Musnad Ahmad

Search Results(1)

147)

147) قراء ات، ان میں اختلاف کا جواز اور ان کے بارے میں جھگڑنے سے ممانعت کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8426

۔ (۸۴۱۶م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْزِلَ الْقُرْآنُ سَبْعَۃَ اَحْرُفٍ عَلِیْمًا حَکِیْمًا غَفُوْرًا رَحِیْمًا۔)) (مسند احمد: )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8418

۔ (۸۴۱۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَھَا: {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنُ بِالْعَیْنِ} نَصَبَ النَّفْسَ وَرَفَعَ الْعَیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۸۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنُ بِالْعَیْنِ} آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے النَّفْسَ کے آخر پر زبر پڑھی اور الْعَیْنُ کے آخر پر پیش۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8419

۔ (۸۴۱۹)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَئُ: {اِنَّہُ عَمِلَ غَیْرَ صَالِحٍ} وَسَمِعْتُہُ یَقْرَاُ: {یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا وَلَا یُبَالِیْ اِنَّہُ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ} (مسند احمد: ۲۸۱۲۱)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں تلاوت کرتے ہوئے سنا: {اِنَّہُ عَمِلَ غَیْرَ صَالِحٍ} اور {یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا وَلَا یُبَالِیْ اِنَّہُ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ}۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8420

۔ (۸۴۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَفِظْتُ السُّنَّۃَ کُلَّہَا غَیْرَ اَنِّیْ لَا اَدْرِیْ اَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَاُ فِی الظُّہْرِ وَ الْعَصْرِ اَمْ لَا؟ وَلَا اَدْرِیْ کَیْفَ کَانَ یَقْرَاُ ھٰذَا الْحَرْفَ: {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عُتِیًّا} اَوْ {عُسِیًّا}۔ (مسند احمد: ۲۲۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تمام سنتیںیاد کی ہیں، البتہ مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ رسول اللہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراء ت کرتے تھے یا نہیں، نیز میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عُتِیًّا} والی آیت میں لفظ {عُتِیًّا} پڑھتے تھے یا{عُسِیًّا} (دونوں الفاظ کے معانی بڑھاپے اور عمر رسیدگی کے ہیں)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8421

۔ (۸۴۲۱)۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ أَ نَّہُمَا سَمِعَا عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ: مَرَرْتُ بِہِشَامِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَاسْتَمَعْتُ قِرَاء َتَہُ فَإِذَا ہُوَ یَقْرَأُ عَلَی حُرُوفٍ کَثِیرَۃٍ لَمْ یُقْرِئْنِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَکِدْتُ أَ نْ أُسَاوِرَہُ فِی الصَّلَاۃِ، فَنَظَرْتُ حَتّٰی سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ فَقُلْتُ: مَنْ أَ قْرَأَ کَ ہٰذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا؟ قَالَ: أَ قْرَأَ نِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: کَذَبْتَ فَوَاللّٰہِ! إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَہُوَ أَ قْرَأَ نِی ہٰذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَقُودُہُ إِلَی النَّبِیِا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی سَمِعْتُ ہٰذَا یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ عَلٰی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا وَأَ نْتَ أَ قْرَأْتَنِی سُورَۃَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ رْسِلْہُ یَا عُمَرُ! اِقْرَأْ یَا ہِشَامُ۔)) فَقَرَأَ عَلَیْہِ الْقِرَاء َۃَ الَّتِی سَمِعْتُہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَأْ یَا عُمَرُ!)) فَقَرَأْتُ الْقِرَائَۃَ الَّتِی أَ قْرَأَ نِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہٰکَذَا أُنْزِلَتْ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ فَاقْرَئُ وْا مِنْہُ مَا تَیَسَّرَ۔)) (مسند احمد: ۲۹۶)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا جو سورۂ فرقان پڑھ رہے تھے، یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات مبارکہ کی بات ہے، جب میں نے ان کی قراء توں کو غو رسے سنی تو سمجھا کہ وہ ایسی قراء توں پر قرآن مجید پڑھ رہے ہیں جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نہیں پڑھائی،قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان کی طرف لپک پڑتا، لیکن میں نے انتظار کیا،یہاں تک کہ انھوں نے سلام پھیرا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو پکڑ لیا اور کہا: تم کو کس نے یہ سورت پڑھائی ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، پھر میں ان کو کھینچ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے گیا اورکہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے سورۂ فرقان سنی ہے، یہ ان قراء توں کے مطابق پڑھتے ہیں، جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، اے عمر! اے ہشام پڑھو۔ انہوں نے آپ پر وہی قراء ت کی، جو میں نے سنی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم پڑھو۔ پس میں نے وہی قراء ت پڑھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پڑھائی تھی، وہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یقینا قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، جو بھی میسر آئے اس کے مطابق پڑھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8422

۔ (۸۴۲۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْاَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہٖوَفِیْہٖ: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا عُمَرُ! اِنَّ الْقُرْآنَ کُلَّہُ صَوَابٌ مَا لَمْ یُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَۃً اَوْ مَغْفِرَۃٌ عَذَابًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۷۹)
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخر میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! قرآن مجید سارے کا سارا درست ہے، جب تک کہ عذاب کی جگہ مغفرت کا اور مغفرت کی جگہ عذاب کا لفظ نہ بولا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8423

۔ (۸۴۲۳)۔ عَنْ عَطِیَّۃَ الْعَوْفِیِّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی ابْنِ عُمَرَ {الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضَعْفًا} فَقَالَ: {اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا} ثُمَّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا قَرَأْتَ عَلَیَّ فَأَ خَذَ عَلَیَّ کَمَا أَ خَذْتُ عَلَیْکَ۔ (مسند احمد: ۵۲۲۷)
۔ عطیہ عوفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما پر یہ آیت تلاوت کی:{الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضَعْفًا} لیکن انھوں نے کہا: اس آیت کے الفاظ یوں ہیں: {اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا}، پھر کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اسی طرح قراء ت کی تھی، جس طرح تم نے مجھ پر کی ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اسی طرح ٹوکا تھا، جس طرح میں نے تجھے ٹوکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8424

۔ (۸۴۲۴)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ: {یَاعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا وَلَا یُبَالِیْ اَنَّہٗھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ}۔ (مسند احمد: ۲۸۱۵۸)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ قراء ت کرتے ہوئے سنا: {یَاعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا وَلَا یُبَالِیْ اَنَّہٗھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ}
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8425

۔ (۸۴۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا یَقْرَأُ {حٰمٓ} الثَّلَاثِینَیَعْنِی الْأَ حْقَافَ فَقَرَأَ حَرْفًا، وَقَرَأَ رَجُلٌ آخَرُ حَرْفًا لَمْ یَقْرَأْہُ صَاحِبُہُ، وَقَرَأْتُ أَ حْرُفًا فَلَمْ یَقْرَأْہَا صَاحِبَیَّ، فَانْطَلَقْنَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرْنَاہُ فَقَالَ: ((لَا تَخْتَلِفُوْا فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِاخْتِلَافِہِمْ۔))، ثُمَّ قَالَ: ((انْظُرُوْا أَ قْرَأَ کُمْ رَجُلًا فَخُذُوا بِقِرَأَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سنا، وہ سورۂ احقاف کی تلاوت کر رہا تھا،اس نے ایک قراء ت پڑھی، جبکہ ایک دوسرے آدمی نے دوسری قراء ت پڑھی جو اِس نے نہیں پڑھی تھی اور پھر میں نے ایسی قراء ت پڑھی جو ان دونوں نے نہیں پڑھی تھی، سو ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اختلاف میں نہ پڑو، بیشک تم سے پہلے والے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جائزہ لے لو، جو آدمی تم میں زیادہ پڑھا ہوا، اس کی قراء ت سے پڑھ لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8426

۔ (۸۴۲۶)۔ عَنْ شَقِیْقِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِی: ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) مِنْ بَنِیْ بُجَیْلَۃَیُقَالُ لَہُ: نَہِیْکُ بْنُ سِنَانٍ، فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! کَیْفَ تَقْرَاُ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ اَیَائً تَجِدُھَا اَوْ اَلِفًا {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ: وَکُلُّ الْقُرْآنِ اَحْصَیْتَ غَیْرَ ھٰذِہٖ،قَالَ: اِنِّیْ لَاَقْرَاُ الْمُفَصَّلَ فِیْ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ھَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ اِنَّ مِنَ اَحْسَنِ الصَّلَاۃِ الَرُّکُوْعَ وَالسُّجودَ، وَلَیَقْرَاَنَّ الْقُرْآنَ اَقْوَامٌ لَایُجَاوِزُ تَرَاقِیَہِمْ، وَلٰکِنَّہُ اِذَا قَرَأَہٗفَرَسَخَفِی الْقَلَبِ نَفعَ اِنِّیْ لَاَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَاُ سُوْرَتَیْنِ فِیْ رَکْعَۃٍ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَجَائَ عَلْقَمَۃُ فَدَخَلَ عَلَیْہِ قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: سَلْہُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَئُ سُوْرَتَیْنِ فِیْ رَکْعَۃٍ، قَالَ: فَدَخَلَ فَسَاَلَہُ ثُمَّ خَرَجَ اِلَیْنَا، فَقَالَ: عِشْرُوْنَ سُوْرَۃً مِنْ اَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِیْ تَاْلِیْفِ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِیْ: ابْنَ مَسْعُوْدٍ)۔ (مسند احمد: ۳۶۰۷)
۔ شفیق بن عبداللہ کہتے ہیں: بنو بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، اس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اس آیت کو آپ کس طرح پڑھتے ہیں،یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: اس کے علاوہ تو نے سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں دو رکعت نماز میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو، بہترین نماز وہ ہے، جس میں رکوع و سجود اچھے انداز میں کئے جائیں،کچھ لوگ قرآن تو پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلیوں کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب آدمی قرآن پڑھتا اور وہ اس کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو تب قرآن فائدہ دیتا ہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو پہچانتا ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جن میں سے دو دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے، اتنے میں علقمہ آئے اور وہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے، ہم نے علقمہ سے کہا: ان سے ان ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں دریافت کرو، جن میں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے، پس علقمہ ان کے پاس گئے اور پھر ہمارے پاس آ کر کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں،یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف ِ قرآن کے مطابق تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8426

۔ (۸۴۲۶م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ زِرٍّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: کَیْفَ تَعْرِفُ ہٰذَا الْحَرْفَ مَائٌ غَیْرِیَاسِنٍ أَ مْ آسِنٍ؟ فَقَالَ: کُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ؟ قَالَ: إِنِّی لَأَ قْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَ جْمَعَ فِی رَکْعَۃٍ وَاحِدَۃٍ، فَقَالَ: أَ ہَذَّ الشِّعْرِ لَا أَ بَا لَکَ، قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّتِی کَانَ یَقْرِنُ قَرِینَتَیْنِ قَرِینَتَیْنِ مِنْ أَ وَّلِ الْمُفَصَّلِ، وَکَانَ أَ وَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمٰنُ۔ (مسند احمد: ۳۹۱۰)
۔ (دوسری سند) زرّ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ کا اس قراء ت کے بارے میں کیا خیال ہے مائٍ غَیْرِ آسِن ہے یا یَاسِن ؟ آگے سے انھوں نے کہا: کیا تو نے اس کے علاوہ سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں تمام مفصل سورتیں ایک ر کعت میں پڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی، تیرا باپ نہ رہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو جانتا ہوں،جن کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو سورتیں کر کے پڑھتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مفصل کی ابتداء سے شروع کر تے تھے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مصحف میں پہلی مفصل سورت رحمن تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8427

۔ (۸۴۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: اَقْرَاَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {اِنِّیْ اَنَا الرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ}۔ (مسند احمد: ۳۷۷۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پڑھایا {اِنِّیْ اَنَا الرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ}۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8428

۔ (۸۴۲۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: اَقْرَاَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} فَقَالَ رَجُلٌ: یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مُدَّکِرٍ اَوْ مُذَّکِّرٍ؟ قَالَ: اَقْرَاَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُدَّکِرٍ۔ (مسند احمد:۳۷۵۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یوں پڑھایا: {وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} ایک آدمی نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! مُدَّکِرٍ ہے یا مُذَّکِّرٍ ؟انہوں نے کہا، مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مُدَّکِرٍ پڑھایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8429

۔ (۸۴۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَرَاَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔} (مسند احمد: ۵۲۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑھا {یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔}
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8430

۔ (۸۴۳۰)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ أَ نَّہُ قَدِمَ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَصَلّٰی فِیہِ رَکْعَتَیْنِ وَقَالَ: اللّٰہُمَّ ارْزُقْنِی جَلِیسًا صَالِحًا، قَالَ: فَجَائَ فَجَلَسَ إِلٰی أَ بِی الدَّرْدَائِ فَقَالَ لَہُ أَ بُو الدَّرْدَائِ مِمَّنْ أَ نْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَ ہْلِ الْکُوفَۃِ، قَالَ: کَیْفَ سَمِعْتَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ یَقْرَأُ {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشٰی وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلّٰی} قَالَ عَلْقَمَۃُ: وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: لَقَدْ سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَمَا زَالَ ہٰؤُلَائِ حَتّٰی شَکَّکُونِی، ثُمَّ قَالَ: أَ لَمْ یَکُنْ فِیکُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ، وَصَاحِبُ السِّرِّ الَّذِی لَا یَعْلَمُہُ أَ حَدٌ غَیْرُہُ، وَالَّذِی أُجِیرَ مِنَ الشَّیْطَانِ عَلَی لِسَانِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، صَاحِبُ الْوِسَادِ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَصَاحِبُ السِّرِّ حُذَیْفَۃُ، وَالَّذِی أُجِیرَ مِنَ الشَّیْطَانِ عَمَّارٌ،(وَفِیْ لَفْظٍ) اِنَّ اَبَا الدَّرْدَائِ قَالَ لِعَلْقَمَۃَ: ھَلْ تَقْرَاُ عِلٰی قَرَأَۃِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاقْرَاْ: {وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی} قُلْتُ: {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشٰی وَالنَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی} قَالَ: ھٰکَذَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَاُھَا، قَالَ: اَحْسِبُ، قَالَ: فَضَحِکَ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۸۸)
۔ علقمہ کہتے ہیں: میں شام گیا، مسجد دمشق میں داخل ہوا، اس میں دو رکعت نماز ادا کی اور یہ دعا کی: اے اللہ! مجھے نیک ہم نشین مہیا فرما، پھر میں سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا، انھوں نے کہا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا:کوفہ والوں میں سے۔ انھوں نے کہا: تم نے ابن ام عبد یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا کہ وہ یہ سورت کیسے پڑھتے ہیں: {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَی وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلّٰی} میں نے کہا: وہ اس طرح پڑھتے ہیں: {وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثٰی}، انھوں نے کہا: میں نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا، لیکنیہ لوگ مجھے شک میں ڈال دیا،یہ چاہتے ہیں کہ میں {وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنْثٰی} پڑھوں، لیکن میں ان کی بات نہیں مانوں گا۔ پھر انھوں نے کہا: کیاتمہارے اندر یہ تین افراد نہیں ہیں: صاحب الوساد، رازدان، جس کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا اور اور جن کو شیطان سے محفوظ کر دیا گیا۔ صاحب الوساد ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، راز دان سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں اور جن کو شیطان سے محفوظ کیا گیا، وہ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ (ایک روایت میں ہے): سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے علقمہ سے کہا: کیا تم سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کے مطابق پڑھتے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سورۂ لیل پڑھو، انھوں نے یوں پڑھا: {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشٰی وَالنَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی}۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا، پھر وہ مسکرا پڑھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8431

۔ (۸۴۳۱)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُنْزِلَتْ صُحُفُ اِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام فِیْ اَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمْضَانَ، وَاُنْزِلَتِ التَّوْارَۃُ لِسِتٍّ مَضَیْنَ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْاِنْجِیْلُ لِثَلَاثَ عَشَرَۃَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَاُنْزِلَ الْفُرْقَانُ لِاَرْبَعٍ وَّ عِشْرِیْنَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۰۹)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابراہیمی صحیفے رمضان کی پہلی رات کو، تورات رمضان کی چھٹی رات کو،انجیل رمضان کی تیرہ تاریخ کو اور قرآن مجید رمضان کی چوبیس تاریخ کو نازل ہوا۔

آیت نمبر