Musnad Ahmad

Search Results(1)

149)

149) نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8473

۔ (۸۴۷۳)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَہُوَ یُصَلِّی فَقَالَ: ((یَا أُبَیُّ!)) فَالْتَفَتَ فَلَمْ یُجِبْہُ، ثُمَّ صَلّٰی أُبَیٌّ فَخَفَّفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَیْکَ، أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَعَلَیْکَ۔)) قَالَ: ((مَا مَنَعَکَ أَ یْ أُبَیُّ إِذْ دَعَوْتُکَ أَ نْ تُجِیبَنِی؟۔)) قَالَ: أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! کُنْتُ فِی الصَّلَاۃِ، قَالَ: ((أَ فَلَسْتَ تَجِدُ فِیمَا أَ وْحَی اللّٰہُ إِلَیَّ أَ نْ {اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} قَالَ: قَالَ: بَلٰی أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! لَا أَ عُودُ، قَالَ: ((أَ تُحِبُّ أَ نْ أُعَلِّمَکَ سُورَۃً، لَمْ تَنْزِلْ فِی التَّوْرَاۃِ، وَلَا فِی الزَّبُورِ، وَلَا فِی الْإِنْجِیلِ، وَلَا فِی الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّی لَأَ رْجُو أَ نْ لَا تَخْرُجَ مِنْ ہٰذَا الْبَابِ حَتّٰی تَعْلَمَہَا۔)) قَالَ: فَأَ خَذَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِییُحَدِّثُنِی وَأَ نَا أَتَبَطَّأُ مَخَافَۃَ أَ نْ یَبْلُغَ قَبْلَ أَ نْ یَقْضِیَ الْحَدِیثَ، فَلَمَّا أَ نْ دَنَوْنَا مِنْ الْبَابِ قُلْتُ: أَیْ رَسُولَ اللّٰہِ! مَا السُّورَۃُ الَّتِی وَعَدْتَنِی؟ قَالَ: ((فَکَیْفَ تَقْرَأُ فِی الصَّلَاۃِ؟)) قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَیْہِ أُمَّ الْقُرْآنِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فِی التَّوْرَاۃِ، وَلَا فِی الْاِنْجِیْلِ، وَلَا فِی الزُّبُوْرِ، وَلَا فِی الْفُرْقَانِ مِثْلَہَا، وَاِنَّہَا لَلسَّبْعُ مِنَ الْمَثَانِیْ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ بِلَفْظٍ: ((اِنَّہَا السَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ الَّذِیْ اُعْطِیْتُ۔)) (مسند احمد: ۹۳۳۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر بلایا: اے ابی ! انہوں نے توجہ تو کی، لیکن جواب نہ دے سکے، پھر انھوں نے تخفیف کے ساتھ نماز مکمل کی اور بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! السلام علیک، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پر سلامتی ہو، اے ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہاتھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ وحی نہیں سنی {اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} … اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند کرو گے کہ میں تمہیں وہ سورت سکھائوں کہ اس جیسی سورت نہ تو تورات میں نازل ہوئی ہے، نہ زبور میں، نہ انجیل اور نہ قرآن مجید میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ضرورسکھائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں تم اس دروازہ سے باہر نہ جائو گے کہ تم کو وہ سکھلا دوں گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے باتیں کرنا شروع کر دیں، میں اس خوف سے آہستہ آستہ چل رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ باتیں ختم ہونے سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے پر پہنچ جائیں، پھر جب ہم دروازے کے قریب ہوئے تومیں نے کہہ دیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کونسی سورت ہے، جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ میں نے جواباً سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالی نے اس جیسی سورت نہ تورات میں نازل میں کی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن مجید میں۔یہی وہ سات دہرائی جانے والی آیات ہیں اور یہی قرآن عظیم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8474

۔ (۸۴۷۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ اُمِّ الْقُرْآنِ: ((ھِیَ اُمُّ الْقُرْآنِ، وَھِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِیْ، وَھِیَ الْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے بارے میں فرمایا: یہی وہ سات آیات ہیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں اور اسی سورت کو قرآن عظیم کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8474

۔ (۸۴۷۴م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اُمُّ الْقُرْآنِ، وَاُمُّ الْکِتَابِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِی۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۹)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ ام القرآن ہے، ام الکتاب ہے اور بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8475

۔ (۸۴۷۵)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدِ بْنِ الْمُعَلَّی قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّی فَمَرَّ بِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَانِی فَلَمْ آتِہِ حَتّٰی صَلَّیْتُ ثُمَّ أَ تَیْتُہُ، فَقَالَ: ((مَا مَنَعَکَ أَ نْ تَأْتِیَنِی؟۔)) فَقَالَ: إِنِّی کُنْتُ أُصَلِّی، قَالَ: ((أَ لَمْیَقُلِ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} ثُمَّ قَالَ: أَ لَا أُعَلِّمُکُمْ أَ عْظَمَ سُورَۃٍ فِی الْقُرْآنِ قَبْلَ أَ نْ أَ خْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ؟)) قَالَ: فَذَہَبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیَخْرُجَ فَذَکَّرْتُہُ، فَقَالَ: (({الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ}، ہِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنُ الْعَظِیمُ الَّذِی أُوتِیتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۲۱)
۔ سیدنا ابو سعید بن معلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے اور مجھے بلایا، لیکن میں تو نہ آ سکا، حتیٰ کہ میں نے نماز مکمل کی اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ میں نے کہا: جی میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: کیا اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} … اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت نہ سکھائوں؟ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یاد کرایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سورۂ فاتحہ ہے،یہی وہ سات آیتیں ہیں اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8476

۔ (۸۴۷۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الَا اُخْبِرُکَ یَا عَبْدَاللّٰہِ بْنَ جَابِرٍ! بِخَیْرِ سُوْرَۃٍ فِی الْقُرْاٰنِ؟)) قُلْتُ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِقْرَاْ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}۔ حَتّٰی تَخْتِمَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن جابر! کیا میں تمہیں قرآن مجید کی بہترین سورت نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑھو {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ…}، یہاں تک کہ اس کو پورا کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8477

۔ (۸۴۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فِی التَّوْرَاۃِ وَلَا فِی الْاِنْجِیِْلِ مِثْلَ اُمِّ الْقُرْآنِ، وَھِی السَّبْعُ الْمَثَانِیْ، وَھِیَ مَقْسُوْمَۃٌ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ، وَلِعَبْدِیْ مَا سَاَلَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۱۰)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سورۂ فاتحہ جیسی سورت نہ تورات میںنازل کی اور نہ انجیل میں،یہی بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ہیں اور یہ سورت میں (اللہ) اور میرے بندے کے درمیان تقسیم کی گئی ہے اور میرے بندے کے لیے وہی کچھ ہے، جو اس نے سوال کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8478

۔ (۸۴۷۸)۔ عَنْ بُدَیْلٍ الْعُقَیْلِیِّ، أَ خْبَرَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ شَقِیقٍ أَ نَّہُ أَ خْبَرَہُ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَہُوَ بِوَادِی الْقُرٰی، وَہُوَ عَلٰی فَرَسِہِ، فَسَأَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِینَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ قَالَ: ((ہٰؤُلَائِ الْمَغْضُوبُ عَلَیْہِمْ۔))، وَأَ شَارَ إِلَی الْیَہُودِ، قَالَ: فَمَنْ ہٰؤُلَائ؟ِ قَالَ: ((ہٰؤُلَائِ الضَّالِّینَ۔)) یَعْنِی النَّصَارٰی، قَالَ: وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ: اسْتُشْہِدَ مَوْلَاکَ، أَ وْ قَالَ: غُلَامُکَ فُلَانٌ، فَقَالَ: ((بَلْ یُجَرُّ إِلَی النَّارِ فِی عَبَائَۃٍ غَلَّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۱۶)
۔ عبداللہ بن شفیق سے مروی ہے، وہ کسی صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی ٔ قری میں اپنے گھوڑے پر سوار تھے، بلقین کے ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر غضب ہوا۔ ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں کی طرف اشارہ کیا۔ پھر اس آدمی نے کہا: اور یہ لوگ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی گمراہ ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد عیسائی لوگ تھے۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ کا غلام شہید ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلکہ ایک چادر کی خیانت کرنے کی وجہ سے اس کو آگ کی طرف گھسیٹا جا رہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8479

۔ (۸۴۷۹)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَغْضُوْبَ عَلَیْہِمُ الْیَہُوْدُ، وَاِنَّ الضَّالِّیْنَ النَّصَارٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۰۰)
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن پر غضب ہوا وہ یہودی ہیں اورجو گمراہ ہوئے، وہ عیسائی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8480

۔ (۸۴۸۰)۔ عَنْ أَ بِی أُمَامَۃَ حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: تَعَلَّمُوْا) فَإِنَّہُ شَافِعٌ لِأَ صْحَابِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اقْرَء ُوا الزَّہْرَاوَیْنِ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، فَإِنَّہُمَا یَأْتِیَانِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، کَأَ نَّہُمَا غَمَامَتَانِ أَ وْ کَأَ نَّہُمَا غَیَایَتَانِ، أَ وْ کَأَ نَّہُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ یُحَاجَّانِ عَنْ أَ ہْلِہِمَا۔))، ثُمَّ قَالَ: ((اقْرَئُ وْا الْبَقَرَۃَ فَإِنَّ أَخْذَہَا بَرَکَۃٌ، وَتَرْکَہَا حَسْرَۃٌ، وَلَا یَسْتَطِیعُہَا الْبَطَلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۹۸)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھو اور سیکھو، کیونکہیہ روزِ قیامت پڑھنے والوں کے حق میں سفارش کرے گا اور دو چمکدار سورتیںیعنی سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھاکرو، کیونکہیہ روز قیامت دو بادلوںیا دو سایوں کی مانند ہوں گییایہ پر پھیلائے ہوئے پرندوں کی دو غولوں کی مانند ہوں گی، اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ بقرہ پڑھا کرو، اسے حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اسے چھوڑنا باعث حسرت ہے، جادو گر اس پر طاقت نہیں رکھ سکتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8481

۔ (۸۴۸۱)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِیَّیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یُؤْتٰی بِالْقُرْآنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَ ہْلِہِ الَّذِینَ کَانُوا یَعْمَلُونَ بِہِ، تَقَدَّمُہُمْ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ))، وَضَرَبَ لَہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَ مْثَالٍ مَا نَسِیتُہُنَّ بَعْدُ قَالَ: ((کَأَ نَّہُمَا غَمَامَتَانِ أَ وْ ظُلَّتَانِ أَ وْ سَوْدَاوَانِ بَیْنَہُمَا شَرْقٌ، کَأَ نَّہُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَّافَ یُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِہِمَا)) (مسند احمد: ۱۷۷۸۷)
۔ سیدنا نواس بن سمعان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت قرآن مجید کو او راس پر عمل کرنے والوں کو لایا جائے گا، سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران ان کے آگے آگے ہوںگی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دو سورتوں کی تین مثالیں بیان کیں، جنہیں میں ابھیتک نہیں بھولا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گویا کہ یہ دو سورتیں دو بادل ہوں گی،یا دو سائے یا دو اندھیرا نما (سائے)، جن میں روشنی ہو گی، گویا کہ یہ دو پر پھیلانے والے پرندوں کی دو جماعتوں کی مانند ہوں گی اور اپنے پڑھنے والوں کے لئے دفاع کریں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8482

۔ (۸۴۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَ بِیہِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((تَعَلَّمُوا سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ، فَإِنَّ أَ خْذَہَا بَرَکَۃٌ، وَتَرْکَہَا حَسْرَۃٌ، وَلَا یَسْتَطِیعُہَا الْبَطَلَۃُ۔))، قَالَ: ثُمَّ مَکَثَ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ: ((تَعَلَّمُوا سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّہُمَا الزَّہْرَاوَانِ، یُظِلَّانِ صَاحِبَہُمَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، کَأَ نَّہُمَا غَمَامَتَانِ أَ وْ غَیَایَتَانِ أَ وْ فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ یَلْقٰی صَاحِبَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حِینَیَنْشَقُّ عَنْہُ قَبْرُہُ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ، فَیَقُولُ لَہُ: ہَلْ تَعْرِفُنِی؟ فَیَقُولُ: مَا أَ عْرِفُکَ، فَیَقُولُ لَہُ: ہَلْ تَعْرِفُنِی؟ فَیَقُولُ: مَا أَ عْرِفُکَ، فَیَقُولُ: أَ نَا صَاحِبُکَ الْقُرْآنُ الَّذِی أَ ظْمَأْتُکَ فِی الْہَوَاجِرِ، وَأَ سْہَرْتُ لَیْلَکَ، وَإِنَّ کُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَائِ تِجَارَتِہِ، وَإِنَّکَ الْیَوْمَ مِنْ وَرَائِ کُلِّ تِجَارَۃٍ، فَیُعْطَی الْمُلْکَ بِیَمِینِہِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِہِ، وَیُوضَعُ عَلٰی رَأْسِہِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَیُکْسٰی وَالِدَاہُ حُلَّتَیْنِ لَا یُقَوَّمُ لَہُمَا أَ ہْلُ الدُّنْیَا، فَیَقُولَانِ بِمَ کُسِینَا ہٰذِہِ؟ فَیُقَالُ: بِأَ خْذِ وَلَدِکُمَا الْقُرْآنَ، ثُمَّ یُقَالُ لَہُ: اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِی دَرَجَۃِ الْجَنَّۃِ وَغُرَفِہَا، فَہُوَ فِی صُعُودٍ مَا دَامَ یَقْرَأُ ہَذًّا کَانَ أَ وْ تَرْتِیلًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۳۸)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سورۂ بقرہ سیکھو، اس کی تعلیم حاصل کرنا باعث ِ برکت ہے اور اسے چھوڑنا باعث ِ حسرت ہے، باطل پرست اس پر غالب نہیں آ سکتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئے اور پھر فرمایا: سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران سیکھو،یہ دونوں چمکدار اور خوبصورت سورتیں ہیں،یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کواس طرح ڈھانپ لیں گی گویا کہ دو بادل ہوں یا دو سایہ دار چیزیںیا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو غول ہوںاور یقیناقرآن مجید قیامت کے دن تلاوت کرنے والے کو اس وقت ملے گا، جب اس کی قبر پھٹے گی، وہ کمزور اوررنگت تبدیل شدہ آدمی کی مانند ہوگا اور بندے سے کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا: میں نہیں پہچانتا، قرآن پھر کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ یہ کہے گا: میں نہیں پہچانتا، وہ کہے گا: میں تیرا ساتھی قرآن ہوں، جس نے تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا اورتجھے رات کو جگاتا رہا، آج ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے (یعنی ہر تاجر اپنی تجارت سے نفع حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے) اور آج تو ہر تجارت کے پیچھے ہو۔ (یعنی آج تجھے ہر تجارت سے بڑھ کر فائدہ حاصل ہوگا) پھر اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائیگی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو عمدہ پوشاکیں پہنائی جائیں گی، وہ اس قدر بیش قیمت ہوں گی کہ دنیا ومافیہا (کی قیمت) ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ پوشاکیں ہمارے لیے کیوں ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ تمہارے بیٹے کے قرآن پڑھنے کی وجہ سے پہنایا گیا ہے، پھر اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور جنت کی منزلیں طے کرتا جا، وہ جنت کے بالا خانوں میں چڑھتا جائے گا، جب تک پڑھتا جائے گا، چڑھتا جائے گا، تیز پڑھے یا آہستہ پڑھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8483

۔ (۸۴۸۳)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْبَقَرَۃُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُہُ، نَزَلَ مَعَ کُلِّ آیَۃٍ مِنْہَا ثَمَانُونَ مَلَکًا وَاسْتُخْرِجَتْ {لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ، فَوُصِلَتْ بِہَا أَوْ فَوُصِلَتْ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ، وَیٰسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا یَقْرَؤُہَا رَجُلٌ یُرِیدُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ إِلَّا غُفِرَ لَہُ، وَاقْرَئُ وْہَا عَلٰی مَوْتَاکُمْ)) (مسند احمد: ۲۰۵۶۶)
۔ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ بقرہ قرآن مجید کی کوہان اور اس کی چوٹی ہے، اس کی ہر آیت کے ساتھ اسی (۸۰) فرشتے نازل ہوئے اور اس کی آیت {لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} کو عرش الٰہی کے نیچے سے نکالا گیا اور اور پھر اس کو سورۂ بقرہ کے ساتھ ملا دیا گیا۔ سورۂ یٰسین، قرآن مجید کا دل ہے، جو بھی اسے اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اور آخرت کے ثواب کے لئے پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا، اپنے قریب المرگ لوگوں کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8484

۔ (۸۴۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَال: لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَیَفِرُّ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِیْیُقْرَئُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔ (مسند احمد: ۷۸۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو، شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے، جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔

آیت نمبر