Musnad Ahmad

Search Results(1)

15)

15) پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 725

۔ (۷۲۵)۔عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ ہَمَّامٍ قَالَ: بَالَ جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِؓ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقِیْلَ لَہُ: تَفْعَلُ ھٰذَا وَقَدْ بُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، قَالَ اِبْرَاہِیْمُ: فَکَانَ یُعْجِبُہُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثُ لِأَنَّ اِسْلَامَ جَرِیْرٍ کَانَ بَعدَ نُزُوْلِ الْمَائِدَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۴۷)
ہَمَّام کہتے ہیں: سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ کسی نے ان سے کہا: آپ یہ مسح کر رہے ہیں، جبکہ آپ نے تو پیشاب بھی کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگوں کو یہ حدیث بہت پسند آتی تھی، کیونکہ سیدنا جریرؓ سورۂ مائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 726

۔ (۷۲۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْخُفَّینِ، فَاسْأَلُوْا ہَؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسَحَ قَبْلَ نُزُوْلِ الْمَائِدَۃِ أَو بَعْدَ نُزُوْلِ الْمَائِدَۃِ، وَاللّٰہِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَۃِ، وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلٰی ظَہْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاۃِ أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۹۷۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں پر مسح کیا، یہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن ان لوگوں سے پوچھو تو سہی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سورۂ مائدہ کے نزول سے پہلے مسح کیا یا بعد میں، اللہ کی قسم ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سورۂ مائدہ کے بعد مسح نہیں کیا، مجھے تو موزوں پر مسح کرنے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند ہے کہ جنگل میں کسی راہ گیر کی کمر پر ہاتھ پھیر لوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 727

۔ (۷۲۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ أَ نَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِیْ وَقَّاصٍ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ بِالْعِرَاقِ حِیْنَ یَتَوَضَّأُ، فَأَنْکَرْتُ ذَالِکَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ لِیْ: سَلْ أَبَاکَ عَمَّا أَنْکَرْتَ عَلَیَّ مِنْ مَسْحِ الْخُفَّینِ، قَالَ: فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: اِذَا حَدَّثَکَ سَعْدٌ بِشَیْئٍ فَلَا تَرُدَّ عَلَیہِ، فَاِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَمْسَحُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۸۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عراق میں سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھا کہ جب وہ وضو کرتے تو موزوں پر مسح کرتے تھے، میں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا، پھر ہوا یوں کہ جب ہم سیدنا عمر بن خطابؓ کے پس جمَعَ ہوئے تو انھوں نے مجھے کہا: موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں مجھ پر جو انکار کیا تھا، ذرا اس کے بارے میں اپنے باپ سے پوچھو۔ پس میں نے یہ بات اپنے باپ سیدنا عمر ؓ کے لیے ذکر کی، انھوں نے جواباً کہا: جب سیدنا سعد ؓتم کو کوئی چیز بیان کریں تو اس کا ردّ نہ کیا کرو، کیونکہ بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ موزوں پر مسح کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 728

۔ (۷۲۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا عُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَی ابْنُ عُمَرَ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَاِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ ہَذَا؟ فَقَالَ سَعْدٌ: نَعَمْ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ ؓ، فَقَالَ سَعْدٌ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اَفْتِ ابْنَ أَخِیْ فِی الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ، فَقَالَ عُمَرُ ؓ: کُنَّا وَنَحْنُ مَعَ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَمْسَحُ عَلٰی خِفَافِنَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ؓ: وَاِنْ جَائَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَولِ؟ فَقَالَ عُمَرُ ؓ: نَعَمْ وَاِنَ جَائَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، قَالَ نَافِعٌ: فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَالِکَ یَمْسَحُ عَلَیْہِمَا مَا لَمْ یَخْلَعْہُمَا وَمَا یُوَقِّتُ لِذَالِکَ وَقْتًا، قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: فَحَدَّثْتُ بِہِ مَعْمَرًا فَقَالَ: حَدَّثَنِیْہِ أَیُّوْبُ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۷)
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے سیدنا سعد ؓ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھ کر کہا: تم لوگ بھی یہ مسح کرتے ہو؟ انھوںنے کہا: جی ہاں۔ پھر جب ہم سیدنا عمرؓ کے پاس جمع ہوئے تو سیدنا سعد ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے بھتیجے (ابن عمر) کو موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں فتوی دو۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: اگرچہ بندہ پیشاب اور پائخانہ سے فارغ ہو کر آیا ہو؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: جی ہاں، اگرچہ وہ پیشاب اور پائخانہ کر کے آیا ہو۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر ؓ جب تک موزے اتارتے نہیں تھے، اس وقت تک ان پر مسح کرتے رہتے تھے اور اس کے لیے وقت کی کسی مقدار کا تعین بھی نہیں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 729

۔ (۷۲۹)۔عَنْ بِلَالٍ ؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی الْمُوْقَیْنِ وَالْخِمَارِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۱۴)
سیدنا بلالؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 730

۔ (۷۳۰)۔عَنْ عُمَرَؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ الْحَدَثِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی الْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۸)
سیدنا عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو ٹوٹ جانے کے بعد وضو کیا اور اس میں موزوں پر مسح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 731

۔ (۷۳۱)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ فِی السَّفَرِ۔ (مسند أحمد: ۳۸۷)
سیدنا عمرؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سفر میں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 732

۔ (۷۳۲)۔عَنْ عَمْرِوبْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَالْخِمَارِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۸۴۹)
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 733

۔ (۷۳۳)۔عَنْ بِلَالٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: امْسَحُوْا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَسَحَ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَالْخِمَارِ)۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۸۹)
سیدنا بلالؓ سے مروی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: موزوں اور پگڑی پر مسح کرو۔ (ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا )۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 734

۔ (۷۳۴)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ (الْأَسْلَمِیِّ) عَن أَبِیْہِ، أَنَّ النَّجَاشِیَّ أَہْدٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُفَّیْنِ أَسْوَدَیْنِ سَاذَجَیْنِ فَلَبِسَہُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۳۳۶۹)
سیدنا بریدہ اسلمیؓ سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کالے رنگ کے دو سادے موزے بطورِ تحفہ بھیجے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ پہنے اور وضوکرتے وقت ان پر مسح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 735

۔ (۷۳۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَاصٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ: ((لَا بَأْسَ بِذَالِکَ)) (مسند أحمد: ۱۴۵۲)
سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں پر مسح کرنے کے بارے فرمایا: ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 736

۔ (۷۳۶)۔عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا أَیُّوْبَ نَزَعَ خُفَّیْہِ فَنَظَرُوْا اِلَیْہِ فَقَالَ: أَمَا اِنِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلَیْہِمَا وَلٰکِنِّیْ حُبِّبَ اِلَیَّ الْوُضُوْئُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۷۱)
علی بن مدرک کہتے ہے: میں نے سیدنا ابو ایوبؓ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے موزے اتار دیئے، جب لوگوں نے (اعتراض کی نگاہ سے) دیکھا تو انھوں نے کہا: خبردار! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن مجھے پاؤں کو دھونا پسند ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 737

۔ (۷۳۷)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِؓ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: رَأَیْتُکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! صَنَعْتَ الْیَوْمَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ، قَالَ: ((عَمَدًا صَنَعْتُہُ یَا عُمَرُ)) (مسند أحمد: ۲۳۳۶۱)
سیدنا بریدہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فتح مکہ والے دن وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، سیدنا عمر ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کہا: اے اللّٰہُ کے رسول! آپ نے آج ایسا کام کیا ہے، جو پہلے نہیں کرتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عمر! میں نے عمداً ایسے کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 738

۔ (۷۳۸)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا أَنْزِ عُ خُفَّیْکَ؟ قَالَ: ((لَا، اِنِّیْ أَدْخَلْتُہُمَا وَہُمَا طَاہِرَتَانِ ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِیًا بَعْدُ۔)) ثُمَّ صَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ۔ (مسند أحمد:۱۸۳۲۲)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کووضو کروایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے چہرہ اور بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے موزوں پر بھی مسح کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے موزوں اتار نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: جی نہیں، جب میں نے یہ پہنے تھے تو میرے پاؤں پاک تھے اور اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ فجر ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 739

۔ (۷۳۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ سَافَرَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَادِیًا فَقَضٰی حَاجَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاہُ فَتَوَضَّأَ فَخَلَعَ خُفَّیْہِ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ وَجَدَ رِیْحًا بَعْدَ ذَالِکَ فَعَادَ فَخَرَجَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! نَسِیْتَ لَمْ تَخْلَعِ الْخُفَّیْنِ؟ قَالَ: ((کَلَّا، بَلْ أَنْتَ نَسِیْتَ، بِھٰذَا أَمَرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۳۲۶)
سیدنا مغیرہؓ سے ہی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک وادی میں داخل ہوئے، قضائے حاجت کی اور پھر باہر تشریف لے آئے اور میرے پاس آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا، لیکن جب فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو (پیٹ میں) ہوا محسوس ہوئی، اس لیے دوبارہ لوٹ گئے پھر آپ تشریف لائے اور پھر وضو کیا، لیکن اس بار موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ بھول گئے ہیں کہ موزے نہیں اتارے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہر گزنہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو، مجھے اس طرح مسح کرنے کا تو میرے ربّ نے مجھے حکم دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 740

۔ (۷۴۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَضِّئْنِیْ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِوَضُوئٍ فَاسْتَنْجٰی ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی التُّرَابِ فَمَسَحَہَا ثُمَّ غَسَلَہَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رِجْلَاکَ لَمْ تَغْسِلْہُمَا، قَالَ: ((اِنِّی أَدْخَلْتُہُمَا وَہُمَا طَاہِرَتَانِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۸۰)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے وضوء کرواؤ۔ پس میں وضو کا پانی لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کے ساتھ ملا،پھر اس کو دھویا اور وضو کیا، وضو میں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب میں نے موزے پہنے تھے تو پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس وقت باوضو تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 741

۔ (۷۴۱)۔عَنْ شُرَیْحٍ بْنِ ہَانِیئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَؓعَنِ الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ فَقَالَتْ: سَلْ عَلِیًّا فَاِنَّہُ أَعْلَمُ بِھٰذَا مِنِّیْ، کَانَ یُسَافِرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَلِیًّا فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لِلْمُسَافِرِ ثَـلَاثَۃُ أَ یَّامٍ وَلَیَالِیْہِنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۸)
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے موزوں پر مسح کی مدت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا علیؓ سے اس بارے میں سوال کرو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ پس میں نے سیدنا علی ؓ سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 742

۔ (۷۴۲)۔عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِیِّؓ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَرِیَّۃٍ فَقَالَ: ((سِیْرُوْا بِاسْمِ اللّٰہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تُقَاتِلُوْنَ أَعْدَائَ اللّٰہِ وَلَا تَغْلُوْا وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا، وَلِلمُسافِرِ ثَـلَاثَۃُ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہِنَّ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ اِذَا أَدْخَلَ رِجْلَیْہِ عَلٰی طُہُوْرٍ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۶۷)
سیدنا صفوان بن عسال مرادی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اس کے راستے میں چلو، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے جہاد کرو، غلُوّ سے بچو، بچوں کو قتل نہ کرو، مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس نے موزے وضو کی حالت میں پہنے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 743

۔ (۷۴۳)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّانَنْزِ عَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِن جَنَابَۃٍ وَلَکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۶۰)
سیدنا صفوان ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 744

۔ (۷۴۴)۔ عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((یَمْسَحُ الْمُسَافِرُ ثَـلَاثَ لَیَالٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ) وَالْمُقِیْمُ یَوْمًا وَلَیْلَۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۲۱۹۵)
سیدنا خزیمہ بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک مسح کر سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 745

۔ (۷۴۵)۔عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَلَیَالِیَہُنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔ (مسند أحمد:۲۴۴۹۵)
سیدناعوف بن مالک اشجعی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ تبوک کے موَقَعَ پر حکم دیا کہ مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 746

۔ (۷۴۶)۔عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِمْسَحُوْا عَلَی الْخِفَافِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ۔)) وَلَوِ اسْتَزَدْنَاہُ لَزَادَنَا۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۰۱)
سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تینوں دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتے ہو۔ اگر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے زیادہ (دنوں کی رخصت) کا مطالبہ کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں زیادہ رخصت دے دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 747

۔ (۷۴۷)۔ (وَعَنْہُ مِن طَرِیقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: جَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَیَوْمًا وَلَیْلَۃً لِلْمُقِیْمِ وَأَیْمُ اللّٰہِ! لَو مَضَی السَّائِلُ فِی مَسْأَلَتِہِ لَجَعَلَہَا خَمْسًا۔(مسند أحمد:۲۲۲۲۶)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسافر کے لیے تین دنوں کی اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات کی رخصت دی، اللّٰہُ کی قسم! اگر سائل مزید سوال کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانچ دنوں کی رخصت دے دینی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 748

۔ (۷۴۸)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: قَرَأْتُ فِی کِتَابٍ لِعَطَائِ بْنِ یَسَارٍ مَعَ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: فَسَأَلْتُ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ، قَالَتْ: قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَکُلُّ سَاعَۃٍ یَمْسَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَلَا یَنْزِعُہُمَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۶۴)
کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔…میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 749

۔ (۷۴۹)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی ظُہُوْرِ الْخُفَّیْنِ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: قَالَ أَبِیْ: حَدَّثَنَاہُ سُرَیْجٌ وَالْہَاشِمِیُّ أَیْضًا۔(مسند أحمد:۱۸۴۱۵)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں کی پشتوں پر مسح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 750

۔ (۷۵۰)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍؓ قَالَ: کُنْتُ أَرٰی أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَیْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاہِرِہِمَا حَتّٰی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ ظَاہِرَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۷۳۷)
سیدنا علی بن ابو طالبؓ کہتے ہیں: میری رائے تو یہ تھی کہ پاؤں کے نچلے والے حصے پر مسح کرنا، اوپر والے حصے پر مسح کرنے کی بہ نسبت زیادہ حق رکھتا ہے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ظاہری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 751

۔ (۷۵۱)۔ عَنْ عَبْدِخَیْرٍ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا ؓ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَہْرَ قَدَمَیْہِ وَقَالَ: لَولَا أَنِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْسِلُ ظُہُوْرَ قَدَمَیْہِ لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُوْنَہُمَا أَحَقُّ بِالْغُسْلِ۔ (مسند أحمد: ۱۰۱۴)
عبد ِ خیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا علیؓ کو دیکھا کہ انھوں نے پاؤں کی پشت پر مسح کیا اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پاؤں کے ظاہری حصے پر مسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں یہی سمجھتا کہ پاؤں کا نیچے والا حصہ مسح کا زیادہ حقدار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 752

۔ (۷۵۲)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ ثَنَا ثَوْرٌ عَنْ رَجَائِ ابْنِ حَیْوَۃَ عَنْ کَاتِبِ الْمُغِیْرَۃِ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَمَسَحَ أَسْفَلَ الْخُفِّ وَأَعْلَاہُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۸۳)
سیدنا مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور موزوں کے نیچے والے اور اوپر والے، دونوں حصوں پر مسح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 753

۔ (۷۵۳)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔ (مسند أحمد:۱۸۳۹۳)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 754

۔ (۷۵۴)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِیْ أَوْسٍؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْہِ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلَوۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۵۸)
سیدنا اوس بن ابی اوسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، اس میں جوتوں پر مسح کیا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 755

۔ (۷۵۵)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِیْ أَوْسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۶۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا اوس بن ابو اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور جوتوں پر مسح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 756

۔ (۷۵۶)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِیْ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی کِظَامَۃَ قَومٍ فَتَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۵۶)
۔ (تیسری سند) سیدنا اوس ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قوم کی دو کنووں کے درمیان والی نالی کے پاس گئے اور وضو کیا۔

آیت نمبر