Musnad Ahmad

Search Results(1)

146)

146) قرآن مجید اور اوراد کی تحزیب کرنے اور مصاحف میں اس کی تالیف کرنے جمع کرنے اور اس کو لکھنے کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8412

۔ (۸۴۱۲)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ: تَمَارَیْنَا فِیْ سُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقُلْنَا: خَمْسٌ وَثَلَاثُوْنَ آیَۃً، سِتٌّ وَثَلَاثُوْنَ آیَۃً، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْنَا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُنَاجِیْہِ، فَقُلْنَا: اِنَّا اِخْتَلَفْنَا فِی الْقِرَائَ ۃِ، فَاحْمَرَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَقْرَئُ وْا کَمَا عُلِّمْتُمْ۔ (مسند احمد: ۸۳۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی ایک سورت کے بارے میں ہمارا اختلاف ہو گیا، کسی نے کہا کہ پینتیس آیتیں ہیں اورکسی نے چھتیس آیتوں کی رائے دی، پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلے گئے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سرگوشی کرتے ہوئے پایا، ہم نے کہا: قراء ت کے بارے میں ہمارا اختلاف ہو گیا ہے،یہ سنتے ہی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ اس کتاب کو ایسے پڑھو، جیسے تم کو تعلیم دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8413

۔ (۸۴۱۳)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: کُنْتُ فِی الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً أَنْکَرْتُہَا عَلَیْہِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً سِوَی قِرَائَۃِ صَاحِبِہِ، فَقُمْنَا جَمِیعًا فَدَخَلْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ ہٰذَا قَرَأَ قِرَائَۃً أَ نْکَرْتُہَا عَلَیْہِ، ثُمَّ دَخَلَ ہٰذَا فَقَرَأَ قِرَائَۃً غَیْرَ قِرَائَۃِ صَاحِبِہِ، فَقَالَ لَہُمَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَأَ ا۔)) فَقَرَأَ ا قَالَ: ((أَصَبْتُمَا)) فَلَمَّا قَالَ لَہُمَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِی قَالَ کَبُرَ عَلَیَّ، وَلَا إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا رَأَ ی الَّذِی غَشِیَنِی ضَرَبَ فِی صَدْرِی، فَفِضْتُ عَرَقًا، وَکَأَ نَّمَا أَ نْظُرُ إِلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَرَقًا، فَقَالَ: ((یَاأُبَیُّ! إِنَّ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَ رْسَلَ إِلَیَّ أَ نْ اقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَیْہِ أَنْ ہَوِّنْ عَلَی أُمَّتِی، فَأَ رْسَلَ إِلَیَّ أَ نْ اقْرَأَ ہُ عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَیْہِ أَ نْ ہَوِّنْ عَلٰی أُمَّتِی فَأَ رْسَلَ إِلَیَّ أَ نْ اقْرَأْہُ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ، وَلَکَ بِکُلِّ رَدَّۃٍ مَسْأَ لَۃٌ تَسْأَ لُنِیہَا، قَالَ: ((قُلْتُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِی، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِی، وَأَ خَّرْتُ الثَّالِثَۃَ لِیَوْمٍیَرْغَبُ إِلَیَّ فِیہِ الْخَلْقُ حَتَّی إِبْرَاہِیمَ علیہ السلام ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۹۸)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں تھا، ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے ایسی قراء ت کی، جس کا میں نے انکار کیا، اتنے میں ایک اور آدمی داخل ہوا تو اس نے پہلے والے فرد کی قراء ت کے خلاف قراء ت کی، ہم اٹھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلے گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے جو قراء ت کی ہے، میں اسے بھی نہیں جانتا، پھر یہ دوسرا داخل ہوا ہے، اس نے اس کے خلاف قراء ت کی ہے، اس کو بھی میں نہیں جانتا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں سے کہا: پڑھو۔ جب انہوں نے تلاوت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں کو درست قرار دیا تو یہ بات مجھ پر بہت گراں گزری، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ گرانی مجھ پر غالب آ گئی ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، تو مجھے اتنا پسینہ آیا کہ میں بھیگ گیا اور مجھے ایسا لگا کہ میں ڈر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہاہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابی! میرے ربّ تعالیٰ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھوں، میں نے درخواست کی کہ میری امت پر آسانی کرو، پس اللہ تعالی دو قراء توں پر پڑھنے کا پیغام بھیجا، میں نے پھر گزارش کی کہ میری امت پر آسانی کرو، پس اللہ تعالی نے سات قراء توں پر قرآن کی تلاوت کرنے کا پیغامبھیجا، نیز جتنی دفعہ آپ نے مطالبہ کیا، اتنے مجھ سے سوال کر سکتے ہو، میں نے کہا: اے اللہ! میری امت کو بخش دو، اے اللہ ! میری امت کو بخش دو، تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے موخر کر دی ہے جس دن مخلوق میرے پاس آئے گی،یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8414

۔ (۸۴۱۴)۔ عَنْ أَ بِی قَیْسٍ مَوْلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا یَقْرَأُ آیَۃً مِنْ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: مَنْ أَ قْرَأَ کَہَا؟ قَالَ: رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَدْ أَ قْرَأَ نِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی غَیْرِہٰذَا، فَذَہَبَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! آیَۃُ کَذَا وَکَذَا ثُمَّ قَرَأَ ہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ)) فَقَالَ الْآخَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَرَأَ ہَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: أَ لَیْسَ ہٰکَذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ہٰذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ، فَأَ یَّ ذٰلِکَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَحْسَنْتُمْ، وَلَا تَمَارَوْا فِیہِ فَإِنَّ الْمِرَائَ فِیہِ کُفْرٌ أَ وْ آیَۃُ الْکُفْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۷۵)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ قرآن مجید کی آیت پڑھ رہا تھا،انہوں نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے یہ آیت پڑھائی ہے؟ اس نے کہا:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، انہوں نے کہا: لیکن مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور انداز میں پڑھائی ہے، پس وہ دونوں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت اس طرح ہے، پھر اس نے اس کی تلاوت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت اس طرح نازل نہیں ہوئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، اس میں سے جس کے مطابق بھی پڑھو، درست ہے، اس قرآن میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ اس میں جھگڑا کرنا کفر یا کفر کی علامت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8415

۔ (۸۴۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ جُہَیْمٍ اَنَّ رَجُلَیْنِ اِخْتَلَفَا فِیْ آیَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۷۶۸۳)
۔ سیدنا ابو جہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کا قرآن مجید کی ایک آیت کے بارے میں اختلاف ہوا، پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8416

۔ (۸۴۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نُزِّلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ، اَلْمِرَائُ فِی الْقُرْآنِ کُفْرٌ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْہُ فَاعْمَلُوْا، وَمَا جَہِلْتُمْ مِنْہُ فَرُدُّوْہُ اِلٰی عَالِمِہٖ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا،قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، جو تمہیں علم ہو جائے، اس پر عمل کرو اور جس کا علم نہ سکے، اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8417

۔ (۸۴۱۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَ بِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: لَقَدْ جَلَسْتُ أَ نَا وَأَ خِی مَجْلِسًا، مَا أُحِبُّ أَ نَّ لِی بِہِ حُمْرَ النَّعَمِ، أَ قْبَلْتُ أَ نَا وَأَ خِی وَإِذَا مَشْیَخَۃٌ مِنْ صَحَابَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِہِ، فَکَرِہْنَا أَ نْ نُفَرِّقَ بَیْنَہُمْ، فَجَلَسْنَا حَجْرَۃً إِذْ ذَکَرُوْا آیَۃً مِنْ الْقُرْآنِ فَتَمَارَوْا فِیہَا حَتَّی ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضَبًا قَدْ احْمَرَّ وَجْہُہُ یَرْمِیہِمْ بِالتُّرَابِ، وَیَقُولُ: ((مَہْلًا یَا قَوْمِ! بِہٰذَا أُہْلِکَتِ الْأُمَمُ مِنْ قَبْلِکُمْ بِاخْتِلَافِہِمْ عَلٰی أَ نْبِیَائِہِمْ، وَضَرْبِہِمْ الْکُتُبَ بَعْضَہَا بِبَعْضٍ، إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ یَنْزِلْیُکَذِّبُ بَعْضُہُ بَعْضًا، بَلْ یُصَدِّقُ بَعْضُہُ بَعْضًا، فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْہُ فَاعْمَلُوْا بِہِ، وَمَا جَہِلْتُمْ مِنْہُ فَرُدُّوہُ إِلَی عَالِمِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص علیہ السلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اور میرے بھائی کے مابین ایک مجلس ہوئی، اس میں بیٹھنامیرے لئے سرخ اونٹوںسے بھی زیادہ قیمتی ہے، تفصیلیہ ہے کہ میں اور میرا بھائی آئے اور بزرگ صحابہ کی ایک جماعت کو پایا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے ان میں تفریق ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور ایک کونے میں بیٹھ گئے، انہوں نے ایک آیت کا ذکر کیااور پھر اس میں جھگڑنا کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس آ گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصہ کی حالت میں تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان صحابہ پر مٹی پھینکی اور فرمایا: لوگو! رک جائو، تم میں سے پہلے والی امتیں اسی اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں،انہوں نے اپنے انبیاء پر اختلاف کیا اور کتاب کے بعض حصے کو بعض سے ٹکرایا، بیشک قرآن مجید اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا بعض بعض کی تکذیب کر رہا ہو، بلکہ اس کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، پس جس حصے کا تمہیں علم ہو جائے، اس پر عمل کرو اور جس حصے کا علم نہ ہو سکے، اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو۔

آیت نمبر