MUSNAD AHMED

Search Results(1)

148)

148) مفصل قراء ات اور اس میں صحابہ کے اختلاف کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8348

۔ (۸۳۴۸)۔ عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَاَ بِمِئَۃِ آیَۃٍ فِی لَیْلَۃٍ کُتِبَ لَہٗقُنُوْتُلَیْلَۃٍ)) (مسند احمد: ۱۷۰۸۳)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ایک رات میں سو آیات پڑھتا ہے، اس کے لیے رات کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8432

۔ (۸۴۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کُنَّا نَتَّقِیْ کَثِیْرًا مِنَ الْکَلَامِ وَالْاِنْبِسَاطِ اِلٰی نِسَائِ نَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَخَافَۃَ اَنْ یَنْزِلَ فِیْنَا الْقُرْآنُ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَکَلَّمْنَا۔ (مسند احمد: ۵۲۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیویوں سے زیادہ باتیں کرنے اور زیادہ کھل کر ہنسنے سے گریز کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو تب ہم کھل کر بات کرنے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8433

۔ (۸۴۳۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَ وَّلُ مَا بُدِیئَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ فِی النَوْمِ، وَکَانَ لَا َیرٰی رُؤْیًا إِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلَائُ فَکَانَ یَأْتِیْ غَارَ حِرَائَ فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ وَھُوَ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَیَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ ثُمَّّ یَرْجِعُ لِخَدِیْجَۃَ فَتُزَوِّدُہُ لِمِثْلِھَا حَتّٰی فَجِأَ ہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حِرَائَ فَجَائَہُ الْمَلَکُ فِیْہِ فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَقُلْتُ: مَا أَ نَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا أَ نَا بِقَارِیئٍ، فَأَ خَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّیالْجَھْدُ، ثُمَّّ أَ رْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَ نَا بِقَارِیئٍ، فَأَ خَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْد، ثُمَّّ أَ رْسَلَنِی فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ} حَتّٰی بَلَغَ {مَا لَمْ یَعْلَمْ} قَالَ: فَرَجَعَ بِھَا تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ، فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ، فَقَالَ: یَا خَدِیْجَۃُ! مَا لِیْ؟ فَأَ خْبَرَھَا الْخَبْرَ، قَالَ: وَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ، فَقَالَتْ لَہُ: کَلَّا اَبْشِرْ، فَوَاللّٰہِ! لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَ بْدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّّ انْطَلَقَتْ بِہٖخَدِیْجَۃُ حَتّٰی أَ تَتْ بِہٖوَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَ سَدِ بْنِ عَبْدِالْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ، وَھُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیْجَۃَ أَ خِیْ أَ بِیْھَا وَکَانَ اِمْرَئً تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیِّ، فَکَتَبَ بِالْعَرَبِیَّۃِ مِنَ الْإِنْجِیْلِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَکْتُبَ،وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَ یِ ابْنَ عَمِّ! اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَ خِیْکَ، فَقَالَ وَرَقَۃُ: ابْنَ أَ خِیْ مَا تَرٰی؟ فَأَ خْبَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا رَأٰ ی، فَقَالَ رَوَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ أُنْزِلَ عَلَی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ، یَالَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعًا أَ کُوْنَ حَیًّا حِیْنَیُخْرِجُکَ قَوْمُکَ، فَقَالَ رَسُوْل ُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ وَ مُخْرِجِیَّ ھُمْ؟ )) فَقَالَ وَرَقَۃُ: نَعَمْ، لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِہٖإِلاَّعُوْدِیَ، وَإِنْ یُدْرِکْنِییَوْمُکَ اَنْصُرُکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ أَ نْ تُوُفِّیَ، وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مِرَارًا کَیْیَتَرَدّٰی مِنْ رُؤُوْسِ شَوَاھِقِ الْجِبَالِ، فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْیُلْقِیَ نَفْسَہُ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا فَیُسْکِنُ ذٰلِکَ جَأْشَہُ وَتَقَرُّ نَفْسُہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَیَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَیِْہِ وَفَتَرَ الْوَحْیُ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِکَ، فَإِذَا أَ وْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میںپڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … …مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالی آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کے چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالی کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل پر سکون ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8434

۔ (۸۴۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَاوَرْتُ بِحِرَائَ شَھْرَا فَلَمَّا قَضَیْتُ جِوَارِیْ نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِیْ فَنُوْدِیْتُ فَنَظَرْتُ أَ مَامِیْ وَخَلْفِیْ وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ أَ رَ أَ حَدًا، ثُمَّّ نُوُدِیْتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَ رَ أَ حَدًا، ثُمَّّ نُوْدِیْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا ھُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِی الْھَوَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا ھُوَ قَاعِدٌ عَلَی عَرْشٍ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ) فَأَ خَذَتْنِیْ وَجْفَۃٌ شَدِیْدَۃٌ فَأَ تَیْتُ خَدَیْجَۃَ فَقُلْتُ: دَثِّرُوْنِیْ، دَثِّرُوْنِیْ وَصَبُّوْا عَلَیَّ مَائًا فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ} (مسند احمد: ۱۴۳۳۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کیں: {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ} اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8434

۔ (۸۴۳۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَقُولُ: أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ أَ نَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْیُ عَنِّی فَتْرَۃً فَبَیْنَا أَ نَا أَ مْشِی سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِی قِبَلَ السَّمَائِ، فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِی جَائَ نِی بِحِرَائٍ، الْآنَ قَاعِدٌ عَلَی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْہُ فَرَقًا حَتّٰی ہَوَیْتُ إِلَی الْأَ رْضِ، فَجِئْتُ أَ ہْلِی فَقُلْتُ: زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی فَزَمَّلُونِی، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَا أَ یُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ}))، قَالَ أَ بُو سَلَمَۃَ: الرُّجْزُ الْأَ وْثَانُ ثُمَّ حَمِیَ الْوَحْیُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۳۷)
۔ (دوسری سند)سیدنا جابر بن عبدا للہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر وحی رک گئی، پس ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی،جب میں نے نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حراء میں آیا تھا، اب وہی آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں اس کے خوف سے کپکپانے لگا، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھکا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ پس انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی، پس اللہ تعالی نے آیات نازل کیں: {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر اور پلیدی کو چھوڑ دے۔ ابو سلمہ نے کہا: پلیدی سے مراد بت ہیں، اس کے بعد وحی پے در پے اور کثرت سے نازل ہونے لگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8435

۔ (۸۴۳۵)۔ عَن أَ بِی بَکْرَۃَ أَ نَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَام قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ وَمِیْکَائِیْلُ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ: اِقْرَاِ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفٍ) قَالَ مِیکَائِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام: اسْتَزِدْہُ فَاسْتَزَادَہُ، قَالَ: اقْرَأْہُ عَلَی حَرْفَیْنِ، قَالَ مِیکَائِیلُ: اسْتَزِدْہُ فَاسْتَزَادَہُ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَ حْرُفٍ، قَالَ: کُلٌّ شَافٍ کَافٍ مَا لَمْ تَخْتِمْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَ وْ آیَۃَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ نَحْوَ قَوْلِکَ تَعَالَ وَأَ قْبِلْ وَہَلُمَّ وَاذْہَبْ وَأَ سْرِعْ وَاعْجَلْ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۸۸)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! قرآن مجید ایک قراء ت کے مطابق پڑھو۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل اور میکائیل میرے پاس آئے، جبریل نے مجھ سے کہا: قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھو، لیکن میکائیل نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: زیادہ گنجائش کا سوال کریں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زیادہ گنجائش کی درخواست کی، تو جبریل نے کہا: دو قراء توں پر پڑھ لو، لیکن میکائیل نے پھر کہا: اور زیادہ مطالبہ کرو، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید گنجائش کا مطالبہ کیا،یہاں تک کہ سات قراء ات تک پہنچ گئے، اور پھر انھوں نے کہا: ہر قراء ت شافی اور کافی ہے، جبکہ تک تم عذاب والی آیت کو رحمت والی آیت کے ساتھ اور رحمت والی آیت کو عذاب والی آیت کے ساتھ ختم نہ کر، یہ قراء ت کا معاملہ ایسا ہی ہے، جیسےیہ الفاظ ہیں: تَعَالَ اور أَ قْبِل، ہَلُمَّ اور اِذْہَبْ اور أَ سْرِعْ اور اِعْجَلْ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8436

۔ (۸۴۳۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ، عَلٰی اَیِّ حَرْفٍ قَرَاْتُمْ فَقْدَ اَصَبْتُمْ، فَلَا تَمَارَوْا فِیْہِ فَاِنَّ الْمِرَائَ فِیْہٖ کُفْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۷۲)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے، جس قراء ت کے مطابق بھی پڑھو گے، تو درست پڑھو گے، اس میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8437

۔ (۸۴۳۷)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَرَأْتُ آیَۃً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَہَا (جَائَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَرَأَ رَجَلٌ خِلَافَہَا) فَأَ تَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: أَ لَمْ تُقْرِئْنِی آیَۃَ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: ((بَلٰی۔))، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا کَذَا وَکَذَا؟ فَقَالَ: ((بَلٰی، کِلَاکُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ، فَضَرَبَ صَدْرِی فَقَالَ: ((یَا أُبَیُّ بْنَ کَعْبٍ! إِنِّی أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ، فَقِیلَ لِی: عَلٰی حَرْفٍ أَوْ عَلٰی حَرْفَیْنِ، قَالَ: فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِی: عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقُلْتُ: عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقَالَ: عَلٰی حَرْفَیْنِ أَ وْ ثَلَاثَۃٍ، فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِی: عَلٰی ثَلَاثَۃٍ، فَقُلْتُ: عَلٰی ثَلَاثَۃٍ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَ حْرُفٍ، لَیْسَ مِنْہَا إِلَّا شَافٍ کَافٍ إِنْ قُلْتَ: غَفُورًا رَحِیمًا أَ وْ قُلْتَ: سَمِیعًا عَلِیمًا أَ وْ عَلِیمًا سَمِیعًا فَاللّٰہُ کَذٰلِکَ، مَا لَمْ تَخْتِمْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَوْ آیَۃَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ بَعْدَ قَوْلِہٖ: فَضَرَبَ فِیْ صَدْرِیْ): ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَ ذْہِبْ عَنْ أُبَیٍّ الشَّکَّ۔))، فَفِضْتُ عَرَقًا وَامْتَلَأَ جَوْفِی فَرَقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أُبَیُّ إِنَّ مَلَکَیْنِ أَتَیَانِی، فَقَالَ أَ حَدُہُمَا: اقْرَأْ عَلٰی حَرْفٍ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، فَقَالَ: اقْرَأْ عَلٰی ثَـلَاثَۃٍ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی أَ رْبَعَۃِ أَحْرُفٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی خَمْسَۃِ أَ حْرُفٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی سِتَّۃٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۶۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی آیت پڑھی، لیکن ان کی آیت میری آیت سے مختلف تھی، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے مجھے فلاں فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ نے مجھے یہ ایسے ایسے نہیں پڑھائی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ میں (ابی) نے کہا: دونوں کس طرح درست ہو سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا اور کہا گیا کہ ایکیادو قراء توں پر؟ جو فرشتہ میرے ساتھ تھا، اس نے کہا: دو قراء توں پر، میں نے کہا: دو قراء توں پر۔ لیکن اس نے پھر کہا: دو قراء توں پر یا تین پر؟ جو فرشتہ میرے پاس تھا، اس نے کہا: تین قراء توں پر، میں نے کہا: تین قراء توں پر، حتیٰ کہ سات قراء توں تک پہنچ گئے، ہر ایک تسلی بخش اور کفایت کرنے والی ہے، اگر تم کہو غَفُورًا رَحِیمًا،یا کہو سَمِیعًا عَلِیمًا،یا کہو عَلِیمًا سَمِیعًا، پس اللہ تعالی تو ایسے ہی ہے نا۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینہ پر مارا اور فرمایا: اے اللہ ! ابی سے شک دور کر دے۔ ابی کہتے ہیں: میں پسینہ سے شرابور ہوگیا اور میرا پیٹ خوف سے بھر ہوگیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابی! دو فرشتے میرے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ایک قراء ت پر قرآن پڑھو، دوسرے نے کہا: زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: زیادہ کردو، اس نے کہا چار قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: میرے لئے اور اضافہ کرو، اس نے کہا: پانچ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کر دو۔ میں نے بھی کہا: اور زیادہ کردو۔ چھ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور اضافہ کردو، اسنے کہا: سات قراء توں پر پڑھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8438

۔ (۸۴۳۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقِیتُ جِبْرِیلَ علیہ السلام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقُلْتُ: یَا جِبْرِیلُ! إِنِّی أُرْسِلْتُ إِلَی أُمَّۃٍ أُمِّیَّۃٍ، الرَّجُلُ وَالْمَرْأَ ۃُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِیَۃُ وَالشَّیْخُ الْفَانِی الَّذِی لَا یَقْرَأُ کِتَابًا قَطُّ، قَالَ: اِنَّ الْقُرْاٰنَ نَزَلَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۹۰)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں احجار المراء جگہ پر حضرت جبریل علیہ السلام سے ملا اور میں نے کہا: اے جبریل! میں اُمّی امت کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیاہوں، جس میں مرد، عورتیں، غلام، لونڈیاں اور انتہائی بوڑھے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی، انہوں نے کہا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8348

۔ (۸۴۳۸م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَقِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیلُ علیہ السلام وَہُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَکَ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْہُمْ عَلٰی حَرْفٍ فَلْیَقْرَأْ کَمَا عَلِمَ وَلَا یَرْجِعْ عَنْہُ، قَالَ أَ بِی: وَقَالَ ابْنُ مَہْدِیٍّ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِکَ الضَّعِیفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلٰی حَرْفٍ فَلَا یَتَحَوَّلْ مِنْہُ إِلٰی غَیْرِہِ رَغْبَۃً عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احجار المراء مقام پر جبریل علیہ السلام سے ملے، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت سات قرائتوں میں قرآن مجید پڑھ سکتی ہے، جس کسی نے ایک قرائت پڑھ لی ہے، تو وہ اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے رک نہ جائے۔ ابن مہدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جبریل علیہ السلام نے کہا: بیشک آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں، لہٰذا جو ایک قراء ت پر پڑھ لے، وہ اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے دوسری قراء ت کی طرف نہ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8439

۔ (۸۴۳۹)۔ عَنْ أُبَیٍّ قَالَ: لَقِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیلُ علیہ السلام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِجِبْرِیلَ علیہ السلام : ((إِنِّی بُعِثْتُ إِلَی أُمَّۃٍ أُمِّیِّینَ فِیہِمُ الشَّیْخُ الْعَاسِی وَالْعَجُوزَۃُ الْکَبِیرَۃُ وَالْغُلَامُ، قَالَ: فَمُرْہُمْ فَلْیَقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۲۳)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جبریل علیہ السلام کی احجاز المراء کے پاس ملاقات ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: مجھے اُمّی امت کی طرف بھیجا گیا ہے، اس میں بہت بوڑھے خواتین و حضرات اور غلام بھی ہیں، انہوں نے کہا: چلو، آپ ان کو حکم دیں کہ وہ قرآن مجید کو سات قراء توں پر تلاوت کرلیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8440

۔ (۸۴۴۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۴۱)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں کے مطابق نازل کیا گیاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8441

۔ (۸۴۴۱)۔ عَنْ اُمِّ اَیُّوْبَ قَالَتْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ اَیُّہَا قَرَاْتِ اَجْزَأَکِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۷۵)
۔ سیدنا ام ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، تم ان میں سے جو بھی پڑھو گی، وہ تجھے کفایت کرے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8442

۔ (۸۴۴۲)۔ عَنْ عُبَادَۃَ اَنَّ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۰۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8443

۔ (۸۴۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَ قْرَأَ نِی جِبْرِیلُ علیہ السلام عَلَی حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُہُ فَلَمْ أَ زَلْ أَ سْتَزِیدُہُ وَیَزِیدُنِی حَتَّی انْتَہَی إِلَی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ۔)) قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَاِنَّمَا ھٰذِہِ الْاَحْرُفِ فِی الْاَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَیْسَیَخْتَلِفُ فِیْ حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراء ت پڑھائی، میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ قرائتیں زیادہ کی جائیں اور وہ زیادہ کرتے، یہاں تک کہ معاملہ سات قراء توں تک پہنچ گیا۔ امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: یہ قراء توں کا یہاختلاف حقیقت میں ایک ہی معاملے کے باریمیں ہے، اس سے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8444

۔ (۸۴۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ عَلِیْمًا حَکِیْمًا غَفُوْرًا رَحِیْمًا۔))، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ عَفُوْرٌ رَحِیْمٌ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر اتارا گیا ہے، جیسے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8445

۔ (۸۴۴۵)۔ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَامِلَۃً بَرَائَۃٌ، وَآخِرُ آیَۃٍ نَزَلَتْ خَاتِمَۃُ سُورَۃِ النِّسَائِ {یَسْتَفْتُونَکَ} إِلٰی آخِرِہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴۱)
۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کامل سورت جو آخر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی وہ سورۂ براء ت ہے اور سب سے آخرمیں نازل ہونے والی آیت سورۂ نساء کی آخری آیت{یَسْتَفْتُونَکَ…} ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8446

۔ (۸۴۴۶)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: ہَلْ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْمَائِدَۃِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ فَإِنَّہَا آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوہُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَرَامٍ، فَحَرِّمُوہُ وَسَأَ لْتُہَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: الْقُرْآنُ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۶۳)
۔ سیدنا جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، انہوںنے مجھ سے کہا: کیا تم سورۂ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: یہ نازل ہونے والی آخری سورت ہے،لہٰذا اس میں جو حلال پائو، اسے حلال سمجھو اورجس چیز کو اس میں حرام پائو، اسے حرام سمجھو۔ پھر میں نے ان سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق کے بارے میںپوچھا، انھوں نے کہا: آپ کا اخلاق قرآن مجید تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8447

۔ (۸۴۴۷)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنْ الْقُرْآنِ آیَۃُ الرِّبَا، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُبِضَ وَلَمْ یُفَسِّرْہَا، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّیبَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶)
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: قرآن مجید کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت سود والی ہے، لیکن ہوا یوں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابھی تک اس کی تفسیر نہیں کی تھی، پس سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں سود کا شبہ ہو، اس کوبھی چھوڑ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8448

۔ (۸۴۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْرِضُ الْکِتَابَ عَلَی جِبْرِیلَ علیہ السلام فِی کُلِّ رَمَضَانَ، فَإِذَا أَ صْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اللَّیْلَۃِ الَّتِییَعْرِضُ فِیہَا مَا یَعْرِضُ، أَصْبَحَ وَہُوَ أَ جْوَدُ مِنْ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ، لَا یُسْأَ لُ عَنْ شَیْئٍ إِلَّا أَعْطَاہُ، فَلَمَّا کَانَ فِی الشَّہْرِ الَّذِی ہَلَکَ بَعْدَہُ عَرَضَ عَلَیْہِ عَرْضَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8449

۔ (۸۴۴۹)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ: أَ یُّ الْقِرَائَتَیْنِ کَانَتْ أَ خِیرًا قِرَائَۃُ عَبْدِاللّٰہِ أَوْ قِرَائَۃُ زَیْدٍ؟ قَالَ: قُلْنَا قِرَائَۃُ زَیْدٍ، قَالَ: لَا إِلَّا1 أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَی جَبْرَائِیلَ کُلَّ عَامٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ فِی الْعَامِ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ عَرَضَہُ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، وَکَانَتْ آخِرَ الْقِرَائَ ۃِ قِرَائَ ۃُ عَبْدِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی آخری ہے، انہوں ! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8449

۔ (۸۴۴۹م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٖ) عَنْأَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَ یُّ الْقِرَائَتَیْنِ تَعُدُّونَ أَ وَّلَ؟ قَالُوْا: قِرَائَۃُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: لَا بَلْ ہِیَ الْآخِرَۃُ کَانَ یُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُلِّ عَامٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ عُرِضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، فَشَہِدَہُ عَبْدُ اللّٰہِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْہُ وَمَا بُدِّلَ۔ (مسند احمد: ۳۴۲۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8450

۔ (۸۴۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ یَعْرِضُ (یَعْنِیْ: جِبْرِیْلُ) عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ عَرَضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۱۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریںیا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیںیا اس کی مثل لے آتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8451

۔ (۸۴۵۱)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: عَلِیٌّ أَ قْضَانَا، وَأُبَیٌّ أَ قْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ کَثِیرًا مِنْ لَحْنِ أُبَیٍّ، وَأُبَیٌّیَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَخَذْتُ مِنْ فَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَلَا أَ دَعُہُ لِشَیْئٍ، وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَییَقُولُ: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا}۔ (مسند احمد: ۲۱۴۰۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8452

۔ (۸۴۵۲)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْفَجْرَ وَتَرَکَ آیَۃً، فَجَائَ أُبَیٌّ وَقَدْ فَاتَہُ بَعْضُ الصَّلَاۃِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نُسِخَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ أَ وْ أُنْسِیتَہَا؟ قَالَ: ((لَا بَلْ أُنْسِیتُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۵۸)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور قراء ت کرتے کرتے ایک آیت چھوڑ دی، جب میں آیا تو نماز کا کچھ مجھ سے چھوٹ گیا تھا، بہرحال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں بھول گیاہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8453

۔ (۸۴۵۳)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: کَمْ تَقْرَئُ وْنَ سُورَۃَ الْأَ حْزَابِ؟ قَالَ: بِضْعًا وَسَبْعِینَ آیَۃً، قَالَ: لَقَدْ قَرَأْتُہَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ الْبَقَرَۃِ أَ وْ أَ کْثَرَ مِنْہَا، وَإِنَّ فِیہَا آیَۃَ الرَّجْمِ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۲۵)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے پوچھا: تم لوگ سورۂ احزاب کی کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ میں (زِرّ بن حبیش) نے کہا: کوئی چھہتر ستتر آیات، انھوں نے کہا: میں نے اس سورت کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پڑھا تھا، یہ سورۂ بقرہ جتنی تھییا اس سے بھی لمبی تھی اور اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8453

۔ (۸۴۵۳م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ زِرٍّ قَالَ: قَالَ لِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: کَأَ یِّنْ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْأَ حْزَابِ أَ وْ کَأَ یِّنْ تَعُدُّہَا؟ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: ثَلَاثًا وَسَبْعِینَ آیَۃً، فَقَالَ: قَطُّ لَقَدْ رَأَ یْتُہَا وَإِنَّہَا لَتُعَادِلُ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَلَقَدْ قَرَأْنَا فِیہَا ((اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۲۶)
۔ (دوسری سند) زر کہتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم سورۂ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر آیتیں،انھوں نے کہا: بس، میں نے اس سورت کو دیکھا تھا کہ یہ سورۂ بقرہ کے برابر تھی، ہم نے اس میں یہ آیت بھی پڑھی تھی: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ … جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (یعنی شادی شدہ مرد اور عورت) زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ جاننے والے حکمت والا ہے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8454

۔ (۸۴۵۴)۔ عَنْ کَثِیرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: کَانَ ابْنُ الْعَاصِ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یَکْتُبَانِ الْمَصَاحِفَ فَمَرُّوا عَلٰی ہٰذِہِ الْآیَۃِ، فَقَالَ زَیْدٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: {الشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ} فَقَالَ عُمَرُ: لَمَّا أُنْزِلَتْ ہٰذِہِ أَ تَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: أَ کْتِبْنِیہَا، قَالَ شُعْبَۃُ: فَکَأَ نَّہُ کَرِہَ ذٰلِکَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَ لَا تَرٰی أَ نَّ الشَّیْخَ إِذَا لَمْ یُحْصَنْ جُلِدَ، وَأَ نَّ الشَّابَّ إِذَا زَنٰی وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۳۲)
۔ کثیر بن صلت کہتے ہیں: سیدنا ابن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اورسیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مصحف لکھتے تھے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ آیت بھی پڑھتے تھے: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکنیوں محسوس ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب بوڑھا آدمی شادی شدہ نہ ہو تو اس کو زنا کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے ہیں اور جب کوئی شادی شدہ نوجوان زنا کر لے تو اس کو رجم کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8455

۔ (۸۴۵۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ آیَۃُ الرَّجْمِ، وَرَضَعَاتُ الْکَبِیرِ عَشْرًا، فَکَانَتْ فِی وَرَقَۃٍ تَحْتَ سَرِیرٍ فِی بَیْتِی، فَلَمَّا اشْتَکٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِہِ، وَدَخَلَتْ دُوَیْبَّۃٌ لَنَا فَأَکَلَتْہَا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۴۷)
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں رجم کی آیت اور بڑے آدمی کے لئے دس دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت کرنے والی آیت،یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ میں پڑی تھیں، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمارہوئے اور ہم آپ کے ساتھ مشغول ہوگئے تو ہمارا ایک جانور اندر داخل ہوا اور وہ ورقہ کھا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8456

۔ (۸۴۵۶)۔ عَنْ زِرٍّ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَ مَرَنِی أَ نْ أَ قْرَأَ عَلَیْکَ۔))، قَالَ: فَقَرَأَ عَلَیَّ {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُم الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} قَالَ شُعْبَۃُ: ثُمَّ قَرَأَ آیَاتٍ بَعْدَہَا، ثُمَّ قَرَأَ {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} قَالَ: ثُمَّ خَتَمَہَا بِمَا بَقِیَ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۲۲)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پرسورۂ بینہ کی تلاوت کی: {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَـہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} شعبہ راوی نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد مزید آیات پڑھیں، پھر اس آیت کی تلاوت کی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} پھر سورت کے باقی حصے کے ذریعے اس کی تکمیل کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8457

۔ (۸۴۵۷)۔ عَنْ أَ بِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ قَالَ: کُنَّا نَأْتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ فَیُحَدِّثُنَا، فَقَالَ لَنَا ذَاتَ یَوْمٍ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۵۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8458

۔ (۸۴۵۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَ رْقَمَ قَالَ: لَقَدْ کُنَّا نَقْرَأُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ}۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۵)
۔ سیدنا ابوواقد لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کوئی حکم نازل ہوتا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم کو بیان کرتے، ایک روز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے فرمایا ہے: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ …بیشک ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے لیے مال اتاراہے، اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تو یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی ہو، اگر اس کے لئے دو وادیاں ہوں، تو وہ پسند کرتا ہے کہ تیسری بھی ہو جائے، دراصل آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف توبہ کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8459

۔ (۸۴۵۹)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی عُمَرَ یَسْأَ لُہُ، فَجَعَلَ یَنْظُرُ إِلٰی رَأْسِہِ مَرَّۃً وَإِلٰی رِجْلَیْہِ أُخْرٰی، ہَلْ یَرٰی عَلَیْہِ مِنَ الْبُؤْسِ شَیْئًا؟ ثُمَّ قَالَ لَہُ عُمَرُ: کَمْ مَالُکَ؟ قَالَ: أَ رْبَعُونَ مِنْ الْإِبِلِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغَی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ} فَقَالَ عُمَرُ: مَا ہٰذَا؟ فَقُلْتُ: ہٰکَذَا أَ قْرَأَ نِیہَا أُبَیٌّ، قَالَ: فَمَرَّ بِنَا إِلَیْہِ، قَالَ: فَجَائَ إِلٰی أُبَیٍّ، فَقَالَ: مَا یَقُولُ ہٰذَا؟ قَالَ أُبَیٌّ: ہٰکَذَا أَ قْرَأَ نِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَ فَأُثْبِتُہَا فَأَ ثْبَتَہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۲۸)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں یہ آیات پڑھا کرتے تھے: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} اگرآدم کے بیٹے کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، آدم کے بیٹے کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8460

۔ (۸۴۶۰)۔ عَنْ أَ نَسٍ قَالَ: مَا وَجَدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی سَرِیَّۃٍ مَا وَجَدَ عَلَیْہِمْ، کَانُوا یُسَمَّوْنَ الْقُرَّائَ، قَالَ سُفْیَانُ: نَزَلَ فِیہِمْ {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} قِیلَ لِسُفْیَانَ: فِیمَنْنَزَلَتْ؟ قَالَ: فِی أَہْلِ بِئْرِ مَعُونَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، آپ ؓکبھی تو اس کے سر کی جانب دیکھتے اور کبھی اس کے پائوں کی طرف دیکھتے کہ اس پر تنگدستی کی کوئی علامت بھی ہے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تیرا کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: چالیس اونٹ ہیں، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغٰی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} … اگر آدم کے بیٹے کی سونے کی دو وادیاں ہوں، تو یہ تیسری تلاش کرتا ہے، آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس سے گزرے اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایسے ہییہ آیات پڑھائیں تھیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر کیا میں ان کو برقرار رکھوں، پس پھر انھوں نے ان کو برقرار رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8461

۔ (۸۴۶۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہٗمِنَالنَّارِ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۲۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8462

۔ (۸۴۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ، مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ، فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ، فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء َ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ، یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَ لْبَابِ} [آل عمران: ۷] فَإِذَا رَأَیْتُمُ الَّذِینَیُجَادِلُونَ فِیہِ، فَہُمُ الَّذِینَ عَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8463

۔ (۸۴۶۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا أَ خَافُ عَلٰی أُمَّتِی الْکِتَابَ وَاللَّبَنَ۔)) قَالَ: قِیلَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا بَالُ الْکِتَابِ؟ قَالَ: ((یَتَعَلَّمُہُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ یُجَادِلُونَ بِہِ الَّذِینَ آمَنُوا۔)) فَقِیلَ: وَمَا بَالُ اللَّبَنِ؟ قَالَ: ((أُنَاسٌ یُحِبُّونَ اللَّبَنَ، فَیَخْرُجُونَ مِنْ الْجَمَاعَاتِ، وَیَتْرُکُونَ الْجُمُعَاتِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۵۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر علم کے قرآن مجید کے بارے میں بات کی، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8464

۔ (۸۴۶۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((ہَلَاکُ أُمَّتِی فِی الْکِتَابِ وَاللَّبَنِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا الْکِتَابُ وَاللَّبَنُ؟ قَالَ: ((یَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَیَتَأَ وَّلُونَہُ عَلٰی غَیْرِ مَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَیُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَیَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَیَبْدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۵۱)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان سے بچو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8465

۔ (۸۴۶۵)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنِّی أَ خَافُ عَلٰی أُمَّتِی اثْنَتَیْنِ الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ، أَ مَّا اللَّبَنُ فَیَبْتَغُونَ الرِّیفَ وَیَتَّبِعُونَ الشَّہَوَاتِ وَیَتْرُکُونَ الصَّلَوَاتِ، وَأَ مَّا الْقُرْآنُ فَیَتَعَلَّمُہُ الْمُنَافِقُونَ فَیُجَادِلُونَ بِہِ الْمُؤْمِنِینَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۵۷)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر کتاب اور دودھ کے بارے میں ڈر ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے منافق بھی سیکھتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ایمانداروں سے جھگڑتے ہیں۔ پھر کسی نے کہا: دودھ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ دودھ پینے کے لئے باہر وادیوں میں چلے جائیں گے اور جماعت سے خارج ہو جائیں گے اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8466

۔ (۸۴۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّیَقُولُ: کُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَخَرَجَ عَلَیْنَا مِنْ بَعْضِ بُیُوتِ نِسَائِہِ، قَالَ: فَقُمْنَا مَعَہُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُہُ فَتَخَلَّفَ عَلَیْہَا عَلِیٌّیَخْصِفُہَا، فَمَضٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَضَیْنَا مَعَہُ، ثُمَّ قَامَ یَنْتَظِرُہُ وَقُمْنَا مَعَہُ، فَقَالَ: ((إِنَّ مِنْکُمْ مَنْ یُقَاتِلُ عَلٰی تَأْوِیلِ ہٰذَا الْقُرْآنِ کَمَا قَاتَلْتُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا قَاتَلَ) عَلٰی تَنْزِیلِہِ))، فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِینَا أَ بُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّہُ خَاصِفُ النَّعْلِ۔)) قَالَ: فَجِئْنَا نُبَشِّرُہُ، قَالَ: وَکَأَ نَّہُ قَدْ سَمِعَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۵)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میری امت کی ہلاکت کا باعث کتاب اور دودھ ہے لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! کتاب اور دودھ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کریں گے اور جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا ہے اس کے علاوہ غلط تاویلیں کریں گے اورجانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو کر دیہاتوں میں چلے جائیں گے اورجماعت اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8467

۔ (۸۴۶۷)۔ عَنْ أَ بِی أُمَامَۃَ الْبَاھِلِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ (وَفِی رِوَایَۃٍ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ مِنَ اللَّیْلِ) کَبَّرَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۲)
۔ سیدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میں اپنی امت پر دو چیزوں کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن مجید اوردودھ، لوگ ہریالی، سبزہ تلاش کریں گے خواہشات کی پیروی کریں گے نمازیں چھوڑ دیں گے اورقرآن مجید منافق قسم کے لوگ سیکھیں گے اور اس کو ذریعہ بنا کر ایمانداروں سے جھگڑیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8468

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کررہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک بیوی کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی مرمت کے لئے پیچھے رک گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے رہے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلتے رہے، پھر آپ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ اس قرآن مجید کی تاویل و تفسیر کے مطابق لڑیں، جیسے میں لڑا ہوں۔ ہم نے گردنیں اٹھا کر دیکھا کیونکہ ہمارے اندر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ آدمی تو جوتا مرمت کرنے والا ہے۔ پس ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خوشخبری سنانے کے لیے ان کے پاس گئے، تو گویا اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ پہلے ہی سنے ہوئے تھے (اس لیے خوشی کا اظہار نہیں کیا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8469

۔ (۸۴۶۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ بِاَطْوَلَ مِنْ ھٰذَا وَفِیْہِ: ثُمَّ یَقُوْلُ: ((اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۱۴۹۳)
۔ سیّدناابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میںداخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ او رتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8470

۔ (۸۴۷۰)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلَیْنِ وَہُمَا یَتَقَاوَلَانِ، وَأَحَدُہُمَا قَدْ غَضِبَ وَاشْتَدَّ غَضَبُہُ وَہُوَ یَقُولُ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّی لَأَ عْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَہَا ذَہَبَ عَنْہُ الشَّیْطَانُ۔)) قَالَ: فَأَ تَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: ((قُلْ أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ)) قَالَ: ہَلْ تَرٰی بَأْسًا، قَالَ: مَا زَادَہُ عَلٰی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۷)
۔ سیدنا سلیمان بن صرد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو آدمیوں کو سنا جو آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے باتیں کر رہے تھے، ان میں سے ایک غضب ناک ہوگیا اورسخت غصہ میں آ گیا اور اپنے ساتھی کو برا بھلا کہنے لگا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے، اگر یہ کہے گا تو اس کا شیطان دور چلا جائے گا۔ یہ سن کر ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہا: تو یہ کلمہ کہہ: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ، لیکن اس نے آگے سے کہا: کیا تو مجھے پاگل سمجھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8471

۔ (۸۴۷۱)۔ عَنْ أَ بِی تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیِّ عَنْ رِدْفِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَ وْ مَنْ حَدَّثَہُ عَنْ رِدْفِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہُ کَانَ رِدْفَہُ (خَلْفَہُ عَلٰی ظَہْرِ الدَّابَّۃِ)، فَعَثَرَتْ بِہِ دَابَّتُہُ فَقَالَ: تَعِسَ الشَّیْطَانُ، فَقَالَ: ((لَا تَفْعَلْ فَإِنَّہُ یَتَعَاظَمُ إِذَا قُلْتَ ذٰلِکَ حَتّٰییَصِیرَ مِثْلَ الْجَبَلِ، وَیَقُولُ: بِقُوَّتِی صَرَعْتُہُ، وَإِذَا قُلْتَ بِسْمِ اللّٰہِ تَصَاغَرَ حَتّٰییَکُونَ مِثْلَ الذُّبَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۸۰)
۔ ابو تمیمہ ہجیمی سے مروی ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ردیف سے بیان کرتے ہیں کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، اچانک جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری پھسلی تو اس نے کہا: شیطان کا ستیاناس ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہو، اس طرح سے وہ خود کو بڑا سمجھتا ہے یہاں تک کہ وہ خوشی سے پھول کر پہاڑ جتناہو جاتا ہے اور کہتاہے میں نے اپنی قوت سے اسے گرا دیا ہے، لیکن جب تم بسم اللہ کہو گے تووہ چھوٹا ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ مکھی کے برابر ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8472

۔ (۸۴۷۲)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ أَ نَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: کَانَ یَقْطَعُ قِرَائَتَہٗآیَۃً آیَۃً، {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔} (مسند احمد: ۲۷۱۱۸)
۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایک آیت پر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے :{بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔} (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایک آیت پر ٹھہر تے تھے)۔

آیت نمبر