو میں اسے ضرور تلاش کروں گا تا کہ اپنے علم میں اضافہ کرسکوں۔ عن قریب ایسے لوگ ہوں گے جو نمازوں کو ان کے وقت سے فوت کریں گے، لیکن تم نماز بروقت ادا کر لینا اور اگر تاخیر کرنیوالوں کے ساتھ موقع مل جائے توان کے ساتھ بھی پڑھا لینا،یہ تمہاری نفل ہو گی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر رمضان میں قرآن مجید کا دور کرتے تھے، جس سال آپ فوت ہوئے میں نے آپ پر دو مرتبہ قرآن پڑھا تھا۔ آپ نے مجھے بتایا کہ میں نے اچھا کیا ہے اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے ستر (۷۰) سورتیں سنی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8411

۔ (۸۴۱۱)۔ عَنْ فُلْفُلَۃَ الْجُعْفِیِّ قَالَ: فَزِعْتُ فِیمَنْ فَزِعَ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ فِی الْمَصَاحِفِ فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّا لَمْ نَأْتِکَ زَائِرِینَ وَلٰکِنْ جِئْنَاکَ حِینَ رَاعَنَا ہٰذَا الْخَبَرُ، فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلٰی نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سَبْعَۃِ أَ بْوَابٍ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ أَ وْ قَالَ: حُرُوفٍ، وَإِنَّ الْکِتَابَ قَبْلَہُ کَانَ یَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلٰی حَرْفٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۴۲۵۲)
۔ فلفلہ جعفی کہتے ہیں: میں بھی ان گھبرانے والوں میں سے تھا، جو قرآن کے بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہو گئے تھے، سو ہم سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور ہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم صرف ملاقات کے لئے نہیں آئے، ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ہمیں اس خبر نے بہت خوفزدہ کیاہے کہ (قریش کی زبان میں قرآن پڑھا جائے اور دوسرے نسخے جلا دئیے گئے ہیں۔) انہوں نے کہا: تمہارے نبی پر قرآن مجید سات قراء توں میںنازل ہوا ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے والی کتابیں ایک ہی قراء ت پر نازل ہوتی تھیں۔

آیت نمبر