Musnad Ahmad

Search Results(1)

153)

153) میانہ روی کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8937

۔ (۸۹۳۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہٗسَمِعَالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُصُّ عَلَی الْمِنْبَرِ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثَّانِیَۃَ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ الثَّانِیَۃَ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثَّالِثَۃَ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ َربِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ الثَّالِثَۃَ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاِنْ رَغِمَ اَنْفُ اَبِی الدَّرْدَائِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۸)
۔ سیدنا ابو درداء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔}… اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو باغات ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری دفعہ فرما دیا کہ اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ میں نے بھی دوسری دفعہ کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوریبھی کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری دفعہ وہی آیت پڑھتے ہوئے فرمایا: اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو باغات ہیں۔ اُدھر میں نے بھی تیسری دفعہ وہی سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اگرچہ ابو درداء کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8938

۔ (۸۹۳۸)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُلَیْمٍ، قَالَ: قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْاَسْوَدِ: لا اَقُوْلُ فِیْ رَجُلٍ خَیْرًا وَلا شَرًّا حَتّٰی اَنْظُرَ مَا یُخْتَمُ لَہُ، یَعْنِیْ بَعْدَ شَیْئٍ سَمِعْتُہُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِیْلَ: وَمَا سَمِعْتَ؟ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ اَشَدُّ اِنْقِلَابًا مِنَ الْقِدْرِ اِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْیًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۱۷)
۔ سید مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد اب اس وقت تک کسی شخص کے بارے میں خیریا شرّ کا فیصلہ نہیں کرتا، جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ کس عمل پر اس کی زندگی کا اختتام ہو رہا ہے، کسی نے کہا: کون سی حدیث تو نے سنی ہے؟ میںنے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہونے والا ہے، جو ساری کی ساری ابل رہی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8939

۔ (۸۹۳۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ اَصْحَابُہُ وَاَھْلُہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَخَافُ عَلَیْنَا؟ وَقَدْ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِئَتَ بِہٖ،قَالَ: ((اِنَّالْقُلُوْبَبِیَدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُقَلِّبُھَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: … یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔(اے دلوں کو الٹ پلٹ کر دینے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جمائے رکھنا)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ اور اہل و عیال نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہو شریعت پر ایمان لائے ہیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمام دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8940

۔ (۸۹۴۰)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ رَجُلًا کَانَ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَالًا وَوَلَدًا، حَتّٰی ذَھَبَ عَصْرُہُ وَجَائَ عَصْرٌ فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُقَالَ: اَیْ بَنِیَّ! اَیَّ اَبٍّ کُنْتُ لَکُمْ؟ قَالُوْا: خَیْرَ اَبٍّ، قَالَ: اَنْتُمْ مُطِیْعِیَّ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: انْظُرُوْا اِذَا اَنَا مِتُّ اَنْ تُحَرِّقُوْنِیْ حَتّٰی تَدَعُوْنِیْ فَحْمًا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) ثُمَّ اھْرُسُوْنِیْ بِالْمِہْرَاسِ یُوْمِئُی بِیَدِہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) ثُمَّ اذْرُوْنِیْ فِی الْبَحْرِ فِیْیَوْمِ رِیْحٍ لَعَلِّیْ اَضِلُّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) فَاِذَا ھُوَ فِیْ قَبْضَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ تَعَالٰی، فَقَالَ: یَا ابْنَ آدَمَ! مَاحَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: اَیْ رَبِّ مَخَافَتُکَ، قَالَ: فَتَلافَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۶۱)
۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے ایک آدمی کے مال و دولت میں بڑی برکت عطا کی تھی،یہاں تک کہ اس کا زمانہ گزر گیا اور نیا زمانہ آنے لگا، پس جب اس کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اس نے کہا: تم نے مجھے کیسا باپ پایا؟انھوں نے کہا: بہترین باپ، اس نے کہا: کیا تم میری اطاعت کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: دیکھو، جب میں مر جاؤں تو تم نے مجھے اتنا جلانا ہے کہ میں کوئلے بن جاؤں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: پھر مجھے ہاون دستے سے کوٹ دینا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر مجھے (یعنی میری راکھ کو) ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، ہو سکتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے چھپ جاؤں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا،لیکن اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے قبضے میں کر کے پوچھا: اے آدم کے بیٹے! تجھے یہ کاروائی کرنے پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا ڈر تھا، پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی کوتاہی کو معاف کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8941

۔ (۸۹۴۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ، وَفِیْہِ: ((فَجَمَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَقَالَ لَہُ: لِمَ فَعَلْتَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْیَتِکَ، قَالَ: فَغَفَرَ لَہُ۔)) قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو: اَنَا سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذٰلِکَ، وَکَانَ نَبَّاشًا۔ (مسند احمد: ۲۳۷۴۵)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے ، البتہ اس میں ہے: پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کر لیا اور کہا: تو نے ایسے کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر کی وجہ سے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ عقبہ بن عمرو نے کہا: میں نے سنا ہے کہ وہ کفن چور تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8942

۔ (۸۹۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلا لَمْ یَعْمَلْ مِنَ الْخَیْرِ شَیْئًا قَطُّ اِلَّا التَّوْحِیْدَ، فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ لِاَھْلِہِ: اِذَا اَنَا مِتُّ، فَخُذُوْنِیْ وَاحْرُقُوْنِیْ، حَتّٰی تَدَعُوْنِیْ حُمَمَۃً، ثُمَّ اطْحَنُوْنِیْ، ثُمَّ اذْرُوْنِیْ فِی الْبَحْرِ فِیْیومٍ رَاحٍ، قَالَ: فَفَعَلُوْا بِہٖذٰلِکَ،فَاِذَاھُوَفِیْ قَبْضَۃِ اللّٰہِ، قَالَ: فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: مَاحَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُکَ، قَالَ: فَغَفَرَاللّٰہُ لَہُ۔)) قَالَ یَحْيٰ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِمِثْلِہِ۔ (مسند احمد: ۳۷۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے پکڑ کر جلا دینا اور کوئلہ بنا دینا، پھر پیس دینا اور ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن اچانک وہ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں آگیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: تجھے کسی چیز نے اس کاروائی پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر نے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8943

۔ (۸۹۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۱۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8944

۔ (۸۹۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ وَاَبِی الدَّھْمَائِ، قَالَا: کَانَا یُکْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ ھٰذَا الْبَیْتِ، قَالَا: اَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقُلْنَا: ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا؟) فَقَالَ الْبَدَوِیُّ: اَخَذَ بِیَدِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ یُعَلِّمُنِیْ مِمَّا عَلَّمَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَقَالَ: ((اِنَّکَ لَنْ تَدَعَ شَیْئًا اِتْقَائَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا اَعْطَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۱۹)
۔ ابو قتادہ اور ابو دہماء سے مروی ہے کہ وہ بیت اللہ کی طرف کثرت سے سفر کرتے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم ایک دیہاتی آدمی کے پاس آئے اور کہا: کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ اس بدّو نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بعض وہ چیزیں سکھائیں، جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جس چیز کو بھی اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑے گا، اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر عطا کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8945

۔ (۸۹۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لا اَسْأَلُکُمْ عَلٰی مَا اَتَیْتُکُمْ بِہٖمِنَالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی اَجْرًا، اِلَّا اَنْ تَوَدُّوْا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ وَاَنْ تَقَرَّبُوْا اِلَیْہِ بِالطَّاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں واضح دلائل اور ہدایت کی روشنی میں سے جو چیزیں تمہارے پاس لایا ہوں، ان پر تم سے کسی قسم کے اجر کا سوال نہیں کرتا، مگر اتنا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا حق ادا کرو اور اطاعت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8946

۔ (۸۹۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :(( قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یَاابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِیْ اَمْلَاُ صَدْرَکَ غِنًی، وَاَسُدَّ فَقْرَکَ، وَاِلاَّ تَفْعَلْ مَلَاْتُ صَدَرْکَ شُغْلاً وَلَمْ اَسُدَّ فَقْرَکَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: اے آدم کے بیٹے! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غِنٰی سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ختم کر دوں گا، اور اگر تو نے ایسے نہ کیا تو تیرے سینے کو مصروفیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو پورا نہیں کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8947

۔ (۸۹۴۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: لَوْ اَنَّ عِبَادِیْ اَطَاعُوْنِیْ لَاَسْقَیْتُھُمْ الْمَطْرَ بِاللَّیْلِ، وَاَطْلَعْتُ عَلَیْھِمُ الشَّمْسَ بِالنَّہَارِ، وَلَمَا اَسْمَعْتُھُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں گے تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا اور دن کو سورج کو نکال دوں گا اور انہیں گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8948

۔ (۸۹۴۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً ثُمَّ قَالَ: ((عَلٰی مَکَانِکُمْ اثُبُتُوْا۔)) ثُمَّ اَتَی الرِّجَالَ فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاْمُرُنِیْ اَنْ آمُرَکُمْ اَنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ، وَاَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیٍْدا۔)) ثُمَّ تَخَلَّلَ اِلٰی النِّسَائِ فَقَالَ لَھُنَّ: (( اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاْمُرُنِیْ اَنْ آمُرَکُنَّ اَنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلٍا سَدِیْدًا۔)) قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ حَتّٰی اَتَی الرِّجَالَ فَقَالَ: ((اِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاَسْوَاقَھُمْ، وَمَعَکُمْ النَّبْلُ، فَخُذُوْا بِنُصُولِھَا،لاَ تُصِیْبُوْا بِھَا اَحَدًا فَتُؤْذُوْہُ اَوْ تَجْرَحُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مردوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیںیہ حکم دوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیچوں بیچ سے عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیںیہ حکم دوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مردوں کے پاس واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں داخل ہو اور تمہارے پاس نیزہ ہو تو اس کے پھلکے کو پکڑ کر رکھو تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو مار دو اور اس طرح اس کو تکلیف پہنچاؤ یا زخمی کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8949

۔ (۸۹۴۹)۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہُ ھَوَاھَا وَتَمَنّٰی عَلٰی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۵۳)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس میں عاجزی پیدا کر لے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے اور عاجز اور بے بس وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنے خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ تعالیٰ پر تمنا کر نے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8950

۔ (۸۹۵۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الَّذِیْیَعْمَلُ السَّیِّئَاتِ ثُمَّ یَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ کَمَثَلِ رَجُلٍ کَانَتْ عَلَیْہِ دِرْعٌ ضَیِّقَۃٌ قَدْ خَنَقَتْہُ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَۃً فَانْفَکَّتْ حَلْقَۃٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَۃً اُخْرٰی، فَانْفَکَّتْ حَلْقَۃٌ اُخْرٰی حَتّٰی تَخْرُجَ اِلٰی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی برائیاں کرنے کے بعد نیکیاں کرتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس نے گلے کو دبا دینے والی تنگ زرہ پہن رکھی ہو، پھر جب وہ نیکی کرتا ہے تو اس کا ایک کڑا کھل جاتا ہے، پھر جب وہ کوئی اور نیکی کرتا ہے تو دوسرا کڑا کھل جاتا ہے، یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ زرہ زمین پر گر جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8951

۔ (۸۹۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ: ((یَقُوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ : مَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَلَہُ عَشْرُاَمْثَالِھَا اَوْ اَزِیْدُ، وَمَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَجَزَاؤُہُ مِثْلُھَا اَوْ اَغْفِرُ، وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْاَرْضِ خَطِیْئَۃً ثُمَّ لَقِیَنِیْ لَا یُشْرِکُ بِیْ شَیْئًا جَعَلَتُ لَہُ مِثْلَھَا مَغْفِرَۃً، مَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ شِبْرًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَتَانِیْیَمْشِیْ اَتَیْتُہُ ھَرْوَلَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۸۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جس نے نیکی کی، میں اس کو دس گنا یا اس سے بھی زیادہ عطا کروں گا اور جس نے برائی کی، تو اس کا بدلہ اسی کی مثل ہو گا یا میں اس کو بھی معاف کر دوں گا، جس نے زمین بھرنے کے بقدر گناہ کیے اور پھر مجھے اس حال میں ملا کہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو اس کو اس کے گناہوں کے بقدر بخشش عطا کر دوں گا، جو ایک بالشت میرے قریب ہوا، میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوں گا، جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوا، میں دو بازوؤں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہو جاؤں گا اور جو میری طرف چل کر آئے گا، میں اس کی طرف دوڑ کر آؤں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8952

۔ (۸۹۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ: ((یَقُوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ : مَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَلَہُ عَشْرُاَمْثَالِھَا اَوْ اَزِیْدُ، وَمَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَجَزَاؤُہُ مِثْلُھَا اَوْ اَغْفِرُ، وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْاَرْضِ خَطِیْئَۃً ثُمَّ لَقِیَنِیْ لَا یُشْرِکُ بِیْ شَیْئًا جَعَلَتُ لَہُ مِثْلَھَا مَغْفِرَۃً، مَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ شِبْرًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَتَانِیْیَمْشِیْ اَتَیْتُہُ ھَرْوَلَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۸۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کہا: جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب ہو کر مجھے ملتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو کر اسے ملتا ہوں، اسی طرح اگر وہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ دو ہاتھ کے پھیلاؤ کے بقدر میرے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے جلدی اس کے قریب ہوتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8953

۔ (۸۹۵۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ نُعَیْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ بِالْفُسْطَاطِ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَقَّرَبَ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شِبْرًا تَقَرَّبَ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ اِِلَی اللّٰہِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَقْبَلَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَاشِیًا اَقْبَلَ اللّٰہُ اِلَیْہِ مُہَرْوِلًا، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۲)
۔ سیدنا ابو ذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جبکہ وہ فسطاط میں منبر پر بیان کررہے تھے، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک بالشت اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے، اور جب بندہ ایک ہاتھ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ دو بازوؤں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہے، جو چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے، اللہ تعالیٰ دوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے، اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے، اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8954

۔ (۸۹۵۴)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَامُعَاذُ ! اَتَدْرِیْ مَاحَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَنْ یَّعْبُدُوْہُ وَلا یُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا۔)) قَالَ: ((فَہَلْ تَدْرِیْ مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا ھُمْ فَعَلُوْا ذٰلِکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَنْ لَّایُعَذِّبَھُمْ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلاَ اُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْھُمْ یَعْمَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۵۶)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ردیف تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ جب بندے یہ حق ادا کر دیں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس چیز کی لوگوں کو خوشخبری نہ دے دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8955

۔ (۸۹۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فَالْقَ اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۵۲)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو حقیر نہ جان، پس اگر کچھ دینے کے لیے تیرے پاس کچھ نہ ہو تو اپنے بھائی کو ہنس مکھ اور کھلے ہوئے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8956

۔ (۸۹۵۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ اِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَصَلَّیْتُ الْمَکْتُوْبَاتِ وَلَمْ اَزِدْ عَلٰی ذٰلِکَ، اَاَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۴۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا نعمان بن قوقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرضی نمازیں ادا کروں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8957

۔ (۸۹۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: مَا اَعَجَبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئٌ مِنَ الدُّنْیَا وَلا اَعَجَبَہُ اَحَدٌ قَطُّ اِلَّا ذُوْ تُقًی۔ (مسند احمد: ۲۴۹۰۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دنیا کی کوئی چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو زیادہ خوش نہیں کرتی تھی اور کوئی شخص بھی پسند نہیں تھا، ما سوائے پرہیزگار کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8958

۔ (۸۹۵۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَعْجَبُ مِنَ الشَّابِّ لَیْسَتْ لَہُ صَبْوَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۰۶)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس نوجوان پر تعجب کرتے ہیں، جس میں شہوات کی طرف کوئی میلان نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8959

۔ (۸۹۵۹)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ عَمَلا یُدْخِلُنِیْ الْجَنَّۃَ ؟ فَقَالَ: ((لَئِنْ کُنْتَ اَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ لَقَدْ اَعْرَضْتَ الْمَسْاَلَۃَ، اَعْتِقِ النَّسَمَۃَ، وَفُکَّ رَقَبَۃً۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَ لَیْسَتَا بِوَاحِدَۃٍ ؟ قَالَ: ((لا، اِنَّ عِتْقَ النَّسَمَۃِ اَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِھَا، وَفَکَّ الرَّقَبَۃِ اَنْ تُعِیْنَ فِیْ عِتْقِھَا، وَالْمِنْحَۃُ الْوَکُوْفُ وَالْفَیْئُ عَلٰی ذِیْ الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَاِنْ لَّمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَاَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَاِنْ لَّمْ تُطِقْ ذٰلِکَ، فَکُفَّ لِسَانَکَ اِلاَّ مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ تو نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن مسئلہ بڑا پیش کر دیا ہے، جواب یہ ہے کہ تو مکمل غلام آزاد کر یا کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دے۔ میں نے کہا: کیا عِتْقُ النَّسَمَۃ اور فَکُّ الرَّقَبَۃ ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، عِتْقُ النَّسَمَۃ سے مراد یہ ہے کہ تم خود مکمل غلام کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَۃ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دو، زیادہ دودھ والے جانور کا عطیہ دینا، ظالم رشتہ دار پر مہربانی کرنا اور اس سے نیکی کرنا، پس اگر تم کو اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلا دینا، پیاسے کو پانی پلا دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا، اور اگر تم کو اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو روک لینا، ما سوائے امورِ خیر کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8960

۔ (۸۹۶۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُبْشِیِّ نِ الْخَثْعَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((اِیْمَانٌ لَا شَکَّ فِیْہِ، وَجِہَادٌ لَا غُلُوْلَ فِیْہِ، وَحَجَّۃٌ مَبْرُوْرَۃٌ۔)) قِیْلَ: فَاَیُّ الصَّلَاۃِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((طُوْلُ الْقُنُوْتِ۔)) قِیْلَ: فَاَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((جَہْدُ الْمُقِلِّ )) قِیْلَ: فَاَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفَضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ ھَجَرَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قیل فَاَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ جَاھَدَ الْمُشْرِکِیْنَ بِمَالِہِ وَنَفْسِہِ۔)) قِیْلَ: فَاَیُّ الْقَتْلِ اَشْرَفُ ؟ قَالَ: ((مَنْ اُھْرِیْقَ دَمُہُ، وَعُقِرَ جَوَادُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن حبشی خثعمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد کہ جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ کسی نے کہا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لمبا قیام کرنا۔ کسی نے کہا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر۔ کسی نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ کے حرام کردہ امور کو ترک کر دیا‘ اس کییہ ہجرت (یعنی حرام کاموں کو چھوڑ دینا) افضل ہے۔ کسی نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال وجان سمیت مشرکین سے جہاد کرنا۔ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کون سا قتل (یعنی شہادت) بلند مرتبہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8961

۔ (۸۹۶۱)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الصَّلَاۃِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((طُوْلُ الْقُنُوْتِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَاُرِیْقَ دَمُہُ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ ھَجَرَ مَا کَرِہَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاَیُّ الْمِسْلِمِیْنَ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہِ وَیَدِہِ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا الْمُوْجِبَتَانِ ؟ قَالَ: ((مَنْ مَاتَ لا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ مَاتَ یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۸۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی نماز افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور جس کا خون بہا دیا جائے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے نا پسندیدہ امور کو ترک کر دیا۔ اس نے کہا: کون سا مسلمان افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو، وہ جہنم میںداخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8962

۔ (۸۹۶۲)۔ عَنْ مَاعِزٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ سُئِلَ: اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((اِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَحْدَہُ، ثُمَّ الْجِھَادُ، ثُمَّ حَجَّۃٌ بَرَّۃٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ کَمَا بَیْنَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ اِلٰی مَغْرِبِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۱۹)
۔ سیدنا ماعز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا گیا کہ اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، پھر جہاد کرنا، پھر حج مبرور، یہ عمل تو باقی اعمال سے اس طرح فضیلت لے جاتا ہے، جیسے سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان فاصلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8963

۔ (۸۹۶۳)۔ عَنْ جَرِیْرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اشْتَرِطْ عَلَیَّ ؟ قَالَ: ((تَعْبُدُ اللّٰہَ، وَلَا تُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، وَتُصَلِّی الصَّلاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ، وَتُؤَدِّی الزَّکٰوۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ، وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ، وَتَبْرَاُ مِنَ الْکَافِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۶۶)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر کوئی شرط لگاؤ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرضی نمازیں ادا کرو، فرضی زکوۃ ادا کرو، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرو اور کافرسے بری ہو جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8964

۔ (۸۹۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ مُرَاوِحٍ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اَیُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اِیْمَانٌ بِاللّٰہِ تَعَالٰی وَجِھَادٌ فِیْ سَبِیْلِہِ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاَیُّ الرِّقَابِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اَنْفَسُھَا عِنْدَ اَہْلِھَا وَاَغْلاھَا ثَمَنًا۔)) قَالَ: فَاِنْ لَّمْ اَجِدْ؟ قَالَ: ((تُعِیْنُ صَانِعًا اَوْ تَصْنَعُ لِاَخْرَقَ۔)) وَقَالَ: فَاِنْ لَّمْ اَسْتَطِعْ ؟ قَالَ: ((کُفَّ اَذَاکَ عَنِ النَّاسِ، فَاِنَّھَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِھَا عَنْ نَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۵۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کے ہاں سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمت والی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: تو کسی ہنر مند کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8965

۔ (۸۹۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلَہُ، فَقَالَ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۹۰۲۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ …۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8966

۔ (۸۹۶۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ! ((اَلا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ الْبَرِیَّۃِ ؟)) قَالُوْا: بَلٰی،یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کُلَّمَا کَانَتْ ھَیْعَۃٌ، اِسْتَوٰی عَلَیْہِ۔ اَلا اُخْبِرُکُمْ بِالَّذِیْیَلِیْہِ ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ((الرَّجُلُ فِیْ ثُلَّۃٍ مِنْ غَنَمِہِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ الْبَرِیَّۃِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی قَالَ: ((اَلَّذِیْیُسْئَلُ بِاللّٰہِ وَلایُعْطِی بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۹۱۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین مخلوق کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جس اللہ تعالیٰ کے راستے میں گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو، جب کبھی کہیں سے کوئی خوفناک آواز آتی ہے تو وہ اس پر سوار ہو کر تیار ہو جاتا ہے۔ اب کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں بھی نہ بتلا دوں، جس کا مرتبہ اس سے کچھ کم ہے۔ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی بکریوںکے ایک ریوڑ میں ہو اور نماز ادا کرتا ہو اور زکوۃ دیتا ہو۔ اب کیا میں تمہیں بد ترین آدمی کے بارے میں نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نہیں دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8967

۔ (۸۹۶۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ ؟ قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا۔))، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ۔))، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الْجِِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔))، قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ بِہٖنَّوَلَوِاسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8968

۔ (۸۹۶۸)۔ عَنِ الشِّفَائِ بِنْتِ عَبْدِ اللّٰہِ، وَکَانَتِ امْرَاَۃً مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ قَالَتْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنْ اَفْضَلِ الْاَعْمَالِ فَقَالَ: ((اِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَجِھَادٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۳۴)
۔ سیدہ شفاء بنت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ مہاجر صحابیات میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے افضل اعمال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج مبرور ادا کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8969

۔ (۸۹۶۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۷۵۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8970

۔ (۸۹۷۰)۔ عَنْ سُلَیْمٍ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا اُمَامَۃَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ النَّاسَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَھُوَ عَلٰی الْجَدْعَائِ وَاضِعٌ رِجْلَہُ فِیْ غَرْزِ الرَّحْلِ یَتَطَاوَلُیَقُوْلُ: ((اَلا تَسْمَعُوْنَ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ آخِرِ الْقَوْمِ مَاتَقُوْلُ؟ قَالَ: ((اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ، وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ، وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ، وَاَدُّوْا زَکَاۃَ اَمْوَالِکُمْ، وَاَطِیْعُوْا ذَا اَمْرِکُمْ، تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔)) قُلْتُ: فَمُذْ کَمْ سَمِعْتَ ھٰذَا الْحَدِیْثَیَا اَبَا اُمَامَۃَ ؟ قَالَ: وَاَنَا ابْنُ ثَلَاثِیْنَ سَنَۃً۔ (مسند احمد: ۲۲۵۱۴)
۔ سُلیم بن عامر سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جدعاء اونٹنی پر سوار تھے، اپنا پاؤں رکاب میں رکھا ہوا تھا اور کھڑے ہو کر اونچے ہوئے اور فرمایا: کیا تم سن رہے ہو؟ لوگوں کے پیچھے سے ایک آدمی نے کہا: آپ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے پروردگار کی عبادت کر، پانچ نمازیں ادا کرو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میںداخل ہو جاؤ گے۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! تم نے یہ حدیث کب سنی تھی؟ انھوں نے کہا: اس وقت سنی تھی، جب میری عمر تیس سال تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8971

۔ (۸۹۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلاَُ الْمِیْزَانَ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ تَمْلَاُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَا بَیْنَ السَّمٰوٰتِ) وَالْاَرْضِ، وَالصَّلاَۃُ نَوْرٌ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ عَلَیْکَ اَوْ لَکَ، کُلُّ النَّاسِ یَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَہُ فَمُوْبِقُھَا اَوْ مُعْتِقُھَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۶)
۔ سیدناابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضو نصف ایمان ہے، الحمد للہ سے ترازو بھر جاتا ہے، اور سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ سے آسمانوں اور زمین کا درمیانی خلا بھر جاتا ہے، نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تیری مخالفت میںیا تیرے حق میں دلیل ہو گا، اور ہر آدمی صبح کو اپنا نفس بیچ رہا ہوتا ہے تو کوئی اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اس کو آزاد کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8972

۔ (۸۹۷۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ غُرْفَۃًیُرٰی ظَاہِرُھَا مِنْ بَاطِنِھَا، بَاطِنُھَا مِنْ ظَاہِرِھَا، اَعَدَّھَا اللّٰہُ لِمَنْ اَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَاَلاَنَ الْکَلَامَ، وَتَابَعَ الصِّیَامَ، وَصَلّٰی وَالنَّاسُ نِیَامٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۳)
۔ سیدناابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ ان کے اندر سے ان کے باہر کے سماں کو اور باہر سے ان کے اندر کے منظر کو دیکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اِن کو ان کے لیے تیار کیا ہے، جو کھانا کھلاتے ہیں، نرم کلام کرتے ہیں، تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو اس وقت نماز پڑھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8973

۔ (۸۹۷۳)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَفِیْہِ فَقَالَ اَبُوْمُوْسٰی الْاَشْعَرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لِمَنْ ھِیَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لِمَنْ اَلانَ الْکَلامَ، وَاَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ لِلّٰہِ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِیَامٌ۔)) (مسند احمد: ۶۶۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جو نرم کلام کرتا ہے، کھانا کھلاتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے قیام کرتے ہوئے رات گزارتا ہے، جبکہ اس وقت لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8974

۔ (۸۹۷۴)۔ وَعَنْ دُرَّۃَ بِنْتِ اَبِیْ لَھْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: قَامَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلٰی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ اَقْرَؤُھُمْ، وَاَتْقَاھُمْ، وَآمَرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَاَنْھَاھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاَوْصَلُہُمْ لِلرَّحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۸۰)
۔ سیدہ درہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہترین وہ ہے جو سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا ہو، سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والا ہو، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8975

۔ (۸۹۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((اَلْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ وَالْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔))، قَالَ: فَاِنْ لَّمْ اَسْتَطِعْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((اِحْبِسْ نَفْسَکَ عَنِ الشَّرِّ، فَاِنِّھَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِھَا عَلٰی نَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۹۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: اگر مجھ میں اتنا کچھ کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کو شرّ سے روکے رکھنا، کیونکہیہبھی صدقہ ہو گا جو تو اپنے نفس پر کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8976

۔ (۸۹۷۶)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسْارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلَّی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَحَجَّ الْبَیْتَ الْحَرَامَ وَصَامَ رَمْضَانَ، (وَلا اَدْرِیْ اَذَکَرَ الزَّکاۃَ اَمْ لا) کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یَّغْفِرَ لَہُ، اِنْ ھَاجَرَ فِیْ سَبِیْلِہِ، اَوْ مَکَثَ بِاَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ بِھَا۔)) فَقَالَ مُعَاذٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَاُخْبِرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((ذَرِ النَّاسْ، یَا مُعَاذُ! فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃُ دَرَجَۃٍ بَّیْنَ کُلِّ دَرَجَۃٍ مِائَۃُسَنَۃٍ، الْفِرْدَوْسُ اَعْلَی الْجَنَّۃِ، وَاَوْسَطُھَا وَمِنْھَا تَفَجَّرُ اَنْھَارُ الْجَنَّۃِ، فَاِذَا سَاَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْاَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۳۷)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے پانچ نمازیں ادا کیں، حرمت والے گھر کا حج کیا، رمضان کے روزے رکھے، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے، وہ اس کی راہ میں ہجرت کرے یا اسی علاقے میں سکونت اختیار کیے رکھے، جس میں پیدا ہوا تھا۔ راوی کو یہیاد نہیں رہا کہ اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زکوۃ کا ذکر کیا تھا یا نہیں، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس حدیث کی خبر دے دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاذ! رہنے دو اور لوگوں کو نہ بتلاؤ (تاکہ وہ دوسرے نیک عمل بھی کرتے رہیں) کیونکہ جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت کا فرق ہے، جنت کا سب سے اعلی اور ممتاز درجہ فردوس ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، اس لیے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8977

۔ (۸۹۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ، فَجَلَسْتُ فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ، ھَلْ صَلَّیْتَ؟)) قُلْتُ: لا، قَالَ: ((قُمْ فَصِلِّ۔)) فَصَلَّیْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! تَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ شَیَاطِیْنِ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلِلْاِنْسِ شَیَاطِیْنُ ؟ قَالَ:((نَعَمْ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الصَّلاۃُ، قَالَ: ((خَیْرٌ مَّوْضُوْعٌ مَنْ شَائَ اَقَلَّ وَمَنْ شَائَ اَکْثَرَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! الصَّوْمُ، قَالَ: ((فَرْضٌ مَّجْزِیٌٔ وَعِنْدَ اللّٰہِ مَزِیْدٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالصَّدَقَۃُ، قَالَ: ((اَضْعَافٌ مُّضَاعَفَۃٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاَیُّھَا اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((جَہْدٌ مِّنْ مُقِلٍّ اَوْ سِرٍّ اِلٰی فَقِیْرٍ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْاَنْبِیَائِ کَانَ اَوّلاً ؟ قَالَ: ((آدَمُ۔)) قُلْتُ: وَنَبِیًّا کَانَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمِ الْمُرْسَلُوْنَ؟ قَالَ: ((ثَلاثُمِائَۃٍ وَبِضْعَۃَ عَشَرَ۔)) وَقَالَ: ((مَرَّۃً وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیْرًا۔))، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّمَا اُنْزِلَ عَلَیْکَ اَعْظَمُ ؟ قَالَ: ((آیَۃُ الْکُرْسِیِّ: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی خَتَمَ الْآیَۃَ) (مسند احمد: ۲۱۸۷۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو۔ پس میں نے نماز پڑھی اور پھر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! انسانوں اور جنوں کے شیطانوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کے بارے میں کچھ فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز ہے، جس کو بنایا گیا ہے، جو چاہے کم پڑھ لے اور جو چاہے زیادہ پڑھ لے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! روزہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایسا فرض ہے کہ اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مزید بھی بہت کچھ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! صدقہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر یا کسی فقیر کو چپکے سے دے دینا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، نبی تھے اور ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرسلین کی تعداد کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو اور پندرہ سولہ کے لگ بھگ۔ ایک روایت میں ہے: تین سو پندرہ ہے، جم غفیر ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر کون سی عظیم ترین چیز اتاری گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آیۃ الکرسی {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}، ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوری آیت تلاوت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8978

۔ (۸۹۷۸)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ غَدَاۃٍ عَنْ صَلاۃِ الصُّبْحِ، حَتّٰی کِدْنَا نَتَرَائٰی قَرْنَ الشَّمْسِ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیْعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلاۃِ، وَصَلّٰی وَتَجَوَّزَ فِیْ صَلَاتِہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((کَمَا اَنْتُمْ عَلٰی مَصَافِّکُمْ۔)) ثُمَّ اَقْبَلَ اِلَیْنَا فَقَالَ: ((اِنِّیْ سَاُحَدِّثُکُمْ مَا حَبَسَنِیْ عَنْکُمُ الْغَدَاۃَ،اَنِّیْ قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَ لِیْ فَنَعِسْتُ فِیْ صَلاتِیْ حَتَّی اسْتَیْقَظْتُ، فَاِذَا اَنَا بِرَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اَتَدْرِیْ فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْیَارَبِّ! قَالَ: یَامُحَمَّدُ! فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْیَارَبِّ! فَرَاَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ اَنَامِلِہِ بَیْنَ صَدْرِیْ فَتَجَلّٰی لِیْ کُلُّ شَیْئٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: فِیْ الْکَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا الْکَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ: نَقْلُ الْاَقْدَامِ اِلَی الْجُمُعَاتِ وَجُلُوْسٌ فِی الْمَسْجِدِ بَعْدَ الصَّلاۃِ وَاِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عَنْدَ الْکَرِیْھَاتِ، قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ ؟ قُلْتُ: اِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِیْنُ الْکَلامِ، وَالصَّلاۃُ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، قَالَ: سَلْ، قُلْتُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ، وَاَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمْلٍ یُّقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ۔)) وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّھَا حَقٌّ فَادْرُسُوْھَا وَتُعَلِّمُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۶۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک صبح کو نماز فجر سے اتنی دیر تک رکے رہے کہ قریب تھا کہ سورج کا کنارہ نظر آ جاتا، بہرحال پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی جلدی تشریف لائے، نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مختصر سی نماز پڑھائی اور جب سلام پھیرا تو فرمایا: جیسے ہو، اپنی صفوں پر بیٹھے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بیشک میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ آج صبح کس چیز نے مجھے روکے رکھا، میں رات کو کھڑا ہوا اور جتنی نصیب میں تھی، نماز پڑھی، ابھی میں نماز میں ہی تھا کہ اونگھ آگئی، پھر جب بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے ربّ تعالیٰ کے سامنے ہوں، اللہ تعالیٰ بہت ہی خوبصورت شکل میں تھے، اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کن امور میں بحث مباحثہ کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے پھر کہا: مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! مجھے تو علم نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی پر میرے کندھوں کے درمیان رکھی، مجھے اپنے سینے میں اس کے پورں کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور ہر چیز میرے لیے واضح ہو گئی اور مجھے معرفت حاصل ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! (اب بتاؤ کہ) مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفارات میں، اس نے کہا: کفّارات کیا ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند امور کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: درجات کیا ہیں؟ میں نے کہا: کھانا کھلانا، نرم کلام کرنا اور اس وقت نماز ادا کرنا، جب لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: سوال کرو، میں نے کہا: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ فَعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ، وَاَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمْلٍ یُّقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے نیکی کے کام نیکیاں کرنے، برائیوں کو ترک کرنے، مسکینوں سے محبت کرنا، مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں اور جب تو کسی قوم میں فتنہ برپا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا اور میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والے کی محبت کااور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے)۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حق ہے، لہٰذا اس کو سیکھوں اور سکھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8979

۔ (۸۹۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَائِشٍ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْھِمْ ذَاتَ غَدْوَۃٍ وَھُوَ طَیِّبُ النَّفْسِ، مُسْفِرُ الْوَجْہِ، اَوْ مُشْرِقُ الْوَجْہِ، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَرَاکَ طَیِّبَ النَّفْسِ، مُسْفِرَ الْوَجْہِ، اَوْ مُشْرِقَ الْوَجْہِ، فَقَالَ: ((وَمَایَمْنَعُنِیْ، وَاَتَانِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اللَّیْلَۃَ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ، قَالَ: یَامُحَمَّدُ! قُلْتُ: لَبَّیْکَ رَبِّیْ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْ اَیْ رَبِّ!، قَالَ: ذٰلِکَ مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلاثًا، قَالَ: فَوَضَعَ کَفَّیْہِ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَوَجَدْتُّ بَرْدَھَا بَیْنَ ثَدْیَیَّ حَتّٰی تَجَلّٰی لِیْ مَا فِی الْسَمٰوٰتِ وَمَافِیْ الْاَرْضِ، ثُمَّ تَلا ھٰذِہِ الْآیَۃَ {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} ثُمَّ قَالَ: یَامُحَمَّدُ ! فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی ؟ قَالَ: قُلْتُ فِی الْکَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا الْکَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ: الْمَشْیُ عَلَی الْاَقْدَامِ اِلَی الْجُمُعَاتِ، وَالْجُلُوْسُ فِی الْمَسْجِدِ خِلافَ الصَّلَوَاتِ، وَاِبْلاغُ الْوُضُوْئِ فِی الْمَکَارِہِ، قَالَ: مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ عَاشَ بِخَیْرٍ وَمَاتَ بِخَیْرٍ، وَکَانَ مِنْ خَطِیْئَتِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طَیِّبُ الْکَلَامِ، وَبَذْلُ السَّلامِ، وَاِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلاۃُ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، قَالَ: یَامُحَمَّدُ ! اِذَا صَلَیَّتَ فَقُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَو فِتْنَۃً فِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۹۷)
۔ عبد الرحمن بن عائش ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خوشگوار موڈ میں تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر سفیدییا چمک محسوس ہو رہی تھی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج تو ہم آپ کو بڑے عمدہ موڈ میں دیکھ رہے ہیں اور آپ کے چہرے پر سفیدییا چمک بھی محسوس کی جا رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا مجھے کون سی چیز اس سے محروم کر سکتی ہے، بات یہ ہے کہ آج رات میرا ربّ سب سے خوبصورت شکل میں میرے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں نے کہا: جی میرے ربّ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اللہ تعالیٰ نے کہا: مقرب فرشتے کس موضوع پر بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، ایسے دو تین دفعہ ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں پر کے درمیان رکھیں، مجھے اپنے سینے میں ان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور آسمان و زمین کی ہر چیز میرے لیے واضح ہو گی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} … اور ہم نے ایسے ہی ابراہیم ( علیہ السلام ) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں سے ہو جائیں۔ (سورۂ انعام: ۷۵) پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفّارات میں، اللہ تعالیٰ نے کہا: کفارات سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند حالتوں کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر فرمایا: جس نے یہ امور سر انجام دیئے، اس نے خیر کے ساتھ زندگی گزاری اور خیر کے ساتھ فوت ہوا، اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، اور درجات یہ ہیں: اچھا کلام کرنا، سلام پھیلانا، کھانا کھلانا اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! جب تم نماز پڑھو تو یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃًفِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔ … اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کو کرنے، برائیوں کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ تو مجھ پر رجوع کر اور جب تو لوگوں کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8980

۔ (۸۹۸۰)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَاُنَبِّئُکَ بِاَبْوَابٍ مِّنَ الْخَیْرِ، الصَّوْمُ جُنَّۃٌ، وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِیُٔ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِیُٔ الْمَائُ النَّارَ، وَقِیَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّیْلِ۔)) ثُمَّ قَرَاَ {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} الآیَۃَ۔ [السجدۃ: ۱۶] (مسند احمد: ۲۲۴۸۴)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے خیر و بھلائی کے دروازوں کے بارے میں بتلاتا ہوں، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے، جیسے پانی آگ کو ختم کر دیتا ہے اور رات کو بندے کا قیام کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ…}۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8981

۔ (۸۹۸۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ تَمِیْمَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِّنْ قَوْمِہِ اَنَّہُ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ قَالَ:شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَوْ قَالَ: اَنْتَ مُحَمَّدٌ ؟ فَقَالَ:(( نَعَمْ۔)) قَالَ: فَاِلامَ تَدْعُوْا؟ قَالَ: ((اَدْعُوْ اِلَی اللّٰہِ وَحْدَہُ، مَنْ اِذَا کَانَ بِکَ ضُرٌ فَدَعَوْتَہُ کَشَفَہُ عَنْکَ، وَمَنْ اِذَا اَصَابَکَ عَامُ سَنَۃٍ فَدَعَوْتَہُ اَنْبَتَ لَکَ، وَمَنْ اِذَا کُنْتَ فِیْ اَرْضٍ قَفْرٍ فَاَضْلَلْتَ فَدَعَوْتَہُ رَدَّ عَلَیْکَ۔)) قَالَ: فَاَسْلَمَ الرَّجُلُ، ثُمَّ قَالَ: اَوْصِنِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ لَہُ: ((لا تَسُبَّنَّ شَیْئًا اَوْ قَالَ: اَحَدًا ۔)) شَکَّ الْحَکَمُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ شَیْئًا بَعِیْرًا وَلا شَاۃً مُنْذُ اَوْصَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،((وَلا تَزْھَدْ فِی الْمَعْرُوْفِ وَلَوْ بِبَسْطِ وَجْھِکَ اِلٰی اَخِیْکَ وَاَنْتَ تُکَلِّمُہُ، وَاَفْرِغْ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ اِنَائِ الْمُسْتَسْقِیْ، وَاتَّزِرْ اِلٰی نِصْفِ السَّاقِ، فَاِنْ اَبَیْتَ فَاِلَی الْکَعْبَیْنِ، وَاِیَّاکَ وَاِسْبَالَ الْاِزَارِ قَالَ: فَاِنِّھَا مِنَ الْمَخِیْلَۃِ، وَاللّٰہُ لا یُحِبُّ الْمَخِیْلَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۳۳)
۔ ابو تمیمہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا،یا اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیںیا آپ محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس یکتا و یگانہ رب کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ اگر تجھ پر کوئی تکلیف آ پڑے گی اور تو اس کو پکارے گا تو وہ تیری تکلیف کو دور کر دے گا، جب تو قحط سالی میں مبتلا ہو جائے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیرے لیے انگوریاں اگانے کے لیے (بارش نازل کرے گا)اور جب تو بے آب و گیاہ زمین میں اپنی سواری کھو بیٹھے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیری سواری کو واپس تیرے پاس لے آئے گا۔ پس وہ آدمی مسلمان ہو گیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی کو گالی نہ دینا، (یعنی برا بھلا نہ کہنا)۔ اس آدمی نے کہا: جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی اس وقت سے میں نے کسی چیز، وہ اونٹ ہو یا بکری، کو گالی نہیں دی۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نیکی سے بے رغبتی اختیار نہ کر، اگرچہ وہ اپنے بھائی سے بات کرتے وقت اس کے سامنے خندہ پیشانی کا اظہار کرنے کی صورت میں ہو، پانی مانگنے کے ڈول میں پانی ڈال اور نصف پنڈلی تک اپنے ازار کو اٹھا کے رکھ، پس اگر تو اس قدر عمل نہ کر سکے تو ٹخنوں تک رکھ لے، خبردار چادر کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچنا ہے، کیونکہیہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8982

۔ (۸۹۸۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلا جَائَ ہُ فَقَالَ: اَوْصِنِیْ، فَقَالَ: سَاَلْتَ عَمَّا سَاَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ قَبْلِکَ، اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَاِنَّہٗرَاْسُکُلِّشَیْئٍ، وَعَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فَاِنَّہُ رَھْبَانِیَّۃُ الْاِسْلَامِ، وَعَلَیْکَ بِذِکْرِ اللّٰہِ وَتَلاوَۃِ الْقُرْآنِ فَاِنَّہُ رَوْحُکَ فِی الْسَّمَائِ وَذِکْرُکَ فِی الْاَرْضِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کریں۔ میں نے کہا: تو نے جو سوال مجھ سے کیا ہے، میں نے تجھ سے پہلے یہی سوال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تھا (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا): میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوںکیونکہیہ ہر چیز کی بنیا دہے، جہاد کو لازم پکڑ کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کر، کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعثِ رحمت اور زمین میں تیرے لیے باعث تذکرہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8983

۔ (۸۹۸۳)۔ عَنْ سَہْلٍ بْنِ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنَّہُ قَالَ: ((اَفْضَلُ الْفَضَائِلِ اَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ وَتُعْطِیْ مَنْ مَنَعَکَ وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۰۳)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا عمل یہ ہے کہ تو اس سے صلہ رحمی کر جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس کو دے جو تجھ کو محروم کرے اور اس سے درگزر کر جو تجھے گالیاں دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8984

۔ (۸۹۸۴)۔ عَنْ شَیْبَۃَ الْحَضْرَمِیِّ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُمَرَبْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ فَحَدَّثَنَا عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبِیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلاثٌ اَحْلِفُ عَلَیْھِنَّ، لا یَجْعَلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَنْ لَہٗسَہْمٌفِی الْاِسْلامِ کَمَنْ لا سَہْمَ لَہُ، فَاَسْہُمُ الْاِسْلامِ ثَلاثَۃٌ: الصَّلاۃُ وَالصَّوْمُ وَالزَّکَاۃُ، وَلایَتَوَلَّی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا فَیُوَلِّیَہُ غَیْرَہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلا یُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا اِلاَّ جَعَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَعَھُمْ، وَالرَّابِعَۃُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَیْھَارَجَوْتُ اَنْ لَا آثَمَ، لا یَسْتُرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا اِلاَّ سَتَرَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔))، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ: اِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَۃَیَرْوِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاحْفَظُوْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۳۴)
۔ شیبہ حضرمی کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عروہ بن زبیر نے ہم کو بیان کیا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں، جس آدمی کا اسلام میں حصہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس آدمی کی طرح نہیں کرے گا، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، وہ تین چیزیںیہ ہیں: (۱) اسلام کے تین حصے ہیں: نماز، روزوہ اور زکوۃ، (۲) یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی سے محبت رکھے اور پھر قیامت کے دن اس کو کسی کے سپرد کر دے، (۳) بندہ جن لوگوں سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ان کے ساتھ ہی کر دے گا، اور اگر میں چوتھی چیز پر بھی قسم اٹھا لوں تو مجھے امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوں گا اور وہ یہ ہے کہ جو آدمی دنیا میں کسی شخص پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر پردہ ڈالے گا۔ یہ حدیث سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: جب تم ایسی حدیث سنو جس کو عروہ سیدہ عائشہ سے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہی ہوں تو اس کو یاد کر لیا کرو۔

آیت نمبر