MUSNAD AHMED

Search Results(1)

151)

151) تفسیر و اسباب نزول کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8884

۔ (۸۸۸۴)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوٰی، فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗاِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَھِجْرَتُہٗاِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ، وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗلِدُنْیَایُصِیْبُھَا، اَوِ امْرَاَۃٍیَنْکِحُھَا فَھِجْرَتُہٗاِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸ )
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، سو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اس کو پا لے گا اور جس کی ہجرت کسی عورت کے لیے ہو گی، وہ اس سے شاد ی کر لے گا، (غرضیکہ) مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہو گی، جس (کی نیت سے) وہ ہجرت کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8885

۔ (۸۸۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُبْعَثُ النَّاسُ۔)) وَرُبَمَا قَالَ شَرِیْکٌ ((یُحْشَرُ النَّاسُ)) عَلٰی نِیَّاتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۰۷۹ )
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو (قیامت والے دن) ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8886

۔ (۸۸۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ الْجُوَیْرِیَۃِ، اَنَّ مَعْنَ بْنَ یَزِیْدَ حَدَّثَہٗ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَا وَاَبِیْ وَجَدِّیْ وَخَطَبَ عَلَیَّ فَاَنْکَحَنِیْ وَخَاصَمْتُہٗاِلَیْہِ فَکَانَ اَبِیْیَزِیْدُ خَرَجَ بِدَنَانِیْرَیَتَصَدَّقُ بِھَا فَوَضَعَھَا عَنْدَ رَجُلٍ فِیْ الْمَسْجِدِ فَاَخَذْتُھَا فَاَتَیْتُہٗبِھَافَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اِیَّاکَ اَرَدْتُّ بِھَا فَخَاصَمْتُہٗاِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَکَ مَا نَوَیْتَیَایَزِیْدُ! وَلَکَ یَا مَعْنُ! مَا اَخَذْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۵۴)
۔ سیدنا معن بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ اور دادا کے ہمراہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، انھوں نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح بھی کر دیا۔ میں ان کے پاس جھگڑا لے کر گیا۔ اس کی تفصیلیہ ہے کہ میرے باپ سیدنایزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ دیناروں کا صدقہ کرنے کے لیے نکلے اور مسجد میں ایک شخص کو دے کر آ گئے (تاکہ وہ ان کی طرف سے صدقہ کردے)، لیکن ہوا یہ ہے کہ میں نے اس سے وہ دینار لے لیے اور لے کر گھر آ گیا، پس انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے یزید! تیرے لیے تیری نیت ہے اور اے معن! جو کچھ تو نے لے لیا ہے، وہ تیرے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8887

۔ (۸۸۸۷)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ ابْنُ عَمٍّ لِیْ) مَا اَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ مِنْ اِنْسَانٍ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّیْ اِلَی الْقِبْلَۃِ اَبْعَدَ بَیْتًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ، قَالَ: فَکَانَیَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ کُلَّھُنَّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہٗ: لَوِ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہٗفِیْ الرَّمْضَائِ وَالظَّلْمَائِ(زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ : وَیَقِیْکَ مِنْ ھَوَامِّ الْاَرْضِ) قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اُحِبُّ اَنَّ بَیْتِیْیَلْزَقُ بِمَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ بَیْتِیْ مُطَنَّبٌ بِبَیْتِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : فَمَا سَمِعْتُ کَلِمَۃً اَکْرَہَ اِلَیَّ مِنْھَا) قَالَ: فَاَخْبَرْتُ رَسْوُلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلَہٗعَنْذٰلِکَفَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لِکَیْمَایُکْتَبَ اَثَرِیْ وَرُجُوْعِیْ اِلٰی اَھْلِیْ وَ اِقْبَالِیْ اِلَیْہِ قَالَ: ((اَنْطَاکَ اللّٰہُ ذَالِکَ کُلَّہٗ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِنَّ لَہٗبِکُلِّخُطْوَۃٍ دَرَجَۃً)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَقَالَ: ((لَکَ مَا نَوَیْتَ اَوْ قَالَ لَکَ اَجْرُ مَا نَوَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۳۳)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک چچا زاد بھائی تھا، میرا خیال ہے کہ مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں میں اس کا گھر سب سے زیادہ دور تھا، لیکن اس کے باوجود وہ تمام نمازوں میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حاضر ہوتا تھا، ایک دن میں نے اسے کہا: اگر تم کوئیگدھا خرید لو، تاکہ گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو سکو اور کیڑے مکوڑوں سے بچ سکو، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد ِ نبوی کے ساتھ ملا ہوا ہو، ایک روایت میں ہے: مجھے تو یہ بات بھی خوش نہیں کرتی کہ میرا گھر اللہ کے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس کییہ بات مجھے سب سے زیادہ بری لگی، بہرحال میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری بات بتلا دی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! (میں چاہتا ہوں کہ جب میں مسجد کی طرف) آؤں اور پھر اپنے اہل کی طرف واپس جاؤں تو میرے قدموں کے یہ سارے نشانات لکھے جائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ سارا کچھ عطا کر دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اس شخص کے لیے ہر قدم کے بدلے درجہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تونے نیت کی ہے، یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس اجر کی تو نے نیت کی ہے، وہ تیرے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8888

۔ (۸۸۸۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤِمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ اِذْ ضَحِکَ فِیْ مَنَامِہِ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مِمَّ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: (( اِنَّ اُنَاسًا مِنْ اُمَّتِیْیَؤُمُّوْنَ ھٰذَا الْبَیْتَ، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدِ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوْا البَیْدَائَ خُسِفَ بِھِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی،یَبْعَثُھُمُ اللّٰہِ عَلٰی نِیَّاتِھِمْ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَیَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی نِیَّاتِھِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی؟ قَالَ: ((جَمَعَھُمُ الطَّرِیْقُ، مِنْھُمُ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِیّلِ، وَالْمَجْبُوْرُ، یَھْلِکُوْن مَھْلِکًا وَاحِدًا وَیَصْدُرُوْنَ مَصَادِرَ شَتّٰی۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۴۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو رہے تھے کہ اچانک نیند میں ہی مسکرانے لگے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا: ا ے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرائے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ (پر چڑھائی کرنے کا) قصد کریں گے، ان کا ہدف وہ قریشی شخص ہو گا، جو حرم میں پناہ لے چکا ہو گا، یہ لوگ جب بیداء مقام تک پہنچیں گے تو اِن سب کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن (قیامت والے دن) ان کے نکلنے کی جگہیں الگ الگ ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان کا ان کے نیتوں کے مطابق حشر کرے گا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰاِن کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا اور ان کی نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں گے، یہ کیسے ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایک راستے پر جمع ہو گئے ہوں گے، وگرنہ ان میں بعض بصیرت والے ہوں گے، بعض مسافر ہوں گے اور بعض مجبور ہوں گے، لیکن سب ایک ہلاکت گاہ میں ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف مقامات سے نکلیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8889

۔ (۸۸۸۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ عَذَابًا اَصَابَ مَنْ کَانَ فِیْھِمْ ثُمَّ بُعِثُوْا عَلٰی اَعْمَالِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتے ہیں، تو اس میں جو افراد بھی ہوں، سب اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8890

۔ (۸۸۹۰)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یُصَابُ بِبَلَائٍ فِیْ جَسَدِہِ، اِلَّا اَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَلَائِکَۃَ الَّذِیْنَیَحْفَظُوْنَہٗ، فَقَالَ: اُکْتُبْوْا لِعَبْدِیْ کُلَّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ مَا کَانَ یَعْمَلُ مِنْ خَیْرٍ، مَا کَانَ فِیْ وِثَاقِیْ۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی جسمانی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ (نیکیاں) لکھنے والے فرشتوں سے کہتے ہیں: میرا بندہ جب تک میری (آزمائش کی) قید میں ہے، تم اس وقت تک اس کے شب و روز کے نیکیوں کے معمولات لکھتے رہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8891

۔ (۸۸۹۱)۔ عَنْ عَائشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَامِنْ رَجُلٍ تَکُوْنُ لَہٗسَاعَۃٌ مِنَ اللَّیْلِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: صَلاۃٌ مِنَ اللَّیْلِ) یَقُوْْمُھَا فَیَنَامُ عَنْھَا، اِلَّا کُتِبَ لَہُ اَجْرُ صَلَاتِہِ، وَکَانَ نَوْمُہُ عَلَیْہِ صَدَقَۃً تُصُدِّقَ بِہٖعَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۴۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو کچھ وقت کے لیے قیام کرتا ہو، جب وہ اس قیام سے سو جائے تو اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس پر صدقہ ہوتی ہے، جو صدقہ اس پر کر دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8892

۔ (۸۸۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ: رَبِّ! ذَاکَ عَبْدُکَ یُرِیْدُ اَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَۃً وَھُوَ اَبْصَرُ بِہٖ،فَقَالَ: اُرْقُبُوْہُ،فَاِنْعَمِلَھَافَاکْتُبُوْھَا لَہُ بِمِثْلِھَا، وَاِنْ تَرَکَھَا فَاکْتُبُوْھَا لَہُ بِحَسَنَۃٍ، اِنَّمَا تَرَکَھَا مِن جَرَّایَ۔)) (مسند احمد: ۸۲۰۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے کہتے ہیں: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ برائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ وہ زیادہ جاننے والا ہوتا ہے، پس وہ کہتا ہے: انتظار کرو، اگر وہ اس برائی کا ارتکاب کر تو تم اس کے لیے ایک برائی لکھ لو اور اگر وہ اس کو ترک کر دے تو اس وجہ سے تم اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو، اس نے صرف میری وجہ سے اسے ترک کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8893

۔ (۸۸۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَخْلَصَ قَلْبَہُ لِلْاِیْمَانِ، وَجَعَلَ قَلْبَہُ سَلِیْمًا، وَلِسَانَہُ صَادِقًا، وَنَفْسَہُ مُطْمَئِنَّۃً، وَخَلِیْفَتَہُ مُسْتَقِیْمَۃً، وَجَعَلَ اُذُنَہُ مُسْتَمِعَۃً، وَعَیْنَہُ نَاظِرَۃً، فَاَمَّا الْاُذُنُ فَقِمْعٌ، وَالْعَیْنُ مُقِرَّۃٌ لِمَا یُوْعِی الْقَلْبُ، وَقَدْ اَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَہُ وَاعِیًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۳۵)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جس نے ایمان کے لیے دل میں اخلاص پیدا کر لیا اور اپنے دل کو صحیح و سالم ، زبان کو سچا، نفس کو (اعمال صالحہ پر) ثابت قدم رہنے والا، اپنے طریقے کو راہِ راست والا، اپنے کان کو سننے والا اور اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنا لیا۔ صورتحال یہ ہے کہ کان (دل کی معلومات کا) ذریعہ ہے اور آنکھ دل کے یاد کیے ہوئے امور کو برقرار رکھنے والی ہے، اور تحقیق وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جو اپنے دل کو یاد کرنے والا بنا لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8894

۔ (۸۸۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُالِٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ، وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۸۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8895

۔ (۸۸۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، قَالَ: بَلَغَنِیْ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِیْ عَبْدَہُ الْمُؤُمِنَ بِالْحَسَنَۃِ الْوَاحِدَۃِ اَلْفَ اَلْفِ حَسَنَۃٍ، قَالَ: فَقُضِیَ اَنِّی اِنْطَلَقْتُ حَاجًّا اَوْ مُعْتَمِرًا فَلَقِیْتُہُ فَقُلْتُ:بَلَغَنِیْ عَنْکَ حَدِیْثٌ اَنَّکَ تَقُوْلُ: سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِیْ عَبْدَہُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَۃِ اَلْفَ اَلْفٍ حَسَنَۃٍ۔))؟ قَالَ: اَبُوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَا بَلْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعِطِیْہِ اَلْفَيْ اَلْفِ حَسَنَۃٍ۔)) ثُمَّ تَلَا {یُضَاعِفْھَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا} فَقَالَ: اِذَا قَالَ {اَجْرًا عَظِیْمًا} فَمَنْ یَّقْدِرُ قَدْرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۰)
۔ ابو عثمان کہتے ہیں: مجھے یہ بات موصول ہوئی سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یوں کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کے عوض دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر ہوا یوں کہ مجھے حج یا عمرہ کرنے کا موقع مل گیا، پس میں گیا اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے کہا: مجھے تمہارے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی کہ تم کہتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کی وجہ سے دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، (یہ حدیث تو میں نے بیان نہیں کی)، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اللہ تعالیٰ اس نیکی کو بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے اجر ِ عظیم عطا کرتا ہے۔ اب کون ہے جو اجر ِ عظیم کا اندازہ کر سکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8896

۔ (۸۸۹۶)۔ (وَعَنْہُ فِیْ رِوَایِۃٍ اُخْرٰی بِنَحْوِہِ وَفِیْھَا) فَقَالَ (یَعْنِیْ اَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): وَمَا اَعْجَبَکَ؟ فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَیُضَاعِفُ الْحَسَنَۃَ اَلْفَيْ اَلْفِ حَسَنَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۳۲)
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کس چیز نے تجھے تعجب میں ڈال دیا ہے؟ پس اللہ کی قسم ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو بیس لاکھ گنا تک بڑھا دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8897

۔ (۸۸۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْھِمَا، فَقَتَلَ اَحَدُھُمَا صَاحِبَہٗ،فَالْقَاتِلُوَالْمَقْتُوْلُفِی النَّارِ۔)) قِیْلَ: ھٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ: ((قَدْ اَ رَادَ قَتْلَ صَاحِبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۷۱۱)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: یہ تو قاتل ہے، لیکن مقتول (کے جہنم میں جانے) کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8898

۔ (۸۸۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَحْسَنَ اَحَدُکُمْ اِسْلَامَہٗ،فَکُلُّحَسَنَۃٍیَعْمَلُھَا تُکْتَبُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَیِّئَۃٍیَّعْمَلُھَا تُکْتَبُ لَہٗبِمِثْلِھَا،حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۰۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے تو اس کی کی ہوئی ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور اس کی کی ہوئی ہر برائی کو اس کی مثل ہی لکھا جاتا ہے، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جا ملتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8899

۔ (۸۸۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا رَوٰی عَنْ رَّبِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِنَّ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رَحِیْمٌ، مَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہٗحَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗعَشْرَۃٌ اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ، اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗوَاحِدَۃٌ، اَوْ یَمْحُوْھَا اللّٰہُ، وَلا یَھْلِکُ عَلٰی اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا ھَالِکٌ۔))(مسند احمد: ۲۵۱۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تیرا ربّ نہایت رحم کرنے والا ہے، جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی تو لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے تو وہ اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ہلاک ہو گا، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8900

۔ (۸۹۰۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طِرِیْقٍ ثَانٍ) یَرْوِیْہِ عَنِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْوِیْہِ عَنْ رَّبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ، فَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗعِنْدَہُحَسَنَۃً کَامِلَۃً، وَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبَھَا اللّٰہُ عَشْرًا اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ اَوْ اِلٰی مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یُضَاعِفَ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، کَتَبَھَا اللّٰہُ لَہٗعِنْدَہُحَسَنَۃً کَامِلَۃً، فَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبَھَا اللّٰہُ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۲۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھا ہے، پس جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس کو عملاً کرتا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس ایک مکمل نیکی کی صورت میں لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا تک یا جتنا اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے، اس کو بڑھا کر لکھ لیتا ہے، لیکن جو برائی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کو عملاً کر بھی لیتا ہے تو وہ اس کو ایک برائی ہی لکھتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8901

۔ (۸۹۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسنداحمد: ۷۱۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8902

۔ (۸۹۰۲)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ، قَالا: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ، وَمَنْصُوْرٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّھُمْ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نُحَدِّثُ اَنْفُسَنَا بِالشَّیْئِ، لَاَنْ یَّکُوْنَ اَحَدُنَا حُمَمَۃً اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ بِہٖ،قَالَ: فَقَالَ اَحَدُھُمَا: ((اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَقْدِرْ مِنْکُمْ (یَعْنِی الشَّیْطَانَ) اِلَّا عَلَی الْوَسْوَسَۃِ۔)) وقَالَ الْآخَرُ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ اَمْرَہُ اِلٰی الْوَسْوَسَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہیں کہ ان کے بارے میں گفتگو کرنے کی بہ نسبت یہ چیز ہمیں زیادہ پسند ہے کہ ہم کوئلہ بن جائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اِس شیطان کو صرف وسوسہ ڈالنے کی طاقت دی ہے۔ ایک راوی کے الفاظیہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس نے شیطان کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8903

۔ (۸۹۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنِّیْ اُحَدِّثُ نَفْسِیْ لَاَنْ اَکُوْنَ اَخِرُّ مِنَ السَّمَائِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَتَکَلَّمَ بِہٖ،قَالَ : فَقَالَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ کَیْدَہُ اِلٰی الْوَسَوَسَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہے کہ ان کے بارے میں کلام کرنے کی بہ نسبت یہ چیز مجھے زیادہ پسند لگتی ہے کہ میں آسمان سے گر جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اس شیطان کے مکر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8904

۔ (۸۹۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُجُوِّزَ لِاُمَّتِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِاُمَّتِیْ) عَمَّا حَدَّثَتْ فِیْ اَنْفُسِھَا اَوْ وَسْوَسَتْ بِہٖاَنْفُسُھَامَالَمْتَعْمَلْبِہٖاَوْتَکَلَّمْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۷۴۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان امور کو بخش دیا ہے کہ جن کا ان کو خیال آتا ہے یا وسوسہ پڑ جاتا ہے، لیکن اس وقت تک جب تک وہ ان پر عمل نہ کرے یا ان کے بارے میں کلام نہ کرے۔

آیت نمبر